Baaghi TV

Tag: سونا

  • حکومت پاکستان کا زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کیلیے عوام سے سونا ادھار لینے کا فیصلہ

    حکومت پاکستان کا زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کیلیے عوام سے سونا ادھار لینے کا فیصلہ

    کراچی:وفاقی حکومت زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے عوام سے سوناادھار لینے کی تجویز غور کرناشروع کردیاہے۔عالمی قرض دہندگان سے گزشتہ تین ماہ میں5 بلین ڈالر سے زیادہ قرض لینے کے باوجود حکومت کی پوزیشن مستحکم نہیں ہے، وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق عوام سے سوناادھار لینے کی تجویزپر اقتصادی ایگزیکٹو کونسل(ای ای سی)میں بحث کی گئی، جس میں اقتصادی وزراءاور گورنر اسٹیٹ بینک شامل ہیں۔تجویز کے مطابق کمرشل بینک سونے کے مالک کو ایک قابل تبادلہ رعایتی دستاویز جاری کریں گے اور قیمتی دھات پرشرح سود ادا کریں گے،

    کمرشل بینک یہ سونا اسٹیٹ بینک کے پاس جمع کرائے گا جو زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے اس سے مزید نفع کماسکتا ہے،جس نے مہنگے غیر ملکی قرض لے کر زرمبادلہ کے ذخائر بنائے ہیں۔31دسمبر 2021 کو اسٹیٹ بینک کے ذخائر کی پوزیشن کے مطابق اسٹیٹ بینک کے پاس پہلے ہی 2.01 ملین فائن ٹرائے اونس سونے کے ذخائر ہیں جن کی مالیت 3.8 بلین ڈالر ہے،

    اسٹیٹ بینک کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل سکڑ رہے ہیں، 11 فروری کو یہ مزید17 بلین ڈالر تک گر گئے۔پچھلے 3 ماہ میں حکومت نے سعودی عرب سے3 ارب ڈالر کا قرض لیا، موٹر وے گروی رکھ کر آئی ایم ایف سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے مہنگا ایک ارب ڈالر قرض لیا، لیکن پھر بھی غیر ملکی قرضوں کی بڑھتی ہوئی ادائیگیوں کے ساتھ ساتھ کم برآمدات اور زیادہ درآمدات کی وجہ سے ذخائرکو مستحکم نہیں کیا جا سکا۔وزارت خزانہ نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا،

    عوام سے سونا ادھار لینے کی تجویز ابتدائی طور پر پاکستانی نژاد طاہر محمود نے وزیراعظم عمران خان کو پیش کی تھی، اس کے بعد وزیر اعظم نے معاملہ ای ای سی کے پاس بھیج دیا جس نے اس تجویز کو قابل عمل بنایا تاکہ زرمبادلہ ذخائر کو بڑھایا جاسکے اور گھروں میں پڑے قیمتی اثاثے کے ذریعے مارکیٹ میں مزیدکیش لایا جا سکے۔

  • ڈالر کی قدر میں معمولی کمی،سونے کے نرخ بھی کم

    ڈالر کی قدر میں معمولی کمی،سونے کے نرخ بھی کم

    پاکستان روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی کمی دیکھی گئی جبکہ سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹ کے نرخ میں بھی کم ہو گئے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی نسبت روپیہ تگڑا رہا جس سے ڈالر کے اوپن مارکیٹ ریٹ دوبارہ 179 روپے سے نیچے آگئی انٹر بینک مارکیٹ ڈالر کی قدر اتار چڑھاؤ کے بعد 28 پیسے کی کمی سے 176.77 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 50 پیسے کی کمی سے 178.50 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

    دوسری جانب سونے کی عالمی مارکیٹ میں فی اونس قیمت 28 ڈالر کی کمی سے 1784 ڈالر کی سطح پر پہنچنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی جمعہ کو فی تولہ اور فی 10 گرام سونے کی قیمتوں میں بالترتیب 450 روپے اور 386 روپے کی کمی واقع ہوئی نتیجے میں مختلف شہروں میں فی تولہ سونے کی قیمت گھٹ کر 126150 روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت گھٹ کر 108153روپے ہوگئی۔

    بھارتی حکومت کا 170 پاکستانی سیاحوں کو ویزے جاری کرنے سے انکار

    دریں اثنا فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 1450 روپے اور دس گرام چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 1243.14روپے پر مستحکم رہی۔

    کرپشن کیس: سابق صدر نیشنل بینک عثمان سعید کو سزا سنا دی گئی

    یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے::: نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری…

  • سونے کی قیمت میں اضافہ

    سونے کی قیمت میں اضافہ

    کراچی: سونے کی فی تولہ قیمت میں 400 روپے کا اضافہ کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : سونے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے اور آج پھر سونے کی قیمت میں اضافہ سامنے آیا ہے سندھ صرافہ بازار جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت اضافے کے بعد ایک لاکھ 25 ہزار 150 روپے ہو گئی ہے۔

    ڈالرز خریدنے اور باہر بھیجنے پر نئی پابندی

    10 گرام سونے کی قیمت میں 343 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد 10 گرام سونے کی نئی قیمت ایک لاکھ 7 ہزار 296 روپے پر پہنچ گئی ہے۔

    سندھ صرافہ بازار جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی صرافہ مارکیٹ میں سونےکی قیمت 2 ڈالرکم ہوکر ایک ہزار 819 ڈالر فی اونس ہے۔

    گزشتہ روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 850 روپے کی کمی ہوئی جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت میں 729 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

    مالی سال 2021: 5 ماہ میں ترسیلات زر 10 فیصد اضافے کے بعد 13 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

    دوسری جانب گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار مثبت رجحان میں رہا اور 100 انڈیکس میں 400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 100 انڈیکس میں 418 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس کے بعد انڈیکس 45 ہزار 763 پر بند ہوا –

    سعودی عرب پاکستان کو ماہانہ 100 ملین ڈالرز کا ادھار فیول فراہم کرے گا

    10 سے 14 جنوری 2022 کے دوران انڈیکس کی ہفتہ واربلند ترین سطح 46 ہزار 220 پوائنٹس اورکم ترین سطح 45 ہزار 206 پوائنٹس رہی ایک ہفتےکےدوران مارکیٹ میں 1.77 ارب شیئرز کے سودے ہوئے شیئرز بازارکےہفتہ وار کاروبار کی مالیت 44 ارب روپے رہی جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 74 ارب بڑھ کر7846 ارب روپے ہوگئی۔

    تجارتی خسارے میں تیزی سے اضافہ.شوکت ترین کا اقدامات کرنے کی ہدایت

  • پاکستان میں سالانہ 80 ٹن سونا سمگلنگ کے ذریعے درآمد ہونے کا انکشاف

    پاکستان میں سالانہ 80 ٹن سونا سمگلنگ کے ذریعے درآمد ہونے کا انکشاف

    پاکستان میں سالانہ 80 ٹن سونا سمگلنگ کے ذریعے درآمد ہونے کا انکشاف
    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی میں مالیاتی بل کا شق وارجائزہ لیاگیا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مالیاتی بل پیش ہورہا ہے اور فنانس والے نہیں آئے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اگر بل کو مسترد کردیں تو پیغام یہی جائے گا کہ سینیٹ نے بل مسترد کردیا۔ قائمہ کمیٹی نے ڈریپ سے وٹامن کی ادویات کی تعریف طلب کی جس پر قائمہ کمیٹی کو ڈریپ کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ رجسٹرڈ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا اورپیکجنگ میٹریل اور یوٹیلٹیز پر ٹیکس پہلے سے موجود ہے۔ٹیکس بڑھنے سے عمومی طور پر ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ضروری وٹامنز کی قیمتوں میں بھی اضافہ نہیں ہوگا جبکہ دیگر وٹامنز کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔گزشتہ دنوں 8 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔

    چیئرمین ایف بی آر نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ایف بی آر خود سے ادویات کی فہرست بناکر ٹیکس نہیں لگائے گا۔ وٹامن اے، بی، سی، ڈی پر ایف بی آر ٹیکس نہیں لگائے گا۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ادویات کے خام مال پر ٹیکس سے کمپنیوں کا سرمایہ پھنس جائے گا۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ملک میں ادویات کی صنعت ابتدائی مراحل میں ہے ان کا بھی یہی خدشہ ہے۔کمپنیاں سرمایہ پھنسنے کے بارے میں تحریری طور پر بتائے۔انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزیر خزانہ سے بات کریں گے کہ کمپنیوں کے سرمایہ کو تحفظ دیں۔ایف بی آر کمپنیوں کے تحفظات کی روشنی میں پالیسی بنائے گا۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ٹیکس لگتے ہی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ جس پر چیئرمین ایف بی آر نے جواب دیا کہ ہم قیمتیں بڑھنے نہیں دیں گے۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ٹیکس کی رقم کے بجائے اسی مالیت کا چیک لینے کی پالیسی بنائی جائے۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ حکومت نے گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اس کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑ رہا ہے۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ضمنی مالیاتی بل پر چیئرمین ایف بی آر نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ درآمدی مال کی ویلیویشن میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ماضی قریب میں کسٹم سٹاف کو دیئے گئے اختیارات واپس لئے گئے۔کسٹمز کو اختیارات قانونی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے دیئے گئے ہیں۔جس پر اراکین کمیٹی نے کہا کہ کلکٹر کے ویلیوشن اختیارات مکمل طور پر ختم کرنے کی سفارش ایف بی آر کو بھیجی جائے۔سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا کہ میڈیا میں آرہا ہے کہ ضمنی مالیاتی بل کی وجہ سے مہنگائی بڑھے گی۔بتایا جائے کہ کیا کسٹم ایکٹ میں ترمیم بھی آئی ایم ایف کے کہنے پر آئی ہے۔جس پر چیئرمین ایف بی آرنے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ قانونی سقم دور کرنے کیلئے ایف بی آر اپنے طور پر ترامیم کر کے آیا ہے۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کمپنیوں سے ٹیکس اور بنک گارنٹی نہ لینے کی سفارش کی گئی۔

    کاٹیج انڈسٹری کا ٹرن اوور 1 کروڑ سے کم کرکے 80 لاکھ روپے کرنے کا معاملہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں زیر بحث آیا۔چیئرمین ایف بی آر نے اس حوالے سے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ کاٹیج انڈسٹری پیکیج سے سیلز ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد کم ہوگی۔آئی ایم ایف نے ہماری توجہ اس جانب دلائی ہے، اس پیکیج میں تبدیلی لازمی ہے۔ہمیں پہلے اپنا ہاؤس ان آرڈر کرنا ہوگا۔

    چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ایسی اصلاحات لارہے ہیں کہ یہ آخری آئی ایم ایف پروگرام ہوگا۔ایک کروڑ کی کاٹیج سیلز ٹیکس گزاروں کی تعداد کم کرتی ہے۔سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ ایک کروڑ روپیہ اب ڈالر کے مقابلے میں 40 فیصد رہ گیا ہے۔کاٹیج انڈسٹری کی سیلنگ کم کرنے سے کاروبار بند ہو جائے گا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ایف بی آر اس شق کو تبدیل کرکے ہمیں ارسال کریں۔ہم آپ کو تبدیل شدہ شق ارسال کریں گے۔سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ٹیکس بڑھانے اور بھتہ لینے میں فرق ہونا چاہیے۔ہمیں ٹیکس بڑھانے کیلئے ٹیکس حکام کی بھتہ خوری ختم کرنی چاہیے۔ٹیکس قوانین میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔

    قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ملک میں سالانہ 80 ٹن سونا سمگلنگ کے ذریعے درآمد ہونے کا انکشاف ہوا۔گولڈ ایسوسی ایشن حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں سونا درآمد کرنے کی کوئی پالیسی اور ٹیکس نظام نہیں۔صرف سونا ہی نہیں ڈائمنڈ بھی سمگلنگ کے ذریعے آ رہا ہے۔جس پر ممبر ایف بی آر نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ 160 ٹن سونا استعمال میں آتا ہے۔80 ٹن سونا مختلف ممالک سے سمگلنگ کے ذریعے آ رہا ہے۔پاکستان میں سونا کی مارکیٹ تقریباً 2.2 ٹریلین روپے کی ہے۔ایف بی آر میں صرف 29 ارب روپے گولڈ مارکیٹ ڈکلئیرڈ ہے۔36 ہزار سونار وں میں سے صرف 54 گولڈ سمتھ ٹیکس دیتے ہیں۔قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے سونے پر سیلز ٹیکس ڈیڑھ فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وقفے کے بعد اراکین کمیٹی نے وفاقی وزیر خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور سیکرٹری خزانہ کی کمیٹی اجلاس میں عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا۔ سینیٹر مصدق مسعود ملک نے کہا کہ اگر وفاقی وزیر خزانہ، سیکرٹری خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر موجود نہیں تو ہمارے یہاں بیٹھے کاکیا مقصد ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ ان کی وزیر خزانہ سے بات ہوئی وہ آنے کو تیار ہیں۔میں نے ان سے کہا ہے کہ ہماری سفارشات کو منظور کرنا ہوگا۔ جس پر سینیٹر مصدق مسعود ملک نے کہا کہ اگر مشیر خزانہ اور اس کی ٹیم موجود نہیں ہے تو ہم کس کے سامنے اپنی سفارشات رکھیں گے۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ ایف بی آر ایک کرپٹ ادارہ ہے، 450 ارب روپے کھا لیتے ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایک کمیٹی بننی چاہئے جو ٹیکس کلیکٹر اور انسپکٹرز کی جانچ کرے کہ ان کے پاس کروڑوں روپے کہاں سے آجاتے ہیں جبکہ ان کی تنخواہ 1 لاکھ روپے تک ہوگی۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ جب تک ایف بی آر اپنا رویہ ٹھیک نہیں کرے گا تو لوگ ٹیکس نہیں دیں گے۔قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر فارمولا ملک پر 17 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز مسترد کردی۔ممبر ایف بی آر نے کہاکہ فارمولا ملک ایک فیشن بن گیا ہے۔سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اگر قیمت بڑھے گی تو غریب مائیں اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلا سکیں گی اگر چار بچے بھی وفات پا جاتے ہیں وہ ہماری وجہ سے ہوں گے۔سینیٹر ز فیصل سبزواری، فاروق ایچ نائیک اور کامل علی آغا نے کہا کہ بچوں سے وہ نوالہ جو زندگی ہے نا چھینے۔اگر سبسڈی دینی ہی ہیں تو غریب کو دیں۔سب کو کیوں بھکاری بنا رہے ہیں۔اگر سبسڈی دینی ہے تو چیزیں سستی کریں۔اگر ان کا بس چلے تو ہوا پر بھی ٹیکس لگا دیں۔ٹارگیٹڈ سبسڈی لگائیں۔سولر پینلز پر بھی 17 فیصد ٹیکس لگا دیا ہے۔ممبر ایف بی آر نے قائمہ کمیٹی کوبتایا کہ درآمدی سائیکل پر بھی ٹیکس لگانے جا رہے ہیں۔جس پر قائمہ کمیٹی نے 25 ہزار روپے تک درآمدی سائیکل پر ٹیکس نا لگانے اور اس سے زائد رقم کی درآمدی سائیکل پر ڈیوٹی لگانے کی تجویز دی۔قائمہ کمیٹی نے درآمدی مرغی پر 17 فیصد ٹیکس لگانے کی ایف بی آر کی تجویز منظور کر لی۔

    ممبرایف بی آر نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ہسپتالوں، تعلیمی اداروں کو عطیہ کرنے والی اشیاء پر بھی 17 فیصد ٹیکس لگانے جا رہے ہیں۔جس پر سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ یہ چیریٹی کا کام ہے 17 فیصد ٹیکس لگانے سے تو لوگ چندہ اور مدد کرنا بند کرلیں گے۔قائمہ کمیٹی نے چندہ کے طور پر عطیہ کرنے والی اشیاء پر 17 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز مسترد کردی۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمدطلحہ محمود نے کہا کہ اگر میں ہسپتال کو مشین عطیہ کرتا ہوں اور اس پر ٹیکس دینا پڑ جائے تو میں عطیہ نہیں کروں گا۔قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے مانع حمل سے متعلق ادویات پر بھی سیلز ٹیکس لگانے کی تجویزبھی مسترد کردی۔ممبر ایف بی آر نے کہا کہ مانع حمل کی ادویات پر پچھلے فنانس بل میں ٹیکس چھوٹ دی گئی تھی اس کو اب ٹیکس نیٹ میں لا رہے ہیں۔قائمہ کمیٹی نے مانع حمل کی ادویات کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجویز مسترد کر دی۔

    قائمہ کمیٹی کے  اجلاس میں قائد ایوان سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، سینیٹر ز فاروق ایچ نائیک،مصدق مسعود ملک ،کامل علی آغا، شیری رحمان،فیصل سبزواری، محسن عزیز، فیصل سلیم، دلاور خان، ذیشان خانزادہ، سلیم مانڈوی والا، انوار الحق کاکڑکے علاوہ چیئرمین ایف بی آر،ممبر ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی

    مولانا فضل الرحمان کواب اپنے حلوے کا بھی حساب دینا ہو گا،فارن فنڈنگ کیس میں نئی پیشرفت

    ،نوازشریف بتائیں اسامہ سے کتنی ملاقاتیں ہوئیں اور کتنا چندہ کیوں لیا،

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    غیرملکی فنڈنگ کی دستاویزات کی فراہمی،الیکشن کمیشن میں فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کی انکوائری کر رہا ہے تو کیا وزیر اعظم مستعفی ہو جائیں؟ سپریم کورٹ

  • کوہ کارونجھر کا سونا سندھ کی تقدیر:سُنا ہے پھرلوٹ مارکا بازارگرم ہے:کون ڈال رہا ہے ڈاکہ:خبریں آنے لگیں

    کوہ کارونجھر کا سونا سندھ کی تقدیر:سُنا ہے پھرلوٹ مارکا بازارگرم ہے:کون ڈال رہا ہے ڈاکہ:خبریں آنے لگیں

    تھرپارکر :کوہ کارونجھر کا سونا سندھ کی تقدیر:سُنا ہے پھرلوٹ مارکا بازارگرم ہے:کون ڈال رہا ہے ڈاکہ:خبریں آنے لگیں ،اطلاعات کےمطابق پچھلے سالوں کی طرح ان دنوں پر سوشل میڈیا پر سندھ کی خوبصورت کارونجھر پہاڑیوں کا ذکر چھڑا ہوا ہے لیکن اس کا تذکرہ اس حسین پہاڑی سلسلے کو بچانے کے لیے ہو رہا ہے۔

     

    سندھ کی ان قیمتی پہاڑیون کو بچانے کےلیے پچھلی کئی دہائیوں سے آواز بلند ہوتی آرہی ہے ،پچھلے دو تین سال سے تو ہرآنے والے لمحہ اس قیمتی اثاثے کوچانے کے لیے آواز بن کرسامنے آرہا ہے ، 2019 میں بڑے زوروشور سے آوازیں بلند ہورہی تھیں‌کہ کانجھرو کی پہاڑیوں‌ کو کان کنی کے نام پر لوٹا جارہا ہے

    پھر یہی آواز 2020 کے آخری دنوں میں بلند ہوئی لیکن کسی نے کان تک نہیں دھرا اورپچھلے چند دنوں سے پھر کانجھروکی پہاڑیاں آواز دے رہی ہیں کہ مجھے بچا لیں‌ ورنہ بڑے بڑے مجھے کھا جائیں‌ گے

    سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ کچھ کمپنیاں اور لوگ تھرپارکر کے علاقے میں واقع ان خوبصورت پہاڑیوں کو اپنی منافع خوری کا نشانہ بنا کر تباہ و برباد کر رہے ہیں۔

    کارونجھر کی پہاڑیاں قریباً 23 کلومیٹر طویل سلسلے کا حصہ ہیں اور ان کی چوٹی کی اونچائی 305 میٹر تک ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نہایت خوبصورت پہاڑی سلسلہ ہے جو ہزار سالہ تہذیب کے ارتقا کا حاصل ہے

     

    سندھی زبان کے مشہور شاعر شیخ ایاز نے صحرائے تھر کو فطرت کا عجائب گھر قرار دیا تھا جبکہ سندھی زبان کی شاعری میں کارونجھر پہاڑی کا ذکر کئی مقامات پر کیا گیا۔کارونجھر اس لیے بھی اہم ہےکہ یہاں پہاڑ، رن کچھ اور ریت والے تھر کا سنگم ہوتا ہے۔

    اس کےعلاوہ انگریزوں کے خلاف لڑنے والے روپلو کولہی کا تعلق بھی کارونجھر سے تھا،جنھیں ان کے ساتھیوں کے ساتھ بغاوت کا مقدمہ چلا کر 22 اگست 1858 کو پھانسی دے دی گئی۔

    کارونجھر لال رنگ کے گرینٹ پتھروں پر مشتمل پہاڑی سلسلہ ہے، جو ویسے تو لال نظر آتا ہے مگر مقامی لوگوں کے مطابق یہاں سفید اور کالے پتھر کے علاوہ پانچ رنگوں کے پتھر ہیں۔

    یہ رنگ برنگے گرینٹ کے پتھر کمروں کی ٹائلز اور عمارت سازی میں کام آتے ہیں، یہاں سے نکلنے والا پتھر پاکستان کے دیگر علاقوں سے نکلنے والے گرینٹ پتھروں سے قیمتی سمجھا جاتا ہے۔

     

    کارونجھر سے غیر قانونی پتھر نکالنے کے خالاف نگر پارکر میں شہریوں نے احتجاج بھی کیا۔پچھلے چند سالوں سے جاری قحط سالی کے بعد سندھ حکومت نے 30 سے زائد چھوٹے بڑے ڈیم تھر میں تعمیر کروائے مگر پتھروں کی بے دریغ کٹائی کے بعد شدید بارشوں کے باوجود کارونجھر کی ندیوں کے پانی سے کوئی بھی ڈیم نہ بھر سکا۔

    سندھ کے ضلع تھر پارکر میں ، رن کچھھ کے شمالی کنارے پر23 کلومیٹر پر پھیلا ہوا اور 307 میٹر لمبا پہاڑی سلسلہ موجود ہے ، جسے کارونجھر کہا جاتا ہے۔ ضلعہ تھر پارکر میں ان پہاڑیوں کے علاوہ کہیں بھی کوئی پہاڑ یا پہاڑی سلسلہ وجود نہیں رکھتا۔

    کارونجھر کا پہاڑی سلسلہ زیادہ تر گرینائٹ کے پتھروں پر مشتمل ہے۔

    یہ پہاڑی سلسلہ پورے تھر ریگستان سے الگ ہے ، اس سلسلے کی پہاڑیاں مشرق کی طرف بڑہتی جاتی ہیں۔
    ساون کے موسم میں کارونجھر کے حسن کو چار چاند لگ جاتے ہیں، معمول سے زیادہ سیاح امڈ آتے ہیں اور مقامی معیشت کو بہت فائدہ پہنچتا ہے۔

    ساون کے موسم میں جب بارشیں پڑتی ہیں تب کارونجھر سے بارش کا پانی پہاڑ سے نہروں کی شکل میں بہتا ہے ۔ ان نہروں کی تعداد بیس ہے۔ ان نہروں کا پانی کارونجھر ڈیم میں اکھٹا ہوتا ہے۔ اسی پانی سے ، کارونجھر کی چھاؤ میں واقع ننگر پارکر شہر کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔

    ان نہروں کے نام کچھ یوں ہیں” بھٹیانی ، ماؤ ، گوردڑو ، راناسر، سکھ پور ، گھٹیانی ، مدن واہ ، موندرو ، بھوڈے سر ، لول رائی ، دراہ ، پران واہ وغیرہ ہیں۔

    یہاں کے مقامی لوگ کارونجھر کی معاشی اہمیت کی وجہ سے کہتے ہیں کہ ” کارونجھر روزانہ ایک سو کلو سونا پئدا کرتا ہے”۔
    کارونجھر کی پہاڑیوں پر زیادہ تر کیکر ، چندن اور نیم کے درخت پائے جاتے ہیں۔

    اس پہاڑی سلسلہ میں چنکارا ہرن ، گیدڑ اور نیل گائے جیسے جانور پائے جاتے ہیں جو پورے تھر میں کہیں نہیں پائے جاتے۔
    سلسلہ کارونجھر کی غاریں بہت گہری ہیں ، ان غاروں کے اندر ہندو مذھب کی مورتیاں اور کئی اقسام کے سانپ پائے جاتے ہیں جن میں کنگ کوبرا بھی شامل ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ کئی اقسام کی بوٹیوں کا بھی مسکن ہے۔

    کارونجھر مقدس مذہبی آستانوں کا بھی گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہاں اسلام، ہندومت اور جین مت مذاہب کے مقدس آستانے ہیں جن میں قدیمی بھوڈیسر تالاب سے متصل 700 سال پرانی مسجد اور تھوڑے فاصلے پر ایک قدیم جین مت کا مندر ہے۔

    اس کے علاوہ ہندو مت کے مقدس ترین قدیمی مندر ساڑدھڑو دھام، انچل ایشور یعنی ایشور کا آنچل، تروٹ جو تھلو، پرانہ آدھی گام، گئو مکھی جیسے آستانے بھی کارونجھر پہاڑی میں واقعے ہیں۔

    یہاں پر ہندوؤں کا ایک مقدس مقام ساردھڑو بھی ہے ۔ ساردھڑو یہاں کی مقامی ہندو کمیونٹی میں اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔اس پہاڑی سلسلے میں کئی تاریخی مقامات ہیں جن میں ، بھوڈے سر کی مسجد بھی شامل ہے ، جس کو سلطان محمود بیگڑی نے بنوایا تھا۔

    کارونجھر کا ذکر کئی سندھی اور گجراتی شاعروں نے کیا ہے۔

    یہاں کی مقامی لوک داستان ، سڈونت سارنگا اور ہوتھل پری ، جام اوڈھو میں بھی کثرت سے کارونجھر کا ذکر ملتا ہے۔

    کارونجھر جبل محض پہاڑیاں نہیں بلکہ یہ قیمتی معدنیات کا وہ خزانہ ہیں جو سندھ کے ضلع تھرپارکرکے علاقے نگرپارکر کے جنوب مغرب میں پھیلی  ہوئی ہیں ، ان کی قدرتی ساخت اور تراش خراش بہت منفرد اورانتہائی خوبصورت  ہے ۔ سولہ میل تک پھیلے کوہ کارونجھر کو کینرو بھی کہا جاتا ہے۔

    یہاں قدیم آستانوں کے  ساتھ خوب صورت  قدرتی جھرنے بھی بہتے  ہیں، بارش کے بعد یہ جھرنے  بھرپور روانی کے ساتھ ان قیمتی پتھروں کے درمیان سے بہہ نکلتے ہیں پتھروں کی ان سنہری اونچی نیچی چوٹیوں میں اس قیمتی گرینائٹ کا خزانہ پوشیدہ ہے جس کی قیمت اور مالیت کا تعین انصاف پسندی سے کیا جائے تو پورے سندھ کی تقدیر بدل سکتی ہے ۔

    گرینائٹ کی مائننگ پر نہ صرف سندھ واسی سراپا احتجاج ہیں بلکہ سماجی حلقوں میں بھی اس پر تشویش پائی جاتی ہے ۔ماحولیات محبت کا کہنا ہے یہ تھر کا صحرا نہیں بلکہ گلستان ہے اگر اس کی توڑ پھوڑ اسی طرح جاری رہی تو پھر اس قدرتی ورثے کو کون دیکھنےآئے گا ۔

    سرمائی ، سنہرے دلکش رنگ  پتھروں کی یہ کہکشاں تھریوں کے لیے جذباتی وابستگی کی حامل ہے شاید اسی لیے وہ اس کا کٹاؤ اور اس کی توڑ پھوڑ کسی صورت نہیں برداشت کر سکتے ، کجا کو وہ کسی اورکو اس کی توڑ پھوڑ اور ترسیل کی اجازت دیں۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کوہ کارونجھر سندھ کا سونا ہے اور کوئی ہمارے سونے کی ادائیگی نہیں کرے گا۔ اس لیے ہم سندھ کے  سونے کا کاروبار نہیں کریں گے اور نہ ہی ہونے دیں گے ۔ تھریوں کا کہنا ہے کہ ہمارے کارونجھر پہاڑ کو کاٹنا ایسا ہے جیسے کسی ماں کے بیٹے کو قتل کردیا جائے ۔

    لیکن ایک دوسری حقیقت یہ ہے کسی بھی  زمین  کے معدنی وسائل اس کے باسیوں کی  ترقی اور خوشحالی کے ضامن ہوتے ہیں ان سے محبت ضرور کی جائے لیکن اگر ان پہاڑیوں کی ڈرلنگ اور مائننگ سے تھر واسیوں کے لیے روزگار اور خوشحالی کے دروازے کھل رہے ہیں تو پھر اس معاملے کو سرکاری اور عوامی سطح پر خوش اسلوبی کے ساتھ نمٹانا چاہیے تاکہ ان قیمتی پتھروں کی تجارت کے براہ راست فوائد سندھ کے باسیوں تک بھی پہنچ سکیں  ۔

  • سپر پاور امریکہ سونے کے ذخائر میں بھی دنیا میں سب سے آگے

    سپر پاور امریکہ سونے کے ذخائر میں بھی دنیا میں سب سے آگے

    واشنگٹن:دنیا میں سونے کے ذخائر کس ملک کے پاس کتنے ہیں‌اور سب سے زیادہ کس کے پاس ہیں ، اس حوالے سے تازہ خبر نے تہلکہ مچادیا ، اطلاعات کے مطابق امریکا 8133 ٹن سونے کے ساتھ پوری دنیا میں سب سے زیادہ سونے کے محفوظ ذخائر کا مالک ملک ہے۔

    سونے کے ذخائر کے حوالے سے امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر جرمنی کا نمبر ہے جس کے پاس 3367 ٹن سونا ہے، تیسری پوزیشن اٹلی کی ہے جو 2451 ٹن سونے کا مالک ہے۔ سعودی عرب کے پاس 323 ٹن سونے کے محفوظ ذخائر ہیں۔

    دنیا بھر میں‌سونے کے ذخائر کا پتہ لگانے والے ادارے کے مطابق سعودی عرب کے بعد سونے کے محفوظ ذخائر کا مالک لبنان ہے جس کے پاس 268 ٹن سونا ہے اور اس کا عالمی سطح پر 19 واں نمبر ہے، جب کہ پاکستان سونے کے ذخائر کے حوالے سے بہت پیچھے ہے،