Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سعودی سپریم کورٹ کی مسلمانوں سے عید کا چاند دیکھنے کی اپیل

    سعودی سپریم کورٹ کی مسلمانوں سے عید کا چاند دیکھنے کی اپیل

    سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے باضابطہ طور پر مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 29 رمضان، بروز بدھ شام، یعنی 18 مارچ 2026 کو شوال کا چاند تلاش کریں۔

    سپریم کورٹ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جو بھی شخص چاند دیکھے، چاہے آنکھ سے ہو یا دوربین کے ذریعے، وہ اپنی مشاہدے کی رپورٹ قریبی عدالت میں جمع کرائے یا مدد کے لیے نزدیکی مرکز سے رابطہ کرے تاکہ عدالت تک پہنچ سکے،چاند دیکھنے والے افراد ان سرکاری کمیٹیوں میں حصہ لیں جو سعودی عر ب بھر میں عدالت کی جانب سے تشکیل دی گئی ہیں، سپریم کورٹ نے زور دیا کہ اس میں حصہ لینے سے نیکی میں تعاون بڑھتا ہے اور تمام مسلمانوں کے لیے فائدہ مند ہے۔

    عید کے دنوں میں بارشوں کی پیشگوئی

    مضان 2026 کے اختتام کے قریب، دنیا بھر کے مسلمان شوال کے چاند کے منتظر ہیں، سعودی عرب میں ایک ہفتے پر محیط عیدالفطر کی تقریبات کا آغاز ہوتا ہے،چاند دیکھنے کی صدیوں پرانی اسلامی روایت ہجری کیلنڈر کے تعین میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے، جو قمری چکروں کی پیروی کرتا ہے اور اسلامی روایات کے مطابق مذہبی تہواروں کے شیڈول کو درست رکھتی ہے۔

    امریکی صدر کا چین کا دورہ ملتوی،چین کا بیان جاری

  • سپریم کورٹ نے قتل اور دہشتگردی کےمقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا

    سپریم کورٹ نے قتل اور دہشتگردی کےمقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا

    سپریم کورٹ نے پنڈی گھیب حملے کے مقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا۔

    عدالتِ عظمیٰ کے جج جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے اپیلوں پر جاری کردہ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف ٹھوس اور آزادانہ شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا،عدالت نے ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے، ملزمان ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھے اور ان کی شناخت کا عمل بھی مشکوک ہے، گواہان کا موقع پر موجود ہونا اور اتنے بڑے حملے میں کسی قسم کی چوٹ نہ آنا غیر فطری امر ہے۔

    مزید برآں، ملزمان کی مشترکہ شناخت پریڈ کو قانونی طور پر ناقابلِ قبول اور غیر محفوظ قرار دیا گیا، جبکہ یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ شناخت پریڈ سے قبل ہی ملزمان کی شناخت پولیس پر ظاہر ہو چکی تھی،عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ پولیس کے مطابق ملزمان نے ایک دوسرے مقدمے کی تفتیش کے دوران پنڈی گھیب واقعے کا اعتراف کیا تھا، تاہم جس مقدمے میں اعتراف کیا گیا، اس میں ملزمان پہلے ہی بری ہو چکے ہیں اس بنا پر عدالت نے قرار دیا کہ پہلے کیس میں بریت کے بعد مبینہ اعتراف اپنی قانونی حیثیت کھو چکا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ واقعہ یکم مئی 2011 کو پنڈی گھیب میں پیش آیا تھا، جہاں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی تھی۔

    ابوظہبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک پاکستانی جاں بحق

    کراچی: سی ٹی ڈی کی بڑی کارروائی، بی ایل اے کے 4 دہشتگرد ہلاک

    17 مارچ سے 20 مارچ تک پنجاب بھر میں بارشیں، الرٹ جاری

  • سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر متوازی اپیل دائر نہیں ہو سکتی، وفاقی آئینی عدالت

    سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر متوازی اپیل دائر نہیں ہو سکتی، وفاقی آئینی عدالت

    وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے بعد آئینی عدالت میں متوازی اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔

    وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے سپریم کورٹ کے 12 ستمبر 2024 کے حکم کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کر دی، جس میں درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ 2015 میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا جسے 2022 میں 2 رکنی بینچ نے تبدیل کر دیا۔

    عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد بھی وفاقی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ کے حتمی فیصلوں پر نگرانی یا اپیل سننے کا اختیار حاصل نہیں ہوا آئین لامتناہی مقدمہ بازی کی اجازت نہیں دیتا قانونی جنگ کا کہیں نہ کہیں اختتام ضروری ہوتا ہے زمین کے معاوضے کا جھگڑا عوامی اہمیت کا حامل نہیں بلکہ ایک نجی معاملہ ہے۔

    عمران خان کو علاج کیلیے شفاء اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    مقدمہ درخواست گزار اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان زمین کے معاوضے سے متعلق تھا عدالت نے کہا کہ اس کیس میں سپریم کورٹ میں دائر نظرثانی درخواست بھی پہلے ہی خارج ہو چکی ہے وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کو اصلاحی نظرثانی کے نام پر دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔

    امریکا کو بحری جہاز پر حملہ بہت مہنگا پڑے گا، ایرانی وزیرِ خارجہ

  • ڈاکٹر یاسمین راشد کا انتخابات میں نواز شریف کی کامیابی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    ڈاکٹر یاسمین راشد کا انتخابات میں نواز شریف کی کامیابی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    ڈاکٹر یاسمین راشد نےانتخابات میں نواز شریف کی کامیابی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔

    اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن ٹربیونل نے درخواست کو تکنیکی بنیادوں پر خارج کیا اور حقائق و قانون کا درست جائزہ نہیں لیا۔ درخواست گزار کے مطابق ٹربیونل کا فیصلہ آئینی اور قانونی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے، فارم 45 میں مبینہ تبدیلی الیکشن کی شفافیت کے آئینی تقاضے کے خلاف ہے۔

    معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے،سپریم کورٹ

    درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ حتمی نتائج مرتب کرنے کے لیے امیدواروں کو نوٹس جاری کرنا قانونی تقاضا ہے، تاہم نتائج مرتب کرتے وقت کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا، جو کہ انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے، شفاف انتخابات ہر امیدوار کا آئینی حق ہے اور اس حق کی حفاظت عدالت کی ذمہ داری ہے، الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں کامیاب قرار دیا جائے۔

    پی ایس ایل سیزن 11 کا ابتدائی شیڈول تیار

  • معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے،سپریم کورٹ

    معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے،سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے۔

    سپریم کورٹ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی اپیل خارج کرتے ہوئے وفاقی سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا عدالت نے واضح کیا کہ ملازمت سے معطلی برطرفی، خاتمہ یا علیحدگی نہیں ہے اور معطل ملازم اپنے عہدے پر برقرار رہتا ہے، چاہے وہ ڈیوٹی نہ بھی کر رہا ہو ملازمت کے معاہدے کے برقرار رہنے تک تنخواہ اور تمام فوائد بھی برقرار رہتے ہیں۔

    عدالت نے قرآن کی سورۃ المائدہ کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اے ایمان والو، اپنے معاہدوں کو پورا کرو، سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ قانونی اجازت کے بغیر ملازم کی تنخواہ روکنا تقرری کی شرائط کی خلاف ورزی ہے اور معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے سپریم کورٹ نے اسلام کے اصولوں اور حدیث نبوی کی روشنی میں کہا کہ مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے مزدوری دی جائے اور معطلی کی مدت کے دوران ملازم سے کسی بھی قسم کی ریکوری غیر قانونی ہے۔

    متحدہ عرب امارات کا اسرائیل میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری فنڈ قائم کرنے کا اعلان

    واضح رہے کہ اس کیس میں فریق ارشد حسین ایف بی آر میں ملازم تھے، جنہیں میڈیکل بورڈ نے بیماری کی بنیاد پر سروس کے لیے ان فٹ قرار دیا محکمہ نے ملازم کو جبری ریٹائر کرتے ہوئے معطلی کے دوران ادا کی گئی رقم واپس مانگی تھی، لیکن ٹربیونل نے فیصلہ دیا تھا کہ ملازم معطلی کے دورانیے کی مکمل تنخواہ اور الاؤنسز کا حقدار ہے۔

    عمران خان کی بہن نورین نیازی زیرِ تعمیر نالے میں گر کر زخمی

  • سپریم کورٹ: جائیداد کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق کیس کا تحریری فیصٌلہ جاری

    سپریم کورٹ: جائیداد کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق کیس کا تحریری فیصٌلہ جاری

    سپریم کورٹ نے جائیداد کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا،جس میں خیبر پختونخوا حکومت اور صوبائی محتسب کی اپیلیں ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیں۔

    تحریری فیصلہ جسٹس مسرت ہلالی کی جانب سے جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ جب نجی فریقین خود خاموش ہیں تو حکومت اور محتسب اپیل دائر کرنے کے مجاز نہیں،محتسب ایک جج کی حیثیت رکھتا ہے، فریق نہیں، اس لیے وہ اعلیٰ عدالتوں میں اپنے فیصلوں کا دفاع نہیں کر سکتا، محتسب ایک نیم عد التی ادارہ ہے اور وہ کسی فیصلے سے متاثر ہونے والا فریق نہیں بن سکتا، اس کی حیثیت ایک منصف کی ہے جسے غیر جانبدار رہنا چاہیے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نہ تو اس جائیداد کی وارث تھی اور نہ ہی فیصلے سے اسے کوئی ذاتی نقصان پہنچا، اس لیے اسے اپیل دائر کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں تھا،عدالت نے واضح کیا کہ اگر جائیداد کے اصل دعویدار اپیل کرنا چاہیں تو ان کا قانونی حق متاثر نہیں ہوگا۔

    سابق سیکیورٹی اہلکار طالبان رجیم کے نشانے پر،سابق پولیس کمانڈر قتل

    واضح رہے کہ مقدمہ شبیر خان اور دیگر نجی فریقین کے درمیان جائیداد کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق تھا صوبہ خیبر پختونخوا کی خاتون محتسب نے ویمن پراپرٹی ایکٹ 2019 کے تحت کیس کا فیصلہ سنایا تھا، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے محتسب کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیا تھا۔

    ہانیہ عامر نےسوشل میڈیا پر نیا ریکارڈ قائم کر دیا

  • چھوٹو گینگ کیس:رمضان میں ورلڈکپ جیتنے کے ذکر پراور منگل کی تاریخ پر دلچسپ مکالمہ

    چھوٹو گینگ کیس:رمضان میں ورلڈکپ جیتنے کے ذکر پراور منگل کی تاریخ پر دلچسپ مکالمہ

    اسلام آباد: چھوٹو گینگ کے سربراہ سمیت دیگر ملزمان کی سزاوں کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی-

    سپریم کورٹ میں بدنام زمانہ چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول سمیت دیگر ملزمان کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر سماعت جسٹس ملک شہزاد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کی۔

    شہزاد نے ریمارکس دیے کہ سزائے موت کا مقدمہ 2 رکنی بینچ نہیں سن سکتا،جس پر پروسیکیوٹر رائے اختر حسین نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ مقدمہ مشہور چھوٹو گینگ کا ہے،جسٹس شہزاد احمد ملک نے ریمارکس دیے کہ چھوٹو گینگ تو پنجاب میں بڑا مشہور تھا، ویسے اب تو سی سی ڈی نے سب ختم کر دیا ہے اور سی ٹی ڈی والے تو مقدمات لڑنے والے وکیل عمران کو بھی لے گئے تھے۔

    وکیل سردار عثمان کھوسہ نے کہا کہ میں بھی چھوٹو گینگ کی طرف سے پیش ہو رہا ہوں تاہم محفوظ ہوں وکیل نے استدعا کی کہ کیس کی اگلی سماعت منگل کے روز کی جائے،جسٹس شہزاد احمد ملک نے استفسار کیا کہ منگل کی تاریخ مانگ رہے ہیں استخارہ تو نہیں کرکے آئے؟

    وکیل سردار عثمان نے کہا کہ منگل نہیں تو رمضان کی کوئی تاریخ دے دیں، بابرکت مہینہ ہے اسی مہینے ورلڈ کپ جیتا تھا جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیے کہ اس ورلڈ کپ کا ذکر نہ کیا کریں، جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ کچھ لوگوں کو اس ورلڈ کپ کا ذکر ناگوار گزرتا ہے-

    وکیل چھوٹو گینگ نے کہا کہ چمپیئنز ٹرافی بھی رمضان میں جیتی گئی تھی،جسٹس ملک شہزاد نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو نہیں اٹھائے گئے، ایسا نہ ہو اب کچھ ہو جائے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی-

    واضح رہے کہ چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول سمیت 4 ملزمان نے اپنی سزاؤں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔

  • سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس خلیل الرحمان خان انتقال کر گئے

    سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس خلیل الرحمان خان انتقال کر گئے

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج جسٹس خلیل الرحمان خان انتقال کر گئے۔

    جسٹس خلیل الرحمان خان کے انتقال پر عدالتی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سمیت سپریم کورٹ کے دیگر معزز ججز نے مرحوم کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں مرحوم جسٹس خلیل الرحمان خان کی عدلیہ کے لیے گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مرحوم نے اپنے دورِ ملازمت میں دیانت، اصول پسندی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیامرحوم کے ایصالِ ثواب اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔

  • عمران خان کی طبی رپورٹ پر سپریم کورٹ کا حکمنامہ جاری

    عمران خان کی طبی رپورٹ پر سپریم کورٹ کا حکمنامہ جاری

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے معائنے اور جیل میں حالاتِ زندگی سے متعلق 12 فروری کا 7 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔

    سپریم کورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن سے متعلق مقرر کردہ فرینڈ آف دی کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ دونوں رپورٹس کے اہم نکات میں نمایاں مطابقت پائی گئی اور مجموعی تصویر ہم آہنگ نظر آئی۔

    حکمنامے میں کہا گیا کہ جیل میں درخواست گزار کے حالات میں فی الحال کوئی منفی یا تشویشناک پہلو سامنے نہیں آیا روزمرہ معمولات اور خوراک کے انتظاما ت کو تسلی بخش قرار دیا گیا جبکہ قید خانے کی حالت اطمینان بخش پائی گئی باقاعدہ بنیادی طبی معائنوں کی فراہمی کی تصدیق بھی کی گئی اور جیل احاطے میں درخواست گزار کی سکیورٹی کو محفوظ قرار دیا گیا۔

    لطیف کھوسہ کا چیف جسٹس کو خط ،بانی پی ٹی آئی کی طبی صورتحال پر تشویش کا اظہار

    عدالت نے قرار دیا کہ 23 اور 24 اگست 2023 کے سابقہ حکمناموں پر عمل درآمد ہو چکا ہے، لہٰذا بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن سے متعلق معاملہ غیر مؤثر ہو چکا ہے5 اگست 2023 کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے حتمی فیصلہ سنائے جانے کے بعد یہ تمام درخواستیں غیر مؤثر ہو چکی ہیں درخواست گزار ٹرائل کی مبینہ بے قاعدگیوں یا غیر قانونی اقدامات کے خلاف اپنی شکایات متعلقہ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت اپیل میں اٹھا سکتے ہیں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے سابقہ احکامات کی روشنی میں ان درخواستوں کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا جاتا ہے اور انہیں ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔

    حکمنامے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے عدالتی حکم کی تعمیل میں بانی پی ٹی آئی کی جیل میں زندگی کے حالات سے متعلق رپورٹ جمع کرائی تھی، جبکہ عدالت نے موجودہ حالات کی آزادانہ تصدیق کے لیے بیرسٹر سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کیا تھا سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور فرینڈ آف دی کورٹ کی رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جیل میں اپنی حفاظت، سیکیورٹی، رہائشی حالات اور کھانے پینے کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    عمران خان کا طبی معائنہ:ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی

    حکمنامے کے مطابق فرینڈ آف دی کورٹ کی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کی بگڑتی ہوئی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ 16 فروری سے قبل ماہر امراض چشم کی ٹیم کے ذریعے طبی معائنہ یقینی بنایا جائے گا عدالت نے یہ ہدایت بھی جاری کی کہ بانی پی ٹی آئی کو قانون کے مطابق برطانیہ میں مقیم اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے۔

    عدالت کی جانب سے بتایا گیا کہ یہ سماعت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل بینچ نے کی، جس میں بانی پی ٹی آئی کی 3 فوجداری درخواستوں پر غور کیا گیا یہ درخواستیں الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر کردہ فوجداری ٹرائل کے دوران جاری مختلف عبوری اور طریقہ کار کے احکامات کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔

    عمران خان کی ایک آنکھ 70 فیصد جبکہ دوسری مکمل ٹھیک ہے، اعظم نذیر تارڑ

  • لطیف کھوسہ کا چیف جسٹس  کو خط ،بانی پی ٹی آئی کی طبی صورتحال پر تشویش کا اظہار

    لطیف کھوسہ کا چیف جسٹس کو خط ،بانی پی ٹی آئی کی طبی صورتحال پر تشویش کا اظہار

    بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر بانی پی ٹی آئی کی طبی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹس فراہم کی جائیں اور ان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم کو معائنے کی اجازت دی جائے اور بانی پی ٹی آئی کو بہتر علاج کی غرض سے الشفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے، بانی پی ٹی آئی کی گرتی ہوئی صحت اہلخانہ اور عوام کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے بیماری کے دوران بھی انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا۔

    عمران خان کا طبی معائنہ:ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی

    خط میں لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالتی حکم پر طبی معائنہ تو کیا گیا، لیکن اہلخانہ کو اس سے لاعلم رکھا گیا انہوں نے نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ اہلخانہ اور پارٹی قیادت کو معائنے کے وقت بلایا گیا تھا مگر وہ نہیں آئے، اہلخانہ کو آگاہ کیے بغیر خفیہ طبی معائنہ کئی خدشات کو جنم دیتا ہے، اور طبی معاملے سے اہلخانہ کو باہر رکھنے سے بے چینی اور شکوک میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    خط میں عدالتِ عظمیٰ سے معاملے کا نوٹس لے کر شفاف طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی استدعا کی گئی ہے-

    نورین نیازی سے منسوب عمران خان کی بصارت میں بہتری کی خبر ، علیمہ خان کا بیان بھی جاری