Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • چھوٹو گینگ کیس:رمضان میں ورلڈکپ جیتنے کے ذکر پراور منگل کی تاریخ پر دلچسپ مکالمہ

    چھوٹو گینگ کیس:رمضان میں ورلڈکپ جیتنے کے ذکر پراور منگل کی تاریخ پر دلچسپ مکالمہ

    اسلام آباد: چھوٹو گینگ کے سربراہ سمیت دیگر ملزمان کی سزاوں کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی-

    سپریم کورٹ میں بدنام زمانہ چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول سمیت دیگر ملزمان کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر سماعت جسٹس ملک شہزاد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کی۔

    شہزاد نے ریمارکس دیے کہ سزائے موت کا مقدمہ 2 رکنی بینچ نہیں سن سکتا،جس پر پروسیکیوٹر رائے اختر حسین نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ مقدمہ مشہور چھوٹو گینگ کا ہے،جسٹس شہزاد احمد ملک نے ریمارکس دیے کہ چھوٹو گینگ تو پنجاب میں بڑا مشہور تھا، ویسے اب تو سی سی ڈی نے سب ختم کر دیا ہے اور سی ٹی ڈی والے تو مقدمات لڑنے والے وکیل عمران کو بھی لے گئے تھے۔

    وکیل سردار عثمان کھوسہ نے کہا کہ میں بھی چھوٹو گینگ کی طرف سے پیش ہو رہا ہوں تاہم محفوظ ہوں وکیل نے استدعا کی کہ کیس کی اگلی سماعت منگل کے روز کی جائے،جسٹس شہزاد احمد ملک نے استفسار کیا کہ منگل کی تاریخ مانگ رہے ہیں استخارہ تو نہیں کرکے آئے؟

    وکیل سردار عثمان نے کہا کہ منگل نہیں تو رمضان کی کوئی تاریخ دے دیں، بابرکت مہینہ ہے اسی مہینے ورلڈ کپ جیتا تھا جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیے کہ اس ورلڈ کپ کا ذکر نہ کیا کریں، جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ کچھ لوگوں کو اس ورلڈ کپ کا ذکر ناگوار گزرتا ہے-

    وکیل چھوٹو گینگ نے کہا کہ چمپیئنز ٹرافی بھی رمضان میں جیتی گئی تھی،جسٹس ملک شہزاد نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو نہیں اٹھائے گئے، ایسا نہ ہو اب کچھ ہو جائے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی-

    واضح رہے کہ چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول سمیت 4 ملزمان نے اپنی سزاؤں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔

  • سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس خلیل الرحمان خان انتقال کر گئے

    سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس خلیل الرحمان خان انتقال کر گئے

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج جسٹس خلیل الرحمان خان انتقال کر گئے۔

    جسٹس خلیل الرحمان خان کے انتقال پر عدالتی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سمیت سپریم کورٹ کے دیگر معزز ججز نے مرحوم کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں مرحوم جسٹس خلیل الرحمان خان کی عدلیہ کے لیے گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مرحوم نے اپنے دورِ ملازمت میں دیانت، اصول پسندی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیامرحوم کے ایصالِ ثواب اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔

  • عمران خان کی طبی رپورٹ پر سپریم کورٹ کا حکمنامہ جاری

    عمران خان کی طبی رپورٹ پر سپریم کورٹ کا حکمنامہ جاری

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے معائنے اور جیل میں حالاتِ زندگی سے متعلق 12 فروری کا 7 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔

    سپریم کورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن سے متعلق مقرر کردہ فرینڈ آف دی کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ دونوں رپورٹس کے اہم نکات میں نمایاں مطابقت پائی گئی اور مجموعی تصویر ہم آہنگ نظر آئی۔

    حکمنامے میں کہا گیا کہ جیل میں درخواست گزار کے حالات میں فی الحال کوئی منفی یا تشویشناک پہلو سامنے نہیں آیا روزمرہ معمولات اور خوراک کے انتظاما ت کو تسلی بخش قرار دیا گیا جبکہ قید خانے کی حالت اطمینان بخش پائی گئی باقاعدہ بنیادی طبی معائنوں کی فراہمی کی تصدیق بھی کی گئی اور جیل احاطے میں درخواست گزار کی سکیورٹی کو محفوظ قرار دیا گیا۔

    لطیف کھوسہ کا چیف جسٹس کو خط ،بانی پی ٹی آئی کی طبی صورتحال پر تشویش کا اظہار

    عدالت نے قرار دیا کہ 23 اور 24 اگست 2023 کے سابقہ حکمناموں پر عمل درآمد ہو چکا ہے، لہٰذا بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن سے متعلق معاملہ غیر مؤثر ہو چکا ہے5 اگست 2023 کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے حتمی فیصلہ سنائے جانے کے بعد یہ تمام درخواستیں غیر مؤثر ہو چکی ہیں درخواست گزار ٹرائل کی مبینہ بے قاعدگیوں یا غیر قانونی اقدامات کے خلاف اپنی شکایات متعلقہ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت اپیل میں اٹھا سکتے ہیں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے سابقہ احکامات کی روشنی میں ان درخواستوں کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا جاتا ہے اور انہیں ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔

    حکمنامے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے عدالتی حکم کی تعمیل میں بانی پی ٹی آئی کی جیل میں زندگی کے حالات سے متعلق رپورٹ جمع کرائی تھی، جبکہ عدالت نے موجودہ حالات کی آزادانہ تصدیق کے لیے بیرسٹر سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کیا تھا سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور فرینڈ آف دی کورٹ کی رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جیل میں اپنی حفاظت، سیکیورٹی، رہائشی حالات اور کھانے پینے کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    عمران خان کا طبی معائنہ:ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی

    حکمنامے کے مطابق فرینڈ آف دی کورٹ کی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کی بگڑتی ہوئی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ 16 فروری سے قبل ماہر امراض چشم کی ٹیم کے ذریعے طبی معائنہ یقینی بنایا جائے گا عدالت نے یہ ہدایت بھی جاری کی کہ بانی پی ٹی آئی کو قانون کے مطابق برطانیہ میں مقیم اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے۔

    عدالت کی جانب سے بتایا گیا کہ یہ سماعت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل بینچ نے کی، جس میں بانی پی ٹی آئی کی 3 فوجداری درخواستوں پر غور کیا گیا یہ درخواستیں الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر کردہ فوجداری ٹرائل کے دوران جاری مختلف عبوری اور طریقہ کار کے احکامات کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔

    عمران خان کی ایک آنکھ 70 فیصد جبکہ دوسری مکمل ٹھیک ہے، اعظم نذیر تارڑ

  • لطیف کھوسہ کا چیف جسٹس  کو خط ،بانی پی ٹی آئی کی طبی صورتحال پر تشویش کا اظہار

    لطیف کھوسہ کا چیف جسٹس کو خط ،بانی پی ٹی آئی کی طبی صورتحال پر تشویش کا اظہار

    بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر بانی پی ٹی آئی کی طبی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹس فراہم کی جائیں اور ان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم کو معائنے کی اجازت دی جائے اور بانی پی ٹی آئی کو بہتر علاج کی غرض سے الشفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے، بانی پی ٹی آئی کی گرتی ہوئی صحت اہلخانہ اور عوام کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے بیماری کے دوران بھی انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا۔

    عمران خان کا طبی معائنہ:ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی

    خط میں لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالتی حکم پر طبی معائنہ تو کیا گیا، لیکن اہلخانہ کو اس سے لاعلم رکھا گیا انہوں نے نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ اہلخانہ اور پارٹی قیادت کو معائنے کے وقت بلایا گیا تھا مگر وہ نہیں آئے، اہلخانہ کو آگاہ کیے بغیر خفیہ طبی معائنہ کئی خدشات کو جنم دیتا ہے، اور طبی معاملے سے اہلخانہ کو باہر رکھنے سے بے چینی اور شکوک میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    خط میں عدالتِ عظمیٰ سے معاملے کا نوٹس لے کر شفاف طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی استدعا کی گئی ہے-

    نورین نیازی سے منسوب عمران خان کی بصارت میں بہتری کی خبر ، علیمہ خان کا بیان بھی جاری

  • عمران خان کا طبی معائنہ:ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی

    عمران خان کا طبی معائنہ:ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کا تفصیلی طبی معائنہ کیا ہے اور سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کی آنکھ کی بینائی 70 فیصد ریکور ہوچکی ہے عمران خان کی دائیں آنکھ میں علاج کے بعد واضح بہتری آئی ہے معائنے کے بعد ڈاکٹرز نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور عمران خان کی فیملی کو بھی بریفنگ دی ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل ٹیم نے عمران خان کے علاج اور ریکوری کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    اس سے قبل سابق وزیر اعظم کو آنکھ میں درد کی وجہ سے پمز اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ان کی آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلژن (سی آر وی او) سے متاثر ہے عمران خان کی آنکھ متاثر ہونے کی خبریں میڈیا پر آنے کے بعد سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر کو ’فرینڈ آف کورٹ‘ مقرر کیا تھا اور انہیں اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کر کے تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

    عمران خان کی ایک آنکھ 70 فیصد جبکہ دوسری مکمل ٹھیک ہے، اعظم نذیر تارڑ

    نورین نیازی سے منسوب عمران خان کی بصارت میں بہتری کی خبر ، علیمہ خان کا بیان بھی جاری

    میڈیکل ٹیم کا عمران خان کی آنکھوں کے علاج پر اطمینان کا اظہار

    عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں بہتری آ رہی ہے،نورین خانم

    بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان زندہ باد ریلی کا انعقاد

  • سپریم کورٹ کا عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی ، بچوں سے رابطوں کی سہولت دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کا عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی ، بچوں سے رابطوں کی سہولت دینے کا حکم

    سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران کو ذاتی معالجین اور ماہر امراضِ چشم تک رسائی دینے اور ان کے بیٹوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت عظمیٰ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی اور بیرسٹر سلمان صفدر سپریم کورٹ پہنچے،دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو روسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس ایک جیسی ہیں، رپورٹ کا پیراگراف نمبر 21 پڑھیں۔

    عدالت میں پڑھی گئی رپورٹ کے متن کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جیل میں حفاظتی سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا جب کہ د ستیا ب کھانوں کی سہولیات پر بھی اطمینان ظاہر کیا، تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور ماہر آنکھوں کے ڈاکٹرو ں تک رسائی کی درخواست کی۔

    تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے،صدرِ مملکت

    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت اسٹیٹ کسٹڈی میں ہیں اور بانی پی ٹی آئی سمیت تمام قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات ملنی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ بالکل بھی نہیں کہیں گے کہ بانی پی ٹی آئی کو دیگر قیدیوں کے مقابلے میں نمایاں سہولیات دی جائیں، سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ ہم ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک رسائی دینے کے لیے تیار ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حکو مت اچھے موڈ میں ہے بانی پی ٹی آئی کو ان کے بچوں کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کی سہولت بھی ملنی چاہیے، بانی پی ٹی آئی کو کتابیں پڑھنے کے لیے فراہم کرنے کی رائے اس لیے نہیں دے رہے کیونکہ ان کی آنکھوں کا مسئلہ ہے۔

    انہوں نے ہدایت کی کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے بانی پی ٹی آئی کو ماہرین تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطوں کی سہولیات دی جائیں، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ دو سے تین دن تک ہو جائے گا ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے یقین دہانی کرائی کہ 16 فروری تک آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطوں کی سہولیات فراہم کر دی جائیں گی، جسے عدالتی حکم نامے کا حصہ بنایا گیا۔

    ڈی پی اور قصور کی اہم کانفرنس میں اہم احکامات ،افسران کے تبادلے

    دوران سماعت فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر نے استدعا کی کہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک بانی پی ٹی آئی کو رسائی دی جائے جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتے عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو ذاتی معالجین تک رسائی کا حکم دے دیا تاہم کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی دینے کی استدعا مسترد کر دی۔

    سلمان صفدر نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو مزید کتابیں فراہم کی جائیں جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اگر ڈاکٹرز اجازت دیں تو کتابیں فراہم کی جائیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے اس معاملے پر مداخلت کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں حکومت کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔ صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    بنگلہ دیش انتخاب،جین زی اور خواتین ووٹرز فیصلہ کن قوت

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اگر قیدی مطمئن نہیں تو ریاست اقدامات کرے گی، چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں سے ٹیلی فون کالز کا ایشو بھی اہم ہے ہم حکومت پر اعتماد کررہے ہیں، آج حکومت اچھے موڈ میں ہے، معائنہ کے لیے ڈاکٹرز کی ٹیم تشکیل دی جائے گی ، اس موقع پر عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات کروانے کی بھی ہدایت کردی ،عدالت نے کہا کہ دونوں اقدامات 16 فروری سے پہلے کرلیے جائیں-

  • عمران خان کیخلاف  توشہ خانہ فوجداری کیس سےمتعلق درخواستوں پر سپریم کورٹ  میں سماعت مقرر

    عمران خان کیخلاف توشہ خانہ فوجداری کیس سےمتعلق درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت مقرر

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس سے متعلق درخواستوں پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں سماعت مقرر کر دی گئی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں کارروائی مکمل ہونے کے بعد یہ کیس دوبارہ اعلیٰ ترین عدالت میں سماعت کے لیے فکس کیا گیا ہے،سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ فوجداری درخواستوں پر سماعت کرے گا، جبکہ جسٹس شاہد بلال حسن بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔

    سپریم کورٹ کے اعلامیے کےمطابق بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ 9 فروری کو سماعت کرے گا، جبکہ جسٹس شاہد بلال حسن بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔

    واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو الیکشن ایکٹ کی دفعات 167 اور 173 کے تحت قصوروار قرار دیتے ہوئے تین سال قید کی سزا سنائی تھی بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا کو معطل کرتے ہوئے انہیں ریلیف فراہم کیا تھااب سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت میں فوجداری درخواستوں پر قانونی نکات، سزا کی حیثیت اور مقدمے کے مستقبل سے متعلق اہم سوالات پر غور کیا جائے گا کیس کی سماعت کو ملکی سیاست اور قانونی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

    بانی پاکستان تحریک انصاف نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح ریمانڈ احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے فیصلہ سنایا، جو کہ قانونی اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے۔

    درخواست کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو مقدمے کی مکمل جانچ پڑتال کرنے اور تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم ٹرائل کورٹ نے ان ہدایات پر عمل کیے بغیر فیصلہ سنا دیا۔

    بانی پی ٹی آئی نے درخواست میں مؤقف اپنایا ہے کہ ہائیکورٹ کے حکم کے بعد ٹرائل کورٹ کا فیصلہ سنانا نہ صرف غیر قانونی تھا بلکہ یہ عدالتی دائرہ اختیار سے تجاوز بھی تھا درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ٹرائل کورٹ کی پوری کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا جائے،ہائیکورٹ میں سزا معطلی کی درخواست زیر سماعت ہونے کے باعث سپریم کورٹ نے اگست 2023 میں اس کیس کی سماعت مؤخر کر دی تھی۔

  • جرح کے نام پر گواہوں  کو ہراساں کرنا  ناقابل قبول ہے،سپریم کورٹ

    جرح کے نام پر گواہوں کو ہراساں کرنا ناقابل قبول ہے،سپریم کورٹ

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جرح کے نام پر گواہوں کو ہراساں کرنا اور غیر متعلقہ سوالات کرنا ناقابل قبول ہے۔

    سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جرح کا حق نہ تو لامحدود ہے اور نہ ہی بے لگام، بلکہ ٹرائل کورٹ کو غیر ضروری جرح کو محدود یا ختم کرنے کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے، تاکہ عدالتی کارروائی کو منصفانہ اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

    سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں گواہوں کو غیر ضروری تضحیک اور دباؤ سے محفوظ رکھنے کی پابند ہیں، ٹرائل کورٹ نے مشاہدہ کیا تھا کہ کیس میں مزید جرح غیر ضروری، غیر متعلقہ اور ہراساں کرنے کے مترادف ہے، جس کے بعد مدعا علیہ کا مزید جرح کا حق ختم کر دیا گیا تھا۔

    عدالت نے نشاندہی کی کہ لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کر دیا تھا یہ فیصلہ قانونی دائرہ اختیار کے اندر ر ہتے ہوئے کیا گیا گواہوں کو طویل جرح کے ذریعے تھکا کر غلطی پر مجبور کرنا انصاف کے منافی ہے ۔ عدالتی نظام ایسے طرزِ عمل کی اجازت نہیں دے سکتا عدالتی ریکارڈ کی درستگی کا ایک قوی قانونی مفروضہ موجود ہوتا ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ کو سیکشن 151 سی پی سی کے تحت کارروائی کو منظم کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے، جس کا استعمال اس کیس میں درست طور پر کیا گیا۔

    واضح رہے کہ یہ مقدمہ لاہور کے علاقے موہلنوال میں واقع 53 کنال 3 مرلہ اراضی سے متعلق تھا، جس میں مدعی بطور گواہ پیش ہوا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق 2 ماہ کے عرصے میں 7 سماعتوں کے دوران گواہ پر 30 صفحات پر مشتمل جرح کی گئی، جسے ٹرائل کورٹ نے غیر ضروری قرار دیا۔

    کیس میں سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے جاری کیا۔

  • نور مقدم قتل کیس : نظر ثانی اپیل پر سماعت غیر معینہ مدت کےلیے ملتوی

    نور مقدم قتل کیس : نظر ثانی اپیل پر سماعت غیر معینہ مدت کےلیے ملتوی

    سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کی نظر ثانی اپیل پر سماعت ہوئی۔

    سپریم کورٹ نے نظر ثانی اپیل پر سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی،عدالت نے وقت کی کمی کے باعث سماعت ملتوی کر دی، جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کرنا تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس اسلام آباد میں سابق سفیر شوکت مقدم کی صاحبزادی نور مقدم کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت پانے والے مجرم ظاہر ذاکر جعفر نے سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عدالت نے ملزم کی ذہنی حالت کا تعین نہیں کروایا، سپریم کورٹ سے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست کی گئی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے اس متفرق درخواست پر فیصلہ نہیں دیا۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ سزائے موت دینے کے لیے ویڈیو ریکارڈنگ پر انحصار کیا گیا، ویڈیوز ٹرائل کے دوران درست ثابت بھی نہیں کی گئیں، ملزم کو ویڈیو ریکارڈنگز فراہم بھی نہیں کی گئیں وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر نظر ثانی کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرائل کے دوران عدالت میں کبھی وہ ویڈیوز چلا کر بھی نہیں دیکھی گئیں، فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ فیصلے پر نظرثانی کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں، عدالت اپنے 20 مئی کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

    یاد رہے کہ مئی 2025 میں سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جسٹس ہاشم کاکڑ نے مختصر فیصلہ سنایا تھا جسٹس ہاشم کاکڑ نے مختصر فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ظاہر جعفر کے خلاف قتل کی دفعات میں سزائے موت برقرار رکھی ہے، ریپ کیس میں سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی گئی ہے، جب کہ اغوا کے مقدمے میں 10 سال قید کو کم کرکے ایک سال کر دیا گیا ہے، عدالت نے نور مقدم کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم بھی برقرار رکھا تھاعدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ظاہر جعفر کے مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار نے جتنی سزا کاٹ لی، وہ کافی ہے، شریک ملزمان کو عدالت کا تحریری فیصلہ آنے کے بعد رہا کردیا جائے۔

  • سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا کے پولیس اہلکاروں کے حق میں فیصلہ سنادیا

    سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا کے پولیس اہلکاروں کے حق میں فیصلہ سنادیا

    سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا کے پولیس اہلکاروں کے حق میں فیصلہ سنادیا-

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبر پختونخوا کے پولیس اہلکاروں کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ غلط برطرفی کا شکار ملازم پچھلے تمام واجبات حاصل کرنے کا حق دار ہےعدالت نے تمام بقایا جات ایک ماہ کے اندر ادا کرنے کا حکم دیا اور خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جو پولیس اہلکاروں کے پچھلے واجبات دینے سے انکار کر رہا تھا،سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے یہ فیصلہ جاری کیا، جسے جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا ہے-

    سپریم کورٹ نے فیصلے کے آغاز میں ایک نظم کے الفاظ درج کیے جس کے مطابق انصاف کا سورج طلوع ہوگا تو اندھیرے چھٹ جائیں گے جبکہ عدا لت نے ولیم شیکسپیئر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ رزق چھیننا زندگی چھیننے کے مترادف ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما مشال یوسفزائی نے پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کا پردہ فاش کر دیا

    عدالت نے واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 9 زندگی کی ضمانت دیتا ہے، جس میں روزگار کا تحفظ بھی شامل ہے آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت ہر سرکاری افسر اپنے فیصلے کا ٹھوس، عقلی اور معقول جواز فراہم کرنے کا پابند ہے صوابدیدی اختیارات ایک مقدس امانت ہیں، جو محض ذاتی پسند ناپسند کے لیے استعما ل نہیں کی جا سکتی۔

    سپریم کورٹ نے ملازمین کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملازم کو صرف یہ کہنا کافی ہے کہ وہ بیروزگار تھا، اسے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے در در نہیں بھٹکنا پڑے گا۔ جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ثبوت لانا محکمے کی ذمہ داری ہے نظام کی خرابی یا مقدمے بازی میں طویل تاخیر کی سزا غریب ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔

    بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن حادثہ، خاتون کی لاش مل گئی،بچی کی تلاش جاری

    واضح رہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کے برطرف ملازمین کو عہدوں پر بحال کرنے کے بعد ان کے پچھلے واجبات روک دیے گئے تھے،ملازمین کی استدعا تھی کہ بحالی کے بعد انہیں تمام پچھلے واجبات بھی ملنے چاہئیں، جبکہ محکمہ پولیس کا موقف تھا کہ پچھلے واجبات کی ادائیگی اتھارٹی کی صوابدید پر ہے-