Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر متوازی اپیل دائر نہیں ہو سکتی، وفاقی آئینی عدالت

    سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر متوازی اپیل دائر نہیں ہو سکتی، وفاقی آئینی عدالت

    وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے بعد آئینی عدالت میں متوازی اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔

    وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے سپریم کورٹ کے 12 ستمبر 2024 کے حکم کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کر دی، جس میں درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ 2015 میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا جسے 2022 میں 2 رکنی بینچ نے تبدیل کر دیا۔

    عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد بھی وفاقی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ کے حتمی فیصلوں پر نگرانی یا اپیل سننے کا اختیار حاصل نہیں ہوا آئین لامتناہی مقدمہ بازی کی اجازت نہیں دیتا قانونی جنگ کا کہیں نہ کہیں اختتام ضروری ہوتا ہے زمین کے معاوضے کا جھگڑا عوامی اہمیت کا حامل نہیں بلکہ ایک نجی معاملہ ہے۔

    عمران خان کو علاج کیلیے شفاء اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری

    مقدمہ درخواست گزار اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان زمین کے معاوضے سے متعلق تھا عدالت نے کہا کہ اس کیس میں سپریم کورٹ میں دائر نظرثانی درخواست بھی پہلے ہی خارج ہو چکی ہے وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کو اصلاحی نظرثانی کے نام پر دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔

    امریکا کو بحری جہاز پر حملہ بہت مہنگا پڑے گا، ایرانی وزیرِ خارجہ

  • ڈاکٹر یاسمین راشد کا انتخابات میں نواز شریف کی کامیابی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    ڈاکٹر یاسمین راشد کا انتخابات میں نواز شریف کی کامیابی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    ڈاکٹر یاسمین راشد نےانتخابات میں نواز شریف کی کامیابی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔

    اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن ٹربیونل نے درخواست کو تکنیکی بنیادوں پر خارج کیا اور حقائق و قانون کا درست جائزہ نہیں لیا۔ درخواست گزار کے مطابق ٹربیونل کا فیصلہ آئینی اور قانونی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے، فارم 45 میں مبینہ تبدیلی الیکشن کی شفافیت کے آئینی تقاضے کے خلاف ہے۔

    معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے،سپریم کورٹ

    درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ حتمی نتائج مرتب کرنے کے لیے امیدواروں کو نوٹس جاری کرنا قانونی تقاضا ہے، تاہم نتائج مرتب کرتے وقت کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا، جو کہ انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے، شفاف انتخابات ہر امیدوار کا آئینی حق ہے اور اس حق کی حفاظت عدالت کی ذمہ داری ہے، الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں کامیاب قرار دیا جائے۔

    پی ایس ایل سیزن 11 کا ابتدائی شیڈول تیار

  • معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے،سپریم کورٹ

    معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے،سپریم کورٹ

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے۔

    سپریم کورٹ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی اپیل خارج کرتے ہوئے وفاقی سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا عدالت نے واضح کیا کہ ملازمت سے معطلی برطرفی، خاتمہ یا علیحدگی نہیں ہے اور معطل ملازم اپنے عہدے پر برقرار رہتا ہے، چاہے وہ ڈیوٹی نہ بھی کر رہا ہو ملازمت کے معاہدے کے برقرار رہنے تک تنخواہ اور تمام فوائد بھی برقرار رہتے ہیں۔

    عدالت نے قرآن کی سورۃ المائدہ کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اے ایمان والو، اپنے معاہدوں کو پورا کرو، سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ قانونی اجازت کے بغیر ملازم کی تنخواہ روکنا تقرری کی شرائط کی خلاف ورزی ہے اور معطل ملازم کو مکمل تنخواہ اور فوائد سے محروم کرنا ناانصافی اور ظلم ہے سپریم کورٹ نے اسلام کے اصولوں اور حدیث نبوی کی روشنی میں کہا کہ مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے مزدوری دی جائے اور معطلی کی مدت کے دوران ملازم سے کسی بھی قسم کی ریکوری غیر قانونی ہے۔

    متحدہ عرب امارات کا اسرائیل میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری فنڈ قائم کرنے کا اعلان

    واضح رہے کہ اس کیس میں فریق ارشد حسین ایف بی آر میں ملازم تھے، جنہیں میڈیکل بورڈ نے بیماری کی بنیاد پر سروس کے لیے ان فٹ قرار دیا محکمہ نے ملازم کو جبری ریٹائر کرتے ہوئے معطلی کے دوران ادا کی گئی رقم واپس مانگی تھی، لیکن ٹربیونل نے فیصلہ دیا تھا کہ ملازم معطلی کے دورانیے کی مکمل تنخواہ اور الاؤنسز کا حقدار ہے۔

    عمران خان کی بہن نورین نیازی زیرِ تعمیر نالے میں گر کر زخمی

  • سپریم کورٹ: جائیداد کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق کیس کا تحریری فیصٌلہ جاری

    سپریم کورٹ: جائیداد کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق کیس کا تحریری فیصٌلہ جاری

    سپریم کورٹ نے جائیداد کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا،جس میں خیبر پختونخوا حکومت اور صوبائی محتسب کی اپیلیں ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیں۔

    تحریری فیصلہ جسٹس مسرت ہلالی کی جانب سے جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ جب نجی فریقین خود خاموش ہیں تو حکومت اور محتسب اپیل دائر کرنے کے مجاز نہیں،محتسب ایک جج کی حیثیت رکھتا ہے، فریق نہیں، اس لیے وہ اعلیٰ عدالتوں میں اپنے فیصلوں کا دفاع نہیں کر سکتا، محتسب ایک نیم عد التی ادارہ ہے اور وہ کسی فیصلے سے متاثر ہونے والا فریق نہیں بن سکتا، اس کی حیثیت ایک منصف کی ہے جسے غیر جانبدار رہنا چاہیے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نہ تو اس جائیداد کی وارث تھی اور نہ ہی فیصلے سے اسے کوئی ذاتی نقصان پہنچا، اس لیے اسے اپیل دائر کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں تھا،عدالت نے واضح کیا کہ اگر جائیداد کے اصل دعویدار اپیل کرنا چاہیں تو ان کا قانونی حق متاثر نہیں ہوگا۔

    سابق سیکیورٹی اہلکار طالبان رجیم کے نشانے پر،سابق پولیس کمانڈر قتل

    واضح رہے کہ مقدمہ شبیر خان اور دیگر نجی فریقین کے درمیان جائیداد کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق تھا صوبہ خیبر پختونخوا کی خاتون محتسب نے ویمن پراپرٹی ایکٹ 2019 کے تحت کیس کا فیصلہ سنایا تھا، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے محتسب کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیا تھا۔

    ہانیہ عامر نےسوشل میڈیا پر نیا ریکارڈ قائم کر دیا

  • چھوٹو گینگ کیس:رمضان میں ورلڈکپ جیتنے کے ذکر پراور منگل کی تاریخ پر دلچسپ مکالمہ

    چھوٹو گینگ کیس:رمضان میں ورلڈکپ جیتنے کے ذکر پراور منگل کی تاریخ پر دلچسپ مکالمہ

    اسلام آباد: چھوٹو گینگ کے سربراہ سمیت دیگر ملزمان کی سزاوں کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی-

    سپریم کورٹ میں بدنام زمانہ چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول سمیت دیگر ملزمان کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر سماعت جسٹس ملک شہزاد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کی۔

    شہزاد نے ریمارکس دیے کہ سزائے موت کا مقدمہ 2 رکنی بینچ نہیں سن سکتا،جس پر پروسیکیوٹر رائے اختر حسین نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ مقدمہ مشہور چھوٹو گینگ کا ہے،جسٹس شہزاد احمد ملک نے ریمارکس دیے کہ چھوٹو گینگ تو پنجاب میں بڑا مشہور تھا، ویسے اب تو سی سی ڈی نے سب ختم کر دیا ہے اور سی ٹی ڈی والے تو مقدمات لڑنے والے وکیل عمران کو بھی لے گئے تھے۔

    وکیل سردار عثمان کھوسہ نے کہا کہ میں بھی چھوٹو گینگ کی طرف سے پیش ہو رہا ہوں تاہم محفوظ ہوں وکیل نے استدعا کی کہ کیس کی اگلی سماعت منگل کے روز کی جائے،جسٹس شہزاد احمد ملک نے استفسار کیا کہ منگل کی تاریخ مانگ رہے ہیں استخارہ تو نہیں کرکے آئے؟

    وکیل سردار عثمان نے کہا کہ منگل نہیں تو رمضان کی کوئی تاریخ دے دیں، بابرکت مہینہ ہے اسی مہینے ورلڈ کپ جیتا تھا جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیے کہ اس ورلڈ کپ کا ذکر نہ کیا کریں، جسٹس ملک شہزاد نے ریمارکس دیے کہ کچھ لوگوں کو اس ورلڈ کپ کا ذکر ناگوار گزرتا ہے-

    وکیل چھوٹو گینگ نے کہا کہ چمپیئنز ٹرافی بھی رمضان میں جیتی گئی تھی،جسٹس ملک شہزاد نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو نہیں اٹھائے گئے، ایسا نہ ہو اب کچھ ہو جائے،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی-

    واضح رہے کہ چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول سمیت 4 ملزمان نے اپنی سزاؤں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔

  • سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس خلیل الرحمان خان انتقال کر گئے

    سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس خلیل الرحمان خان انتقال کر گئے

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج جسٹس خلیل الرحمان خان انتقال کر گئے۔

    جسٹس خلیل الرحمان خان کے انتقال پر عدالتی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سمیت سپریم کورٹ کے دیگر معزز ججز نے مرحوم کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں مرحوم جسٹس خلیل الرحمان خان کی عدلیہ کے لیے گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مرحوم نے اپنے دورِ ملازمت میں دیانت، اصول پسندی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیامرحوم کے ایصالِ ثواب اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔

  • عمران خان کی طبی رپورٹ پر سپریم کورٹ کا حکمنامہ جاری

    عمران خان کی طبی رپورٹ پر سپریم کورٹ کا حکمنامہ جاری

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے معائنے اور جیل میں حالاتِ زندگی سے متعلق 12 فروری کا 7 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔

    سپریم کورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن سے متعلق مقرر کردہ فرینڈ آف دی کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ دونوں رپورٹس کے اہم نکات میں نمایاں مطابقت پائی گئی اور مجموعی تصویر ہم آہنگ نظر آئی۔

    حکمنامے میں کہا گیا کہ جیل میں درخواست گزار کے حالات میں فی الحال کوئی منفی یا تشویشناک پہلو سامنے نہیں آیا روزمرہ معمولات اور خوراک کے انتظاما ت کو تسلی بخش قرار دیا گیا جبکہ قید خانے کی حالت اطمینان بخش پائی گئی باقاعدہ بنیادی طبی معائنوں کی فراہمی کی تصدیق بھی کی گئی اور جیل احاطے میں درخواست گزار کی سکیورٹی کو محفوظ قرار دیا گیا۔

    لطیف کھوسہ کا چیف جسٹس کو خط ،بانی پی ٹی آئی کی طبی صورتحال پر تشویش کا اظہار

    عدالت نے قرار دیا کہ 23 اور 24 اگست 2023 کے سابقہ حکمناموں پر عمل درآمد ہو چکا ہے، لہٰذا بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن سے متعلق معاملہ غیر مؤثر ہو چکا ہے5 اگست 2023 کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے حتمی فیصلہ سنائے جانے کے بعد یہ تمام درخواستیں غیر مؤثر ہو چکی ہیں درخواست گزار ٹرائل کی مبینہ بے قاعدگیوں یا غیر قانونی اقدامات کے خلاف اپنی شکایات متعلقہ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت اپیل میں اٹھا سکتے ہیں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے سابقہ احکامات کی روشنی میں ان درخواستوں کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا جاتا ہے اور انہیں ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔

    حکمنامے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے عدالتی حکم کی تعمیل میں بانی پی ٹی آئی کی جیل میں زندگی کے حالات سے متعلق رپورٹ جمع کرائی تھی، جبکہ عدالت نے موجودہ حالات کی آزادانہ تصدیق کے لیے بیرسٹر سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کیا تھا سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور فرینڈ آف دی کورٹ کی رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جیل میں اپنی حفاظت، سیکیورٹی، رہائشی حالات اور کھانے پینے کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    عمران خان کا طبی معائنہ:ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی

    حکمنامے کے مطابق فرینڈ آف دی کورٹ کی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کی بگڑتی ہوئی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ 16 فروری سے قبل ماہر امراض چشم کی ٹیم کے ذریعے طبی معائنہ یقینی بنایا جائے گا عدالت نے یہ ہدایت بھی جاری کی کہ بانی پی ٹی آئی کو قانون کے مطابق برطانیہ میں مقیم اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت دی جائے۔

    عدالت کی جانب سے بتایا گیا کہ یہ سماعت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل بینچ نے کی، جس میں بانی پی ٹی آئی کی 3 فوجداری درخواستوں پر غور کیا گیا یہ درخواستیں الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر کردہ فوجداری ٹرائل کے دوران جاری مختلف عبوری اور طریقہ کار کے احکامات کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔

    عمران خان کی ایک آنکھ 70 فیصد جبکہ دوسری مکمل ٹھیک ہے، اعظم نذیر تارڑ

  • لطیف کھوسہ کا چیف جسٹس  کو خط ،بانی پی ٹی آئی کی طبی صورتحال پر تشویش کا اظہار

    لطیف کھوسہ کا چیف جسٹس کو خط ،بانی پی ٹی آئی کی طبی صورتحال پر تشویش کا اظہار

    بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر بانی پی ٹی آئی کی طبی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی میڈیکل رپورٹس فراہم کی جائیں اور ان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم کو معائنے کی اجازت دی جائے اور بانی پی ٹی آئی کو بہتر علاج کی غرض سے الشفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے، بانی پی ٹی آئی کی گرتی ہوئی صحت اہلخانہ اور عوام کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے بیماری کے دوران بھی انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا۔

    عمران خان کا طبی معائنہ:ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی

    خط میں لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالتی حکم پر طبی معائنہ تو کیا گیا، لیکن اہلخانہ کو اس سے لاعلم رکھا گیا انہوں نے نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ اہلخانہ اور پارٹی قیادت کو معائنے کے وقت بلایا گیا تھا مگر وہ نہیں آئے، اہلخانہ کو آگاہ کیے بغیر خفیہ طبی معائنہ کئی خدشات کو جنم دیتا ہے، اور طبی معاملے سے اہلخانہ کو باہر رکھنے سے بے چینی اور شکوک میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    خط میں عدالتِ عظمیٰ سے معاملے کا نوٹس لے کر شفاف طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی استدعا کی گئی ہے-

    نورین نیازی سے منسوب عمران خان کی بصارت میں بہتری کی خبر ، علیمہ خان کا بیان بھی جاری

  • عمران خان کا طبی معائنہ:ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی

    عمران خان کا طبی معائنہ:ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق ابتدائی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کا تفصیلی طبی معائنہ کیا ہے اور سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کی آنکھ کی بینائی 70 فیصد ریکور ہوچکی ہے عمران خان کی دائیں آنکھ میں علاج کے بعد واضح بہتری آئی ہے معائنے کے بعد ڈاکٹرز نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور عمران خان کی فیملی کو بھی بریفنگ دی ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل ٹیم نے عمران خان کے علاج اور ریکوری کے عمل پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    اس سے قبل سابق وزیر اعظم کو آنکھ میں درد کی وجہ سے پمز اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ان کی آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین اوکلژن (سی آر وی او) سے متاثر ہے عمران خان کی آنکھ متاثر ہونے کی خبریں میڈیا پر آنے کے بعد سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر کو ’فرینڈ آف کورٹ‘ مقرر کیا تھا اور انہیں اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کر کے تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

    عمران خان کی ایک آنکھ 70 فیصد جبکہ دوسری مکمل ٹھیک ہے، اعظم نذیر تارڑ

    نورین نیازی سے منسوب عمران خان کی بصارت میں بہتری کی خبر ، علیمہ خان کا بیان بھی جاری

    میڈیکل ٹیم کا عمران خان کی آنکھوں کے علاج پر اطمینان کا اظہار

    عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں بہتری آ رہی ہے،نورین خانم

    بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان زندہ باد ریلی کا انعقاد

  • سپریم کورٹ کا عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی ، بچوں سے رابطوں کی سہولت دینے کا حکم

    سپریم کورٹ کا عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی ، بچوں سے رابطوں کی سہولت دینے کا حکم

    سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران کو ذاتی معالجین اور ماہر امراضِ چشم تک رسائی دینے اور ان کے بیٹوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت عظمیٰ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی اور بیرسٹر سلمان صفدر سپریم کورٹ پہنچے،دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کو روسٹرم پر بلا لیا اور کہا کہ فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس ایک جیسی ہیں، رپورٹ کا پیراگراف نمبر 21 پڑھیں۔

    عدالت میں پڑھی گئی رپورٹ کے متن کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے جیل میں حفاظتی سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا جب کہ د ستیا ب کھانوں کی سہولیات پر بھی اطمینان ظاہر کیا، تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی نے طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور ماہر آنکھوں کے ڈاکٹرو ں تک رسائی کی درخواست کی۔

    تشدد پر مبنی انتہا پسندی انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی ہے،صدرِ مملکت

    چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت اسٹیٹ کسٹڈی میں ہیں اور بانی پی ٹی آئی سمیت تمام قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات ملنی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ بالکل بھی نہیں کہیں گے کہ بانی پی ٹی آئی کو دیگر قیدیوں کے مقابلے میں نمایاں سہولیات دی جائیں، سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔

    اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ ہم ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک رسائی دینے کے لیے تیار ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حکو مت اچھے موڈ میں ہے بانی پی ٹی آئی کو ان کے بچوں کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے کی سہولت بھی ملنی چاہیے، بانی پی ٹی آئی کو کتابیں پڑھنے کے لیے فراہم کرنے کی رائے اس لیے نہیں دے رہے کیونکہ ان کی آنکھوں کا مسئلہ ہے۔

    انہوں نے ہدایت کی کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے بانی پی ٹی آئی کو ماہرین تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطوں کی سہولیات دی جائیں، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ دو سے تین دن تک ہو جائے گا ،اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے یقین دہانی کرائی کہ 16 فروری تک آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطوں کی سہولیات فراہم کر دی جائیں گی، جسے عدالتی حکم نامے کا حصہ بنایا گیا۔

    ڈی پی اور قصور کی اہم کانفرنس میں اہم احکامات ،افسران کے تبادلے

    دوران سماعت فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر نے استدعا کی کہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک بانی پی ٹی آئی کو رسائی دی جائے جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتے عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو ذاتی معالجین تک رسائی کا حکم دے دیا تاہم کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں تک رسائی دینے کی استدعا مسترد کر دی۔

    سلمان صفدر نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو مزید کتابیں فراہم کی جائیں جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اگر ڈاکٹرز اجازت دیں تو کتابیں فراہم کی جائیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے اس معاملے پر مداخلت کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں حکومت کا موقف جاننا چاہتے ہیں۔ صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    بنگلہ دیش انتخاب،جین زی اور خواتین ووٹرز فیصلہ کن قوت

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اگر قیدی مطمئن نہیں تو ریاست اقدامات کرے گی، چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں سے ٹیلی فون کالز کا ایشو بھی اہم ہے ہم حکومت پر اعتماد کررہے ہیں، آج حکومت اچھے موڈ میں ہے، معائنہ کے لیے ڈاکٹرز کی ٹیم تشکیل دی جائے گی ، اس موقع پر عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بچوں سے بات کروانے کی بھی ہدایت کردی ،عدالت نے کہا کہ دونوں اقدامات 16 فروری سے پہلے کرلیے جائیں-