Baaghi TV

Tag: سپریم کورٹ

  • سپریم کورٹ کے ڈاکٹر ظفر مرزا کوعہدے سے  ہٹانے کے حکم پر عوام کے دلچسپ تبصرے

    سپریم کورٹ کے ڈاکٹر ظفر مرزا کوعہدے سے ہٹانے کے حکم پر عوام کے دلچسپ تبصرے

    سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ظفر مرزا کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ میں کرونا وائرس کے حوالہ سے از خود نوٹس کی سماعت ہوئی، عدالت نے کہا کہ ظفر مرزا کی کارکردگی سے عدالت مطمئن نہیں، آج ہم ان کو عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کریں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ حکم تباہ کن ہو سکتا ہے، آپ ظفر مرزا کا معاملہ عدالت پر چھوڑ دیں،عدالت میں ابھی سماعت جاری ہے. عدالت کے اس فیصلے کو لے سوشل میڈیا پر عوامی تبصے اور تجزیئے شروع ہوچکے ٹویٹر پر سپریم کورٹ اور ڈاکٹر ظفر مرزاء کے نام سے ٹرینڈز بھی پینل پر موجود ہیں. عوام ان ہیش ٹیگز کو استعمال کرتے ہوئے اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہی ہے.
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے. ججز اور عدلیہ کی طرف سے یہ دخل اندازی معاملات کو بگاڑ دے گی.


    سوشل میڈیا صارف بےنظیر شاہ کا کہنا تھا کہ ہم موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی کی کارکردگی سے غیر متفق ہوسکتے ہیں مگر یہ کہنا کہ ڈاکٹر ظفرمرزا کچھ نہیں کر رہے یہ غلط ہوگا. ہمارے ڈاکٹرز، پولیس اور دیگر سبھی ادارے اس وقت کرونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود ہیں


    ایک اور سوشل میڈیا صارف مریم حسین کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اس بحران کے موقع پر سیاسی کھیل شروع کردیا ہے جو خطرناک ہوسکتا ہے
    https://twitter.com/maryamacca/status/1249624730640027648?s=20
    سوشل میڈیا صارف اویس گیلانی کا کہنا تھا کہ قانون کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناتے مجھے لگ رہا ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزاء کو ہٹانے کا سپریم کورٹ کا حکم نامناسب ہے اور کرونا کے خلاف جنگ میں عدالتی مداخلت ہے


    عاطف نامی سوشل میڈیا صارف نے ڈاکٹر ظفرمرزا کو ہٹانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ پی آئی اے کے سی ای او کام نہیں کرسکتے کہ وہ اس عہدے کے لیے ناموزوں ہیں، اب ظفر مرزا بھی ناموزوں ٹھہرے، کل کو یہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی قابلیت پر بھی سوال اٹھائیں گے، پھر یہ لوگ وزیراعظم کی قابلیت پر بھی سوال جر دیں گے
    https://twitter.com/PTI_Achievement/status/1249618223684870146?s=20
    ایک اور سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ کہ ڈاکٹر ظفر مرزا کو ہٹانے کا سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مناسب نہیں ہے ڈاکٹر ظفر مرزا بہترین انداز میں کام کر رہے ہیں.
    https://twitter.com/oyaDrAQ/status/1249628009608278016?s=20
    واضح رہے کہ حکم نامہ عدالت نے ابھی تک نہیں لکھوایا حتمی حکمنامے میں عدالت حتمی فیصلہ دے گی. سپریم کورٹ نے ظفر مرزا کی کارکردگی پر آج بھی اور گزشتہ ایک سماعت میں بھی سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ ظفر مرزا کی کارکردگی کیا ہے

  • ظلم کی بھی کوئی حدہوتی ہے،تیزاب نہ پھینکتے گولی ماردیتے ، سریم کورٹ

    ظلم کی بھی کوئی حدہوتی ہے،تیزاب نہ پھینکتے گولی ماردیتے ، سریم کورٹ

    اسلام آباد :ظلم کی بھی کوئی حدہوتی ہے،تیزاب نہ پھینکتے گولی ماردیتے ، سریم کورٹ ظلم کے اس واقعہ کو برداشت نہ کرسکی تو پھرسخت اور ناقابل بیان ریمارکس دے دیئے ، سپریم کورٹ نے خاتون پر تیزاب پھینکنے والے مجرم کی سزا برقراررکھی

    "خداپاکستان کی حفاظت کرے”وزیراعظم شہید کردیئے گئے ، کب اور کہاں‌؟

    ذرائع کےمطابق آج سپريم کورٹ نے خاتون پر تیزاب پھینکنے والے مجرم کی بریت کی درخواست خارج کر دی۔خاتون پر تیزاب پھینکنے کے مجرم علی اعوان کی بریت کی درخواست پر سماعت کے دوران جسٹس منظور ملک نے ريمارکس ديے کیوں نہ مجرم کی سزا بڑھا دیں کيونکہ عورت پر تیزاب پھینکنے کا جرم انتہائی اذیت ناک ہے۔

    رینجرز طلب ، احتجاج ختم، موٹروے ٹریفک کیلئے بحال،

    جسٹس منظور نے ریمارکس دیے کہ خاتون کا چہرہ ضائع ہو جائے تو پھر اس کی باقی زندگی کیا ہے۔ وہ خاتون ہی نہيں رہتی۔ عورت پر تیزاب پھینکنے سے بہتر گولی مار دی جائے۔عدالت نے تيزاب گرد مجرم کی بریت کی درخواست خارج کرتے ہوئے 10 سال سزا کا فیصلہ برقرار رکھا۔یاد رہےکہ مجرم علی اعوان نے 2010 میں اسلام آباد میں شکیلہ نامی خاتون کے چہرے پر گھر میں داخل ہو کر تیزاب پھینک دیا

    بھٹوکی نگری میں عام تعطیل،پی ٹی آئی اورجے یوآئی کی صلح ہوگئی

  • پورے ملک کا پولیس نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے.پولیس اہلکار رات کو ڈکیتیاں کرتے ہیں. سپریم کورٹ

    پورے ملک کا پولیس نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے.پولیس اہلکار رات کو ڈکیتیاں کرتے ہیں. سپریم کورٹ

    لاھور:سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس گلزار احمد نے پاکستان میں سیکورٹی کی خراب صورت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پولیس کا نطام تو تباہ ہو کر رہ گیا ہے آوے کا آوا ہی بگڑ گیا ہے. دن کو پولیس والے ڈیوٹیاں کرتے ہیں تو رات کو زیادہ تر پولیس اہلکار رات کو ڈکیتیاں کرتے ہیں،ملک میں پولیس کا نظام فلاپ ہوُچکا ہے، پولیس نام کی کوئی چیز نہیں، ملک میں ڈکیتیاں ہو رہی ہیں، لوگ گلے کاٹ رہے ہیں پولیس کہاں ہے؟ پنجاب کے ٹریفک وارڈنز کی تنخواہوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تو جسٹس گلزاراحمد نے پنجاب کے سیکرٹری خزانہ اور آئی جی پر اظہار برہمی کیا۔

    جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پولیس آخر ایسا کیا کر رہی ہے جو تنخواہ بڑھائی جائے؟، سرکاری افسران دفاتر میں بیٹھ کر حرام کھا رہے ہیں، بھاری تنخواہیں لیکر بھی دو نمبریاں کی جاتی ہیں، صرف اس بات کی فکر ہے کہ اپنے الاؤنس کیسے بڑھانا ہیں. پولیس اور سرکاری افسران تنخواہ الگ لیتے ہیں اور عوام سے الگ لیتے ہیں۔

    سیکرٹری خزانہ کے اپنے بیان سے مکرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ سیکرٹری خزانہ پنجاب کو شاید پتا ہی نہیں انکا کام کیا ہے، آپ کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ کھڑے کھڑے ہی بات سے مُکر گئے، پورا صوبہ پنجاب کا خزانہ آپ کے ہاتھ میں ہے اور آپ کو کچھ کام کا پتا ہی نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ جس کو دل کرے جتنا دل کرے آپ دیدیں، آپ صرف دفتر میں بیٹھ کر اپنے پیسے بنانے کی سوچتے ہیں۔

    صوبائی سیکرٹری خزانہ نے جواب جمع کرایا کہ ٹریفک وارڈنز کی منجمد ہونے والی اضافی بنیادی تنخواہ بحال کر رہے ہیں، اضافی بنیادی تنخواہ نہیں صرف منجمد ڈیلی الاؤنس بحال ہوگا۔ ٹریفک وارڈنز کے وکیل نے کہا کہ تنخواہ بحال ہوجائے تو مسئلہ ہی ختم ہوجائے گا۔