Baaghi TV

Tag: سیاست

  • اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟

    سیاست کے کھیل نے ریاست اور عوام کو تنہا چھوڑ دیا قومی مفاد کی بلند آواز اب نہیں تو کب؟

    نعروں اور دعووں کی سیاست بمقابلہ حقیقی عوامی خدمت پاکستان کی قیادت کے لیے خود احتسابی کا ایمرجنسی الارم

    مہنگائی، بے روزگاری، توانائی و تعلیمی بحران، کب آئے گی سنجیدہ سیاست اور ٹھوس حکمت عملی؟

    ذاتی مفادات یا قومی ترقی؟ پاکستان کی سیاست کا المیہ مستقبل کے فیصلے کا وقت آج ہے

    پاکستان کی سیاست کا ایک المیہ یہ ہے کہ چند مخلص اور سنجیدہ سیاستدانوں کو چھوڑ دیا جائے تو اکثریت ایسی راہوں کا انتخاب کرتی دکھائی دیتی ہے جن میں ان کا اپنا سیاسی مستقبل تو محفوظ رہے، مگر ریاست اور عوام کے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے جائیں۔ سیاست کا بنیادی مقصد عوامی خدمت اور ریاستی استحکام ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاست اکثر ذاتی مفادات، اقتدار کے کھیل اور وقتی فائدوں کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔

    اگر پاکستان کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو ملک اس وقت کئی بڑے چیلنجز سے دوچار ہے۔ معاشی بحران، مہنگائی کی بلند ترین سطح، بے روزگاری، توانائی کے مسائل، تعلیمی پسماندگی اور امن و امان کے مسائل ایسے بنیادی معاملات ہیں جن پر قومی سطح کی سنجیدہ اور طویل المدتی پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی بڑی تعداد ان مسائل پر ٹھوس حکمت عملی دینے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی، الزام تراشی اور اقتدار کی رسہ کشی میں مصروف رہتی ہے۔

    یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جب سیاستدان اپنی ترجیحات میں ریاست اور عوام کے مسائل کو ثانوی حیثیت دے دیتے ہیں تو اس کا براہِ راست اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے۔ مہنگائی بڑھتی ہے، کاروباری سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں، سرمایہ کاری رک جاتی ہے اور عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔ ایک ایسا ماحول جنم لیتا ہے جہاں عوام کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ ان کے مسائل سننے والا کوئی نہیں۔

    اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت وقتی سیاسی فائدوں کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دے۔ ریاستی استحکام، معاشی بحالی اور عوامی فلاح کو اپنی سیاست کا مرکز بنائے۔ دنیا کی کامیاب ریاستوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں سیاسی قیادت نے قومی مفاد کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر رکھا اور طویل المدتی پالیسیاں بنا کر اپنے ممالک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ پاکستان میں بھی اگر سیاستدان سنجیدگی کے ساتھ قومی مسائل پر متفقہ حکمت عملی اپنائیں، اداروں کو مضبوط کریں اور عوامی خدمت کو اپنی سیاست کا اصل مقصد بنا لیں تو ملک کے بیشتر مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

    بصورت دیگر اگر سیاست کا محور صرف اقتدار اور ذاتی مفاد ہی رہا تو ریاست اور عوام دونوں کو مشکلات کا سامنا کرتے رہنا پڑے گا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان کی سیاسی قیادت کو خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ بصیرت، دیانت اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر سیاستدان اس حقیقت کو سمجھ لیں تو پاکستان کا مستقبل زیادہ مستحکم اور روشن ہو سکتا ہے۔

  • بنگلہ دیش : نئے اراکین پارلیمنٹ نے حلف اٹھا لیا

    بنگلہ دیش : نئے اراکین پارلیمنٹ نے حلف اٹھا لیا

    ڈھاکا:بنگلہ دیش میں حالیہ انتخابات کے بعد منتخب ہونے والے اراکین نے حلف لے اٹھالیا ہے۔

    13ویں قومی پارلیمنٹ کے نومنتخب ارکان نے ڈھاکا میں موجود پارلیمنٹ ہاؤس میں حلف لیا جبکہ نئی کابینہ کی تقریبِ حلف برداری شام میں منعقد ہوگی،یہ پیش رفت عوامی لیگ کے 17 سالہ دورِ اقتدار کے خاتمے کے 18 ماہ بعد سامنے آئی ہے، جس کے بعد طویل عبوری انتظامیہ کے بعد ایک منتخب حکومت قائم ہو رہی ہے۔

    طارق رحمان، جو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین اور پارلیمنٹ میں اکثریتی جماعت کے قائد ہیں، نئی حکومت کی قیادت کریں گے۔ ارکان کے حلف کے بعد اکثریتی جماعت اپنا پارلیمانی لیڈر منتخب کرے گی، جسے صدر آئینی تقاضوں کے مطابق حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔

    بھارت نے ایران کے مزید 3 جہاز قبضے میں لے لیے

    اطلاعات تھیں کہ نومنتخب ارکان پارلیمانی حلف کے ساتھ مجوزہ آئینی اصلاحاتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے بھی الگ حلف اٹھائیں گے، تاہم مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف کے باعث اس عمل پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے بی این پی کے سینیئر رہنما صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم اور قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ہی ایسا ممکن ہوگا۔

    پارلیمنٹ ہاؤس کے اطراف سخت سیکیورٹی نافذ کردی گئی ہے اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کنٹرول کیا جا رہا ہے جبکہ سی سی ٹی وی نگرانی سمیت دیگر حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں نئے وزیراعظم کی حلف برداری میں شرکت کے لیے متعدد عالمی رہنما ڈھاکا پہنچ گئے ہیں، جن میں مالدیپ کے صد ر محمد معیزو، بھوٹان کے وزیرِ اعظم شیرنگ توبگے، بھارت کی لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا اور پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال شامل ہیں،عبوری قیادت نے ، چین، سعودی عرب اور ملائیشیا سمیت 13 ممالک کے سربراہان کو بھی دعوت دی تھی۔

    رواں سال کا پہلا سورج گرہن آج ہو گا

  • بلوچستان: محرومی کا بیانیہ یا قیادت کی ناکامی؟، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان: محرومی کا بیانیہ یا قیادت کی ناکامی؟، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان کا نام لیتے ہی محرومی، ناانصافی اور پسماندگی کی ایک طویل داستان سامنے آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ داستان صرف مرکز کی بے حسی کا نتیجہ ہے، یا اس میں صوبے کی اپنی قیادت کا کردار بھی شامل ہے؟ حالیہ دنوں چوہدری فواد حسین نے ایک سادہ مگر بنیادی سوال اٹھایا کہ اربوں روپے کے فنڈز بلوچستان کے لیے جاری ہوئے، مگر زمینی حقائق کیوں نہیں بدلے؟ یہ سوال بعض حلقوں کو ناگوار ضرور گزرا ہوگا، مگر اسے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔

    بلوچستان پر دہائیوں سے چند مخصوص خاندانوں اور سرداروں کی سیاست حاوی رہی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں تک رسائی بھی انہی کو حاصل رہی، وزارتیں بھی انہی کے حصے میں آئیں اور مراعات بھی، مگر جب صوبے کی حالت پر نظر ڈالی جائے تو تعلیم کا فقدان، صحت کی ناگفتہ بہ صورتحال، ٹوٹی سڑکیں اور بے روزگار نوجوان دکھائی دیتے ہیں۔ اگر وسائل نہیں ملے تو آواز اٹھانا بجا ہے، لیکن اگر وسائل ملے اور پھر بھی عوام محروم رہے تو سوال قیادت سے ہوگا۔

    اسی دوران اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کا یہ کہنا کہ فوج چند اضلاع کی نمائندہ ہے، ایک غیر ذمہ دارانہ بیان محسوس ہوتا ہے۔ افواجِ پاکستان میں ہر صوبے، ہر قومیت اور ہر علاقے کے لوگ شامل ہیں۔ بلوچ افسران اور جوان بھی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ قومی اداروں کو لسانی یا علاقائی بنیاد پر تقسیم کرنے کا بیانیہ دراصل اتحاد کو کمزور کرتا ہے، مضبوط نہیں۔

    بلوچستان کے عوام کو جذباتی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور امن چاہیے۔ اگر سیاسی قیادت خود احتسابی سے گریز کرے اور ہر ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈال دے تو مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ الجھتے چلے جاتے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان کی سیاست نعروں سے نکل کر کارکردگی کی بنیاد پر کھڑی ہو۔ جو قیادت برسوں سے اقتدار میں رہی، اسے اپنا حساب دینا ہوگا۔ اور جو آج قومی اداروں پر تنقید کرتی ہے، اسے بھی ذمہ دارانہ زبان اختیار کرنی ہوگی۔ کیونکہ قومیں الزام تراشی سے نہیں، دیانتدار قیادت اور سنجیدہ طرزِ سیاست سے آگے بڑھتی ہیں۔

  • عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا جمہوری نظام کی بنیاد ہے، رانا ثنا اللہ

    عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا جمہوری نظام کی بنیاد ہے، رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم پارلیمانی روایات اور باہمی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی ایوان کی کارروائی کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

    سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے دفتر میں ملاقاتوں اور مشاورت کے دوران جو سنجیدہ اور خوشگوار ماحول قائم ہوا، اسی جذبے کو ایوان کے اندر بھی برقرار رکھا جانا چاہیےاختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم پارلیمانی روایات اور باہمی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی ایوان کی کارروائی کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ووٹ کے احترام اور عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا جمہوری نظام کی بنیاد ہے، کیونکہ اگر عوام کے فیصلے کو مؤثر نہ مانا جائے تو جمہوری عمل آگے نہیں بڑھ سکتا، انتخابی نتائج پر اعتراض اور ہار تسلیم نہ کرنے کا رویہ کوئی نئی بات نہیں،2018 کے انتخابات میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی تھی، جب ان کی جماعت اپوزیشن میں تھی اور انتخابی عمل پر شدید اعتراضات کیے گئے تھے۔

    جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے،عطا تارڑ

    انہوں نے کہا کہ 25 جولائی 2018 کے انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب میں سیاسی جوڑ توڑ، نئی صف بندیاں اور مخصوص گروہوں کی تشکیل سب کے سا منے تھی، جس کا مقصد انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونا تھا اس دور میں بعض عناصر کو اکٹھا کر کے اسلام آباد لایا گیا اور انہیں سیاسی شناخت دی گئی، جو انتخابی عمل میں مداخلت کی واضح مثال تھی اس وقت کی اپوزیشن کا بھی یہی مؤقف تھا کہ متعدد نشستوں پر نتائج تبدیل کر کے ایک جماعت کو اکثریت دلائی گئی۔

    پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور زرلٹ بھی نکل سکتاہے،خواجہ آصف

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر ہم صرف مخصوص تاریخوں یا واقعات پر اٹکے رہیں گے تو آگے نہیں بڑھ سکیں گے انہوں نے اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو آج کی اپوزیشن 2018 کے مؤقف کی تائید کر سکتی ہے اور نہ ہی موجودہ حالات میں صرف ایک نکتے پر اصرار مسئلے کا حل ہے،اس حقیقت پر متفق ہونا ہوگا کہ پاکستان میں انتخابی نظام پر مکمل اعتماد موجود نہیں، جس کے باعث ہر الیکشن کے بعد الزامات اور جوابی بیانات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جس میں نہ کوئی واضح جیتنے والا ہوتا ہے اور نہ ہارنے والا۔

    پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 3 اہم معاہدوں پر دستخط

    انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد ان کی جماعت نے بھی پارلیمان میں آ کر دھاندلی کے الزامات لگائے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا، مگر اس وقت جو جواب دیا گیا وہ سب کے سامنے ہے اب جبکہ اپوزیشن خود پارلیمان کا حصہ ہے اور اس کی ذمہ داریاں سنبھال چکی ہے تو اس پر بھی لازم ہے کہ نظام کی بہتری کے لیے تعمیری کردار ادا کرے۔

  • جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے،عطا تارڑ

    جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے،عطا تارڑ

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ سیاستدانوں کو تنقید برداشت کرنے کی عادت اپنانا ہوگی اور جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے۔

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پاکستان فیڈرل کالمسٹ اینڈ کری ایٹر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میڈیا، صحافت اور سیاسی تجربات پر بات کی انہوں نے کہا کہ ریل اسٹیٹ سیکٹر نے اخبارات اور میڈیا ہاؤسز میں اپنا کردار ادا کیا، مگر اب بھی وقت موجود ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر نظام کو بہتر بنائیں،ریل اسٹیٹ سیکٹر نے اس وقت میڈیا ہاؤسز کا کردار ادا کیا جب اخبارات نے خود کو کمزور محسوس کیا، اور یہ خلا بھر دیا۔

    تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ابھی بھی نظام کو بہتر بنانے کے لیے وقت موجود ہے، اور مختلف اداروں جیسے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ اطلاعات کے کردار کو الگ رکھا گیا تاکہ صحافت کو فروغ دیا جا سکے قوانین کے نفاذ میں شفافیت اور اختیار کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور ملک میں اختلاف رائے کے لیے کافی گنجا ئش موجود ہے انہوں نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے اسٹوڈنٹ سیاست سے شروعات کی، عملی سیاست کا تجربہ حاصل کیا اور پھر بیوروکریسی میں خدمات انجام دی۔

    پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 3 اہم معاہدوں پر دستخط

    عطا تارڑ نے کہا کہ سیاستدانوں کو تنقید برداشت کرنے کی عادت اپنانا ہوگی اور جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے تیسری قوت نے معاشرتی مسائل کو سامنے لانے میں اہم کردار ادا کیا اور یہ قوت اب بھی ملک کے اندر مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔

    پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور زرلٹ بھی نکل سکتاہے،خواجہ آصف

  • نااہل قرار دیے گئے 32 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال

    نااہل قرار دیے گئے 32 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اثاثہ جات اور واجبات کے گوشوارے جمع نہ کرانے پر نااہل قرار دیے گئے سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے متعدد ارکان کی رکنیت بحال کر دی ہے۔

    قومی اسمبلی کے 8 اور پنجاب اسمبلی کے 14 ارکان کی رکنیت بحال کی گئی ہے،سندھ اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے چار، چار اراکین کی رکنیت بحال کر دی گئی،سینٹ اور بلوچستان اسمبلی کے ایک ایک رکن کی رکنیت بحال کی گئی ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ ارکان نے مالی سال 2024-25 کے لیے اپنے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے جمع کرا دیے ہیں، جس کے بعد وہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت قانونی تقاضے پورے کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

    اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو

    نوٹیفکیشن کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137 کے تحت تمام ارکانِ اسمبلی پر لازم ہے کہ وہ ہر سال 31 دسمبر تک اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں،اس قانون کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے 16 جنوری 2026 کو متعدد ارکان کو رکنیت سے محروم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اب تمام متعلقہ ارکان نے اپنے اثاثہ جات اور واجبات کے گوشوارے جمع کرا دیے ہیں، جس کے بعد الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137(3) کے تحت ان کی اراکین اسمبلی کی حیثیت بحال کر دی گئی ہےیہ فیصلہ قانون کے مطابق اور فراہم کردہ اختیارات کے تحت کیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق جن ارکانِ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت بحال کی گئی ہے، ان میں سینیٹ سے عابد شیر علی (پنجاب) ، سید کاظم علی شاہ( سندھ)، نورالحق قادری(خیبر پختونخوا) اور عبد القدوس(بلوچستان) کی رکنیت بحال کی گئی-

    سوشل میڈیا پر بھارتی اور افغان میڈیا کا پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈہ بے نقاب

    قومی اسمبلی سے سردار غلام عباس، محمد محبوب سلطان، سید عبدالقادر گیلانی، میر عامر علی خان مگسی، ارشد عبداللہ ووہرا اور صوفیہ سعید شاہ کی رکنیت بحال کی گئی-

    پنجاب اسمبلی سے سردار محمد عاصم شیر میکن، علی حسین خان، جعفر علی ہوچھا ،محمد طاہر پرویز میاں محمد آصف ، امتیاز محمود، اسامہ فضل، محمد معین الدین ریاض، کاشف نوید، میاں علمدار عباس قریشی، محمد عون حمید، سردار شیر افغان گورچانی اور روبینہ نذیر کی رکنیت بحال کی گئی-

    سال 2026 کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیاگیا

    جبکہ سندھ اسمبلی سے آغا شہباز علی درانی، نوابزادہ برہان چانڈیو، سید اویس قادر شاہ، شیراز شوکت راجپر، جام خان شورو، سعید غنی، فرح سہیل اور کو مل کی رکنیت بحال کی گئی ہے-

    اسی طرح خیبر پختونخوا اسمبلی میاں محمد عمر اور خدیجہ بی بی کی رکنیت بحال کی گئی،علاوہ ازیں بلوچستان اسمبلی سے فیصل خان جمالی، بخت محمد، زارق خان اور صفیہ بی بی کی رکنیت بحال کی گئی ہے-

    سونے کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کا اضافہ

    الیکشن کمیشن نےاس امر پر زور دیا ہے کہ ارکانِ اسمبلی کی جانب سے اثاثہ جات کی بروقت تفصیلات جمع کرانا شفافیت اور احتساب کے عمل کا اہم حصہ ہے، اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی  کے نئے چئیرمین مقرر

    طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے نئے چئیرمین مقرر

    بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے متفقہ طور پر طارق رحمان کو پارٹی کا نیا چیئرمین مقرر کر دیا ہے۔

    بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے طارق رحمان کی بطور چیئرمین تقرری کی منظوری دے دی ہے، یہ فیصلہ جمعہ کی شب پارٹی کے گلشن دفتر میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا،بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اس فیصلے کی تصدیق کی۔

    بی این پی کے چیئرمین کا عہدہ سابق وزیر اعظم اور پارٹی سربراہ بیگم خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد خالی ہوا تھا پارٹی آئین کے مطابق اس خلا کو پُر کرنے کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا، جس میں متفقہ طور پر طارق رحمان کو پارٹی کی قیادت سونپنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    <a href="https://login.baaghitv.com/sohail-afridi-qanoon-ko-hath-mai-na-خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 11 بھارتی حمایت یافتہ خوارج ہلاکlen/” title=”سہیل آفریدی کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہے،وہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،سندھ حکومت”>سہیل آفریدی کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہے،وہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،سندھ حکومت

    پارٹی ذرائع کے مطابق طارق رحمان نے سیاسی جدوجہد کا آغاز اپنی والدہ کے ساتھ جنرل ارشاد کے خلاف تحریک کے دوران کیا وہ 1988 میں بی این پی میں باقاعدہ طور پر شامل ہوئے اور 1991 کے انتخابات سے قبل بیگم خالدہ ضیا کے ہمراہ ملک بھر میں انتخابی مہم چلائی، 2002 میں انہیں بی این پی کا سینیئر جوائنٹ سیکریٹری نامزد کیا گیا جبکہ 2009 میں وہ پارٹی کے سینیئر نائب چیئرمین منتخب ہوئے، 2018 میں بیگم خالدہ ضیا کی قید کے بعد طارق رحمان کو قائم مقام چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ 2007 میں ون الیون دور کے دوران گرفتاری کے بعد وہ علاج کی غرض سے بیرون ملک چلے گئے تھے اور تقریباً 17 سال بعد 25 دسمبر 2025 کو وطن واپس آئے، اب ان کی بطور چیئرمین تقرری کے بعد بی این پی کی قیادت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

  • بحرانوں میں صرف حکومت کا ہی کردار نہیں ہوتا، مولا بخش چانڈیو

    بحرانوں میں صرف حکومت کا ہی کردار نہیں ہوتا، مولا بخش چانڈیو

    حیدرآباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن پربھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ملک اس وقت شدید سیاسی بحران کا شکار ہے اور جب تک یہ بحران ختم نہیں ہوگا، معاشی مسائل کا حل ممکن نہیں۔

    حیدرآباد پریس کلب کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےمولا بخش چانڈیو نے کہا کہ حیدرآباد کی شامیں محبتوں والی ہیں، ایسی شامیں کسی اورملک میں دیکھنے کونہیں ملتیں،وہ کسی بھی مکتبہ فکر کے خلاف نفرت کی بات نہیں کرتے اور ہمیشہ برداشت اور رواداری کے قائل رہے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایک سیاسی کارکن ہیں اورکبھی خود کو وڈیرہ نہیں سمجھا، موجودہ حالات میں صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن پربھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ جب بحران پورے ملک کو ہلا رہے ہوں تواپوزیشن کا کرداربھی اتنا ہی اہم ہوجاتا ہے۔ٕ

    وینزویلا پر حملہ،امریکی طیارہ گرفتار صدر کو لے کر نیویارک پہنچ گیا

    پیپلزپارٹی کے رہنما نے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما بانی پرجان قربان کرنے کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن اپنی قائد کی شریک حیات کو چھوڑ کربھاگ گئے، اپوزیشن کواپنا کردارادا کرنا چاہیے جو وہ اس وقت نہیں کررہی، سیاسی جماعتوں نے اپنے فرائض ادا کرنے کے بجائے تما م بوجھ ایک ادارے پر ڈال دیا ہے، حالانکہ سیاسی جماعتوں کو خود آگے بڑھ کر کردارادا کرنا چاہیے اگرحکومت معاملات درست نہیں کر پا رہی تو اپوزیشن کو میدا ن میں آ کرملک کیلئے اپنا کردارادا کرنا ہوگا، پیپلز پارٹی اشاروں کنایوں میں نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنے پر یقین رکھتی ہے۔

    وزیراعظم کا ڈاکٹر پرامیلا لال کے انتقال پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام سنتے نریندر مودی چھپ جاتا ہے،بلاول بھٹو

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام سنتے نریندر مودی چھپ جاتا ہے،بلاول بھٹو

    چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ہماری افواج نے بھارت کو جنگ کے میدان میں شکست دی، یہ جیت گڑھی خدابخش کی قربانیوں کے بغیر ناممکن ہوتی۔ کیونکہ گڑھی خدابخش کی قربانیوں سے ہی پاکستان ایٹمی قوت بنا۔

    گڑھی خدا بخش میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی 18 ویں برسی کی مرکزی تقریب جاری ہے صدرِ مملکت آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، آصفہ بھٹو سمیت پیپلزپارٹی کے مرکزی قائدین بھی اسٹیج پر موجود ہیں،تقریب میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں وفاقی حکومت کے وفد نے بھی شرکت کی۔

    اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی شہادت کو 18 سال گزر چکے ہیں، ہرسال چاروں صوبوں سے لوگ یہاں جمع ہوکر پوری دنیا کو پیغام دیتے ہیں، پاکستان اور چین کی دوستی کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی ،ہماری افواج نے بھارت کو جنگ کے میدان میں شکست دی، یہ جیت گڑھی خدابخش کی قربانیوں کے بغیر ناممکن ہوتی،کیونکہ گڑھی خدابخش کی قربانیوں سے ہی پاکستان ایٹمی قوت بنا۔

    شکی مزاج شوہر نے بیوی کو بچوں کے سامنے آگ لگا دی

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے چین سے جہاز منگوائے، ان ہی کے ذریعے بھارتی جہاز گرائے گئے چین سے دوستی کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی اور شہید بینظیر بھٹو نے پاک چین دوستی کو مزید آگے بڑھایا، جبکہ صدر زرداری نے سی پیک کی بنیاد رکھی۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت کیخلاف جیت پورے پاکستان کی جیت ہے،پیپلز پارٹی عوامی مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہے، دنیا کے بڑے بڑے فورمز پر بھارتی وزیراعظم پاکستان کیخلاف تقریریں کرتے تھے،10مئی کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی غائب ہوچکے ہیں،معرکہ حق میں شاندار کامیابی پر پورے پاکستان کے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت اپنی شکست کو تاحال ہضم نہیں کر سکا ہے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام سنتے نریندر مودی چھپ جاتے ہیں،ہماری افواج نے بھارت کا غرور خاک میں ملایا اور معرکۂ حق میں کامیابی پوری قوم کی کامیابی ہے پاکستان کے اندرونی مسائل کسی سے چھپے ہوئے نہیں، ملک کو سیاسی اور معاشی بحران کا سامنا ہے اور ہمیں ان بحرانوں سے ملک کو نکالنا ہوگا-

    سلمان خان 60 برس کے ہوگئے

    انہوں نے کہا کہ پارلیمان نے 27ویں آئینی ترمیم بھی پاس کروائی، جس میں موجود متنازع شقوں کو نکلوایا گیا، سیاسی میدان میں پیپلز پارٹی نے صوبوں کے حقوق کا تحفظ کیا ،این ایف سی کے آئینی تحفظ کو بھی پیپلزپارٹی نے بچایا،آئینی عدالت کاقیام شہید بے نظیر بھٹو کا وعدہ تھا،آئینی عدالت میں تمام صوبوں سے برابری کی نمائندگی ہوگی۔

    بلاول بھٹو کے مطابق شہید بینظیر بھٹو نے آئینی عدالت بنانے کا وعدہ کیا تھا اور اس ترمیم کے ذریعے آئینی عدالت کا خواب پورا کیا گیاہم وفاق کو درپیش تمام مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، وفاق صوبوں سے حقوق چھینے کے بجائے مزید ذمہ داریاں دے صوبے ٹیکس جمع کرکے وفاق کو درپیش معا شی مسائل حل کریں گے،،سمجھتے ہیں وفاق کے مسائل ہمارے مسائل، وفاق کی پریشانیاں ہماری پریشانیاں ہیں،ہم بھی چاہتے ہیں کہ وفاق کی پریشانیاں دور ہوں۔

    چئیرمین پی پی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے دور میں مشکلات تھیں،مہنگائی کا سلسلہ تیز ہو چکا تھا،موجودہ حکومت میں مہنگائی کی صورتحال پی ٹی آئی دور سے بہتر ہوچکی ہے پیپلز پارٹی کی اپنی سیاست اورتاریخ ہے،صوبوں کی خودمختاری اور حقوق کاتحفظ کرتے ہوئے وفاق کے مسائل حل کریں گےصوبوں سےاختیار چھیننے کے بجائےصوبوں کو مزید ذمہ داریاں دی جائیں،ہم مزید ذمہ داریاں اٹھانے کیلئے تیار ہیں تاکہ معیشت کو مضبوط کرسکیں،ٹیکس کے حوالے سے صوبوں کو مزید ذمہ داریاں دیں ،ہم ایف بی آر سے بہتر ٹیکس جمع کرکے معاشی بحران کو دور کریں گے۔

    لاہور میں تین دن کے لیے بسنت منانے کی اجازت

    انہوں نے کہا کہ وفاق دوسروں کو الزام لگانے کا موقع نہ دے،ہم آپ کے ساتھ مل کر معاشی بحران دور کرنا چاہتے ہیں،سندھ کے شعبہ صحت کا مقابلہ کسی دوسرے صوبے سے نہیں ، دنیا سے ہے، گمبٹ میں ہر قسم کی بیماری کا علاج میسر ہےحال ہی میں سیلاب آیا تو زرعی شعبہ کافی مشکل میں تھا، پسماندہ علاقوں کا حق ہے کہ وہاں معیاری علاج کی سہولت میسر ہو،ہم نے سندھ میں عالمی سطح کا صحت کے نظام کا جال بچھایا۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا معاشی بحران ختم کرنے کیلئے صوبوں کو مزید ذمہ داریاں دی جائیں،وفاق کو حیسکو،سیپکو جیسے اداروں کا بوجھ اپنے کندھوں سے ہٹانا چاہئے،پیپلز پارٹی وفاق کے ساتھ مل کر مسائل کا حل نکالے گی،ہم سب کو مل کر پاکستان کی معاشی مشکلات کو دور کرنا چاہئےوفاقی حکومت کہہ رہی ہے کہ معیشت ترقی کررہی ہے،ملک کو ڈیفالٹ ہونے سےبچایا گیا،کیا کریں عوام تو حکومت کے دعوے کو نہیں مانتے۔عوام ہم سے پوچھتے ہیں کہ معاشی ترقی ہمیں کب محسوس ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کا عام آدمی آج تک معاشی بحران سے گزررہا ہے،آج عام آدمی برداشت سےباہرہوتے ہوئے خرچوں سے لڑ رہا ہے،بجلی بل،گیس بل،راشن ،دواسمیت ہر چیز مہنگی ہورہی ہیں،پیپلز پارٹی میں ہی عوام کو مشکلات سے نکالنے کی صلاحیت ہے ،سیاسی بحران سے نکلنے کیلئے آج نہیں تو کل مفاہمت کرنی ہوگی،سیاست کو سیاست کے دائرے میں رہنا ہوگا، گالم گلوچ سیاست نہیں، مفاہمت کو کامیاب بنانے کیلئے سیاسی انتہا پسندی کو چھوڑنا ہوگا،آج کل جو سیاسی روش ہے وہ ملک کے نقصان میں ہے،مفاہمت کے بادشاہ ہی ملک کو سیاسی بحران سے نکال سکتے ہیں، صدر آصف علی زرداری ہی سیاسی انتہا پسندی ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

    وبائی امراض پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں:مریم نواز

    انہوں نے مزید کہا کہ صدر زرداری نے بی آئی ایس پی کو شروع کیاجو آج تک چل رہا ہے،بی آئی ایس پی آج بھی غریبوں کیلئے ایک سہارا ہے،بی آئی ایس پی کے ذریعے غریب خواتیں کو مالی امداد ملتی ہے،ہم نے سیلاب کے بعد سندھ میں تاریخی کام شروع کیا ہے،ہم سندھ میں سیلاب سے بے گھرخاندانوں کیلئے20لاکھ گھر بنا رہے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی20لاکھ خاندانوں کی خدمت کررہی ہے،18ویں ترمیم میں صوبوں کو اختیارات ملے،ہم عالمی سطح کا صحت کا جال سندھ میں بچھائیں گے،ان اسپتالوں میں 100فیصد مفت علاج ہوگا شہید بینظیر بھٹو کو سلام پیش کرتے ہیں، 27دسمبر ہمیں اجتماعی سوگ، غور و فکر اور عزمِ نو کی یاد دہانی کراتا ہے،بینظیر بھٹو محض رہنما نہیں بلکہ جمہوریت کی نڈر آواز اور مظلوموں کی امید تھیں ، بینظیر بھٹو آمریت، انتہاپسندی اور عدم برداشت کیخلاف ناقابل تسخیر علامت تھیں۔

    انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی زندگی جرأت اور ہمدردی کا نادر امتزاج تھی، بینظیر بھٹو کا جمہوری پاکستان کا ویژن آج بھی خواتین اور نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہے،بینظیر بھٹو کا ویژن ہماری رہنمائی اور انکی جرأت ہماری دائمی ذمہ داری ہے۔

  • نوازشریف سے سینیٹر حافظ عبدالکریم کی ملاقات

    نوازشریف سے سینیٹر حافظ عبدالکریم کی ملاقات

    لاہور: صدر مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف سے مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر اور سینیٹر حافظ عبدالکریم نے ملاقات کی-

    پارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات دوستانہ اور تعمیری ماحول میں ہوئی،جس میں ڈی جی خان کی مجموعی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، اس موقع پر اسامہ عبدالکریم اور انس عبدالکریم بھی موجود تھے اورانہوں نے ملاقات میں تبادلہ خیال کے دوران اہم نکات پراپنے خیالات پیش کیے،ملاقات کے دوران دونوں جانب سے سیاسی اور انتظامی امور پر باہمی تعاون کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔

    بیان کے مطابق اس طرح کے رابطے پارٹی میں ہم آہنگی قائم رکھنے اور علاقائی سیاسی صورتحال پر درست فیصلے کرنے کے لیے اہم ہیں،ملاقات کے دوران مستقبل میں سیاسی حکمت عملی اور تعاون کے ممکنہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔