Baaghi TV

Tag: سیاست

  • جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے،عطا تارڑ

    جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے،عطا تارڑ

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ سیاستدانوں کو تنقید برداشت کرنے کی عادت اپنانا ہوگی اور جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے۔

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پاکستان فیڈرل کالمسٹ اینڈ کری ایٹر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میڈیا، صحافت اور سیاسی تجربات پر بات کی انہوں نے کہا کہ ریل اسٹیٹ سیکٹر نے اخبارات اور میڈیا ہاؤسز میں اپنا کردار ادا کیا، مگر اب بھی وقت موجود ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر نظام کو بہتر بنائیں،ریل اسٹیٹ سیکٹر نے اس وقت میڈیا ہاؤسز کا کردار ادا کیا جب اخبارات نے خود کو کمزور محسوس کیا، اور یہ خلا بھر دیا۔

    تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ابھی بھی نظام کو بہتر بنانے کے لیے وقت موجود ہے، اور مختلف اداروں جیسے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ اطلاعات کے کردار کو الگ رکھا گیا تاکہ صحافت کو فروغ دیا جا سکے قوانین کے نفاذ میں شفافیت اور اختیار کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور ملک میں اختلاف رائے کے لیے کافی گنجا ئش موجود ہے انہوں نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے اسٹوڈنٹ سیاست سے شروعات کی، عملی سیاست کا تجربہ حاصل کیا اور پھر بیوروکریسی میں خدمات انجام دی۔

    پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 3 اہم معاہدوں پر دستخط

    عطا تارڑ نے کہا کہ سیاستدانوں کو تنقید برداشت کرنے کی عادت اپنانا ہوگی اور جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے تیسری قوت نے معاشرتی مسائل کو سامنے لانے میں اہم کردار ادا کیا اور یہ قوت اب بھی ملک کے اندر مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔

    پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور زرلٹ بھی نکل سکتاہے،خواجہ آصف

  • نااہل قرار دیے گئے 32 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال

    نااہل قرار دیے گئے 32 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اثاثہ جات اور واجبات کے گوشوارے جمع نہ کرانے پر نااہل قرار دیے گئے سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے متعدد ارکان کی رکنیت بحال کر دی ہے۔

    قومی اسمبلی کے 8 اور پنجاب اسمبلی کے 14 ارکان کی رکنیت بحال کی گئی ہے،سندھ اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے چار، چار اراکین کی رکنیت بحال کر دی گئی،سینٹ اور بلوچستان اسمبلی کے ایک ایک رکن کی رکنیت بحال کی گئی ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ ارکان نے مالی سال 2024-25 کے لیے اپنے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے جمع کرا دیے ہیں، جس کے بعد وہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت قانونی تقاضے پورے کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

    اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو

    نوٹیفکیشن کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137 کے تحت تمام ارکانِ اسمبلی پر لازم ہے کہ وہ ہر سال 31 دسمبر تک اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں،اس قانون کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے 16 جنوری 2026 کو متعدد ارکان کو رکنیت سے محروم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اب تمام متعلقہ ارکان نے اپنے اثاثہ جات اور واجبات کے گوشوارے جمع کرا دیے ہیں، جس کے بعد الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137(3) کے تحت ان کی اراکین اسمبلی کی حیثیت بحال کر دی گئی ہےیہ فیصلہ قانون کے مطابق اور فراہم کردہ اختیارات کے تحت کیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق جن ارکانِ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت بحال کی گئی ہے، ان میں سینیٹ سے عابد شیر علی (پنجاب) ، سید کاظم علی شاہ( سندھ)، نورالحق قادری(خیبر پختونخوا) اور عبد القدوس(بلوچستان) کی رکنیت بحال کی گئی-

    سوشل میڈیا پر بھارتی اور افغان میڈیا کا پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈہ بے نقاب

    قومی اسمبلی سے سردار غلام عباس، محمد محبوب سلطان، سید عبدالقادر گیلانی، میر عامر علی خان مگسی، ارشد عبداللہ ووہرا اور صوفیہ سعید شاہ کی رکنیت بحال کی گئی-

    پنجاب اسمبلی سے سردار محمد عاصم شیر میکن، علی حسین خان، جعفر علی ہوچھا ،محمد طاہر پرویز میاں محمد آصف ، امتیاز محمود، اسامہ فضل، محمد معین الدین ریاض، کاشف نوید، میاں علمدار عباس قریشی، محمد عون حمید، سردار شیر افغان گورچانی اور روبینہ نذیر کی رکنیت بحال کی گئی-

    سال 2026 کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیاگیا

    جبکہ سندھ اسمبلی سے آغا شہباز علی درانی، نوابزادہ برہان چانڈیو، سید اویس قادر شاہ، شیراز شوکت راجپر، جام خان شورو، سعید غنی، فرح سہیل اور کو مل کی رکنیت بحال کی گئی ہے-

    اسی طرح خیبر پختونخوا اسمبلی میاں محمد عمر اور خدیجہ بی بی کی رکنیت بحال کی گئی،علاوہ ازیں بلوچستان اسمبلی سے فیصل خان جمالی، بخت محمد، زارق خان اور صفیہ بی بی کی رکنیت بحال کی گئی ہے-

    سونے کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کا اضافہ

    الیکشن کمیشن نےاس امر پر زور دیا ہے کہ ارکانِ اسمبلی کی جانب سے اثاثہ جات کی بروقت تفصیلات جمع کرانا شفافیت اور احتساب کے عمل کا اہم حصہ ہے، اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی  کے نئے چئیرمین مقرر

    طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے نئے چئیرمین مقرر

    بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے متفقہ طور پر طارق رحمان کو پارٹی کا نیا چیئرمین مقرر کر دیا ہے۔

    بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے طارق رحمان کی بطور چیئرمین تقرری کی منظوری دے دی ہے، یہ فیصلہ جمعہ کی شب پارٹی کے گلشن دفتر میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا،بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اس فیصلے کی تصدیق کی۔

    بی این پی کے چیئرمین کا عہدہ سابق وزیر اعظم اور پارٹی سربراہ بیگم خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد خالی ہوا تھا پارٹی آئین کے مطابق اس خلا کو پُر کرنے کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا، جس میں متفقہ طور پر طارق رحمان کو پارٹی کی قیادت سونپنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    <a href="https://login.baaghitv.com/sohail-afridi-qanoon-ko-hath-mai-na-خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 11 بھارتی حمایت یافتہ خوارج ہلاکlen/” title=”سہیل آفریدی کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہے،وہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،سندھ حکومت”>سہیل آفریدی کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہے،وہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،سندھ حکومت

    پارٹی ذرائع کے مطابق طارق رحمان نے سیاسی جدوجہد کا آغاز اپنی والدہ کے ساتھ جنرل ارشاد کے خلاف تحریک کے دوران کیا وہ 1988 میں بی این پی میں باقاعدہ طور پر شامل ہوئے اور 1991 کے انتخابات سے قبل بیگم خالدہ ضیا کے ہمراہ ملک بھر میں انتخابی مہم چلائی، 2002 میں انہیں بی این پی کا سینیئر جوائنٹ سیکریٹری نامزد کیا گیا جبکہ 2009 میں وہ پارٹی کے سینیئر نائب چیئرمین منتخب ہوئے، 2018 میں بیگم خالدہ ضیا کی قید کے بعد طارق رحمان کو قائم مقام چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ 2007 میں ون الیون دور کے دوران گرفتاری کے بعد وہ علاج کی غرض سے بیرون ملک چلے گئے تھے اور تقریباً 17 سال بعد 25 دسمبر 2025 کو وطن واپس آئے، اب ان کی بطور چیئرمین تقرری کے بعد بی این پی کی قیادت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

  • بحرانوں میں صرف حکومت کا ہی کردار نہیں ہوتا، مولا بخش چانڈیو

    بحرانوں میں صرف حکومت کا ہی کردار نہیں ہوتا، مولا بخش چانڈیو

    حیدرآباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن پربھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ملک اس وقت شدید سیاسی بحران کا شکار ہے اور جب تک یہ بحران ختم نہیں ہوگا، معاشی مسائل کا حل ممکن نہیں۔

    حیدرآباد پریس کلب کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےمولا بخش چانڈیو نے کہا کہ حیدرآباد کی شامیں محبتوں والی ہیں، ایسی شامیں کسی اورملک میں دیکھنے کونہیں ملتیں،وہ کسی بھی مکتبہ فکر کے خلاف نفرت کی بات نہیں کرتے اور ہمیشہ برداشت اور رواداری کے قائل رہے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایک سیاسی کارکن ہیں اورکبھی خود کو وڈیرہ نہیں سمجھا، موجودہ حالات میں صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن پربھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ جب بحران پورے ملک کو ہلا رہے ہوں تواپوزیشن کا کرداربھی اتنا ہی اہم ہوجاتا ہے۔ٕ

    وینزویلا پر حملہ،امریکی طیارہ گرفتار صدر کو لے کر نیویارک پہنچ گیا

    پیپلزپارٹی کے رہنما نے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما بانی پرجان قربان کرنے کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن اپنی قائد کی شریک حیات کو چھوڑ کربھاگ گئے، اپوزیشن کواپنا کردارادا کرنا چاہیے جو وہ اس وقت نہیں کررہی، سیاسی جماعتوں نے اپنے فرائض ادا کرنے کے بجائے تما م بوجھ ایک ادارے پر ڈال دیا ہے، حالانکہ سیاسی جماعتوں کو خود آگے بڑھ کر کردارادا کرنا چاہیے اگرحکومت معاملات درست نہیں کر پا رہی تو اپوزیشن کو میدا ن میں آ کرملک کیلئے اپنا کردارادا کرنا ہوگا، پیپلز پارٹی اشاروں کنایوں میں نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنے پر یقین رکھتی ہے۔

    وزیراعظم کا ڈاکٹر پرامیلا لال کے انتقال پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام سنتے نریندر مودی چھپ جاتا ہے،بلاول بھٹو

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام سنتے نریندر مودی چھپ جاتا ہے،بلاول بھٹو

    چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ہماری افواج نے بھارت کو جنگ کے میدان میں شکست دی، یہ جیت گڑھی خدابخش کی قربانیوں کے بغیر ناممکن ہوتی۔ کیونکہ گڑھی خدابخش کی قربانیوں سے ہی پاکستان ایٹمی قوت بنا۔

    گڑھی خدا بخش میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی 18 ویں برسی کی مرکزی تقریب جاری ہے صدرِ مملکت آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، آصفہ بھٹو سمیت پیپلزپارٹی کے مرکزی قائدین بھی اسٹیج پر موجود ہیں،تقریب میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں وفاقی حکومت کے وفد نے بھی شرکت کی۔

    اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی شہادت کو 18 سال گزر چکے ہیں، ہرسال چاروں صوبوں سے لوگ یہاں جمع ہوکر پوری دنیا کو پیغام دیتے ہیں، پاکستان اور چین کی دوستی کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی ،ہماری افواج نے بھارت کو جنگ کے میدان میں شکست دی، یہ جیت گڑھی خدابخش کی قربانیوں کے بغیر ناممکن ہوتی،کیونکہ گڑھی خدابخش کی قربانیوں سے ہی پاکستان ایٹمی قوت بنا۔

    شکی مزاج شوہر نے بیوی کو بچوں کے سامنے آگ لگا دی

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے چین سے جہاز منگوائے، ان ہی کے ذریعے بھارتی جہاز گرائے گئے چین سے دوستی کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی اور شہید بینظیر بھٹو نے پاک چین دوستی کو مزید آگے بڑھایا، جبکہ صدر زرداری نے سی پیک کی بنیاد رکھی۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت کیخلاف جیت پورے پاکستان کی جیت ہے،پیپلز پارٹی عوامی مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہے، دنیا کے بڑے بڑے فورمز پر بھارتی وزیراعظم پاکستان کیخلاف تقریریں کرتے تھے،10مئی کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی غائب ہوچکے ہیں،معرکہ حق میں شاندار کامیابی پر پورے پاکستان کے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت اپنی شکست کو تاحال ہضم نہیں کر سکا ہے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام سنتے نریندر مودی چھپ جاتے ہیں،ہماری افواج نے بھارت کا غرور خاک میں ملایا اور معرکۂ حق میں کامیابی پوری قوم کی کامیابی ہے پاکستان کے اندرونی مسائل کسی سے چھپے ہوئے نہیں، ملک کو سیاسی اور معاشی بحران کا سامنا ہے اور ہمیں ان بحرانوں سے ملک کو نکالنا ہوگا-

    سلمان خان 60 برس کے ہوگئے

    انہوں نے کہا کہ پارلیمان نے 27ویں آئینی ترمیم بھی پاس کروائی، جس میں موجود متنازع شقوں کو نکلوایا گیا، سیاسی میدان میں پیپلز پارٹی نے صوبوں کے حقوق کا تحفظ کیا ،این ایف سی کے آئینی تحفظ کو بھی پیپلزپارٹی نے بچایا،آئینی عدالت کاقیام شہید بے نظیر بھٹو کا وعدہ تھا،آئینی عدالت میں تمام صوبوں سے برابری کی نمائندگی ہوگی۔

    بلاول بھٹو کے مطابق شہید بینظیر بھٹو نے آئینی عدالت بنانے کا وعدہ کیا تھا اور اس ترمیم کے ذریعے آئینی عدالت کا خواب پورا کیا گیاہم وفاق کو درپیش تمام مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، وفاق صوبوں سے حقوق چھینے کے بجائے مزید ذمہ داریاں دے صوبے ٹیکس جمع کرکے وفاق کو درپیش معا شی مسائل حل کریں گے،،سمجھتے ہیں وفاق کے مسائل ہمارے مسائل، وفاق کی پریشانیاں ہماری پریشانیاں ہیں،ہم بھی چاہتے ہیں کہ وفاق کی پریشانیاں دور ہوں۔

    چئیرمین پی پی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے دور میں مشکلات تھیں،مہنگائی کا سلسلہ تیز ہو چکا تھا،موجودہ حکومت میں مہنگائی کی صورتحال پی ٹی آئی دور سے بہتر ہوچکی ہے پیپلز پارٹی کی اپنی سیاست اورتاریخ ہے،صوبوں کی خودمختاری اور حقوق کاتحفظ کرتے ہوئے وفاق کے مسائل حل کریں گےصوبوں سےاختیار چھیننے کے بجائےصوبوں کو مزید ذمہ داریاں دی جائیں،ہم مزید ذمہ داریاں اٹھانے کیلئے تیار ہیں تاکہ معیشت کو مضبوط کرسکیں،ٹیکس کے حوالے سے صوبوں کو مزید ذمہ داریاں دیں ،ہم ایف بی آر سے بہتر ٹیکس جمع کرکے معاشی بحران کو دور کریں گے۔

    لاہور میں تین دن کے لیے بسنت منانے کی اجازت

    انہوں نے کہا کہ وفاق دوسروں کو الزام لگانے کا موقع نہ دے،ہم آپ کے ساتھ مل کر معاشی بحران دور کرنا چاہتے ہیں،سندھ کے شعبہ صحت کا مقابلہ کسی دوسرے صوبے سے نہیں ، دنیا سے ہے، گمبٹ میں ہر قسم کی بیماری کا علاج میسر ہےحال ہی میں سیلاب آیا تو زرعی شعبہ کافی مشکل میں تھا، پسماندہ علاقوں کا حق ہے کہ وہاں معیاری علاج کی سہولت میسر ہو،ہم نے سندھ میں عالمی سطح کا صحت کے نظام کا جال بچھایا۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا معاشی بحران ختم کرنے کیلئے صوبوں کو مزید ذمہ داریاں دی جائیں،وفاق کو حیسکو،سیپکو جیسے اداروں کا بوجھ اپنے کندھوں سے ہٹانا چاہئے،پیپلز پارٹی وفاق کے ساتھ مل کر مسائل کا حل نکالے گی،ہم سب کو مل کر پاکستان کی معاشی مشکلات کو دور کرنا چاہئےوفاقی حکومت کہہ رہی ہے کہ معیشت ترقی کررہی ہے،ملک کو ڈیفالٹ ہونے سےبچایا گیا،کیا کریں عوام تو حکومت کے دعوے کو نہیں مانتے۔عوام ہم سے پوچھتے ہیں کہ معاشی ترقی ہمیں کب محسوس ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کا عام آدمی آج تک معاشی بحران سے گزررہا ہے،آج عام آدمی برداشت سےباہرہوتے ہوئے خرچوں سے لڑ رہا ہے،بجلی بل،گیس بل،راشن ،دواسمیت ہر چیز مہنگی ہورہی ہیں،پیپلز پارٹی میں ہی عوام کو مشکلات سے نکالنے کی صلاحیت ہے ،سیاسی بحران سے نکلنے کیلئے آج نہیں تو کل مفاہمت کرنی ہوگی،سیاست کو سیاست کے دائرے میں رہنا ہوگا، گالم گلوچ سیاست نہیں، مفاہمت کو کامیاب بنانے کیلئے سیاسی انتہا پسندی کو چھوڑنا ہوگا،آج کل جو سیاسی روش ہے وہ ملک کے نقصان میں ہے،مفاہمت کے بادشاہ ہی ملک کو سیاسی بحران سے نکال سکتے ہیں، صدر آصف علی زرداری ہی سیاسی انتہا پسندی ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

    وبائی امراض پوری دنیا کو متاثر کرتے ہیں:مریم نواز

    انہوں نے مزید کہا کہ صدر زرداری نے بی آئی ایس پی کو شروع کیاجو آج تک چل رہا ہے،بی آئی ایس پی آج بھی غریبوں کیلئے ایک سہارا ہے،بی آئی ایس پی کے ذریعے غریب خواتیں کو مالی امداد ملتی ہے،ہم نے سیلاب کے بعد سندھ میں تاریخی کام شروع کیا ہے،ہم سندھ میں سیلاب سے بے گھرخاندانوں کیلئے20لاکھ گھر بنا رہے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی20لاکھ خاندانوں کی خدمت کررہی ہے،18ویں ترمیم میں صوبوں کو اختیارات ملے،ہم عالمی سطح کا صحت کا جال سندھ میں بچھائیں گے،ان اسپتالوں میں 100فیصد مفت علاج ہوگا شہید بینظیر بھٹو کو سلام پیش کرتے ہیں، 27دسمبر ہمیں اجتماعی سوگ، غور و فکر اور عزمِ نو کی یاد دہانی کراتا ہے،بینظیر بھٹو محض رہنما نہیں بلکہ جمہوریت کی نڈر آواز اور مظلوموں کی امید تھیں ، بینظیر بھٹو آمریت، انتہاپسندی اور عدم برداشت کیخلاف ناقابل تسخیر علامت تھیں۔

    انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی زندگی جرأت اور ہمدردی کا نادر امتزاج تھی، بینظیر بھٹو کا جمہوری پاکستان کا ویژن آج بھی خواتین اور نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہے،بینظیر بھٹو کا ویژن ہماری رہنمائی اور انکی جرأت ہماری دائمی ذمہ داری ہے۔

  • نوازشریف سے سینیٹر حافظ عبدالکریم کی ملاقات

    نوازشریف سے سینیٹر حافظ عبدالکریم کی ملاقات

    لاہور: صدر مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف سے مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر اور سینیٹر حافظ عبدالکریم نے ملاقات کی-

    پارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات دوستانہ اور تعمیری ماحول میں ہوئی،جس میں ڈی جی خان کی مجموعی سیاسی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، اس موقع پر اسامہ عبدالکریم اور انس عبدالکریم بھی موجود تھے اورانہوں نے ملاقات میں تبادلہ خیال کے دوران اہم نکات پراپنے خیالات پیش کیے،ملاقات کے دوران دونوں جانب سے سیاسی اور انتظامی امور پر باہمی تعاون کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔

    بیان کے مطابق اس طرح کے رابطے پارٹی میں ہم آہنگی قائم رکھنے اور علاقائی سیاسی صورتحال پر درست فیصلے کرنے کے لیے اہم ہیں،ملاقات کے دوران مستقبل میں سیاسی حکمت عملی اور تعاون کے ممکنہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • پاکستان کی سیاست سے کسی کو مائنس کرنا عوام کا اختیار ہے،  مصطفیٰ نواز کھوکھر

    پاکستان کی سیاست سے کسی کو مائنس کرنا عوام کا اختیار ہے، مصطفیٰ نواز کھوکھر

    اسلام آباد: سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ سیاسی تقسیم اس حد تک بڑھ چکی کہ نیشنل ڈائیلاگ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا، سیاست میں راستہ ہمیشہ ڈائیلاگ کے ذریعے نکلتا ہے۔

    مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے جتنی سختی برداشت کرنی تھی کر لی،مخالف جماعتیں ہمیشہ یہی کہتی ہیں کہ جلسہ صحیح نہیں ہوا،سب مل کر بیٹھیں، ملک میں پولرائزیشن کو ختم کرنے کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، رانا ثناء اللّٰہ باشعور سیاست دان ہیں، ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ترقی ہو، پی ٹی آئی میں گرفتاریاں معمول ہیں، ان کے ساتھ اور کیا کریں گے؟-

    انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے سیاستدانوں کی ملاقات کا سلسلہ بحال کیا جائے تو ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے، پاکستان کی سیاست سے کسی کو مائنس کرنا عوام کا اختیار ہے، جب آپ کسی کو وقت سے پہلے فارغ کر دیتے ہیں تو عوام ان کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں، یہی نواز شریف کے ساتھ ہوا تو ووٹ کو عزت دو کا نعرہ سامنے آیا۔

    وزیراعظم کا سندھ کلچرل ڈے کی مناسبت سے پیغام جاری

    اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے خصوصی ٹریفک ایڈوائزری جاری

    وانا میں 8 دسمبر کو مکمل کرفیو نافذ، نوٹیفکیشن جاری

  • الیکشن کمیشن میں دو نئی سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ

    الیکشن کمیشن میں دو نئی سیاسی جماعتیں رجسٹرڈ

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مزید دو نئی سیاسی جماعتوں کو باضابطہ طور پر رجسٹرڈ کر لیا ہے-

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ’’آزاد عوام پاکستان پارٹی‘‘ اور ’’تجدید نظام پارٹی‘‘ کو رجسٹرڈ کر لیا گیا ہے، جس کے بعد ملک میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی مجموعی تعداد 170 تک پہنچ گئی ہے آزاد عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ محمد علی ہیں جبکہ تجدید نظام پارٹی کے چیئرمین خالد زمان ہوں گے۔

    الیکشن کمیشن نے دونوں جماعتوں کے انٹرا پارٹی انتخابات کو بھی درست قرار دیا ہےآزاد عوام پاکستان پارٹی اور تجدید نظام پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے ان کی رجسٹریشن مکمل کر دی گئی ہے۔

    کراچی میں قتل ہونیوالے3 خواجہ سرا مرد نکلے،پوسٹ مارٹم رپورٹ

    ناتجربہ کاری کی وجہ سے پنجاب میں سیلاب سے تباہی کا دائرہ وسیع ہوا، شرجیل میمن

    بلدیاتی ضمنی انتخابات : سندھ کے 14 اضلاع میں بدھ کو عام تعطیل کا اعلان

  • ریحام خان نے اپنی سیاسی جماعت کا اعلان کر دیا،نام بھی رکھ  لیا

    ریحام خان نے اپنی سیاسی جماعت کا اعلان کر دیا،نام بھی رکھ لیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی سابقہ اہلیہ اور صحافی و سماجی کارکن ریحام خان نے باضابطہ طور پر اپنی نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کر دیا ان کی پارٹی کا نام ”پاکستان ریپبلک پارٹی“ رکھا گیا ہے۔

    ریحام خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت حکمرانوں کا پیچھا کرے گی، پاکستان ریپبلک پارٹی عوامی مسائل کے حل کے لئے بھرپور جدوجہد کرے گی”پاکستان ریپبلک پارٹی“ کا مقصد صرف اقتدار کا حصول نہیں بلکہ عوامی فلاح، شفافیت اور انصاف کے لیے جدوجہد ہے، ملک کے موجودہ سیاسی نظام میں عام شہری کی آواز دبائی جاتی ہے، لیکن ان کی جماعت ہر نظرانداز شدہ طبقے کی نمائندہ بنے گی انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی پارٹی سیاست کو خدمت میں بدلنے کے لیے میدان میں اتری ہے۔

    ریحام خان نے مزید کہا کہ کراچی پریس کلب کو میں نے زبان دی تھی کہ کسی بھی سیاسی اقدام کا آغاز یہاں سے کروں گی، میرے برے حالات میں کراچی پریس کلب میرے ساتھ تھا، اب ماڈرن ٹیکنالوجی آگئی ہے، کسی کام کا آغاز کریں تو اللہ کا نام لے کر کریں، نیت کرنا بھی بہت ضروری ہے،جب بھی کسی اور کے لیے کوئی کام کیا جاتا ہے تو اس میں اللہ پاک برکت ڈالتا ہے۔

    پاکستان ریلویز کا مزید 11 ٹرینیں پرائیویٹ کرنے کا فیصلہ

    انہوں نے کہا کہ 2012 میں بی بی سی میں ملازمت اختیار کی تھی، بی بی سی سے مستعفی ہوکر اپنی والدہ کے پاس 4 سال رہی، مجھے پاکستان سے پیار ہوگیا، میں نے 2012 سے 2025 میں پاکستان کو دیکھا ہے ہماری عوام کے پاس پینے کا پانی نہیں ہے، مجھے ایک بچی نے کہا کہ آپ بھی کہیں ان سیاست دانوں طرح نہ ہوجائیں، اسی لیے میں سیاست سے الگ رہی، میں نے خود کو کسی بھی سیاسی ایکشن سے دور رکھا۔

    انہوں نے کہا کہ پرائم ٹائم پر اب یہ ہے کہ کس کی حکومت گر رہی ہے، کون آرہا ہے، کون جارہا ہے، کسی نے کہا کیا آپ محروم صوبوں کی بات کریں گی؟، میں نے کہا سب ہی صوبے محروم ہیں میں بہت سوچ بچار کے بعد قدم رکھ رہی ہوں، میرے مطابق کراچی دارلخلافہ ہونا چاہیے، کسی سیاسی جماعت اور لیڈر میں کوئی فرق نہیں رہا، مری اور سوات جیسے واقعات پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی جاتی ہے۔

    وزیراعظم سے انڈونیشین وزیر دفاع کی ملاقات

    ریحام خان نے کہا کہ کون جیل میں کون جیل سے باہر جارہا ہے، ٹی وی پر بیٹھ ہاتھا پائی ایک دوسرے کو برا بلا کہا جارہا ہے، خیبرپختونخوا میں کیا حال ہے، گھر میں حق کی بات کریں تو کوئی آپ کو برادشت نہیں کرتا اب صرف نظریہ یہ ہے کہ مجھے منسٹر بنانا ہے، میں نے میرٹ کی بنیاد پر کام کیا، چاہتی ہوں لوگ بھی میرٹ پر کام کریں، بجٹ آیا ہے جس کے خلاف آج تاجر احتجاج کررہے ہیں، شوگر کی قیمتوں کا کسی کو پتہ نہیں، مافیا کون ہے، ایف بی ار ان کو پکڑے، آج وڈیرہ کسانوں کی نمائندگی کررہا ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو تاجر کنٹرول کررہے ہیں، آج ایسی تحریک کے ساتھ قدم اٹھا رہی ہوں جس میں پارلیمنٹ کے چہرے بدل کر دکھاؤں گی، اسمبلیوں میں آجکل 5خاندان بیٹھے ہوئے ہیں۔

    اداکارہ حمیرا اصغر کے کیس کی تحقیقات میں اہم پیشرفت

  • فیصلے اب قانون کے بجائے طاقتوروں کی مرضی سے ہو رہے ہیں،مفتاح اسماعیل

    فیصلے اب قانون کے بجائے طاقتوروں کی مرضی سے ہو رہے ہیں،مفتاح اسماعیل

    عوام پاکستان پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ فیصلے اب قانون کے بجائے طاقتوروں کی مرضی سے ہو رہے ہیں-

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے سوات سانحے پر خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے سوات میں ڈوبنے والے 18 افراد کی اموات پوری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے اگر یہ لوگ کسی سیاسی جماعت یا اشرافیہ سے تعلق رکھتے تو شاید ان کی جانیں یوں ضائع نہ ہوتیں،یہ وقت ہے سوچنے کا، غریب عوام کی جان سستی اور طاقتور کی قیمتی کیوں سمجھی جاتی ہے؟ فیصلے اب قانون کے بجائے طاقتوروں کی مرضی سے ہو رہے ہیں۔

    مفتاح اسماعیل نے سپریم کورٹ کے فیصلوں پرکہا کہ چند ماہ قبل جو مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دی گئیں، آج ان میں سے ایک بھی سیٹ ان کے پاس نہیں یہ فیصلے کہاں ہو رہے ہیں اور کیسے؟ قانون سے بالاتر ہوکر فیصلے کیے جا رہے ہیں ہم نے مسلم لیگ ن سے اس وقت علیحدگی اختیار کی جب ووٹ کو عزت دو کا نعرہ چھوڑا گیا انصاف اور قانون کی حکمرانی کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔

    بھارت کو ذمہ داری سے راہِ فرار اختیار کرنے نہیں دیں گے ،شازیہ مری

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پیپلزپارٹی کراچی سمیت سندھ بھر میں کام نہیں کر رہی، نہ شہری علاقوں میں اور نہ ہی دیہی علاقوں میں، صرف سندھی بولنے والوں کو ملازمتیں دی جاتی ہیں، یہ کھلا تعصب ہے 17 سالہ حکمرانی میں تعلیم کی شرح 58 فیصد سے گر کر صرف 17.5 فیصد رہ گئی ہے،40 فیصد بچے میٹرک سے پہلے اسکول چھوڑ دیتے ہیں،69 فیصد اسکول بجلی سے محروم ہیں،42 فیصد اسکولوں میں پانی دستیاب نہیں اور 40 فیصد میں ٹوائلٹ نہیں ہے۔

    بھارت کی کرپٹو پالیسی نے نوجوانوں کیلئے عالمی ڈیجیٹل مواقع کے دروازے بند کر دیئے،بھارتی اخبار

    انہوں نے کہا کہ تعلیم پر 4 ہزار ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود سندھ میں شرح خواندگی کم ہو رہی ہے، جب کہ باقی تمام صوبوں میں یہ شرح بڑھی ہےآج بھی شہر کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں پینے کا پانی میسر نہیں عوام سے ٹیکس تو لیا جاتا ہے، مگر جواب میں سہولتیں نہیں ملتیں کراچی اور سندھ کا مقدمہ ہم عوام پاکستان پارٹی کے پلیٹ فارم سے لڑ رہے ہیں اب وقت آ گیا ہے کہ عوام اشرافیہ کے خلاف کھڑے ہوں اور اپنے حقوق کا مطالبہ کریں۔

    بنگلہ دیش کے نجم الحسن شانتو کپتانی سے دستبردار