Baaghi TV

Tag: سیاست

  • سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    پاکستان بطورریاست اور عام آدمی کے مسائل کو دیکھ کر سیاستدانوں کی سیاست سے اُکتا گیا ہوں۔ جھوٹ، نفرت ، الزام در الزام کی سیاست کی رونقیں عروج پرہیں۔ خود سیاستدان اوچھی حرکتوں سے خبروں میں ہیں۔ اوچھی حرکتوں سے ان سیاستدانوں نے 75سالوں سے اس ریاست کے ساتھ ایسے ایسے کھیل کھیلے کہ آج پاکستان بطور ہر لحاظ سے کنگال ہو چکی یا اسے کنگال کردیا گیا ہے۔ فوجی حکمرانوں نے بھی اقتدار کے مزے لوٹے آج پاکستان کے جو حالات ہیں۔ اس کار خیر مین سب کا حصہ ہے۔ ایک دوسرے کی آڈیو ویڈیو کی سیاست کا دور آچکا ہے۔ پردہ سکرین کے پیچھے کی خبروں سے عوام بے خبر نہیں باخبر ہو چکے ہیں۔

    پیپلزپارٹی کسی زمانے میں نظریاتی جماعت تھی جب سے جناب آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کی کمانڈ سنبھالی ہے نظریات دفن ہو چکے ہیں مفادات کو سامنے رکھ کر پیپلزپارٹی والے سیاست کررہے ہیں تاہم پیپلزپارٹی کو انہوں نے سندھ تک محدود کردیا ہے۔ اقتدار کی سودے بازی میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں اپنی زندگی میں اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو وزارت عظمی کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ا س سلسلے میں بلاول بھٹو نے بطور وزیر خارجہ ریہرسل شروع کردی ہے۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف واقعی ایک شریف آدمی ہیں نواز شریف فوج کے خلاف نہیں وہ آئین نے جو حدیں مقرر کیں اپنی اپنی حدود میں رہ کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کا نعرہ بلند کرتے ہیں ان کی جماعت ہی کے کچھ افراد کی عادات آصف علی زرداری سے ملتی جلتی ہیں انہوں نے نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز کی مقبولیت کو دیکھ کر ایسی سیاست کا انتخاب کیا جس سے اُن کو اقتدار تو مل گیا مگر مسلم لیگ (ن) کے بڑھتے ہوئے گراف کو نقصان پہنچا دیا

    آج اقتدار توپی ڈی ایم جماعتوں کا ہے مگر عوام کی اکثریت(ن) لیگ پر الزام لگاتی نظر آرہی ہے ۔نواز شریف کو بے غرض اور بے لوث مشورے دینے والے بہت کم تعداد میں ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہے ۔ میر ے نزدیک اُن کی جماعت تحریک انصاف بھی خطرے میں ہے آگے چل کر یہ جماعت بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والی ہے شکاریوں نے جال پھینک دیا ہے۔ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں فوج اپنے شاندار قومی سلامتی ملکی بقا کے فریضہ کو چھوڑ کر خود غرض اور لالچی سیاستدانوں کی سیاست میںکیسے دخل دے سکتی ہے ۔ مہنگائی ،بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عام آدمی سے جینے کا حق چھین لیا ہے ۔ بجلی جس کی نایابی کے لیے عوام فریادی ہیں ۔ بجلی نہ ہوئی قہر خداوندی ہوا دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئیں ہم آجتک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا رونا رو رہے ہیں خدا کی پناہ لوگوں کے کاروبار بھی بند کررہے ہیں۔

     

     

     

    سیاستدانوں کی سیاست سے اکتا گیا ہوں:

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • اب سیاست پنجاب بیٹھ کر کروں گا،آصف زرداری

    اب سیاست پنجاب بیٹھ کر کروں گا،آصف زرداری

    پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ اب پنجاب میں بیٹھ کر سیاست کریں گے.

    سابق صدر آصف زرداری نے بلاول ہاؤس لاہور میں پیپلزپارٹی لاہور ڈسٹرکٹ 1 اور پیپلزپارٹی لاہور ڈسٹرکٹ 2 کے کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی اور قومی سیاست میں ہمیں بات چیت کرنی پڑتی ہے اور اس بات چیت کے دوران سامنے والے کے ردعمل سے اندازہ لگا کر صحیح فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ میں اب پنجاب میں بیٹھ کر سیاست کروں گا اور پنجاب میں پارٹی کو کارکنوں کے ساتھ مل جل کر کھڑا کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کی طویل جدوجہد ہے ۔ پنجاب کی نئی حکومت سے پارٹی کے لوگوں کی توقعات کو پورا کرنے کی کوشش کروائی جائے گی۔

    اجلاس میں رانا فاروق سعید، ثمینہ خالد گھُرکی، اسلم گل، شاہد عباس،احمد رضا اور اسرار بٹ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں شہزاد سعید چیمہ ، حاجی عزیزالرحمن چن، فیصل میر ، جمیل منج اور افنان بٹ بھی موجود تھے۔

    آصف زرداری ان دنوں لاہور میں موجود ہیں اور لاہور سے پارٹی کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں ،آصف زرداری نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا اور پنجاب کے سیاسی معاملات پر مشاورت بھی کی .

    بلاول ہاوس لاہور میں سابق صدر آصف زرداری اور وزیراعلی پنجاب حمزہ شہبازکے درمیان ملاقات میں ضمنی الیکشن مل کر لڑنے پر اتفاق کیا گیا تھا.علاوہ ازیں سابق صدر آصف زرداری اپنے لاہور قیام کے دوران مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے گھر بھی گئے اور ان کی خیریت دریافت کی تاہم دونوں رہنماوں نے ملک کی سیاسی صورتحال پر مشاورت بھی کی ،اس موقع پر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین پلک کا آثاثہ ہیں،جبکہ شجاعت حسین کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ وہ حکومت کے اتحادی ہیں اور رہیں گے.

  • عمران خان کو 3 روز جیل میں رکھا جائے تو اس کی سیاست نکل جائے گی،رانا ثناءاللہ

    عمران خان کو 3 روز جیل میں رکھا جائے تو اس کی سیاست نکل جائے گی،رانا ثناءاللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ دعا کریں عمران خان کی گرفتاری کی اجازت مل جائے عمران خان کو 3 روز جیل میں رکھا جائے تو اس کی سیاست نکل جائے گی-

    باغی ٹی وی : لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا ان کی خواہش ہے کہ عمران خان کو اسی سیل میں رکھا جائے جہاں انہیں رکھا گیا تھا لیکن ایسے فیصلے اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کے بغیر نہیں کیے جا سکتے عمران خان کو 3 روز جیل میں رکھا جائے تو اس کی سیاست نکل جائے گی۔

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے متعلق بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا پرویز الٰٗہی پہلے اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ پھر اجلاس بلائیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کی رہنما کی گرفتاری سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ کا کہنا تھا شیریں مزاری کی گرفتاری میں حکومت کا یا کسی اور کا عمل دخل نہیں ہے۔

    رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بھنور سے نکالنے کے لیے ہمیں اور اداروں کو مزید زور لگانے کی ضرورت ہے، اتحادی جماعتیں ملک کو مشکل سے نا نکال سکیں تو کوئی حادثہ ہو جائے گا۔

    ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے : علی حیدر زیدی

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما شفقت محمود نے رانا ثنااللہ کے عمران خان کو گرفتار کرنے سے متعلق بیان کی مذمت کی ہے،شفقت محمود نے کہا کہ رانا ثنا اللہ نے اگر ایسی حرکت کی تو پوری قوم سراپا احتجاج ہو گی،پی ٹی آئی کے کارکنان اور قوم عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں-

    شفقت محمود نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کے ہاتھ ماڈل ٹاون کے معصوم شہریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں،امپورٹڈ حکومت عوام کی خدمت کی بجائے اپنے کیسز میں ریلیف کے چکر میں ہیں امپورٹڈ حکومت چاہتی ہے عدلیہ ان کے غیر قانونی اقدامات کا نوٹس نہ لے آئندہ الیکشن میں ان کو اپنی سیاسی اوقات کا اندازہ ہو جائے گا-

    کراچی جلسے کی کامیابی مولانا فضل الرحمن کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے : نور سلیم

  • آج کل سیاست اور فوج کو موضوعِ بحث بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، چوہدری شجاعت

    آج کل سیاست اور فوج کو موضوعِ بحث بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، چوہدری شجاعت

    گجرات :سابق وزیراعظم ملک کی سیاسی صورت حال سے پریشان ،اطلاعات کے مطابق n

    سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ آج کل سیاست اور فوج کو موضوعِ بحث بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق چوہدری شجاعت حسین نے اپنی رہائش گاہ پر مسلم لیگی رہنماؤں سینیٹر کامل علی آغا، جواد بھلی، شافع حسین اور رضوان ممتاز علی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کل سیاست اور فوج کو موضوعِ بحث بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ فوج کا سیاست میں کردار ہونا چاہئے یا نہیں، سیاست کا ڈکشنری میں مطلب اصلاح احوال ہے اور اس کا مطلب سیاسی، معاشی اور سماجی حالات درست کرنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہنگامی صورتحال ہو تو ملکی سلامتی اور بقا کیلئے حکومت اور افواج پاکستان کے درمیان تعاون لازم ہے کہ فوج اور حکومت باہمی اتفاق رائے سے فیصلہ کریں۔

    چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ حکومت کا اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے دفاعی اخراجات کو جواز بنا کر اپنی سیاست چمکانے اور تالیاں بجوانا انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ قرار دیا جانا چاہیئے، لیکن افسوس ہے کہ ایسے افراد قومی مفادات کو مد نظر رکھنے کی بجائے جلسوں میں تالیاں بجوانے اور نعرے لگوانے کیلئے ملک دشمن قوتوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جہاں تک سیاسی حکومت کے فرائض کا تعلق ہے اسے چاہیئے کہ وہ ملکی سلامتی اور بقا کو یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے، جب ضرورت پڑے تو آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے سیکیورٹی ایجنسیز افواج پاکستان کو اپنی مدد کیلئے طلب کرے، اس سلسلے میں تمام مالی و دیگر وسائل بروے کار لائے۔

    چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ حکومت معاملات کو سلجھانے میں اگر ناکام ہو جاتی ہے تو ملکی سلامتی کو خطرات لا حق ہو سکتے ہیں۔

    سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین کا مزید کہنا تھا کہ اگر سول حکومت ایسی سنگین صورتحال میں وسائل فراہم کرنے میں ناکام ہو تو میری نظر میں افواج پاکستان اور سیکیورٹی ایجنسیز ملک کو ایسی سنگین صورتحال میں بھی خطرات سے باہر نکالنے کی ذمہ دار ٹھہرائی جائے گی۔

  • کسی کا پیروکار بننا چھوڑیں اور خود لیڈر بنیں، وقار ذکا  کا نوجوانوں کو پیغام

    کسی کا پیروکار بننا چھوڑیں اور خود لیڈر بنیں، وقار ذکا کا نوجوانوں کو پیغام

    نوجوانوں میں بے پناہ مقبول پاکستانی معروف میزبان اور سماجی کارکن وقار ذکا نے تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہونے پر اپنی ذاتی رائے کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : وقار ذکا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ یہ پاکستان کی طرف لوٹنے کا وقت ہے، ہمیں نئی ​​سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے، ہمیں نوجوانوں کی ضرورت ہے کہ وہ صرف ووٹ نہیں دیں بلکہ اگلے انتخابات میں کھڑے ہوں۔

    عدم اعتماد کی کامیابی: رمیز راجا سمیت پی سی بی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا امکان

    اُنہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ اگر آپ واقعی پاکستان کی پرواہ کرتے ہیں تو آپ سب اپنے اپنے علاقوں سے الیکشن لڑنے کی کوشش کریں۔

    وقار ذکا نے اپنے پیغام میں نوجوانو ں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ کسی کا پیروکار بننا چھوڑیں اور خود لیڈر بنیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان پارلیمانی تاریخ کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہیں باقاعدہ آئینی طریقہ کار کے تحت عدم اعتماد کی قرارداد کے ذریعے اپنے عہدے سے ہٹایا گیا۔

    نئے وزیراعظم کیلئے شہباز شریف اور شاہ محمود قریشی نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے

    وزیراعظم عمران خان نے 18 اگست 2018 کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا اور آج 10 اپریل کو اُن کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی قرارداد 174 ووٹوں سے کامیاب ہوگئی، جس کے بعد اُن کی وزارت عظمیٰ کا عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔

    ہفتہ 18 اگست 2018 کو شروع ہونے والا اُن کا 1332 دنوں پر مشتمل عہد وزارت عظمیٰ اتوار 10 اپریل 2022 کو تمام ہوا۔ عمران خان کی وزارت عظمیٰ کا دور 3 سال 7 ماہ اور 24 دن پر مشتمل رہا ، جو مہینوں میں 43 ماہ اور 24 دن بنتا ہے۔

    ایک بہتر کل کی امید ابھی بھی زندہ ہے، شوبز فنکاروں کا عمران خان کے ساتھ اظہار…

  • پتہ نہیں پرسوں سیاست میں رہوں گا یا نہیں ؟ شیخ رشید

    پتہ نہیں پرسوں سیاست میں رہوں گا یا نہیں ؟ شیخ رشید

    پتہ نہیں پرسوں سیاست میں رہوں گا یا نہیں ؟ شیخ رشید
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ جو نسلی اصلی ہوتا ہے وہ امتحان کے وقت کھڑا ہوتا ہے،

    شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ نہیں پتہ پرسوں سیاست میں ہونا ہے یا کہاں ہونا ہے ،چورعمران خان کے خلاف اکھٹے ہوئے ہیں،عمران خان کے ساتھ ڈٹ کرکھڑا ہوں اور رہوں گا،راولپنڈی شہر غداروں اور بکنے والوں کو پسند نہیں کرتا،پیر کو میں سیاست سے ریٹائرڈ ہونا چاہتا تھا،ریٹائرڈ اس لیے نہیں ہورہا لوگ کہیں گے عمران خان خان کو  اکیلا چھوڑ دیا،مہنگائی ہوئی لیکن لوگ عمران خان کو پسند کرتے ہیں عمران خان کو عدم اعتماد میں شکست بھی ہوجائے تو وہ انکا مقابلہ کریں گے ،ملکی ذمہ داروں کو انتخابات کا فیصلہ جلد کرنا چاہیے ایکنک میں نالہ لئی کا منصوبہ رکھا تھا، لوگ نہیں چاہتے غریبوں کی بستیاں ترقی کریں،

    شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ نئے انتخابات کی اس لئے ضرورت ہے تاکہ لوگ دیانت داروں کو منتخب کریں، ایسے ایسے لوگوں کے نخرے اٹھائے ہیں جن سے میں سلام نہیں لینا چاہتا، عمرا ن خان آخری بال تک لڑیں گے عمران خان کو عدم اعتماد میں شکست بھی ہوجائے تو وہ انکا مقابلہ کریں گے ،پاکستان کے زمہ داروں سے کہتا ہوں آگے بڑھیں،انتخابات کا فیصلہ کریں. انتخابات کا فیصلہ جلد ہو تاکہ قوم فیصلہ کرے

    قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا بڑا اعلان

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری

    دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

    دھمکی آمیز خط کے بارے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے

    قوم سے خطاب مؤخر،خط کس نے لکھا ؟کتنی سخت زبان،کیا پیغام،عمران خان نے سب بتا دیا

    پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار

    عمران خان کو اپنے بھی چھوڑ گئے، پارلیمنٹ لاجز میں ہلچل،فائلیں جلائی جانے لگیں

    پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس طلب،وزیراعظم کا قوم سے خطاب بھی متوقع

    سندھ ہاؤس کا کمرہ سب جیل قرار،کس کو جیل میں ڈالنے کی ہوئی تیاری؟

    عمران خان کو کسی قسم کا این آر او نہیں دیں گے ،بلاول کا اعلان

    این آر نہیں دونگا ..بلکہ لوں گا، عمران خان نے "این آر او”مانگ لیا

    اپوزیشن اتحاد کا ایک اور وار، اسمبلی میں 172 اراکین موجود،درخواست میں بڑا مطالبہ کر دیا

    نکل جاؤ، منحرف اراکین کو کہاں سے نکال دیا گیا؟

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    وزیراعظم عمران خان پرقاتلانہ حملے کا منصوبہ، سیکورٹی بڑھا دی گئی

  • نیا سال:شہباز شریف اہم عہدے پر،نواز شریف پاکستان میں اور عمران خان کیلئے مشکلات سے بھر پور،ماہر علم نجوم کی تہلکہ خیز پیش گوئی

    نیا سال:شہباز شریف اہم عہدے پر،نواز شریف پاکستان میں اور عمران خان کیلئے مشکلات سے بھر پور،ماہر علم نجوم کی تہلکہ خیز پیش گوئی

    ماہر علم نجوم ہمایوں محبوب نے 2022 میں پاکستان کی سیاست کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات کئے ہیں-

    باغی ٹی وی :نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر علم نجوم ہمایوں محبوب نے کہا کہ نئے سال 2022 میں مہنگائی پاکستانیوں کیلئے سب سے بڑا مسئلہ ہوگا، نیا سال عمران خان کیلئے مشکلات سے بھرپور ہوگا اور ان کا کرسی پر ٹکے رہنا کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا اگر وہ گھر گئے تو قانونی طریقے سے جائیں گے-

    انہوں نے کہا کہ نئے سال میں سابق وزیر اعظم نواز شریف پاکستان میں ہوں گے، دنیا میں بڑی تبدیلی ہوتی نظر آرہی ہے، ن لیگ کا گرہ کھلتا ہوا نظر آرہا ہے، اسی سال شہباز شریف یا کسی ن لیگی کو اہم عہدے پر دیکھ رہا ہوں۔

    نابینا خاتون نجومی بابا وینگا کی 2022 کیلئے پیش گوئیاں

    ہمایوں محبوب کے مطابق سنہ 2022 میں الیکشن ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہےمارچ، اپریل کے بعد مہنگائی کا طوفان آئے گا، پاکستان ہی نہیں دنیا بھرمیں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔

    ماہر علم نجوم نے کہا کہ 2022 میں یورپ، امریکہ اور بھارت میں بچوں سے متعلق کوئی بیماری پھیل سکتی ہے،2022 میں پاکستان میں امن و امان کے مسائل نہیں ہوں گے تاہم بھارت میں خانہ جنگی ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے، جنگ و جدل کے حوالے سے 2023 اور 2024 زیادہ خطرناک سال ہوں گے۔

    قبل ازیں بلغاریہ کی مشہور خاتون آنجہانی نجومی بابا وینگا نے سال 2022 کےلیے اہم پیش گوئیاں کیں خاتون نجومی نے پیشگوئی کی کہ کئی ایشیائی ممالک اور آسٹریلیا ’سیلاب کے زد ‘ میں آکر سے متاثر ہوں گے جبکہ محققین کی ایک ٹیم سائبیریا میں ایک مہلک وائرس دریافت کرے گی جو اب تک منجمد ہے خیال رہے کہ 2014 میں ایک قدیم وائرس سائبیرین پرما فراسٹ میں 30 ہزار سال تک غیر فعال رہنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو گیا تھا۔

    2022 کی خطرناک پیشنگوئیاں، تین دن کا اندھیرا اور خوفناک جنگ

    بابا وینگا کی پیش گوئی میں ایک یہ بھی ہے کہ دنیا بھر کے بہت سے شہر 2022 میں پینے کے پانی کی قلت کا شکار ہوں گے اگرچہ دنیا پہلے ہی قلب آب سے دوچار ہے 2022 میں لوگ ٹیکنالوجی سے بہت زیادہ مانوس ہوجائیں گے اور موبائل فون کی اسکرینوں سے چپک جائیں گے زیادہ سے زیادہ اسکرین ٹائم ایسا ماحول اور نفسیاتی خلل پیدا کرے گا کہ لوگ حقیقت اور قوت متخیلہ کے فرق میں تقریق نہیں کرسکیں گے اور جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

    علاوہ ازین بابا وینگا نے دعویٰ کیا کہ ایک سیارچہ جسے ’اومواموا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے زمین پر زندگی کی تلاش کے لیے ایلین کی جانب سے بھیجا جائے گا۔

    2022 اہم سال ، پاک بھارت ٹاکروں کا سال،دنیا کی نظریں لگ گئیں

  • خیبر پختونخوابلدیاتی انتخابات:ایک ہی شخص کی دو بیویاں میدان میں

    خیبر پختونخوابلدیاتی انتخابات:ایک ہی شخص کی دو بیویاں میدان میں

    خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں باقی صوبے کی طرح آج کل بلدیاتی انتخابات کی سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں کہ ایک انوکھی کہانی سامنے آ گئی گئی-

    باغی ٹی وی : بی بی سی اردو کے مطابق خیبر پختونخوا میں میں سیاست،اتفاق اور اتحاد کی انوکھی کہانی سامنے آ گئی بلدیاتی انتخاب میں دو سوتن ایک ساتھ میدان میں ایک دوسرے کیلئے ووٹ کی مہم چلاتی ہوئی نظر آرہی ہیں اس انوکھی کہانی کے انتخابی پوسٹر میں نہ تو ان کے نام ہیں اور نہ ہی تصویر بلکہ اس کی جگہ اشفاق حسین کا نام اور دعا مانگتے تصویر چھاپی گئی ہے جبکہ دونوں بیویوں کو نام سے نہیں بلکہ زوجہ اول اور زوجہ دوم سے متعارف کرایا گیا ہے۔

    کنگ سلمان ریلیف کی جانب سے بلوچستان میں موسم سرما کا امدادی سامان تقسیم

    ضلع مردان کے رہائشی اشفاق حسین کی دو بیویاں اور تیرہ بچے ہیں دونوں بیویاں دو علیحدہ علیحدہ نشستوں پر بلدیاتی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں جبکہ اشفاق حسین ان دونوں کی کامیابی کی لیے سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں ان کی ایک بیوی جنرل کونسلر اور دوسری بیوی خواتین کے لیے مختص نشست پر انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں۔

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں ان دنوں بلدیاتی انتخابات کے لیے مہم زور شور سے جاری ہے ان انتخابات میں 3905 خواتین میدان میں ہیں، جن میں سے دو اشفاق حسین بیویاں ہیں۔

    ان کی دونوں بیویوں کا انتخابی نشان بالٹی ہے ، دونوں سوتنیں ایک دوسرے کیلئے انتخابی مہم بھی چلارہی ہیں پوسٹر میں نظر آنے والے اشفاق حسین کی ایک تیسری شادی بھی تھی لیکن ان کی وہ بیوی انتقال کر چکی ہیں۔

    کشمیر کاز اور کشمیریوں کے حقوق کے لیے ہمیشہ کوشاں رہوں گا ، شاہد آفریدی

    یہ انتخابی معرکہ مردان کی یونین کونسل پلو ڈھیری میں جاری ہےاشفاق حسین کا آج کل اپنے دوستوں کے ساتھ حلقے میں جاتے ہیں اور اپنی بیویوں کے لیے ووٹ مانگتے ہیں جب کہ دونوں خواتین امیدوار ایک ساتھ علاقے میں گھر گھر جا کر ووٹ مانگتی ہیں۔

    اشفاق حسین کے مطابق انھوں نے اپنی بیویوں کو اس لیے میدان میں اتارا کہ خواتین ہی خواتین کے مسائل کو اچھی طرح سمجھتی ہیں اور خواتین علاقے میں بہتری کے لیے زیادہ اچھے طریقے سے کام کر سکتی ہیں جبکہ دونوں امیدوار خواتین کا کہنا ہے کہ وہ کوشش کریں گی کہ علاقے میں خواتین کو جو مسائل درپیش ہیں انھیں ہر ممکن حل کر سکیں۔

    اشفاق حسین سے جب پوچھا گیا کہ وہ خود انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ صوبائی یا قومی اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑیں گے۔

    مسافر ریل گاڑیوں کی آوٹ سورسنگ میں ناکامی کے بعد وزارت ریلوے کا بڑا فیصلہ

  • دہرا معیار – توقیر عالم

    دہرا معیار – توقیر عالم

    دہرا میعار
    تحریر : توقیر عالم

    ہم پاکستانی بحثیت قوم جس زوال کا شکار ہیں اس کی بنیادی وجوہات میں سے ایک وجہ ہمارا دہرا میعار ہے حدیث نبوی ہے ” تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ”
    اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو اس بات کا بخوبی اندازہ ھو گا کہ ہمارا میعار اپنے مفادات اور ترجیحات کی بنیاد پر بدل جاتا ھے
    سارا دن ٹھنڈے کمرے میں بیٹھنے والا افسر شام کو واپسی پر چند منٹ کی گرمی برداشت نہیں کر پاتا اور سخت گرمی کے سٹیٹس لگاتا ہے مگر اپنے نیچے سخت گرمی میں کام کرنے والے مزدور کو چند منٹ سکون کرتا دیکھ کر برہم ھو جاتا ہے
    خدا سے دن میں پانچ وقت نماز میں رحم اور کرم کی دعا مانگنے والا امید رکھتا ہے خدا اسے معاف کرے مگر خود نہ تو کسی دوسرے انسان کو معاف کرنا گوارہ کرتا ہے نہ ہی کسی کے عیب چھپاتا ہے الٹا اس کے جہنمی ھونے کے فتوے جاری کرتا ہے کیا معلوم اس انسان کی کونسی ادا بارگاہ خداوندی میں مقبول ھو جائے اور بخشش کا وسیلہ بن جائے ایسے ہی اگر آپ کہیں مہمان جا رہے ہیں تو جان لیں آپ کی عزت اور مہمان نوازی آپ کی مالی حیثیت کے مطابق کی جائے گئی اب تو غریب بھائی سے تعلق منقطع کر لیا جاتا ہے اور امیر دوستوں کو بھائی بنا لمیا جاتا ہے
    نظام عدل کی بات کی جائے تو انصاف کا میعار آپ کی مالی حیثت طے کرے گی اگر آپ غریب ہیں تو سمجھ لیں جمع پونجی اور وقت برباد ھو گا مگر انصاف ملنے کی امید بہت کم ہے اگر آپ صاحب حثیت ہیں تو خوش خبری ہے آپ کو بہت جلد انصاف مل جاے گا بلکہ آپ کی مالی حالت کے حساب سے بہت زیادہ بھی مل سکتا ہے اگر آپ سابقہ وزیر اعظم ہیں تو آپ کو اربوں روہے کی کرپشن کے الزامات کے باوجود عدالت کے ذریعے لندن جانے کی اجازت مل جاتی ھے البتہ اگر آپ غریب صلاح الدین ہیں تو پولیس کی حراست میں مارے جائیں گے
    ہماری صحافت میں دوہرے میعار کی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ابھی چند روز پہلے دو صحافیوں پر تشدد کیا گیا اک صحافی کی بھرپور حمایت کی گئی جبکہ دوسرے صحافی کے معاملے میں خاموشی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ہمارا میعار اخلاقیات نہیں اپنے تعلقات ہیں آج عیدالضحیٰ کے موقع جب تمام مسلمان اللہ کی راہ میں جانور قربان کر رہے ہیں تو سارا سال کے ایف سی میکڈونلڈ نہاری اور بریانی کھانے اور ان کی مشہوری کرنے والے صحافی ہمیں جانوروں کی قربانی سے باز رہنے کی تلقین فرما رہے ہیں
    سیاست میں بھی معاملہ کچھ مختلف نہیں کرونا سے بچنے کی تدابیر کے بارے میں میڈیا پر آگاہی مہم میں حکومت اور اپوزیش بھرپور طریقے سے حصہ لیتی ہے مگر پھر پی ڈی ایم کے پورے پاکستان میں جلسے اور ان میں احتیاطی تدابیر کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے گلگت بلتستان اور کشمیر کے الیکشن میں حکومت اور اپوزیشن نے انسانی جانوں کی پرواہ کئیے بغیر بیسیوں جلسے کئیے اور ان میں کسی احتیاطی تدبیر کا خیال نہیں رکھا گیا
    ضیاالحق کے دور حکومت میں جہاد کو حکومتی سطح پر بھرپور تعاون حاصل رہا اور افغانستان میں روس کو شکست دی گئی مجاھدین ہمارے ہیرو قرار پائے
    وقت اور حالات بدلے اور انہیں مجاھدین کو دہشتگرد قرار دے دیا گیا مجاھدین کے خلاف بیس سال تک امریکہ کی مدد کی گئی وقت نے ایک بار پھر کروٹ بدلی امریکہ رات کی تاریکی میں افغانستان سے نکل بھاگا اور مجاھدین پھر سے ہمارے محسن اور ہیرو قرار پائے افغانستان میں طالبان کی فتح پر خوشیاں منانے والی پاکستانی حکومت خود پاکستان میں جماعت الدعوۃ اور تحریک لبیک جیسی مذہبی تنظیموں پر پابندی لگا چکی ہے اور ان کی قیادت پابند سلاسل ہے کشمیر و فلسطین پر آواز بلند کرنے والے چین کے اویغور مسلمانوں کے حق میں ایک بیان تک نہیں دے سکے
    الغرض ہمارے مفادات اور ترجیحات کے باعث ہمارے میعار بدل جاتے ہیں
    خدا ہم سب کو حق اور سچ کا ساتھ دینے کی توفیق عطا کرے۔

    پاکستان کے حالات اور امید کی کرن
    توقیر عالم

    توقیر عالم ایک پر امید فری لانس رائٹر ہیں۔ ان کی تحاریر ملک عزیز کے نمایاں پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان کے ذاتی ٹویٹر اکاؤنٹ پر وزٹ کریں۔
    @lovepakistan000

  • پاکستانی سیاست میں گالم گلوچ کا کلچر – بقلم: آصف گوہر

    پاکستانی سیاست میں گالم گلوچ کا کلچر – بقلم: آصف گوہر

    پاکستانی سیاست میں گالم گلوچ کا کلچر
    بقلم: آصف گوہر

    "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینے سے آدمی فاسق ہو جاتا ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر ہے۔ ”
    (صحیح بخاری 48)
    گالی گلوچ کو کسی بھی مہذب معاشرے میں پذیرائی حاصل نہیں ہوتی ۔بلکہ بدزبانی کرنے والوں سے لوگ کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں لیکن گذشتہ چند سالوں سے ہمارے سیاست دانوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر گالیوں کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔ جلسوں میں سیاسی مخالفین کو یہودی ایجنٹ اور یہودی کے بچے تک کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا یہودی خود ورطہ حیرت میں ہونگے کہ پاکستانی اپنی سیاست میں ہماری مشہوری کیوں کر رہے ہیں۔ افسوس کا مقام کا ہمارا میڈیا گالیاں دینے والے سیاستدانوں کی پذیرائی کرتا ہے جتنی زیادہ کوئی سیاستدان گالیاں دیتا ہے اتنا ہی اس کو رات 8بجے سے 11 بجے تک پرائم ٹائم میں میڈیا ٹاک شوز میں مدعو کرکے اس بدزبان شخص کو قوم کے سامنے لا کر بٹھایا جاتا ہے۔ ہماری پارلیمنٹ میں خواتین کو گالیاں دی جاتیں ہیں ٹریکٹر ٹرالی کہا جاتا ہے فحش جملہ بازی کا تبادلہ ہوتا ہے۔ سیاستدان باقاعدہ مرغوں کی طرح ایک دوسرے پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔
    کل سے سوشل میڈیا پر مسلم لیگ ن کے خودساختہ جلاوطن رہنما عابد شیرعلی کا لندن کے ایک ریسٹورانٹ میں گالم گلوچ پر مبنی ویڈیو کلپ گردش کر رہا ہے۔ کوئی شریف آدمی اس کو سن نہیں سکتا۔ موصوف بھرے ہوئے ہوٹل میں کسی کو ننگی گالیاں دے رہے تھے۔ اس ہوٹل میں خواتین اور بچے بھی کھانا کھانے آئے ہوئے تھے اور عید الضحٰی ہونے کی وجہ سے دیگر مسلم ممالک کے شہری بھی اسی ہوٹل میں موجود تھے اور ایک خاتون باقاعدہ کہتی سنی گئیں کہ آپ لوگ عید کے روز جھگڑا کررہے ہیں ۔ اس طرح کے لوگ پاکستان میں بھی ناپسندیدہ تھے اور بیرون ملک بھی پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ۔
    شیخ روحیل اصغر اپنی گالیوں کو پنجابی زبان اور کلچر قرار دیتے رہے پیپلزپارٹی کے ایک رکن اسمبلی فردوس عاشق اعوان کو ٹی وی ٹاک شو میں لائیو گالیاں دیتے رہے اور شو کا میزبان دور کھڑےہو کر دانت نکالتا رہا ۔
    جب تک ہمارا میڈیا مادر پدر آزاد گالم گلوچ کرنے والوں کو پرموٹ کرتا رہے گا معاشرے میں بدزبانی کے کلچر کو فروغ حاصل ہوتا رہے گا۔
    ہمارے میڈیا ہاوسز ریٹینگ کے چکر میں نورا کشتی ٹاک شوز کے ذریعے بدزبانی کی سرپرستی کر رہے ہیں ۔
    پیمرا کو آگے آنا چاہیے اور اس کو رکوانا چاہیئے اور بدزبان گالیاں دینے والوں پر قومی میڈیا پر آنے کی پابندی ہونی چاہئے ۔

    مضمون نگار ایک فری لانس صحافی، بلاگر اور معروف ماہر تعلیم ہیں۔ سیاسی امور پر بھی عمیق نظر رکھتے ہیں۔ حکومتی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں بارے بہت اچھی اور متناسب رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ایک اچھے ایکٹوسٹ کے طور پر سوشل میڈیا پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا پرسنل اکاؤنٹ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ @Educarepak