Baaghi TV

Tag: سیاست

  • الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے 5 سیاسی جماعتوں کو رجسٹر کر لیا

    الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے 5 سیاسی جماعتوں کو رجسٹر کر لیا

    الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے 5 سیاسی جماعتوں کو رجسٹر کر لیا، جس کے بعد آزاد کشمیر میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی تعداد 24 ہوگئی ہے –

    الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کے جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق پاکستان نظریاتی پارٹی آزاد جموں و کشمیر کو بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن دے دی گئی، آل جموں و کشمیر مرکزی جمعیت اہلحدیث بھی رجسٹرڈ سیاسی جماعت قرار دی گئی ہے-

    الیکشن کمیشن کے مطابق گجر قومی پارٹی آزاد جموں و کشمیر کو سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹر کر لیا گیا ہے ، جبکہ تحریک جوانان پاکستان جموں و کشمیر کو بھی رجسٹریشن جاری کر دی گئی ہے، اسی طرح متحدہ قومی موومنٹ پاکستان آزاد جموں و کشمیر کو بھی بطور سیاسی جماعت رجسٹر کر لیا گیا ہے-

    اعلامیے کے مطابق رجسٹریشن ہائیکورٹ آزاد کشمیر کے فیصلے کی روشنی میں عمل میں لائی گئی، سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن الیکشن کمیشن کے قانونی اختیارات کے تحت کی گئی ہے جبکہ 5 اکتوبر 2023 کے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے رجسٹریشن دی گئی ہے-

  • ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، 67 فیصد امریکیوں کا عدم پسندیدگی کا اظہار

    ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، 67 فیصد امریکیوں کا عدم پسندیدگی کا اظہار

    امریکی خبر رساں ادورں ’واشنگٹن پوسٹ‘، ’اے بی سی نیوز‘ اور اپسوس کے مشترکہ سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، اور ان کے خلاف عدم پسندیدگی کی شرح 62 سے 67 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز-ایپسوس کے حالیہ پول کے مطابق، 62 فیصد امریکی ٹرمپ کی صدارت سے غیر مطمئن ہیں، جو ان کے دو ادوارِ صدارت میں سب سے بلند ترین سطح ہے دیگر رپورٹس میں یہ شرح 67 فیصد تک بھی بتائی گئی ہے، ایران کے ساتھ حالیہ جنگی کشیدگی اور معاشی مسائل کے بعد، 66 فیصد امریکیوں نے ایران کے معاملے پر ان کی پالیسی کو ناپسند کیا ہے۔

    رائٹرز/ایپسوس سروے کے مطابق، معاشی محاذ پر بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کی وجہ سے ان کی ریٹنگ میں نمایاں کمی آئی ہے جہاں صرف 23 فیصد امریکی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے ان کے اقدامات سے خوش ہیں، جبکہ 76 فیصد نے ان کی معاشی پالیسیوں پر ناگواری کا اظہار کیا ہے سروے میں شامل دو تہائی (تقریباً 66 فیصد) امریکیوں کا ماننا ہے کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے-

    واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز-ایپسوس کے سروے کے مطابق، 59 فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کی ذہنی صلاحیت اور 55 فیصد نے جسمانی صحت کو قیادت کے تقاضوں کے مطابق نامناسب قرار دیا اس سیاسی صورتحال نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی برتری کو خطرے میں ڈال دیا ہے، 71 فیصد عوام صدر ٹرمپ کو دیانتدار اور قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے۔

    انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں بشمول نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو بھی عوامی سطح پر منفی ریٹنگ کا سامنا ہے وزیر دفاع ہیگسیتھ نے حال ہی میں دفاعی بجٹ کو ایک ٹریلین سے بڑھا کر ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس کی 65 فیصد عوام نے مخالفت کی ہے۔

    سروے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق انٹیلی جنس تجزیہ کار ایرک بریور نے نوٹ کیا کہ عوامی رائے میں تبدیلی کی ایک وجہ جنگی حالات اور معاشی دباؤ ہے اگرچہ ریپبلکن پارٹی کے اندر اب بھی 65 فیصد اراکین ٹرمپ کی قیادت کی پیروی کرنا چاہتے ہیں، لیکن آزاد ووٹرز میں ان کی مقبولیت میں کمی پارٹی کے لیے آنے والے انتخابات میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہےیہ صورتحال نومبر 2026ء میں ہونے والے وسط مدتی (Midterm) انتخابات سے قبل ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے شدید سیاسی مشکلات کا پیش خیمہ سمجھی جا رہی ہے-

  • سیاسی مخالفت میں ملک کی تضحیک ناقا بل برداشت ہے، عطا تارڑ

    سیاسی مخالفت میں ملک کی تضحیک ناقا بل برداشت ہے، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر پاکستان کا کلیدی کردار سامنے آ رہا ہے اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سفارتی محاذ پر پاکستان کا لوہا منوایا، جبکہ ہمسایہ ملک بھارت پاکستان کی سفارتی کوششوں سے پریشان ہے،پاکستان دنیا میں موثر اور بھرپور آواز بن کر سامنے آیا ہے اور جنیوا اجلاس میں غیر معمولی صورتحال دیکھنے میں آئی۔

    انہوں نے کہا کہ کوئی سیاسی لیڈر پاکستان سے بڑا نہیں، تنقید سب کا حق ہے لیکن ملک کا وقار داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا، قومی مفاد سب سے مقدم ہے اور کوئی سیاسی جماعت یا شخصیت ملک سے مقدم نہیں ہو سکتی،ہم سب مملکت پاکستان کے مرہون منت ہیں، سیاسی مخالفت میں ملک کی تضحیک ناقا بل برداشت ہے،معرکہ حق کی فتح نے پاکستان کا مقام بڑھایا، موجودہ صورتحال میں ملک کے خلاف پروپیگنڈا قابل قبول نہیں، شخصیت اور انا پرستی ملک کیلئے نقصان دہ ہے اور ملک کے خلاف باتیں کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔

  • اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟

    سیاست کے کھیل نے ریاست اور عوام کو تنہا چھوڑ دیا قومی مفاد کی بلند آواز اب نہیں تو کب؟

    نعروں اور دعووں کی سیاست بمقابلہ حقیقی عوامی خدمت پاکستان کی قیادت کے لیے خود احتسابی کا ایمرجنسی الارم

    مہنگائی، بے روزگاری، توانائی و تعلیمی بحران، کب آئے گی سنجیدہ سیاست اور ٹھوس حکمت عملی؟

    ذاتی مفادات یا قومی ترقی؟ پاکستان کی سیاست کا المیہ مستقبل کے فیصلے کا وقت آج ہے

    پاکستان کی سیاست کا ایک المیہ یہ ہے کہ چند مخلص اور سنجیدہ سیاستدانوں کو چھوڑ دیا جائے تو اکثریت ایسی راہوں کا انتخاب کرتی دکھائی دیتی ہے جن میں ان کا اپنا سیاسی مستقبل تو محفوظ رہے، مگر ریاست اور عوام کے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے جائیں۔ سیاست کا بنیادی مقصد عوامی خدمت اور ریاستی استحکام ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاست اکثر ذاتی مفادات، اقتدار کے کھیل اور وقتی فائدوں کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔

    اگر پاکستان کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو ملک اس وقت کئی بڑے چیلنجز سے دوچار ہے۔ معاشی بحران، مہنگائی کی بلند ترین سطح، بے روزگاری، توانائی کے مسائل، تعلیمی پسماندگی اور امن و امان کے مسائل ایسے بنیادی معاملات ہیں جن پر قومی سطح کی سنجیدہ اور طویل المدتی پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی بڑی تعداد ان مسائل پر ٹھوس حکمت عملی دینے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی، الزام تراشی اور اقتدار کی رسہ کشی میں مصروف رہتی ہے۔

    یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جب سیاستدان اپنی ترجیحات میں ریاست اور عوام کے مسائل کو ثانوی حیثیت دے دیتے ہیں تو اس کا براہِ راست اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے۔ مہنگائی بڑھتی ہے، کاروباری سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں، سرمایہ کاری رک جاتی ہے اور عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔ ایک ایسا ماحول جنم لیتا ہے جہاں عوام کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ ان کے مسائل سننے والا کوئی نہیں۔

    اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت وقتی سیاسی فائدوں کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دے۔ ریاستی استحکام، معاشی بحالی اور عوامی فلاح کو اپنی سیاست کا مرکز بنائے۔ دنیا کی کامیاب ریاستوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں سیاسی قیادت نے قومی مفاد کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر رکھا اور طویل المدتی پالیسیاں بنا کر اپنے ممالک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ پاکستان میں بھی اگر سیاستدان سنجیدگی کے ساتھ قومی مسائل پر متفقہ حکمت عملی اپنائیں، اداروں کو مضبوط کریں اور عوامی خدمت کو اپنی سیاست کا اصل مقصد بنا لیں تو ملک کے بیشتر مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

    بصورت دیگر اگر سیاست کا محور صرف اقتدار اور ذاتی مفاد ہی رہا تو ریاست اور عوام دونوں کو مشکلات کا سامنا کرتے رہنا پڑے گا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان کی سیاسی قیادت کو خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ بصیرت، دیانت اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر سیاستدان اس حقیقت کو سمجھ لیں تو پاکستان کا مستقبل زیادہ مستحکم اور روشن ہو سکتا ہے۔

  • بنگلہ دیش : نئے اراکین پارلیمنٹ نے حلف اٹھا لیا

    بنگلہ دیش : نئے اراکین پارلیمنٹ نے حلف اٹھا لیا

    ڈھاکا:بنگلہ دیش میں حالیہ انتخابات کے بعد منتخب ہونے والے اراکین نے حلف لے اٹھالیا ہے۔

    13ویں قومی پارلیمنٹ کے نومنتخب ارکان نے ڈھاکا میں موجود پارلیمنٹ ہاؤس میں حلف لیا جبکہ نئی کابینہ کی تقریبِ حلف برداری شام میں منعقد ہوگی،یہ پیش رفت عوامی لیگ کے 17 سالہ دورِ اقتدار کے خاتمے کے 18 ماہ بعد سامنے آئی ہے، جس کے بعد طویل عبوری انتظامیہ کے بعد ایک منتخب حکومت قائم ہو رہی ہے۔

    طارق رحمان، جو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین اور پارلیمنٹ میں اکثریتی جماعت کے قائد ہیں، نئی حکومت کی قیادت کریں گے۔ ارکان کے حلف کے بعد اکثریتی جماعت اپنا پارلیمانی لیڈر منتخب کرے گی، جسے صدر آئینی تقاضوں کے مطابق حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔

    بھارت نے ایران کے مزید 3 جہاز قبضے میں لے لیے

    اطلاعات تھیں کہ نومنتخب ارکان پارلیمانی حلف کے ساتھ مجوزہ آئینی اصلاحاتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے بھی الگ حلف اٹھائیں گے، تاہم مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف کے باعث اس عمل پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے بی این پی کے سینیئر رہنما صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم اور قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ہی ایسا ممکن ہوگا۔

    پارلیمنٹ ہاؤس کے اطراف سخت سیکیورٹی نافذ کردی گئی ہے اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کنٹرول کیا جا رہا ہے جبکہ سی سی ٹی وی نگرانی سمیت دیگر حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں نئے وزیراعظم کی حلف برداری میں شرکت کے لیے متعدد عالمی رہنما ڈھاکا پہنچ گئے ہیں، جن میں مالدیپ کے صد ر محمد معیزو، بھوٹان کے وزیرِ اعظم شیرنگ توبگے، بھارت کی لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا اور پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال شامل ہیں،عبوری قیادت نے ، چین، سعودی عرب اور ملائیشیا سمیت 13 ممالک کے سربراہان کو بھی دعوت دی تھی۔

    رواں سال کا پہلا سورج گرہن آج ہو گا

  • بلوچستان: محرومی کا بیانیہ یا قیادت کی ناکامی؟، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان: محرومی کا بیانیہ یا قیادت کی ناکامی؟، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان کا نام لیتے ہی محرومی، ناانصافی اور پسماندگی کی ایک طویل داستان سامنے آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ داستان صرف مرکز کی بے حسی کا نتیجہ ہے، یا اس میں صوبے کی اپنی قیادت کا کردار بھی شامل ہے؟ حالیہ دنوں چوہدری فواد حسین نے ایک سادہ مگر بنیادی سوال اٹھایا کہ اربوں روپے کے فنڈز بلوچستان کے لیے جاری ہوئے، مگر زمینی حقائق کیوں نہیں بدلے؟ یہ سوال بعض حلقوں کو ناگوار ضرور گزرا ہوگا، مگر اسے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔

    بلوچستان پر دہائیوں سے چند مخصوص خاندانوں اور سرداروں کی سیاست حاوی رہی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں تک رسائی بھی انہی کو حاصل رہی، وزارتیں بھی انہی کے حصے میں آئیں اور مراعات بھی، مگر جب صوبے کی حالت پر نظر ڈالی جائے تو تعلیم کا فقدان، صحت کی ناگفتہ بہ صورتحال، ٹوٹی سڑکیں اور بے روزگار نوجوان دکھائی دیتے ہیں۔ اگر وسائل نہیں ملے تو آواز اٹھانا بجا ہے، لیکن اگر وسائل ملے اور پھر بھی عوام محروم رہے تو سوال قیادت سے ہوگا۔

    اسی دوران اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کا یہ کہنا کہ فوج چند اضلاع کی نمائندہ ہے، ایک غیر ذمہ دارانہ بیان محسوس ہوتا ہے۔ افواجِ پاکستان میں ہر صوبے، ہر قومیت اور ہر علاقے کے لوگ شامل ہیں۔ بلوچ افسران اور جوان بھی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ قومی اداروں کو لسانی یا علاقائی بنیاد پر تقسیم کرنے کا بیانیہ دراصل اتحاد کو کمزور کرتا ہے، مضبوط نہیں۔

    بلوچستان کے عوام کو جذباتی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور امن چاہیے۔ اگر سیاسی قیادت خود احتسابی سے گریز کرے اور ہر ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈال دے تو مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ الجھتے چلے جاتے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان کی سیاست نعروں سے نکل کر کارکردگی کی بنیاد پر کھڑی ہو۔ جو قیادت برسوں سے اقتدار میں رہی، اسے اپنا حساب دینا ہوگا۔ اور جو آج قومی اداروں پر تنقید کرتی ہے، اسے بھی ذمہ دارانہ زبان اختیار کرنی ہوگی۔ کیونکہ قومیں الزام تراشی سے نہیں، دیانتدار قیادت اور سنجیدہ طرزِ سیاست سے آگے بڑھتی ہیں۔

  • عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا جمہوری نظام کی بنیاد ہے، رانا ثنا اللہ

    عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا جمہوری نظام کی بنیاد ہے، رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم پارلیمانی روایات اور باہمی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی ایوان کی کارروائی کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

    سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے دفتر میں ملاقاتوں اور مشاورت کے دوران جو سنجیدہ اور خوشگوار ماحول قائم ہوا، اسی جذبے کو ایوان کے اندر بھی برقرار رکھا جانا چاہیےاختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم پارلیمانی روایات اور باہمی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی ایوان کی کارروائی کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ووٹ کے احترام اور عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا جمہوری نظام کی بنیاد ہے، کیونکہ اگر عوام کے فیصلے کو مؤثر نہ مانا جائے تو جمہوری عمل آگے نہیں بڑھ سکتا، انتخابی نتائج پر اعتراض اور ہار تسلیم نہ کرنے کا رویہ کوئی نئی بات نہیں،2018 کے انتخابات میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی تھی، جب ان کی جماعت اپوزیشن میں تھی اور انتخابی عمل پر شدید اعتراضات کیے گئے تھے۔

    جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے،عطا تارڑ

    انہوں نے کہا کہ 25 جولائی 2018 کے انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب میں سیاسی جوڑ توڑ، نئی صف بندیاں اور مخصوص گروہوں کی تشکیل سب کے سا منے تھی، جس کا مقصد انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونا تھا اس دور میں بعض عناصر کو اکٹھا کر کے اسلام آباد لایا گیا اور انہیں سیاسی شناخت دی گئی، جو انتخابی عمل میں مداخلت کی واضح مثال تھی اس وقت کی اپوزیشن کا بھی یہی مؤقف تھا کہ متعدد نشستوں پر نتائج تبدیل کر کے ایک جماعت کو اکثریت دلائی گئی۔

    پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور زرلٹ بھی نکل سکتاہے،خواجہ آصف

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر ہم صرف مخصوص تاریخوں یا واقعات پر اٹکے رہیں گے تو آگے نہیں بڑھ سکیں گے انہوں نے اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو آج کی اپوزیشن 2018 کے مؤقف کی تائید کر سکتی ہے اور نہ ہی موجودہ حالات میں صرف ایک نکتے پر اصرار مسئلے کا حل ہے،اس حقیقت پر متفق ہونا ہوگا کہ پاکستان میں انتخابی نظام پر مکمل اعتماد موجود نہیں، جس کے باعث ہر الیکشن کے بعد الزامات اور جوابی بیانات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جس میں نہ کوئی واضح جیتنے والا ہوتا ہے اور نہ ہارنے والا۔

    پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 3 اہم معاہدوں پر دستخط

    انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد ان کی جماعت نے بھی پارلیمان میں آ کر دھاندلی کے الزامات لگائے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا، مگر اس وقت جو جواب دیا گیا وہ سب کے سامنے ہے اب جبکہ اپوزیشن خود پارلیمان کا حصہ ہے اور اس کی ذمہ داریاں سنبھال چکی ہے تو اس پر بھی لازم ہے کہ نظام کی بہتری کے لیے تعمیری کردار ادا کرے۔

  • جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے،عطا تارڑ

    جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے،عطا تارڑ

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ سیاستدانوں کو تنقید برداشت کرنے کی عادت اپنانا ہوگی اور جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے۔

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پاکستان فیڈرل کالمسٹ اینڈ کری ایٹر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میڈیا، صحافت اور سیاسی تجربات پر بات کی انہوں نے کہا کہ ریل اسٹیٹ سیکٹر نے اخبارات اور میڈیا ہاؤسز میں اپنا کردار ادا کیا، مگر اب بھی وقت موجود ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر نظام کو بہتر بنائیں،ریل اسٹیٹ سیکٹر نے اس وقت میڈیا ہاؤسز کا کردار ادا کیا جب اخبارات نے خود کو کمزور محسوس کیا، اور یہ خلا بھر دیا۔

    تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ابھی بھی نظام کو بہتر بنانے کے لیے وقت موجود ہے، اور مختلف اداروں جیسے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ اطلاعات کے کردار کو الگ رکھا گیا تاکہ صحافت کو فروغ دیا جا سکے قوانین کے نفاذ میں شفافیت اور اختیار کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور ملک میں اختلاف رائے کے لیے کافی گنجا ئش موجود ہے انہوں نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے اسٹوڈنٹ سیاست سے شروعات کی، عملی سیاست کا تجربہ حاصل کیا اور پھر بیوروکریسی میں خدمات انجام دی۔

    پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 3 اہم معاہدوں پر دستخط

    عطا تارڑ نے کہا کہ سیاستدانوں کو تنقید برداشت کرنے کی عادت اپنانا ہوگی اور جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے تیسری قوت نے معاشرتی مسائل کو سامنے لانے میں اہم کردار ادا کیا اور یہ قوت اب بھی ملک کے اندر مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔

    پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور زرلٹ بھی نکل سکتاہے،خواجہ آصف

  • نااہل قرار دیے گئے 32 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال

    نااہل قرار دیے گئے 32 ارکان اسمبلی کی رکنیت بحال

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اثاثہ جات اور واجبات کے گوشوارے جمع نہ کرانے پر نااہل قرار دیے گئے سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے متعدد ارکان کی رکنیت بحال کر دی ہے۔

    قومی اسمبلی کے 8 اور پنجاب اسمبلی کے 14 ارکان کی رکنیت بحال کی گئی ہے،سندھ اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے چار، چار اراکین کی رکنیت بحال کر دی گئی،سینٹ اور بلوچستان اسمبلی کے ایک ایک رکن کی رکنیت بحال کی گئی ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ ارکان نے مالی سال 2024-25 کے لیے اپنے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے جمع کرا دیے ہیں، جس کے بعد وہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت قانونی تقاضے پورے کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

    اسحاق ڈار کی مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو

    نوٹیفکیشن کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137 کے تحت تمام ارکانِ اسمبلی پر لازم ہے کہ وہ ہر سال 31 دسمبر تک اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں،اس قانون کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے 16 جنوری 2026 کو متعدد ارکان کو رکنیت سے محروم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اب تمام متعلقہ ارکان نے اپنے اثاثہ جات اور واجبات کے گوشوارے جمع کرا دیے ہیں، جس کے بعد الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 137(3) کے تحت ان کی اراکین اسمبلی کی حیثیت بحال کر دی گئی ہےیہ فیصلہ قانون کے مطابق اور فراہم کردہ اختیارات کے تحت کیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق جن ارکانِ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت بحال کی گئی ہے، ان میں سینیٹ سے عابد شیر علی (پنجاب) ، سید کاظم علی شاہ( سندھ)، نورالحق قادری(خیبر پختونخوا) اور عبد القدوس(بلوچستان) کی رکنیت بحال کی گئی-

    سوشل میڈیا پر بھارتی اور افغان میڈیا کا پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈہ بے نقاب

    قومی اسمبلی سے سردار غلام عباس، محمد محبوب سلطان، سید عبدالقادر گیلانی، میر عامر علی خان مگسی، ارشد عبداللہ ووہرا اور صوفیہ سعید شاہ کی رکنیت بحال کی گئی-

    پنجاب اسمبلی سے سردار محمد عاصم شیر میکن، علی حسین خان، جعفر علی ہوچھا ،محمد طاہر پرویز میاں محمد آصف ، امتیاز محمود، اسامہ فضل، محمد معین الدین ریاض، کاشف نوید، میاں علمدار عباس قریشی، محمد عون حمید، سردار شیر افغان گورچانی اور روبینہ نذیر کی رکنیت بحال کی گئی-

    سال 2026 کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کر دیاگیا

    جبکہ سندھ اسمبلی سے آغا شہباز علی درانی، نوابزادہ برہان چانڈیو، سید اویس قادر شاہ، شیراز شوکت راجپر، جام خان شورو، سعید غنی، فرح سہیل اور کو مل کی رکنیت بحال کی گئی ہے-

    اسی طرح خیبر پختونخوا اسمبلی میاں محمد عمر اور خدیجہ بی بی کی رکنیت بحال کی گئی،علاوہ ازیں بلوچستان اسمبلی سے فیصل خان جمالی، بخت محمد، زارق خان اور صفیہ بی بی کی رکنیت بحال کی گئی ہے-

    سونے کی قیمتوں میں ہزاروں روپے کا اضافہ

    الیکشن کمیشن نےاس امر پر زور دیا ہے کہ ارکانِ اسمبلی کی جانب سے اثاثہ جات کی بروقت تفصیلات جمع کرانا شفافیت اور احتساب کے عمل کا اہم حصہ ہے، اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی  کے نئے چئیرمین مقرر

    طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے نئے چئیرمین مقرر

    بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے متفقہ طور پر طارق رحمان کو پارٹی کا نیا چیئرمین مقرر کر دیا ہے۔

    بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے طارق رحمان کی بطور چیئرمین تقرری کی منظوری دے دی ہے، یہ فیصلہ جمعہ کی شب پارٹی کے گلشن دفتر میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا،بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اس فیصلے کی تصدیق کی۔

    بی این پی کے چیئرمین کا عہدہ سابق وزیر اعظم اور پارٹی سربراہ بیگم خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد خالی ہوا تھا پارٹی آئین کے مطابق اس خلا کو پُر کرنے کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا، جس میں متفقہ طور پر طارق رحمان کو پارٹی کی قیادت سونپنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    <a href="https://login.baaghitv.com/sohail-afridi-qanoon-ko-hath-mai-na-خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 11 بھارتی حمایت یافتہ خوارج ہلاکlen/” title=”سہیل آفریدی کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہے،وہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،سندھ حکومت”>سہیل آفریدی کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہے،وہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،سندھ حکومت

    پارٹی ذرائع کے مطابق طارق رحمان نے سیاسی جدوجہد کا آغاز اپنی والدہ کے ساتھ جنرل ارشاد کے خلاف تحریک کے دوران کیا وہ 1988 میں بی این پی میں باقاعدہ طور پر شامل ہوئے اور 1991 کے انتخابات سے قبل بیگم خالدہ ضیا کے ہمراہ ملک بھر میں انتخابی مہم چلائی، 2002 میں انہیں بی این پی کا سینیئر جوائنٹ سیکریٹری نامزد کیا گیا جبکہ 2009 میں وہ پارٹی کے سینیئر نائب چیئرمین منتخب ہوئے، 2018 میں بیگم خالدہ ضیا کی قید کے بعد طارق رحمان کو قائم مقام چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ 2007 میں ون الیون دور کے دوران گرفتاری کے بعد وہ علاج کی غرض سے بیرون ملک چلے گئے تھے اور تقریباً 17 سال بعد 25 دسمبر 2025 کو وطن واپس آئے، اب ان کی بطور چیئرمین تقرری کے بعد بی این پی کی قیادت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔