Baaghi TV

Tag: سیاست

  • عوام کی زندگی بدلنے کے لیے آخر کیا کیا گیا؟،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوام کی زندگی بدلنے کے لیے آخر کیا کیا گیا؟،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاسی و مذہبی قیادت کے نام ایک سوال اقتدار کی سیاست بہت ہو گئی، عوام کی زندگی بدلنے کے لیے آخر کیا کیا گیا؟

    عوام کو نعروں، الزامات اور اقتدار کی کشمکش نہیں بلکہ دیانت، انصاف، روزگار، تعلیم، صحت، سستی بجلی و گیس اور عملی خدمت درکار ہے

    سیاست ہو یا مذہب، رسول ﷺ کی تعلیمات کردار، دیانت اور خدمتِ خلق کا درس دیتی ہیں، اقتدار اور مفاد پرستی کا نہیں

    پاکستان اسی دن حقیقی معنوں میں مضبوط ہوگا جب قیادت اپنے حقوق سے پہلے اپنی ذمہ داری، جوابدہی اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بنا لے گی۔

    تجزیہ شہزاد قریشی

    یہ سرزمین کسی فرد، جماعت یا خاندان کی جاگیر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہے، اور اس پر بسنے والے کروڑوں عوام اس امانت کا اصل سرمایہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ برسوں سے اقتدار، سیاست، مذہب اور جمہوریت کے نام پر عوام سے وعدے کرنے والوں نے عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے کے لیے عملی طور پر کیا کردار ادا کیا ہے؟ سیاسی جماعتوں سے پوچھا جانا چاہیے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری، بجلی، گیس، تعلیم، صحت اور انصاف جیسے بنیادی مسائل سے نجات دلانے کے لیے ان کی حقیقی خدمات کیا ہیں؟ ہر روز بیانات، الزامات اور سیاسی کشمکش تو نظر آتی ہے، مگر عام شہری کی زندگی میں آسانی کہاں پیدا ہوئی؟ اسی طرح مذہبی جماعتوں سے بھی ایک اہم سوال ہے۔

    رسول اکرم ﷺ کا واضح فرمان ہے: "جو ملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔” کیا اس حدیث پر عمل درآمد کے لیے کوئی مؤثر تحریک چلائی گئی؟ کیا بازاروں، کاروباری مراکز اور اپنے زیرِ اثر علاقوں میں دیانت داری، امانت اور خالص تجارت کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے؟ افسوس یہ ہے کہ اکثر مذہب کو خدمتِ خلق کے بجائے اقتدار کے حصول کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے، جبکہ دین کا اصل مقصد انسانیت کی اصلاح اور معاشرے میں انصاف کا قیام ہے۔ آج عالمی سطح پر پاکستان کی سیاست اور جمہوری رویوں پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام، ذاتی مفادات، انا پرستی اور اقتدار کی کشمکش نے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

    دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی سیاست کا ذکر اکثر ایک سنجیدہ قومی ماڈل کے طور پر نہیں بلکہ ایک مسلسل بحران کے طور پر کیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال ہر محب وطن پاکستانی کے لیے لمحۂ فکریہ ہونی چاہیے مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات ہیرو بننے کی خواہش میں ایسے قومی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو ریاستی استحکام اور قومی سلامتی کے ستون سمجھے جاتے ہیں تنقید ہر جمہوری معاشرے کا حق ہے، مگر تنقید اور تضحیک میں فرق ہوتا ہےقومی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفاد پر قربان کرنا کسی بھی ذمہ دار قیادت کا شیوہ نہیں ہونا چاہیے۔

    استحقاق اور اختیار کا مطالبہ کرنے والوں سے بھی سوال بنتا ہے کہ استحقاق کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ کیا استحقاق اس بات کا نام ہے کہ عوام کے مسائل نظر انداز کر دیے جائیں، احتساب سے بالاتر سمجھا جائے اور تنقید کو اپنی توہین قرار دے دیا جائے؟ حقیقی استحقاق تو خدمت، دیانت، جوابدہی اور کردار سے حا صل ہوتا ہے، نہ کہ بلند عہدوں اور طاقت کے مظاہروں سے، وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی اور مذہبی قیادت اپنے اپنے گریبان میں جھانکے، قوم کو نعروں، الزام تراشیوں اور محاذ آرائی سے زیادہ کردار، بصیرت اور خدمت کی ضرورت ہے۔

    عوام کو بجلی، گیس، روزگار، تعلیم، صحت اور انصاف چاہیے؛ انہیں تقریروں اور دعوؤں سے زیادہ عملی اقدامات درکار ہیں خدا کا خوف کیجیے، اس ملک پر رحم کیجیے، اس قوم پر رحم کیجیے، اقتدار، شہرت اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچیے کہ تاریخ آپ کے کردار کے بارے میں کیا فیصلہ دے گی۔ قومیں نعروں سے نہیں، کردار، دیانت اور خدمت سے بنتی ہیں پاکستان بھی اسی دن مضبوط ہوگا جب قیادت اپنے حقوق سے پہلے اپنی ذمہ داریوں کو یاد رکھے گی۔

  • امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم انتقال کر گئے

    امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم انتقال کر گئے

    154امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے سینئر ریپبلکن رہنما اور امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے-

    سینیٹر لنڈسے گراہم کے دفتر نے اتوار کو جاری بیان میں ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ 11 جولائی کی شام مختصر اور اچانک بیماری کے باعث دنیا سے رخصت ہوئے اس مشکل گھڑی میں اہل خانہ عوام سے دعاؤں کی درخواست کرتے ہیں اور ان کی نجی زندگی کا احترام کرنے کی اپیل کر تے ہیں۔

    ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد امریکی سیاسی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی، مختلف سیاسی رہنماؤں، سینیٹرز اور اراکین کانگریس نے ان کی عوامی خدمات، عسکری پس منظر اور طویل پارلیمانی کردار کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی وفات کو امریکی سیاست کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔

    لنڈسے گراہم کا شمار امریکی ریپبلکن پارٹی کے بااثر رہنماؤں میں ہوتا تھا وہ 2003 سے امریکی سینیٹ میں ریاست جنوبی کیرولائنا کی نمائندگی کر رہے تھے اور اس سے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن بھی رہ چکے تھے،قومی سلامتی، دفاع اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر ان کی رائے کو امریکی سیاسی حلقوں میں خاص اہمیت حاصل تھی، وہ امریکی فضائیہ کے ریزرو افسر بھی رہے اور فوجی امور پر گہری مہارت رکھتے تھے۔

    اپنے طویل سیاسی کیریئر کے دوران انہوں نے عراق، افغانستان، یوکرین اور مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی پالیسیوں میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ سینیٹ کی متعدد اہم کمیٹیوں کے رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں، لنڈسے گراہم نے 2016 میں ریپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کی کوشش بھی کی، تاہم بعد ازاں وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی سیاسی اتحادیوں میں شامل ہوگئے اور ان کی متعدد داخلی اور خارجہ پالیسیوں کی بھرپور حمایت کر تے رہے۔

    ان کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد امریکی سیاسی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی، مختلف سیاسی رہنماؤں، سینیٹرز اور اراکین کانگریس نے ان کی عوامی خدمات، عسکری پس منظر اور طویل پارلیمانی کردار کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی وفات کو امریکی سیاست کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔

  • شیخ حسینہ کا بھارت میں دو سالہ قیام کے بعد رواں سال اپنے وطن واپسی کا اعلان

    شیخ حسینہ کا بھارت میں دو سالہ قیام کے بعد رواں سال اپنے وطن واپسی کا اعلان

    بنگلا دیش کی معزول اور مفرور وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے رواں سال اپنے وطن واپس آنے کا اعلان کر دیا۔

    شیخ حسینہ جو اپنی حکومت کے خلاف طلبہ تحریک کے شدید احتجاج اور پابندیوں کے بعد مستعفی ہو کر اگست 2024 کو ملک سے فرار ہو کر بھارت پہنچ گئی تھیں اور اب تک وہیں پناہ گزین ہیں اب کم و بیش دو سال بعد شیخ حسینہ واجد نے بنگلا دیش واپس آنے کا اعلان کیا ہے شیخ حسینہ واجد نے اپنی خود ساختہ جلا وطنی کے دوران ایک انٹرویو میں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال ہر رکاوٹ عبور کرتے ہوئے وطن واپس آئیں گی۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق شیخ حسینہ کی ممکنہ واپسی بنگلا دیش کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ملک میں ان کی جماعت عوامی لیگ اور موجودہ سیاسی قیادت کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں۔

    واضح رہے کہ شیخ حسینہ واجد اگست 2024 میں حکومت مخالف طلبہ تحریک، ملک گیر احتجاج اور سیاسی دباؤ کے بعد وزارتِ عظمیٰ سے مستعٰفی ہو کر بھارت چلی گئی تھیں اس کے بعد سے وہ بھارت میں مقیم ہیں اور تقریباً دو برس سے بنگلا دیش واپس نہیں آئیں۔

  • الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے 5 سیاسی جماعتوں کو رجسٹر کر لیا

    الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے 5 سیاسی جماعتوں کو رجسٹر کر لیا

    الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے 5 سیاسی جماعتوں کو رجسٹر کر لیا، جس کے بعد آزاد کشمیر میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی تعداد 24 ہوگئی ہے –

    الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کے جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق پاکستان نظریاتی پارٹی آزاد جموں و کشمیر کو بطور سیاسی جماعت رجسٹریشن دے دی گئی، آل جموں و کشمیر مرکزی جمعیت اہلحدیث بھی رجسٹرڈ سیاسی جماعت قرار دی گئی ہے-

    الیکشن کمیشن کے مطابق گجر قومی پارٹی آزاد جموں و کشمیر کو سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹر کر لیا گیا ہے ، جبکہ تحریک جوانان پاکستان جموں و کشمیر کو بھی رجسٹریشن جاری کر دی گئی ہے، اسی طرح متحدہ قومی موومنٹ پاکستان آزاد جموں و کشمیر کو بھی بطور سیاسی جماعت رجسٹر کر لیا گیا ہے-

    اعلامیے کے مطابق رجسٹریشن ہائیکورٹ آزاد کشمیر کے فیصلے کی روشنی میں عمل میں لائی گئی، سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن الیکشن کمیشن کے قانونی اختیارات کے تحت کی گئی ہے جبکہ 5 اکتوبر 2023 کے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے رجسٹریشن دی گئی ہے-

  • ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، 67 فیصد امریکیوں کا عدم پسندیدگی کا اظہار

    ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی، 67 فیصد امریکیوں کا عدم پسندیدگی کا اظہار

    امریکی خبر رساں ادورں ’واشنگٹن پوسٹ‘، ’اے بی سی نیوز‘ اور اپسوس کے مشترکہ سروے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، اور ان کے خلاف عدم پسندیدگی کی شرح 62 سے 67 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

    واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز-ایپسوس کے حالیہ پول کے مطابق، 62 فیصد امریکی ٹرمپ کی صدارت سے غیر مطمئن ہیں، جو ان کے دو ادوارِ صدارت میں سب سے بلند ترین سطح ہے دیگر رپورٹس میں یہ شرح 67 فیصد تک بھی بتائی گئی ہے، ایران کے ساتھ حالیہ جنگی کشیدگی اور معاشی مسائل کے بعد، 66 فیصد امریکیوں نے ایران کے معاملے پر ان کی پالیسی کو ناپسند کیا ہے۔

    رائٹرز/ایپسوس سروے کے مطابق، معاشی محاذ پر بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کی وجہ سے ان کی ریٹنگ میں نمایاں کمی آئی ہے جہاں صرف 23 فیصد امریکی مہنگائی سے نمٹنے کے لیے ان کے اقدامات سے خوش ہیں، جبکہ 76 فیصد نے ان کی معاشی پالیسیوں پر ناگواری کا اظہار کیا ہے سروے میں شامل دو تہائی (تقریباً 66 فیصد) امریکیوں کا ماننا ہے کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے-

    واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز-ایپسوس کے سروے کے مطابق، 59 فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کی ذہنی صلاحیت اور 55 فیصد نے جسمانی صحت کو قیادت کے تقاضوں کے مطابق نامناسب قرار دیا اس سیاسی صورتحال نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی برتری کو خطرے میں ڈال دیا ہے، 71 فیصد عوام صدر ٹرمپ کو دیانتدار اور قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے۔

    انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں بشمول نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو بھی عوامی سطح پر منفی ریٹنگ کا سامنا ہے وزیر دفاع ہیگسیتھ نے حال ہی میں دفاعی بجٹ کو ایک ٹریلین سے بڑھا کر ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کرنے کی تجویز پیش کی تھی، جس کی 65 فیصد عوام نے مخالفت کی ہے۔

    سروے کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق انٹیلی جنس تجزیہ کار ایرک بریور نے نوٹ کیا کہ عوامی رائے میں تبدیلی کی ایک وجہ جنگی حالات اور معاشی دباؤ ہے اگرچہ ریپبلکن پارٹی کے اندر اب بھی 65 فیصد اراکین ٹرمپ کی قیادت کی پیروی کرنا چاہتے ہیں، لیکن آزاد ووٹرز میں ان کی مقبولیت میں کمی پارٹی کے لیے آنے والے انتخابات میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہےیہ صورتحال نومبر 2026ء میں ہونے والے وسط مدتی (Midterm) انتخابات سے قبل ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے شدید سیاسی مشکلات کا پیش خیمہ سمجھی جا رہی ہے-

  • سیاسی مخالفت میں ملک کی تضحیک ناقا بل برداشت ہے، عطا تارڑ

    سیاسی مخالفت میں ملک کی تضحیک ناقا بل برداشت ہے، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر پاکستان کا کلیدی کردار سامنے آ رہا ہے اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے سفارتی محاذ پر پاکستان کا لوہا منوایا، جبکہ ہمسایہ ملک بھارت پاکستان کی سفارتی کوششوں سے پریشان ہے،پاکستان دنیا میں موثر اور بھرپور آواز بن کر سامنے آیا ہے اور جنیوا اجلاس میں غیر معمولی صورتحال دیکھنے میں آئی۔

    انہوں نے کہا کہ کوئی سیاسی لیڈر پاکستان سے بڑا نہیں، تنقید سب کا حق ہے لیکن ملک کا وقار داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا، قومی مفاد سب سے مقدم ہے اور کوئی سیاسی جماعت یا شخصیت ملک سے مقدم نہیں ہو سکتی،ہم سب مملکت پاکستان کے مرہون منت ہیں، سیاسی مخالفت میں ملک کی تضحیک ناقا بل برداشت ہے،معرکہ حق کی فتح نے پاکستان کا مقام بڑھایا، موجودہ صورتحال میں ملک کے خلاف پروپیگنڈا قابل قبول نہیں، شخصیت اور انا پرستی ملک کیلئے نقصان دہ ہے اور ملک کے خلاف باتیں کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔

  • اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟،تجزیہ :شہزاد قریشی

    اقتدار کی رسہ کشی میں عوام پسِ پشت پاکستان بحران کے دہانے پر کب آئے گی سیاسی بیداری؟

    سیاست کے کھیل نے ریاست اور عوام کو تنہا چھوڑ دیا قومی مفاد کی بلند آواز اب نہیں تو کب؟

    نعروں اور دعووں کی سیاست بمقابلہ حقیقی عوامی خدمت پاکستان کی قیادت کے لیے خود احتسابی کا ایمرجنسی الارم

    مہنگائی، بے روزگاری، توانائی و تعلیمی بحران، کب آئے گی سنجیدہ سیاست اور ٹھوس حکمت عملی؟

    ذاتی مفادات یا قومی ترقی؟ پاکستان کی سیاست کا المیہ مستقبل کے فیصلے کا وقت آج ہے

    پاکستان کی سیاست کا ایک المیہ یہ ہے کہ چند مخلص اور سنجیدہ سیاستدانوں کو چھوڑ دیا جائے تو اکثریت ایسی راہوں کا انتخاب کرتی دکھائی دیتی ہے جن میں ان کا اپنا سیاسی مستقبل تو محفوظ رہے، مگر ریاست اور عوام کے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے جائیں۔ سیاست کا بنیادی مقصد عوامی خدمت اور ریاستی استحکام ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاست اکثر ذاتی مفادات، اقتدار کے کھیل اور وقتی فائدوں کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔

    اگر پاکستان کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو ملک اس وقت کئی بڑے چیلنجز سے دوچار ہے۔ معاشی بحران، مہنگائی کی بلند ترین سطح، بے روزگاری، توانائی کے مسائل، تعلیمی پسماندگی اور امن و امان کے مسائل ایسے بنیادی معاملات ہیں جن پر قومی سطح کی سنجیدہ اور طویل المدتی پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی بڑی تعداد ان مسائل پر ٹھوس حکمت عملی دینے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی، الزام تراشی اور اقتدار کی رسہ کشی میں مصروف رہتی ہے۔

    یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جب سیاستدان اپنی ترجیحات میں ریاست اور عوام کے مسائل کو ثانوی حیثیت دے دیتے ہیں تو اس کا براہِ راست اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے۔ مہنگائی بڑھتی ہے، کاروباری سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں، سرمایہ کاری رک جاتی ہے اور عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔ ایک ایسا ماحول جنم لیتا ہے جہاں عوام کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ ان کے مسائل سننے والا کوئی نہیں۔

    اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت وقتی سیاسی فائدوں کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دے۔ ریاستی استحکام، معاشی بحالی اور عوامی فلاح کو اپنی سیاست کا مرکز بنائے۔ دنیا کی کامیاب ریاستوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں سیاسی قیادت نے قومی مفاد کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر رکھا اور طویل المدتی پالیسیاں بنا کر اپنے ممالک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ پاکستان میں بھی اگر سیاستدان سنجیدگی کے ساتھ قومی مسائل پر متفقہ حکمت عملی اپنائیں، اداروں کو مضبوط کریں اور عوامی خدمت کو اپنی سیاست کا اصل مقصد بنا لیں تو ملک کے بیشتر مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

    بصورت دیگر اگر سیاست کا محور صرف اقتدار اور ذاتی مفاد ہی رہا تو ریاست اور عوام دونوں کو مشکلات کا سامنا کرتے رہنا پڑے گا۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان کی سیاسی قیادت کو خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ بصیرت، دیانت اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر سیاستدان اس حقیقت کو سمجھ لیں تو پاکستان کا مستقبل زیادہ مستحکم اور روشن ہو سکتا ہے۔

  • بنگلہ دیش : نئے اراکین پارلیمنٹ نے حلف اٹھا لیا

    بنگلہ دیش : نئے اراکین پارلیمنٹ نے حلف اٹھا لیا

    ڈھاکا:بنگلہ دیش میں حالیہ انتخابات کے بعد منتخب ہونے والے اراکین نے حلف لے اٹھالیا ہے۔

    13ویں قومی پارلیمنٹ کے نومنتخب ارکان نے ڈھاکا میں موجود پارلیمنٹ ہاؤس میں حلف لیا جبکہ نئی کابینہ کی تقریبِ حلف برداری شام میں منعقد ہوگی،یہ پیش رفت عوامی لیگ کے 17 سالہ دورِ اقتدار کے خاتمے کے 18 ماہ بعد سامنے آئی ہے، جس کے بعد طویل عبوری انتظامیہ کے بعد ایک منتخب حکومت قائم ہو رہی ہے۔

    طارق رحمان، جو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین اور پارلیمنٹ میں اکثریتی جماعت کے قائد ہیں، نئی حکومت کی قیادت کریں گے۔ ارکان کے حلف کے بعد اکثریتی جماعت اپنا پارلیمانی لیڈر منتخب کرے گی، جسے صدر آئینی تقاضوں کے مطابق حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔

    بھارت نے ایران کے مزید 3 جہاز قبضے میں لے لیے

    اطلاعات تھیں کہ نومنتخب ارکان پارلیمانی حلف کے ساتھ مجوزہ آئینی اصلاحاتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے بھی الگ حلف اٹھائیں گے، تاہم مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف کے باعث اس عمل پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے بی این پی کے سینیئر رہنما صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم اور قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد ہی ایسا ممکن ہوگا۔

    پارلیمنٹ ہاؤس کے اطراف سخت سیکیورٹی نافذ کردی گئی ہے اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کنٹرول کیا جا رہا ہے جبکہ سی سی ٹی وی نگرانی سمیت دیگر حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں نئے وزیراعظم کی حلف برداری میں شرکت کے لیے متعدد عالمی رہنما ڈھاکا پہنچ گئے ہیں، جن میں مالدیپ کے صد ر محمد معیزو، بھوٹان کے وزیرِ اعظم شیرنگ توبگے، بھارت کی لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا اور پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال شامل ہیں،عبوری قیادت نے ، چین، سعودی عرب اور ملائیشیا سمیت 13 ممالک کے سربراہان کو بھی دعوت دی تھی۔

    رواں سال کا پہلا سورج گرہن آج ہو گا

  • بلوچستان: محرومی کا بیانیہ یا قیادت کی ناکامی؟، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان: محرومی کا بیانیہ یا قیادت کی ناکامی؟، تجزیہ :شہزاد قریشی

    بلوچستان کا نام لیتے ہی محرومی، ناانصافی اور پسماندگی کی ایک طویل داستان سامنے آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ داستان صرف مرکز کی بے حسی کا نتیجہ ہے، یا اس میں صوبے کی اپنی قیادت کا کردار بھی شامل ہے؟ حالیہ دنوں چوہدری فواد حسین نے ایک سادہ مگر بنیادی سوال اٹھایا کہ اربوں روپے کے فنڈز بلوچستان کے لیے جاری ہوئے، مگر زمینی حقائق کیوں نہیں بدلے؟ یہ سوال بعض حلقوں کو ناگوار ضرور گزرا ہوگا، مگر اسے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔

    بلوچستان پر دہائیوں سے چند مخصوص خاندانوں اور سرداروں کی سیاست حاوی رہی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں تک رسائی بھی انہی کو حاصل رہی، وزارتیں بھی انہی کے حصے میں آئیں اور مراعات بھی، مگر جب صوبے کی حالت پر نظر ڈالی جائے تو تعلیم کا فقدان، صحت کی ناگفتہ بہ صورتحال، ٹوٹی سڑکیں اور بے روزگار نوجوان دکھائی دیتے ہیں۔ اگر وسائل نہیں ملے تو آواز اٹھانا بجا ہے، لیکن اگر وسائل ملے اور پھر بھی عوام محروم رہے تو سوال قیادت سے ہوگا۔

    اسی دوران اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کا یہ کہنا کہ فوج چند اضلاع کی نمائندہ ہے، ایک غیر ذمہ دارانہ بیان محسوس ہوتا ہے۔ افواجِ پاکستان میں ہر صوبے، ہر قومیت اور ہر علاقے کے لوگ شامل ہیں۔ بلوچ افسران اور جوان بھی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ قومی اداروں کو لسانی یا علاقائی بنیاد پر تقسیم کرنے کا بیانیہ دراصل اتحاد کو کمزور کرتا ہے، مضبوط نہیں۔

    بلوچستان کے عوام کو جذباتی نعروں سے زیادہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور امن چاہیے۔ اگر سیاسی قیادت خود احتسابی سے گریز کرے اور ہر ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈال دے تو مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ الجھتے چلے جاتے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان کی سیاست نعروں سے نکل کر کارکردگی کی بنیاد پر کھڑی ہو۔ جو قیادت برسوں سے اقتدار میں رہی، اسے اپنا حساب دینا ہوگا۔ اور جو آج قومی اداروں پر تنقید کرتی ہے، اسے بھی ذمہ دارانہ زبان اختیار کرنی ہوگی۔ کیونکہ قومیں الزام تراشی سے نہیں، دیانتدار قیادت اور سنجیدہ طرزِ سیاست سے آگے بڑھتی ہیں۔

  • عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا جمہوری نظام کی بنیاد ہے، رانا ثنا اللہ

    عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا جمہوری نظام کی بنیاد ہے، رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم پارلیمانی روایات اور باہمی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی ایوان کی کارروائی کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

    سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کے دفتر میں ملاقاتوں اور مشاورت کے دوران جو سنجیدہ اور خوشگوار ماحول قائم ہوا، اسی جذبے کو ایوان کے اندر بھی برقرار رکھا جانا چاہیےاختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم پارلیمانی روایات اور باہمی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی ایوان کی کارروائی کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ووٹ کے احترام اور عوامی فیصلوں کو تسلیم کرنا جمہوری نظام کی بنیاد ہے، کیونکہ اگر عوام کے فیصلے کو مؤثر نہ مانا جائے تو جمہوری عمل آگے نہیں بڑھ سکتا، انتخابی نتائج پر اعتراض اور ہار تسلیم نہ کرنے کا رویہ کوئی نئی بات نہیں،2018 کے انتخابات میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی تھی، جب ان کی جماعت اپوزیشن میں تھی اور انتخابی عمل پر شدید اعتراضات کیے گئے تھے۔

    جمہوری اداروں میں شفافیت اور نظم و ضبط کو فروغ دینا ضروری ہے،عطا تارڑ

    انہوں نے کہا کہ 25 جولائی 2018 کے انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب میں سیاسی جوڑ توڑ، نئی صف بندیاں اور مخصوص گروہوں کی تشکیل سب کے سا منے تھی، جس کا مقصد انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونا تھا اس دور میں بعض عناصر کو اکٹھا کر کے اسلام آباد لایا گیا اور انہیں سیاسی شناخت دی گئی، جو انتخابی عمل میں مداخلت کی واضح مثال تھی اس وقت کی اپوزیشن کا بھی یہی مؤقف تھا کہ متعدد نشستوں پر نتائج تبدیل کر کے ایک جماعت کو اکثریت دلائی گئی۔

    پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور زرلٹ بھی نکل سکتاہے،خواجہ آصف

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر ہم صرف مخصوص تاریخوں یا واقعات پر اٹکے رہیں گے تو آگے نہیں بڑھ سکیں گے انہوں نے اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو آج کی اپوزیشن 2018 کے مؤقف کی تائید کر سکتی ہے اور نہ ہی موجودہ حالات میں صرف ایک نکتے پر اصرار مسئلے کا حل ہے،اس حقیقت پر متفق ہونا ہوگا کہ پاکستان میں انتخابی نظام پر مکمل اعتماد موجود نہیں، جس کے باعث ہر الیکشن کے بعد الزامات اور جوابی بیانات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جس میں نہ کوئی واضح جیتنے والا ہوتا ہے اور نہ ہارنے والا۔

    پاکستان اور اسلامی ترقیاتی بینک کے درمیان 3 اہم معاہدوں پر دستخط

    انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد ان کی جماعت نے بھی پارلیمان میں آ کر دھاندلی کے الزامات لگائے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا، مگر اس وقت جو جواب دیا گیا وہ سب کے سامنے ہے اب جبکہ اپوزیشن خود پارلیمان کا حصہ ہے اور اس کی ذمہ داریاں سنبھال چکی ہے تو اس پر بھی لازم ہے کہ نظام کی بہتری کے لیے تعمیری کردار ادا کرے۔