Baaghi TV

Tag: سیاست

  • سیاسی  استحکام کے لیے   تمام جماعتوں  کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق

    سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق

    سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق

    وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ پریم کورٹ میں ریلوے سے متعلق کیس لگ گیا ہے اور چیف جسٹس نے کہا کہ ریلوے لائف لائن ہے جبکہ اب ہم شفاف اور بہترین پلان لیکر پیش ہوں گے. انکا کہنا تھا کہ ریلوے کو بہتر بنانے کےلیے ریاستی تعاون کی ضرورت ہے، ہم سے جو ممکن ہوا ریلوے کے کی بہتری کے لیے کریں گے، اور سیلاب آیا خیبرپختونخوا اور پنجاب حکومت نے مرکز کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا.

    انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی جبکہ سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے ،سب کو ہمت کرکے ایک دوسرے سے بات کرنی چاہیے، اور سیاسی استحکام کے لیے آگے آنا تمام جماعتوں کی ذ مہ داری ہے. ان کے مطابق وفاقی حکومت تنہا سیاسی استحکام نہیں لاسکتی لہذا سیاسی جماعتوں کو کھینچاتانی کے بجائے معاشی استحکام کے لیے سوچنا چاہیے جبکہ احتساب قبر میں ڈال دیا گیا،مائنس کسی کو نہیں کیاجاسکتا۔

    وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ مرکز اور صوبوں میں اختلاف رہاہے مگر ملکی مفاد کے لیے آگے جانا ہوگا اور کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کو مائنس نہیں کیا جاتا وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جبکہ کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کو مائنس نہیں کیا جاتا وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جبکہ اداروں کی بہتری کے لیے اقدامات کیے ہیں، جلد نتائج سامنے آجائیں گے۔ اور سیاست دان اتنا لڑتے ہیں کہ ایک کی چونچ اور ایک کی دم رہ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا ایک پارٹی آئی ہوئی ہے جس نے ملک میں عذاب ڈالا ہوا ہے. لہذا پنجاب میں پرویزالہٰی چلے بھی جائیں ہماری حکومت آ بھی جائے تو سیاسی استحکام نہیں آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو قبر میں ڈال دیا گیا، مائنس نہیں ہوئے۔ لہذا کسی کو پھانسی لگا کر ،جیلوں میں ڈال کر مائنس نہیں کیا جا سکتا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ اربوں ڈالر کا قرض لینے کو ہی آج عوام بھگت رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریلوے گالف کلب کی لیز سے متعلق کیس کی سماعت کی، جس میں سیکرٹری ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ ایم ایل ون 9.8 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے اور ایکنک اس کی منظوری دے چکا ہے۔ عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اربوں ڈالر قرض لے کر منصوبے لگانے کی بات ہر کوئی کرتا ہے۔ ملک میں اربوں ڈالر کا انفرا اسٹرکچر پہلے سے موجود ہے، اس پر کیا ڈلیوری ہے؟۔ اربوں ڈالر کا قرض لینے کو ہی آج عوام بھگت رہے ہیں۔

    علاوہ ازیں چیف جسٹس نے دوران سماعت یہ ریمارکس بھی دیے تھے کہ چھٹیوں کے دوران سندھ میں ریل کا سفر کیا ہے۔ سندھ میں ریلوے لائنوں کے اطراف آج بھی سیلابی پانی کھڑا ہے۔ بارشیں گرمیوں میں ہوئی تھیں، پانی اب تک نہیں نکالا جا سکا۔ ریلوے افسران نے بتایا کہ بلوچستان میں صورتحال سندھ سے بھی ابتر ہے۔ بین الاقوامی جریدے دی اکانومسٹ نے پاکستان کی سڑکوں پر ضمیمہ چھاپا تھا۔عالمی ضمیمے کا عنوان تھا ’’وہ سڑکیں جو کہیں نہیں جاتیں‘‘۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کو یہ پرتعیش آسائشیں نہیں، پرفارمنس اور استعداد کار چاہیے۔ اربوں ڈالروں کے منصوبے لگانے سے عدالت امپریس نہیں ہوگی۔

  • عمران خان کی وزیراعلیٰ پرویز الہی سے ملاقات،سیاسی صورتحال پر گفتگو

    عمران خان کی وزیراعلیٰ پرویز الہی سے ملاقات،سیاسی صورتحال پر گفتگو

    لاہور: عمران خان نے وزیراعلیٰ پرویز الہی سے ملاقات کی ،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، سیاسی صورتحال اور پنجاب کی عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی اور راسخ الٰہی سے ملاقات کے دوران کہا کہ 13 جماعتوں پر مشتمل حکومتی ٹولے نے چند ماہ کے اندر معیشت تباہ کر دی ہے، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔

    عمران خان مشکل میں پھنس گئے،پولی گرافک ٹیسٹ کی درخواست منظور

    عمران خان نے تمام معاملات باالخصوص آٹے کی صورتحال پر کھل کر گفتگو کی جب کہ پنجاب اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ کی حکمت عملی اور پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔

    زمان پارک میں وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پنجاب حکومت کی ڈائریکشن مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔

    پاکستان ڈالر کا ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کےمطابق کرے،آئی ایم ایف

    عمران خان نے کہا کہ لاؤ لشکر سمیت جنیوا جاکر بھیک مانگتے ہوئے انہیں شرم نہیں آتی؟ معیشت کو سنبھالنے کے دعویدار آج خود اغیار کے پاؤں میں گرے ہوئے ہیں ٹولہ جینوا سے بھی خالی ہاتھ واپس لوٹے گا، آج معیشت نہ سنبھلی تو کل اس کا نقصان ریاست کو ہوگا-

    ملاقات کے دوران چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ہم نے پنجاب میں آٹے کی سپلائی کو بہتر بنانے کیلئے سرکاری گندم کا کوٹہ دوگنا کر دیا ہے۔

    پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ ملک پر مسلط بے حس ٹولے نے غریب آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے، یہ لوگ عوام کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے این آراو کے ذریعے اپنے آپ کو کلیئر کرانے میں لگے ہیں۔

    پاکستان کو جون کے آخر تک آئی ایم ایف کی رقم فائدہ دے گی،بلومبرگ اکنامکس

  • مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے

    مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے

    اختلافات مٹائیے مُلک بچائیے
    No Consensus – No Country
    مُلک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ قومی یکجہتی سے ہی کیا جا سکتا ہے
    قومیں اور مُلک یکجا ہو کر ترقی کرتے ہیں یا پھر اختلافات میں گِھر کر بِکھر جاتے ہیں۔ سوویت یونین، افغانستان، عراق، لیبیا اور شام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ پاکستانی جب بھی متحد ہوئے،تو نا صرف مُشکلات پر قابو پایا بلکہ سُرخرو بھی ہوئے۔

    قیام ِ پاکستان ہو یا 1965کی جنگ،2005 کا زلزلہٰ ہو یا 2010 کا سیلاب،1998 کے ایٹمی دھماکے ہوں دہشت گردی کے خلاف جنگ یا2019 میں بھارتی جارحیت، کووڈ 19ہو یا حالیہ غیر معمولی سیلاب،قوم نے متحد ہو کران چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ قران میں ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں اختلافات نہ کرو، ورنہ تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔

    قرآن میں مشاورت کا خصوصی ذِکر کیا گیا ہے کہ اپنے معاملات مشاورت سے حل کرو۔پاکستان میں ایک کثیر الجماعتی سیاسی نظام بھی موجود ہے۔ کوئی ایک شخص یا پارٹی پُورے پاکستان، علاقوں یا قومیت کی نمائیندگی کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔لہذا وقت کا تقاضا ہے کہ باہمی اختلافات کو نظر انداز کر کے حالیہ معاشی اور دہشتگردی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے قومی وحدت اور یگانگت کا عملی مظاہرہ کیا جائے

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

     مبشر لقمان سے بانی مہمند لویہ جرگہ جاوید مہمند کی قیادت میں ایک وفد نے ملاقات کی ہے،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار

  • سیاسی ہم آہنگی گڈ گورننس کی اشد ضرورت ، تجزیہ:  شہزاد قریشی

    سیاسی ہم آہنگی گڈ گورننس کی اشد ضرورت ، تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکہ سے لے کر یورپ اور یورپ سے لے کر سعودی عرب، امارات، قطر اور کویت اپنی قوم اور اپنے ممالک کے لئےمستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے تبدیلی کے میدان میں اتر چکے ہیں سعودی عرب کا انحصار مستقبل میں صرف پٹرول اور ڈیزل پر نہیں ہوگا جبکہ روس اور یوکرائن کی جنگ کو لے کر یورپ مستقبل میں گیس اور پٹرول ڈیزل پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے ممالک کے شاندار مستقبل کے لئے بجلی پر انحصار کر کے گا۔

    اس سلسلے میں گھروں میں گیس کی جگہ الیکٹرانک سسٹم جبکہ گاڑیاں بھی الیکٹرانک سسٹم پر سڑکوں پر لانے کے لئے عملی طور پر کام شروع کردیا گیا ہے سعودی عرب کا وژن 2030 اس سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ سعودی عرب اپنے مستقبل کے لئے چین سمیت اٹلی اور دیگر یورپی ممالک سے صرف سیاسی رابطوں تک محدود نہیں بلکہ تعلیم و تربیت، تجارت اور دیگر شعبوں میں مذاکرات کر رہا ہے۔

    سعودی عرب جس کی ستر فیصد آبادی 35 سال سے کم عمر کی ہے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ نتیجہ خیز تعاون کے ذریعے استحکام اور پائیدار اقتصادی ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے پرعزم ہے سعودی عرب کے مستقبل کے لئے ترقی کے خواب کا بلاشبہ سہرا پرنس محمد بن سلیمان کو جاتا ہے۔ کاش ہمارے ریاستی ذمہ داران اور سیاستدان وطن عزیز کی ترقی اور پڑھے لکھے جوانوں اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں۔

    سیاستدان ایک دوسرے کی آڈیو، ویڈیو پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں ایک دوسرے کو غدار، کرپٹ، سیکورٹی رسک ثابت کرنے، حد یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ معاشرے کے نوجوان بچوں اور بچیوں کے مستقبل سے کھیلا جا رہا ہے ایک دوسرے کی عورتوں کی آڈیو ، ویڈیو سوشل میڈیا پر دکھائی جا رہی ہے کیا یہ وطن عزیز اور عوام کا مقدر سنوار رہے ہیں؟ انتظامی افسران کا حال یہ ہو چکا ہے کہ وہ ہر آنے والی حکومت کی غلامی اختیار کر لیتے ہیں یہی حال بیورو کریسی کا ہے۔

    یہی حال اعلیٰ پولیس افسران کا ہے۔ اقتدار اور ہوس اقتدار میں وطن عزیز اور نوجوان نسل کے مستقبل کی کوئی فکر ہی نہیں۔ دنیا اپنے اپنے مستقبل کے لئے اپنی عوام کے لئے منصوبے بنا رہی ہے ہم ایک دوسرے کیخلاف مقدمات درج کروانے کی دوڑ میں لگے ہیں۔

    حکمرانوں، تمام سیاسی جماعتوں، فیصلہ ساز اداروں کو بھی چاہئے کہ آپس کی سیاسی کھینچا تانی اور رسہ کشی کو ترک کر کے وطن عزیز میں سیاسی ہم آہنگی، کفایت شعاری، گڈگورننس پر توجہ دیں اور قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ ختم کیا جائے۔ لانگ ٹرم پالیسیاں بنائی جائیں جس سے عوام کو رہنمائی اور وطن عزیز کو استحکام کی امید لگے۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی
    آج کے سیاستدان جب جمہوریت، آزادی، قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی آئین کی باتیں کرتے ہیں تو ان کے جھوٹ اور منافقت سے گھن آتی ہے۔ مخلوق خدا کو برباد کر کے یہ کس منہ سے عوام کا نام لیتے ہیں۔ ملکی صورتحال خاصی پیچیدہ ہو چکی ہے ،قیادت کا فقدان ہے ۔جب تک اس گلے سڑے نظام کو دفن نہیں کیا جاتا کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔ موجودہ نظام کو جب تک تبدیل نہیں کیا جاتا عوام کی زندگی کبھی سہل نہیں ہو سکتی۔ موجودہ سیاست بڑھکوں، دھمکیوں اور ہلڑ بازی کے سوا کچھ نہیں۔ عوامی نمائندے ایسی بدزبانی اور غنڈہ گردی پر اتریں گے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

    موجودہ شور شرابے میں اقتصادی بحران گھمبیر ہوتا جا رہا ہے بنیادی اشیائے صرف کی ہولناک مہنگائی جاری ہے۔ ایک دوسرے کے بارے بیہودہ گفتگو پہلے سے پست ثقافت اور اخلاقیات مزید پست ہو رہی ہے ایک تعفن پھیل رہا ہے اور پھیلایا جا رہا ہے ہر ذی شعور انسان کا دم گھٹ رہا ہے۔ جو کچھ اس ملک و قوم کے ساتھ ہو رہا ہے یہ سارا کھلواڑ اتنا بے سبب بھی نہیں ہے۔ ان کی آپس میں لڑائیاں بھی ایک بہت بڑا فریب ہے کوئی مظلوم بن کر عوامی حمایت چاہتا ہے تو کوئی نجات دہندہ۔

    دوسری طرف پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کو بین الاقوامی سطح پر مشکوک بنا دیا گیا ان کی آپس کی لڑائیوں میں ملکی وقار اور سلامتی کو بھی دائو پر لگا دیا گیا ہے۔ ہوس اقتدار اور ہوس زر نے ان کو اس قدر آندھا کر دیا ہے کہ ملک کے وقار اور سلامتی کو بھی بھول گئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں کون سا نظریہ اور کون سے اصول باقی رہ گئے ہیں۔ ملکی کی تمام سیاسی جماعتیں اصول۔ نظریے اور ضمیر سے عاری ہو چکی ہیں۔ سب کچھ بے نقاب ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے ان کی منافقت۔ ایک دوسرے کو گالیاں دینا۔ بد سے بدترین ایک دوسرے پر الزامات لگانے کی سیاست ہو رہی ہے بین الاقوامی سیاسی کھلاڑی تماش بین بن کر تماشا دیکھ رہے ہیں بھارت میں بھنگڑے ڈالے جا رہے ہیں خدارا ملک سے انتشار کی سیاست کا خاتمہ کیا جائے اس ریاست پر رحم کیا جائے اور اس ریاست کے ذمہ داران کو گلی کوچوں ، چوراہوں، جلسے جلوسوں میں برا بھلا نہ کہا جائے۔

  • ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا مذہبی منافرت نے کم ، ازقلم : غنی محمود قصوری

    ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا مذہبی منافرت نے کم ، ازقلم : غنی محمود قصوری

    ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا مذہبی منافرت نے کم

    ازقلم غنی محمود قصوری

    غالباً 31 اکتوبر 2018 کا دن تھا اور میرا فیملی ٹور تھا سوات کیلئےہم دو سگے بھائی اور دو کزن گاڑی میں بیٹھے اور انتہائی مشکلات کیساتھ لاہور ٹھوکر نیاز بیگ انٹرچینج پہ پہنچے کیونکہ ہمارے نکلنے سے تھوڑی دیر پہلے ہی ایک مذہبی سیاسی جماعت کی طرف سے احتجاج شروع ہو چکا تھا جو کہ دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر چکا اور جلاؤ گھیراؤ تک بات پہنچ چکی تھی-

    قصور سے ٹھوکر نیاز بیگ پہنچنے تک محض چار پولیس ناکے تھے مگر آج وہ پولیس ناکے تو نا تھے مگر کم و بیش 47 رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا گیا راستہ گلیوں بازاروں کے بیچ سے طے کیا اور محض 50 منٹ کا راستہ 5 گھنٹوں میں طے ہوا خیال یہی تھا کہ موٹر وے محفوظ ترین ٹریک ہے وہ بند نا ہوا ہو گا مگر جب انٹرچینج پہ پہنچے تو صورتحال انتہائی گھمبیر اور پریشان کن تھی جلاؤ گھیراؤ جاری تھا اور آوازیں سنائی دے رہی تھیں-

    مسافر گاڑیوں میں ڈرے سہمے بیٹھے تھے کیونکہ پیچھے کی جانب جانا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا کیونکہ شہر لاہور کی قسمت کہ زیادہ تر جلاو گھیراؤ یہی سے شروع ہوتا ہےیعنی ہمارے گلے میں وہ ہڈی پھنس چکی تھی جسے نا تو نگل سکتے تھےنا ہی اگلی رات 8 بجے موٹر وے پہ پہنچے تو موٹر وے پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا جس سے کچھ تحفظ کا احساس ہوا-

    میں اپنی گاڑی سے نکل کر موٹر وے پولیس کی گاڑی کے پاس پہنچا جہاں وائرلیس سیٹ پہ ہوئی گفتگو سے صورتحال کا اندازہ ہو رہا تھا جس سے پریشانی بڑھتی ہی جا رہی تھی خیر اب تو سوائے صبر کے کچھ نا ہو سکتا تھارات تقریباً ایک بجے کے قریب پولیس وائرلیس سیٹ سے آواز سنی کہ 22 ونگ رینجرز از موونگ ٹورڈ بابو صابو انٹرچینج یعنی رینجر کی 22 ونگ صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے موٹر وے پہ پہنچ رہی ہے یہ الفاظ سن کے دل کو قرار آیا کہ چلو اب بات بنے گی-

    خیر صبح فجر سے کچھ دیر پہلے رینجرز نے کنٹرول کرکے موٹر وے پولیس کو منتقل کیا تو موٹر وے پولیس نے سفر کی اجازت دی ہم جب بابو صابو انٹرچینج پہ پہنچے تو کلیجہ منہ کو آ گیا مسافر گاڑیوں،بسوں کو آگ لگی ہوئی تھی اور گاڑیاں چیخ چیخ کہ بتا رہی تھیں کہ ان پہ خوب زور آزمائی ہوئی ہےموٹر وے پہ ایک جانب مظاہرین کا ساؤنڈ سسٹم بمعہ چنگچی رکشہ اور موٹر سائیکلیں بکھری ہوئی پڑی تھیں اور سڑک کے ایک جانب بہت سارے جوتے بھی جو کہ غالباً رینجرز کے پہنچنے پہ مظاہرین چھوڑ بھاگے تھے-

    ہم نے رک کر ویڈیو بنانے کی کوشش کی تو پنجاب پولیس نے بڑی سختی سے آگے بڑھنے کو کہا گجرانوالہ،و چکری انٹر چینج پہ بھی جلتی گاڑیاں بتا رہی تھیں کہ ان پہ خوب غصہ نکلا ہے ہم نے برق رفتاری سے اپنا سفر جاری کیا اور مردان سے انٹرچینج لیا کیونکہ اس وقت سوات تک موٹر وے ابھی زیر تعمیر تھی-

    مردان شہر میں داخل ہوئے تو سارا شہر بند تھا مجبوراً گاڑی تخت بھائی شہر میں لے گئے جہاں تخت بھائی کے مین بازار کو بند کیا گیا تھا مجبوراً واپس مڑے اور تخت بھائی کے کھیتوں کھلیانوں سے سفر کرتے ہوئے مینگورہ ( سوات) شہر پہنچے اور ہلکی پھلکی کشیدگی کی بو پا کر گاڑی کالام کی جانب موڑ لی مگر زیادہ دیر ہونے کے باعث وادی بحرین میں قیام کیا صبح سویرے کالام کیلئے روانہ ہوئے کیونکہ
    سوات میں برف باری شروع ہو چکی تھی اور کالام کا ٹمپریچر منفی 3 تک گر چکا تھا –

    تقریباً 40 کلومیٹر کی چڑھائی والا سفر طے کرکے ہم کالام پہنچے اور ہوٹل لے کر کالام ہوٹل کے ٹیرس پہ باربی کیو شروع کیا تاکہ تھکاوٹ بھی دور ہو اور گرمائش بھی ملےمیں نے ساتھیوں سے کہ کہا کہ نماز عشاء پڑھ لوں اور پھر آکر کر کھانا کھاؤں گا میں ہوٹل سے نکل کر کالام میں واقع کئی دہائیوں سال پہلے بنی تاریخی لکڑی سے بنی مسجد میں میں نماز پڑھنے چلا گیا جہاں مولانا سمیع الحق کی شہادت کی اطلاع ملی-

    مولانا صاحب کی شہادت کی خبر سن کر آنکھیں نمک ناک ہوئیں اور مجھے 2016 میں اسلام آباد کے ایک جلسے میں ان سے ہاتھ ملانے کا منظر یاد آ گیامیں نے بڑے پیار سے مولانا صاحب کی جانب ہاتھ بڑھایا تو مولانا صاحب نے بڑی گرم جوشی سے مصافحہ کیا تھا اور بلکل بھی احساس نا ہونے دیا کہ وہ ایک بہت بڑے عالم دین و سیاست دان ہیں-

    پورا صوبہ خیبرپختونخوا خاص کر مینگورہ سوات مکتبہ دیوبند کا گڑھ ہے سو مولانا سمیع الحق کی شہادت پہ یہ گمان ہوا کہ اب یہاں بھی حالات کشیدہ ہونگے مگر بفضل ربی کوئی واقعہ پیش نا آیا-

    مولانا کی شہادت پہ میں سوچنے پہ مجبور ہو گیا کہ ان کی شہادت سے قبل معروف سیاستدان و سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی وفات پہ پاکستان کا برا حال کیا گیا تھا اور اب کی بار اگر مولانا سمیع الحق کی جگہ کوئی معروف سیاستدان ہوتا تو یقیناً ان کی وفات پہ بہت بڑا ہنگامہ کھڑا کیا جاتا کیونکہ ہمارے ہاں یہ وطیرہ بن چکا ہے کہ اپنے لیڈر کی ایک کال پہ ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جاتی ہے اور اگر کوئی پارٹی کارکن حکم ربی سے طبعی موت بھی مر جائے تو اس پہ سیاست کرتے ہوئے ملک کے امن و امان کو برباد کرکے عوام کا نقصان کیا جاتا ہے –

    ماضی قریب و موجودہ ہنگاموں کو دیکھتے ہوئے میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ ہمیں رسم جمہوریت نے زیادہ مارا ہے اور مذہبی منافرت نے کم مولانا سمیع الحق رحمتہ اللہ کی چوتھی برسی پہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے آمین-

  • بڑھکیں نہیں مسائل حل ہونے چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بڑھکیں نہیں مسائل حل ہونے چاہئے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بین الاقوامی سیاست میں تبدیلی کے نقارے بج اٹھے ہیں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی پیداوار کو لے کر کشیدہ تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر اوپیکس ممالک نے امریکی صدر کے انتباہ کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اس وقت امریکہ اور شاہی خاندان کے تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں۔ خدشہ ہے کہ عالمی دنیا کی معیشت پر اس کے اثرات پڑیں گے۔ سعودی عرب اور امریکہ کے کشیدہ تعلقات کے اثرات عرب ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان، بھارت سمیت اس خطے پر بھی پڑیں گے۔ تاہم عالمی دنیا کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کی خبر رکھنے کے باوجود ہمارے حکمران اور اپوزیشن کے سیاستدان حلال ہے یا حرام ہے کی بحث میں پڑے ہیں،

    حکمران عمران کا مارچ کدھر سے آئے گا کدھر جائے گا کی بحث کر رہے ہیں جبکہ عمران خان خفیہ لانگ مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ دنیا میں کیا ہو رہا ہے کیا ہونے جا رہا ہے اس سے بے خبر ہمارے سیاستدانوں نے وطن عزیز کو کن بین الاقوامی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے پس پشت ڈال دیا ہے۔ معذرت کے ساتھ وطن عزیز کے راہزنوں اورر قزاقوں نے اپنی تجوریاں اپنے ذاتی خزانے بھرنے کے لئے ملک اور عوام کے مسائل سے آنکھیں بندکر لی ہیں۔حیرانگی کی بات ملک بحرانوں کا شکار ہے ہمارے سیاستدان اس بحث میں پڑے ہیں نیا آرمی چیف کون ہوگا کون ہونا چاہئے کیسا ہونا چاہئے ؟ ایسے کاموں میں ہاتھ ڈال رہے ہیں جو ان کا کام ہی نہیں ۔

    ملک کا آئین کیا کہتا ہے آئین کے مطابق اور سنیارٹی کے مطابق کون نیا آرمی چیف ہوگا اور پھر یہ معاملہ خالصتاً خود آرمی کا ہے کسی سیاسی جماعت کا نہیں اور نہ ہی ہونا چاہئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں وسیع تر ملکی اور قومی مفاد میں مل کر ماضی میں اپنے تئیں غلطیوں کا اعتراف کریں مکمل منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کی راہ ہموار کریں۔ کرپشن، بدعنوانی ،ذاتی مفادات ،اقربا پروری کو بالائے طاق رکھ کر قومی خدمت کا تہیہ کریں تمام آئینی ادارے اپنی حدود میں رہ کر قائداعظم کے تصور کردہ اصولوں کے مطابق ملکی نظام کو چلائیں ۔ ملک آج بھی بحرانوں کے گرداب سے نکل سکتا ہے۔ پرانی پنجابی فلموں کی طرح مرکزی حکومت اور اپوزیشن بڑھکیں مارنا چھوڑ دیں۔ ملک اور قوم کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ریاست بھی تھک چکی ہے ریاست اب اس طرز سیاست کرنے والوں کی بڑھک بازی کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصر ہے۔

  • مسلح افواج نے خود کو سیاست سے دور کرلیا، آرمی چیف

    مسلح افواج نے خود کو سیاست سے دور کرلیا، آرمی چیف

    مسلح افواج نے خود کو سیاست سے دور کرلیا، آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افواج پاکستان سیاست سے دور ہیں اور دور ہی رہیں گی، مسلح افواج اسی طرح رہنا چاہتی ہیں

    امریکا کے دورے کے دوران واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں ظہرانے کی تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شرکت کی، اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو بحال کرنا معاشرے کے ہر فرد کی ترجیح ہونی چاہیے، مضبوط معیشت کے بغیر قوم اپنے ٹارگٹ حاصل نہیں کرسکے گی اور مضبوط معیشت کے بغیر سفارتکار ی نہیں ہوسکتی

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ امریکا کے دورے پر ہیں جہاں ان کی جوبائیڈن انتظامیہ کے سینئر حکام سے ملاقاتیں جاری ہیں ،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کی امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر جیکب سلیوان اور نائب وزیرخارجہ وینڈی روتھ شرمین سے بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دوسری تین سالہ مدت پوری ہونے کے حوالہ سے کہا کہ وہ ریٹائرڈ ہو جائیںگے،انہوں نے سفارتخانے میں خطاب بھی کیا اور مہمانوں سے غیر رسمی بات چیت بھی کی،

    علاوہ ازیں مقامی میڈیا نے آرمی چیف کے ہمراہ ڈی جی آئی، سی جی ایس، اور ڈی جی ایم او کے دورہ امریکہ کی غلط خبر دی ہے

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں؟ — نعمان سلطان

    نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سوالات کے گھیرے میں؟ — نعمان سلطان

    ناگہانی آفات اور مسائل سے نبٹنے کے لئے حکومت نے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا قیام کیا، جس کا سربراہ کوئی بھی سول یا فوجی افسر ہو سکتا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے قیام کا بنیادی مقصد ناگہانی آفات کی صورت میں اداروں میں رابطے کے فقدان کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کی شرح کو کم کرنا، ختم کرنا اور تمام اداروں کا انفرادی کے بجائے اجتماعی کام کرنا تاکہ اداروں کے وسائل تقسیم یا ضائع ہونے کے بجائے مرکزیت کی وجہ سے تمام متاثرین میں برابر تقسیم ہوں۔

    ملک میں معمول سے زیادہ بارشیں ہونے اور ان کی وجہ سے سیلاب آنے کی پیش گوئی پہلے سے ہی محکمہ موسمیات نے کر دی تھی، ظاہری بات ہے ملک میں مناسب مقامات پر ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے ہم ان سیلابی ریلوں کو مینج نہیں کر سکتے تھے ۔

    اس صورت حال میں این ڈی ایم کی پہلی ترجیح تمام متعلقہ محکموں کی میٹنگ بلا کر انہیں ہنگامی صورتحال کے لئے تیار رہنے اور ان کی ذمہ داریوں کے بارے میں انہیں پیشگی آگاہ کرنا اور انہیں ان ذمہ داریوں کے لئے ضروری وسائل پیشگی اکٹھے کرنے کی ہدایات دینا تھی۔

    اس کے بعد این ڈی ایم اے کو متعلقہ محکموں کو ہدایت کرنا تھی کہ وہ سروے کریں کہ سیلاب آنے کی صورت میں کن علاقوں میں کٹ لگا کر سیلابی علاقوں کا رخ وہاں موڑا جائے تا کہ مالی نقصان یا انفراسٹرکچر کا نقصان کم سے کم ہو۔

    پھر این ڈی ایم اے کا کام سیلاب سے متوقع متاثرہ علاقوں کے رہائشی تمام لوگوں (جن کے شناختی کارڈ پر اس علاقے کا پتا "ایڈریس ” ہو) کو قریب ترین محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہے، متاثرین کو رہائش ترجیحی بنیادوں پر تمام سرکاری اور نجی اسکولز میں، اس کے بعد سرکاری عمارتوں میں اور سب سے آخر میں کھلے میدانوں میں خیمہ بستیاں لگا کر فراہم کرنا ہے ۔

    اس کے بعد متاثرین کو جن علاقوں میں منتقل کیا گیا ہو وہاں موجود بنکوں کو پابند کیا جائے کہ متاثرین کے اکاؤنٹ بائیو میٹرک کھولے جائیں اور انہیں بنک لاکر فراہم کئے جائیں اور اے ٹی ایم کارڈ فراہم کئے جائیں تا کہ امدادی کیمپوں سے جو نقدی اور قیمتی سامان چوری ہونے کا خدشہ یا شکایات ہوتی ہیں، وہ نہ ہوں اور متاثرین حسب ضرورت اے ٹی ایم کارڈ سے پیسے نکلوا سکیں ۔

    اس کے بعد متاثرین کو ان کے کوائف کے مطابق روزانہ راشن فراہم کیا جائے جبکہ نجی تنظیموں کو پابند کیا جائے کہ وہ متاثرین کو راشن حکومت کے تعاون سے فراہم کرے تا کہ راشن ضائع نہ ہو، امدادی کیمپوں میں میڈیکل کیمپ لگائے جائیں اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔

    متاثرین کو امدادی کیمپوں میں منتقل کرنے اور ان کی خوراک و ادویات کا انتظام کرنے کے بعد این ڈی ایم اے کی ذمہ داری تھی کہ وہ سیلابی پانی اترنے کے بعد کوائف کے مطابق اور اپنے دستیاب وسائل کے مطابق (بین الاقوامی اور حکومتی امداد) لوگوں کے ملکیتی مکانات کم از کم اسٹرکچر بنا کر دے اور لوگوں کی فصلوں کا جو نقصان ہوا اس کے انہیں نقد پیسے دے تاکہ وہ بحالی کے بعد دوبارہ حالات سازگار ہونے پر اپنی فصلیں دوبارہ کاشت کر سکیں ۔

    مکانات کی ملکیت اور فصلوں کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ این ڈی ایم اے متعلقہ اداروں کے ذریعے پہلے سے ہی لگوا سکتا تھا، متاثرین کی بحالی کے بعد این ڈی ایم اے کی ذمہ داری حکومت کو تمام متاثرین کا ڈیٹا فراہم کرنا ہے تاکہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر حکومت متاثرین کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے مناسب امداد دے۔

    این ڈی ایم اے کے ان قبل از وقت اقدامات کی وجہ سے سیلاب آنے کی وجہ سے جانی نقصان بالکل بھی نہیں ہونا تھا جبکہ مالی نقصان کم سے کم ہونا تھا، اکثر لوگ نقدی اور قیمتی اشیاء گھروں میں رکھتے ہیں امدادی کیمپوں میں ان کی چوری یا گمشدگی کا خدشہ ہوتا ہے جو کہ بنک میں رکھنے کی وجہ سے محفوظ ہو جاتیں ہیں ۔

    سیلابی پانی میں گھرے لوگوں کو امداد پہنچانا مشکل ہوتی ہے جبکہ تمام لوگوں کی امدادی کیمپوں میں منتقلی کی وجہ سے تمام متاثرین کو ان کے خاندان کی تعداد کے مطابق امدادی راشن بغیر کسی دشواری کے باعزت طریقے سے ملتا ہے ۔

    انفرادی حیثیت میں امداد جمع کرنے سے اس میں خردبرد کا امکان ہوتا ہے جبکہ حکومتی تعاون کی وجہ سے اس امداد کا بھی ریکارڈ ہوتا ہے اور امدادی کیمپوں میں کوائف کی بنیاد پر متاثرین کی منتقلی کی وجہ سے پیشہ ور اور جعلی متاثرین کا معلوم ہو جاتا ہے۔

    امدادی کیمپوں میں خوراک اور ادویات کی فراہمی تک تمام کام این ڈی ایم اے اپنے وسائل اور مخیر حضرات کے تعاون سے بآسانی کر سکتی تھی جبکہ متاثرین کی بحالی اور انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے لئے وسائل بین الاقوامی برادری سے ملنے والی امداد اور حکومتی اور مخیر حضرات کے تعاون سے فراہم کر سکتی تھی۔

    این ڈی ایم اے کے قیام کا مقصد اور تمام متعلقہ اداروں کو اس کے ماتحت کرنے کا مقصد اور وہ اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر کیا اقدامات کر سکتی تھی اور ان کے فوائد کیا تھے وہ سب آپ کو بتا دئیے۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا این ڈی ایم اے نے اپنی ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے پوری کیں یا وہ بھی ہماری قوم کے لئے ایک سفید ہاتھی ہے؟

    اس سوال کا جواب آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں ۔

  • سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے سب کو سیاست سے بالاتر ہو کر ساتھ چلنا چاہئے،گورنر پیجاب

    سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے سب کو سیاست سے بالاتر ہو کر ساتھ چلنا چاہئے،گورنر پیجاب

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے گورنر ہائوس لاہور میں سیلاب زندگان کی امداد کے لئے فلڈ ریلف فنڈ کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدگان کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں ایک ساتھ کام کر رہی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کے لیے سب کو سیاست سے بالاتر ہو کر بلا تفریق ساتھ چلنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سیلاب متاثرین کی حتی المقدور امداد فراہم کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر نگرانی سیلابی ریلوں میں اپنی جانوں کی بازی ہارنے والوں کے لواحقین کو اب تک 80فیصد امدادی چیک دیئے جا چکے ہیں۔

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے کہا کہ اس وقت ہمارا ملک شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف علاقوں میں تباہی اور بدحالی سے دوچار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صاحب ثروت افراد اور مالی وسعت رکھنے والے طبقے پر لازم ہے کہ وہ آزمائش اور مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کی بھر پور مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ قوموں پر مشکل وقت آتے رہتے ہیں وہی قومیں اپنی منزل حاصل کرتی ہیں جو اتحاد و یگانگت اور قوت ارادی کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں مخیر حضرات، فلاحی تنظیموں سمیت تمام لوگوں کو آگے آنا ہوگا اور ہم وطنوں کی بڑھ چڑھ کر مدد کرنا ہوگی۔
    اس موقع پر گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے مخیر حضرات کے سیلاب زدگان کی مدد اور بحالی کے حوالے سے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری نے ہمیشہ فلاح و بہبود کے کاموں میں اپنا حصہ ڈالا ہے ۔اس موقع پر گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے 31مئی 2022سے اب تک اپنی تمام تنخواہ سیلاب متاثریں کے لئے دینے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ بطور چانسلر انہوں نے یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو بھی ہدایت کی ہے کہ طلبا اور فیکلٹی ممبرز سیلاب زدگان کے لیے امدادی سامان اور ریلیف فنڈز اکٹھا کرنے میں کردار ادا کریں۔
    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے آخر میں مخیر حضرات کے تعاون سے سیلاب زدگان کیلئے 14 امدادی ٹرک بھی روانہ کیے۔اس موقع پر حذیفہ رفیق اور شاہد حسن شیخ بھی موجود تھے۔
    ٭٭٭٭
    دریں اثنا گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان نے آج پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں کو مراسلے کے ذریعے ہدایت کی ہے کہ جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے لیے فوری فلڈ ریلیف مہم شروع کی جائے ۔انہوں نے تاکید کی ہے کہ یونیورسٹی فیکلٹی اور طلبا سیلاب متاثرین کے لیے فنڈز، کپڑے، خوراک اور ضروری سامان اکٹھا کریں۔گورنر پنجاب نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیے اکٹھا کیا گیا فنڈ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب ریلف فنڈ میں جمع کرایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ جامعات فنڈز اپنے ترجیحی میکنزم کے ذریعے بھی سیلاب زدگان کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کی اس گھڑی میں اپنے سیلاب زدگان بہن، بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہمارا قومی فریضہ ہے۔