Baaghi TV

Tag: سیاست

  • چہرے بدلے باقی کچھ نہیں بدلا، تجزیہ : شہزاد قریشی

    چہرے بدلے باقی کچھ نہیں بدلا، تجزیہ : شہزاد قریشی

    رواں سال ملک میں جمہوریت کے لئے فیصلہ کن سال ہے اب یہ جمہوریت کے دعویداروں پر ہے کہ وہ کس طرح جمہوریت کی کشتی جو اس وقت ہچکولے کھا رہی ہے اس کو بچا پائیں گے یا پھر خود اس کشتی کو ڈبو دیں گے یہ جانتے ہوئے کہ ملک غیر جمہوری صدموں سے دوچار رہا ہے اس کے باوجود آج ایک بار پھر جمہوریت اور جمہوری ادارے ایک پھر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔

    جمہوری عمل کا فقدان ہماری تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہےملک کی تمام سیاسی جماعتیں اور سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے سوال ہے کہ ہر بار جمہوریت ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے کیوں؟ آج تک جمہوری عمارت مکمل نہیں ہوسکی ا س پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

    ہر نئے آنے والے نے عوامی حاکمیت کا نعرہ لگایا کسی نے عوام کی دہلیز پر انصاف پہنچانے کا دعویٰ کیا کوئی کشکول توڑنے کی بات کرتا رہا۔ کوئی قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگاتا رہا۔ کوئی اسلامی نفاذ کا نعرہ لگاتا رہا۔ کوئی غربت مٹائو کا نام دیتا رہا۔ کوئی روٹی کپڑا مکان کا خواب دکھاتا رہا لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلتی رہی اقتدار حاصل کرنے کے بعد ان کے لب و لہجہ تبدیل ہوتے رہے۔ دعوئوں اور وعدوں کی جگہ مجبور یوں، تکبر اور غرور کی حدوں کو عبور کرتے رہے۔

    آج کا منظر نامہ بھی پرانی سیاسی تاریخ کے منظر نامے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کی اکثریت آج بھی مستحکم جمہوری نظام کی تلاش میں ہیں۔ عمران خان کی حکومت کے بعد پی ڈی ایم کی حکومت کا نعرہ غربت مکائو کا نعرہ چند مہینوں میں ہی بے نقاب ہو گیا تمام خواب قوم کی پلکوں سے پھسل کر زمین پر آگرے یوں محسوس ہوتا ہے چہرے بدلے ہیں کچھ نہیں بدلا۔

    عمران خان کے جانے کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ غربت، بیروزگاری، مہنگائی، بھوک افلاس عوام کی حالت پہلے سے بھی بدتر کر دی ہے۔ عمران حکومت اگر عوام کو لولی پاپ دیتی رہی تو یہ پی ڈی ایم کی حکومت اپنی ناکام پالیسیوں کا سارا ملبہ پچھلی حکومت پر ڈال رہی ہے۔ تاہم عوام کی تقدیر اور نصیب کے دامن کسی فقیر کے کاسہ گدائی کی طرح خالی کے خالی ہی رہے۔

    پوری قوم بند گلی میں کھڑی ہےاسےراستہ نہیں مل رہامسلم لیگ (ن) کی موجودہ لیڈر شپ ہو یا پیپلزپارٹی کی پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی۔ ملک اور قوم کے مسائل سے نکالنا ان کے بس کی بات نہیں مسلم لیگ (ن) کے قائدنوازشریف اس ملک کے تین بار وزیراعظم رہ چکے جو محمد شہبازشریف کے پاس وہ تجربہ نہیں جو نوازشریف کے پاس ہےنوازشریف ستمبر میں وطن واپسی کی خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔

  • عمران خان کا مقابلہ نواز شریف ہی کر سکتا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

    عمران خان کا مقابلہ نواز شریف ہی کر سکتا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

    موجودہ حالات میں فہم و فراست اور سوجھ بوجھ کا مظاہرہ ہی ملک میں جمہوریت کو دوام اور جمہوری اداروں کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ باقی تمام راستے غلط ہیں۔ جمہوریت میں سیاسی رونقیں ہونی چاہئیں بلکہ عروج پر ہونا چاہئے۔ بلاشبہ عمران خان کی تحریک انصاف حقیقت ہے افسانہ نہیں لیکن آصف علی زرداری کی قیادت میں اس جماعت کو دیوار سے لگانے کی جو کوشش کی جا رہی ہے اور جن راستوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے کیا وہ راستہ جمہوری ہے؟ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو بھٹو کو ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے پھانسی لگا دی گئی تھی کیا تادم تحریر آج کی پیپلزپارٹی بھٹو کے نام سے ووٹ حاصل نہیں کر رہی؟ کیا بھٹو کی جماعت کو کوئی طاقت ختم کر سکی؟

    مشکل وقت،جذبے سے کام لینا ہو گا،تجزیہ : شہزاد قریشی

    بلاشبہ عمران خان بھٹو نہیں لیکن ملک میں اس وقت تحریک انصاف کو مقبولیت حاصل ہے بالخصوص نوجوان طبقہ عمران خان کو اپنا ہیرو سمجھتا ہے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں جن میں شہباز شریف سمیت مولانا فضل الرحمٰن، آصف علی زرداری، عوام میں کتنے مقبول ہیں؟ مسلم لیگ (ن) میں آج بھی نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز مقبول ترین ہیں آج بھی اگر نوازشریف پنجاب میں خود موجود ہوں تو وہ عمران کا سیاسی اور جمہوری طریقے سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ نوازشریف کی مقبولیت کا اندازہ 1990ء سے لے کر 1993ء تک بخوبی لگایا جا سکتا ہے نوازشریف کی کامیاب سیاسی حکمت عملی نے پنجاب میں کسی دوسری جماعت کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔

    عمران خان کے بیانیہ پر ن لیگ کیسے حاوی ہو سکتی؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    پیپلزپارٹی کے سنجیدہ اور بھٹو کے قریبی دوستوں کو یاد ہوگا پیپلزپارٹی کے وجود کو ختم کرنے کے لئے ایم کیو ایم معرض وجود میں آئی کیا صوبہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے وجود کو ختم کیا گیا؟ اس لئے آصف علی زرداری کو تاریخ سے سبق حاصل کرنا ہوگا ۔ان دنوں ملکی سیاست میں پردے کے پیچھے بہت کچھ جاری ہے چلئے عمران خان کو مائنس کر دیا گیا، وہ نااہل ہو گیا لیکن کیا نوازشریف کو نااہل اور سزا دے کر ان کی جماعت کو ختم کر دیا گیا نوازشریف آج بھی عوام میں مقبول ہیں۔ کیا مریم نواز کو سزا دی گئی کیا مریم نواز کی مقبولیت ختم ہو گئی۔

    سیاسی انتشار کی وجہ قیادت کا فقدان، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بھٹو کا نام ختم ہو گیا کیا محترمہ بے نظیر بھٹو آج بھی عوام کے دلوں اور دماغ میں زندہ نہیں؟ اسی طرح عمران کا سیاسی مقابلہ کرنے کے بجائے جن راستوں کاانتخاب پی ڈی ایم کر رہی ہے اس سے عمران خان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ جس طرح بھٹو اوران کی بیٹی موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کا استقبال کیا بہت کم سیاستدان ہیں جو اس طرح کے بہادر ہیں۔ عمران خان بھی معلو م نہیں کتنا بہادر ہے تاہم ان کا سیاسی مقابلہ نوازشریف ہی کر سکتا ہے ۔ وطن عزیز میں سیاستدانوں کا رویہ سیاست کو مقتل گاہ کی طرف لے کر جا رہا ہے ۔

  • سیاست میں عزت و احترام کے قائل ہیں،چودھری پرویزالٰہی

    سیاست میں عزت و احترام کے قائل ہیں،چودھری پرویزالٰہی

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے سیکرٹری جنرل وفاق المدارس العربیہ پاکستان مولانا محمد حنیف جالندھری اور سیالکوٹ سے رکن پنجاب اسمبلی احسن سلیم بریارنے ملاقات کی.

    آسمانی طاقت اور عوام عمران خان کے ساتھ ہیں،شیخ رشید

    ٰمولانا محمد حنیف جالندھری نے نکاح نامے میں ختم نبوتؐ کے حلف نامے کی شق شامل کرنے پر وزیر اعلی چودھری پرویزالٰہی کے مثالی اقدام کو سراہا

    مولانا محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ آپ کا یہ احسن اقدام دین کی بڑی خدمت ہے، اقدام انتہائی قابل قدر ہے جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،صوبے میں مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ کیلئے آپ کی سربراہی میں پنجاب حکومت نے بہترین اقدامات کئے ہیں۔

     

    پنجاب حکومت کا شریف خاندان سے تمام اضافی سیکیورٹی واپس لینےکا فیصلہ

     

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ نکاح رجسٹرار کو ختم نبوت ﷺ کے حلف نامے والے نئے فارم فراہم کرنے کے لئے متعلقہ محکمے کو ہدایات جاری کردی ہیں، نئے فارم نہ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ نیا نکاح فارم استعمال نہ کرنے والے نکاح رجسٹرار کو 1 ماہ قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

    چودھری پرویزالٰہی نے مذید کہا کہ یوم عاشور پر مذہبی رواداری کے فروغ کے علماء کرام کے کردار کے معترف ہیں۔پنجاب حکومت تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کے مثالی تعاون کو تحسین کی نظر سے دیکھتی ہے۔علماء کرام کے تعاون اور حکومتی اقدامات کے باعث امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے،حافظ عمار یاسر اور رمیش خان بھی اس موقع پر موجود تھے

    علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی سے سیالکوٹ سے رکن پنجاب اسمبلی احسن سلیم بریارنے ملاقات کی ہے.پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما سلیم بریار اور صوبائی وزیر راجہ بشارت بھی اس موقع پر موجود تھے

    وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہٰی نے کہا کہ ووٹ کو عزت دو کا کھوکھلا نعرہ اپنی موت آپ مرچکا ہے، پاکستان میں صرف دیانتداری کی ہی سیاست چلے گی،عوام نے ضمنی انتخابات میں پی ڈی ایم اے کی منفی سیاست کو دفن کر دیا، سیاست میں عزت و احترام کے قائل ہیں،آپ سب میری ٹیم ہیں، مل کر صوبے کے عوام کی خدمت کرنی ہے، جلد سیالکوٹ کا دورہ کروں گا-

  • گلیاں ہو جاون سُنجیاں — حسام درانی

    گلیاں ہو جاون سُنجیاں — حسام درانی

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اتنے اتار چڑھاو ہیں کے سیاست کے طالبعلم سیاسیات میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی اس سوچ میں ہوتے ہیں کے کونسا سسٹم ملک عزیز میں چل رہا ہے، برصغیر میں ایک وقت میں جہاں گاندھی جیسا زیرک سیاست دان تھا تو دوسری جانب قائد اعظم سواسیر کی شکل میں سامنے تھے، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا رہا انکے پیشرو اس قابل ہی نا تھے کے وہ گاندھی یا قائد کی وراثت کو آگے لے جاتے جسکا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

    خیر بات کرتے ہیں پاکستان کی تو حالیہ لاٹ میں موجود سیاست دانوں کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دیکھانے کے برابر ہے مطلب ” اللہ دے اور بندہ لے”

    پاکستان کی سیاست میں سب سے بڑا کردار ہمیشہ سے ہے عدلیہ کا رہا ہے، بطور سیاست کے طالبعلم کے احقر ہمیشہ عدلیہ کو ایک ایسے مقام پر دیکھتا رہا جس کے باے میں بات کرنا یا غلط سوچنا بقول لکھاری

    ” اس مقام پر فرشتوں کے پر جلتے ہیں”

    لیکن 1947 سے لے کر تا دم تحریر الحمداللہ عدلیہ نے ہمیشہ نظریہ ضرورت کو ہی پاکستان کی سیاست میں رائج کیا، اور ہمیشہ وقت کے بادشاہ کا ساتھ دیا جیسے ایک وقت میں یورپ چرچ کے طابع تھا ویسے ہی مقننہ ہمیشہ سے ہی عدلیہ کے طابع رہی بلکہ حالیہ دنوں میں تو کسی بھی قسم کی قانون سازی کی سہولت بھی مقننہ سے لے کر عدلیہ نے اپنے پاس رکھ لی اور دے پر دے فیصلوں کے بعد یہ کہتے نظر آئے کے اگر ہمارا کوئی فیصلہ غلط تھا تو اسکو درست کرنے کا ہمیں پورا اختیار حاصل ہے، خیر” دروخ با گردن راوی” سانوں کی تے تینوں کی۔۔۔

    ویسے آجکل جو حالات ہم دیکھ رہے ہیں وہ بطور صحافی یا ٹی وی پروگرام پروڈیوسر گزشتہ 9 سال سے دیکھ رہے ہیں، اگر سہوا کچھ قلم سے الفاظ تحریر بھی ہو جائیں تو ڈر لگ جاتا ہے کے کہیں تو ہین عدالت کے مرتکب نا ہو جائیں، کہیں کسی ادارے کا فون نا آ جائے کہیں ہتک سیاسی کے ذمرے میں نا آ جائیں اور اگر ان تما م سے بچ جائیں تو توہین مذہب اور توہین ریاست کی انتہائی گہری اور لمبی چوڑی کھائی سامنے نظر آ رہی ہوتی ہے۔۔

    میرا یار بوٹی اکثر مجھے کہا کرتا ہے کے اگر تم چاہتے ہو کے لوگ تمہاری بات سنیں تو کچھ نا بولو، چاہتے ہو کے لوگ تمہارے کہے پر عمل کریں تو کچھ نا لکھو، پہلے تو اس بات کی سمجھ نہیں آتی تھی لیکن اب آہستہ آہستہ بات کی سمجھ آ تی جا رہی ہے، لیکن میرا یار خاص ایجنٹ ایکس ہمیشہ ایک ہی بات کرتا ہے کے انسان جب تک زندہ ہے اسکو کھرک رہتی ہے ۔۔۔۔ آگے آپ سب سمجھ دار ہیں
    بات تو کہیں کی کہیں نکل گئی ، قصہ مختصر یہ کے ” گھسن نیڑے یا رب نیڑے” ویسے تو اس وقت ملک میں عدلیہ ہی سب سے ہاٹ فیورٹ ہے یار لوگ اسکی کے فیصلوں پر لڈیاں ڈالتے ہیں اور ساجا، ماجا گاما اپنا ساڑ نکالتے ہیں، لیکن جو بھی ہے ہر دو فریق جو کبھی فاعل، یا مفعول کی حالت میں رہتے ہیں کچھ دنوں کے بعد اپنا بابا اوپر رکھنے کے لئے تکڑی والے بابا کے پاس پہنچ جاتے ہیں اب تکڑی والے بابا کی مرضی وہ جسکی روٹی میں سے حصہ نکال کر خود کھا لے یا دوسرے پلڑے میں رکھ دے، اس معاملے میں کبھی میرا یار بوٹی خوش ہوتا ہے یا پھر میرا یار ایجنٹ ایکس نہال، لیکن ہر دوصورت میں ہمارے پاس بیچنے کے لئے منجن وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

    لیکن اگر بات حق و سچ کی ہو تو میرا ہیرو تمہارا ولن ، مطلب جو چیز میرے حق میں ہو وہ ہی سچ ہے اور باقی سب جھوٹ، اب اگر حالیہ حالات کو دیکھا جائے تو تمامتر ملکی سیاسی جماعتیں ، تمامتر ہائیکورٹس و سپریم کورٹس کی بار کونسلز ، اور 12 ججز ایک جانب لیکن ہم خیال تکڑی والے بابے سمیت ایک سیاسی پارٹی ایک جانب۔

    2018 کے اوائل میں بھی حالات ایسے ہی تھے جب اس وقت کے بابے نے چن چن کر تمامتر ممکنہ رکاوٹوں کو یا تو جیل کی ہوا کھلائی یا انکو اس قابل ہی نا چھوڑا کے وہ کسی ایک مطلب ایک کے مقابلے میں نا آ سکیں ، وہ سابقہ بابا جی اپنے ہر فیصلہ کے بعد کسی کوفیض یاب کرنے کے بعد کہا کرتے تھے کے انکے فیصلے تاریخ کا حصہ بنتے ہیں اور جب کوئی ناہنجار انکے سامنے انکے ہی کسی پرانے فیصلہ کا حوالہ دیا کرتا تھا تو اسکی کھنچائی کر دی جاتی تھی کے تم ہوتے کون ہو میرے سابقہ فیصلے کو میرے سانے دہرانے والے اس وقت اس فیصلہ کی ضرورت تھی اب نہیں

    ایک وہ وقت تھا اور اب ایک یہ وقت ہے جب قاضی القضاء اس بات کو خود ہی دہرانے پر مجبور ہو گئے ہیں کے وہ نہایت پرہیزگار، عبادت گزار و متقی ہیں وہ جو بھی فیصلہ کریں وہ وقت کی ضرورت ہے ابھی حالیہ دنوں میں جب انکو کہا گیا کے جناب اپکا سابقہ فیصلہ یہ تھا تو انہوں نے فرمایا بے شک وہ فیصلہ غلط تھا لیکن وہ اس وقت ضروری تھا اور اب جو فیصلہ دے رہا ہوں وہ اس وقت کی ضروت ہے۔۔۔
    بقول میرے منشی کے ” بگے نک آلے کتورے دی جوٹھ حلال اے”

    اور تکڑی والے بابا جی کے حالیہ معرکتہ آلارا فیصلہ کے بعد سامنے آئی۔۔۔

    اب بابا جی نے بنواس لے لیا ہے اور سوہنا ہر سو یہ گاتا پھر رہا ہے ۔۔

    گلیاں ہو جان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے

  • قومی سلامتی کے اداروں پر ذمّہ داری بڑھ گئی: تجزیہ:-شہزاد قریشی

    قومی سلامتی کے اداروں پر ذمّہ داری بڑھ گئی: تجزیہ:-شہزاد قریشی

    ملکی معیشت اور سیاست کے افق پر غیر یقینی کے بادل گہرے ہو گئے ۔ جاری سیاسی رسہ کشی اور اقتدار کی جنگ نے ایک خطرناک نہج اختیار کرلی۔ جس پر قومی سلامتی کے اداروں پر بہت بڑی ذمہ داری آن پڑی ہے۔ سیاسی کشمکش کے زہریلے اثرات نہ صرف معیشت بلکہ مقتدر حلقوں کی صفوں میں سرایت کرتے جا رہے ہیں۔

    وقت آن پڑا ہے کہ مقتدر حلقے اور سیاسی زعماء سرجوڑ کر بیٹھیں۔ ماضی کی غلطیوں، غلط فیصلوں، کوتاہیوں کو خلوص دل سے تسلیم کر کے اور کروا کے مستقبل میں اپنی حدود اور قیود کا نئے سرے سے تعین کریں اور فیصلہ کریں ملک میں معاشی استحکام ہو۔ ذاتی پسند ناپسند اپنی مرضی کے ججوں، جرنیلوں، دوسرے اہم اداروں میں تعیناتیوں کی دوڑ میں ہم آج اس مقام پر کھڑے ہیں۔ اگر اس وقت بھی اقتدار اور اقرباء کی حوس کو لگام نہ ڈالی گئی اور جج میرا جنرل میرا وزیراعظم میرا وزیراعلیٰ میرا چیئرمین۔ میرا میم ڈی میرا وزیر خارجہ میرا وروزیر خزانہ کی رٹ جاری رہی تو ملک اور عوام کو اس کا مزید نقصان ہو سکتا ہے۔

    اس وقت ایک اخلاص محبت الوطنی اور سچائی کے جذبے کی ضرورت ہے جو ذاتیات سے بلند ہو کر اعلیٰ ذہانت اور بے لوث قیادت کے ساتھ وطن عزیز کو سیاسی و معاشی منجدھار سے نکالے اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں ملکی سیاسی گلیاروں میں افواہ پھیلانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ ملکی قومی سلامتی کے اداروں کو اپنی اصلاح کرنے کا پیغام دینا ہرذی شعور پاکستانی کا حق ہے مگر تواتر کے ساتھ پاک فوج اور ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید ملک کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

    ملکی حالات کے پیش نظر سیاستدانوں کو قومی سلامتی کے اداروں پر الزام تراشی سے گریز کرنا چاہئے۔ عراق، لیبیا، شام، افغانستان ، آج اگر کھنڈرات کی شکل اختیار کر چکے ہیں ان ممالک میں قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنایا گیا عالمی طاقتوں نے کمزور قومی سلامتی کے اداروں کو دیکھ کر ان ممالک کا حشر نشر کر دیا آج یہ ممالک عبرت کا نشان ہیں ان ممالک کو دیکھ کر ہمارے سیاستدانوں کو اقتدار کی حوس میں اپنے قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ ہم اپنے جن قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اگر کسی باہوش بھارتی سے پوچھیں تو وہ ڈرتا بھی انہی اداروں سے ہے۔

  • 17 جولائی کو لوٹے کی سیاست ہمیشہ کے لئے دفن کردیں گے،یاسمین راشد

    17 جولائی کو لوٹے کی سیاست ہمیشہ کے لئے دفن کردیں گے،یاسمین راشد

    پاکستان تحریک انصاف سنٹرل پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد ، جنرل سیکٹری حماد اظہر ، امیدوار ملک نواز اعوان عمر ڈار شبیر سیال اور نادر بھٹی نے بابر چوک یوسی 229 پی پی 168 میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہے 11 کرپٹ جماعت اکٹھی ہونے کے باوجود بھی تحریک انصاف سے خوفزدہ ہیں ، ناجائز حکمرانوں کا ٹولہ مل کر بھی عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکتا .

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کا بیانیہ مضبوط ہے ناجائز حکمران امریکا سے مل کر پی ٹی آئی کی حکومت پر شب خون مارا نا جائز طور پر ملک پر قابض ہوا اور این ار اوٹو حاصل کیا پی پی 168 کا لوٹا حلقے میں خریدو فروخت کررہا ہے حلقے کی با شعورعوام 17 جولائی کو لوٹے کی سیاست اسی حلقے میں ہمیشہ کے لئے دفن کردیں گے لوٹوں کا ٹولہ عوام کو گمراہ نہیں کر سکتا لوٹوں کا کوئی مستقبل نہیں نوٹوں کا نظریہ صرف پیسہ ہے لوٹوں سے عوام نفرت کرتے ہیں اور 17 جولائی کو لوٹوں کی سیاست کو مسترد کریں گے

    راسمین راشد کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف بڑے مارجن سے 20 نشستیں جیتے گی ناجائز پنجاب کی حکومت کا خاتمہ ہونے والا ہے نون لیگ ضمیر فروشوں چوروں ڈاکوؤں اور لٹیروں کی جماعت بن چکی ہے مہنگائی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے عوام خود کشی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں چور ڈاکو اقتدار کے منصب پر قابض ہے 17جولائی پنجاب کے باشعور عوام پی ٹی آئی کے حق میں اپنا تاریخ ساز فیصلہ دیں گے اور پی ٹی آئی ضمنی انتخابات جیت کر پنجاب میں اپنی حکومت بنائے گی بکنے والوں لوٹوں کا عوام محاسبہ کریں گے شکست لوٹوں کا مقدر بن چکی ہے جھوٹوں کی نانی مریم نواز بڑھکیں مارکر عوام کو بے وقوف نہیں بنا سکتی عوام شریف خاندان کی حیثیت کو جانتے ہیں بیرون ملک عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں پر عیاشی اور محلات بنانے والوں کا چہرہ پاکستانی قوم پہچانتی ہے شریف اور زرداری خاندانوں نے گیارہ سو ارب روپے چوری کیا کیا گیا پیسہ قوم کا ہڑپ کر لیا ہے عوام ان کو ووٹ نہیں دیں گے

  • سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    سیاستدانوں کی سیاست سےاُکتاگیاہوں:تجزیہ:-شہزادقریشی

    پاکستان بطورریاست اور عام آدمی کے مسائل کو دیکھ کر سیاستدانوں کی سیاست سے اُکتا گیا ہوں۔ جھوٹ، نفرت ، الزام در الزام کی سیاست کی رونقیں عروج پرہیں۔ خود سیاستدان اوچھی حرکتوں سے خبروں میں ہیں۔ اوچھی حرکتوں سے ان سیاستدانوں نے 75سالوں سے اس ریاست کے ساتھ ایسے ایسے کھیل کھیلے کہ آج پاکستان بطور ہر لحاظ سے کنگال ہو چکی یا اسے کنگال کردیا گیا ہے۔ فوجی حکمرانوں نے بھی اقتدار کے مزے لوٹے آج پاکستان کے جو حالات ہیں۔ اس کار خیر مین سب کا حصہ ہے۔ ایک دوسرے کی آڈیو ویڈیو کی سیاست کا دور آچکا ہے۔ پردہ سکرین کے پیچھے کی خبروں سے عوام بے خبر نہیں باخبر ہو چکے ہیں۔

    پیپلزپارٹی کسی زمانے میں نظریاتی جماعت تھی جب سے جناب آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کی کمانڈ سنبھالی ہے نظریات دفن ہو چکے ہیں مفادات کو سامنے رکھ کر پیپلزپارٹی والے سیاست کررہے ہیں تاہم پیپلزپارٹی کو انہوں نے سندھ تک محدود کردیا ہے۔ اقتدار کی سودے بازی میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں اپنی زندگی میں اپنے بیٹے بلاول بھٹو کو وزارت عظمی کی کرسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ا س سلسلے میں بلاول بھٹو نے بطور وزیر خارجہ ریہرسل شروع کردی ہے۔ دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف واقعی ایک شریف آدمی ہیں نواز شریف فوج کے خلاف نہیں وہ آئین نے جو حدیں مقرر کیں اپنی اپنی حدود میں رہ کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کا نعرہ بلند کرتے ہیں ان کی جماعت ہی کے کچھ افراد کی عادات آصف علی زرداری سے ملتی جلتی ہیں انہوں نے نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز کی مقبولیت کو دیکھ کر ایسی سیاست کا انتخاب کیا جس سے اُن کو اقتدار تو مل گیا مگر مسلم لیگ (ن) کے بڑھتے ہوئے گراف کو نقصان پہنچا دیا

    آج اقتدار توپی ڈی ایم جماعتوں کا ہے مگر عوام کی اکثریت(ن) لیگ پر الزام لگاتی نظر آرہی ہے ۔نواز شریف کو بے غرض اور بے لوث مشورے دینے والے بہت کم تعداد میں ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہے ۔ میر ے نزدیک اُن کی جماعت تحریک انصاف بھی خطرے میں ہے آگے چل کر یہ جماعت بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والی ہے شکاریوں نے جال پھینک دیا ہے۔ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں فوج اپنے شاندار قومی سلامتی ملکی بقا کے فریضہ کو چھوڑ کر خود غرض اور لالچی سیاستدانوں کی سیاست میںکیسے دخل دے سکتی ہے ۔ مہنگائی ،بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عام آدمی سے جینے کا حق چھین لیا ہے ۔ بجلی جس کی نایابی کے لیے عوام فریادی ہیں ۔ بجلی نہ ہوئی قہر خداوندی ہوا دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئیں ہم آجتک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا رونا رو رہے ہیں خدا کی پناہ لوگوں کے کاروبار بھی بند کررہے ہیں۔

     

     

     

    سیاستدانوں کی سیاست سے اکتا گیا ہوں:

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • اب سیاست پنجاب بیٹھ کر کروں گا،آصف زرداری

    اب سیاست پنجاب بیٹھ کر کروں گا،آصف زرداری

    پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ اب پنجاب میں بیٹھ کر سیاست کریں گے.

    سابق صدر آصف زرداری نے بلاول ہاؤس لاہور میں پیپلزپارٹی لاہور ڈسٹرکٹ 1 اور پیپلزپارٹی لاہور ڈسٹرکٹ 2 کے کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی اور قومی سیاست میں ہمیں بات چیت کرنی پڑتی ہے اور اس بات چیت کے دوران سامنے والے کے ردعمل سے اندازہ لگا کر صحیح فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ میں اب پنجاب میں بیٹھ کر سیاست کروں گا اور پنجاب میں پارٹی کو کارکنوں کے ساتھ مل جل کر کھڑا کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کی طویل جدوجہد ہے ۔ پنجاب کی نئی حکومت سے پارٹی کے لوگوں کی توقعات کو پورا کرنے کی کوشش کروائی جائے گی۔

    اجلاس میں رانا فاروق سعید، ثمینہ خالد گھُرکی، اسلم گل، شاہد عباس،احمد رضا اور اسرار بٹ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں شہزاد سعید چیمہ ، حاجی عزیزالرحمن چن، فیصل میر ، جمیل منج اور افنان بٹ بھی موجود تھے۔

    آصف زرداری ان دنوں لاہور میں موجود ہیں اور لاہور سے پارٹی کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں ،آصف زرداری نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا اور پنجاب کے سیاسی معاملات پر مشاورت بھی کی .

    بلاول ہاوس لاہور میں سابق صدر آصف زرداری اور وزیراعلی پنجاب حمزہ شہبازکے درمیان ملاقات میں ضمنی الیکشن مل کر لڑنے پر اتفاق کیا گیا تھا.علاوہ ازیں سابق صدر آصف زرداری اپنے لاہور قیام کے دوران مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے گھر بھی گئے اور ان کی خیریت دریافت کی تاہم دونوں رہنماوں نے ملک کی سیاسی صورتحال پر مشاورت بھی کی ،اس موقع پر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین پلک کا آثاثہ ہیں،جبکہ شجاعت حسین کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ وہ حکومت کے اتحادی ہیں اور رہیں گے.

  • عمران خان کو 3 روز جیل میں رکھا جائے تو اس کی سیاست نکل جائے گی،رانا ثناءاللہ

    عمران خان کو 3 روز جیل میں رکھا جائے تو اس کی سیاست نکل جائے گی،رانا ثناءاللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ دعا کریں عمران خان کی گرفتاری کی اجازت مل جائے عمران خان کو 3 روز جیل میں رکھا جائے تو اس کی سیاست نکل جائے گی-

    باغی ٹی وی : لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا ان کی خواہش ہے کہ عمران خان کو اسی سیل میں رکھا جائے جہاں انہیں رکھا گیا تھا لیکن ایسے فیصلے اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کے بغیر نہیں کیے جا سکتے عمران خان کو 3 روز جیل میں رکھا جائے تو اس کی سیاست نکل جائے گی۔

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے متعلق بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا پرویز الٰٗہی پہلے اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ پھر اجلاس بلائیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کی رہنما کی گرفتاری سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ کا کہنا تھا شیریں مزاری کی گرفتاری میں حکومت کا یا کسی اور کا عمل دخل نہیں ہے۔

    رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بھنور سے نکالنے کے لیے ہمیں اور اداروں کو مزید زور لگانے کی ضرورت ہے، اتحادی جماعتیں ملک کو مشکل سے نا نکال سکیں تو کوئی حادثہ ہو جائے گا۔

    ان اوچھے ہتھکنڈوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے : علی حیدر زیدی

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما شفقت محمود نے رانا ثنااللہ کے عمران خان کو گرفتار کرنے سے متعلق بیان کی مذمت کی ہے،شفقت محمود نے کہا کہ رانا ثنا اللہ نے اگر ایسی حرکت کی تو پوری قوم سراپا احتجاج ہو گی،پی ٹی آئی کے کارکنان اور قوم عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں-

    شفقت محمود نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کے ہاتھ ماڈل ٹاون کے معصوم شہریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں،امپورٹڈ حکومت عوام کی خدمت کی بجائے اپنے کیسز میں ریلیف کے چکر میں ہیں امپورٹڈ حکومت چاہتی ہے عدلیہ ان کے غیر قانونی اقدامات کا نوٹس نہ لے آئندہ الیکشن میں ان کو اپنی سیاسی اوقات کا اندازہ ہو جائے گا-

    کراچی جلسے کی کامیابی مولانا فضل الرحمن کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے : نور سلیم

  • آج کل سیاست اور فوج کو موضوعِ بحث بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، چوہدری شجاعت

    آج کل سیاست اور فوج کو موضوعِ بحث بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، چوہدری شجاعت

    گجرات :سابق وزیراعظم ملک کی سیاسی صورت حال سے پریشان ،اطلاعات کے مطابق n

    سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ آج کل سیاست اور فوج کو موضوعِ بحث بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق چوہدری شجاعت حسین نے اپنی رہائش گاہ پر مسلم لیگی رہنماؤں سینیٹر کامل علی آغا، جواد بھلی، شافع حسین اور رضوان ممتاز علی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کل سیاست اور فوج کو موضوعِ بحث بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ فوج کا سیاست میں کردار ہونا چاہئے یا نہیں، سیاست کا ڈکشنری میں مطلب اصلاح احوال ہے اور اس کا مطلب سیاسی، معاشی اور سماجی حالات درست کرنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہنگامی صورتحال ہو تو ملکی سلامتی اور بقا کیلئے حکومت اور افواج پاکستان کے درمیان تعاون لازم ہے کہ فوج اور حکومت باہمی اتفاق رائے سے فیصلہ کریں۔

    چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ حکومت کا اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے دفاعی اخراجات کو جواز بنا کر اپنی سیاست چمکانے اور تالیاں بجوانا انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ قرار دیا جانا چاہیئے، لیکن افسوس ہے کہ ایسے افراد قومی مفادات کو مد نظر رکھنے کی بجائے جلسوں میں تالیاں بجوانے اور نعرے لگوانے کیلئے ملک دشمن قوتوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جہاں تک سیاسی حکومت کے فرائض کا تعلق ہے اسے چاہیئے کہ وہ ملکی سلامتی اور بقا کو یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے، جب ضرورت پڑے تو آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے سیکیورٹی ایجنسیز افواج پاکستان کو اپنی مدد کیلئے طلب کرے، اس سلسلے میں تمام مالی و دیگر وسائل بروے کار لائے۔

    چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ حکومت معاملات کو سلجھانے میں اگر ناکام ہو جاتی ہے تو ملکی سلامتی کو خطرات لا حق ہو سکتے ہیں۔

    سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین کا مزید کہنا تھا کہ اگر سول حکومت ایسی سنگین صورتحال میں وسائل فراہم کرنے میں ناکام ہو تو میری نظر میں افواج پاکستان اور سیکیورٹی ایجنسیز ملک کو ایسی سنگین صورتحال میں بھی خطرات سے باہر نکالنے کی ذمہ دار ٹھہرائی جائے گی۔