Baaghi TV

Tag: سید مراد علی شاہ

  • وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی وزیر رانا تنویر کی نیو سندھ سیکریٹریٹ میں ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی وزیر رانا تنویر کی نیو سندھ سیکریٹریٹ میں ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیقات اور صنعت و پیداوار رانا تنویر نے نیو سندھ سیکریٹریٹ میں ملاقات کی اور پاکستان اسٹیل ملز کی اضافی زمین پر انڈسٹریل پارک کے قیام، اسٹیل ملز کی بحالی اور مجوزہ نیشنل فوڈ سیفٹی، اینیمل اینڈ پلانٹ ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سمیت کئی اہم اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

    ملاقات میں صوبائی وزیر صنعت جام اکرام دھاریجو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ ، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور سینیئر ممبر بورڈ آف ریوینیو بقااللہ انڑ نے شرکت کی۔ رانا تنویر کی معاونت وفاقی سیکریٹری این ایف ایس آر وسیم اجمل چوہدری، ڈی جی وقاص عالم اور سی ای او پی آئی ڈی سی رضوان بھٹی نے کی۔وزیراعلی مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر رانا تنویر نے پاکستان اسٹیل ملز کی 3200 ایکڑ زمین پر انڈسٹریل پارک کے قیام پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراعلی سندھ نے نشاندہی کی کہ یہ زمین پہلے ہی پاکستان اسٹیل ملز لمیٹڈ کے نام پر رجسٹرڈ ہے جس پر وفاقی وزیر نے عندیہ دیا کہ زمین کی نوعیت کو کمرشل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ وفاقی وزارت تجارت اور پیداوار صوبائی حکومت کو خط کے ذریعے زمین کی تبدیلی کی درخواست کرے گی تاکہ حکومت سندھ ضروری کاغذی کارروائی کرے۔ملاقات میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ 1974-75 میں اسٹیل ملز پروجیکٹ کیلیے دی گئی 1675 ایکڑ زمین اب تک پاکستان اسٹیل ملز لمیٹڈ کو منتقل نہیں کی گئی۔ وزیراعلی نے رانا تنویر کو یقین دہانی کرائی کہ یہ معاملہ حل کرلیا جائیگا۔ مراد علی شاہ نے زور دیا کہ پاکستان اسٹیل ملز پلانٹ کیلیے رکھی گئی تقریبا 700 ایکڑ زمین کو یا تو موجودہ اسٹیل ملز کی بحالی یا نئی کے قیام کیلیے استعمال کیا جائے۔جس پر وفاقی وزیر رانا تنویر نے وزیراعلی کو بتایا کہ روسی وفد اسٹیل ملز پلانٹ کا دورہ کر چکا ہے اور فروری میں نیا پلانٹ لگانے سے متعلق رپورٹ پیش کریگا۔ وزیراعلی سندھ نے خواہش کا اظہار کیا کہ اسٹیل ملز کی بحالی سے متعلق فیصلہ سازی میں صوبائی حکومت کو بھی شامل کیا جائے جس پر وفاقی وزیر نے حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ نیشنل فوڈ سیفٹی ، اینیمل اینڈ پلانٹ ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جا رہی ہے جس کا بنیادی مقصد مویشیوں، پودوں، زرعی مصنوعات ، خوراک اور چارے کی درآمد اور برآمد کیلیے انسپیکشن اور کورنٹائن کنٹرول کا نفاذ ہے۔اس میں سینیٹری اور فائٹو سینیٹری ( ایس پی ایس) اقدامات کی تعمیل کیلیے سامان کی تصدیق شامل ہے۔ زرعی مصنوعات اور خوراک کی پیداوار اور برآمد کے لیے مارکیٹنگ کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنا بھی مقصود ہے۔ وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت ضروری سمجھتی ہے تو ڈرافٹ ایکٹ کے نفاذ سے پہلے صوبائی محکموں زراعت، لائیو اسٹاک، ماہی گیری اور صوبائی فوڈ اتھارٹی سمیت تمام محکموں کے ساتھ جامع مشاورت کی جائے۔وفاقی وزیر نے یقین دہانی کرائی کہ مجوزہ اتھارٹی میں صوبائی حکومتوں سے مکمل مشاورت کی جائیگی۔ ملاقات کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ انڈسٹریل پارک کے قیام اور اسٹیل ملزم کی جلد بحالی یقینی بنانے کیلیے رابطوں کو مضبوط کیا جائیگا۔ نیز نیشنل فوڈ سیفٹی، اینیمل اینڈ پلانٹ ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے متعلق وفاقی وزارت صوبائی محکموں زراعت اور لائیو اسٹاک سے رائے لے گی۔

    کراچی پولیس کی ہفتہ وار کارکردگی رپورٹ جاری

    شرمیلا فاروقی کا حنا بیات کو سخت جواب،خواتین کے لباس پر تنقید بند کریں

    کینیڈین وزیراعظم نےمستعفیٰ ہونے کا اعلان کر دیا

  • ملکی ترقی میں ملازمت پیشہ خواتین برابر کا کردار ادا کر رہی ہیں، مراد علی شاہ

    ملکی ترقی میں ملازمت پیشہ خواتین برابر کا کردار ادا کر رہی ہیں، مراد علی شاہ

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ملکی ترقی میں ملازمت پیشہ خواتین برابر کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی میں مراد علی شاہ کا ملازمت پیشہ خواتین کے قومی دن پراپنےپیغام میں کہنا تھا کہ ملازمت پیشہ خواتین کے جمہوریت اور معیشت کے لیے کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ملکی ترقی میں ملازمت پیشہ خواتین برابر کا کردار ادا کر رہی ہیں، حکومت سندھ ملازمت پیشہ خواتین کے کردار کو ناگزیر سمجھتی ہے، حکومت سندھ نے ملازمت پیشہ خواتین کےلیے پورے ملک سے زیادہ اقدامات کیے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ شہید بے نظیر بھٹو نے ملازمت پیشہ خواتین کے لیے فرسٹ ویمن بینک کا آغاز کیا، پیپلزپارٹی حکومت نے خواتین کو زرعی زمین، گھروں کی اسناد اور بینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے بااختیار بنایا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملازمت پیشہ خواتین کےلیے پنک بس کا آغاز کیا گیا،صوبے میں ملازمت پیشہ خواتین کے تحفظ کے لیے الگ محتسب مقرر کیا ہے، خواتین کے لیے مزید روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں ، خواتین کو محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

    پاراچنار رستے بند، ادویات قلت، 50 بچے انتقال کرگئے

    پاکستان سپر لیگ 10 ،فینز چوائس ایوارڈز متعارف کرانے کا فیصلہ

    بھارتی شہر اندور میں نئے سال سے بھکاریوں کو خیرات دینے پر پابندی

  • سندھ کے حصے کا ایک قطرہ بھی کہیں جانے نہیں دیں گے، وزیراعلیٰ

    سندھ کے حصے کا ایک قطرہ بھی کہیں جانے نہیں دیں گے، وزیراعلیٰ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے حصے کا ایک قطرہ پانی بھی کہیں جانے نہیں دیں گے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی دو تہائی اکثریت ہے.

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے کہا کہ پانی کے مسئلے پر ہمارا موقف بالکل واضح ہے، ہم صوبے کے حق پر کسی کو ڈاکا ڈالنے نہیں دیں گے۔ مسلم لیگ ن کے ساتھ تحفظات بلاول بھٹو نے تفصیل سے بتائے، ن لیگ کے ساتھ تحفظات بات چیت سے دور کرنا چاہتے ہیں۔سندھ کے حصے کا ایک قطرہ پانی بھی کہیں جانے نہیں دیں گے۔ ہم سندھ کے 70 فیصد سے زائد لوگوں کے نمائندے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی دو تہائی اکثریت ہے، مسلم لیگ ن کے ساتھ تحفظات بلاول بھٹو نے تفصیل سے بتائے، ن لیگ کے ساتھ تحفظات بات چیت سے دور کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا۔بچے ہمارا مستقبل ہیں۔ یہ ہمارے ملک کا روشن مستقبل ہیں۔ سندھ حکومت اس سلسلے میں اپنے فرائض پورے کرے گی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان میں پولیو کے 52 کیس رپورٹ ہوئے، ملک سے پولیو کا خاتمہ ضرور کریں گے، ہم نے بچوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہے،ہمیں اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دینی ہے۔وزیرِ اعلی سندھ نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے پولیو کے خاتمے کے لیے انقلابی اقدامات کیے تھے۔انہوں نے کہا کہ طلبہ یونین کو پی پی ہی بحال کرے گی۔ اس لیے ہم نے ایڈوائزر بھی مقرر کیا ہے۔قبل ازیں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے عالمی یوم اطفال کی مناسبت سے آگاہی واک کی قیادت کی۔ محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے منعقدہ آگاہی واک میں صوبائی وزرا، میر طارق ٹالپر، ذوالفقار علی شاہ، ریاض شاہ شیرازی، معاون خاص آصف خان اور دیگر شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ بچوں، والدین،سماجی رہنماں اور سرکاری افسران بھی واک میں شامل تھے۔

    کرم کی صورتحال کی خود نگرانی کر رہا ہوں، علی امین گنڈاپور

    الخدمت بنو قابل، 50 ہزار سے زائد مفت آئی ٹی کورسز کروائے ،منعم ظفر خان

    کراچی ایئر پورٹ خودکش دھماکے کے ملزمان سی ٹی ڈی کے حوالے

  • بچوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے استحصال اوربدسلوکی سے بچانا ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ

    بچوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے استحصال اوربدسلوکی سے بچانا ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بچوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے استحصال اور زیادتی سے بچانا ہوگا۔ والدین اور بچوں کو آگاہی دینی ہوگی۔

    19 نومبر کو بچوں کے خلاف تشدد کی روکتھام کے دن کے موقع پر پیغام میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس سال کا تھیم ’’ تیز رفتار ٹیکنالوجی کے فوائد اور نقصانات، بچوں کو جنسی استحصال اور زیادتی سے بچانا‘‘ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے مواقع اور خطرات دونوں کے بارے میں آگاہی دینے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کو اپنا تحفظ کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس دن کا مقصد بچوں اور والدین کو یہ سکھانا ہے کہ استحصال سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ تعلیم، شعور اور تفہیم کے ذریعے ہی اس درندگی اور سفاکیت کو معاشرے سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے فوائد پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سے زندگی کے کئی شعبوں میں آسانیاں پیدا ہوئی ہیں تاہم بچوں کی حفاظت کا نیا چیلنج بھی درپیش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگردرست قوانین اور اقدامات کا اطلاق کیا جائے تو جدید ٹیکنالوجیز بچوں کے تحفظ کا اہم ہتھیار ثابت ہوسکتی ہیں۔ مراد علی شاہ نے والدین اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ بچوں کو ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کی تعلیم دیں۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کو روکنے کےلیے آگاہی دینا ضروری ہے۔ بچوں کا تحفظ ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کےلیے تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان کی حکومت نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بچوں کی حفاظت کےلیے نئے اقدامات اٹھائے ہیں اور حکومت بچوں کو ہر قسم کے استحصال اور تشدد سے بچانے کےلیے پر عزم ہے۔ ہمیں بچوں کو ہر حال میں ایسا ماحول فراہم کرنا ہوگا جس میں وہ وقار اور آزادی کے ساتھ نشوونما پا سکیں۔ والدین اور تعلیمی اداروں کو پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے اپناکردار ادا کرنا ہوگا۔ بچے ہمارے ملک کا مستقبل ہیں اور ان کی حفاظت ، بہبود اور صحت کو یقینی بنانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

    عالمی اردو کانفرنس 5 تا 8 دسمبر آرٹس کونسل کراچی میں ہو گی

    ہوٹلز ،گیسٹ ہائوسز کیخلاف کریک ڈائون ، 9غیر ملکی باشندےگرفتار

    سندھ حکومت کا چائلڈ پروٹیکشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا افتتاح

    10کروڑ روپے سے زائد مالیت کی اسمگل موٹرسائیکلیں برآمد

  • وزیراعلیٰ سندھ سے اماراتی قونصل جنرل کی ملاقات،قومی دن کی دعوت

    وزیراعلیٰ سندھ سے اماراتی قونصل جنرل کی ملاقات،قومی دن کی دعوت

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل بخیت عتیق الرومیتی نے ملاقات کی اور انہیں یو اے ای کے قومی دن کی دعوت دی۔

    سی ایم ہائوس سے جاری اعلامیے کے مطابق قونصل جنرل نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنے قومی دن پر سندھ کی ثقافت کا دن بھی منائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی میں مختلف منصوبوں میں یو اے ای کی کمپنیز کی سرمایہ کاری پر بھی بات چیت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج انویسٹمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور متحدہ عرب امارات کے متعلقہ افسران کی ملاقات طے کروائی ہے،یو اے ای کی کمپنیاں کراچی میں ڈی سیلینیشن پلانٹ، ٹرانسپورٹ ، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں.واضح رہے 2 دسمبر 1971 کو متحدہ عرب امارات قائم ہوئی تھی جس میں تمام ریاستیں جن میں ابوظبی ، دبئی ، شارجہ ، عجمان ، ام القوین ، راس الخیمہ اورفجیرہ متحد ہوئی تھیں جس کے بعد ان ریاستوں کو متحدہ عرب امارات کا نام دیا گیا۔

    کراچی سے حوالہ ہنڈی کا بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا

    طیارہ حادثہ کیس، کور ٹ کا مختلف اداروں کو جواب داخل کرنے کا حکم

    ایک سال میں ساڑھے سات لاکھ افغان مہاجر ملک بدر

  • سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کا منصوبہ دنیا کا بڑا منصوبہ بن چکا، وزیراعلیٰ سندھ

    سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کا منصوبہ دنیا کا بڑا منصوبہ بن چکا، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہاب سیلاب متاثرین کیلیے گھر بنانے کا پروجیکٹ دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ بن چکا ہے اور مزید گھروں کی تعمیر جاری ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق عالمی یوم اطفال کے حوالی سے یونیسیف پاکستان کے پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کیلیے ایسے گھر بنا رہے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرسکیں، ہم نے نیپال کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ 2025 تک جب یہ پروگرام مکمل ہوگا تو ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کیلیے چھت مہیا کرے گا، ان میں سے اکثریت بچوں کی ہوگی۔حکومت سندھ اپنے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ویژن کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے جو اس ملک کے سب سے نوجوان لیڈر ہیں۔ ، آرٹس کونسل کراچی میں ہونے والے پروگرام کا عنوان’مستقبل کو سنو‘ تھا۔ وزیر تعلیم سردار شاہ، یونیسیف کے نمائندے عبداللہ فاضل ، یو این ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحیٰ اور دیگر اس موقع پر موجود تھے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کا عزم کیے ہوئے ہیں کہ بچوں کیلیے ایک بہتر دنیا اور بہتر سندھ چھوڑ کر جائیں۔ بچے مضبوط پاکستان کے معمار ہیں ، ان کی صحت اورترقی ہماری اجتماعی ترجیح ہونی چاہیے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ ورلڈ چلڈرن ڈے پاکستان کیلیے اہم موقع ہے، ہر بچے کو روشن مستقبل دینے کیلیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے اپنی تقریر کا آغاز سندھ ، پاکستان اور دنیا بھر کے بچوں کو چلڈرن ڈے کی مبارکباد سے کیا اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کیلیے سندھ کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیسیف اور اقوام متحدہ کے دیگر شراکت داروں کی مدد سے حکومت یہ یقینی بنائے گی کہ ہر بچے کو جائز سہولیات مل سکیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے تقریب میں تمام علاقوں کے بچوں کی شرکت کو سراہا اور کہا کہ یہ قومی یکجہتی اور قوت کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے یونیسیف اور دیگر ایجنسیوں کے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں پاکستان کی مدد کیلیے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اقوام متحدہ کی ایس ڈی جی اہداف میں شمولیت کا مقصد نوجوانوں کو ترجیح دینا ہے تاکہ وہ خوشحال مستقبل حاصل کرسکیں۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ساڑھے پانچ کروڑ آبادی کے سندھ میں دو کروڑ سے زیادہ بچے ہیں جو مضبوط قوم کی بنیاد فراہم کرتے ہیں ان کی صحت، تعلیم اور مجموعی ترقی ہماری اجتماعی ترجیح ہونی چاہیے۔انہوں نے یونیسیف کی قومی سفیر صبا قمر کو بھی خوش آمدید کہا اور کہا کہ ان کے حالیہ دورہ سندھ سے بچوں کے حقوق کی اہمیت کے بارے میں آگاہی میں مدد ملی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے غذائی قلت اور پینے کے پانی جیسے اہم ایشوز پر فوری توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ یقینی بنانا ہوگا کہ تمام بچوں کی محفوظ نشونما ہو اور انہیں سازگار ماحول میسر ہو۔وزیراعلیٰ سندھ نے یونیسیف کے ورلڈ چلڈرن ڈے 2024ء کے پیغام ’’ مستقبل کی سنو‘‘ کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر بچوں کے حقوق کا احترام کیا جائے تو بہتر مستقبل کا حصول ممکن ہے۔ انہوں نے یونیسیف کا کراچی میں پروگرام کرنے پر شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ سندھ اور دنیا بھر کے بچوں کو روشن مستقبل کے حصول میں مددگار ثابت ہوگا۔

    اپوزیشن لیڈر سندھ کو سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی ناقص کارکردگی پر تشویش

    ملی یکجہتی کونسل کے نئے مرکزی تنظیمی زمہ داران کا اعلان

    سکیورٹی خدشات، کراچی ایئرپورٹ آنے والوں پر نئی شرائط عائد

    سہ ملکی انڈر 19 ٹورنامنٹ 13 نومبر سے دبئی میں شروع ہوگا

  • ‏وزیراعلیٰ سندھ  کا کراچی میں سی ٹی ڈی کے فیوژن سینٹر کا افتتاح

    ‏وزیراعلیٰ سندھ کا کراچی میں سی ٹی ڈی کے فیوژن سینٹر کا افتتاح

    ‏وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے فیوژن سینٹر کا افتتاح کر دیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر داخلہ ضیا ء الحسن لنجار، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی عمران یعقوب اور دیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے جبکہ آئی جی پولیس نے سی ٹی ڈی فیوزن سینٹر کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کو تفصیلی بریفنگ دی.وزیراعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پروجیکٹ سے تمام اسٹیک ہولڈرز کے آف لائن اور آن لائن ڈیٹا بیس کو مربوط کیا جا ہا ہے ،فیوزن سینٹر جدید آلات اور گیجٹری سے لیس فیصلہ سازی میں مدد کرتا ہے.اس موقع پر سید مراد علی شاہ نے اپنے خطاب میں کیا کہ صوبے میں شدت پسندی میں ملوث افراد اور گروہوں کا سدباب کرنا ہوگا،حکومت سندھ نے سی ٹی ڈی کو جدید ترین اسلحہ اور ٹیکنالوجی فراہم کردی ہے،عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانا ہے.سید مراد علی شاہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس خاص طور پر سی ٹی ڈی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی جذبے سے کام کرنے پر سندھ پولیس کے تربیت یافتہ جوانوں پر فخر ہے،ولیس جوانوں نے فرض کی ادائیگی میں بےمثال قربانیں دیں ہیں،سندھ حکومت نے سندھ پولیس کو جدید آلات، بھترین مراعات اور تربیت فراہم کی ہے. اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ نے پولیس کے ساتھ رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی امن امان کی بحالی میں محنتوں کی تعریف کی .

    شرجیل میمن سے آزاد کشمیر کے وزیراطلاعات کی ملاقات ، آزادی اظہار رائے پر تبادلہ خیلال

    ‏وزیر داخلہ سندھ کی زیر صدارت سندھ اسمبلی میں اعلی سطحی اجلاس

    کراچی میں ایف آئی اے کے حوالہ ہنڈی کے خلاف چھاپے، 5 ملزمان گرفتار

  • وزیراعلی سندھ  کا ہیوی ٹرانسپورٹ کے باعث حادثات میں اضافے کا نوٹس

    وزیراعلی سندھ کا ہیوی ٹرانسپورٹ کے باعث حادثات میں اضافے کا نوٹس

    ہیوی ٹرانسپورٹ کے باعث حادثات میں اضافہ، وزیراعلیٰ سندھ نے نوٹس لے لیا۔وزیراعلی سندھ سیدمراد علی شاہ نے کراچی میں ہیوی ٹرانسپورٹ کے باعث حادثات کی تعداد میں اضافے کا نوٹس لے لیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کی سڑکوں پر دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک جان لیوا حادثات میں اضافے کا سبب بن گئی، بدھ کو پہلا حادثہ شیر شاہ پل پر پیش آیا جہاں ٹرالر سے گرنے والے کنٹینر کی زد میں آکر دو افراد شدید زخمی ہوئے، ان میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا واقعے میں ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔ملیر میمن گوٹھ فلک ناز ٹاور کے قریب تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے 3 بچے زخمی ہوئے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہے، واقعہ ٹرک کا ٹائرپھٹ جانے کے باعث پیش آیا۔ڈمپر ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا جبکہ پولیس نے ڈمپر تحویل میں لے کر مالک کو طلب کرلیا ہے۔تیسرا حادثہ سائٹ سپر ہائی وے پر ہوا جہاں پولیس موبائل ڈمپر کی ٹکر سے بے قابو ہوکر کئی گاڑیوں ٹکراگئی۔وزیراعلیٰ سندھ نے بڑھتے ہوئے حادثات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹریفک پولیس کو موثر اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

    نیپرا سماعت فکسڈ میچ ہے، کے الیکٹرک کو نواز ا گیا ہے ، جماعت اسلامی

    کراچی میں جمعے اور ہفتے کو دھند چھانے کا امکان

  • کینیڈین ہائی کمشنر کی وزیراعلیٰ  سندھ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال

    کینیڈین ہائی کمشنر کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کینڈین ہائی کمشنر مس لیسلی اسکینلن کے ساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ ان کی حکومت کراچی ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ کے ذریعے شہر میں رہائشی سہولیات کی بہتری اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلیے انفرا اسٹرکچر کو ترقی دے رہی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں کینیڈا کے اوٹاوا میں ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا میری لوئس حنان اور کینیڈین ہائی کمیشن میں سیاسی، معاشی اور تجارتی کونسلر ڈینیئل ارسنالٹ بھی شریک تھے۔وزیراعلیٰ کے ساتھ ان کے سیکریٹری رحیم شیخ بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوروان اسکینلن نے کہا کہ کراچی بھرپور معاشی مواقع کے ساتھ ایک خوبصورت میگا پولیٹن شہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد اور لاہور میں چلنے والی کینیڈین فوڈ چین اب کراچی میں بھی اپنا فرنچائز کھولنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے زور دے کر کہا کہ کراچی ملک کا تجارتی مرکز ہے۔صوبائی اور وفاقی دونوں حکومتیں نئے اسپیشل اکنامک زون قائم کرنے پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انڈسٹریل ایریاز سمیت شہر کے انفرا اسٹرکچر کو ورلڈ بینک کے کراچی ٹرانفارمیشن پروجیکٹ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پرورگرام کے تحت بہتر کیا جا رہا ہے۔ بات چیت کے دوروان وزیراعلیٰ سندھ نے کھارے پانی کو پینے کا میٹھا پانی بنانے اور گھریلو نکاس کو گھریلو اور صنعتی دونوں مقاصد کیلیے ٹریٹ کرنے پر حکومتی سرمایہ کاری کو اجاگر کیا۔مراد علی شاہ نے مزید بتایا کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے جا رہے ہیں تاکہ ٹریٹڈ سیوریج اور صنعتی فضلہ سمندر میں چھوڑا جائے ، ا?بی اور ماحولیاتی ا?لودگی کا مسئلہ حل کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی حکومت نے ساحلی پٹی پر لاکھوں کی تعداد میں میگروز لگا کر کاربن کریڈٹس حاصل کیے ہیں۔ کیٹی بندر پر ایک اور گہرے سمندر کی بندرگاہ بنانے کا منصوبہ ہے۔تھر میں کوئلے سے بجلی بنانے سے متعلق مراد علی شاہ نے بتایا کہ کوئلے سے توانائی حاصل کرنے کیلیے عالمی ماحولیاتی ضابطوں کی پابندی کی جا رہی ہے جس سے تھر کول ملک میں سستی ترین بجلی کا بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ بجلی کے نرخ سے متعلق سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے اسکینلن کو بتایا کہ صنعت کار موجودہ نرخوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت بجلی کے نرخ کم کرنے پر کام کر رہی ہے جبکہ سندھ حکومت کراچی اور حیدرآباد میں ہر ایک 352 میگاواٹ کے پاور پلانٹ لگا رہی ہے اور بجلی کی ترسیل کیلیے پرائیویٹ شراکت دار تلاش کیے جا رہے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کینڈین سرمایہ کاروں کو بجلی کی تقسیم، پانی کے منصوبوں اور تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ کینیڈین ہائی کمشنر نے تصدیق کی کہ ان کی کمپنیاں کراچی میں سرمایہ کاری کے مواقع کی تلاش میں ہیں۔ مراد علی شاہ نے بتایا کہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری سے تھر کے عوام کے معیار زندگی میں بہتری ا?ئی ہے۔ سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کی تعمیر کے منصوبے سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم ا?ہنگ گھروں کی تعمیر کی جا رہی ہے۔منصوبہ میں پیش رفت جاری ہے اور 2025ء کے آخر تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ منصوبے سے اکیس لاکھ خاندان مستفید ہوں گے۔ آخر میں وزیراعلیٰ نے سندھ میں اقلیتوں سے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں صوبے میں برابری کے حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جنرل نشستوں پر دو اقلیتی نمائندے منتخب ہوئے ہیں ، ایک صوبائی اسمبلی اور دوسرا رکن قومی اسمبلی ہے جبکہ سندھ کے ڈپٹی اسپیکر بھی مسیحی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو مخلوط سماج ہونے پر فخر ہے جہاں تمام عقائد کے افراد پرامن بقائے باہمی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر ناظم آباد ہاظم بنگوار کو عہدے سے کیوں ہٹایا ،وجہ سامنے آگئی

    کراچی پولیس آفس میں آئیڈیاز2024 کی سیکیورٹی کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد

  • سندھ میں اب انڈسٹریز کا پہیہ چلے گا، ملازمتیں بھی ملیں گی

    سندھ میں اب انڈسٹریز کا پہیہ چلے گا، ملازمتیں بھی ملیں گی

    اب انڈسٹری کا پہیہ چلے گا، معیشت بہتر ہوگی اور ملازمتیں بھی میسر آئیں گی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے محکمہ صنعت کو سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ (سائیٹ) اور سندھ اسمال انڈسٹریز کارپوریشن ( ایس ایس آئی سی ) کیلیے جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کردی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سائیٹ اور اسمال انڈسٹریز خود انحصار تنظیمیں ہونی چاہئیں تاہم اضافی ملازمتوں، منصوبہ بندی کی کمی اور تجارتی منصوبوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ مالی بحران کا شکار ہیں۔محکمہ صنعت کے مسائل اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر صنعت جام اکرام دھاریجو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ، سیکریٹری صنعت یاسین شر، ایم ڈی سائیٹ غضنفر قادری اور دیگر نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ضرورت سے زیادہ ملازمین کی وجہ سے سائٹ لمیٹڈ تنخواہ اور پنشن کی فراہمی کے حصول میں ناکام رہا ہے۔ ادارے میں اس وقت 1315 ملازمین اور 754 پنشنرز ہیں۔ تنخواہ، پنشن، ملازمین کے بقایا جات، قرضوں اوردیگر اخراجات کا سالانہ حجم دو ارب، انسٹھ کروڑ سے تجاوز کر جاتا ہے جبکہ کل آمدنی دو ارب روپے سالانہ ہے۔ ادارے کو سالانہ انسٹھ کروڑ، 29 لاکھ، 57 ہزار اور 861 روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔نوری آباد اور کوٹری میں صنعتیں خستہ حالی کا شکار ہیں۔ 25-2024 کے ترقیاتی پروگرام کے تحت مختص84 کروڑ، 68 لاکھ اور 90 ہزار روپے کی رقم مسائل حل کرنے کیلیے ناکافی ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر صنعت جام اکرام نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ لاڑکانہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں سوئی گیس کا مسئلہ جلد حل کرلیا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ ایس ایس جی سی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ لاڑکانہ انڈسٹریل اسٹیٹ کو گیس کی فراہمی کیلیے تخمینہ منصوبہ ایک ہفتے کے اندر دے دیا جائے گا۔وزیرصنعت نے وزیراعلیٰ سے درخواست کی کہ وہ سائٹ کی تنخواہوں اور پنشن کا مسئلہ حل کرنے کیلیے 80 کروڑ روپے کی سالانہ امداد کی منظوری دیں جبکہ آپریٹنگ اینڈ مینٹی ننس اخراجات کیلیے ایک مرتبہ 50 کروڑ روپے امداد کی بھی منظوری دی جائے۔وزیراعلیٰ سندھ سے نوری آباد فیز 2 اور کوٹری سائٹ کی بحالی اور انفرا اسٹرکچر کیلیے دو ارب روپے منظوری کی بھی درخواست کی گئی۔وزیراعلیٰ سندھ کو مزید بتایا گیا کہ سندھ اسمال انڈسٹریز کارپوریشن 2008 سے 2014 تک ضرورت سے زیادہ ملازمین کی وجہ سے شدید مالی مشکلات کا سامنا کرر ہی ہے۔ یہاں تک کہ تنخواہ، پنشن اور ملازمین کے بقایا جات دینے کے پیسے بھی نہیں ہیں۔ادارے میں 656 ملازمین اور 268 پنشنرز ہیں جبکہ 33 سابق ملازمین اب تک اپنے بقایا جات کے منتظر ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسمال انڈسٹریز میں 321 اضافی ملازمین ہیں جن کے مستقبل کا فیصلہ ابھی کرنا باقی ہے۔اسمال انڈسٹیز کے سالانہ اخراجات 93 کروڑ، 48 لاکھ اور 60 ہزار ہیں جن میں سے 49 کروڑ 62 لاکھ اور 30 ہزار روپے تنخواہ، 20 کروڑ ، 77 لاکھ، 70 ہزار روپے پنشن جبکہ 23 کروڑ 8 لاکھ اور اور 60 ہزار روپے ملازمین کے واجبات ہیں۔ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری انڈسٹریز نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ 24-2023 میں 91 کروڑ ، 78 لاکھ اور 50 ہزار اخراجات کے مقابلے میں 22 کروڑ، 93 لاکھ اور 20 ہزار روپے وصولی ہوئی۔اس طرح ادارے کو 50 کروڑ، 48 لاکھ اور 60 ہزار روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سے تنخواہوں اور پنشن کیلیے 40 کروڑ کی سالانہ گرانٹ دینے کی درخواست کی گئی۔وزیر صنعت نے کہا کہ سائیٹ کوٹڑی اور ناردرن بائی پاس کراچی کے انفرا اسٹرکچر کی صورتحال بھی خستہ حالی کا شکار ہے، بحالی کیلیے فنڈز درکار ہیں۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ کراچی، حیدرآباد، نصرپور، کشمور، موہن جو دڑو اور اسلام آباد میں قائم تربیتی مراکز کو بحال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ادارے کیلیے آمدنی کا ذریعہ بن سکیں۔وزیر صنعت جام اکرام نے وزیراعلیٰ سندھ سے تنخواہوں اور پنشن کا مسئلہ حل کرنے کے لیے 60 کروڑ روپے کے یک وقتہ امدادی پیکیج کی درخواست کی۔ انہوں نے سالانہ گرانٹ بھی 40 کروڑ سے بڑھا کر 60 کروڑ روپے کرنے کی درخواست کی۔ ادارے میں گولڈن ہینڈ شیک اسکیم بھی متعارف کرائی جاسکتی ہے۔اجلاس کے دوران اسمال انڈسٹریز روہڑی، ناردرن بائی پاس اور سکھر میں انفرا اسٹرکچر کی بحالی پر بھی غور کیا گیا جس کیلیے 1 ارب روپے درکار ہوں گے۔وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ سائیٹ کورنگی (فیز2)، نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری، ایف بی ایریا ایسوسی ایشن ا?ف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری، لانڈھی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری اور کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری سمیت مختلف صنعتی علاقوں میں انفرا اسٹرکچر کی بحالی کیلیے ایک ارب 20 کروڑ روپے درکار ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ صنعت کو مختلف سائیٹس اور اسمال انڈسٹریز کیلیے تفصیلی ترقیاتی منصوبے اور الگ سے امدادی پیکج کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ ضروری فیصلے کیے جاسکیں۔دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکرٹری کو سائٹ اور اسمال انڈسٹریز کی تنظیم نو کی بھی ہدایت کی تاکہ وہ پیشہ وارانہ بنیادوں پر کام کریں اور مالی طورپر مستحکم ہو سکیں۔

    مولانا فضل الرحمن ترامیم میں فعال کردار پر مبارکباد کے مستحق ہیں ، ڈاکٹر نصیر سواتی

    کیماڑی پولیس کا منشیات اڈے پر چھاپہ،لیاری گینگ کمانڈر ساتھیوں سمیت گرفتار

    کراچی پولیس کی انسداد جرائم کے خلاف ہفتہ وار کاروائیوں کی رپورٹ