Baaghi TV

Tag: سید مراد علی شاہ

  • وزیراعلیٰ سندھ سے  سپریم کورٹ  بار کے وفد کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ سے سپریم کورٹ بار کے وفد کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفد کی سربراہی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شہزاد شوکت ، جنرل سیکریٹری سید علی عمران، ایگزیکٹیو ممبر مس سامعہ اور دیگر شریک ہوئے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ وزیر قانون ضیا ء الحسن لنجار ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور سیکریٹری وزیراعلیٰ سندھ رحیم شیخ، صدر پیپلزلائرز فورم کےقاضی بشیر شریک تھے.ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق سپریم کورٹ کونسل کے وفد نے کراچی میں لائر ہوسٹل کے لیے زمین کی درخواست کی،
    وزیراعلیٰ سندھ نے لائر ہوسٹل کے لیے زمین کا بندوبست کرنے کی یقین دہانی کروائی .وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر قانون ضیاء لنجار کو ہدایت دی کہ زمین کے حصول کے لیے نشاندہی کر کے رپورٹ پیش کریں ۔

    ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ چار ہفتوں میں دوبارہ لینے کا حکم

  • سندھ کی صنعتوں سے 22 ارب روپے جمع کیے لیکن ہمیں نہیں دیے، وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ کی صنعتوں سے 22 ارب روپے جمع کیے لیکن ہمیں نہیں دیے، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ایف بی آر نے 2014 سے 2021 کے درمیان سندھ کی 500 صنعتوں سے 22 ارب روپے جمع کیے ہیں تاہم وہ فنڈز سندھ کو منتقل نہیں کیے گئے، وفاقی حکومت سے رابطہ کریں گے اور محنت کشوں کے پیسے واپس لیں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلی نے یہ بات محکمہ محنت اور مالیات کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کے دوران کہی۔ اجلاس میں صوبائی وزرا سعید غنی، ضیا الحسن لنجار، شاہد تھہیم، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سیکریٹری مالیات فیاض جتوئی، سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ، سیکریٹری قانون علی احمد بلوچ، سیکریٹری محنت رفیق قریشی اور دیگر نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ایف بی آر نے سندھ کی 500 صنعتوں سے سندھ ویلفیئر ورکرز فنڈ ( ایس ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور سندھ ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ ( ایس ڈبلیو پی پی ایف ) کی مد میں 22 ارب روپے کی وصولی کے علاوہ ایف بی آر نے 2017-2016 سے او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، ایس ایس جی سی اور اینگرو گروپ جیسے بین الصوبائی اداروں سے بھی اربوں روپے وصول کیے ہیں تاہم اب تک حکومت سندھ کو منتقل نہیں کیے۔
    اجلاس میں بتایا گیا کہ اٹھارھویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی یا بین الصوبائی اداروں سے ایس ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ایس ڈبلیو پی پی ایف کی وصولی خالص صوبائی معاملہ ہے۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ اس وقت بین الصوبائی اداروں سے جمع کیے گئے ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ورکرز پارٹیسپیشن فنڈ کے 25 ارب 36 کروڑ روپے کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے اور رقم عدالت میں جمع کرائی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وزیراعظم سے درخوست کریں گے کہ وہ معاملے کو حل کرائیں اور یقینی بنائیں کہ سندھ کو اس کا حصہ ٹرانسفر کیا جائے۔ وزیرعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ محنت کشوں کےلیے فلیٹس اور گھر بنانے کے ساتھ ساتھ ورکرز ماڈل اسکولوں اور کالجوں میں محنت کشوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کا بھی ذمہ دار ہے۔ بورڈ ہر ایک بچے کو یونیفارم، جوتوں، کتابوں اور تھیلوں کےلیے 10 ہزار روپے کی مالی امداد بھی دیتا ہے۔ محنت کش کی بیٹی کی شادی کی صورت میں 2 لاکھ روپے جہیز کی مد میں دئے جاتے ہیں۔ میٹرک کے بعد محنت کشوں کے بچوں کو اسکالرشپ اور فوتگی کی صورت میں محنت کش کے قانونی ورثا کو 7 لاکھ روپے کی مالی امداد بھی دیتا ہے۔ اجلاس میں وفاق سے ورکرز ویلفیئر بورڈ ( ڈبلیو ڈبلیو ایف) اور اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن ( ای او بی آئی ) کے اثاثوں اور بقایہ جات کی منتقلی پر بھی بات کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے معاملہ بہت جلد وزیراعظم کے سامنے اٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔

    کراچی میں اتوار تک شدید گرمی اور موسم خشک رہے گا

    محکمہ داخلہ سندھ میں اجلاس ،پاک ایران جیل میں قیدیوں کی منتقلی پر غور

    کراچی کی پرائیوٹ یونیورسٹی کی طالبہ تصاویر لیکس کا شکار ہوگئیں

  • وزیراعلیٰ سندھ  سے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے وفد کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ سے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے وفد کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے پانچ رکنی وفد نے ملاقات کی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفد میں حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صافی، ایڈووکیٹ پرویز شاہ، حمید لون، اعجاز شاہ اور مجاہد شیخ شامل تھے جبکہ صوبائی وزراء، سعید غنی اور ضیاء الحسن لنجار ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ شریک ہوئے. اس موقعہ پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کو ہمیشہ پیپلز پارٹی قیادت نے ہی آگے بڑھایا ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کے معاملے پر اتنی آواز بلند کی کہ اقوام متحدہ کو قرارداد منظور کرنے پڑی،شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں حیثت دلوائی،ہم بھارتی مظالم کے خلاف کشمیر ی عوام کے ساتھ ہیں اور رہیں گے اس موقع پرحریت کانفرنس کے رہنماؤں نے 27 اکتوبر کو ہونے والے اپنے پروگرام کی پیپلز پارٹی کو شرکت کی دعوت دی، کنوینر غلام محمد صفی کا کہنا تھا کہ حریت کانفرنس 27 اکتوبر 1947 کی یاد میں ایک بڑا پروگرام کرنا چاہتی ہے،ہم پیپلز پارٹی کے ساتھ دیگر تمام سیاسی جماعتوں کو پروگرام میں شرکت کی دعوت دینگے .یاد رہے 27 اکتوبر 1947ء کو بھارت نے کشمیر میں اپنی فوج کشی کی تھی.سید مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی حریت کانفرنس کے پروگرام میں بھرپور شرکت کرے گی، ہم مقبوضہ کشمیر کی مظلوم عوام کے ساتھ ہیں.

    سندھ حکومت و پولیس ناکام، کراچی ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہے،جماعت اسلامی

    کے الیکٹرک نے جنریشن ٹیرف پر فیصلہ اہم سنگ میل قرار دیدیا

  • وزیراعلی سندھ سے ارجنٹائن کے سفیرکی ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر بات چیت

    وزیراعلی سندھ سے ارجنٹائن کے سفیرکی ملاقات، دو طرفہ تعلقات پر بات چیت

    وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے ارجنٹائن کے سفیر سیباسٹین سیوس(Sebastian Sayus) نے وزیراعلیٰ ہائوس میں ملاقات کی ہے ۔

    ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق ملاقات میں دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کی گئی۔سید مراد علی شاہ نے کہاکہ ارجینٹینا کی طرح پاکستان خاص طور پر سندھ ایک زرعی صوبہ ہے۔سندھ میں زراعت کے شعبہ میں پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ اور براہ راست سرمایہ کاری کے بڑے مواقع ہیں۔کراچی میں پینے کے پانی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری منافع بخش ہے۔نمکین پانی کو ٹریٹ کرنے کے منصوبے کیلئے سندھ حکومت نے 50 ملین ڈالرز کا ورلڈ بینک سے بندوبست کیا ہے۔وزیراعلی سندھ نے کہاکہ نجی سرمایہ کار آجائیں تو سمندر کے پانی کو ٹریٹ کر کے شہر میں فراہم کیا جاسکتا ہے۔روڈ سیکٹر میں حیدرآباد تا سکھر تک سڑک کی تعمیر کا منصوبہ نجی شراکت داری کے تحت کرنا چاہتے ہیں،آبپاشی کے شعبہ میں کینال لائننگ کا منصوبہ سندھ حکومت نجی شراکت داری کے تحت کرنا چاہتی ہے۔ارجنٹائن سفیر نے کہاکہ اسٹاک ایکسچینج کمپنیاں سندھ میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں، گداموں کو قائم کرنے کے لئے ارجنٹینا کے سرمایہ کار سندھ میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وزیراعلی سندھ نے انرویسٹمنٹ ڈپارٹمنٹ، محکمہ خوراک اور محکمہ آبپاشی کو ارجنٹائن سفیر کے ساتھ رابطہ کرنے کی ہدایت کردی ۔ملاقات میں طے ہوا کہ جلد ارجنٹائن کے سرمایہ کار سندھ میں آ کر متعلقہ محکموں سے ملیں گے۔ ترجمان وزیراعلی سندھ کے مطابق اس موقع پر وزیراعلی سندھ نے ارجنٹائن فٹبال کے کھلاڑیوں کو لیاری کے ککری گرائونڈ آنے کی دعوت بھی دی ۔ملاقات میں فیصلہ کیاگیاکہ ارجنٹائن فٹبال ٹیم کے اہم کھلاڑی لیاری میں تربیتی میچ کھیلیں گے۔سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ سندھ میں فٹبال ٹیم تیار کرنے پر بھی اتفاق کیاگیا.

    اے این ایف کی کارروائیاں ، 86 کلو سے زائد منشیات برآمد، 7 ملزمان گرفتار

    کراچی کی جیل سے قیدی فرار،غفلت برتنے پرسات پولیس اہلکارگرفتار

  • ڈاکٹر شاہنواز کے واقعہ پر افسران کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ

    ڈاکٹر شاہنواز کے واقعہ پر افسران کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کے واقعے پرافسران کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا،پیپلزپارٹی نے جو موقف لیا شاید دنیا میں پہلی بار ہوا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں سانحہ کارساز کی برسی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے کبھی پرامن احتجاج کرنے والوں کو نہیں روکا۔ڈاکٹرشاہنواز کے واقعہ پرافسران کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ رواداری مارچ میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو غلط نعرے لگا رہے تھے اس کے باوجود میں نے خود ان سے رابطہ کیا،معذرت کی اور انکوائری بٹھائی،رواداری مارچ والوں کو بھی قانون کی پابندی کرنا چاہیے تھی۔انہوں نے کہا کہ آج 17 سال ہوگئے ہیں اور ہم ہر سال شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے شہدائے کارساز آتے ہیں۔محترمہ بینظیر بھٹو کا 18 اکتوبر 2007 کو پاکستان کے عوام نے شاندار استقبال کیا۔کراچی ایئرپورٹ سے کارساز تک کا سفر 10 تا 11 گھنٹوں میں ہوا تھا۔ جب پہلا دھماکا ہوا تو ہم نے سمجھا کہ ٹرانسفارمر پھٹا ہے بعد میں دوسرا شدید دھماکا ہوا۔ جہاں سے آواز آئی وہاں دیکھا تو کافی ہمارے جیالے جانثار شہید ہوگئے تھے۔محترمہ بینظیر بھٹو تھوڑی دیر پہلے ہی مزار قائد پر تقریر کو حتمی شکل دینے نیچے گئی تھیں۔ بہادر ہیں ہمارے جیالے جنہوں نے دھماکوں کے باوجود محترمہ بینظیر بھٹو کی حفاظت کی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو جان کو خطرہ ہونے کے باوجود پاکستان آئیں۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مخالفین بھی مانتے ہیں اور بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں۔

    سندھ پولیس میں بڑے پیمانے پر افسران کے تبادلے

    عافیہ کی رہائی کیلئے وزیراعظم کے خط کا خیرمقدم کرتے ہیں: ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    کراچی : ایف آئی اے کرائم سرکل کی کارروائی ،2 ملزمان گرفتار

  • مراد علی شاہ سے اطالوی سفیر کی ملاقات، سندھ میں اطالوی زبان سکھانے پر اتفاق

    مراد علی شاہ سے اطالوی سفیر کی ملاقات، سندھ میں اطالوی زبان سکھانے پر اتفاق

    وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ سے اٹلی کی سفیر ماریلیا ارمیلن نے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملاقات کے دوران این ای ڈی یونیورسٹی کے اٹلی کی یونیورسٹی کے ساتھ باہمی تعاون پر گفتگو کی گئی اور سندھ میں اطالوی زبان سکھانے پر اتفاق کیا گیا۔اٹلی کی سفیر ماریلیا ارمیلن نے کہا کہ دونوں یونیورسٹیوں کے درمیان جلد ایم او یو ہوگا۔اس کے علاوہ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سندھ انویسٹمنٹ ڈپارٹمنٹ اٹلی کی فرمز سے قونصل جنرل کے ذریعے بات چیت کرے گا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ اور اٹلی ثقافتی اعتبار سے لاجواب ہیں۔انہوں نے کراچی میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کے لیے اٹلی کی کمپنیوں کو دعوت دی۔وزیرِ اعلی سندھ نے تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی نے پاکستان میں بڑے پروجیکٹ کیے ہیں، تربیلا ڈیم کی تعمیر میں بھی اٹلی نے کام کیا تھا۔ملاقات میں وزیراعلی کے سیکریٹری رحیم شیخ اور اٹلی کے کراچی میں قونصل جنرل مسٹر ڈنیلو جیورڈینیلا بھی شریک ہوئے۔

    جامعہ کراچی میں طلبا کا مطالبات کے حق میں احتجاج جاری

    بونیر میں پولیس وین کے قریب بم دھماکا، 4 اہلکار زخمی

    عمران خان کو سزا،مجرمانہ ریکارڈ،آکسفورڈ کی چانسلرشپ سے نااہلی کی وجوہات

  • کراچی میں سڑکوں سے تجاوزات ختم کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم

    کراچی میں سڑکوں سے تجاوزات ختم کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم

    آج ہی دس سے پندرہ روڈ بتائیں، وہاں سے تجاوزات کے خاتمے کی ڈیڈلائن دیں، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے ٹاسک فورس کو ٹاسک دے دیا۔

    اعلی سطح اجلاس کے دوران مراد علی شاہ کا کراچی کے انفرا اسٹرکچر کی خراب صورتحال پر تشویش کا اظہار، کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبے، تباہ حال سڑکیں، نکاسی کے مسائل ، غیرقانونی پارکنگ اور بیہنگم تجاوزات شہر میں ٹریفک جام کی بڑی وجوہات ہیں۔وزیر بلدیات سعید غنی کی زیر قیادت ٹاسک فورس کو متاثرہ علاقوں میں فوری کارروائی کا حکم دے دیا۔ مراد علی شاہ نے نشاندہی کی کہ نشے کے عادی افراد پبلک انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچاتے ہیں، نشئی افراد لوہا، اسٹریٹ لائٹس کے کھمبے اور دیگر سامان اکھاڑ کر لے جاتے ہیں جس سے عوامی مقامات برباد ہو رہے ہیں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پلوں کے نیچے اور جھگیوں سے نشے کے عادی تمام افراد کو ہٹایا جائے۔

    پلوں کے لوہے اور اسٹریٹ لائٹس کی چوری سے نہ صرف وہ شہر کو بدصورت بنا رہے ہیں بلکہ ہماری ترقیاتی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی چوریاں روکنے کیلیے سول ادارے مستعدی کا مظاہرہ کریں ۔ اجلاس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر رشید سولنگی نے وزیراعلی کو بتایا کہ ان کی ہدایت کے مطابق تمام معاملات کی منظوری کیلیے کیو آر کوڈ کا اجرا کردیا گیا ہے۔اس وقت 425 زیر تعمیر عمارتوں میں سے 201 کو کیو آر کوڈ کے ذریعے پرمٹ جاری کیے گئے ہیں جس سے نگرانی اور نظم کے معاملات مزید بہتر ہوں گے۔ کیو آر کوڈ کی مدد سے منظوری کی تاریخ، اشتہار کا این او سی ، منصوبے کی ابتدا اور تکمیل کی تاریخ، منزلوں کی تعداد ، بلڈر کا نام، آرکیٹیکٹ، ٹھیکیدار، فلیٹ یا دکان کے پتے سمیت اس لاگت کی تفصیلات معلوم کی جا سکتی ہیں۔ وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ ایس بی سی اے نے ضلع جنوبی میں ایسی 25 کمرشل عماتوں کا پتہ لگایا ہے جن میں کار پارکنگ کی منظوری دی گئی تھی لیکن مالکان نے وہاں غیرقانونی طور پر گودام بنا رکھے ہیں۔ کمشنر اور ایڈیشنل آئی جی پولیس کی مدد سے چھ کار پارکنگ کو بحال کیا گیا ہے۔ تین عمارتوں کو سیل کردیا گیا ہے جبکہ باقی کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔
    ایس بی سی اے سربراہ نے وزیراعلی کو یہ بھی بتایا کہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف 1210 چھاپے مارے گئے ہیں۔ کئی عمارتوں کو سیل کیا گیا ہے جن میں سے 16 لیاری میں ہیں۔ اس موقع پر وزیراعلی سندھ نے ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ غیرقانونی طور پر کوئی عمارت تعمیر نہ ہو اور منظوری ٹھوس بنیادوں پر دی جائے۔ مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ زیر تعمیر عمارتوں کا ملبہ سروس روڈز پر ڈالنے کی اجازت نہ دی جائے اور احکامات کی خلاف ورزی کرنے والی عمارتوں کو سیل کردیا جائے۔ریڈلائن کے بارے میں وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ گلشن اقبال میں بی آر ٹی ریڈلائن کے ترقیاتی کام کی وجہ سے ٹریفک جام کا مسئلہ ہے۔ سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن نے وزیراعلی کو بتایا کہ حسن اسکوائر سے ٹینک چوک تک بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا کام تیز کردیا گیا ہے۔ وزیراعلی سندھ نے ہدایت کی کہ ریڈ لائن بی آر ٹی کو اس سال دسمبر یا جنوری 2025 تک مکمل کیا جائے۔
    انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ حسن اسکوائر سے آگے تک سروس روڈ سے تجاوزات ہٹا کر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعلی سندھ نے تجاوزات کے خاتمے کیلیے وزیر بلدیات سعید غنی، میئر کراچی، کمشنر اور متعلقہ حکام پر مشتمل کمیٹی بنادی اور انہیں ہدایت کی کہ کل تک دس سے پندرہ روڈز شاہراہوں کی نشاندہی کریں اور پھر پیدل چلنے کے مقامات ، گرین بیلٹس ، گلیوں اور فٹ پاتھوں پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز کریں۔
    وزیراعلی سندھ نے بڑی شاہراہوں پر تجاوزات کے خلاف برداشت نہ کرنے کی پالیسی اپنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کے ایم ایم سی اور ٹانز تجاوزات کے خاتمے کے سلسلے میں رابطے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ ایک بار ہٹائی جانے والی تجاوزات کو دوبارہ لگنے نہ دیا جائے۔ وزیراعلی سندھ نے گرین بیلٹس کی بحالی پر بھی زور دیا اور کہا کہ بینکوں اور اسپتالوں کے باہر پڑے جنریٹرز کو بھی ان کی حدود میں منتقل کردیا جائے۔
    اجلاس میں وزیر بلدیات سعید غنی، میئر کراچی مرتضی وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور دیگر اہم حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر شہر میں ترقیاتی کاموں کی حکمت عملی اور غیرقانونی کاموں کو روکنے پر غور کیا گیا ۔ اجلاس کے دوران سڑکوں کے کٹا پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی خاص طور پر لیاری کے روڈ زیر بحث آئے جن کیلیے فنڈز کی فراہمی کے باوجود سڑکوں کی مرمت اور بحالی کا کوئی کام نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں استرکاری کا کام جلد خراب ہوگیا اور سڑکیں مزید تباہ ہوگئیں۔
    یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ حکام کے درمیان حدود کے نتازعے کے باعث بھی معاملات مزید خراب ہو رہے ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے ہدایت کی کہ روڈ کٹنگ کیلیے شرائط ترتیب دی جائیں اور یہ ضابطہ بنایا جائے کہ نئی سڑک بننے کے بعد دو سال تک روڈ کٹنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ غیرضروری کھدائی کو روکنے کیلیے دوگنا معاوضے اور سڑک کی بحالی کے الگ اخراجات وصول کرنے کا قانون بھی متعارف کرایا جائے۔
    وزیراعلی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ روڈ کٹنگ کی اجازت دینے کیلیے ایک مرکزی اتھارٹی بنائی جائے جو روڈ کنٹنگ کی اجازت دینے کی فیس وصول کرے اور پھر واپس ٹان کو دے دے۔ غیرقانونی پارکنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے مصروف شاہراہوں پر ٹریفک کے دبا کو کم کرنے اور گاڑیوں کی روانی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ بڑی عمارتوں میں پارکنگ کی جگہ پر قبضے کی وجہ سے باہر پارکنگ لین لگنے سے ٹریفک کی صورتحال خراب ہو رہی ہے۔
    وزیراعلی سندھ نے ہدایت کہ کہ اس بات یو یقینی بنایا جائے کہ بڑی عماتوں کی پارکنگ کی جگہ سو فیصد استعمال کی جائے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ ایس بی سی اے کی مدد سے ایسے پلازوں کی نشاندہی کریں جہاں پارکنگ ایریاز دوسرے استعمال میں لائی گئی ہیں۔ مراد علی سشاہ نے انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت کی کہ وہ ٹریفک پولیس کے ساتھ مل کر غیرقانونی پارکنگ کا خاتمہ کریں۔
    وزیراعلی سندھ نے ہدایت کہ کہ مصروف شاہراہوں پر رش کے اوقات میں پارکنگ پر مکمل پابندی لگائی جائے۔ اس مہم سے عوام کو آگاہی دینے اور پبلک سپورٹ کیلیے میڈیا مہم شروع کی جائے۔ اجلاس کے دوران وزیراعلی سندھ نے عمارتوں کی چھتوں پر بڑے اشتہاری بورڈز سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی معاملات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کیلیے تھرڈ پارٹی سرٹفکیشن پر عملدرآمد کیا جائے۔
    انہوں نے اس سلسلے میں چیف سیکریٹری کو ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دینے کی بھی ہدایت کردی۔ اجلاس میں کے ایم سی، ٹان اور ڈی سی آفسز میں ڈومیسائل، برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹس سمیت عوامی خدمات کی بہتری پر بھی غور کیا گیا۔ اس موقع پر برتھ رجسٹریشن کے عمل کو بہتر کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور رجسٹریشن فیس ختم کرنے کی بھی تجویز دی گئی۔ وزیراعلی سندھ مراد عی شاہ نے عوام کو رجسٹریشن کی ترغیب دینے کیلیے برتھ سرٹیفکیٹس کی فیس ختم کرنے کی ہدایت کردی۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ کے ایم سی، ٹانز ، یوسیز اور ڈی سی آفسز میں ڈومیسائل اور پی آر سی جیسے کاغذات کے آسان حصول کیلیے رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنایا جائے۔

    ہنی ٹریپ کرنے والی کچے کے ڈاکوؤں کی رکن خاتون پکڑی گئی

    ایم کیو ایم وفد کی علی خورشیدی کی قیادت میں مزارِ لیاقت علی خان پر حاضری

  • وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت امن و امان کی صورتحال پر اہم اجلاس

    وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت امن و امان کی صورتحال پر اہم اجلاس

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت امن و امان کی صورتحال پر اہم اجلاس ہوا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، انسپکٹر جنرل پولیس غلام نبی میمن اور ڈی جی رینجرز میجر جنرل اظہر وقاص، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، کمشنر کراچی حسن نقوی، ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے.وزیراعلیٰ سندھ نے صوبہ بھر بالخصوص شہر کراچی پر امن امان کی صورتحال کا جائزہ کیا اور کہا کہ ایئرپورٹ کے قریب دھماکہ ناقابل برداشت، ایسے واقعات نہیں ہونے چاہئیں، پولیس اور دیگر امن امان نافذ کرنے والے ادارے انٹیلی جنس کا کام تیز کریں. وزیراعلیٰ سندھ نے تمام امن امان نافذ کرنے والے اداروں کو آپس میں کوآرڈیشن مزید مستحکم کرنے کی ہدایت کی جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کو امن امان نافذ کرنے والے اداروں نے ایئرپورٹ کے قریب دھماکے کے حوالے سے بریفنگ دی. وزیر اعلی کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کمیٹی قائم کی جائےمشترکہ کمیٹی ایئرپورٹ کے قریب دھماکہ کی ملکر تحقیقات کرے گی.

    کراچی: سمندری ہوائیں جزوی معطل ، حبس کی کیفیت

    حکومت سندھ پبلک پارٹنرشپ کے تحت فلائی اوورز تعمیر کرے گی

    کراچی دھماکہ، بم ڈسپوزل یونٹ نے رپورٹ جاری کردی

  • کراچی کی ترقی کے لیے سالانہ تقریباً 1000 ارب روپے درکار ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی کی ترقی کے لیے سالانہ تقریباً 1000 ارب روپے درکار ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے منتخب عہدیداران سے ملاقات کے دوران کہا کہ کراچی کی ترقی کے لیے سالانہ تقریباً 1000 ارب روپے درکار ہیں تاہم محدود وسائل کیباوجود اس سال شہر کی ترقی کے لیے 218 ارب روپے ملنے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے صحافیوں کے تھر، سکھر اور گمبٹ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع کا دورہ کرنے کے بعد وزیراعلیٰ ہائوس میں اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں انہوں نے حکومت کی ترقیاتی کاوشوں کو سراہا۔مراد علی شاہ نے ایک سوال کے جواب میں ورلڈ بینک کی اسٹڈی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کو قابل رہائش شہر بنانے کے لیے 3 ارب ڈالر درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مطلوبہ فنڈز کافی ہیں لیکن کراچی کے انفراسٹرکچر کی ترقی اور تعمیر نو پر تقریباً 1000 ارب روپے خرچ کیے جائیں تو بہتر نتائج ملے گے۔
    انہوں نے کہا کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے کراچی کی ترقی کے لیے صرف 218 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سٹی گورنمنٹ کراچی کے تحت مین نالوں کے پشتے الاٹ کیے گئے اور ا?س پاس کی دیگر مقامات پر تجاوزات کی اجازت دی گئی جس کی وجہ سے نالوں کی صفائی ایک سنگین مسئلہ بن گئی اور شدید بارشوں کے دوران شہر پانی میں ڈوبتا رہا۔
    مراد علی شاہ نے کہا کہ فٹ پاتھ پر تجارتی سرگرمیوں کی اجازت ہے جہاں سینکڑوں دکانیں قائم ہیں۔ جن اہم سڑکوں کو نان کمرشل رکھنے کی ضرورت تھی انہیں کمرشل مارکیٹس اور مراکز کے قیام کی اجازت دے کر کمرشل بنا دیا گیا جس کے نتیجے میں ٹریفک کا ہجوم ایک سنگین مسئلہ بن گیا۔مرادعلی شاہ نے کہا کہ بھرپور کوششوں کے بعد بڑے نالوں کی صفائی کی گئی اور حکومت کی جانب سے تعمیر کی گئی اہم سڑکوں پر پانی جمع ہونے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ا سٹارم واٹر ڈرین بنائے گئے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ بڑی سڑکوں کی تعمیر نو کی گئی ہے اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف فلائی اوور اور انڈر پاسز تیار کیے گئے ہیں۔صوبائی حکومت نے بی آر ٹی اورنج لائن تیارکرلی ہے اور بی آر ٹی ریڈ لائن پر کام تیزی سے جاری ہے، اس کے بعد یلو لائن پر کام شروع کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ کراچی ایک میٹرو پولس شہر ہے اور ہمارا یہ عزم ہے کہ ہم اپنے عوام کے تمام مسائل حل کریں گے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز بس سروس اور خواتین کے لیے مختص پنک بس سروس کی صورت میں کراچی کے عوام کو ریلیف فراہم کیا ہے۔پی پی پی یونٹ، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان کی حکومت کا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) یونٹ اپنی شفافیت اور کارکردگی کے لحاظ سے بہت زیادہ کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسے ایشیا میں چھٹی پوزیشن حاصل ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جس نے دریائے سندھ پر تین پل تعمیر کیے ہیں جن میں سے دو پی پی پی موڈ کے تحت تعمیر کیے گئے ہیں۔کراچی، ٹھٹھہ، حیدرآباد میرپورخاص کی اہم سڑکیں بھی پی پی پی موڈ کے تحت بنائی گئی ہیں۔ کراچی میں ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر جاری ہے اور اس کا ایک حصہ رواں ماہ کے آخر تک ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ واحد صوبائی حکومت ہے جس نے تھر میں ایئرپورٹ قائم کیا۔مذہبی ہم آہنگی،صحافیوں نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ انہوں نے تھر کا دورہ کیا جہاں ہندو باہمی محبت و ملاپ سے زندگی گزار رہے ہیں۔

    پی ٹی آئی کارکن ڈی چوک پہنچ گئے، منتشر کرنے کیلئے پولیس کی شیلنگ

    علی گنڈاپور سمیت شرپسندی میں ملوث تمام عناصر کےخلاف کارروائی ہوگی، محسن نقوی

  • آئینی عدالت کا قیام  پیپلزپارٹی کے منشور کا حصہ ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    آئینی عدالت کا قیام پیپلزپارٹی کے منشور کا حصہ ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئینی عدالت کا قیام 2024 کے پیپلزپارٹی کے منشور کا حصہ ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں اس وقت کے چیف جسٹس نے پارلیمنٹ کو بلیک میل کیا اورچیف جسٹس نے دھمکی دی تھی کہ وہ پوری اٹھارہویں ترمیم کو اٹھا کر پھینک دیں گے.اس وقت بلاول بھٹو زرداری جن عدالتی اصلاحات کا ذکر کر رہے ہیں، وہ شہید بی بی کے نظریات کاحصہ ہیں۔کراچی پریس کلب کی لیز ،نئے ممبران کے پلاٹس سمیت تمام مسائل ایک ماہ کے اندر حل کرنے کی کوشش کریںگے ۔کراچی پریس کلب کے اس دورے کے موقع پر وزیر اعلی سندھ کے ہمراہ سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر بلدیات سعید غنی، وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ ، سکریٹری محکمہ اطلاعات سندھ ندیم میمن، سینیٹر وقار مہدی اور دیگر افراد بھی تھے جبکہ پریس کلب آمد پر وزیر اعلی سندھ کا خیرمقدم کراچی پریس کلب کے صدر سعید سربازی، سکریٹری شعیب احمد اور گورننگ باڈی کے ارکان نے کیا۔

    پریمئم اور پرسنلائزڈ نمبر پلیٹس کا آن لائن اجرا شروع کیا جا رہا ہے،شرجیل میمن

    سید مراد علی شاہ نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو نے 2006 میں آئینی اصلاحات کی بات کی تھی،آج جو باتیں کر رہے ہیں وہ بتائیں ایک سال پہلے کسی نے ایسی بات کی تھی وزیر اعلی نے کہا کہ ایک سال پہلے بلاول بھٹو کو پتہ بھی نہیں تھا کہ ایسا کوئی مسئلہ آئے گا، وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کسی اور نے اگر اس معاملے کو اپنایا ہے تو الگ بات لیکن قیادت بلاول نے کی ہے۔
    ایک سال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، اس ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ بڑھ سکتا ہے، کم نہیں ہو سکتا، انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ پر ہمارے کچھ تحفظات ہیں جن کو وزیرخزانہ نے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، ہم نے اپنے تحفظات تحریری طور پر دئیے ہیں۔وزیر اعلی نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے کے الیکٹرک کے حوالے سے سخت موقف اپنایا تھا، ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ کے الیکٹرک کے بورڈ میں صوبائی نمائندے کو شامل کیا جائے، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں ملک کی معیشت سے کھیل کھیلا اس ملک کو سنبھلنے میں دو سال لگے ہیں ۔
    انہوں نے میڈیا سے کہا کہ وہ بھی یہ معاملہ اٹھائے کہ کراچی کے عوام کی نمائندہ سندھ حکومت کو کے الیکٹرک بورڈ میں شامل کیا جائے، وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہمارا نمائندہ نہ ہونے کہ وجہ سے اندر کی باتوں کا پتہ نہیں چلتا۔وزیر اعلی نے کہا کہ گورنر سندھ کا سرگرم ہونا اچھی بات ہے لیکن سب کام وہ نہیں کرتے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کالی بھیڑیں ہر ادارے میںیہاں تک کہ صحافت میں بھی موجود ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شاہنواز کے معاملے پر حکومت سندھ نے تحقیقات کی اور ورثا سے بات کی، حکومت نے ورثا کو کہا کہ آپ ایف آئی آر داخل کرائیں یا پھرریاست خود کرائے گی، مراد علی شاہ نے کہا کہ ڈاکٹر شاہنواز والی صورتحال نئی نہیں،یہاں ایک گورنر کو شہید کردیا گیا، وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ہم نے آئی جی سندھ سے کہا ہے کہ حساس مقامات پر تعینات اہلکاروں کی نفسیاتی جانچ پڑتال بھی کرائی جائے۔
    انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اس کیس کی مکمل انکوائری کرے گی ، سزا دینا عدالتوں کا کام ہے، وزیراعلی سندھ کہا کہ بہت واضح طور پر کہہ رہا ہوں کہ صوبہ سندھ مکمل وحدت کے ساتھ قیامت تک قائم رہے گا۔کراچی پریس کلب دورے کے دوران وزیراعلی سندھ کا پریس کلب کے عہدیداروں اور مجلس عاملہ سے ملاقات بھی کی ۔ کلب کے عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پریس کلب پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے نئی جگہ نہیں ہے ۔
    یہاں سے محترمہ اور بھٹو نے آمریت کے خلاف جدوجہد شروع کی تھی ۔ابھی بھی ہماری قیادت میڈیا اور اس پریس کلب کو اس نظر سے نظر دیکھتے ہیں کہ یہ ریاست کا چوتھا ستون ہے ۔انہوں نے کہا کہ میڈیا اور پریس کلبز پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں تک اصل حقائق پہنچائیں ۔انہوں نے کہا کہ پہلے صحافت کا معیار بہت بلند تھا ، اب ہر موبائل رکھنے والا صحافی ہے ۔
    صحافت کے غلط استعمال سے نقصان بہت ہوتے ہیں اور اس طرح سے سب سے زیادہ نقصان خود صحافت کو ااٹھانا پڑا ہے ۔ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی پریس کلب کی لیز ، 700 نئے اراکین کے لئے پلاٹس ، کراچی پریس کلب صحافی ہاسنگ سوسائٹی ہاکس بے میں بشمول بانڈری وال ترقیاتی کاموں اور لیز کا اجرا ، ایم ڈی اے میں صحافیوں کے لئے 80/20 کے فارمولے سمیت تمام مسائل ایک ماہ میں حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ میں نے پریس کلب سے وعدہ کیا ہے کہ نومبر کے پہلے ہفتے میں پھر آؤں گا اور پروگریس کے ساتھ حاضر ہوں گا۔انہوں نے کہا کہ پریس کلب کے ممبران کے مسائل کے حل کے لیے جووعدہ کیا ہے وہ جلد پورا کریں گے ۔