Baaghi TV

بھارت نے بغیر اطلاع کے ڈیم کے دروازے کھول دیے،ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب

monsoon

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں واقع سلال ڈیم کے تمام 11 دروازے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کھول دیے گئے، جس کے نتیجے میں دو لاکھ چوبیس ہزار کیوسک کا بڑا سیلابی ریلا دریائے چناب میں داخل ہو گیا ہے۔

محکمہ ایریگیشن پنجاب نے ڈیم کے گیٹس کھولے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے سیالکوٹ اور وزیر آباد کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اسسٹنٹ کمشنر وزیر آباد کا کہنا ہے کہ ضلع میں تمام ضروری حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور پی ڈی ایم اے کی طرف سے بڑے سیلاب کی اطلاع دی گئی ہے، یہ بڑا سیلابی ریلا اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر وزیر آباد اور سیالکوٹ کے علاقوں تک پہنچ سکتا ہے جس سے دریا سے ملحقہ نشیبی علاقوں کے متاثر ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

فی الوقت دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور دیگر بیراجوں پر شدید سیلابی صورتحال برقرار ہے،پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 75 ہزار کیوسک جبکہ اخراج 2 لاکھ 58 ہزار کیوسک ہے اور وہاں اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے خانکی بیراج پر 2 لاکھ 61 ہزار 463 کیوسک پانی کی آمد کے باعث بلند درجے کا سیلاب ہے، جبکہ دریائے راوی میں کوٹ نینا کے مقام پر 17 ہزار 500 کیوسک پانی کی آمد سے صورتحال فی الحال معمول کے مطابق بتائی جا رہی ہےدریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔

اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھی

دوسری جانب ملک بھر میں جاری مون سون کے دوسرے طوفانی اسپیل نے شدید تباہی مچائی ہوئی ہے پنجاب میں دو دنوں کے دوران بارشوں اور حادثات کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق اور 107 زخمی ہو چکے ہیں گوجرانوالہ میں 31 گھنٹوں کے دوران 250 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جہاں چھتیں گرنے کے واقعات میں 5 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے۔

لاہور، فیصل آباد، نارووال، منڈی بہاؤالدین اور گجرات سمیت متعدد شہروں میں کئی فٹ پانی جمع ہو چکا ہےشکر گڑھ میں نالہ بئیں اور کامونکی میں نالہ ڈیک میں طغیانی آنے سے بند ٹوٹ گئے اور پانی کئی آبادیوں اور دیہات میں داخل ہو گیا ہے، جس سے دسیوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

واسا لاہور کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر عبداللطیف نے کہا کہ مون سون سیزن کے لیے اس بار گزشتہ برس کے مقابلے میں کہیں بہتر تیاریاں کی گئی ہیں اور اگر شہر میں کہیں بھی بارش کا پانی جمع ہوتا ہے تو واسا کا ہدف ایک گھنٹے کے اندر اسے نکالنا ہے، واسا نے نئی مشینری خریدی ہے متعدد ری چارج ویلز نصب کیے گئے ہیں جبکہ لاہور میں موجود تقریباً 3 ہزار کلومیٹر طویل سیوریج لائنوں کی مکمل صفائی کی جا چکی ہے، اس کے علاوہ شہر کی 7 بڑی ڈرینز، جن کی مجمو عی لمبائی 94 کلومیٹر ہے ان کی صفائی کا عمل 3 مرتبہ مکمل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لاہور میں 100 سے 150 ملی میٹر تک بارش بھی ہو جائے تو واسا ایک گھنٹے کے اندر شہر کی اہم سڑکوں سے پانی نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے جہاں بھی بارش کا پانی جمع ہوگا اسے ایک گھنٹے کے اندر کلیئر کرنے کی کوشش کی جائے گی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے بھر کے لیے تقریباً 700 نئی مشینیں خریدی گئی ہیں جن میں واسا کے ٹرک، سکر مشینیں اور ٹریکٹرز شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی وسائل کی بدولت اس سال مون سون کی تیاریاں گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور جامع ہیں۔

عبد اللطیف کے مطابق لاہور میں تقریباً 18 ری چارج ویلز بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ یہ کنویں ان مقامات پر بنائے گئے ہیں جہاں ماضی میں بارش کا پانی کھڑا رہتا تھا اب بارش کا پانی ان ری چارج ویلز میں جمع ہو کر قدرتی انداز میں فلٹر ہوتا ہے اور بعد ازاں پارکس اور گرین بیلٹس کی آبپاشی سمیت دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ری چارج ویلز میں سیوریج کا پانی شامل نہیں ہوتا، اسی لیے یہ کنویں صرف ان مقامات پر تعمیر کیے گئے ہیں جہاں سیوریج کے پانی کے ملنے کا کوئی خدشہ موجود نہیں۔

پنجاب کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی بارشوں نے شدید نقصان پہنچایا ہے خیبرپختونخوا میں تین روز کے دوران حادثات کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے اور 19 افراد زخمی ہوئے ہیں جنوبی وزیرستان کے علاقے سرا روغہ میں مکان کی چھت گرنے سے میاں بیوی اور ان کے دو بچے جاں بحق ہو گئے گلگت بلتستان کے ضلع دیامرمیں بھی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث استور ویلی اور دیگر اہم سڑکیں بند ہو چکی ہیں، جبکہ شمالی وزیرستان میں دریائے ٹوچی میں طغیانی آ گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مون سون کا یہ سلسلہ 24 جولائی تک جاری رہ سکتا ہے جس کے پیشِ نظر تمام متعلقہ اداروں کو متحرک رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

More posts