Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • نائجیریا میں سیلاب سے تباہی، 150 سے زائد افراد ہلاک 3000 سے زائد بے گھر ہوگئے

    نائجیریا میں سیلاب سے تباہی، 150 سے زائد افراد ہلاک 3000 سے زائد بے گھر ہوگئے

    نائجیریا کی ریاست نائیجر کے وسطی علاقے موکوا میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال کے باعث میں ہلاکتوں کی تعداد 150 سے تجاوز کر گئی۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وسطی نائیجیریا کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے بعد سیلاب نے نظام زندگی درہم برہم کردی اور سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد اب 151 تک جا پہنچی ہے۔

    نائیجر اسٹیٹ ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق سیلاب کے باعث 3000 سے زائد افراد بے گھر ہو گئے جبکہ265 مکانات مکمل تباہ اور دو پل بہہ گئے، خیال کیا جاتا ہے کہ بہت سے متاثرین دریائے نائجر میں بہہ گئے ہیں، انتباہ دیا گیا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے سیلاب کے باعث رہائشی ملبے میں اپنے پیاروں کو ڈھونڈتے نظر آئے جبکہ سیلابی پانی اب بھی کئی علاقوں میں موجود ہے-

    امریکا میں شہد کی مکھیوں سے بھرا ٹرک الٹ گیا، 25 کروڑ مکھیاں آزاد

    نائیجیریا کے چھ ماہ کے برساتی موسم کے دوران سیلاب ایک باقاعدہ خطرہ ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں، غیر منظم تعمیرات اور نکاسی آب کے ناقص انفراسٹرکچر کی وجہ سے ان آفات کی تعدد اور شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    یونیورسٹی آف نائیجیریا میں تجزیہ کار یوگونا نکونونو نے کہا کہ اپریل اور اکتوبر کے مہینوں کے درمیان سیلاب ایک سالانہ واقعہ بن گیا ہے،” انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ سیلاب کے خطرات کی طویل عرصے سے نشاندہی کی گئی ہے، "اس تبدیلی کو نافذ کرنے کے لیے زیادہ سیاسی طاقت نہیں ہے یہ سیلاب موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے، جو بارشوں کی تعدد اور شدت کو متاثر کر رہا ہے”آپ ایک سال میں جتنی بارش کی توقع کرتے ہیں شاید ایک یا دو ماہ میں آ جائے، اور لوگ اس قسم کی بارش کے لیے تیار نہیں ہیں، پچھلے سال، نائیجیریا میں اسی طرح کی آفات سے 1,200 سے زیادہ افراد ہلاک اور 20 لاکھ تک بے گھر ہوئے تھے۔

    امریکا میں شہد کی مکھیوں سے بھرا ٹرک الٹ گیا، 25 کروڑ مکھیاں آزاد

    نیشنل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی نے ایک بیان میں کہا، "یہ افسوسناک واقعہ آبی گزرگاہوں پر تعمیرات سے منسلک خطرات اور نکاسی آب کے راستوں اور ندی کے راستوں کو صاف رکھنے کی اہم اہمیت کی بروقت یاد دہانی کا کام کرتا ہے۔”

  • جاپان صحت، سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر  دے گا

    جاپان صحت، سیلاب متاثرہ علاقوں کیلئے 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر دے گا

    جاپان نے خیبرپختونخوا میں زچہ بچہ کی صحت اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی ایک علیحدہ گرانٹ دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق معاہدے پر جاپان کے قائم مقام سفارت کار تاکانو شوئچی اور وزارت اقتصادی امور کے سیکریٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب کے دوران معاہدے پر دستخط کیے، اس موقع پر جائیکا پاکستان کے چیف نمائندے ناؤاکی میاتا اور جوائنٹ سیکرٹری محمد یحییٰ اخونزادہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔یو این ایف پی اے کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر 50 منٹ میں ایک عورت حمل سے متعلق پیچیدگیوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہے، دیہاتی خواتین کو صحت کی دیکھ بھال تک محدود رسائی کا سامنا ہے اور بچوں کی پیدائش کے حوالے طبی سہولیات بہت اور اس سمت میں پیش رفت بہت سست ہے، موجودہ رفتار سے پاکستان کو پیدائش کے دوران ہونے والیاموات کے خاتمے میں 122 سال لگیں گے اور اور خاندانی منصوبہ بندی کی ضروریات کو پورا کرنے میں 93 سال لگ سکتے ہیں۔
    واضح رہے کہ 2022 میں پاکستان میں اس کی تاریخ کا بدترین سیلاب آیا جس میں ایک ہزار 700 افراد جاں بحق ہوئے، 33 کروڑ افراد متاثر ہوئے، مویشی ہلاک، زرعی زمین زیر آب آگئی اور سرکاری تخمینوں کے مطابق 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔اس تمام صورتحال میں جاپان خیبرپختونخوا میں سیلاب زدہ علاقوں اور ہزارہ ڈویژن میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے پاکستان کومجموعی طور پر 2 کروڑ 85 لاکھ 80 ہزار امریکی ڈالر کی امداد فراہم کرے گیا، یہ امداد ان دو منصوبوں کے لیے فراہم کی جائے گی اور اس سلسلے میں پاکستان اور جاپان کے درمیان معاہدے طے پاگئے۔اس امداد میں زچہ و بچہ کی صحت کے لیے 99 لاکھ 10 ہزار ڈالر اور دریائے سندھ میں سیلاب مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لیے ایک کروڑ 86 لاکھ 70 ہزار ڈالر شامل ہیں۔زچہ و بچہ صحت کے منصوبے کے تحت ہزارہ ڈویژن کے 21 مراکز صحت میں جدید طبی آلات نصب کیے جائیں گے تاکہ زچگی اور بچوں کی صحت کو بہتر بنایا جا سکے۔اس منصوبے کا مقصد 2029 تک ادارہ جاتی ڈلیوریز، سی سیکشنز اور الٹراساؤنڈ معائنے کی تعداد میں اضافہ کرکے زچہ و بچہ کی شرح اموات میں کمی لانا ہے، یہ اقدام معیاری طبی خدمات کی فراہمی اور عوام کا اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔اس کے تحت سیلاب مینجمنٹ منصوبے کے تحت خیبرپختونخوا اور پنجاب میں 45 ہائیڈرولوجیکل اور ہائیڈرولک نیٹ ورک نصب کیے جائیں گے اور خیبرپختونخوا میں دریا کے حفاظتی ڈھانچوں کی بحالی کی جائے گی۔اس منصوبے کا مقصد سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنا اور بنیادی ڈیٹا کی دستیابی کو بہتر بنانا ہے تاکہ مستقبل میں دریا مینجمنٹ کو مؤثر بنایا جا سکے، اس منصوبے میں ’بیلڈ بیک بیٹر‘ کا تصور اپنایا گیا ہے تاکہ سیلابی خطرات سے بچاؤ کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

    وزارت قانون کا ضابطہ فوجداری 1898 میں اصلاحات کرنے کا اعلان

    سندھ کے اکنامک زونز چینی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گئے

    یونان کشتی حادثہ، نوجوانوں نے ایجنٹ کو 24 لاکھ فی کس دیے

    اوگر کی منظوری، گیس کی قیمتوں میں 25.78 فیصد تک اضافہ

  • ہسپانوی بادشاہ ملکہ اور وزیراعظم کا” کیچڑ "سے استقبال

    ہسپانوی بادشاہ ملکہ اور وزیراعظم کا” کیچڑ "سے استقبال

    اسپین میں شدید سیلاب نے والنسیاکے مضافاتی علاقے کو متاثر کیا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا، اتوار کو جب اسپین کے بادشاہ فیلیپ، ملکہ لیٹیزیا اور ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا تو سینکڑوں مشتعل رہائشیوں نے ان پر کیچڑ پھینکنا شروع کر دیا۔

    باغی ٹی وی: خبر رساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق والنسیا کے شہریوں نے اتوار کو بادشاہ فیلیپ، ملکہ لیٹیزیا اور وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کے دورے کے دوران شدید احتجاج ریکارڈ کروایا کہ سیلاب کے خطرات کے بارے میں حکام نے تاخیر سے آگاہ کیا۔

    شاہی خاندان اور وزیر اعظم سیلاب سے متاثرہ علاقے کا جائزہ اور متاثرین سے ملاقات کیلئے پہنچے تھے تاہم احتجاج کے دوران کسی نے ان پر کیچڑ سے حملہ کیا جبکہ کسی نے ’قاتل، قاتل‘ کے نعرے بھی لگائے، باڈی گارڈز نے شاہی خاندان کی حفاظت کے لیے انہیں چھتری سے محفوظ کیا۔
    spain
    کنگ فیلیپ سیلاب متاثرین کو تسلی دیتے ہوئے
    ایک نوجوان نے بادشاہ فیلیپ کو بتایا کہ حکام کو سیلاب کا معلوم تھا مگر انہوں نے کسی قسم کے عملی اقدامات نہیں کیے بادشاہ فیلیپ احتجاج کے باوجود متاثرین سے بات چیت پر اصرار کرتے ہوئے نطر آئے جبکہ وزیر اعظم پیچھے ہٹ چکے تھے،اپنے چہروں اور کپڑوں پر کیچڑ کے ساتھ، بادشاہ فیلیپ اور ملکہ لیٹیزیا کو بعد میں ہجوم کے ارکان کو تسلی دیتے ہوئے دیکھا گیا،بادشاہ نے کئی لوگوں کو تسلی دی، یہاں تک کہ انہیں گلے لگا لیا۔
    spain
    واضح رہے کہ اسپین ایک پارلیمانی بادشاہت ہے جہاں بادشاہ ریاست کا سربراہ ہوتا ہے۔

    خیال رہے کہ جنوبی اور مشرقی اسپین میں شدید بارشوں اور سیلاب نے ہر طرف تباہی پھیلائی ہوئی ہے جس کے باعث 211 افراد ہلاک ہوگئے،جو کہ اسپین میں کئی دہائیوں کے لیے بدترین سیلاب ہے،اسپین میں تباہ کن سیلاب کے بعد صفائی اور ریسکیو آپریشن جاری ہے، ہلاکتیں دو سو گیارہ ہوگئیں جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتہ ہیں ہنگامی کارکنان زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور لاشیں نکالنے کی امید میں زیر زمین کار پارکوں اور سرنگوں میں تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    والنسیا کا علاقہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے چار روز قبل طوفانی بارشوں کے بعد سیلاب امڈ آیا تھا، جان لیوا سیلاب کے بعد ملبے اٹھانے کا کام جاری ہے،پبلک پارکس، باغات اور قبرستان پیر تک بند کردیئے گئے اور سیلابی علاقوں سے بے گھر افراد کو نکانے کا عمل جاری ہے،اسپین کے وزیر اعظم نے لاپتا افراد کی تلاش کے لیے مزید پانچ ہزار فوجی دستے تعنیات کردیئے تھے جو ریسکیو آپریشن کے ساتھ ساتھ ملبہ اٹھانے میں مصروف ہیں جبکہ پانچ ہزار فوجی دستے پہلے سے ریسکیو کا کام جاری رکھے ہوئے تھے-

    سیلاب سے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے باعث اسپین کے وزیر اعظم نے 3 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا تھا، حکومت نے مزید ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا ،اس سے قبل 1973 میں بھی اسپین میں آنے والے سیلاب کے باعث درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

  • امریکا کی 6 ریاستوں میں طوفان اور سیلاب سے تباہی،ہلاک افراد کی تعداد 223 تک جا پہنچی

    امریکا کی 6 ریاستوں میں طوفان اور سیلاب سے تباہی،ہلاک افراد کی تعداد 223 تک جا پہنچی

    امریکا کی 6 ریاستوں میں طوفان اور سیلاب سے سینکڑوں افراد لاپتا ہوگئے،ہلاک افراد کی تعداد 223 تک جا پہنچی ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق سیلاب نے سب سے زیادہ تباہی شمالی کیرولائنا میں مچائی جہاں 106 افراد ہلاک ہوگئےشمالی کیرو لائنا میں سیلاب کے باعث سینکڑوں افراد لاپتا ہوچکے ہیں سیلاب کے باعث 7 لاکھ افراد بجلی سے محروم ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ریاستوں میں لوگ صاف پانی اور دیگر بنیادی اشیاء سے بھی محروم ہوگئے تقریباً 300 لاپتا افراد کی تلاش میں کارروائی کی گئی ہے اور ان میں سے 270 افراد کی حالت ٹھیک بتائی گئی ہے، پولیس ایف بی آئی اور ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز کی مدد سے 75 لاپتا افراد کے معاملے پر کام جاری رکھی ہوئی ہے، جو سینکڑوں افراد تاحال لاپتا ہیں ان میں شمالی کیرولائنا کے علاقے ایشول سے تعلق رکھنے والے عمر خان بھی ہیں شامل ہیں جو سیلاب کے سبب گھر کی بالکونی پر پناہ لیے ہوئے تھے مگر ریلہ ان کا گھر بہا لے گیا۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کنٹرول روم کا دورہ: امن و امان کی بحالی اور …

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گورنر راج کی افواہیں مسترد کر دی

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ملک گیر ممبر سازی مہم کا باقاعدہ آغاز

  • سندھ میں 20لاکھ لوگ ایسی جگہوں پر جہاں سیلاب آتے ہیں ،انکشاف

    سندھ میں 20لاکھ لوگ ایسی جگہوں پر جہاں سیلاب آتے ہیں ،انکشاف

    اسلام آباد(محمد اویس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی موسمیاتی تبدیلی میں حکام نے انکشاف کیا کہ سندھ میں 20لاکھ لوگ ایسی جگہوں پر رہتے ہیں جہاں سیلاب آتے ہیں ۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس قائمقام چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس میں پاور ڈویژن کے حکام کی طرف سے ریونیوبل انرجی پر قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دی گئی حکام نے بتایا کہ ریونیوبل انرجی کے پانچ ہزار میگاواٹ کے منصوبے زیر تعمیر ہیں۔2030 تک 53 فیصد توانائی کا حصول ریونیوبل انرجی پر شفٹ ہوجائے گا، 19 ہزار میگاواٹ بجلی 2030 تک سسٹم میں شامل ہوجائے گی،19 ہزار سے 15 ہزار میگاواٹ پن بجلی سے پیداوار ہوگی ۔چیئرپرسن کمیٹی نے کہاکہ جس چیز کے بارے میں بریفنگ مانگی جائے گی اس کے بارے میں مکمل معلومات حکام کے پاس ہونی چاہیے یہ معلومات جو پاور ڈویزن نے دی ہیں وزارت موسمیاتی تبدیلی کے پاس ہونی چاہیے، وزارت موسمیاتی تبدیلی کو یہ معلومات کوپ میں پیش کرنے چاہیں، کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں سیکرٹری پاور ڈویژن کو طلب کرلیا.

    وزارت موسمیاتی تبدیلی حکام کی طرف سے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ الیکٹرک وہیکلز پالیسی پر نظر ثانی کررہے ہیں، اس معاملہ پر وزیراعظم کو بریفنگ دی ہے، الیکٹرک وہیکل پالیسی پر بنکوں کے ساتھ ملکر فنانشل ماڈل تیار کیا جارہا ہے، الیکٹرک وہیکل پالیسی سے ماحولیاتی آلودگی کم کرنے میں مدد ملے گی، سینیٹر منظور احمد نے کہاکہ بلوچستان میں اب تک کتنا کام ہوا ہے، گرین بلوچستان کے حوالے سے کیا حکمت عملی ہے، حکام نے بتایاکہ 39 معاہدے کیے ہیں، مختلف این جی اوز کے ساتھ کام کررہے ہیں، منظور کاکڑ نے سوال کیاکہ بلوچستان میں ماحولیاتی تبدیلی نے تباہی مچائی ہے، وزارت کے پاس کوئی پروگرام ہے، جو لوگوں کو ریلیف دے، لوگوں کے بلوچستان میں گھر تباہ ہوئے ہیں، لوگ بے گھر ہوئے ہیں، زراعت کا نظام تباہ ہوگیا، کیا آپ کے پاس کوئی پروگرام ہے جو لوگوں کو ریلیف فراہم کرے،آپ نے بلوچستان میں این جی اوز یا دیگر ایجنسیوں کے ساتھ جو کام کیا ہے، اس کا مکمل ڈیٹا فراہم کردیں، حکام وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے بتایا کہ ریچارج پاکستان کے نام سے ایک پراجیکٹ شروع ہو گیا ہے ، صوبے کے اپنے پی ایس ڈی پی میں بھی اس کو دیکھا جاتا ہے ، باقی بھی اداروں میں دیکھا جاتا ہے ہم سڑکیں اور اسکول نہیں بناتے ، ہم واٹر مینجمنٹ پر کام کرتے ہیں 20 ملیں ڈالر کا ایک پراجیٹ ہمارا منظور ہو گیا۔حکام نے بتایا کہ ہم مختلف کمیونیٹیز کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، اس کی معلومات اگلے اجلاس میں لے آئیں گے، بدقسمتی سے پاکستان پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات زیادہ مرتب ہورہے ہیں، 52 ضلع موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہوئے، جائزہ لے کر ڈیٹا اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے۔

    کواڈینیٹر موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم نے کہاکہ فلڈز کے لیے اس بار وزیراعظم نے کمیٹی بنائی تھی، صوبوں کو بھی ان بورڈ لیا گیا، جن علاقوں میں سیلاب آیا وہاں آبادی نہیں ہونی چاہیے اس بار زیادہ نقصان نہیں ہوا کیونکہ لوگوں کو پہلے سے آگاہ کر دیا گیا تھا،۔منظورکاکڑ نے کہاکہ گلیشئیرز پگھل رہے ہیں اس پر کیا ڈیٹا ہے آپ کے پاس؟ حکام نے بتایاکہ ہمارے گلیشیئر بہتر ہورہے ہیں، بھارت کی جانب گلیشئیر پگھل رہے ہیں،پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، سینیٹر بشری انجم بٹ نے کہاکہ ہر سال کچھ علاقے زیر آب آتے ہیں پھر لوگ وہاں جاکر گھر بنا لیتے ہیں اس پر کیا پالیسی ہے؟ حکام نے بتایاکہ سندھ کے دو ملین لوگ ایسی جگہوں پر رہتے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ جتنی اہم سپیشز (مختلف انوع کے جانور)ہیں اُن کو پروٹیکٹ کرنا ہوتا ہے جن پرندوں کا شکار منع ہے ،پاکستان میں 18.5 فیصد ہیں جس میں مائیگریٹ ہونے والے پرندوں کو پروٹیکٹ کیا جاتا ہے ، غیر قانونی شکار کا ریکارڈ صوبوں کے پاس موجود ہے (محمداویس

    میڈیا میں شائع ہونے والا ڈرافٹ اصل نہیں ہے۔

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئینی ترمیم کے مسودے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی

    آئینی ترامیم جمہوریت پر حملہ،سیاسی جماعتوں کو شرم آنی چاہیے،علی امین گنڈا پور

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

  • سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے والے ڈرائیور کی وزیراعظم سے ملاقات

    سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے والے ڈرائیور کی وزیراعظم سے ملاقات

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےقلعہ عبداللہ میں سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کو اپنی جان کی پراوہ کئے بغیر بچانے والے ایکسکویٹر ڈرائیور محب اللہ کا وزیرِ اعظم ہاؤس میں استقبال کیا

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے محب اللہ کی انسانی جانوں کو بچانے کیلئے اپنی جان کی پراوہ نہ کرنے کے جذبے کی پزیرائی کی اور کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم کو آپ پر فخر ہے.آپکے انسانیت سے محبت کے جزبے کی دل سے قدر کرتا ہوں. آپ قوم کے ہیروہ ہیں، آپ نے ہمت سے کام لے کر قیمتی انسانی جانیں بچائیں.ایسے مشکل حالات میں اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر انسانی جانوں کو بچانا بہادری کا کام ہے.آپ نے مصیبت میں گھرے لوگوں کو بچا کر قومی فریضہ ادا کیا.

    محب اللہ کی بہادری کے اعتراف میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں 25 لاکھ روپے کے انعام سے بھی نوازا. وزیرِ اعظم نے محب اللہ کے بچوں کیلئے یونیورسٹی تک کی تعلیم مفت اور انکے خاندان کو صحت کی مفت سہولیات کی فراہمی کا بھی اعلان کیا. محب اللہ نے اس موقع پر وزیراعظم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے لئے یہ بہت اعزاز کی بات ہے کہ میں ملک کے وزیرِ اعظم سے ملاقات کر رہا ہوں. کبھی سوچا نہ تھا کہ میری ملک کے وزیرِ اعظم نے ملاقات ہو گی.لوگوں کی جانیں بچاتے وقت قطعاً نہیں سوچا تھا کہ یہ بات پورے ملک میں مشہور ہو جائے گی. وزیرِ اعظم اور حکومت کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس اقدام کی پزیرائی کی اور میرے لئے اپنا قیمتی وقت نکالا. وزیرِ اعظم ہاؤس آمد پر وزیرِ اعظم کی جانب سے اتنی عزت ملنے پر دل سے مشکور ہوں. ملاقات میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیرِ تجارت جام کمال خان، وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ، چیئر میں وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان، وزیرِ اعظم کی کوارڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی رومینہ خورشید عالم اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

    سیلاب میں پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے والے شہری محب اللہ کو ملا انعام

    قبل ازیں بلوچستان میں سیلاب میں پھنسے خاندان کے 5 افراد کو ریسکیو کرنے والے شہری محب اللہ کو انعام دے دیا گیا،ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللّٰہ ڈاکٹر فاروق نے سیلاب میں پھنسی فیملی کو ریسکیو کرنے والے ایکسکیویٹر ڈرائیور محب اللّٰہ کو تعریفی اسناد اور نقد انعام دیا ہے،ڈپٹی کمشنر نے محب اللّٰہ کو وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے شاباش دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے آپ کے جذبے کو سراہا ہے اور وہ آپ سے مل کر آپ کو اپنے ہاتھ سے سرٹیفکیٹ بھی دیں گے، ڈرائیور محب اللّٰہ نے ڈپٹی کمشنر سے کہا کہ میں نے سیلاب میں پھنسی فیملی کو ریسکیو کرنا فرض سمجھا اور اللّٰہ کی رضا کے لیے اس فیملی کی مدد کی، مصیبت میں گھرے افراد کی مدد ہمارے دین کی تعلیمات اور روایات کا خاصہ ہے، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا مشکور ہوں، ان کی حوصلہ افزائی باعث فخر ہے، پوری قوم کا بھی شکر گزار ہوں کہ مجھے اتنی محبت دی۔ایک ویڈیو بیان میں محب اللہ کا کہنا تھا کہ کار میں سوار فیملی کو بچانے کیلئے گھر سے ایکسیویٹر لے کر آیا،،’لوگوں کا ہجوم کھڑا تھا کہہ رہا تھا کہ ایک گاڑی آئی جس میں خاتون اور بچے سوار تھے جو سیلابی پانی میں پھنس گئی ہے، پھر میں نے لوگوں سے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کیلئے کوشش کرنے کا کہا موقع پر کھڑے لوگوں نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ ہماری گاڑی بھی پھنس جائے میں جلدی سے بھاگا کسی موٹر سائیکل سوار کے ساتھ بیٹھ کر وہاں پہنچ کر ایکسیویٹر اسٹارٹ کرکے سیلابی ریلے کے مقام پر دوبارہ پہنچا اور کوشش کر کے بچوں اور خاتون کو بحفاظت نکال لیا‘‘

    پولیس کا ناروا سلوک،نوجوان نے پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگالی

    پرویز الہی نے پی ٹی آئی چھوڑ کر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی

    رہائی کے چند دن بعد پرویز الہیٰ پھر مشکل میں پھنس گئے

    میرے ساتھ” زیادتی” کرنے میں سب سے زیادہ اہم کردار محسن نقوی کا رہا ،پرویز الہیٰ

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    سوشل میڈیا پر فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قراردادمنظور

    سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر،یورپی ممالک سے 40 پاکستانی ڈی پورٹ

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    تصاویر:سعودی عرب میں سوئمنگ سوٹ فیشن شو،خواتین ماڈلز کی نیم عریاں کیٹ واک

  • آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کا امکان

    آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کا امکان

    آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کا امکان ہے ۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کا سپیل 4 ستمبر تک جاری رہنے کی پیشگوئی ہے ۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے ۔گزشتہ 24 گھنٹوں میں لاہور 50 ملی میٹر نارووال 68 سیالکوٹ 55 گجرانوالہ 41 اٹک 37 مری 33 اور حافظ آباد میں 23 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ڈیرہ غازی خان 60 ملی میٹر گجرات 18 اور جہلم منگلا اٹک منڈی بہاوالدین چکوال راولپنڈی کوٹ ادو اور جوہرآباد اور بہاولپور میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی ۔4 ستمبر تک دریائے جہلم اپ سٹریم میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے ۔دریائے سندھ میں نچلے درجے کے سیلاب جبکہ دریائے چناب اور راوی سے ملحقہ ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے ۔پنجاب کے تمام دریاؤں و ندی نالوں میں فی الحال پانی کا بہاؤ نارمل سطح پر ہے۔دریائے سندھ چناب راوی جہلم اور ستلج میں پانی کا بہاؤ نارمل لیول پر ہے ۔ ڈیرہ غازی خان ووڈور اور سوری لنڈ رود کوہی میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 80 فیصد ،تربیلا ڈیم میں 100 فیصد ہے ۔ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہےکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر پی ڈی ایم اے و متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔شہریوں کے تحفظ کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں ۔عوام الناس سے التماس ہے کہ مون سون بارشوں کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    سڑکوں اور گلیوں میں بارش کا پانی ذیادہ دیر نظر نہیں آنا چاہیے،وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اربن فلڈنگ کے خدشہ کے پیش نظر متعلقہ محکموں کو ہائی الرٹ کر دیا ،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کوہ سلیمان کے علاقے رود کوہی اور فلڈ کے خطرہ کی پیش نظر ڈیرہ غازی خان انتطامیہ کو بھی الرٹ رہنے کا حکم دے دیا،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے بارش کے پانی کی جلد ازجلد نکاسی یقینی بنانے کی ہدایت دی،گلی محلوں سے بھی بارش کے پانی کی نکاسی کے انتظامات کا حکم دیا اور کہا کہ لاہور سمیت دیگر شہروں کے نشیبی علاقوں سےبارش کے پانی کی جلد نکاسی کے انتظامات کئے جائیں-سڑکوں اور گلیوں میں بارش کا پانی ذیادہ دیر نظر نہیں آنا چاہیے، تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں-ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے ہنگامی صورتحال کے لئے تیار رہیں-بارش کے دوران ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لئے وارڈن موجود رہیں۔

    چکوال ،بارشوں سے سکول کی عمارت گر گئی
    دوسری جانب ضلع چکوال کے علاقے چوآسیدن شاہ میں بارشوں کے باعث اسکول کی عمارت گر گئی،اطلاع پر ڈی سی چکوال موقع پر پہنچ گئیں، سکول کی عمارت گرنے سے تعلیمی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں،ڈی سی چکوال قراۃ العین ملک کے مطابق اسکول کی عمارت چوآسیدن شاہ کے علاقے وٹلی میں گری ہے، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول کی عمارت کا ایک حصہ مکمل طور پر گر گیا، اسکول کی عمارت گرنے والے دن اسکول میں چھٹی تھی، اسکول کی عمارت گرنے پر بچوں کو دوسرے اسکول میں شفٹ کر دیا گیا ہے جن کا تدریسی سلسلہ جاری ہے،سکول کی عمارت کی بحالی کا کام جَلد شروع ہو جائے گا۔

    بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھایا جاتا تو معیشت بہتر ہوتی، شارق خان

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • بنگلہ دیش میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 59 ہو گئی

    بنگلہ دیش میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 59 ہو گئی

    بنگلہ دیش میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 59 ہو گئی، 5.4 ملین سے زیادہ لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں

    ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریلیف منسٹری کی رپورٹ کے مطابق، ہفتہ تک 11 اضلاع میں حالیہ سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 59 ہو گئی ہے۔تازہ ہلاکتوں میں سے چار کا تعلق فینی سے جبکہ ایک ضلع نواکھلی سے بتایا گیا ہے۔اب تک، سیلاب نے کومیلا میں 14، چٹگانگ میں چھ، فینی میں 23، نواکھلی میں نو، کاکس بازار میں تین اور برہمن باڑیا، کھگراچھڑی، مولوی بازار اور لکشمی پور اضلاع میں بالترتیب ایک ایک کی جان لی ہے۔مرنے والوں میں 41 مرد، چھ خواتین اور 12 بچے تھے۔

    سیلا ب زدہ اضلاع میں 696,995 خاندان پھنسے ہوئے ہیں، 11 اضلاع کی 504 میونسپلٹیز یا یونینوں میں 5,457,702 افراد متاثر ہوئے ہیں۔وزارت کے مطابق چٹاگانگ، حبیب گنج، سلہٹ، کاکس بازار اور کھگرا چاری اضلاع میں سیلاب کی صورتحال مستحکم ہے جبکہ مولوی بازار، برہمن باڑیا، کومیلا، فینی، نواکھلی اور لکشمی پور اضلاع میں سیلاب کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق، کم از کم 393,305 افراد نے 3,928 پناہ گاہوں میں پناہ لی ہے جبکہ وہاں 36,139 گھریلو جانور رکھے گئے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کل 519 میڈیکل ٹیمیں طبی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔سیلاب زدہ اضلاع میں اب تک 4.52 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جبکہ 20,650 ٹن چاول، 15,000 خشک خوراک یا دیگر کھانے پینے کی اشیاء اور بچوں کی خوراک اور چارہ ہر ایک کے لیے 35 لاکھ روپے مختص کیا گیا ہے۔

    ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد پناہ گاہوں میں پناہ لینے والے کچھ لوگوں نے اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا ہے۔کچھ سیلاب زدہ علاقوں میں سڑکوں کی آمدورفت میں بہتری آنا شروع ہو گئی ہے جبکہ متعلقہ حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

    بنگلہ دیش،سیلاب سے متاثرہ 9 اضلاع میں 9 لاکھ سے زائد افراد بجلی سے محروم

    بنگلہ دیش،سیلاب سے 50 لاکھ افراد متاثر

    بنگلا دیش میں سیلاب اور بھارتی میڈیا کا رویہ

    وزیراعظم شہباز شریف کا بنگلہ دیش میں سیلابی صورتحال پر دکھ اور ہمدردی کا اظہار

  • بلوچستان کے کئی اضلاع میں بارشوں سے مکانات تباہ،شہری بے گھر

    بلوچستان کے کئی اضلاع میں بارشوں سے مکانات تباہ،شہری بے گھر

    بلوچستان میں شدید بارشیں، سیلاب نے تباہی مچادی، مکانا ت تباہ ہو گئے، شہری کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں،بلوچستان میں طوفانی بارش کے بعد مختلف واقعات میں 29 افراد جاں بحق اور 15 افراد زخمی ہوئے ہیں
    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے کہیں مکانات کو نقصان پہنچا تو کہیں برساتی ندی نالوں کو اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق قلعہ سیف اللہ، ہرنائی، دکی، زیارت، سنجاوی، لورالائی، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، کوژک ٹاپ، شیلاباغ، گلستان اور خواجہ عمران میں موسلادھار بارشیں ہوئیں جس دوران قلعہ سیف اللہ کےعلاقے تلری اور موسیٰ زئی میں بڑے پیمانے پر مکانات کو نقصان پہنچا،شدید بارشوں کے باعث دیگر مختلف شہروں کے پہاڑی برساتی ندی نالوں میں اونچے درجے کاسیلاب ہے جب کہ دکی، قلعہ سیف اللہ اور لورالائی میں 6 افراد ریلوں میں بہہ گئے جن کی تلاش جاری ہے،شدید بارشوں کے دوران بلوچستان کے مختلف اضلاع میں3 گاڑیاں بہہ گئیں تاہم لوگ محفوظ رہے،

    جھل مگسی میں مسافر گاڑی سیلاب میں بہہ گئی جس کے بعد گاڑی میں سوار 5 افراد نے درختوں پر پناہ لی جنہیں بعد میں ریسکیو کر لیا گیا،جھل مگسی میں ہی کار ریلےمیں بہہ گئی جس دوران ڈرائیور کو بچالیاگیا، ہرنائی کی کھوسٹ ندی کے ریلے میں 2 افراد پھنس گئے، سیلابی ریلوں کی وجہ سےہرنائی کوئٹہ روڈ پر ٹریفک معطل ہوگیا

    بلوچستان کے علاقے نصیرآباد میں ڈیرہ مراد جمالی سول اسپتال اور پولیس تھانہ بارش کے بعد زیرِ آب آ گئے ،ڈیرہ بگٹی سے آنے والا 1500 کیوسک سیلابی پانی پٹ فیڈر میں داخل ہو چکا، سندھ بلوچستان سرحد سنٹ کے مقام پر لیویز چیک پوسٹ سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہے، ضلع نصیر آباد میں 36 گھنٹے کی مسلسل بارش میں تقریباً 20 مکانات گر گئے ہیں،شاہ پور گاؤں میں تقریباً 20 مکانات گر کے تباہ ہو گئے ہیں،ڈیرہ مراد جمالی ریلوے اسٹیشن پر ریلوے ٹریک بارش کے پانی میں ڈوب گیا، پنجگور میں گزشتہ کئی گھنٹوں سے موبائل اور لینڈ لائن فون سروس معطل ہے لیکن اس کے برعکس انتظامیہ اس معاملے کا نوٹس لینے میں ناکام رہی ہے

    صوبائی حکومت نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیموں کی روانگی، متاثرین کے لیے عارضی رہائش گاہوں کا قیام، اور خوراک و دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی شامل ہیں۔ صوبائی حکومت کے مطابق وہ ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔

  • مرکزی مسلم لیگ کا سیلاب  متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف آپریشن جاری

    مرکزی مسلم لیگ کا سیلاب متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف آپریشن جاری

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف آپریشن جاری ،پانچ سو سے زائد مریضوں کو ریسکیو کیا گیا اور اب تک ایک ہزار سے زائد افراد میں پکا پکایا کھانا تقسیم کیا گیا ۔

    چئیرمین شعبہ خدمت خلق پاکستان مرکزی مسلم محمد سرور چوہدری نے کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار شروع دن ہی سے راجن پور کے سیلاب متاثرہ علاقے فاضل پور ،حاجی پورہ ،محمد پور،موضع گیانمل ،روجھان کے علاقوں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ۔اب تک ایک ہزار سے زائد کی تعداد میں افراد کو پکا پکایا کھلایا چکا ہے ۔اس کے علاوہ متاثرہ علاقے موضع گیانمل میں میڈیکل کیمپ بھی لگایا گیا جس میں سپشلسٹ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف نے حصہ لیا اور مریضوں میں مفت ادویات بھی تقسیم کی گئیں ۔میڈیکل کیمپس سے پانچ سو زائد مریض مستفید ہوئے ۔اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں بچوں میں تحائف بھی تقسیم کیے گئے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ آزمائش کی اس گھڑی میں متاثرین کے دکھ درد کو اپنا دکھ اوردرد سمجھتی ہے ۔ہم پہلے بھی متاثرین کے لیے روزانہ کی بنیاد پر تیار کھانااور علاج کے لیے میڈیکل کیمپنگ فراہم کررہے ہیں ۔متاثرین کی بحالی تک ہم ان کے ساتھ ہیں ۔اور خدمت کے کام کا دائرہ وسیع کریں گے ۔

    محمد سرور چوہدری نے کہا کہ مخیر حضرات مشکل کی اس گھڑی میں ہم وطنوں کی مدد کے لیے آگے بڑھیں ۔ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم باہمی معاونت سے متاثرہ لوگوں کی مدد کریں۔