Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • پہاڑوں پر پانی آتا ہے تو وہیں ذخیرہ کرنے کا انتظام ہونا چاہیے،قائمہ کمیٹی

    پہاڑوں پر پانی آتا ہے تو وہیں ذخیرہ کرنے کا انتظام ہونا چاہیے،قائمہ کمیٹی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید محمد صابر شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر سرفراز احمد بگٹی کی جانب سے سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے صوبہ بلوچستان میں کچی کنال کی بحالی کے علاوہ،واپڈا ملازمین کی اپ گریڈیشن کے ٹائم سکیل کا معاملہ،کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں واپڈا کے حوالے سے دی گئی رپورٹ پر عملدرآمد، ڈسٹرکٹ حیدرآباد سندھ میں 15.19 ایکڑ زمین حاصل کرنے کے معاملات،نیلم جہلم منصوبے کے ٹنل میں پڑنے والے کریک،جنرل منیجر تربیلا کی جانب سے 2021 سے اب تک کی جانے والی تربیلا دیم منصوبے میں تقرریوں کے معاملات کی تفصیلات، ضلع ہرنائی بلوچستان کے علاقوں میں سیلابی بچاؤسے متعلقہ کاموں کے معاملات ،گڈوالیاں ڈیم کی لیکج کے حوالے سے انکوائری رپورٹ کے معاملات کے علاوہ مہمند ڈیم میں سیلاب کی وجہ سے پڑنے والے کریکس اور دیگر نقصانات اور ان کی اب تک کی مرمت کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 31 مارچ2023 کو سینیٹر سرفراز احمد بگٹی کی جانب سے اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے صوبہ بلوچستان میں کچی کنال کی بحالی کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ یہ انتہائی اہمیت کا معاملہ ہے جس کا تعلق تین صوبوں سے ہے۔ کچی کنال سے ملحقہ علاقوں میں بارشوں کی وجہ سے سیلاب آتے ہیں اگر موثر حکمت عملی اختیار کی جائے تو اس پانی کو بہتر استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ سیکرٹری آبی وسائل نے کمیٹی کو بتایا کہ کوہ سلیمان کے پہاڑوں سے بہت زیادہ پانی آتا ہے۔ صوبائی محکمہ پنجاب ایری گیشن نے کوہ سلیمان کے علاقے میں کام کرنا ہے۔ بہتر ہے کہ ان کی موجودگی میں معاملے کا جائزہ لیا جائے۔ قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں محکمہ پنجاب ایری گیشن کو بریفنگ کے لئے طلب کرلیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کوہ سلیمان میں مسلسل بارشیں ہونا شروع ہو گئی ہیں بڑے سیلابی ریلے آتے ہیں۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ جب پہاڑوں پر پانی آتا ہے تو وہیں ذخیرہ کرنے کا انتظام ہونا چاہیے۔ کچی کنال بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ سائفن بنائے جائیں، دریاؤں کے قریب بند بنائیں جائیں اور مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے۔ سیکرٹری آبی وسائل نے کہا کہ کچی کنال بے شمار جگہوں پر سیلابی ریلے کی زد میں آجاتی ہے اس کا بند اوپر اٹھایا ہوا ہے۔ پانی کچی کنال کو ہٹ کرتا ہے۔جو اسٹرکچر ابھی بنا ہوا ہے وہ اس سیلابی پانی کو کنڑول نہیں کر سکتا،13 نالوں کا پانی آتا ہے اور ریلہ ایک لاکھ کیوسک تک ہو جاتا ہے۔ ایک جامع پلان کی ضرورت ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت پنجاب اور بلوچستان حکومت کو درخواست دی ہے کہ ایک جامع پلان دیں۔

    واپڈا ملازمین کی اپ گریڈیشن کے ٹائم سکیل کے معاملے کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے جو پالیسی دی گئی ہے اس سے بہتر واپڈا کی ٹائم اسکیل اپ گریڈیشن کی اپنی پالیسی ہے جس پر 2001 سے عمل کیا جارہا ہے۔ نئی پالیسی سے ملازمین کا نقصان ہوگا۔

    کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں واپڈا کے حوالے سے دی گئی رپورٹ پر عملدرآمد کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جو ہدایات دی گئی تھیں ان پر عملدرآمد کر لیا گیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید محمد صابر شاہ نے کہا کہ گزشتہ کمیٹی اجلاس مورخہ18جولائی2023 کو کمیٹی کے ایجنڈا آئٹم 6 پر کہا تھا کہ تربیلا ڈیم T-iv اورT-v پاور ونگ کے ملازمین کو 30 فیصد الاؤنس مل رہا تھا جبکہ واٹرو نگ کے ملازمین اس الاؤنس سے محروم تھے۔کمیٹی نے ہدایت کی تھی کہ اس تضاد کو ختم کیا جائے اور برابر ی کی بنیاد پر الاؤنسز دیئے جائیں کیونکہ دونوں ونگ کے ملازمین ایک جگہ پر کام کر رہے ہیں۔جس پر وزارت آبی وسائل اور واپڈا حکام نے کہا تھا کہ ہم اس تضاد کو ختم کر یں گے اور سب ملازمین کو برابر الاؤنس دیئے جائیں گے۔ جبکہ آج کے ہونے والے کمیٹی اجلاس میں ان ہدایات پر عملدرآمد طلب کیا گیا تھا۔ جس پر وزارت آبی وسائل اور واپڈا حکام نے بتایا کہ کمیٹی کی ہدایات پر من وعن عملدرآمد کر لیا گیا ہے۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ تربیلا ڈیم کام کرنے والے ہزاروں ملازمین میں کمیٹی کی ہدایت پر عملدرآمد کرنے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور تربیلا ڈیم ملازمین نے چیئرمین واراکین کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔

    ڈسٹرکٹ حیدرآباد سندھ میں 15.19 ایکڑ زمین حاصل کرنے کے معاملات کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ پیسے عدالت میں جمع کر ا دیئے گئے ہیں۔ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ کس کو دینے ہیں کس کو نہیں یہ معاملہ عدالت میں ہے۔
    نیلم جہلم منصوبے کے ٹنل میں پڑنے والے کریک کے حوالے چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید صابر شاہ نے کہا کہ اتنا بڑا منصوبہ تھا کس طرح اس جگہ کی نشاندہی نہیں کی جا سکی تھی۔ کیا مزید بھی ایسے نقصانا ت ہو سکتے ہیں۔ جب منصوبہ شروع کیا گیا تھا تو اس پر موثر کام کیوں نہیں کیا گیا۔جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ نیلم جہلم ٹنل کا یہ نقصان سیلاب کی وجہ سے نہیں بلکہ جعفرافیائی مسئلے سے ہوا تھا۔ ٹنل کی 42 میٹر کی جگہ پر نقصان ہوا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کسی بھی منصوبے کو اگر 100 سالہ معیاد کے مطابق بنایا جائے تو خرچ زیادہ ہوتا ہے مگر معیار بہتر ہوتا ہے۔ مگر پاکستان میں 30 سالہ معیاد کے مطابق کم خرچ سے عملدرآمد کیا جاتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نیلم جہلم منصوبے میں مرمت کے بعد منصوبے کی پیدا وار میں بہتر ی آئی ہے اور تقریبا سالانہ 50 ارب کی سالانہ آمدن ہو گی۔

    جنرل منیجر تربیلا کی جانب سے 2021 سے اب تک کی جانے والی تربیلا ڈیم منصوبے میں تقرریوں کے معاملات کی تفصیلات سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تمام بھرتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید صابر شاہ نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں مکمل تفصیلات بشمول میرٹ لسٹ میٹرک کے نمبر، ڈومیسائل، تعلیمی قابلیت و دیگر معلومات فراہم کی جائیں۔

    ضلع ہرنائی بلوچستان کے علاقوں میں سیلابی ریلوں سے بچاؤسے متعلقہ کاموں کے معاملات کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کو پی سی ون تیار کرنے کا کہہ دیا ہے جسے ہی فراہم کر دیا جائے گا کمیٹی کو آگاہ کر دیں۔گڈوالیاں ڈیم کی لیکج کے حوالے سے انکوائری رپورٹ کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ قائمہ کمیٹی کی ہدایت کے مطابق عمل کیا جارہا ہے۔ تین گیج اسٹیشن قائم کر کے ڈیٹا اکھٹا کیا جارہا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے انکوائری کمیٹی بنانے کی بھی ہدایت کی تھی وہ بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ایک ماہ کا ٹائم دیا تھا انہوں نے جامع رپورٹ کے لئے مزید دو ماہ کا وقت مانگا ہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید محمد صابر شاہ نے کہا کہ انکوائری میں ان لوگوں کو شامل نہ کریں جو ڈیزائنگ میں شامل تھے۔ غیر متعلقہ لوگ شامل کیے جائیں۔ جس پر قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 30 سال کی سروس والے گریڈ 19 کے آفسر کو انکوائری کمیٹی کا ہیڈ بنایا گیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ڈیم میں جو پانی آتا ہے وہ غائب ہو جاتا ہے لیکج کی نشاندہی کریں اورا س مسئلے کی رپورٹ بھی انکوائری کمیٹی کو فراہم کی جائے۔

    مہمند ڈیم میں سیلاب کی وجہ سے پڑنے والے کریکس اور دیگر نقصانات اور ان کی اب تک کی مرمت کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بہت بڑے سیلابی ریلے کی وجہ سے یہ مسئلہ آیا تھا اس وقت دریا پر ادارہ کام نہیں کر رہا تھا ٹنل پر کام کر رہے تھے۔ عارضی بند بنایا گیا تھا تین لاکھ کیوسک کا ریلہ آیا تھا۔ پوری ڈائی تباہ نہیں ہو ئی تھی بلکہ اس میں تھوڑا سا نقصان ہوا تھا۔

    بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبہ کی دی مودی سرکار نے منظوری

    دیامر بھاشا ڈیم منصوبے سے دشمن کو تکلیف ہو رہی ہے،فیصل واوڈا

    ڈیم مخالف ٹرینڈ ، بھارتی عزائم کا ٹرینڈ ہے ، بھارتی پراپیگنڈہ چند شرپسند عناصرپھیلا رہے ہیں‌، جویریہ صدیقی

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    ڈیم مخالف مہم بے نقاب ، ہم نے مقامی لوگوں کو ڈیم کے خلاف بھڑکایا، بھارتی جنرل کا اعتراف

  • ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین

    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین

    پیٹرن انچیف استحکام پاکستان پارٹی جہانگیر ترین لودھراں اور بہاولپور کے سیلاب متاثرین کے پاس پہنچ گئے

    جہانگیر ترین نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ،اس موقع پر جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ میں نے فوری طور پر لودھراں اور بہاولپور کے سیلاب متاثرین کے لئے فلڈ ریلیف فنڈ قائم کیا, ہم نے ہر سیلاب زدہ بہن بھائیوں کی مدد کے لیے دن رات کام کیا، اللہ نے مجھے عوام کی خدمت کی توفیق دی، اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں,میں نے ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،عوام کی خدمت کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں،سیلاب میں گھرے بہن بھائیوں کی امداد میں وسائل کی کوئی کمی نہیں آئے گی ،ڈپٹی کمشنر لودھراں ، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو کی کاوشیں لائق تحسین ہیں،

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد ہوئی 

    تحسین گردیزی، ارشاد عباس گھلو کا کہنا تھا کہ اہلیان علاقہ کی جانب سے جہانگیر ترین کا شکریہ ادا کرتے ہیں ، ڈپٹی کمشنر لودھراں عبدالرؤف مہر کا کہنا تھا کہ سیلاب میں نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں، نقصان کا ازالہ کروائیں گے،آئی پی پی بہاولپور، لودھراں کے رہنما تحسین گردیزی، ارشاد عباس گھلو و دیگر جہانگیر ترین کے ہمراہ تھے

  • سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے اقدامات کیئے جائیں ،بلاول

    سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے اقدامات کیئے جائیں ،بلاول

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دریا کے بند میں شگاف کی رپورٹس پر اظہارِ تشویش کیا ہے

    بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا ہے کہ سیلاب متاثر علاقوں سے عوام کو محفوظ مقامات پر منتقلی کو یقینی بنایا جائے .سیلاب کی تباہ کاریوں پر قابو پانے کے لیے حکومت جنگی بنیادوں پر مربوط اقدام کو یقینی بنائے ،بہاولپور اور احمد پور شرقیہ جیسی بڑی آبادیوں کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے اقدامات کیئے جائیں ،

    بلاول بھٹو زرداری نے ہدایت کی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے سیلاب متاثر علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، انتظامیہ کا ہاتھ بٹائیں ،پاکستان پیپلز پارٹی دریائے ستلج کے سیلاب متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی ،حکومت دریائے ستلج کے سیلاب متاثرین کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کرے ،حکومت دریائے ستلج کے سیلاب کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے کرائے ،پاکستان پیپلز پارٹی آئندہ الیکشن جیت کر دریائے ستلج کے سیلاب متاثرین کا بھی اسی طرح ساتھ دے گی، جس طرح سندھ میں بارش متاثرین کا دیا ہے ،پاکستان پیپلز پارٹی دریائے ستلج کے متاثرین کو گھر بنانے اور زراعت کی بحالی کے خصوصی اقدام کرے گی

    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    واضح رہے کہ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج میں طغیانی کے پیش نظر ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں۔ دریائے ستلج سے ملحقہ نشیبی علاقے 17 اگست سے سیلاب کی زد میں ہیں ۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عمران قریشی نے بتایا کہ متاثرہ اضلاع میں 95میڈیکل کیمپ لوگوں کو طبی سہولیات فراہم کررہے ہیں۔20 ایمولینس ایمرجنسی صورت حال میں امداد کے لئے ہمہ وقت موجود ہیں۔ 36 ہزار سے زائد افرادکو اب تک علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جاچکیں ہیں۔ میڈیکل کے علاوہ 178ریلیف کیمپس بھی متاثرہ اضلاع میں کام کررہے ہیں۔ ایک لاکھ کے قریب افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے ۔2 لاکھ سے زائد افراد کو ایمرجنسی ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کی گئیں۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ متاثرہ اضلاع میں 70ہزار افراد کو پکا ہوا کھانا فراہم کیا گیا۔ڈیڑھ لاکھ مویشیوں کو بیماریوں سے بچاﺅ کی ادویات اور ویکسینیشن کی گئی۔ پچیس ہزار مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔

    اِس موقع پر ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کا کہنا تھا کہ سیلاب کے مکمل خاتمے تک امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی ۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں ۔ ریسکیو اداروں کی کارکردگی سے مطمئن ہوں ۔سیلابی پانی میں کمی کی اطلاعات ہیں، آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہوجائیں گے۔انتظامی افسران ہمہ وقت فیلڈ میں موجود رہیں۔

  • دریائے ستلج ، بھارتی ڈیم پونگ اورباکھرا میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند

    دریائے ستلج ، بھارتی ڈیم پونگ اورباکھرا میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند

    دریائے ستلج پر بھارتی ڈیم پونگ اور باکھرا میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مزید بارشوں کی صورت میں بھارت سے پانی کی آمد میں تباہ کن اضافہ متوقع ہے۔ قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، ویہاڑی، بہاولنگر، لودھراں،ملتان اور بہاولپور کے اضلاع شدید متاثر ہوسکتے ہیں دریائے ستلج کے راستے میں قائم سوسائٹیوں اور قصبوں کو خالی کروانا پڑ سکتا ہے۔ متاثر ہونے والے موضع، دیہات اور سوسائیٹیوں بارے تفصیلات متعلقہ انتظامیہ کو فراہم کی جاچکی ہیں۔

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے ہدایت کی کہ بھارتی ڈیموں کی صورتحال پر تشویش، تمام ادارے ہائی الرٹ رہیں۔ متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ ندی نالوں کے راستوں سے تجاوزات کا خاتمی یقینی بنائے۔مقامی آبادیوں کے ساتھ بھی معلومات شئیر کی جائیں تاکہ وہ ذہنی طور پر تیار رہیں۔عوام اور ادارے مل کر سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم سے کم کر سکتے ہیں۔کسی بھی ایمرجنسی صورت حال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن پر چوبیس گھنٹے اطلاع دے سکتے ہیں۔

    بورے والا دریائے ستلج ہیڈ اسلام کے حدود میں اونچے درجے کے سیلاب ، متعدد زمینیں زیر آب آ گئیں اور کئی گھروں کو نقصان پہنچا ہے ، سیلابی پانی کا تیزی سے شہری آبادیوں کی طرف بہاو جاری ہے ،۔محکمہ آبپاشی کے مطابق بہاولپور کی 3 تحصیلوں میں دریائے ستلج کے سیلابی ریلے سے متعدد بند بہہ گئے، ادھر ہیڈ میلسی سائفن پرپانی کی سطح ایک لاکھ 24 ہزارکیوسک ہو گئی جس کے باعث متعدد دیہات ڈوب گئے

    پاکستان آرمی کی سیلاب زدگان کیلئے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، بھارت کی طرف سے دریائے ستلج میں سیلابی پانی چھوڑا گیا ، پاک فوج کی جانب سے بہاولپور ڈویژن کے نشیبی علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، سیلاب متاثرین کے لئے پاک آرمی کی طرف سے فری میڈیکل کیمپس اور ریسکیو آپریشن سمیت فری راشن تقسیم کا سلسلہ جاری ہے، پاک آرمی کی جانب سے میلسی، چشتیاں، منچناں آباد ، پاکپتن ، عارف والا، وہاڑی ، لودھراں، بورے والا اور ہیڈ سلیمانکی میں مقامی انتظامیہ سے مل کر متاثرہ علاقوں سے سیلاب متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنےکا سلسلہ جاری ہے،سیلاب کے دوران وبائی امراض سے بچانے کے لیے میڈیکل کیمپس بھی قائم کئے گئے ہیں، بڑی تعداد میں متاثرین کو مفت طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے

    بجلی کے بلوں میں اضافہ پرشہری سڑکوں پرنکل آئے

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بجلی کے نرخوں کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

  • بلوں کی اداٸیگی عام آدمی کے بس کی بات نہیں رہی،فردوس عاشق اعوان

    بلوں کی اداٸیگی عام آدمی کے بس کی بات نہیں رہی،فردوس عاشق اعوان

    استحکام پاکستان پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ گنڈا سنگھ اور دیگر مقامات پر سیلاب کی صورت حال نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے

    ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ پروردگار تمام علاقوں کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھے۔بھارتی آبی جارحیت شرمناک ہے۔مہنگاٸی نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔ملک میں مہنگاٸی کا جن بے قابو ہو چکا ہے۔ غریب عوم کا کوٸی پرسان حال نہیں۔ ملک فلاحی ریاست کی بجاٸے پریشان حال مخلوق کی آماجگاہ بن چکا ہے۔

    ڈاکٹر فردوس عاشق نے بجلی کے نرخوں میں ہوشربا اضافے پر اظہارتشویش کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ بلوں کی اداٸیگی عام آدمی کے بس کی بات نہیں رہی کل آمدن سے بھی زیادہ صرف بجلی کے بل ہیں جن کی وجہ سے جینا دشوار ہو چکا ہے۔آٸی پی پی عوام دوست جماعت ہے۔ ہماری جماعت عوامی مساٸل کو حل کرنے کے لٸے معرض وجود میں آٸی ہے۔فی گھرانہ تین سو یونٹ تک فری بجلی ہمارے منشور کا حصہ ہے۔ چھوٹے کاشتکاروں کے لٸے سولر ٹیوب ویل بھی ہمارے منشور میں شامل ہے۔حکومت عوام کے مساٸل کے حل کے لٸے کوٸی لاٸحہ عمل ترتیب دے۔

    بے اولاد ہیں، بچہ خرید لیں، بچے پیدا کرنے کی فیکٹری، تہلکہ خیز انکشاف

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    درندگی کا نشانہ بننے والی بچی کے والد نے کیا حکومت سے بڑا مطالبہ

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو حقائق بیان کرنے سے نہیں روک سکتا

     نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • چین:سیاحتی مقام پر دریا میں اچانک سیلابی ریلا آگیا،کئی افراد بہہ گئے

    چین:سیاحتی مقام پر دریا میں اچانک سیلابی ریلا آگیا،کئی افراد بہہ گئے

    چین کے صوبے سیچوان کے سیاحتی مقام پر دریا میں اچانک سیلابی ریلا آگیا، جس کی زد میں آکر کئی افراد طوفانی ریلے میں بہہ گئے۔

    باغی ٹی وی: فوٹو گرافی میں مصروف درجنوں سیاح اچانک آنے والے سیلابی ریلے سے سنھبل نہ پائے اور طوفانی ریلے میں بہہ گئے۔ حکام نے 7 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے درجنوں سیاح تاحال لاپتہ ہیں جبکہ چار افراد کو بچالیا گیا ہے چینی حکام کے مطابق ندی میں پانی ڈیم اوورفلو ہونے پر چھوڑا گیا،سیاحوں کو پانی چھوڑے جانے کی وارننگ کا علم نہ ہوا ہے اس وجہ سے وہ اس کی ذد میں آگئے۔

    بیجنگ میں شدید بارشیں، ہلاکتوں کی تعداد 33 ہو گئی

    چین کے دارالحکومت میں شدید بارشوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 33 ہوگئی جب کہ 18 افراد اب بھی لاپتا ہیں، بیجنگ میں ہونے والی ریکارڈ توڑ بارشوں میں مزید 33 افراد ہلاک ہوگئے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے بیجنگ کے مئیر نے بتایا تھا کہ بیجنگ میں مسلسل ہونے والی بارشوں میں انفراسٹر کچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا اور کئی علاقوں میں بجلی منقطع ہوگئی،جبکہ چین ایک ماہ کے دوران بارشوں میں ہلاک اور لاپتا ہونے والوں کی تعداد 147 ہوگئی، بارشوں میں ہلاک ہونے والوں میں ریسکیو اہلکار بھی شامل ہیں تاہم انھوں نے تعداد نہیں بتائی۔

    ماں نے 7 ہفتوں کے بچے کو چپ کرانے کیلئے فیڈر میں شراب پلا دی

  • دریائے ستلج،کشتی حادثہ،ایک بجے کی موت،33 افراد کو بچا لیا گیا

    دریائے ستلج،کشتی حادثہ،ایک بجے کی موت،33 افراد کو بچا لیا گیا

    دریائے ستلج کشتی حادثہ اپڈیٹ ،دریائے ستلج سوجیکی ضلع اوکاڑہ کے مقام پر دریا عبور کرنے کے لیے استعمال ہونے والے بیڑے کے حادثہ میں اب تک ایک بچے کی ڈیڈ باڈی کو نکال لیا گیا

    ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر محمد ذیشان حنیف کا کہنا ہے کہ کشتی الٹنے کے باعث ڈوبنے والے افراد میں سے 33 افراد کو بچا لیا گیا ہے اور باقی کی تلاش کے لیے ریسکیو اپریشن جاری ہے ریسکیو آپریشن میں بچائے جانے والوں میں 24 خواتین 6 مرد اور ایک بچہ شامل ہے جنہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے ریسکیو کیے جانے والے افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے ریسکیو کئے جانے والے تمام افراد کی حالت خطرے سے باہر ہے بیڑا میں 40 افراد سوار تھے جن میں سے اٹھ افراد کا تعلق ضلع اوکاڑا اور 32 افراد کا تعلق ضلع بہاول نگر سے ہے جائے وقوعہ پر ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر محمد ذیشان حنیف اور ڈسٹرکٹ پولیس افیسر کیپٹن ریٹائرڈ منصور امان ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افیسر ظفر اقبال اور تمام متعلقہ محکمے موقع پر پہنچ کر ریسکیو اپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں اللہ تعالی کے فضل و کرم سے تمام سرکاری محکموں کے ربط و رابطہ سے کیے گئے ریسکیو اپریشن کی بدولت قیمتی انسانی جانوں کو بچایا گیا ہے

    لیبیا کشتی حادثہ میں ملوث انسانی سمگلر کو گرفتار 

    حادثے کے مرکزی ملزم ممتاز آرائیں کو وہاڑی سے گرفتار کیا گیا

    انٹر ایجنسی ٹاسک فورس کا ساتوں اجلاس ایف آئی اے ہیڈ کواٹر میں منعقد ہوا

    شہری ڈوب چکے، کئی کی لاشیں ملیں تو کئی ابھی تک لاپتہ ہیں،

    دوسری جانب دریائے ستلج ہیڈ سلیمانکی پر پانی کی سطح میں اضافہ جاری ہے، ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر پانی کی آمد 76035 اور اخراج میں 65877 کیوسک ہوگیا دریائے ستلج میں ضلع بہاولنگر کی حدود میں نچلے درجے کا سیلاب ہے،سیلابی پانی کی تباہ کاریاں تیز ہوگئیں انی کےتیز بہاو کی وجہ سے متعدد حفاظتی بند ٹوٹ گئے مومیکا روڈ اور ساہوکا روڈ پر سیلابی پانی سے شگاف کی وجہ آمدورفت کا سلسلہ معطل ہو گیا، درجنوں آبادیوں کا زمینی راستہ کٹ گیا ،دریائی بیلٹ سے ملحقہ مواضعات کی درجنوں آبادیوں میں سیلابی پانی داخل ہو گیا،سیلابی پانی کیوجہ سے لوگوں کو نقل مکانی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، لوگ اپنی مدد آپ کے تحت لوگ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے پانی میں بھنسے افراد کو ریسکیو کرکے محفوظ مقام پر منتقل کردیا ، سیلابی پانی سے موضع عاکوکا ، ماڑی میاں صاحب، سنتیکا ، بہادرکا ، چاویکا اور دیگر مواضعات میں دریائی کٹاو بھی تیزی سے جاری ہے، متاثرین کھلے آسمان تلے حکومت کی جانب سے ریلیف پیکج کے منتظر ہیں

  • بھارت کی چاول کی برآمد پر پابندی، عالمی سطح پر اناج کی سپلائی پر دباؤ

    بھارت کی چاول کی برآمد پر پابندی، عالمی سطح پر اناج کی سپلائی پر دباؤ

    بھارت کا غیر سفید باسمتی چاول کی برآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ ممکنہ طور پر عالمی غذائی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ پابندی چاول کی گھریلو قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو کم کرنے کے لیے لگائی گئی تھی، شدید بارشوں سے فصلوں کو نقصان پہنچا اس اقدام سے بھارت سے چاول کی برآمدات کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ کم ہو جائے گا، جو عام طور پر عالمی اناج کی تجارت کا 40 فیصد ہوتا ہے۔

    بھارتی چاول کے اہم خریدار نائجیریا، چین اور فلپائن ہیں. جبکہ دیگر ممالک ضرورت پڑنے پر اپنی گھریلو پیداوار کو پورا کرنے کے لیے بھارتی چاول کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہرین کے تجزیے کے مطابق، پابندی کے نفاذ کے ساتھ، اناج کی قیمتوں میں 15 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

    صورتحال اس وجہ سے ابتر ہے کہ نئی فصل مزید تین ماہ تک دستیاب نہیں ہوگی۔ پاکستان جو چاول کا ایک اور بڑا برآمد کنندہ ہے میں بارشیں اور سیلاب ہے، بھارت میں بھی مون سون کی بارشیں، چاول کی پیداوار کے لیے اضافی مشکلات کا باعث ہیں۔ بھارت، دنیا کے دوسرے سب سے بڑے چاول پیدا کرنے والے ملک ہونے کی حیثیت سے، اس بات کا خدشہ ہے کہ غیر معمولی بارشیں چاول کی فصلوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے،
    rice02

    مزید یہ کہ درآمد کنندگان کو کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے پہلے ہی زیادہ اخراجات کا سامنا ہے۔ بھارتی چاول کی برآمدات پر پابندی سے سپلائی کرنے والے ممالک پر اس نازک دور میں چاول کی مانگ پوری کرنے کے لیے مزید دباؤ بڑھ جاتا ہے۔اس پابندی کا وقت خاص طور پر تشویشناک ہے، کیونکہ بھارت آنے والے مہینوں میں اہم ریاستی انتخابات، اور اگلے سال عام انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔ مودی کی زیر قیادت ہندوستانی حکومت اس حساس سیاسی وقت کے دوران اشیائے خوردونوش کی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بے چین ہے۔

    پابندی بحیرہ اسود کے اقدام کی تجدید نہ ہونے، اور گندم کی سپلائی متاثر ہونے کے ساتھ موافق ہے. بھارت کے چاول کی برآمدات روکنے کے فیصلے سے عالمی اناج کی سپلائی میں مزید تناؤ آنے کی توقع ہے۔تاہم، بھارت نے پابندی کو نافذ کرنے میں حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے. کیونکہ اس نے کئی افریقی ممالک کوچاولوں کی کچھ اقسام برآمد کیے، اور ایک قسم کو بنیادی طور پر بنگلہ دیش کو برآمد کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بھارت اور دیگر افریقی ممالک کے درمیان کسی بھی منفی سفارتی اثرات سے بچنا ہے، جن کے ساتھ بھارت مثبت تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے

    rice04

  • مون سون بارشیں، سیلاب،183 افراد کی موت،266 زخمی

    مون سون بارشیں، سیلاب،183 افراد کی موت،266 زخمی

    انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے پاکستان میں بارشوں کے بعد ہونے والے نقصانات کے حوالہ سے اپنی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 25 جون سے شروع ہونے والے بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں پاکستان میں اب تک 183 افراد کی موت ہو ئی ہے اور 266 افراد زخمی ہوئے ہیں،

    انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے نقصانات کی رپورٹ دو اگست کو جاری کی ہے جس میں کہا ہے کہ پاکستان میں شدید بارش اور سیلاب کا خطرہ ہے، پاکستان میں مون سون کی بارشیں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں ، وہ علاقے جو گزشتہ برس سیلاب سے متاثر ہوئے تھے، پھر متاثر ہو سکتے ہیں، گزشتہ برس سیلاب سے 33 ملین افراد متاثر اور 1739 کی موت ہو ئی تھی، اب موجودہ بارشوں کے بعد این ڈی ایم اے نے جو رپورٹ جاری کی اسکے مطابق اب تک رواں برس بارشوں کے بعد کی صورتحال کے نتیجے میں 183 افراد کی موت ہو چکی ہے، بلوچستان اور کے پی کے متعدد اضلاع شدید بارش کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں،

    بلوچستان میں خاران، آواران، ژوب، قلعہ سیف اللہ، نصیر آباد، لسبیلہ، اوستہ محمد اور صحبت پورمیں شدید بارش ہوئی،صوبہ بلوچستان میں اب تک 12 افراد جاں بحق، 14 زخمی، 334 مکانات تباہ ہوئے، جن کو جزوی طور پر نقصان پہنچا، اور 332 مکانات مکمل طور پر تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں بلوچستان کا ضلع واشک بری طرح متاثر ہوا اور 200 مکانات ضلع میں مکمل طور پر تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔

    کے پی کے میں خیبر، سوات، بٹگرام، مانسہرہ، کرک، مردان، شانگلہ، اپر کوہستان، اپر دیر، لوئر دیر، بونیر، مالاکنڈ،باجوڑ، ایبٹ آباد، اپر چترال، اور لوئر چترال متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں، این ڈی ایم اے کے مطابق 17 سے 30 جولائی کے درمیان شدید بارشیں ہوئی، اس دوران سیلاب آیا اور 53 افراد کی موت ہوئی جبکہ 67 افراد زخمی ہوئے، خیبرپختونخوا میں بھی سیلاب کے باعث 219 مویشی لقمہ اجل بن گئے۔ شدید بارشوں نے دو اسکولوں اور 379 مکانات کو نقصان پہنچایا، جن میں 74 مکمل طور پر تباہ ہو ئے جبکہ 305 کو جزوی نقصان پہنچا۔

    صوبہ سندھ میں، ضلع دادو کی چھ یونین کونسلیں سیلابی پانی سے متاثر ہیں۔ایک اندازے کے مطابق 183 دیہات اور 102,268 افراد متاثر ہوئے کیونکہ اہم سڑکیں زیر آب ہیں۔ لوگ آمدورفت کے لیے متبادل راستے استعمال کر رہے ہیں۔سندھ میں 10 اموات اور 21 افراد زخمی ہوئے۔ حال ہی میں سیلابی پانی نے سکھر اور جیکب آباد کی آبادی کو متاثر کیا ہے۔ضلع میں 324 مکانات کو جزوی اور 18 کو مکمل طور پر نقصان پہنچا ہے۔3,528 ایکڑ فصل کا رقبہ تباہ ہوا ہے ،

    دوسری جانب ایک اور رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں مون سون بارشوں سے ہلاکتوں کی تعداد 16 ہو گئی ہے، رپورٹ کے مطابق لورالائی میں3 ،پنجگور ، ژوب اور نصیر آباد میں 2 ،2 افراد ہلاک ہوئے جبکہ آواران، قلعہ سیف اللہ، خضدار، ڈیرہ بگٹی، پشین،کیچ اور جھل مگسی میں بارشوں کے باعث ایک ایک ہلاکت ہوئی جاں بحق ہونے والوں میں 8 مرد، 2 خواتین اور 6 بچے شامل ہیں جب کہ بارشوں سے صوبے میں 24 افراد زخمی بھی ہوئے

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

    ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ صوبہ بھر میں عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پی ڈی ایم اے کا ریلیف آپریشن 9 جولائی سے جاری ہے۔صوبہ بھر میں اب تک 222 ریلیف کیمپس لگائے گئے ہیں۔حفاظتی اقدامات کے ذریعے قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔سیلابی ریلوں سے ننکانہ میں 454،اوکاڑ ہ 4075، قصور 7039،ویہاڑی 100 ،مظفر گڑھ  2124،خانیوال 48،ننکانہ 454افرا د کومحفوظ مقامات پرمنتقل کیاگیا۔ قصورمیں 47058، اوکاڑہ 69868 ویہاڑی 1349 سیالکوٹ میں 41ننکانہ 1013لیہ میں 214افراد کو ٹرانسپورٹ مہیا کی گئی۔اسی طرح قصورمیں 2412،مظفر گڑھ 1758،ننکانہ 885،اوکاڑہ 132، ویہاڑی 305،خانیوال میں 200مویشیوں کو ریسکیو کیا گیاجبکہ ننکانہ میں 855 افراد میں راشن کے بیگز تقسیم کئے گئے۔

    ترجمان نے بتایا کہ سیلابی پانی سے بہاولپور میں تین، اوکاڑہ 77جھنگ 40مظفرگڑھ پانچ خانیوال 23ننکانہ 8لیہ میں 65 بستیاں پانی سے متاثر ہوئیں۔بہاولپور میں 220ایکڑ، اوکاڑہ میں 20275ایکڑ، ویہاڑی 19061ایکڑ، خانیوال 9ہزار ایکڑننکانہ 816ایکڑلیہ 5762ایکڑ فصلوں کو نقصان پہنچا۔ نگراں ڈ ی جی پی ڈی ایم ایعمران قریشی نے کہا کہ سیلابی پانی سے اوکاڑہ میں ایک شخص جاں بحق جبکہاوکاڑہ میں چار اور سیالکوٹ میں چھت گرنے سے د و افراد زخمی ہوئے۔پی ڈی ایم اے کنٹرول روم 24 گھنٹے دریاؤں کی صورتحال مانیٹر کر رہا ہے۔ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی محنت لائق تحسین ہے

  • 4 تا 6 اگست منگلا میں سیلاب کا خطرہ

    4 تا 6 اگست منگلا میں سیلاب کا خطرہ

    ۔سنٹرل فلڈ انفارمیشن سیل ڈی جی پی آر کے مطابق پنجاب کے دریاؤں کی سیلابی صورتحال نارمل ہونا شروع ہو گئی۔ آنے والے دنوں میں مون سون بارشوں کی شدت میں کمی کے امکانات بھی ہیں۔ سنٹرل فلڈ انفارمیشن سیل ڈی جی پی آر کو حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق تربیلا، چشمہ، کالا باغ، جسڑ شاہدرہ، بلوکی، جہلم اور چناب کے مقامات پر پانی کا بہاؤ نارمل ہے جبکہ دریائے ستلج اور سلیمانکی میں اسلام، دریائے راوی میں سدھنائی اور دریائے سندھ میں تونسہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ سلیمانکی کے مقام پر پانی کی آمد 70934 اخراج 63024 ہیڈ اسلام میں بالترتیب 54306 اور 53706 ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح دریائے سندھ میں تونسہ بیراج سے 357457 کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔ سنٹرل فلڈ انفارمیشن سیل کے مطابق 4 سے 6 اگست کے دوران منگلہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب اضلاع کی انتظامیہ کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریاں مکمل رکھے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نبیل جاوید نے بھی دریائی کٹاؤ کہ وجہ سے چناب میں بہہ جانے والے موضع جات پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کی ہدایات کی ہیں۔ تحصیل بھوانہ کے موضع ساہمل کوریا اور ٹھٹہ میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نبیل جاوید نے ڈی سی چنیوٹ کو بحالی کے کاموں کیلئے فوری فنڈز فراہم کرنے، ایمرجنسی بنیادوں پر بحالی کا کام مکمل کرنے اور سیلاب متاثرین کو جلد از جلد باوقار رہائش فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ایس ایم بی آر نے اجلاس کو ہدایت دیتے ہوئے مزید کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟