Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • ستلج میں بہہ کر دو بھارتی پاکستان پہنچ گئے

    ستلج میں بہہ کر دو بھارتی پاکستان پہنچ گئے

    دریائے ستلج میں بہہ جانے والے دو بھارتی پاکستان پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی موقر ادارے انڈیا ٹو ڈے نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ لدھیانہ سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہفتہ کے روز فیروز پور سے دریائے ستلج میں بہہ جانے کے بعد پاکستان پہنچے تھے رتن پال اور ہواندر سنگھ نامی دو افراد کو پاکستان میں حراست میں لیا گیا اور اس کے بعد بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کو بھی اطلاع دی گئی اس اطلاع کےبعد بی ایس ایف نےپاکستانی رینجرزکی معلومات کی تصدیق کے لئے پنجاب پولیس سے رابطہ کیا جس نے اس کی تصدیق کی۔

    انڈیا ٹو ڈے کے مطابق فیروز پور پولیس کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) بچن سنگھ نےکہاکہ ہمیں اطلاع ملی ہےکہ دو نوجوان ندی کی لہروں کے ذریعے پاکستان پہنچ گئے ہیں، اور انہیں پاکستانی رینجرز نے پکڑ لیا ہے۔ اس کے بعد ہفتہ اور اتوار کو بی ایس ایف اور پاکستان رینجرز کے درمیان فلیگ میٹنگ بلائی گئی دونوں افراد کےہندوستان واپس آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔ دونوں کے اہل خانہ کو مطلع کر دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ وہ پاکستان رینجرز سے بی ایس ایف کو ان کی تحویل کی منتقلی کے دوران اس مقام پر پہنچ جائیں گے۔

    زمین کا وہ مقام جہاں نظام شمسی کے گرم ترین سیارے جتنی سورج کی روشنی …

    انڈیا ٹو ڈے کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ ایک اور عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان دونوں افراد میں سے ایک کا پس منظر مشتبہ ہے اور ہمیں اس بات کی جانچ کرنی ہوگی کہ آیا یہ جان بوجھ کر پاکستان جانے کی کوشش تھی یا نہیں انہوں نے کہاایک نوجوان کے خلاف نارکوٹکس ڈرگس اینڈ سائکوٹروپک سبسٹینس (این ڈی پی ایس) کا ایک مشتبہ کیس پایا گیا ہے۔ ہمیں یہ پتہ لگانا ہوگا کہ آیا کیا یہ جان بوجھ کر گیا اس کا مقصد کیا تھا۔

    روس میں سمندری طوفان سے تباہی،مختلف حادثات میں 10 افراد ہلاک اور 76 افراد زخمی

    دوسری جانب بھارت سے آنے والے سیلابی ریلے میں بارودی سُرنگیں اور جنگلی زہریلے سانپ بھی آگئے جس نے دریائے راوی اور نالہ ڈیک کے کنارے بسنے والے سرحدی علاقے کے مکین خوف و ہراس میں مبتلا ہیں،بھارت سے آنے والے سیلابی ریلے نالہ ڈیک اور نالہ بئیں سے ہوتے ہوئے دریائے راوی سے گزر گئے، یہ سیلابی ریلے جہاں اپنے ساتھ زرخیز مٹی لائے ہیں وہیں پرمقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سُرنگیں اور جنگل کے زہریلے سانپ بھی ساتھ لے آئے نالہ ڈیک اور نالہ بئیں سمیت راوی کنارے کی آبادی ان بارودی سرنگوں اور زہریلے سانپوں کی زد میں ہے۔

    توشہ خانہ کیس:رجسٹرار آفس تمام متعلقہ درخواستوں کوسماعت کیلئے مقررکرے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    گزشتہ ایک ہفتےکے دوران 10 بھارتی ساختہ بارودی سرنگیں اور بم برآمد ہوئے ہیں جب کہ ایک ماہ کے دوران سانپ کے ڈسنے سے 2 افراد جاں بحق اور43 افراد اسپتال میں زیرعلاج ہیں شکرگڑھ کی تحصیل ہیڈ کوارٹراسپتال کے مطابق رواں سال جون میں سانپ کے ڈسنے کے 4 واقعات رپورٹ ہوئے جب کہ جولائی کے آخری 2 ہفتوں میں سانپ کے کاٹنے کے واقعات میں ایک ہزار فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    شہریوں نےمطالبہ کیا ہےکہ حکومت بھارتی بارودی سرنگوں اور سانپوں سے انہیں محفوظ رکھنےکےلیے متاثرہ علاقوں میں فوری ریسکیو آپریشن شروع کرے اور سرحدی علاقوں میں قائم ڈسپنسریوں میں اینٹی اسنیک انجکشنز کی فراہمی کو یقینی بنائے-

    بی آر آئی کا فلیگ شپ منصوبہ پاک چین تعاون کا مظہر ہے،وزیراعظم

  • دریائےسندھ  میں خورہ خیل کے مقام پر 4 سگے بہن بھائی ڈوب گئے

    دریائےسندھ میں خورہ خیل کے مقام پر 4 سگے بہن بھائی ڈوب گئے

    دریائےسندھ خورہ خیل کے مقام پر ایک ہی گھر کے 4 افراد ڈوب گئے، جن کی تلاش کے لئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    باغی ٹی وی: اٹک میں دریائے سندھ خورہ خیل کے مقام پرنہاتے ہوئے ڈوبنے والوں میں 3 سگی بہنیں اورایک بھائی شامل ہے اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اور پولیس موقع پر پہنچ گئیں،سرچ آپریشن کے دوران ریسکیو غوطہ خور ٹیم نے مسلسل 3 گھنٹے آپریشن جاری رکھا، لیکن اندھیرا چھا جانے کے باعث ریسکیو آپریشن بند کر دیا گیا۔

    ریسکیوحکام نے بتایا کہ ڈوبنے والوں میں 22 سالہ، 20 سالہ اور 18 سالہ دختر شہزادہ خان اور 15 سالہ عامر خان شامل ہے، چاروں سگے بہن بھائی ہیں، جو دریا پر سیر و تفریح کے لیے گئے تھےپانی گہرا ہونے کی وجہ سے آپریشن میں مشکلات ہورہی ہیں، تاہم آج صبح دوبارہ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا-

    سیلفی بناتےہوئے3 دوست سیلاب میں بہہ گئے

    قبل ازیں قبل ہفتے کو بہاولنگر مومیکا کے قریب دریائے ستلج کے کنارے سیلفی لیتے ہوئے تین دوست سیلاب میں ڈوب گئے تھے تینوں نوجوان سرکلر روڑ بہاولنگر کے رہائشی تھے جو دریائے ستلج میں آنے والے سیلاب میں سیلفیاں بنانے گئے تھے ریسکیو ٹیم نے آپریشن کرتے ہوئے دو نوجوانوں کو زندہ نکال لیا تھا۔

    دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب،متعدد آبادیاں زیر آب،مزید بارشوں کی پیشگوئی

    دوسری جانب دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب آنے سے متعدد آبادیاں زیرآب آ گئیں دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب آنے سے متعدد آبادیاں زیرآب آ گئیں جس سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے علاوہ ازیں بارشوں کے باعث دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی سے مسلسل پانی چھوڑا جانے لگا، جس کے باعث کمالیہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے،دریا کنارے کی بستیوں میں پانی داخل ہو گیا، مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مویشیوں کو نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر رہے ہیں۔

    سعودی عرب کی باجوڑ خودکش دھماکے کی شدید مذمت

    اس کے علاوہ سندھ کے بیراجوں پر بھی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہوگیا ہے، پنجاب سے آنے والے سیلابی ریلے سندھ کے بیراجوں سےگزرنےلگے ہیں ادھر بلوچستان کےعلاقے ڈیرہ مرادجمالی سمیت مختلف علاقوں میں ایک بار پھرہونے والے بارشوں سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا ڈیرہ بگٹی میں ایف سی کی جانب سے بارش متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔

    8 یا 9 اگست کو اسمبلی ٹوٹ جائے گی. رہنما پیپلزپارٹی کا دعویٰ

  • دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب،متعدد آبادیاں زیر آب،مزید بارشوں کی پیشگوئی

    دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب،متعدد آبادیاں زیر آب،مزید بارشوں کی پیشگوئی

    مون سون بارشوں سے دریاؤں میں سیلابی صورتحال نے تباہی مچا دی، دریائے ستلج ،سندھ اور چناب میں نچلے درجے کا سیلاب آنے سے دریاؤں کے کنارے متعدد آبادیاں زیرآب آ گئیں۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب آنے سے متعدد آبادیاں زیرآب آ گئیں جس سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،بہاولنگر میں دریائے ستلج کا ریلہ سڑک کا ایک حصہ بہا کر لے گیا

    بارشوں کے باعث دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی سے مسلسل پانی چھوڑا جانے لگا، جس کے باعث کمالیہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، دریا کنارے کی بستیوں میں پانی داخل ہو گیا، مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت اپنے مویشیوں کو نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب سندھ کے بیراجوں پر بھی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہوگیا ہے، پنجاب سے آنے والے سیلابی ریلے سندھ کے بیراجوں سے گزرنے لگے ہیں دریائے سندھ میں اونچے درجے کا سیلاب آنے سے گھوٹکے کے کچے کے مزید 20 دیہات زیر آب آگئے-

    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری

    جبکہ بلوچستان کےعلاقے ڈیرہ مرادجمالی سمیت مختلف علاقوں میں ایک بار پھر ہونے والے بارشوں سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا ڈیرہ بگٹی میں ایف سی کی جانب سے بارش متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے ،محکمہ موسمیات کے مطابق جنوبی پنجاب، خیبر پختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان ،گلگت بلتستان ، کشمیر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں کہیں کہیں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ اس دوران چند مقامات پر موسلادھار بارش کی بھی توقع ہے،کرم وزیرستان بنوں ڈیرہ اسماعیل خان میں گرک چک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکر کنونشن میں دھماکا

    زشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش خان پور 28، بہاولنگر ، ملتان (سٹی 4)، نارووال 3،چکوال، کوٹ ادو2، جیکب آباد 25، لاڑکانہ 2، بنوں 14، پاراچنار، کالام 3،میر کھانی 2،دروش ،بالاکوٹ، ڈی آئی خان (ائیر پورٹ اور سٹی ایک)، بابو سر 18،استور 8، بگروٹ 2،بونجی ایک جیوانی 5 اور بار کھان میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

    اتوار کو ریکارڈکیےگئےزیا دہ سے زیادہ درجہ حرارت کی رپورٹ کے مطابق نوکنڈی اوردالبندین میں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈریکارڈ کیا گیا ہے۔

    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات

  • سیلفی بناتےہوئے3 دوست سیلاب میں بہہ گئے

    سیلفی بناتےہوئے3 دوست سیلاب میں بہہ گئے

    بہاولنگر میں مومیکا کے قریب دریائے ستلج کے کنارے سیلفی بناتے ہوئے 3 لڑکے سیلاب میں بہہ گئے، دو لڑکوں کو بچا لیا گیا، تیسرے لڑکے کی تلاش جاری ہے۔

    باغی ٹی وی: تینوں نوجوان سرکلر روڑ بہاولنگر کے رہائشی ہیں جو دریائے ستلج میں آنے والے سیلاب میں سیلفیاں بنانے گئے تھے سیلفی لیتے ہوئے تین دوست سیلاب میں ڈوب گئے ریسکیو ٹیم نے آپریشن کرتے ہوئے دو نوجوانوں کو زندہ نکال لیا جبکہ 12سال کے عثمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

    پنجاب کے مختلف شہروں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارشوں کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران اسلام آباد، پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان، بلوچستان اور بالائی سندھ میں گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ چند مقامات پر موسلادھار بارش ہوئی۔ فیصل آباد میں وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش جاری ہےکوہ سلیمان کے پہاڑی علاقوں میں بارشوں سے برساتی ندی نالوں طغیانی آگئی۔ نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔

    گڈو اور سکھر کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ،درمیانے درجے کا سیلاب

    سب سے زیادہ بارش لاہور (گلشن راوی 156، شاہی قلعہ 147، قرطبہ چوک 109، نشتر ٹاؤن 107، لکشمی چوک 101، جوہر ٹاؤن 96، تاج پورہ 82، اقبال ٹاؤن 60، اپر مال، سمن آباد 44، مغلپورہ42، گلبرگ 35، سٹی 34، فرخ آباد 27، چوک ناخدا 24، ایئرپورٹ 14)، اسلام آباد (سید پور 98، گولڑہ 79، زیرو پوائنٹ 75، بوکرا 62، ائیر پورٹ 7) ملی میٹر ہوئی۔

    راولپنڈی (شمس آباد 72، چکلالہ 54)، حافظ آباد 69، گوجرانوالہ 68، خانیوال 64، سیالکوٹ (ایئرپورٹ 43، سٹی28)، منڈی بہاؤالدین، گجرات 27، مری 23، ساہیوال، قصور 20، بہاولنگر، نارووال 15، ملتان (ایئرپورٹ) ، اٹک 10، جھنگ 8، اوکاڑہ، نور پور تھل 5، فیصل آباد، سرگودھا 3، ڈی جی خان 2، جہلم، منگلا، جوہر آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، کوٹ ادو ایک ملی میٹر ہوئی۔

    ملک بھر میں بارشوں کا سلسلہ یکم اگست تک رہنے کی پیشگوئی

    سیلابی پانی راجن پور کے چک شہید کے مغربی علاقوں میں داخل ہوگیا۔ فصلیں زیر آب آگئیں۔ لوگ اپنی مدد آپ بند بنانے میں مصروف ہیں۔ فلڈ کنٹرول روم نے الرٹ جاری کیا ہے کہ ندی نالوں کے سیلابی ریلوں سے نشیبی علاقوں کو خطرہ ہےگوجرانوالہ شہر اور گرد و نواح میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی۔ شکر گڑھ اور حافظ آباد میں وقفے وقفے سے جاری رہنے والی بارش سے شہر کے تمام نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔

    عراق میں بھی بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف

    دوسری جانب محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق آئندہ 24 گھنٹے کے دوران اسلام آباد، خیبر پختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان میں کہیں کہیں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے زیریں خیبر پختونخوا ، شمال مشرقی بلو چستان ، شمال مشرقی وسطی، جنوبی پنجاب اور خطہ پوٹھوہار میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کا امکان ہے، ملک کے دیگر علا قوں میں موسم گرم اور مر طوب رہے گا۔

    قصور میں کل ہونے والا ن لیگ کا جلسہ ملتوی

  • بھارت کا مزید پانی چھوڑنے کا اعلان

    بھارت کا مزید پانی چھوڑنے کا اعلان

    حویلی لکھا میں دریائےستلج ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ چھوٹے بڑے سینکڑوں دیہات ڈوب گئے ہیں، اور ہزاروں ایکڑ رقبے پر موجود کھڑی فصلیں سیلابی پانی کی نذرہوگئی ہیں۔ جبکہ بھارت نے بھاکھڑا ڈیم میں مزید پانی چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے۔
    آج نیوز کے مطابق پاکپتن کے مقام پر بھی دریائے ستلج میں درمیانی درجے کا سیلاب ہے ، کئی دیہاتوں کا نام ونشان مٹ گیا ہے، اور کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔
    اسطرح پتوکی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر ایک بار پھر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوگیا ہے، اور دریا کے ملحقہ دیگر علاقوں میں پانی کھیتوں میں داخل ہونے کے باعث کسانوں کو چارہ کاٹنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
    راجن پور میں فلڈ بند ٹوٹنے سے درجنوں ایکڑ رقبہ زیر آب آگیا ہے، اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت فلڈ بند باندھنے میں مصروف ہیں، جب کہ عارف والا میں کنڈ قابل کے مقام پر اوور فلو ہونے سے سیلابی ریلا نورا رتھ بند میں داخل ہوگیا ہے۔ اور دریائے راوی کمالیہ کے مقام پر سینکڑوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔
    دوسری جانب بھارت نے بھی بھاکھڑا ڈیم سے مزید پانی دریائے ستلج میں چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے، جس سے پاکستان میں مزید تباہی کا خدشہ ہے۔

  • عالمی مالیاتی اداروں، حکومتوں نے سیلاب سے نمٹنے کیلئے وعدوں پر کتنا عملدرآمد کیا

    عالمی مالیاتی اداروں، حکومتوں نے سیلاب سے نمٹنے کیلئے وعدوں پر کتنا عملدرآمد کیا

    عالمی مالیاتی اداروں اور حکومتوں نے سیلاب سے نمٹنے کے لئے وعدوں پر کتنا عملدرآمد کیا، تحریری تفصیلات قومی اسمبلی میں جمع کروا دی گئی

    عالمی مالیاتی اداروں اور حکومتوں کی جانب سے پاکستان کے لئے ڈونرز کانفرنس میں 10953.6 ملین ڈالرز کے وعدے کئے گئے، 10330 ملین ڈالرز بطور قرض جبکہ 550.4 بطور گرانٹ فراہم کئے گئے،سب سے ذیادہ عالمی بینک کی جانب سے 2199.9 ملین ڈالرز قرض دیا گیا،ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے 1544 ملین ڈالرز قرض جبکہ 13.28 ملین ڈالرز بطور گرانٹ موصول ہوئی، ایشیائی انفراسٹرکچر و انویسٹمنٹ بینک نے 1000 ملین ڈالرز قرض فراہم کیا،اسلامی ترقیاتی بینک کی جانب سے 4200 ملین ڈالرز قرض فراہم کیا گیا،اقوام متحدہ کی جانب سے 5.5 ملین ڈالرز امداد فراہم کی گئی،

    تحریری جواب میں کہا گیا کہ سعودی عرب کی جانب سے 1000 ملین ڈالرز قرض ملا،فرانس نے 360 ملین ڈالرز قرض جبکہ 10 ملین ڈالرز امداد فراہم کی، یورپی یونین کی جانب سے 94.35 ملین ڈالرز امداد فراہم کی گئی، چین اور امریکہ نے سو سو ملین ڈالرز کی گرانٹ دی،جاپان نے 92.6 ملین ڈالرز، کینیڈا نے 18.21 ملین ڈالرز گرانٹ فراہم کی،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • سوات، گزشتہ برس کے سیلاب سے تباہی، عذاب الہیٰ؟

    سوات، گزشتہ برس کے سیلاب سے تباہی، عذاب الہیٰ؟

    سوات کے علاقوں بحرین، مدین، کالام جانے کا اتفاق ہوا، دوستوں کے ہمراہ لاہور سے جمعہ کی شب تین بجے روانگی ہوئی، ناشتہ اسلام آباد میں کرنے کے بعد تالاش پہنچے وہاں ایک تقریب میں شرکت کے بعد کالام تک کا سفر کرنا تھا، راستے میں جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ خان کی جانب سے ظہرانے کے بعد سفر کا نئے سرے سے آغاز ہوا،محترم عابد بخاری صاحب "ہمسفر” تھے جن کا ہر تھوڑی دیر بعد "خطبہ” ہوتا تھا جس میں وہ سوات کی خوبصورت وادی کا تعارف کرواتے تھے اور علاقے کے عوام کو درپیش مسائل، کے ساتھ ساتھ خطبہ میں سیاسی تڑکا بھی لگاتے تھے، سیدو شریف ایئر پورٹ سے گزرے ،منزل کالام تھی، اورجب ہمیں بخاری صاحب نے بتایا کہ روڈ سیلاب کی وجہ سے خراب ہے مزید تین سے چار گھنٹے لگیں گے، یہ سن کر اپنے تو ہوش ہی اڑ گئے کیونکہ رات تین بجے کے لاہور سے نکلے ہوئے تھے، کیا کرتے،بامر مجبوری، سیٹ پر بیٹھے، شیشے کے ساتھ سر لگایا اور سونے کی ناکام کوشش کی ، البتہ میری ساتھ والی سیٹ پر موجود بٹ صاحب نے تو شاید ایک ہفتے کی نیند ہی دوران سفر میں پوری کر لی

    گزشتہ برس شدید بارشوں کی وجہ سے دریائے سوات بپھر گیا تھا، کالام میں معروف ہنی مون ہوٹل مکمل طور پر دریا میں بہہ گیا تھا تو اسکے علاوہ بھی املاک کو نقصان پہنچا تھا، اگست 2022 میں سیلاب آیا تھا اور نقصان ہوا تھا، اب تقریبا ایک برس بعد اس علاقے کی طرف گئے تو انتہائی المناک مناظر دیکھے، دریا کنارے ہوٹل،دکانیں، عمارتیں، سب کے نیچے سے پانی بہہ رہا، مکین چھوڑ چکے، سیلاب کے بعد سڑک کو کم ا ز کم دس فٹ اونچا کرنا پڑا، بحرین میں صورتحال یہ ہے کہ عمارتیں تباہ ہو چکیں، کسی بھی وقت گر سکتی ہیں ، ہوٹل ویران پڑے ہیں، سڑک کی حالت ایسی کہ بقول بخاری صاحب کے اگر سڑک صحیح ہوتی تو ہم دو گھنٹے میں پہنچ جاتے لیکن سڑک صحیح نہ ہونے کی وجہ سے چار گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگے گا.

    سیلاب نے تو گزشتہ برس تباہی مچائی ہی مچائی، لیکن سڑک کی تباہی اور مرمت نہ ہونے میں کچھ سیاسی وڈیروں کا بھی ہاتھ ہے جو ایک دوسرے کو اونچا نیچا دکھانے کے لئے عوام کو ریلیف دلوانے کی بجائے پریشان کرتے ہیں، الیکشن کے دنوں میں فوتگی ہوتے ہی جنازے پر پہنچ جاتے اور الیکشن ہو جائے تو اسکے بعد انکا باپ بھی مر جائے تو اسکے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوتے،بحرین، مدین سے کالام تک سڑک اگرچہ سیلاب سے بھی تباہ ہوئی تا ہم کچھ ایسے مقامات ہیں جہاں سیاسی چپقلش نے پل نہیں بننے دیئے، اگر ان مقامات پر پل بن جاتے تو راستے مزید آسان ہو جاتے، تحریک انصاف کے رہنما مراد سعید جو حالیہ دنوں میں روپوش اور سیکورٹی اداروں کو مطلوب ہیں اور ن لیگی امیر مقام کے مابین سیاسی چپقلش سوات کے باسیوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے تو وہیں آنیوالے سیاحوں کے لئے بھی کسی اذیت سے کم نہیں، اگر پل بنوانے کا کام امیر مقام کرواتے تو مراد سعید رکوا دیتے اور اگر مراد سعید کرواتے تو امیر مقام رکوا دیتے، کے پی میں اگرچہ تحریک انصاف کی نو برس حکومت رہی، مراد سعید وفاقی وزیر بھی رہے صوبے میں حکومت تحریک انصاف کی تھی لیکن مقامی بیوروکریسی میں زیادہ اثرورسوخ امیر مقام کا ہونے کی وجہ سے کام رکے رہے، یوں دونوں بڑی جماعتیں اس کی ذمہ دار ہیں،سیاح آتے تو ہیں لیکن ایک بار کالام تک سڑک پر سفر کر کے شاید دوبارہ نہ آنے کا دل میں ارادہ کرتے ہوں گے، سیاحت کو فروغ دینے کے لئے ضروری ہے کہ سیاحوں کو سہولیات دی جائیں انکی مشکلات میں اضافے کی بجائے کمی کی جائے، ایک بار چترال جاتے ہوئے ٹنل سے گزرے جو پرویز مشرف نے بنائی تھی اور پھر اسی وجہ سے وہ چترال سے الیکشن جیتے تھے کیونکہ انہوں نے وہاں‌کے مکینوں کی ایک بڑی مشکل حل کر دی تھی، سوات کے باسیوں کو بھی چاہئے کہ جو بھی عوامی مفادات کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہو انکو الیکشن میں سبق سکھانا چاہئے اگر ایسا نہ کیا گیا تو اگلے دس برس بھی سوات کے باسی اسی ایک سڑک کو روتے رہیں گے ،ابھی تک بھلا ہو پاک فوج کا، جو سیلاب کی تباہی کے بعد سڑک کی مرمت پر کام کر رہی ہے، دس پندرہ فٹ سطح زمین سے ،پچھلی سڑک سے مزید سڑک کو اونچا کیا گیا مٹی ڈالی گئی تب جا کر سڑک استعمال کے قابل ہوئی تا ہم ابھی بہت کام ہونا ہے اور یوں لگ رہا ہے آنیوالے ایک دو برس اس کی تکمیل کو لگ جائیں گے، افواج پاکستان کے جوان جہاں ملکی سرحدوں پر چوکس ہیں وہیں قدرتی آفات میں ہنگامی امداد ، ریسکیو کے ساتھ ساتھ ریلیف کا کام بھی کرتے ہیں، اب سڑک کی تعمیر و مرمت کیا یہ سول حکومت کا کام نہیں؟ بحرین سے کالام تک 34 کلومیٹر سڑک ہے مگر موجودہ حالت میں یہ سفر دو سے تین گھنٹوں میں مکمل ہوتا ہے، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ جب بھی سیلاب آتا تو اگلے دو سے تین برس مشکلات ہی رہتی ہیں ، سڑک کی حالت انتہائی خستہ ہو جاتی اور کئی مقامات پر تو ایسے لگتا کہ شاید ابھی گاڑی گئی ،ایک طرف دریا ،اور انتہائی خطرناک سڑک، ایسے میں اس سفر میں سیاح لطف اندوز ہونے کی بجائے موت کو زیادہ یاد کرتے ہیں

    دریا کے دوسری طرف کے باسیوں کی بحرین و دیگر علاقوں میں آمدورفت کے لئے چیئر لفٹ لگی ہوئی ہیں جو بہہ گئیں، جماعت اسلامی کی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن نے ایک مقام پر عارضی پل بنایا تھا، اسی مقام پر پل بناتے ہوئے دو رضاکار دریائے سوات میں گر گئے اور انکی موت ہو گئی تھی،سیلاب نے خوبصورت وادی کی حالت ایسی کر دی کہ وہاں کے مکین بھی اب وہ علاقہ چھوڑ رہے کیونکہ جب بھی بارشیں ہوں "گٹے گٹے پانی” کی بجائے سیلاب ہی آتا اور ابھی پچھلی بحالی ہوئی نہیں ہوتی اور نئی تباہی پھر نئے سرے سے،

    گزشتہ برس سیلاب سے دکانیں، ہوٹل، مکان گرے، ایک رپورٹ کے مطابق 100 سے زائد مکانات، 50 کے قریب ہوٹلز تباہ ہوئے تھے ، اور ابھی تک وہ تباہ حال ہی ہیں، مکین علاقہ چھوڑ چکے، لاہور پریس کلب کے سیکرٹری جنرل عبدالمجید ساجد بھی ٹور میں ہمراہ تھے، انہوں نے جب سوات میں تباہی کے مناظر دیکھے تو کانوں کو ہاتھ لگائے اور کہا کہ "یہ عذاب الہیٰ ہے” عابد بخاری چند منٹ کے وقفے سے مسلسل خطبہ دیئے جاتے رہے اور ہم سنتے رہے،امجد بخاری بھی عابد بخاری کا ساتھ دیتے رہے لیکن زیادہ نہیں، کالام میں ہنی مون ہوٹل دریائے سوات میں بہہ گیا تھا، کالام سے واپسی پر دن کی روشنی میں تباہی کے مناظر نظر آئے، ایک رپورٹ کے مطابق جب سیلاب آیا تو کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت تھی،اور تحریک انصاف کے ان حلقوں سے منتخب نمائندے ان ایام میں اپنے علاقوں میں ہونے کی بجائے بیرون ملک سیر کر رہے تھے جس کی وجہ سے مقامی لوگ نالاں نظر آئے، سیلاب سے متاثرہ ضلع سوات سے کے پی صوبائی اسمبلی میں تحریک انصاف کے 8 ارکان تھے، جس میں سابق وزیراعلیٰ محمود خان بھی شامل ہیں، جبکہ ضلع سے تمام 3 ایم این ایز کا تعلق بھی پی ٹی آئی سے تھا، جن میں سابق وفاقی وزیر مراد سعید، ایم این اے ڈاکٹر حیدر علی اور ایم این اے سلیم الرحمان شامل ہیں۔ سیلاب میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی تحصیل بحرین سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر حیدر علی علاقے میں موجود نہیں تھے دونوں غیر ملکی دورے پر تھے،میاں شرافت جرمنی جبکہ ڈاکٹر حیدر لندن میں تھے، ۔سابق وفاقی وزیر اور سوات سے منتخب ایم این اے مراد سعید وزیراعلیٰ محمود خان کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں آئے اور واپس چلے گئے، نہ تو سیلاب متاثرین کو ملے اور نہ ہی انکی مدد و ریلیف کے لئے کوئی اقدام اٹھایا تھا،یہی وجہ ہے کہ اب بھی سوات کے باسیوں میں تحریک انصاف کے لئے کوئی اچھے جذبات نہیں ہیں،گزشتہ قسط میں سوات میں موجودہ حالات پر عوام کی رائے،،،تحریر کر چکا ہوں

    نوٹ، اگلی قسط "ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کیجیے،” ہو گی

    https://twitter.com/BaaghiTV/status/1683823400559726594

     

  • خیبر پختونخوا میں باشوں سے متاثرہ لوگوں کے لئے مالی امداد کا اعلان

    خیبر پختونخوا میں باشوں سے متاثرہ لوگوں کے لئے مالی امداد کا اعلان

    خیبر پختونخوا میں طوفانی بارش اور سیلاب کی وجہ سےجاں حق افراد کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔خیبرپختونخوا میں گزشتہ 4 دنوں میں تیز بارشوں اور لینڈسلائیڈنگ سے حادثات کے نتیجے میں 15 افراد جاں حق اور 14 زخمی ہوئے پرووینشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے ) کی رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر میں سیلاب اور بارشوں سے83 گھروں کو جزوی جبکہ 12 گھروں کو مکمل نقصان پہنچا۔
    سیکرٹری ریلیف عبدالباسط نے متاثرین کو پالیسی کے مطابق ریلیف کمپنسیشن فوری طور پر ادا کرنے کی ہدایت کردی۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق قدرتی آفات میں 2 یا 2 سے زیادہ کمروں پر مشتمل تباہ شدہ گھر کو 2 لاکھ روپے دیے جائیں گےجبکہ ایک کمرے والے تباہ شدہ گھر کو ایک لاکھ روپے دیے جائیں گے۔
    انہوں نے کہا کہ جس گھر کا صرف ایک کمرہ تباہ ہوا ان کو 80 ہزار روپے دیے جائیں گے جبکہ قدرتی حادثات میں اگر کسی گھر کی چار دیواری گری ہو تو ان کو 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔

  • جنوبی کوریا سیلاب؛ ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کرگئی

    جنوبی کوریا سیلاب؛ ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کرگئی

    جنوبی کوریا میں سیلاب کی تباہ کارریاں جاری ہیں اور مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد تقریبا 40 سے تجاوزکرگئی ہے جبکہ غیرملکی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا میں شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے جہاں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 40 تک جا پہنچی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پیرکے روز شمالی صوبے کے شہر چوئنگجو کے انڈر پاس میں 13 افراد ڈوب گئے جن کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ جنوبی کوریا کے صدر یون سک نے ریسکیو آپریشن اور بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایات کی ہیں۔ خیال رہے کہ اس سے قبل جنوبی کوریا میں کئی دنوں سے جاری طوفانی بارشوں نے قہر ڈھا دیا ہے، ہلاکتوں کی تعداد 33 ہو گئی تھی،امدادی کاموں کیلئے فوج کی مدد طلب کرلی گئی ہے، ہزاروں افراد کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کردی گئیں۔

    یونہاپ خبر رساں ایجنسی کے مطابق سڑکوں کے ساتھ ساتھ سرنگیں بھی زیر آب آگئی ہیں، جن میں کئی لوگ پھنس کر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں حکام نے زیر آب سرنگ میں پھنسے مزید 6 افراد کی لاشیں نکالی ہیں، وزارت داخلہ اور حفاظت نے کہا ہے کہ 10 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پرویز خٹک کی جانب سے نئی پارٹی بنائے جانے پر عمران خان کا ردعمل بھی سامنے آ گیا
    ایشیا کپ سے متعلق معاملات طے پا گئے، میگا ٹورنامنٹ کا آغازکہاں سے ہوگا؟
    3 ماہ تک سمندر میں کچی مچھلی کھا کر اور بارش کا پانی پی کر زندہ رہنے والا شخص
    تحریک انصاف کے 44 اور ہمارے 14ماہ کا جائزہ لیا جائے،مریم اورنگزیب
    توشہ خانہ فوجداری کارروائی سے متعلق کیس کی سماعت 18 جولائی تک ملتوی
    ویسٹ چیونگجو فائر اسٹیشن کے سربراہ سیو جیونگ ال نے کہا کہ شہر میں زیر آب انڈر پاس میں ایک بس سمیت 15 گاڑیاں ڈوبنے کا خدشہ ہےوزارت داخلہ نے بتایا کہ شمالی چنگ چیونگ صوبے کے چیونگجو میں سرنگ سے مجموعی طور پر 7 لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور غوطہ خور مزید متاثرین کی تلاش میں 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں، ہفتے کی صبح ٹنل میں سیلاب کا پانی بہت تیزی سے داخل ہوا، جس کے باعث لوگوں کو باہر نکلنے کا موقع بھی نہ ملا۔

  • دریائے ستلج میں ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر پانی کےبہاؤ میں مزید اضافہ، درمیانے درجے کا سیلاب

    دریائے ستلج میں ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر پانی کےبہاؤ میں مزید اضافہ، درمیانے درجے کا سیلاب

    دریائے ستلج میں ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر پانی کےبہاؤ میں مزید اضافہ ہوگیا۔

    باغی ٹی وی :بھارت کی آبی جارحیت کے بعد پاکستانی دریاؤں میں پانی کا اضافہ ہونے لگا محکمہ آبپاشی کے اطلاعاتی نظام کے مطابق دریائی علاقے میں سیلابی صورتحال میں مزید اضافہ ہوگیا ہے پانی کےبہاؤ میں مزید اضافے سے سلیمانکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 83570 کیوسک ہے،سیلاب کےممکنہ خطرے کے پیش نظرریلیف اورمتاثرین کے انخلا کیلئے کیمپس قائم کردیئے گئے ہیں۔

    بہاولنگر، چشتیاں اور سلیمانکی کے متعدد مقامات پر ریلیف کیمپس قائم کردیئےگئے ہیں بہاولپور کور کے فوجی دستے اضافی سازوسامان کےساتھ مختلف مقامات پرموجود ہیں۔

    پوٹھوہار، کشمیر، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع

    ادھربالائی علاقوں سے بارشوں کا پانی سندھ میں داخل ہونے سے بیراجوں پر پانی کی صورتحال نارمل ہوگئی ہے، سیلابی ریلہ 6 سے 7 روز میں سکھر بیراج پہنچےگا لیکن سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں ہے، جب کہ کوٹ مٹھن کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    جھنگ میں دریائی پٹی کے ساتھ کھڑی فصلیں زیر آب آگئی ہیں، دریائے چناب میں جھنگ کے مقام پر سیلابی ریلے کے بہاؤ میں کمی آنے لگی، دریائے راوی میں نارووال سے سیلابی ریلہ گزرگیا جب کہ پانی کے بہاؤ میں کمی جاری ہے۔

    قبل ازیں دریائے ستلج میں پاکپتن کے مقام پر بھی درمیانی سطح کے سیلابی ریلے کا الرٹ جاری کیا گیا تھا ، دریا میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث قریبی آبادیاں خالی کرا لی گئیں تھیں-

    چئیرمین پی ٹی آئی کیخلاف مبینہ کرپشن کےمقدمات پرعوام نے بھی اپنا فیصلہ سنا دیا

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ سیلابی صورتحال کے ممکنہ اقدامات کیلئے ریلیف کیمپ قائم کر دیئے ہیں، مشینری اور بوٹس کے ساتھ ریسکیو عملہ موجود ہے، متعلقہ محکموں کو 24 گھنٹے ڈیوٹی پر الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کر دیئے گئے ہیں ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کو بچانے کے لئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔