Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • الکہف ٹرسٹ سیلاب زدہ علاقوں میں تعمیر پاکستان پروگرام کے تحت مکانات تعمیر کرے گا۔،پیر حافظ ابراہیم نقشبندی

    الکہف ٹرسٹ سیلاب زدہ علاقوں میں تعمیر پاکستان پروگرام کے تحت مکانات تعمیر کرے گا۔،پیر حافظ ابراہیم نقشبندی

    الکہف ایجوکیشنل ٹرسٹ کے سرپرست پیر حافظ شیخ محمد ابراہیم نقشبندی نے ٹاؤن شپ لاہور میں ”سیلاب کی تباہ کاریاں اور ہم سب کی ذمداری“ عنوان پرخطاب کرتے ہوئے کہا سیلاب زدہ علاقوں میں لاکھوں مکانات صفحہ ہستی سے مٹ گئے اور کروڑوں لوگ متأثر ہوئے ہیں .

    الکہف ٹرسٹ سیلاب زدہ علاقوں میں مستحق افراد کو ”الکہف تعمیر پاکستان پروگرام“کے تحت مکانات تعمیر کر کے دیگا جس کے لیے سروے شروع کر دیا گیا ہے اس میں مستحق بیوگان اور یتیم بچوں کے مکانات ترجیحی بنیاد پرپہلے بنائے جائیں گے جبکہ سیلاب زدہ علاقوں میں شہید مساجد و مدارس کی بھی تعمیر اور بچوں کی فوری تعلیم و تربیت کے لیے مکاتب قرآنیہ قائم اور صاف پانی کا انتظام کیا جائے گا .

    انہوں نے کہا کہ الکہف ٹرسٹ کی طرف سے کروڑوں روپے مالیت کا امدادی سامان اور راشن جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں سروے کے بعد حقیقی مستحقین میں تقسیم کاسلسلہ جاری ہے اب مکانات اور مساجد و مدارس کی تعمیر کے ساتھ سیلاب زدہ علاقوں کے غریب کسانوں کی فصلیں تباہ ہونے کی وجہ سے ان کی امداد اور قرضوں کی ادائیگی بھی کی جائے گی.

    انہوں نے کہا کہ ہم سب کو سادگی اختیار کرتے ہوئے اپنے اخراجات میں سے ان سیلاب زدگان کی بھرپور مدد کرنا ہوگی۔

  • خیبرپختونخوا میں سیلاب کے باعث 25 ہزار حاملہ خواتین متاثر

    خیبرپختونخوا میں سیلاب کے باعث 25 ہزار حاملہ خواتین متاثر

    پشاور: خیبرپختونخوا میں سیلاب کے باعث 25 ہزار حاملہ خواتین متاثر ہوئیں –

    باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں کے باعث لاکھوں حاملہ خواتین مشکلات کا شکار ہیں حفظان صحت نہ ہونے کی وجہ سے زچہ و بچہ دونوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے جس کے سدباب کےلیے خیبرپختونخوا حکومت سے 300 سے زائد زچہ و بچہ کیمپس قائم کردئیے ہیں۔

    سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ایک ہزار 716ریلیف کیمپ کام کررہے ہیں،شرجیل میمن

    رپورٹ کے مطابق صرف خیبرپختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 25 ہزار حاملہ خواتین متاثر ہوئی ہیں، جن کیلئے حکومت کی جانب سے 13 اضلاع میں زچہ و بچہ کیمپس قائم کیے گئے ہیں زچہ بچہ میڈیکل کیمپس کیلئے نیو بورن اور سیفٹی کٹس مہیا کی گئی ہیں، اب تک پندرہ ہزار حاملہ خواتین کی اسکریننگ کی گئی ہے۔

    سیلاب سے متاثرہ خاندانوں میں 20 ہزار زچگیاں متوقع ہیں، متاثرین میں زچہ و بچہ کیسز کی مانیٹرنگ اور رپورٹنگ کیلئے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہے۔

    قوام متحدہ کے بہبود آبادی کے فنڈ (یو این ایف پی اے) کےمطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تقریباﹰ ساڑھے چھ لاکھ حاملہ خواتین کو محفوظ زچگی اور بچوں کی بحفاظت پیدائش کے لیے طبی سہولیات درکار ہیں۔

    ترکش اداکار سیلاب زدگان کی مدد کیلئے کراچی پہنچ گئے

    یو این ایف پی اے کے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ایسی 73 ہزار پاکستانی حاملہ خواتین کے ہاں ستمبر میں بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔ اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے نے زور دے کر کہا ہے کہ ان خواتین کی زچگی کے دوران مدد کے لیے ہنر مند طبی عملے کی ضرورت ہو گی، جو نومولود بچوں کی دیکھ بھال بھی کر سکے۔

    یو این ایف پی اے کے مطابق اس کے علاوہ بہت سی خواتین اور لڑکیوں کے خلاف صنفی بنیادوں پر تشدد کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے کیونکہ تقریباﹰ ایک ملین مکانات کو نقصان بھی پہنچا ہے۔

    پاکستان کا جنوبی صوبہ سندھ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبوں میں سے ایک ہےہاں حکام نے بہت سے امدادی کیمپ لگا رکھے ہیں تاکہ بے گھر ہو جانے والے سیلاب متاثرین کی مدد اور دیکھ بحال کی جا سکے تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں میں حاملہ خواتین کی دیکھ بحال کا مناسب انتظام نہیں۔

    اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق بلوچستان میں حاملہ خواتین کی تعداد تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار ہے جن میں سے 20 ہزار کے قریب خواتین کے ہاں اگلے ماہ بچوں کی پیدائش متوقع ہے قدرتی آفات میں اوسطاً خواتین کا مردوں کی نسبت جان سے چلے جانے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔

    سیلاب،صورتحال واضح ہونے تک مسافر ٹرینیں نہیں چلا سکتے،خواجہ سعد رفیق

  • سیلاب،صورتحال واضح ہونے تک مسافر ٹرینیں نہیں چلا سکتے،خواجہ سعد رفیق

    سیلاب،صورتحال واضح ہونے تک مسافر ٹرینیں نہیں چلا سکتے،خواجہ سعد رفیق

    وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق خصوصی ٹرین پررحیم یار خان ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے

    اس موقع پر وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ریلوے ٹریک کی سیفٹی کیلئے عملہ دن رات کام کرتا ہے کمزور ٹریک پر انجینئرنگ ریسٹریکشن لگتی ہے اور ٹرین کی اسپیڈ کم ہوجاتی ہے،ایم ایل ون پراجیکٹ 4 سال سے تاخیر کا شکار ہے، ایم ایل ون کا تخمینہ اب 10 ارب ڈالر ہے جوہمارے پاس نہیں پاکستان کے پاس 500 ملین ڈالر بھی نہیں ،سابق وزیر شیخ رشید نے فریم ورک ایگریمنٹ توڑ دیا تھا فریم ورک ایگریمنٹ کیلئے وزیراعظم کے ہمراہ چین جارہا ہوں،کوشش ہے رواں سال ایم ایل ون پر آن گراؤنڈ کام شروع ہو جائے،ہم سب کی اخلاقی ذ نہ دار ی ہے کہ سیلاب متاثرین کی مدد کریں،

    وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا مزید کہنا تھا کہ سندھ اور بلوچستان میں سیلاب سے ریلوے انفراسٹرکچر شدید متاثر ہوا،مال بردار گاڑیاں پانی میں سے گزر کر چل رہی ہیں، جب تک پانی نہیں اترے گا ٹریک کی اصل صورتحال سامنے نہیں آئے گی، صورتحال واضح ہونے تک مسافر ٹرینیں نہیں چلا سکتے 5 روز کے لیے سندھ اور بلوچستان جا رہا ہوں ،سندھ اور بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانا ت کا جائزہ لیں گے،پہلا دورہ سکھر کا کروں گا ،وہاں نقصانات اور متاثرہ ٹریکس کا جائزہ لوں گا،سندھ اور بلوچستان میں سیلاب سے ریلوے انفراسٹرکچر  شدید متاثر ہوا،ایم ایل ون، ٹو اور تھری شدید متاثر ہوئے،موجودہ صورتحال میں محکمہ ریلوے مالی بحران کا شکار ہوگیا ہے محکمہ ریلوے کا موجودہ خسارہ 13 ارب روپے ہے چینی کمپنی کو کہا ہے پہلے روہڑی تا کراچی ریلوے سیکشن مرمت کریں،ہم عالمی مالیاتی اداروں کی سرمایہ کاری کیلئے کوشش کررہے ہیں سڑک اور ریلوے ٹریک بنانے میں زمین آسمان کا فرق ہے،ریلوے کو پاوں پر کھڑا کرنے کیلئے 15 سے 20 سال درکار ہیں،ہم نے 2013 اور 2018 تک ٹرن آراونڈ کیا وہ برباد ہوگیا،

    خواجہ سعد رفیق کا مزید کہنا تھا کہ ریلوے کو پاوں پر کھڑا کرنے کے لیے اب پھر صفر سے شروع کریں گے، یہاں حکومت آتی ہے تو لوگ اسے گرانے میں لگ جاتے ہیں،عمران خان اور انکے سہولت کاروں نے ملکی معیشت کو تباہ کردیا، 22کروڑ عوام کے ملک کو چلانا کوئی آسان کام نہیں ہے، جب ملک دیوالیہ پن پر آجائے دنیادینے کوتیار نہ ہو تو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے آئی ایم ایف سے ایگریمنٹ ہوا ہے تو سیلاب آگیا پاکستان کی تاریخ کا خطرناک سیلاب ہے جسکے اثرات 10 سال تک محسوس کیے جائیں گے بڑی مشکلوں سے فیز ون آپریشن شروع کیا ہے،لوگوں کی جانوں کے ساتھ کھیل نہیں سکتے ریلوے ملازمین نے جذبہ جہاد کے ساتھ کام کیا جو قابل تحسین ہے، چند روز میں تفتان تک ٹریک کلیئر کردیں گے کوشش ہے کسی طرح سے پانی ریلوے ٹریک سے ہٹ جائے، بہت مشکل صورتحال ہے،مالی نقصان بھی زیادہ ہورہاہے،ریلوے کو روزانہ 15،16کروڑ روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے،جب آفت آتی ہے تو شکست تسلیم نہیں کرتے ڈٹ کہ مقابلہ کرتے ہیں،

    سول ایوی ایشن نے گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ دی،پائلٹ کوذمہ دار ٹھہرانے کا لیٹر کیوں جاری کیا گیا؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی

    طیارہ حادثہ،ابتدائی رپورٹ اسمبلی میں پیش، تحقیقاتی کمیٹی میں توسیع کا فیصلہ،پائلٹس کی ڈگریاں بھی ہوں گی چیک

    طیارہ حادثہ، تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل

    لاشوں کی شناخت ،طیارہ حادثہ میں مرنیوالے کے لواحقین پھٹ پڑے،بڑا مطالبہ کر دیا

    کراچی طیارہ حادثہ،طیارہ ساز کمپنی ایئر بس نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی

  • سیلاب کے بعد سڑکوں کی کیا صورتحال؟ این اے ایچ نے بتا دیا

    سیلاب کے بعد سڑکوں کی کیا صورتحال؟ این اے ایچ نے بتا دیا

    سیلاب کے بعد سڑکوں کی کیا صورتحال؟ این اے ایچ نے بتا دیا

    بارشوں اورسیلاب نے مواصلاتی نظام کو متاثر کیا ہے،شاہراہوں کی بحالی کے لیے این ایچ اے نے سر توڑ کوششیں کی ہیں،

    ترجمان این ایچ اے سہیل آفتاب کا کہنا ہے کہ این ایچ اے ماہرین تعمیرات متاثرہ علاقوں میں موجود رہے ہیں، سندھ میں این ایچ اے کا روڈ نیٹ ورک 2085 کلو میٹر ہے،انڈس ہائی وے این 55 کا 495 کلو میٹر کوٹری سے کشمور تک کا حصہ سندھ میں ہے،سیہون کے مقام پر 13 کلو میٹر کے حصہ پر سیلاب کا پانی موجود ہے ،سیہون پل کو نقصان پہنچنے کے باعث ٹریفک معطل ہے، دادو، میہڑکے درمیان 32 کلو میٹر کا حصہ سیلاب کی زد میں ہے، دادو تا مورو پل اور قاضی عامری پل کے ذریعے ٹریفک کو این 95 کی طرف موڑ دیا گیا ،دادو میہڑ سیکشن پر پانی کی سطح کم ہونے پر شاہراہ کو ٹریفک کے لیے کھول رہے ہیں،

    قومی شاہراہ این 5 کا کراچی سے کوٹ سبزل تک کا 608 کلو میٹر حصہ سندھ میں ہے قومی شاہراہ این 5 کا کراچی سے کوٹ سبزل تک 23 مختلف مقامات پر پانی جمع ہے، قومی شاہراہ این 65 سکھر اور جیکب آباد سیکشن پر پانی جمع ہونے سے معمولی نقصان ہوا سکھر تا جیکب آباد سیکشن تریفک کے لیے کھول دیا گیا لاڑکانہ، قمبر شہداد کوٹ شاہراہ پر پانی جمع ہے، سڑک ٹریفک کے لیے کھلی ہے، میرپور خاص اور عمر کوٹ کے درمیان 35 کلو میٹر حصے کو شدید نقصان پہنچا ہے، میر پور خاص تا عمر کوٹ کے درمیان سڑک پر متبادل راستے سے ٹریفک جاری ہے بلوچستان ایم 8 گوادر سے لے کر خوشاب اور رتوڈھیرو تک جانے والی شاہراہ پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، بلوچستان ایم 8 کے ذریعے سندھ کو ملانے والی شاہراہ کو ون وے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا

    قبل ازیں وفاقی وزیر مواصلات مولانااسعد محمود کی ہدایت پر چیئرمین این ایچ اے کی دن رات کاوشوں سے ایم 8 سیکشن بحال کردیا گیا وزیراعظم شہباز شریف نے ملک بھر میں تمام روڈ نیٹ ورکس بحال کرنے کی ہدایت کی تھی ایم 8 موٹروے سیکشن بحال ہونے سے گوادر، آواران، خضدار اور رتوڈیرو کیلئے ٹریفک بحال ہوگئی ہے ترجمان این ایچ اے نے کہا کہ ایم 8 موٹروے سیکشن کو مسافروں کی آسانی کیلئے فی الحال یکطرفہ کھولا گیا ہے

    سیلاب متاثرین کی بحالی،پنجاب حکومت اوردعوت اسلامی کا ملکر کام کرنے پر اتفاق

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے جاپان کے سفیرکی کراچی میں ملاقات ہوئی ہے

    منچھر جھیل کا سیلابی پانی تمام یوسیز میں 8 سے 10 فٹ تک موجود ہے ،وزیراعلیٰ سندھ

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

  • سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ایک ہزار 716ریلیف کیمپ کام کررہے ہیں،شرجیل میمن

    سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ایک ہزار 716ریلیف کیمپ کام کررہے ہیں،شرجیل میمن

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے جاپان کے سفیرکی کراچی میں ملاقات ہوئی ہے

    جاپان کے سفیرنے سندھ میں سیلاب سے جانی نقصان پر اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں سندھ سیلاب متاثرین کی بحالی میں مدد کرینگے ،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 600 لوگ جاں بحق ہوئے سندھ میں بارشوں اور سیلاب سے 23 اضلاع متاثر ہوئے ہیں،

    سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ایک ہزار 716ریلیف کیمپ کام کررہے ہیں،ریلیف کیمپوں میں 5 لاکھ 29ہزار707متاثرین کو منتقل کیا جا چکا ہے جیدر آباد 296،شہید بے نظیر آباد577اورمیر پور خاص ڈویژن میں52ریلیف کیمپ قائم ہیں سکھر 269 ،لاڑکانہ 481 اور کراچی ڈویژن میں 41 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے متاثرین کو کیمپوں میں کھانا، پانی ، ادویات اور دیگر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، متاثرین میں اب تک ایک لاکھ 87 ہزار 91 خیمے تقسیم کیے جاچکے ہیں متاثرین میں مچھر دانیاں فولڈنگ بستر اور ایک ہزار 350 چولہے بھی تقسیم کیے گئے ہیں،متاثرین سیلا ب کو راشن بیگز بھی دئیے گئے ہیں،مخیر حضرات اور فلاحی ادارے امدادی سامان کی تقسیم کے لیے پی ڈی ایم اے سے رابطہ کریں، سیلاب متاثرین کو ریسکیو کرنا اولین ترجیح ہے اب تک بارشوں اور سیلاب سے لگ بھگ 600 افراد جاں بحق ہوئے ،سیلابی علاقوں میں وزیر اعلیٰ سندھ سمیت وزراء, ارکان اسمبلی کام کر رہے ہیں,

    سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی ہونی چاہیے سیلاب کے باعث کئی چیلنجز کا سامناہے بارشوں اورسیلاب کے بعد ڈینگی سمیت مختلف بیماریوں نے جنم لیا متاثرین کی بحالی کسی بھی حکومت کے لیے فوری طور پر ممکن نہیں ،

    شہباز گل کی گرفتاری، پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکن بنی گالہ پہنچ گئے

    شہباز گل کی گرفتاری پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا

    نعرے ریاست مدینہ کےاورغلامی امریکہ کی واہ شہبازگل باجوہ

    شہباز گل پر ایسا تشدد ہوا جو بتایا جا سکتا اور نہ دکھایا جا سکتا ہے، بابر اعوان

  • پاکستان میں سیلاب،آئرن برادر کے ساتھ ہرممکن تعاون کریں گے،چین

    پاکستان میں سیلاب،آئرن برادر کے ساتھ ہرممکن تعاون کریں گے،چین

    چین نےکہا ہے کہ ہمیشہ کی طرح گزشتہ سال بھی پاک چین دوستی ہر طرح کے حالات میں لوہے کی طرح مضبوط رہی،آئرن برادر کے ساتھ ہرممکن تعاون کریں گے،پاکستان کو کئی دہائیوں کے شدید ترین سیلاب کا سامنا ہے جس کے باعث 1 ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق اور 33 ملین (3 کروڑ 30 لاکھ)سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں،سیٹلائٹ جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان کے کل رقبے کا بڑا حصہ زیر آب آچکا ہے۔اس بات کا اظہار چینی وزارت خارجہ کے شعبہ ایشیائی امور کے ڈائریکٹر جنرل لیوجن سونگ نے دوسرے پاک چائنہ تھنک ٹینک سے اپنے خطاب کے دوران کہی۔

    انہوں نے گلوبل ٹائمز کی رپورٹ کا حوالے دیتےہوئے کہا کہ پاکستان میں بارش اور سیلاب نے پلوں اور سٹرکوں کو بہادیا جبکہ خشک زمین دلدل میں تبدیل ہوچکی ہے،متاثرہ علاقوں میں نقل و حمل کا سلسلہ رک چکا ،کھیتی باڑی اور مکانات تباہ جبکہ باشندے بے گھر ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ساتھ بچے حصول علم سے محروم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چینی عوام پاکستانیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے اور ان کے دکھ درد میں شریک ہیں،اس کے ساتھ ساتھ ہم پاکستانی عوام کے مضبوط کردار کی تعریف کرتے ہیں جنہوں نے خود کو ریلیف کے لیے اکٹھا کیا اور تیزی سے اپنے گھروں کی تعمیر نو شروع کی۔انہوں نے چین اور پاکستان کو آئرن برادر قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کی مدد کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ کبھی نہیں بھولیں گے کہ 2008 میں وینچوان زلزلے کے بعد پاکستان نے فوری طور پر فوجی طیاروں کے ذریعے ٹینٹ اور دیگر سامان بھیجا،چین اس کابدلہ اس سے کئی گنا اتارے گا۔لیو جن سونگ نے کہا کہ اپنے آئرن برادر کی مشکلات کو سمجھتا ہے،یہاں سیلاب کے بعد صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی کی چیانگ نے بالترتیب صدر عارف علوی اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو تعزیتی پیغامات بھیجے۔انہوں نے کہا کہ چین نے سی پیک فریم ورک کے تحت پاکستان کو 4,000 خیمے، 50,000 کمبل اور 50,000 واٹر پروف سائبان فراہم کیے ہیں اور ان سب کو سیلاب کے خلاف فرنٹ لائن پر استعمال میں لایا گیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ چائنا انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کوآپریشن ایجنسی (سی آئی ڈی سی اے) کے ذریعے چین نے پاکستان کو 100 ملین یوآن ہنگامی انسانی امداد فراہم کی، اگست کے آخر میں کل 25,000 میں سے پہلے 3,000 خیموں کو چینی فوجی ہوائی جہازوں کے ذریعے صوبہ سیچوان سے پاکستان بجھوایا اور استعمال میں لایا گیا،جیسے جیسے سیلاب کی صورتحال تیار ہوئی سیڈا نے انسانی امداد کے 300 ملین یوآن کا اضافہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ دیگر فوری امدادی سامان جیسے سبزیوں اور خیموں کا فوری بندوبست کیا جا رہا ہے،چینی عوام بھی مدد کر رہے ہیں، پاکستانی سفارت خانے کے ہنگامی امدادی اکاؤنٹ کو کھلنے کے چند گھنٹوں کے اندر 1 ملین یوآن کے عطیات موصول ہو گئے یہاں تک کہ بیجنگ سے تعلق رکھنے والے پرائمری سکول کے طالب علم لوان منگ سوان نے اپنی تمام جیب خرچ عطیہ کردی۔ان کا کہنا تھا کہ چینی شہری امدادی رضاکاروں کی ٹیمیں بھی پاکستان پہنچ گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں چینی کمپنیوں نے متاثرہ سڑکوں اور پلوں کی مرمت کے لیے پہل کی، حال ہی میں، وزیر اعظم محمد شہبازشریف نے صوبہ سیچوان کی لوڈنگ کاؤنٹی میں زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں پر اظہار ہمدردی کیا۔ سیلاب بے رحم ہیں لیکن انسان رحم دل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ چین اور پاکستان کی دوستی پہاڑ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے، ہمیں یقین ہے کہ ہمارے پاکستانی بھائی تباہی پر غالب آ جائیں گے اور اپنا گھر دوبارہ بنائیں گے۔

    سی پیک بارے انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی معاشی ترقی اور سماجی استحکام کے لیے مضبوط معاونت فراہم کر رہا ہے، کچھ عرصہ قبل کروٹ پلانٹ، سی پیک کے تحت پہلے ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے سات سال کی تعمیر کے بعد کام شروع کر دیا ۔ اس منصوبے نے ہزاروں مقامی ملازمتیں پیدا کی ہیں اور 3.2 بلین کلوواٹ آور کی سالانہ پیداوار کے ساتھ یہ اب 50 لاکھ خاندانوں کے لیے سستی صاف توانائی فراہم کرتا ہے،اس سے ہر سال کاربن کے اخراج میں 3.5 ملین ٹن کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس سے پاکستان کو توانائی کی حفاظت اور سبز معیشت میں منتقلی میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک اعلیٰ معیار کی ترقی کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، وزیر اعظم محمد شہبازشریف سی پیک کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور انہوں نے دو بار گوادر پورٹ کا دورہ کیا، چینی کمپنیوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کی درخواستوں کا موقع پر ہی جواب دیا۔

    رشکئی انڈسٹریل پارک زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاروں کو راغب کر رہا ہے،سی پیک کے تحت صنعتی، زرعی اور سماجی ذریعہ معاش میں تعاون ٹھوس پیش رفت کر رہا ہے جو پاکستان کی صنعت کاری اور جدید کاری میں نئے کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے تائیوان اور سنکیانگ جیسے چین کے بنیادی مفادات سے متعلق مسائل پر چین کے لیے پاکستان کی مضبوط حمایت کو بھی تسلیم کیا۔امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی کے گزشتہ ماہ چین کے علاقے تائیوان کے دورے پر پاکستان کی حکومت، پارلیمنٹ اور مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین نے آگے بڑھ کر 100 سے زائد ممالک کے ساتھ انصاف کا پیغام دیتے ہوئے ون چائنا اصول پر اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

  • منچھر جھیل کا سیلابی پانی تمام یوسیز میں 8 سے 10 فٹ تک موجود ہے ،وزیراعلیٰ سندھ

    منچھر جھیل کا سیلابی پانی تمام یوسیز میں 8 سے 10 فٹ تک موجود ہے ،وزیراعلیٰ سندھ

    منچھر جھیل کا سیلابی پانی تمام یوسیز میں 8 سے 10 فٹ تک موجود ہے ،وزیراعلیٰ سندھ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سیہون شریف تحصیل کی 10 یونین کونسلز متاثر ہوئی ہیں،

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاھ سیہون پہنچ گئے ،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ متاثرہ علاقوں بوبک، اراضی، واہڑ کا دورہ کیا، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے متاثرین میں راشن بھی تقسیم کیا، اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ منچھر جھیل کو ہم نے کٹ دیا، اگر خود بریج ہوتی تو بہت خطرہ ہوتا،میری یونین کونسل واہڑ بھی مکمل ڈوب گئی ہے،لوگوں کی شکایات جائز ہیں، منچھر جھیل کا سیلابی پانی تمام یوسیز میں 8 سے 10 فٹ تک موجود ہے 2010 کے سیلاب سے زیادہ پانی ہے منچھر جھیل کو ہم نے کٹ دیا، اگر منچھر خود بریج ہوتی تو بہت خطرہ ہوتا، اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ثابت قدم رکھے تاکہ ہم لوگوں کی خدمت کر سکیں دادو کا فضائی معائنہ کیا ہے، امید ہے نقصان نہیں ہوگا،سیہون شریف تعلقہ سے سیلابی پانی اترنا شروع ہوا ہے، ہم نے منچھر کو 5 کٹ دیئے ہیں جو پانی اب دریائے سندھ میں جارہا ہے،

    قبل ازیں پاک فوج اور شہری محکموں نے دادو گرڈ سٹیشن کے گرد ، دو اعشاریہ چار کلو میٹر طویل بند تعمیر کر کے اسے سیلابی پانی سے بچا لیا ہے بند سے سٹیشن ڈوبنے سے محفوظ رہا جبکہ دادو میں بجلی معطل نہیں ہوئی۔علاقے کے لوگوں نے اس بروقت اقدام پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے سیلابی صورتحال سے دادو میں پانچ سو ، کے وی گرڈ سٹیشن کو ممکنہ خطرے کا نوٹس لیتے ہوئے گرڈ سٹیشن کو بچانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

  • اپنے گھوڑے تیار رکھو — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اپنے گھوڑے تیار رکھو — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اس سال کی طوفانی بارشوں اور سیلاب کی تباہی سے اگر کوئی ایک انتہائی اہم سبق سیکھا جا سکتا ہے تو وہ ہے “بروقت تیاری”۔ ہم اپنے سر پر کھڑی موسمیاتی تبدیلی کی اتنی بڑی آفت سے آنکھیں بند کرکے حسب معمول کالا باغ ڈیم بنانے یا نہ بنانے کی بحث کرنے، کرپشن کے قصوں کے چسکے لینے اور اپنے اپنے سیاسی لیڈروں سے وفاداری نبھانے میں مصروف ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جب ہلاکو خان کی فوج بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے شہر کے دروازے پر پہنچ چکی تھی تو شہر میں موجود عالم لوگ اس بحث میں مصروف تھے کہ سوئی کے چھید سے کتنے فرشتے گزر سکتے ہیں۔

    ماحولیاتی سائنسدان تو پچھلے بیس پچیس سال سے وقتا فوقتا موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں خبردار کر رہے تھے لیکن پاکستان میں اس سال اسے حاضر کی آنکھ سے دیکھا ہے جب سال کے پہلے نصف میں انتہا کی خشک سالی اور پھر جولائی سے شروع ہونے والی طوفانی بارشیں جونہ صرف پانی کی مقدار کے لحاظ سے بہت زیادہ تھیں بلکہ جن علاقوں میں ہوئی ہیں وہ عام طور پر مون سون کی بارش والے علاقے نہیں سمجھے جاتے جیسا کہ مغربی بلوچستان اور سندھ۔ ان کا آغاز کراچی میں خلاف معمول تباہ کن بارشوں سے ہوا۔

    پنجاب جسے روایتی طور پرمون سون کا مرکز مانا جاتا ہے وہاں اس دفعہ معمول کی بارش ہوئی اور کوئی دریائی طغیانی یا سیلاب نہیں آیا۔ کوہ سلیمان اور وسیب کا سیلاب بھی خلاف معمول تھا۔شمالی علاقوں خصوصا سوات میں بھی سیلاب نے 2010 کے سپر فلڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

    سیلاب سے متاثر ہونے والی ہماری آبادی دنیا کے 150 ملکوں کی انفرادی آبادیوں سے زیادہ ہے اور سیلاب سے متاثرہ رقبہ بھی دنیا کے 150 ملکوں کے انفرادی رقبے سے زیادہ ہے۔ اس وقت جتنے پاکستان کے جتنے علاقے پر سیلاب کا پانی کھڑا ہے وہ دنیا کے 100 ملکوں کے انفرادی علاقے سے بھی بڑا ہے۔

    تباہی بہت بڑی ہے اور ہم سے کچھ نیا کرنے کو مانگتی ہے کیونکہ ایسے حالات میں معمول کی ترکیبیں یا اقدامات کام نہیں آئیں گے۔سب سے اہم بات تو اگلی آفت سے پہلے آفت کی تیاری ہے تاکہ ہم جانی و مالی نقصانات سے بچ سکیں۔اس تیاری کے لئے جو وسائل چاہئے ہوں گے وہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کے نقصانات سے انتہائی کم ہیں۔

    دنیا کے ماحول کو گندہ کرنے والے ممالک جن میں چاچا سام پیش پیش ہے نے گرین کلائمیٹ فنڈ کو جو 10 بلئین ڈالر سے زیادہ کی فنڈنگ دی ہے وہ رشوت کے پیسوں سے صدقہ کرنے کے مترادف ہے لیکن ہم اس سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے اور پچھلے اتنے سالوں میں کوئی منصوبہ بنا کر لانچ نہیں کر سکے۔ مجبوری میں امیر ملکوں کی طرف سے قائم کیا گیا یہ فنڈ بھی صدقہ خیرات یا قرض معاف کرنے کے لئے نہیں بلکہ قابل عمل زمینی منصوبوں کے لئے ہے۔

    پاکستان کو بھی اس موسمیاتی تبدیلی کے خطرے کو سمجھتے ہوئے پر اپنی ترجیحات طے کرنی چاہئیں۔

    فوری ردعمل والے سیلاب کے پیشگی اطلاعاتی نظام بنانے ہوں گے۔

    سیلابی علاقوں کی نقشہ بندی کرکے آفت کی صورت میں محفوظ پناہ کے علاقے تلاشنے ہوں گے۔

    آفت کی صورت میں پانی، خوراک اور آمدورفت کو رواں رکھنے کا سوچنا ہوگا۔

    سیلابی پانیوں کو راستہ دینا ہوگا اور ان کی راہ میں رکاوٹوں کو ختم کرنا ہوگا۔

    تمام انفراسٹرکچر منصوبے بشمول سڑکیں پانی دوست بنانا ہوں گے۔

    سیلاب کے بعد کھڑے ہونے والے پانی کی نکاسی کے مقامی پلان بنانے ہوں اور ان سب کاموں میں معیشت کو مضبوط کرنے کے بے انتہا مواقع چھپے ہوئے ہیں

    جتنے بڑے خطرے کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں اس کا حل آفت کو قابو کرنے کی بجائے اسے گلے لگانے میں ہے۔اپنے آپ کو آفت کا عادی بنانے میں ہے۔دنیا کی بہت سی مخلوقات حتی کہ بڑے بڑے ڈائنوسار بھی ارتقا کے عمل میں ختم ہوگئے لیکن کمزور حضرت انسان اس دھرتی پر اس لئے دندناتا پھر رہا ہےکہ اللہ نے انسان کو ماحول کے مطابق ڈھالنے کی بے پناہ صلاحیت رکھی ہے۔ “جو ڈھل گیا وہ چل گیا”

    اس ساری صورت کا مثبت پہلو درد دل رکھنے والے وہ افراد یا سماجی بھلائی کی تنظیمیں ہیں جو آفت کے آتے ہی اپنے آپ متحرک ہوئے اور جس کاجو سمجھ آتا تھا اس نے کر ڈالا ۔ ریسکیو، کھانا، راشن، خیمے ، کیش، کپڑے اور گھروں کی دوبارہ تعمیر میں مصروف ہوگئے۔

    مستقبل کی آفت کی تیاری کے عمل میں ایسے لوگ اور تنظمیں ریڑھ کی ہڈی ہیں جو آگے بڑھ کر مقامی طور پر لوگوں کی ذہن سازی، عوامی بیداری اور آفت سے پہلے بچاو کے پروگراموں کو عوام میں کامیاب بنا سکتے ہیں۔ یہ کام جتنا زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر ہوگا،اتناموثر ہوگا۔اس کام کے لئے مرکز یا صوبوں کی سطح پر قائم ادارے فوری اور موثر رد عمل نہیں دے سکتے۔

    کاش ہم جنگ سے پہلے اپنے گھوڑے تیار رکھنے کی عادت اپنا لیں۔

  • سیلاب زدہ علاقوں سے پانی کی نکاسی میں 3 سے 6 ماہ لگیں گے:مراد علی شاہ

    سیلاب زدہ علاقوں سے پانی کی نکاسی میں 3 سے 6 ماہ لگیں گے:مراد علی شاہ

    کراچی :وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبے کے سیلاب زدہ علاقوں سے پانی کی نکاسی میں 3 سے 6 ماہ کا عرصہ لگے گا۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صوبے کی موجودہ صورتحال اور تباہ کن سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے پوری دنیا کو ایک ہونا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قدرتی آفت اور موسمیاتی تباہی سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کرے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں جب کہ لاکھوں ایکڑ زرخیز زمین بھی سیلاب کی زد میں آ چکی۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں کسانوں کو تقریباً 3 ارب 50 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے جب کہ لائیو اسٹاک کے شعبے کو 50 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کچھ علاقوں میں کم از کم 8 سے 10 فٹ پانی ہے، جن علاقوں میں سیلابی پانی اتر چکا ہے وہاں بھی ایسی صورتحال نہیں ہے کہ لوگ اپنے گھروں کو واپس جاسکیں، پاکستان میں اس سال غیر معمولی بد ترین بارشیں ہوئی ہیں۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ رواں سال صوبے میں معمول سے 10 سے 11 گنا زیادہ بارشیں ہوئیں، عام طور پر گڈو اور سکھر کے مقام پر تقریباً 4 لاکھ کیوسک سیلابی ریلا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت لوگوں کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے اور صوبے کے نکاسی آب اور آبپاشی کے نظام کی بحالی کے لیے کام کر رہی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ پانی کے اخراج میں 3 سے 6 ماہ لگیں گے۔
    مراد علی شاہ نے اعتراف کیا کہ صوبے کو خیموں اور ادویات کی کمی کا سامنا ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے یہ مسئلہ اقوام متحدہ کے سربراہ سے ملاقات کے دوران اٹھایا تھا۔

    مون سون کی بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے 14 جون سے 9 ستمبر کے درمیان ملک بھر میں ایک ہزار 396 افراد جاں بحق اور 12 ہزار 728 زخمی ہوئے جب کہ 3 کروڑ سے زیادہ شہری بے گھر ہوئے ہیں۔تباہ کن سیلاب کے دوران سندھ اب تک سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے جہاں سب سے زیادہ اموات رپورٹ ہوئیں اور سب سے زیادہ شہری زخمی ہوئے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں ایک ہزار 396 اموات میں سے سندھ میں مجموعی طور پر 578 شہری جاں بحق ہوئے، اسی طرح صوبے میں زخمیوں کی تعداد 8 ہزار 321 ہے جب کہ ملک بھر میں زخمیوں کی مجموعی تعداد 12 ہزار 728 ہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • وزیراعظم شہبازشریف کا شیخ نہیان بن مبارک آل نہیان کو ٹیلی فون

    وزیراعظم شہبازشریف کا شیخ نہیان بن مبارک آل نہیان کو ٹیلی فون

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات (یواے ای) کے وزیر کلچر، نوجوانان اور سماجی ترقی شیخ نہیان بن مبارک آل نہیان کو ٹیلی فون کیا ہے ، شیخ نہیان بن مبارک آل نہیان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کے لئے بڑی مالی امداد کرنے پر شکریہ ادا کیا

    وزیراعظم نے شیخ نہیان بن مبارک آل نہیان کے سیلاب متاثرین کے لئے 10 ملین ڈالر دینے کے جذبے کو خراج تحسین پیش کیا ، اس موقع پر شیخ نہیان بن مبارک آل نہیان نے پاکستانی سیلاب متاثرین کے لئے انفرادی سطح پر اب تک کا سب سے بڑا عطیہ دیا ہے

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ آپ کی فراخ دلانہ مدد اہل پاکستان ہمیشہ یاد رکھیں گے: آپ نے پاکستانی عوام سے بے لوث محبت اور انسانیت کے لئے دردمندی کا ثبوت دیا ہے: آپ کی مدد سے سیلاب متاثرین کے ریسکیو، ریلیف اور بحالی میں بڑی مدد ملے گی:

    وزیراعظم نے سیلاب سے ہونے والی تاریخی تباہی اور متاثرین کی مدد کے لئے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا ،شیخ نہیان بن مبارک آل نہیان نے سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا، اس کے ساتھ ساتھ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان سے یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں

    امریکا سے سیلاب متاثرین کے لئے انسانی امداد لے کر دو مزید پروازیں پاکستان پہنچ گئیں۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق امریکا سے اب تک سیلاب متاثرین کے لئے امدادی سامان کی 7 پروازیں آچکی ہیں، پاکستان کی جانب سے امریکی امداد پر شکریہ اداکیا گیا ہے۔

    ترجمان کی جانب سے مزید کہا گیا کہ خراب موسم کی وجہ سے ایک پرواز ملتوی ہوگئی۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق متحدہ عرب امارات سے بھی مزید دو پروازیں امدادی سامان لے کر پاکستان پہنچیں، متاثرین کی مدد کے لیے مختلف ممالک سے 68 پروازیں پاکستان پہنچ چکی ہیں، متحدہ عرب امارات سے اب تک 31 پروازیں امداد لے کرپاکستان پہنچ چکی ہیں، ترکی سے اب تک 11 پروازوں کی امداد پاکستان آئی۔

    ترجمان کے مطابق امریکا سے اب تک 7 پروازوں کے ذریعہ امداد پاکستان پہنچ چکی، چین سے 4، قطر، ازبکستان، اردن، ترکمانستان اور فرانس سے طیارے امداد لے کر پاکستان پہنچ چکے ہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔