Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • سیلاب زدگان کیلئے امدادی سامان لے کر اقوام متحدہ کی 2 پروازیں کراچی پہنچ گئیں

    سیلاب زدگان کیلئے امدادی سامان لے کر اقوام متحدہ کی 2 پروازیں کراچی پہنچ گئیں

    اسلام آباد:سیلاب زدگان کے لیے ہنگامی طبی اشیا اور امدادی سامان لے کر اقوام متحدہ کی 2 پروازیں ہفتے کے روز کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ گئیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ اس شپمنٹ میں 15.6 ٹن امدادی سامان موجود ہے جس میں ہیضے کی کٹس، پانی اور متعدد مقاصد کے لیے قابل استعمال خیمے شامل ہیں جنہیں طبی خیموں کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔یہ امدادی اشیا دبئی حکومت اور انٹرنیشنل ہیومینٹیرین سٹی (آئی ایچ سی) کے تعاون سے پاکستان کو فراہم کی گئیں ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کی پاکستان میں نمائندہ ڈاکٹر پالیتھا مہیپالا نے کہا کہ ہم اس وقت طبی سہولیات اور سامان تک رسائی کو یقینی بنانے، بیماری کے پھیلنے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

    ترکیہ سے عطیہ
    اس کے علاوہ ترک ہلال احمر نے 200 خیمے، 1900 کمبل، 300 گدے اور دیگر امدادی اشیا بھی عطیہ کی ہیں، ترکیہ کی جانب سے عطیہ کیا گیا یہ امدادی سامان تفتان میں ہلال احمر پاکستان کے حکام کے حوالے کیا گیا۔ہلال احمر بلوچستان کے ترجمان کے مطابق ترک ہلال احمر کی جانب سے امدادی سامان لے جانے والی مزید 2 ٹرینیں جلد پاکستان بھیجی جائیں گی۔

    ادھر یواین سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پاکستان کا دورہ مکمل کرکے واپس چلے گئے، سیلاب سے تباہی کا ذمہ دار جی ٹوئنٹی ممالک کو قرار دیا اور عالمی برادری سے پاکستان کی مدد کی اپیل کی ہے۔

    انتونیو گوتریس نے وزیراعظم شہبازشریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ سندھ اور بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا، ساتھ ہی سیلاب متاثرین کے کیمپس کا دورہ کیا، دورے کے دوران انہوں نے پاکستان میں سیلاب سے تباہی کا ذمہ دار جی ٹوئنٹی ممالک کو قراردیتے ہوئے کہا کہ 80 فیصد کاربن کا اخراج یہی جی ٹونٹی ممالک کرتے ہیں۔

    انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ سوال پاکستان کیلئے امداد کا نہیں، پاکستان کے ساتھ انصاف کا ہے۔عالمی حدت میں پاکستان کا حصہ صرف ایک فیصد ہے لیکن خمیازہ پاکستان بھگت رہا ہے، سیلاب زدہ علاقوں میں دیکھی تباہی الفاظ میں بیان نہیں کی جاسکتی، ترقی یافتہ ملک پاکستان کو تباہی سے نکالنے میں مدد کریں۔

    انہوں نے کہا کہ تباہی سے نمٹنے کی پاکستان میں سکت نہیں اور نہ ہی پاکستان اکیلے یہ کرسکتا ہے، اقوام متحدہ پاکستان کی آواز کے ساتھ آواز ملائے گا، بحالی کے آپریشن میں کافی فنڈز کی ضرورت ہوگی، ریلیف اور ریسکیو آپریشن جاری ہے، جس کے بعد بحالی کا آپریشن ہوگا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر کے لیے نقد رقوم دی جائیں گی،پرویزالہیٰ

    سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر کے لیے نقد رقوم دی جائیں گی،پرویزالہیٰ

    وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف جس احسن طریقے سے پیسے مانگ سکتے ہیں کوئی اور نہیں مانگ سکتا۔

    لاہور پریس کلب میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ صحافیوں کی بہبود کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے، صحافیوں کی بہبود کے لیے ایسے قوانین بنائیں گے جو کوئی حکومت تبدیل نہ کر سکے، پریس کلب کے ممبر صحافیوں کے لیے آپریشن بھی فری کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔

    چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں، سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر کے لیے نقد رقوم دی جائیں گی، سیلاب متاثرین کے گھر بنانے کیلئے 8 سے10 لاکھ روپے امداد دی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی قیادت میں پنجاب حکومت سب کو سکھ دے گی، عمران خان کی ٹیلی تھون میں اب تک ڈھائی ارب روپیہ اکٹھا ہوا ہے، سیلاب متاثرہ علاقوں میں خوراک پر 40 فیصد سبسڈی دیں گے اور ہر زمیندار کو سولر پمپ کی سہولت فراہم کی جائے گی، صحت کارڈ بہترین اور اچھی اسکیم ہے، اس پر عمل درآمد کے لیے بھی کام کریں گے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ شہباز شریف جس احسن طریقے سے پیسے مانگ سکتے ہیں کوئی نہیں مانگ سکتا۔

  • سیلاب سے تباہی اورحکمران طبقے کی بے حسی:(تجزیہ شہزاد قریشی)

    سیلاب سے تباہی اورحکمران طبقے کی بے حسی:(تجزیہ شہزاد قریشی)

    ایوان وزیراعلیٰ پر تیتر بٹیر اور ہرن گوشت کے من و سلویٰ کی بارشیں اور کروڑوں روپے کی لگژری گاڑیوں کی مبینہ خریداری ۔ جنوبی پنجاب سمیت سندھ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں سیلاب زدگان کی بدحالیاں اور عالمی طاقتوں سے امداد کی اپیلیں۔ نگر نگر جلسے جلوسوں میں آزادی اور آزاد بیورو کریسی کی عوامی شکایات اور مسائل سے اظہار تعلقی یہ وہ مناظر ہیں جو قومی افق پر بیک وقت نظر آرہے ہیں اور ان سب حالات و واقعات کا بیک وقت تسلسل سے ظہور پذیر ہوتے رہنا اس طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ارباب اقتدار عوام کو بے وقوف سمجھ رہے ہیں۔ اسلام آباد اورپنجاب کی پولیس اور انتظامیہ کو اپنی سرد جنگ میں الجھا کر شہریوں کو چوروں، ڈکیتوں، لینڈ مافیا، قبضہ مافیا کے سپرد کر دیا گیا اب تو نوبت یہاں تک آپہنچی بڑے بڑے پولیس افسران اور سول انتظامیہ لینڈ مافیہ سے پلاٹ بطور گفٹ لے کر قبضوں اور سرکاری زمین پر قبضوں کی اجازت بھی دے رہی ہے۔

    سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود زرعی زمینوں پر ہائوسنگ سوسائٹیز بنائی جا رہی ہیں۔ پی ڈی ایم اور تحریک انصاف کی حکمرانی کے نیچے یہ غیر قانونی کام دن کی روشنی میں ہور ہے ہیں۔ قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگانے والوں نے قانون کی حکمرانی کی رٹ کو قائم کرنیوالے اعلیٰ پولیس افسران کو اور سول انتظامیہ کے افسران کو کھڈے لائن لگا دیا جبکہ قانون شکنوں کی پشت پناہی کرنیوالوں کو اعلیٰ عہدوں پر بٹھا دیا ہے اور کمال یہ ہے کہ آج کے حکمران تنقید کا نشانہ پاک فوج اور اس سے جبڑے قومی سلامتی کے اداروں کو بنا رہے ہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

    کیا کرپٹ اور بددیانت اعلیٰ پولیس کے افسران اور سول انتظامیہ کے آفیسران کی تعیناتی جن کا برائے راست رابطہ عوام سے رہتا ہے وہ پاک فوج کرتی یا سول حکمران؟ لیکن کیا کہا جائے اور یہ ایک حقیقت ہے جب ملک و قوم کے معاملات کی خبر رکھنے والے حالات و واقعات کا درست تجزیہ نہ کر سکیں تو اچھی بھلی باوقار غیرت مند قوم بھی مصائب و آلام اور آزمائش و ابتلاء کا شکار ہوجاتی ہے۔

    آج کے سیاستدانوں کی تاریخ لکھنے والا کیا تاریخ لکھے گا؟ یاد رکھئے اپنی قوم کو مایوس کرنیوالے ان کے یقین اعتماد اور بھروسے کو توڑنے والے نہ تو کہیں تاریخ کے صفحات میں جگہ پاتے ہیں اور نہ ہی قوم انہیں یاد رکھتی ہے ان کی حیثیت ان لوگوں کی سی ہوتی ہے جنہیں ایک اتفاق ایک حادثہ ایوان اقتدار میں پہنچاتا ہے تو دوسرا اتفاق ایوان اقتدار سے اٹھا کر تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیتا ہے۔

  • سیلاب زدہ علاقوں میں اشیائےخورد و نوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے،شہباز شریف

    سیلاب زدہ علاقوں میں اشیائےخورد و نوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے،شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں سیلاب کی صورتحال اور سیلاب زدگان کے لئے امداددی کاروائیوں پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا.

    وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب زدہ علاقوں میں نظام زندگی کی بحالی کے لیے نظام مواصلات، بجلی کی ترسیل اور دیگر امدادی کارروائیوں کو مزید موثر بنانے کیلیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب زدہ علاقوں میں اشیائےضروریہ اور اشیائےخورد و نوش کی فراہمی کو یقینی بنانے کی خصوصی ہدایت کی.

    وزیراعظم شہباز شریف نے سیلابی صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومتوں کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہوئے سڑکوں کی بحالی کے لیے جلد از جلد خصوصی اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ مزید برآں وزیراعظم شہباز شریف نے صوبوں کو درپیش دیگر مسائل کے حل کے لیےجامع حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل, وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور ڈویژن سردار ایاز صادق, وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب, وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال,وفاقی وزیر برائے ریلویز خواجہ سعد رفیق, چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز، چیئرمین NFRCC میجر جنرل ظفر اقبال اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    علاوہ ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دادو میں سیلابی ریلے سے گرڈ اسٹیشن کو بچانے کی فوری ہدایات جاری کر دیں،دادو و گردو نواح کے علاقوں میں سیلابی صورتحال، 500KV گرڈ اسٹیشن کو خطرے کی خبر پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے فوری نوٹس لے لیا.

    وزیرِ اعظم نے اعلی سول و فوجی قیادت کو تمام تر وسائل بروئے کار لا کر گرڈ اسٹیشن کو سیلاب سے بچانے کی ہدایت کی،وزیرِ اعظم کی ہدایات پر عملدرآمد کرتے ہوئے مورو شہر سے تین ایکسکویٹر روانہ کردئے گئے. وزیرِ اعظم سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کے بچاؤ و بحالی کے کام کی 24 گھنٹے خود نگرانی کر رہے ہیں.

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ گرڈ اسٹیشن کا بچاؤ بجلی کی بلا تعطل فراہمی کیلئے نہایت ضروری ہے، گرڈ اسٹیشن کو فوری طور پر سیلاب سے متاثر ہونے سے بچایا جائے.

  • پنجاب حکومت کے پاس نئی گاڑیوں کیلئے پیسے ہیں سیلاب متاثرین کیلئے نہیں،خرم دستگیر

    پنجاب حکومت کے پاس نئی گاڑیوں کیلئے پیسے ہیں سیلاب متاثرین کیلئے نہیں،خرم دستگیر

    وفاقی وزیرتوانائی خرم دستگیرنے کہا کہ سیلاب سے بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا،سیلاب سے بجلی سپلائی میں رکاوٹ آئی تھی،سیلاب سے متاثرہ بجلی کا نظام مکمل بحال کر دیا ہے،دن رات کی محنت کے بعد بجلی کا نظام بحال کیا گیا ہے.

    گوجرانوالہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرتوانائی خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ اب صرف معمول کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے ،دادو کا گریڈ اسٹیشن بلوچستان اور جنوبی سندھ کی سپلائی کیلئے بہت اہم ہے،دادو کے گریڈ اسٹیشن پر خطرہ ابھی بھی موجود ،پانی کا ریلا اس کی طرف بڑھ رہا ہے،ہم دادو گریڈ اسٹیشن کو بچانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں،دادو شہر چاروں طرف سے پانی میں گھیرا ہوا ہے.

    خرم دستگیرنے کہا کہ ملک میں خسارے والے فیڈرز میں معمول کی لوڈشیڈنگ جاری ہے،کچھ لوگ اس ملک میں فساد پھیلانے چاہتے ہیں، خیبر پختونخوا میں سیلاب سے بجلی کے کھمبے بھی پانی میں بہہ گئے تھے،یہ سیاست کا نہیں بلکہ سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کا وقت ہے،سیلاب متاثرین کی بحالی کی حکومت اپنا کام کر رہی ہے،کسی جتھے کے پاس جلسے کیلئے 10 کروڑ ہیں تو بہتر یہی تھا کہ وہ سیلاب متاثرین کیلئے استعمال ہوتے،سیلاب متاثرین کیلئے حکومت پنجاب کے پاس پیسے نہیں.

    انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کے پاس وزرا کیلئے نئی گاڑیاں خریدنے کیلئے30کروڑ روپے موجود ہیں،ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ایک دن بھی پیٹرول کی شارٹیج نہیں ہوئی،بجلی کے بلوں کا بہت دکھ تھا مگر وزیر اعظم نے فوری طور پر ریلیف دیا،بجلی کی قیمت نیچے آئیگی، تمام اسٹیشن چلا کر لوڈشیڈنگ کو کنٹرول رکھا، کل خبر آئی ان کے دور میں یوٹیلٹی اسٹور میں 6ارب روپے کا گھپلا ہوا،ان کے دور میں کویڈ فنڈز میں کم ازکم 140ارب روپے کا گھپلا ہوا ہے،300یونٹ والوں کو ریلیف فوری طور پر دیدیا ہے ،ہم نے متاثرین کو گھر بنا کر دینے ہیں، کروڑوں لوگوں کو کھانا فراہم کرنا ہے، تحریک انصاف کا فتنہ اور فساد جلد عوام کے سامنے بے نقاب ہوجائے گا.

  • دادو شہر اور گردونواح میں سیلاب کا خطرہ

    دادو شہر اور گردونواح میں سیلاب کا خطرہ

    دادو شہر اور گردونواح میں سیلاب کا خطرہ ہے، شہر کی پہلی ڈیفنس لائن چک پل ٹوٹنے کے بعد شہر کو بچانے کے لیے پلان بی پر عمل درآمد شروع کردیا گیا۔

    پلان بی کے تحت بائی پاس روڈ پر بُرڑا نہر کے پشتوں پر رنگ بند کی تعمیر کا عمل جاری ہے، بھاری مشینوں کے ذریعے مٹی لاد کر رنگ بند کو 15 فٹ تک اونچا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق منچھر جھیل کا ریلا دادو کا رنگ بند عبور کرگیا ہے، پانی میں گھرے لوگوں نے محفوظ مقامات پر نقل مکانی شروع کردی ہے۔خطرے کی وجہ سے ڈسٹرکٹ جیل دادو کے قیدیوں کو حیدرآباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب بھان سعید آباد کے گرڈ اسٹیشن میں بھی پانی داخل ہونے سے بجلی بند کردی گئی۔ منچھر جھیل میں مختلف مقامات پر کٹ لگانے سے دریائے سندھ میں پانی کا اخراج ڈیڑھ لاکھ کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔

  • راجن پور کی خاتون کو مقامی سرداروں کے خلاف آواز بلند کرنا مہنگا پڑگیا۔

    راجن پور کی خاتون کو مقامی سرداروں کے خلاف آواز بلند کرنا مہنگا پڑگیا۔

    راجن پور کی خاتون کو مقامی سرداروں کے خلاف آواز بلند کرنا مہنگا پڑگیا۔اطلاعات کے مطابق گزشتہ دنوں خاتون نے امداد نہ ملنے پر مقامی سرداروں کے خلاف بیان دیا تھا جس کی خبر جیو نیوز پر بھی نشر ہوئی تھی۔

    اب خاتون کو مقامی سرداروں کے خلاف آواز بلند کرنا مہنگا پڑگیا اور بااثر افراد کی جانب سے دھمکیاں ملنے لگیں۔سیلاب متاثرہ خاتون کی نئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ خاتون نے حکومت سے تحفظ کی اپیل کی ہے۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس کو دیکھنے اور سننے کے بعد بڑے سے بڑے پتھر دل بھی ریزہ ریزہ ہوگئے ہیں ،ایک ماں جوسیلاب میں گھرے ہوئے اپنے بچوں کے لیے ایک وقت کی روٹی کےلیے در در کی ٹھوکریں کھارہی ہے

     

     

     

    اس ویڈیو میں بے بس یہ ماں اللہ کے دربار میں ہاتھ اٹھائے ہوئے اپنی اوراس علاقے کے دیگرغریبوں کی بے بسی پرخون کے آنسو روتی ہےاوراللہ کے حضور درخواست کرتی ہے کہ اللہ بڑی بے بس ہوں‌ کل سے راجن پور،فاضل پور اوردیگرمقامات پرماری ماری پھر رہی ہوں‌ کوئی میرے بچوں کے لیے ایک وقت کی روٹی ہی نہیں‌ دے رہے ،

    یہ خاتون اس علاقے کے وڈیروں کے ظلم وزیادتی پرحکمرانوں کی آنکھیں‌ کھول رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہم غریب بلوچ لوگ در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں مگر یہاں کے دریشک سردار جو کچھ حکومت اوردیگرتنظیموں سے ملتا ہے وہ لے کراپنے ہی لوگوں میں بانٹ رہے ہیں ان کو کسی کی پرواہ نہیں ہے ، ، یہ خاتون کہتی ہیں کہ ہم ان حالات میں کدھر جائیں گے ،

    یہ خاتون رو رو کراللہ کے حضور دعا کرتی ہےکہ ایسی بے بسی کی زندگی سے بہتر ہے کہ اے اللہ تو غریبوں کو ہی موت دے دے تاکہ یہ ان وڈیروں کے ہاتھوں بار بار رسوائی سے تو بچ جائیں ، کہ خاتون مزید کہتی ہیں کہ پتہ نہیں کہ ان ظالموں کو قبر بھی نصیب ہونی ہے یا کہ نہیں‌ یا کفن بھی ملنا ہے یا نہیں لیکن یہ یہاں غریبوں کا حق چھین کرلے جارہے ہیں ،یہ خاتون اپنے بچوں کی آہ وبکا کا ذکر کرتے ہوئے اللہ کے حضور روتے ہوئے دعا کررہی ہے کہ اس کے بچے بھوکے ہیں‌ ، سیلاب میں گھر ے ہوئے ہیں ، کوئی سائے کے لیے چیز نہیں ، پینے کے لیے پانی نہیں اورپیٹ کی آگ بجھانےکے لیے کھانا نہیں ، ہےکوئی جو اس دکھیا بیچاری ماں کے بھوکے بچوں کو ایک وقت کی روٹی دے سکے

  • پاک فضائیہ کے شاہین اپنے سیلاب متاثرین ہم وطنوں کی خدمت اوربحالی کے لیئے پیش پیش

    پاک فضائیہ کے شاہین اپنے سیلاب متاثرین ہم وطنوں کی خدمت اوربحالی کے لیئے پیش پیش

    قوم کی پکار پر ہمیشہ فرنٹ لائن ریسپانڈر ہونے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے، پاک فضائیہ خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے عمل کو جارحانہ انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق پاک فضائیہ نے سیلاب زدگان کے لیے انتہائی ضروری مالی امداد جمع کرنے کے لیے “پاکستان ایئر فورس فلڈ ریلیف فنڈ” بھی قائم کیا ہے۔

    پاک فضائیہ کے ترجمان کے مطابق پاک فضائیہ کے اہلکار سیلاب زدگان کو خوراک، رہائیش، پینے کا پانی اور طبی امداد سمیت دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے سرگرم ہیں۔

    گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران ضرورت مند خاندانوں میں چھبیس ہزار سے زائد پکے ہوئے کھانے کے پیکٹ، دو سو پانچ پانی کی بوتلیں اور ایک ہزار سات سو انہتر خشک راشن کے پیکٹ تقسیم کیے ہیں، جن میں بنیادی غذائی اجناس شامل ہیں۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کو مشکل کی اس گھڑی میں ازحد ضروری ریلیف فراہم کرنے کے لیے پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ضرورت مند خاندانوں میں 26226 پکے ہوئے کھانے کے پیکٹ، 205 پانی کی بوتلیں اور 1769 خشک راشن کے پیکٹ تقسیم کیئے ہیں جن میں بنیادی غذائی اجناس شامل ہیں۔

    ترجمان کے مطابق مفت خوراک اور رہائش کی فراہمی کے علاوہ پاک فضائیہ کی میڈیکل ٹیموں نے فیلڈ میڈیکل کیمپوں میں 1646 مریضوں کا طبی معائنہ بھی کیا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • کےپی میں‌ پھربارشیں شروع ہوگئیں:گرمی سے کراچی کا پارہ ہائی ہوگیا

    کےپی میں‌ پھربارشیں شروع ہوگئیں:گرمی سے کراچی کا پارہ ہائی ہوگیا

    پشاور:کراچی:::کےپی میں‌ پھربارشیں شروع ہوگئیں:گرمی سے کراچی کا پارہ ہائی ہوگیا ،اطلاعات کے مطابق ملک میں ایک بار پھر بارشوں کی اطلاعات ہیں اور اس سلسلے میں پہلی خبر کے پی کے ضلع ایبٹ آباد سے آئی ہے جہاں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے ، بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، بارش کا پانی ایوب میڈیکل کمپلیکس کے وارڈز میں داخل ہوگیا، جسے سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    اس سے پہلے ملک میں متوقع موسی حالات کے بارے میں محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں آج بروز ہفتہ 10 ستمبر سے چودہ ستمبر تک مزید بارشوں کی پیشگوئی کردی ہے، جب کہ کراچی میں گرمی کی شدت بڑھنے کے بعد درجہ حرارت 38 ڈگری تک پہنچ گیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بالائی علاقوں میں آج مون سون کا نیا سلسلہ داخل ہوگا، جس سے خیبر پختونخوا، کشمیر، گلگت اور جنوبی پنجاب سمیت سندھ کے کچھ علاقوں میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔میٹ آفس کا یہ بھی کہنا ہے کہ کشمیر اور گلگت بلتستان میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے ساتھ چند مقامات پر بارش کا امکان ہے۔

    رپورٹ کے مطابق نئے سسٹم کے تحت خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، جب کہ مانسہرہ، ایبٹ آباد، بونیر، شانگلہ، سوات، مالا کنڈ، دیر میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔چترال، مردان، چارسدہ، پشاور، کوہاٹ اور کرم میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔

    خطہ پوٹھوہار، گوجرانوالہ، لاہور، گجرات، سیالکوٹ اور نارووال میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا۔ سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ عمر کوٹ، ٹھٹھہ، بدین، میر پور خاص اور تھر پارکر میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    دوسری طرف سندھ میں مویشیوں کو بیماریوں سے بچانے کے لیے بارش اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ویکسینیشن مہم زوروں پر ہے۔

    صوبے بھرمیں سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (SRSO) کی جانب ویکسینیشن کی جارہی ہے، جبکہ تنظیم کے رکن جمیل سومرو کے مطابق سندھ کے 14 بارشوں اور سیلابی متاثرہ اضلاع میں کل 57 ہزار دو سو25 جانوروں کو ویکسین دی گئی ہے۔

    جمیل سومرو نے کہا کہ سیلابی صورتحال کے دوران بچ جانے والے مویشیوں کو مختلف وائرل بیماریوں کے شکار ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، ویٹرنری ماہرین اور کمیونٹی لائیو اسٹاک ورکرز کوتنظیم کی جانب سے تربیت دی جا رہی ہے۔

    صوبائی وزیرلائیواسٹاک سندھ عبدالباری پتافی کا کہنا ہے کہ سیلاب سے صوبے میں 80 ہزارجانورہلاک ہوچکے ہیں۔انہوں میڈیا کو بتایا تھا کہ سندھ میں جانوروں کی ویکسینیشن درکار ہے اور ہم ابھی تک صرف 15 فیصد لوگوں تک مشکل سے پہنچ سکے ہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

  • ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ‎موجودہ سیلابی صورت حال کی آڑ لے کر ایک مخصوص لابی یہ ڈیم مخالف جذبات ابھارنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ڈیم سیلاب کو نہیں روک سکتے ۔ میری رائے میں تو جو بندہ ایسی عامیانہ بات کرتا ہے شائد وہ ڈیم کے کام کرنے کی سائنس سے نابلد ہے ۔

    ‎ورلڈ کمیشن آن لارج ڈیمز کے ڈیم رجسٹر مطابق اس وقت پوری دنیا میں بنائے گئے ڈیموں کی کل تعداد 58,000 ہے جس میں سے آدھے سے زیادہ ڈیم صرف ہمارے دو پڑوسی ملکوں چین اور ہندوستان میں ہیں۔ جی ہاں 24,000 ڈیم چین میں اور 4،400ڈیم انڈیا میں۔

    ‎پاکستان کے ڈیموں کی تعداد 500 بھی نہیں بنتی جس میں اصلی نسلی بڑے ڈیم ایک درجن بھی نہیں اور ہمارے ہاں ڈیم نہ بنانے کی تحریک چل رہی ہے اور ہمیں ٹی چینلز کے ٹاک شوز میں امریکہ میں ڈیم ختم کرنے کی مثالیں دی جاتی ہیں جس نے خود 10,000 ڈیم بنا رکھے ہیں۔

    ‎کوئی بھی بڑا ڈیم کثیر المقاصد ہوتا ہے۔ ڈیم کا بنیادی کام پانی کو ذخیرہ کرنا ہوتا ہے جسے بعد ازاں آب پاشی اور زراعت، بجلی بنانے ،صنعتی اور گھریلو استعمال ، ماحولیاتی بہتری ، ماہی گیری ، سیاحت اور زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کے کام میں لایا جاتا ہے۔

    ‎اوپر دئے گئے مقاصد کے ساتھ ساتھ ڈیم مفت میں سیلاب کا زور توڑنے کا کام بھی کرتا ہے اور ایک سے زیادہ ڈیم اوپر نیچے ہوں تو وہ سیلاب کا سارا پانی ذخیرہ کرکے سیلابی تباہی روک لیتے ہیں۔

    ‎دنیا کے ہر ڈیم ،خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ، اس کے ڈیزائن کا بنیادی مقصد ہی پیچھے سے آنے والے بڑے سیلابی ریلے کا زور توڑ کر اسے چھوٹے کمزور ریلے میں بدل کر آگے بھیجنے کے اصول پر بنا ہوتا ہے اور اگر دریائی گزرگاہوں پر اوپر تلے ایسے ڈیم بنا دئے جائیں تو بڑے سیلابی ریلے اپنی موت آپ مر جاتے ہیں ۔ ٹیکنیکل زبان میں اسے فلڈ راوٹنگ یا پھر فلڈ پیک اٹینوایشن کہتے ہیں جس کا گراف پوسٹ کے ساتھ لگا ہوا ہے۔

    ‎امریکہ کی معیشت ہوور ڈیم کے بعد ہی سنبھلی اور چین نے سنبھلتے ہی دنیا کا سب سے بڑا تھری گور جز ڈیم کے نام سے بنایا اور تو اور افریقہ کے قحط زدہ ملک ایتھوپیا نے سنبھلتے ہی دریائے نیل پر میکینئیم ڈیم بنا دیا ہے ۔ صرف یہ ایک ڈیم 6,000 میگاواٹ تک بجلی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کہ تربیلا ڈیم سے بہت زیادہ ہے۔

    ‎پاکستان میں بارشیں سال کے صرف تین مہینوں میں ہوجاتی ہیں جب کہ ہماری فصلوں کو سارا سال پانی چاہئے ہوتا ہے۔ ڈیمانڈ اور سپلائی کے فرق کو صرف اسٹوریج سے ہی پورا کیا جا سکتا ہے لہذا پاکستان جیسے زرعی ملک کے لئے تو ڈیم زندگی اور موت کا مسئلہ ہیں۔

    ‎یونیورسٹی آف ٹوکیو جاپان کے پروفیسرز نے حال ہی میں دنیا بھر کے ڈیموں کے اوپر اپنی
    ‎طرز کی سب سے پہلی کی جانے والی ریسرچ (لنک کمنٹ میں) سے یہ ثابت کیا ہے کہ ڈیم نہ صرف سیلاب کو روکتے ہیں بلکہ ڈیم عالمی موسمیاتی تبدیلی کے اثر کو بڑی حد تک کم کرنے میں مدد کرتے ہیں ۔

    ‎دریاوں کے علاوہ پہاڑی سیلابی نالوں سے آنے والے بڑے سیلابی ریلوں کو بھی بڑی تعداد میں ڈیم بنا کر سیلاب سے بچا جا سکتا ہے جس کا واضح ثبوت اس سال کے سیلاب میں ڈیرہ اسماعیل خان کے شہر کا گومل زم ڈیم بننے کی وجہ سے بچ جانا ہے حالانکہ ڈیرہ کے شمال میں میانوالی ٹانک اور ڈیرہ کے جنوب میں تونسہ میں پہاڑی سیلابی نالوں پر ڈیم نہ بننے سے بہت تباہی ہوئی ہے۔

    ‎بلوچستان میں ہونے والی بارشوں کے پانی کا حجم بھی کم از کم 20 ملین ایکڑ فٹ ہوتا ہے جب وہاں اب تک تعمیر کئے گئے ڈیموں کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف1.5 ملئین ایکڑ فٹ ہے اور بقیہ 18.5 ملئین ایکڑ فٹ پانی سیلابی ریلوں کی صورت تباہی مچاتا ہے۔

    ‎پاکستان میں بھی ایسی مناسب جگہیں ہیں جہاں دنیا کے سب سے بڑے ڈیم تھری گور جز سے بھی بڑا ڈیم بن سکتا ہیں لیکن ایسے مواقع کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔عالمی فنڈنگ ادارے بھی ایسے منصوبوں کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں جب کہ ہمارے پڑوس میں وہ ایسے منصوبوں کی مکمل سرپرستی کرتے ہیں۔

    ‎تو جناب سوال یہ نہیں کہ کیا ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟
    ‎بلکہ
    ‎ اصل سوال یہ ہے کہ سیلاب کو روکنے کے لئے ہم کثیر تعداد میں ڈیم کیوں نہیں بناتے؟ وہ کون لوگ ہیں جو پانی کی کمی پیدا کرکے ہمارے زرعی معیشت کی کمر توڑناچاہتے ہیں۔