لاہور:پاکستان میں غذائی اجناس کی کمی نہیں ، بحران کی وجہ شاہرات کا بند ہونا ہے ،اطلاعات کے مطابق مرکزی صدر پاکستان ٹرانسپورٹ کونسل تنویر احمد جٹ کا کہنا ہےکہ اس وقت غذائی اجناس سے بھری 25 ہزار مال بردارگاڑیاں 5 دن سے سڑکیں بند ہونے سے پھنسی ہوئی ہیں۔
پاکستان میں غذائی اجناس کے بحران کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے ایک بیان میں تنویر احمد جٹ کا کہنا تھا کہ 25 ہزار مال بردار گاڑیوں میں کھانے پینےکی چیزیں بھری ہیں، مال بردارگاڑیاں پھنسنے سے غذائی اجناس کی قلت ہو رہی ہے اور قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ورنہ کوئی کمی نہیں ہے
تنویر احمد جٹ کا کہنا تھا کہ سکرنڈ، نوشہروفیروز، کنڈیارو، بھریا اور خیرپور میں مال بردار گاڑیوں کو لوٹا بھی گیا ہے، ڈرائیورزپر تشدد اور فائرنگ کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ انتظامیہ، پٹرولنگ پولیس اور موٹروے پولیس تحفظ دینے میں ناکام ہے، ان حالات میں کاروبار بنداور گاڑیاں کھڑی کرنے پر مجبور نہ کیا جائے، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل ہےکہ ڈرائیورز اور گاڑیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت بھی اس معاملے پرلچک دکھانے کے موڈ میں نہیں ہے ، جس کی وجہ سے قحط کی صورت بھی بن سکتی ہے اور قیمتوں کے بڑھ جانے سے مہنگائی میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے ،
کوئٹہ:وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع میں گندم اور آٹے کی قلت اور زائد نرخوں پر فروخت کا نوٹس لے لیا۔
وزیراعلیٰ نے محکمہ خوراک کو صورتحال کی بہتری کے لیۓ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو زخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا حکم دیا ہے۔
عبدالقدوس بزنجو نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ستمبر کے کوٹے کی گندم فوری طور پر آٹاملوں کو جاری کی جائے۔
وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے متعلقہ حکام کو ہداہت کی ہے کہ گندم اور آٹے پر عائد بین الصوبائی پابندی کے خاتمے کے لیے بھی دیگر صوبوں سے بات کی جائے۔
اس سے پہلے وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ صوبے کا دیگر صوبوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا جسکی سے وجہ نہ صرف آمد و رفت بلکہ سامان کی ترسیل اور امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔
وزیراعظم کے ہمراہ پنجرہ پل کی بحالی کےحوالےدی جانے والی بریفنگ کے بعد عبدالقدوس بزنجو نے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب سے بلوچستان میں قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے پنجرہ پل کی بحالی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی، چیئرمین این ایچ اے کیپٹن (ر) محمد خرم آغا اور انکی ٹیم کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مواصلات کی سہولتوں کی بحالی کے لئے وزیراعظم کی خصوصی دلچسپی ہمارے لئے باعث حوصلہ ہے اور امید ہے کہ دیگر متاثرہ شاہراہوں کی بھی جلد بحالی کے لئے این ایچ اے اپنا کردار بھرپور طور پر ادا کریگی۔
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ صوبے کا دیگر صوبوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا جسکی سے وجہ نہ صرف آمد و رفت بلکہ سامان کی ترسیل اور امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔
وزیراعظم کے ہمراہ پنجرہ پل کی بحالی کےحوالےدی جانے والی بریفنگ کے بعد عبدالقدوس بزنجو نے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب سے بلوچستان میں قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے پنجرہ پل کی بحالی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ذاتی دلچسپی، چیئرمین این ایچ اے کیپٹن (ر) محمد خرم آغا اور انکی ٹیم کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مواصلات کی سہولتوں کی بحالی کے لئے وزیراعظم کی خصوصی دلچسپی ہمارے لئے باعث حوصلہ ہے اور امید ہے کہ دیگر متاثرہ شاہراہوں کی بھی جلد بحالی کے لئے این ایچ اے اپنا کردار بھرپور طور پر ادا کریگی۔
یاد رہے کہ ایک طرف بلوچستان کی تازہ ترین صورتحال سے متعلق وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجونے بلوچستان کی ملک کے دیگرصوبوں سے زمینی رابطے کی منقطع ہونے کی خبردی اس سےقبل وزیراعظم شہبازشریف بلوچستان میں پل تعمیر کرنے والوں کوانعام دے چکےہیں
اس موقع پر وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ شاہراہوں اور ریلوے ٹریک کا مجموعی طور پر جائزہ لے چکے ہیں۔ شاہراہوں، پُلوں اور ریلوے ٹریکس کی بحالی اور مرمت کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔
وزیراعظم نے این ایچ اے ،این ڈی ایم اے ،پی ڈی ایم اے اور دوسری تمام ایجنسیوں کو سلیوٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کا عزم قابل ستائش ہے، وہ قوم کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔ اس موقع پر مزدوروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے 50لاکھ روپے انعام کا کا اعلان بھی کیا۔
کوئٹہ:وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے بی بی نانی پل کی بحال کے کاموں میں مصروف مزدوروں کیلئے 50 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔
بلوچستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کے موقع پر وزیراعظم میاں شہباز شریف کی جانب سے بی بی نانی پل کی بحالی میں مصروف عمل تمام مزدوروں کو انعام کے طور پر 50 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔
دورے کے موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں شاہراہوں ، پلوں اور ریلوے ٹریکس کی مرمت کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔
بلوچستان کے ضلع کچھی (بولان ) میں بی بی نانی کے مقام پر سیلاب سے متاثرہ پنجرہ پل کے دورے پر نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کی جانب سے وزیراعظم کو بریفنگ بھی دی گئی۔
حکام نے وزیراعظم کو بتایا کہ سڑکوں پُلوں اور ریلوے ٹریکس کی مرمت کا کام جاری ہے۔ پنجرہ پل ،بی بی نانی اور ملحقہ علاقوں کی ایک سو چھ کلو میٹر سڑک بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ علاقے میں بحالی کے کام کیلئے تمام ادارے مل کر انفرا اسٹرکچر کی تعمیر پر تخمینے کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ سڑکوں اور پُلوں پر جاری کام کے ساتھ ساتھ ٹریفک کی روانی رواں رکھی جائے۔
بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں شاہراہوں، ریلوے ٹریکس کی بحالی اور انفراسٹرکچر پر پنجرہ پل پر بریفنگ لیتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب سے ہونے والے بڑے پیمانے پر ملک بھر میں تباہی ہوئی ہے۔ ایسے موقع پر پوری قوم متحد ہے، ہم سب کو مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ شاہراہوں اور ریلوے ٹریک کا مجموعی طور پر جائزہ لے چکے ہیں۔ شاہراہوں، پُلوں اور ریلوے ٹریکس کی بحالی اور مرمت کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔
وزیراعظم نے این ایچ اے ،این ڈی ایم اے ،پی ڈی ایم اے اور دوسری تمام ایجنسیوں کو سلیوٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کا عزم قابل ستائش ہے، وہ قوم کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔ اس موقع پر مزدوروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے 50لاکھ روپے انعام کا کا اعلان بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ بی بی نانی پل حالیہ بارشوں اور سیلاب میں بہہ گیا تھا، پل بہہ جانے سے سکھر سے کوئٹہ تک ٹریفک بند ہوگئی تھی، پل کے دونوں اطراف 6 ہزار سے زائد افراد پھنسے ہوئے تھے۔ 8 گھنٹے میں اس پل کو بحال کیا گیا، جو ان کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ چند دنوں بعد میں ایک بار پھر فضائی جائزہ لوں گا اور امید ہے تمام امور احسن انداز سے مکمل ہوں گے۔ شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب کی تباہی سے سب سے زیادہ بچے متاثر ہو رہے ہیں اور بدقسمتی سے 400 بچے جاں بحق ہوئے جو مجموعی ہلاکتوں کی ایک تہائی تعداد بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیسیف اور دیگر عالمی اداروں سے بچوں کی جان بچانے کے لیے امداد کی اپیل کرتا ہوں۔
راولپنڈی:پاکستان آرمی کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے متاثرین سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کر دکھایا۔ پاکستان آرمی کی انجینیر کور نے بحرین پل کو آمدو رفت کیلئے بحال کردیا ہے۔
پاک فوج کے میڈیا ونگ کے مطابق سوات، بحرین ، مدین اور خوازہ خیلہ کے لوگوں بحرین پل بحال کرتے ہوئے ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے، جس پر مقامی افراد کی خوشی دیدنی ہے۔
پشاور کور آرمی انجینیرز نے دن رات کام کر کے پل مکمل کیا۔ پل پر ٹریفک کی بحالی پر لوگوں نے پاک فوج کے حق میں نعرے بھی لگائے۔
واضح رہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے بعد پل بند ہونے سے مقامی آبادی کا رابطہ دیگر علاقوں سے کٹ گیا تھا۔ آرمی چیف نے 30 اگست کو دورے میں روڈ بحالی کا اعلان کیا تھا۔
دوسری طرف سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک بحریہ کا امدادی آپریشن جاری ہے، اس دوران دادو میں لوگوں کے انخلاء کیلئے 2 ہوور کرافٹس بھی سرگرم عمل ہیں۔
ترجمان پاک بحریہ کے مطابق خیرپور ناتھن شاہ کے گوٹھ احمد خان چانڈیو سے 23 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ راجن پور، ڈیرہ اسماعیل خان، میرپور خاص، سکھر، سانگھڑ اور سجاول میں بھی آپریشن جاری ہے۔
پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹر اور کشتیاں بھی لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچا رہی ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرین کو راشن، طبی امداد اور ادویات بھی دے رہی ہیں۔
پاکستان نیوی کی ڈائیونگ اور ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیوں کا کے پی اور سندھ کے مختلف علاقوں سمیت ملک بھر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔
پاک بحریہ کی امدادی ٹیمیں ہوائی اثاثے، موٹرائزڈ کشتیاں اور جان بچانے والے سازوسامان کے ساتھ ہر طرح کی مدد فراہم کر رہی ہیں اور دور دراز علاقوں میں لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔
امدادی کارروائیوں کے تسلسل کے دوران دادو کے علاقے گوزو سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے 75 افراد کو بچا لیا گیا۔ زہرو گوٹھ میں سیلابی پانی میں پھنسے دیگر 60 افراد کو بھی بحفاظت نکال لیا گیا۔ لدھن گاؤں اور دادو کے دیگر چار علاقوں سے 50 سے زائد افراد کو بچا کر اونچے اور محفوظ علاقوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
پاک فوج اور ایف سی کی جانب سے سیلاب متاثرین کی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔پاک فوج کے زیر اہتمام نصر آباد کے علاقے اوستہ محمد میں خیمہ بستی قائم کر دی گئی، جہاں سیلاب متاثرین کو راشن سمیت دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جب کہ فرنٹیئر کور بلوچستان نارتھ چمن اسکاوٹس کی طرف سے سیلاب سے زیادہ متاثر ہونے والے
علاقے توبہ اچکزئی دوبندی میں سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے کیمپ لگایا گیا ہے۔ جہاں 534 مریضوں کے مفت معائنہ سمیت انہیں طبی امداد جب کہ 125 مستحق خاندانوں کو راشن پیک ، 75 کمبل اور 90 پانی کے کین تقسیم کئے گئے۔
قبل ازیں کمانڈنٹ چمن اسکاوٹس کرنل غفار حیدر نے کیمپ کا دورہ کیا اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور سیلاب متاثرین میں راشن اور ضرورت کی اشیاء تقسیم کی۔ کمانڈنٹ اسکاوٹس نے مقامی لوگوں سے بات چیت کی اور ضرورت کی اس گھڑی میں سیلاب سے متاثرہ بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
انہوں نے لوگوں کو یقین دلایا کہ ہر مشکل گھڑی میں ایف سی اور آرمی آپ لوگوں کے ساتھ ہے۔ مقامی لوگوں نے امدادی سرگرمیوں کے انعقاد پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا ایف سی کا شکریہ ادا کیا۔
پاک فضائیہ کا خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔ ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں مزید تیز کردی گئی ہیں۔ پاک فضائیہ امدادی کارروائیوں کے لیئے ہر ممکنہ حد تک وسائل وقف کر رہی ہے۔
ترجمان پاک فضائیہ نے یہ بھی بتایا کہ پاک فضائیہ کے اہلکار سیلاب متاثرین کی بحالی کے عمل میں سول انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کررہے ہیں۔
اس دوران مختلف علاقوں میں راشن، ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ مہیا کرنے کیلئے ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی آپریشن جاری ہے، جب کہ پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1853 خشک راشن کے پیکٹ، 1960 پانی کی بوتلیں اور 11860 پکے ہوئے کھانے کے پیکٹ تقسیم کیئے۔
دوسری جانب فیلڈ میڈیکل کیمپوں میں پاک فضائیہ کی میڈیکل ٹیموں نے 3644 مریضوں کا طبی معائنہ کیا۔
لاہور:بھارت کے معروف کرکٹرہربھجن سنگھ مولانا طارق جمیل سے بہت متاثرتھے ،اوریہی وجہ ہےکہ وہ اسلام قبول کرنے کا اظہارکرچکے تھے، اس سلسلے میں پاکستان کے سابق کپتان انضمام الحق کی سابق بھارتی اسپنر ہربھجن سنگھ کے نامور مبلغ اسلام مولانا طارق جمیل سے متاثر ہوکر اسلام قبو ل کرنے سے متعلق کیے گئے انکشاف کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وائرل ویڈیو کسی نجی پروگرام کی ہے جس میں سابق چیف سلیکٹر کو بھارتی ٹیم کے دورہ پاکستان کے حوالے سے گفتگو کرتے سنا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں انھیں مولانا طارق جمیل کے قومی ٹیم کو مغرب کی نماز پڑھانے اور بھارتی کھلاڑیوں کے اس تجربے میں شامل ہونے سے متعلق گفتگو کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
"Harbhajan Singh almost converted to Islam under influence of Pak Mullah Tariq Jameel"
انضمام الحق کا کہنا تھا کہ مولانا طارق جمیل ہر روز ہمارے پاس آتے تھے اور ہم نے ایک کمرہ بنا کر رکھا تھا جہاں ہم روز نماز پڑھا کرتے تھے تو مولانا مغرب کی نماز پڑھا کر تھوڑی دیر کھلاڑیوں سے بات کیا کرتے تھے۔
سابق کپتان پاکستان کرکٹ ٹیم کے مطابق ’ میں دیکھ رہا تھا کہ کچھ بھارتی کھلاڑی عرفان پٹھان، محمد کیف اور ظہیر خان نماز کی دعوت پر ہمارے ساتھ شامل ہو جاتے تھے لیکن اس کے علاوہ بھی چند کھلاڑی ایسے تھے جو نماز نہیں پڑھتے تھے اور بیٹھ کر صرف مولانا طارق جمیل کی باتیں سنتے تھے۔
انضمام الحق کا کہنا تھا ایک دن مجھ سے ہربھجن نے کہا کہ’ یہ جو آدمی ہیں نا میرا دل کرتا ہے میں ان کی بات مان لوں، اگرچہ ہربھجن کو مولانا طارق جمیل کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں لیکن ان کا دل کرتا تھا کہ وہ ان کی بات مان لیں تو میں نے بھارتی اسپنر سے کہا کہ مان لیں کیا مشکل ہے، جس پر ہر بھجن نے کہا کہ تمہیں دیکھ کر رک جاتا ہوں کیونکہ تمھاری زندگی اس طرح کی نہیں ہے۔
سابق چیف سلیکٹر قومی ٹیم نے مجمع میں موجود لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اسلام کو قبول کرنا چاہتے ہیں لیکن دین سے دوری ہمارے لوگوں کی وجہ سے ہے۔
سہون شریف :منچھر جھيل ميں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی ہے، جس کے بعد حفاظتی بند کسی بھی وقت ٹوٹنے کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ وزيراعلیٰ سندھ کا آبائی گاؤں بجارا بھی پانی میں ڈوب گیا، جب کہ سیہون بھی خطرے میں پڑ گیا ہے،جہاں شہر کو بچانے کیلئے منچھر جھیل میں کٹ دے دیا گیا ہے۔ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ اس کٹ سے 5 یوسیز بری طرح متاثر ہوں گی۔
انتظامیہ نےعلاقہ خالی کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ سیہون میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا آبائی گاؤں میں پانی میں ڈوب گیا ہے۔ جس کے بعد سیہون کو سیلاب سے بچانے کے لئے منچھر جھیل میں کٹ لگا دیا گیا۔ آرڈی چودہ کے مقام پر کٹ لگایا گیا ہے۔
ذرائع محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ دادو اور دیگر شہروں کو بھی نقصان سے بچا لیا ہے۔ تین یونین کؤنسلر کے درجنوں دیہات رات گئے خالی کرالیے گیے تھے۔
سیلاب متاثرین کا کہنا ہے کہ گاؤں بجارا میں اب تک امداد نہیں پہنچی۔ زمینی حقائق کی بات کی جائے تو متاثرين کے پاس نہ راشن ہے اور نہ رہنے کے ليے ٹينٹ ہیں۔ علاقے میں چاروں طرف پانی، مگر بجارا واسی گھر چھوڑنے کو تیار نہیں۔ کشتی کی مدد سے سما کی ٹیم جب بجارا گاؤں پہنچی تو ہر طرف تباہی تھی۔ گھر برباد تو مویشی ہلاک تھے۔ جس گاؤں کو سیلابی پانی نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے وہاں امداد کا ایک دانہ تک نہیں پہنچایا جاسکا۔ مقامی رہائشی شاہنواز کی سات سال کی بیٹی سیلاب کی نذر ہوگئی۔
ڈپٹی کمشنر کا کہناتھا کہ منچھر جھیل کی صورت حال انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے،آر ڈی 54 سے آر ڈی 58 تک منچھر جھیل کے بندپر دباؤ ہے،عوام سے انخلا اور حفاظتی اقدامات کی اپیل ہے۔ ڈپٹی کمشنر جامشورو فریدالدین مصطفی نے کہاکہ یونین کونسل واہڑ، یونین کونسل بوبک، یونین کونسل جعفرآباد، یونین کونسل چنا، یونین کونسل آراضی کی عوام کوعلاقہ خالی کرنے کی اپیل ہے،ان کا کہناتھا کہ منچھر جھیل کا بند کسی بھی وقت ٹوٹنے کا خدشہ ہے، اس لئے عوام سے انخلا کی اپیل ہے۔
جامشورو میں یوسی چنا، یوسی بوبک، یوسی واہڑ اور یوسی جعفرآباد 60 فیصد خالی کرالیے گئے ہیں، جب کہ 40 فیصد آبادی نقل مکانی میں مصروف ہے۔
دادو
دریائے سندھ میں سیلاب سے متاثرہ افراد نے سڑک کنارے ڈیرے ڈال لیے۔ دادو کا یوسف نائچ گوٹھ مکمل طور پر ڈوبا ہوا ہے, جہاں کے مکین نقل مکانی کرکے اپنے مویشیوں کے ساتھ سڑک کنارے موجود ہیں۔
مٹیاری
مٹیاری کےعلاقے سعیدآباد بھٹ شاہ میں قومی شاہراہ پرکیمپسں تو لگادیئے گئے لیکن سیلاب متاثرین کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہیں۔ ٹریفک کے باعث خواتین اور بچے خوفزدہ ہیں۔ سیلاب سے متاثر ہزاروں کی تعداد میں افراد قومی شاہراہ پر قائم کیمپسں میں موجود ہیں۔ جس میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
سکھر میں بیماریاں
سکھرمیں بارش کی تباہ کاریوں کے بعد تمام علاقوں میں گیسٹرو ، ملیریا، ڈائریا سمیت مختلف بیماریاں پھوٹ پڑی ہیں۔ سکھر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے شہر میں میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا ہے، جہاں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹر انعم شیخ کے مطابق ان کیمپس میں سیلاب زدگان کا علاج مفت کیا جارہا ہے، گیسٹرو، ڈائریا، ملیریا اور جلد کی بیماریوں سے متاثرین کو نقصان پہنچا ہے۔
ٹنڈو الہٰ یار
ٹنڈوالہ یار کے دیہی علاقے ميں سیلاب سے متاثرہ گھروں میں ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ متاثرین سامان اٹھائے خشکی کی تلاش میں ہیں۔ سیلاب زدگان کا کہنا ہے کہ کھانا پانی کچھ بھی نہیں ملا۔ بلکہ لوگ بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
فلڈ وارننگ سینٹرکے مطابق سکھر بیراج پر بھی پانی کی سطح گرنا شروع ہوگئی ہے۔ اور یہاں پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 45 ہزار کیوسک پر آ گیا، اور آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید کمی کا امکان ہے۔ دوسری جانب فلڈ وارننگ سینٹر نے بتایا ہے کہ کوٹری بیراج پر 12 سال بعد 5 لاکھ 86 ہزارکیوسک کا بڑاریلا پہنچ گیا ہے، اور پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
شانگلہ:سوات بورڈ کو پشاور منتقل کرنا ہر گز منظور نہیں:مراد علی يوسفزې جو کہ صدر ہیں پاکستان تحریک نظام شانگلہ کے، ان کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کریں گے ،
مراد علی یوسفزئی صدر پاکستان تحریک نظام شانگلہ کہتے ہیں کہ سوات بورڈ کوپشاور منتقل کرنے کا عمل درست نہیں ، اس سے پشاور سے دور سوات ، شانگلہ اور دیگرمضافات کے طلبا کے لیے جانا بہت مشکل ہے ، سچ تو یہ ہے کہ اس علاقے کے طلباء اپنے ایک سرٹفکیٹ یا DMC کے لیے پشاور نہیں جاسکتے۔
مراد علی یوسفزئی کہتے ہیں کہ ان حالات کے تناظر میں اسلئے ھم صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ واپس لیا جائے۔مراد علی یوسفزئی کہتے ہیں کہ سوات شانگلہ اور بونیر کے تمام لیڈرشپ سے اس بارے ہر ممکن کوشش کی درخواست کی جاتی ہے کہ خدارا ہمارے ساتھ دیجھے۔
مراد علی یوسفزئی کا کہنا ہے کہ یہ فقط ان کا مطالبہ نہیں بلکہ سوات ، شانگلہ اوردیگرمضافات کے طالب علموں ، سوشل ورکز اوردیگرسیاسی اورسماجی تنظیموں کا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ سوات کے طالب علموں کو سوات میں ہی اس قسم کے اتنظامی معاملات حل کرنے کی سہولت دی جائے تاکہ ان کا وقت ، پیسہ اور انرجی ضائع نہ ہو
ملتان : جہانگیرترین کا سیلاب متاثرین کیلئے10کروڑ کی امداد کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق سابق وفاقی وزیر جہانگیر ترین کی جانب سے ملک بھر میں سیلاب متاثرین کیلئے دس کروڑ کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے مشترکا قومی کاوش کی ضرورت ہے۔
معروف سیاسی رہنما اور سابق وفاقی وزیر جہانگیر ترین کی جانب سے اتوار 4 ستمبر کو سیلاب متاثرین کیلئے 10کروڑ کی امداد کا اعلان کیا گیا۔دی جانے والی امدادی سامان میں راشن، خیمے، ترپالیں، مچھر دانیاں، خواتین کے حفظان صحت کا سامان اور نقدی شامل ہیں۔اس موقع پر انہوں نے صاحب حیثیت افراد سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے کاروباری اور مخیر حضرات سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے آگے بڑھیں۔
جہانگیر ترین کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے مشترکا قومی کاوش کی ضرورت ہے، مصیبت کی اس گھڑی میں ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ تمام امدادی سامان، رقم جہانگیر ترین کے اداروں کے ذریعے سیلاب متاثرین تک پہنچائی جائے گی،
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی جہانگیر خان ترین نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کو سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے 1 کروڑ روپے دے چکے ہیں ۔ تحریک انصاف کے منحرف رہنما اور عمران خان کے قریبی دوست جہانگیر ترین نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کو سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کے لیے ایک کروڑ روپے امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مزید تعاون کی پیشکش کی بھی کی تھی جواس اعلان کے ساتھ پوری ہوگئی
24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 26 افراد جاں بحق اور11 زخمی ہو گئے.
این ایف آر سی سی کے مطابق 14 جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد 1290 ہو گئی،جاں بحق ہونے والوں میں 570 مرد،259 خواتین اور 453 بچے شامل ہیں،مختلف حادثات میں 12588 افراد زخمی بھی ہوئے،24 جون سے اب تک بلوچستان میں ایم 8 موٹروے پر وانگو ہلز کے 24 کلومیٹر سیکشن پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی،خیبر پختونخوا میں قومی شاہراہ این 50 ساگو پل کے سوا ٹریفک کے لئے کھلی ہے.
این ایف آر سی سی کے اعداد وشمار کے مطابق ساگو پل کو ملانے کے لئے دونوں جانب سے کام جاری ہے،قومی شاہراہ مدین این 95 بحرین اور لائیکوٹ کے درمیان بلاک ہے،سندھ میں قومی شاہراہ این 55 میہر جوہی نہر سے خیرپور ناتھن شاہ تک ڈوبی ہونے کے باعث بند ہے.
.سیلاب اور بارشوں کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں ریلوے نیٹ ورک بھی متاثر ہوا ہے،بلوچستان میں کوئٹہ تافتان اور کوئٹہ سبی اور سبی سے حبیب کوٹ تک ریلوے ٹریک بند ہے.پنجاب اور سندھ کے درمیان حیدرآباد سے روہڑی اور ملتان تک ریلوے ٹریفک متاثرہوا ہے.سندھ میں کوٹری سے لکھی شاہ اور دادو تک ریلوے لائن متاثرہے.
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے سروے کے لئے 29 ٹیمز مصروف عمل ہیں،ٹیمز کوئٹہ، پشین،لورالائی، دکی،سوراب،جعفر آباد، صحبت پور،آواران اور لسبیلہ میں ٹیمز سروے کر رہی ہیں،لسبیلہ، گوادر، قلعہ سیف اللہ، واشک، کوہلو،موسی خیل،زیارت،قلعہ عبداللہ، خضدار اور نصیر آباد میں سروے جاری ہیں.کچھی،سبی،ڈیرہ بگٹی، شیرانی،ژوب،خاران، قلات،مستونگ اور چمن میں بھی سروے کیا جارہاہے،
این ایف آر سی سی نے قدرتی آفت سے متاثرہ اضلاع کی تفصیلات جاری کر دیں ،تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر میں کوئی ضلع قدرتی آفت سے متاثر نہیں ہوا،بلوچستان میں 31،گلگت بلتستان میں 6 اور خیبر پختونخوا میں 17 اضلاع متاثرہوئے، پنجاب میں 3 اور سندھ میں 23 اضلاع قدرتی آفت سے متاثرہ قرار دیئے گئے ہیں.ملک بھر میں 80 اضلاع بارشوں اور سیلاب کی شکل میں قدرتی آفت سے متاثر ہوئے، آزاد کشمیر میں 53 ہزار 700،بلوچستان میں 91 لاکھ 82 ہزار 616 شہری متاثر ہوئے.
این ایف آر سی سی کے مطابق خیبرپختونخوا میں 43 لاکھ، 50 490،گلگت بلتستان میں 51 ہزار 500 شہری متاثر ہوئے، پنجاب میں 48 لاکھ 44 ہزار 253 اور سندھ میں 1 کروڑ 45 لاکھ 63 ہزار 770 شہری متاثر ہوئے، جبکہ ملک بھر میں 3 کروڑ 30 لاکھ 46 ہزار 329 شہری بارشوں اور سیلاب سے متاثرہوئے ہیں.