Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • پنجاب میں 5 ستمبر تک بارشوں کا امکان ،سیلاب کی شدت میں اضافے کا خدشہ

    پنجاب میں 5 ستمبر تک بارشوں کا امکان ،سیلاب کی شدت میں اضافے کا خدشہ

    پنجاب کے مختلف اضلاع میں 5 ستمبر تک بارشوں کا امکان ہے جس کے باعث دریاؤں میں سیلاب کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات نے اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کی پیشگوئی کر دی،محکمہ موسمیات کے مطابق شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر میں بیشتر مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ کہیں کہیں تیز/موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے،خیبر پختونخوا، خطہ پو ٹھو ہار، جنوبی پنجاب اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پرتیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ہے۔

    اسلام آباد اور گرد و نواح میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، مری، گلیات اورگرد و نواح میں موسلادھار بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے،راولپنڈی، سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ، گجرات، جہلم، لاہور، منڈی بہاؤ الدین، قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، حافظ آباد، اٹک، چکوال، خوشاب، فیصل آباد، جھنگ، بھکر، میانوالی، بہاولنگر، رحیم یار خان، ساہیوال، تونسہ، کوٹ ادو، راجن پور، بہاولپور، لیہ، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    پشاور، دیر، سوات، چترال، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، صوابی، بونیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، خیبر، مہمند، کرم، باجوڑ، اورکزئی، ٹانک، لکی مروت، کوہاٹ، ہنگو، کرک، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور وزیرستان میں بارش کی توقع ہے،ژوب، موسی ٰخیل، بار کھان اور گرد و نواح میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے، سکھر، گھوٹکی اورکشمور میں گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر بارش کی توقع ہے،گلگت بلتستا ن میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ آزاد کشمیر میں بیشتر مقامات پر گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ ہیڈ ورکس میں پانی کی سطح 4 لاکھ 68 ہزار کیوسک تک جا پہنچی جبکہ خانکی ہیڈ ورکس میں پانی 339470 کیوسک اور قادر آباد ہیڈ ورکس میں پانی 232450 کیوسک پہنچ گیااسی طرح، چنیوٹ پل پر پانی کی سطح 108343 کیوسک وار تریموں ہیڈ ورکس میں 355744 کیوسک ہے۔

    دریائے راوی میں جسر کے مقام پر پانی 71010 کیوسک، سائفن پر 54190 کیوسک، شاہدرہ کے مقام پر 53630 کیوسک، بلوکی ہیڈ ورکس پر 117655 کیوسک اور سدھنائی ہیڈ ورکس پر 193470 کیوسک تک پہنچ گیا،دریائے ستلج میں جی ایس والا پر پانی 269501 کیوسک، سلیمانکی ہیڈ ورکس پر 122736 کیوسک، اسلام ہیڈ ورکس پر 95727 کیوسک اور پنجند ہیڈ ورکس پر 182107 کیوسک پہنچ گیا۔

    سندھ میں بھی سیلاب سے بچاؤ کے لیے ممکنہ اقدامات کا سلسلہ کیا جا رہا ہےحیدرآباد کے مقام پر دریائےسندھ کے حفاظتی بندکے قریب رہائش پذیر خاندانوں کو ہٹانے کے لیے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔میگا فون سے کیے جانے والے اعلانات میں حفاظتی بندکے قریب رہائشی افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔

    ڈپٹی کمشنرکی ہدایت پر دریائے سندھ کےقریب آبادی کو پہلے ہی محفوظ مقام پرمنتقل کرنےکاعمل جاری ہےترجمان سندھ حکومت سیدہ تحسین عابدی نے اس حوالے سے بتایا کہ دریاؤں کے کنارے بسنے والے علاقوں کو خالی کرانے کا عمل جاری ہے، لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، حکومت مقامی افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہی ہے۔

    ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ سیلابی صورتحال میں عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، مانیٹرنگ سیل کا عملہ الرٹ اور انتظامات پہلے سے زیادہ بہتر ہیں،مرکزی کنٹرول روم میں متعلقہ حکام 24 گھنٹے موجود ہیں، عملہ ضلعی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہے، 102 کمزور مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی، محکمہِ آبپاشی نے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا، صورتحال بہتر ہے،کمزور مقامات کی مسلسل نگرانی کا عمل جاری ہے،محکمہ صحت کی جانب سے 92 کیمپس قائم کیے گئے، کتے کے کاٹے اور سانپ کے ڈسنے کی ویکسینز بھی وافر مقدار میں موجود ہیں، مویشیوں کی حفاظت کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں، محکمہ لائیوسٹاک کی جانب سے 300 کیمپس قائم کر دیئے گئے ہیں۔

    وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد 12 سے 13 لاکھ کیوسک پانی گڈو بیراج تک پہنچے گا، 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی سکھر اور کوٹری بیراج سے بغیر کسی نقصان کے گزر چکا ہے۔

    دوسری جانب میئر سکھر و ترجمان سندھ حکومت ارسلان اسلام شیخ نے کشتی پر دریائے سندھ میں سیلاب کا جائزہ لیا، میئر سکھر کا کہنا تھا کہ 4 ستمر کو بڑا ریلا سندھ میں داخل ہوگا جس کی تیاریاں کر رکھی ہے، سندھ کے کسی بیراج کو سیلابی صورت حال سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

  • سیلاب جنوبی پنجاب میں داخل

    سیلاب جنوبی پنجاب میں داخل

    سیلاب جنوبی پنجاب میں داخل ہوگیا، ملتان میں دریائے چناب کا بڑا آبی ریلا ہیڈ محمد والا سے گزر رہا ہے، پانی متعدد بستیوں میں داخل ہونے کے بعد ریسکیو ٹیموں کی جانب سے متاثرہ بستیوں سے لوگوں کو محفوط مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔

    ملتان میں دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہوگئی، اکبر فلڈ بند کے قریب پولیس نے بیریئر لگاکر ہیڈ محمد والا روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے، ہیڈ محمد والا پر 4 لاکھ 90 ہزار کیوسک کا ریلا پہنچ گیا، آج ملتان میں 8 لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا گزرے گا، پانی زیادہ ہونے کی صورت میں بند پر شگاف ڈالا جائے گا، جس کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں۔

    ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب فواد ہاشم ربانی نے مظفرگڑھ کا ہنگامی دورہ کیا، اور دریائے چناب کے کنارے دوآبہ کے مقام پر ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کا جائزہ لیا، انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی انتظامیہ اور عوام کو سیلاب کے چیلنج کا سامنا ہے، ہماری اولین ترجیح انسانی جان کو محفوظ بنانا ہے، ہم نے تدبر اور بہتر حکمت عملی سے اس چیلنج سے نمٹنا ہے، عوام خوفزدہ نہ ہوں لیکن الرٹ رہیں۔

    ٹک ٹاک انفلوئنسر خاندان سمیت قتل

    بہاولنگر میں دریائے ستلج میں آنے والے بڑے سیلابی ریلے سے چاویکا بہادر کا بند ٹوٹنے سے متعدد بستیاں پانی کی لپیٹ میں آگئیں۔۔مین شاہراہ میں پانی موجود ہونے سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہےچیچہ وطنی میں سیلاب سے متعدد دیہات زیر آب آنے کے بعد لوگوں کی مویشوں کے ہمراہ محفوظ مقامات پر نقل مکانی جاری ہے،جھنگ کے موضع پکے والا میں 45 سالہ خاتون سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئی۔

    ننکانہ صاحب میں دریائے راوی میں ہیڈبلوکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، سیلاب سے قریبی علاقے زیر آب آگئے ہیں، سیلاب متاثرین کا شکوہ ہے کہ انہیں ابھی تک کوئی امداد نہیں پہنچی،پنجاب میں سیلاب سے 24 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوچکے ہیں، جب کہ تقریباً 10 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے، سندھ سے اگلے 48 سے 72 گھنٹے بعد 13 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے۔

    سوڈان : لینڈ سلائیڈنگ سے پورا گاؤں تباہ ، صرف ایک شخص زندہ بچا

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق راوی، ستلج اور چناب دریاؤں میں شدید سیلاب کے باعث 24 لاکھ سے زائد افراد اور 3 ہزار 200 دیہات متاثر ہوئے ہیں،پی ایم ڈی نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران تمام بڑے دریاؤں کے بالائی علاقوں میں آندھی اور کہیں کہیں بارش کی پیشگوئی کی ہےان مقامات میں اسلام آباد، پشاور، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، راولپنڈی، سرگودھا، گوجرانوالہ، لاہور، ساہیوال، ملتان، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور ڈویژنز شامل ہیں،آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران فیصل آباد اور شمال مشرقی بلوچستان میں کہیں کہیں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔

    سندھ کے 3 بیراجوں پر بدستور نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہےسندھ حکومت کی جانب سے آج 8 لاکھ کا سیلابی ریلا آنے کی توقع کی جارہی ہے، ضلع کونسل سکھر کی جانب سے کچے میں پانی میں پھنسے کئی خاندانوں کو کشتیوں پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

    سندھ میں کوٹری بیراج کے مقام پر دریائے سندھ کے سیلابی ریلے سے 78 دیہات زیر آب آگئے، بے گھر لوگوں نے کشتتیوں پر محفوظ مقامات پر نقل مکانی شروع کردی،ٹھٹھہ میں سیلاب سے کچے کے متعدد گاؤں زیر آب آنے سے 100 سے زائد مکانات ڈوب گئے، سیلاب سے متاثرہ افراد اپنی مدد آپ کے تحت کیمپ لگانے میں مصروف دکھائی دیے۔

    گھوٹکی میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں اضافے سے کچے کے متعدد دیہات زیر آب ہیں، لوگوں کی کشتیوں پر محفوط مقامات پر نقل مکانی جاری ہے،سیہون میں بھی دریائے سندھ کے پانی نے کچے کے مختلف دیہات کو ڈبودیا ہےنوشہروفیروز میں دریائے سندھ میں مسلسل پانی کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے، دریائے سندھ کے حفاظتی پشت ایس ایم بچاؤ بند پر پانی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، متعدد دیہات زیر آنے کے بعد مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا۔

    وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد 12 سے 13 لاکھ کیوسک پانی گڈو بیراج تک پہنچے گا،5 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی سکھر اور کوٹری بیراج سے بغیر کسی نقصان کے گزر چکا ہے، 4 ستمر کو بڑا ریلا سندھ میں داخل ہوگا جس کی تیاریاں کر رکھی ہے، سندھ کے کسی بیراج کو سیلابی صورت حال سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

  • بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا

    بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا

    پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال برقرار ہے جبکہ بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا ہے جس کے باعث ہریکے اور فیروز پور پر اونچے درجے کا سیلاب آ سکتا ہے،جبکہ5 ستمبر تک راوی، ستلج اورچناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان سے رابطہ کرتے ہوئے وزارت آبی وسائل کو آگاہ کیا، بھارت نے سیلابی ریلے سے آج صبح 8 بجے آگاہ کیاگزشتہ روز بھی بھارت نے دریائے ستلج میں پانی کا بڑا ریلا چھوڑا تھاپی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے ستلج سے ملحقہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات کر دی، ہریکے زیریں اور فیروزپور زیریں میں اونچے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 53 ہزار کیوسک اور سلیمانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 24 ہزار کیوسک ہےدریائے چناب میں بڑا سیلابی ریلا جنوبی پنجاب کی طرف بڑھ رہا ہےمرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 96 ہزار کیوسک اور خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 20 ہزار کیوسک ہے قادر آباد کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 35 ہزار کیوسک ہےہیڈ تریموں کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 16 ہزار کیوسک ہے اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہےدریائے راوی جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ 54 ہزار کیوسک اور شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 60 ہزار کیوسک ہےبلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 37 ہزار کیوسک اور ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 7 ہزار کیوسک ہے۔

    دہشتگردی کے خلاف جنگ، چین کی پاکستان کی حمایت

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کا کہنا ہے کہ 5 ستمبر تک پنجاب کے دریاؤں راوی، ستلج اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریاؤں کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر تمام متعلقہ محکمے الرٹ ہیں، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب فلڈفورکاسٹنگ ڈویژن کا بتانا ہے کہ تربیلاڈیم 100 فیصد اور منگلاڈیم 83 فیصد بھرچکاہے، تربیلا ڈیم کا لیول 1549.78 فٹ جب کہ منگلاڈیم 1226.50 فٹ ہے۔

    بحرین ڈیفنس فورس کے چیف آف اسٹاف کا پاک فضائیہ ہیڈکوارٹرز کا دورہ

  • ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے،مراد علی شاہ

    ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے،مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے، ابھی سے ہم نے لوگوں کو ممکنہ متاثرہ علاقوں سے نکالنے کی حکمت عملی پر عمل شروع کر دیا ہے، یہی تیاری بطور انسان ہم کر سکتے ہیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمیں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سندھ میں 8 سے 11 لاکھ کیوسک پانی کی آمد متوقع ہے، 9 لاکھ کیوسک کا ریلا ہو تو ہم اسے ’سپر فلڈ‘ کے طور پر دیکھتے اور تیاری کرتے ہیں،ہم نے گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج اور بندوں کو محفوظ رکھنا ہے، 2010 کے سیلاب کے بعد ہم نے بندوں پر کافی کام کیا ہے، ساڑھے 5 لاکھ کیوسک پانی ہم ایک ہفتہ قبل گڈو بیراج سے گزار چکے ہیں، اس دوران کوئی ہنگامی صورت حال پیش نہیں آئی، تاہم ہم نے مسلسل مانیٹرنگ جاری رکھی ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کے حکام پراعتماد ہیں کہ اپ اسٹریم سے آنے والا پانی بیراجوں سے گزار لیں گے، تاہم دریا کے کنارے حفاظتی بندوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس سے مسائل آسکتے ہیں، محکمہ آبپاشی تعین کرتا ہے کہ کن مقامات پر بندوں کو مسائل درپیش ہیں،ایسے کمزور مقامات پر پتھر اور مٹی ڈال کر اسے مضبوط بنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے، گزشتہ روز میں نے گڈو اور سکھر بیراج کا دورہ کیا تھا، اس دوران کمزور بندوں کا معائنہ کیا، کمزور بند ڈھائی سے 3 لاکھ کیوسک ریلے کے دوران ٹوٹ جاتے تھے، لیکن اس بار 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی گزارنے کے بعد بھی یہ بند سلامت ہیں۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان سے پاکستان میں یونیسف کی کنٹری ریپریزنٹیٹو کی ملاقات

    انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج لوگوں اور مویشیوں کو بچانے کا ہے، ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے، ابھی سے ہم نے لوگوں کو ممکنہ متاثرہ علاقوں سے نکالنے کی حکمت عملی پر عمل شروع کر دیا ہے، یہی تیاری بطور انسان ہم کر سکتے ہیں، ہماری جانب سے مدد مانگنے پر پاک فوج نے اپنے 2 یونٹس کو تعینات کیا ہے، پاکستان نیوی نے بھی اپنی ٹیمیں بھیج دی ہیں، کل میری واپسی کے بعد ایک چینل نے خبر چلائی کہ وزیر اعلیٰ کے جانے کے بعد کیمپ ہٹا دیا گیا، حالانکہ وہ کیمپ صرف بریفنگ دینے کے لیے لگایا گیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ گھوٹکی میں کراچی سے زیادہ صحافی ہیں، جب میں دورہ کرنے کے لیے گیا تو وہاں صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی، اس کی گواہی شرجیل میمن بھی دیں گے، ہم نے ایک ویڈیو بنائی ہے جس میں کیمپ لگا ہوا ہے، جہاں ڈاکٹرز مریضوں کا معائنہ کر رہے ہیں، دوسری جانب ایک چینل پر خبر چلائی جارہی ہے کہ وزیر اعلیٰ کے جانے کے بعد کیمپ ہٹا دیا گیا، لیکن وہ ویڈیو میں نہیں دکھاؤں گا۔

    صنعا اور الحدیدہ میں اقوام متحدہ کے دفاتر پر چھاپہ،11 یو این اہلکارزیر حراست

    ان کا کہنا تھا کہ آج این ڈی ایم اے کی جانب سے 11 لاکھ کیوسک پانی کی آمد کی اطلاع ملنے کے بعد اب ہم اس حساب سے تیاری کر رہے ہیں، 3 اور 4 ستمبر کو ہم دیکھیں گے پنجند پر پانی کی آمد کے بعد گڈو پر کتنا پانی آئے گا، اس کے بعد 2 دن پانی کو سندھ تک پہنچنے میں لگیں گے6 ستمبر کو یوم دفاع ہے اور 12 ربیع الاول بھی ہے، دیکھیں اس دن کیا صورت حال بنتی ہے، 2014 میں ہم بڑا ریلا سندھ کے بیراجوں سے گزار چکے ہیں، ہم نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ، محکمہ صحت سمیت تمام متعلقہ اداروں کو فعال کر دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی حقیقت ہے، لیکن اس وقت ہمارا فوکس آئندہ 15 دن کو خیر و عافیت سے گزارنے پر مرکوز ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آفات سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسی بنانے کی ضرورت ہے ہم پنجاب کے لوگوں کے ساتھ ہر طرح سے کھڑے ہیں، انہیں جو بھی امداد درکار ہوگی، ہم کرنے کو تیار ہیں۔

    کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق ایک سوال پر مراد علی شاہ نے کہا کہ پنجاب میں سیلاب دریائے چناب، راوی اور ستلج میں آیا، یہ پانی کالا باغ تک نہیں لے جایا جاسکتا تھا، وہ الگ مقام ہے، اس وقت یہ بات کرنا فضول ہے کہ کالا باغ ڈیم ہوتا تو یہ نقصان نہ ہوتا۔

  • دریائے سندھ میں  انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان

    دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان

    دریائے سندھ میں گڈو اور سکھر بیراج کے مقام پر 5 ستمبر کو انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان ہے،موجودہ صورتحال کے دوران گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

    ےمحکمہ آبپاشی سندھ کے مطابق گڈو بیراج پر اَپ اسٹریم 3لاکھ 18ہزار229 جبکہ ڈاؤن اسٹریم میں 3لاکھ 3ہزار877 کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا،سکھر بیراج پر اَپ اسٹریم 2 لاکھ 85ہزار487 اور ڈاؤن اسٹریم میں اخراج 2لاکھ 34ہزار717 کیوسک رہا کوٹری بیراج پر اَپ اسٹریم 2لاکھ 73ہزار844 جبکہ ڈاؤن اسٹریم میں اخراج 2لاکھ 44ہزار739 کیوسک نوٹ کیا گیا،تریموں پر پانی میں اضافہ ہو کر اَپ اسٹریم 5لاکھ 50ہزار965 ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    فوکل پرسن زبیر چنہ،کا کہنا تھا کہ بیراجوں پر پانی کی آمد اور اخراج کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے، سندھ میں بیراجوں اور دریائی بندوں پر کوئی کمزور مقام موجود نہیں، تمام مقامات کو جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط بنا دیا گیا ہے،صوبے میں 102 ایسے پوائنٹس تھے جہاں ماضی کی دہائیوں میں سیلابی صورتحال کے دوران کچھ واقعات پیش آئے تھے، تاہم محکمہ آبپاشی سندھ نے ان 102 پوائنٹس پر بہتری اور مضبوطی کے خصوصی اقدامات مکمل کر لیے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی خطرے سے محفوظ رہا جا سکے۔

    پاکستان ہمیشہ کثیر الجہتی، مذاکرات اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے،وزیراعظم

    انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ نے محض احتیاطی اور پیشگی حکمتِ عملی کے تحت ان تمام مقامات پر عملہ تعینات کر دیا ہے، تمام مقامات پر ضروری مشینری و ساز و سامان بھی فراہم کر دیا گیا ہے، تمام مقامات پر ہر وقت نگرانی جاری ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے،عوام کو ہر طرح کے خدشات سے محفوظ رکھا جائے گا، حکومت سندھ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

    کے پی ہیلی کاپٹر حادثہ: روسی کمپنی تحقیقات کرے گی

  • ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے،  افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ،ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، وہاں رہنے والے افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں یہ معلومات ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں

    گڈو بیراج پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس وقت راوی اور تریموں کے مقامات پر پانی کی سطح بلند ہے اگرچہ امید کی جا رہی ہے کہ پانی اتنی شدت کے ساتھ نہیں بڑھے گا، لیکن حکومت نے 9 لاکھ کیوسکس تک کے ممکنہ سپر فلڈ کے لیے پیشگی انتظامات شروع کر دیے ہیں، پانی 9 لاکھ آئے یا 10 لاکھ اس میں کچے کا علاقہ تو ڈوب جائے گا ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، وہاں رہنے والے افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں یہ معلومات ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں اور انہیں پی ڈی ایم اے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہےپاک بحریہ کی جانب سے بہت تعاون کیا جا رہا ہے، کمانڈر کوسٹ بھی میرے ساتھ موجود ہیں، جبکہ پاک فوج اور ڈی جی رینجرز سے بھی مسلسل رابطہ ہے، اگر دریائے سندھ میں سپر فلڈ آیا تو کچے کا سارا علاقہ زیرِ آب آ جائے گا، اس صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت نے کچے کے علاقے کو خالی کرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

    پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    انہوں نے واضح کیا کہ ہماری سب سے بڑی ترجیح انسانی جانوں اور مویشیوں کو نقصان سے بچانا ہے ضلعی انتظامیہ لوگوں کے انخلا کی تیاری کر رہی ہے جبکہ پی ڈی ایم اے، پاک بحریہ اور پاک فوج کی 192 کشتیاں کچے کے مختلف علاقوں میں تعینات کر دی گئی ہیں، بند کو ٹوٹنے سے بچانا سب سے بڑا چیلنج ہےپنجاب میں شگاف ڈالنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے اور وہاں کی جغرافیائی صورتحال ایسی ہے کہ پانی جلد دوبارہ دریا میں شامل ہو جاتا ہے، لیکن سندھ کی زمین چونکہ دریا سے نیچے ہے اس لیے پانی واپس جانے میں وقت لیتا ہے۔

    پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ کے رائٹ بینک پر 6 مقامات نہایت حساس ہیں، ان میں سب سے زیادہ خطرہ کے کے بند کو ہے جبکہ لیفٹ بینک پر شاہین بند کو نازک قرار دیا گیا ہے اگر 8 سے 9 لاکھ کیوسکس پانی آیا تو شاہین بند اپنی کمزور ساخت کے باعث برقرار نہیں رہ پائے گا، لیکن اس بند کو بچانا حکومت کی اولین ترجیح ہوگی ہمارے پاس ابھی وقت ہے، کیونکہ تریموں سے نکلنے والا پانی تقریباً 5 دن بعد سندھ تک پہنچتا ہے انہوں نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ جب وہ وقت آئے تو ضلعی انتظامیہ سے مکمل تعاون کیا جائے۔

    موریطانیہ کے ساحل پر تارکینِ وطن کی کشتی الٹ گئی، 70 ہلاک،30 سے زائد لاپتہ

  • دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر

    دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر

    حیدرآباد:پنجاب سے سیلابی پانی سندھ کی طرف بڑھنے لگا جس کے باعث گدو بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے پر کنٹرول روم سکھر بیراج نے درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر کر دیا۔

    فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق گدو بیراج، سکھر بیراج اور کوٹری بیراج پر بدستور درمیانے درجے کا سیلاب ہےگدو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 22 ہزار 819 کیوسک ہے اور پانی کا اخراج 3لاکھ 7 ہزار 956 کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا ہےسکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 3ہزار 480 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 52ہزار 110 کیوسک ریکارڈ کیا گیا،کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 73ہزار844 کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا ہے جبکہ پانی کا اخراج 2لاکھ 44ہزار 739 کیوسک ہے۔

    دوسری،جانب،محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں بارش کا امکان ظاہر کرتے ہوئے اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

    پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا اور کشمیر کے مختلف حصوں میں موسلادھار بارش کا امکان ہے جبکہ شام یا رات کے وقت بلوچستان، سندھ اور گلگت بلتستان میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے،مختلف شہروں میں یکم سے 3 ستمبر تک شدید بارشیں ہو سکتی ہیں ، یکم سے 3 ستمبر تک دریائے ستلج، راوی اور چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے علاوہ لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات ڈویژن میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔

    سیلاب متاثرین کی مدد: کے پی حکومت نے وفاق سے تعاون مانگ لیا

  • پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے ممکنہ سپر فلڈ کے خدشے کے پیش نظر ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں،حکومت کی پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے-

    انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے خود گدو اور سکھر بیراج سمیت حساس بندوں کا معائنہ کیا ہے جہاں سپر فلڈ کی صورت میں 9لاکھ کیوسک پانی کا دباؤ آسکتا ہے، حکومت کی پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے، پاک بحریہ اور پاک فوج انخلاء اور ریلیف کے انتظامات میں مصروف ہیں جبکہ کچے کے علاقوں میں بروقت انخلاء کے لیے 192 کشتیاں تعینات کی جا چکی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کچے کے تمام علاقوں کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے اور آبادی، گھروں اور مویشیوں کے نقشے ضلعی انتظامیہ کو فراہم کیے گئے ہیں، ہزاروں خاندانوں کو محفوظ مقامات، سرکاری اسکولوں، عمارتوں اور ٹینٹ سٹی ویلیجز میں منتقل کرنے کے انتظامات مکمل ہیں، جبکہ ریلیف کیمپس میں کھانے، پانی اور صحت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    شرجیل میمن نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے تمام حساس بندوں پر فلڈ فائٹنگ کی رفتار تیز کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال پر فوری ردعمل دینے کی ہدایت کی ہے۔ کے کے بند، شاہین بند، قادرپور، راونتی اور دیگر حساس مقامات پر مشینری، پتھروں اور عملے کی تعیناتی کی جا چکی ہے اور افسران 24 گھنٹے نگرانی پر مامور ہیں،یہ صرف حکومت یا انتظامیہ کا نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ امتحان ہے صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ پارٹی کارکنوں کو متاثرین کی مدد کی ہدایت دی گئی ہے۔

    سینیئر وزیر نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ افواہوں اور خوف پھیلانے کے بجائے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔

    یوٹیلٹی اسٹورز آج سے بند ، ملازمین کیلئے 28 ارب روپے کا پیکیج تیار

  • سیلاب متاثرین کی مدد: کے پی حکومت نے  وفاق سے تعاون مانگ لیا

    سیلاب متاثرین کی مدد: کے پی حکومت نے وفاق سے تعاون مانگ لیا

    خیبر پختونخوا حکومت نے حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے تناظر میں وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ بین الاقوامی شراکت داروں سے تعاون حاصل کرنے میں صوبے کی مدد کرے۔

    اس مقصد کے لیے صوبائی حکومت نے وفاق کو باضابطہ خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عالمی ڈویلپمنٹ پارٹنرز سے معاونت کے لیے رابطے میں وفاق رہنمائی اور سہولت فراہم کرےخیبر پختونخوا خطہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے مسلسل متاثر ہوتا ہےصوبائی حکومت اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کی خواہش مند ہے اور چاہتی ہے کہ عالمی ترقیاتی ادارے بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے اور ماحول کو بہتر بنانے کی کوششوں میں شریک ہوں۔

    مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی اداروں سے واٹر مینجمنٹ اور ارلی وارننگ سسٹم کے قیام میں مدد طلب کی جائے، ساتھ ہی کمزور کمیونٹیز کو سہارا دے کر صوبے کی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنایا جائے حالیہ بارشوں اور سیلاب نے خیبر پختونخوا کو 20 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچایا،فوری امدادی سرگرمیوں پر 6.5 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ مرمت اور بحالی کے اقدامات کے لیے مزید 20 ارب روپے درکار ہوں گے۔

    پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    خط میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے متاثرین کی مالی معاونت کا عمل شروع کر دیا ہے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 20، 20 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 5، 5 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں اس کے علاوہ دکانوں کو پہنچنے والے نقصانات کو بھی معاوضہ پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    پاکستان اور چین ’لوہے جیسی دوستی‘ کی بنیاد پر قائم ہیں، صدر زرداری

  • پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    ڈی پی ڈی ای ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کا مقام پیک پکڑ رہا ہے اور اگلے 24 گھنٹے میں مزید خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    لاہور میں پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ یکم کو سات لاکھ کیوسک پانی،ہیڈ تریموں پر پہنچے گا، راوی اور چناب کا پانی ہیڈ شیر شاہ اور ہیڈ سلیمانی میں داخل ہوگا، 4 ستمبر کو یہ سارا پانی ہیڈ پنجند میں داخل ہوگا پنجاب میں اس وقت تاریخی سیلاب گزر رہا ہے اور اب تک صوبے میں 2200 دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ 33 لوگوں کی سیلاب کی وجہ سے اموات ہوئیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ پنجاب میں مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی، سیلاب کے ساتھ اربن فلڈنگ سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے، ہماری رپورٹ کے مطابق اب تک 20 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور ہم ان تمام افراد کے لیے سہولیات فراہم کر رہے ہیں، ریسکیو کے ساتھ پاک فوج نے بھی سیلابی صورتحال میں ہمارا ساتھ دیا، ہم نے لوگوں کے جانوروں کو بھی محفوظ بنایا ہے۔

    یوٹیلٹی اسٹورز آج سے بند ، ملازمین کیلئے 28 ارب روپے کا پیکیج تیار

    انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے کہا ہے کہ ہم نے انسانی جانوں کی ہر قیمت پر حفاظت کرنی ہے، اس لیے ضلعی انتظامیہ ہر وقت دریاؤں پر موجود ہے اور صورتحال کا جائزہ لی رہی ہےستلج کے مقام پر پانی کا بہاؤ کم ہو گیا ہے اور 1 لاکھ 54 ہزار کیوسک پانی ہیڈ سلیمانی کے مقام پر پانی موجود ہے جبکہ 1 لاکھ کیوسک پانی بہاولپور کے قریب دریاؤں میں موجود ہے6 سے 7 دونوں میں اگر پانی کی سطح کم ہوتی ہے تو ہم پھر مزید ان علاقوں پر کام کر سکتے ہیں، ہماری زیادہ توجہ زیر آب علاقوں میں ہیں تاکہ ان کو جلد از جلد کلیئر کیا جائے۔

    سندھ: سپر فلڈ کی تیاری، ضلعی انتظامیہ اور مسلح افواج متحرک