Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • ہم کسی ٹرول یا سیاسی دباؤ کا جواب نہیں دینا چاہتے، مریم اورنگزیب

    ہم کسی ٹرول یا سیاسی دباؤ کا جواب نہیں دینا چاہتے، مریم اورنگزیب

    پنجاب کی سینیئر وزیرمریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ہم کسی ٹرول یا سیاسی دباؤ کا جواب نہیں دینا چاہتے، ہمارا مقصد صرف عوام کی جانیں بچانا ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب،نے کہا کہ دریا کنارے غیر قانونی آبادیوں کی ذمہ داری ماضی کی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے جبکہ موجودہ حکومت نے درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہےدریاؤں کے کنارے ریور بیڈز کی میپنگ کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے پنجاب میں ڈیمز بنانے کے لیے اے ڈی بی میں ایلوکیشن کر دی گئی ہے اور سیلاب سے بچاؤ کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے،مریم نواز نے ہمیشہ سیاسی دباؤ برداشت کیا ہے، اور انکروچمنٹ، پوسٹنگ ٹرانسفر جیسے معاملات میں کسی کو رعایت نہیں دی گئی ہم کسی ٹرول یا سیاسی دباؤ کا جواب نہیں دینا چاہتے، ہمارا مقصد صرف عوام کی جانیں بچانا ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ پنجاب اس وقت تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث صوبے میں ایمرجنسی صورتحال ہے۔ راوی، ستلج اور چناب دریاؤں میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہو چکی ہےراوی میں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک تک جا پہنچا ہے، جبکہ خانکی، قادرآباد، ریواز برج، تریموں اور بلوکی سمیت مختلف مقامات سے لاکھوں کیوسک کے ریلے گزر رہے ہیں، ریواز برج اور تریموں پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ لوگوں کو ریلیف دینے کا ہے،عظمیٰ بخاری

    سینیئر وزیر کے مطابق، 20 لاکھ سے زائد افراد اس سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے ساڑھے 7 لاکھ لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالا گیا۔ ایک لاکھ 15 ہزار افراد کو کشتیوں کی مدد سے ریسکیو کیا گیا جبکہ پانچ لاکھ مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا،صوبے بھر میں 400 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں اور تمام اسکولوں کو عارضی ریلیف کیمپس میں تبدیل کر دیا گیا ہے اس وقت پنجاب کے جھنگ، ملتان، مظفر گڑھ، اوکاڑہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اور وہاڑی سمیت متعدد اضلاع ہائی الرٹ پر ہیں، جہاں حکومت کے تمام ریسکیو انتظامات مکمل ہیں۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز خود اس تاریخی ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہی ہیں سیلاب سے متاثرہ 2207 موضع جات کا تخمینہ لگایا جا چکا ہے، اور ایک ہزار مواضع مزید متاثر ہو سکتے ہیں، حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ عوام کی جان و مال کو بچایا جا سکے اور نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے بھارت کی جانب سے بغیر اطلاع دیے اسپیل ویز کھولے گئے، جس پر فارن آفس اور این ڈی ایم اے ڈیٹا جمع کر رہے ہیں، انہوں نے روڈا اور نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے کردار پر انکوائری کا مطالبہ بھی کیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر پتوکی سیلابی دورے کے دوران جاںبحق

    مریم اورنگزیب نے بتایا کہ تمام علاقوں کی ڈرونز اور تھرمل کیمروں سے نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ ’’کلینک آن وہیلز‘‘ اور میڈیکل کیمپس متاثرہ افراد کو طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ عوام کو پانی سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کھانے، پینے کے پانی، خشک خوراک اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، جبکہ چوری کی اطلاعات پر پولیس کو الرٹ کر دیا گیا ہےسیلاب کے باعث اب تک 38 قیمتی جانوں کا نقصان ہوا ہے اموات چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے سمیت مختلف وجوہات کی بنیاد پر ہوئیں۔

  • یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ لوگوں کو ریلیف دینے کا ہے،عظمیٰ بخاری

    یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ لوگوں کو ریلیف دینے کا ہے،عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ لوگوں کو ریلیف دینے کا ہے۔

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہمارا فوکس اس وقت ریلیف پر ہےکچھ لوگ جھوٹی خبروں سے سوسائٹی میں انتشار پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں ایک مخصوص ٹولہ مشکل کی گھڑی میں متاثرین کے ساتھ ہمدردی کی بجائے گندی سیاست کررہا ہے، قوم کا جب بھی متحد ہونے کا موقعہ ہوتا یہ ٹولہ اپنی گندی سیاست شروع کردیتا ہے، تاہم یہ وقت سیاست کا نہیں ہے بلکہ لوگوں کو ریلیف دینے کا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 7 لاکھ ساٹھ ہزار سیلاب متاثرین کو بروقت ریسکیو کرنا کوئی معمولی بات نہیں، پنجاب حکومت اپنے وسائل سے شہریوں کو تمام امدادی سرگرمیاں مہیا کررہی ہےمتاثرہ شہریوں کے ساتھ ان کے مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے جب کہ کلینک آن ویلز نے بروقت متاثرہ شہریوں کو طبی امداد فراہم کرنے میں کلیدی رول ادا کیا ہے- پنجاب کو تاریخ کے بڑے سیلاب کا سامنا ہے اور ویسے ہی بڑے ریسکیو آپریشن پر کام جاری ہے لیکن کچھ لوگ جھوٹی خبروں سے سوسائٹی میں انتشار پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔

    موریطانیہ کے ساحل پر تارکینِ وطن کی کشتی الٹ گئی، 70 ہلاک،30 سے زائد لاپتہ

    اسسٹنٹ کمشنر پتوکی سیلابی دورے کے دوران جاںبحق

    چین کی جدید ٹیکنالوجی اور طریقے پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے سود مند ہونگے ، وزیراعظم

  • اسسٹنٹ کمشنر پتوکی سیلابی دورے کے دوران جاںبحق

    اسسٹنٹ کمشنر پتوکی سیلابی دورے کے دوران جاںبحق

    لاہور:اسسٹنٹ کمشنر پتوکی ضلع قصور سیلابی دورے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔

    اسسٹنٹ کمشنر پتوکی فرقان احمد ضلع قصور میں سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے،ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے گہرے غم اور افسوس کا اظہار کیاڈی جی کا کہنا تھا کہ اسسٹنٹ کمشنر پتوکی فرقان احمد ہیڈ بلوکی سیلاب کے علاقے میں ڈیوٹی پر تھے، ان کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔

    واضح رہے کہ راوی، چناب اور ستلج کے بپھرنے کے باعث پنجاب میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے بعد کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز ٹیم کے ہمراہ اپنے اپنے علاقوں میں ڈیوٹی پر موجود ہیں،پنجاب کے تینوں دریاؤں میں بدترین سیلابی صورتحال برقرار ہے جس کے باعث اب تک 20 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جب کہ صوبے میں سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 33 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

    چین کی جدید ٹیکنالوجی اور طریقے پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے سود مند ہونگے ، وزیراعظم

    پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلاب نے تباہی مچادی، ہر طرف مکانات، راستے، سڑکیں گھر سب سیلابی پانی میں ڈوبے نظر آرہے ہیں جب کہ مختلف علاقوں سے لاکھوں لوگوں کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے،لاہور میں شاہدرہ کے مقام پر دریائے راوی میں پانی کی سطح مسلسل کم ہونے لگی، دریائے راوی میں 78 ہزار کیوسک ریلا گزر رہا ہے۔

    سیلاب سے بیس لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے ،مریم اورنگزیب

    دریائے چناب کا سیلابی ریلا سیالکوٹ، وزیرآباد اور چنیوٹ میں تباہی مچانےکے بعد جھنگ میں داخل ہوگیاجھنگ میں بڑا آبی ریلا داخل ہونے سے 200 کے قریب دیہات زیر آب آگئے، سیکڑوں گھر پانی میں ڈوب گئے جب کہ 2 لاکھ سے زائد افراد بے گھر اور فصلیں تباہ ہوگئیں،دریائے چناب کا بڑا ریلا آج رات ملتان سے گزرنے کا امکان ہے، شہر کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا روڈ پر ڈائنا مائٹ نصب کردیے گئے جب کہ ضرورت پڑنے پر بارودی مواد سے شگاف ڈالا جائے گا۔

    بھارت سے 70 ہزار کیوسک سے زائد پانی آنے کا خدشہ،الرٹ جاری

  • سندھ: سپر فلڈ کی تیاری، ضلعی انتظامیہ اور مسلح افواج متحرک

    سندھ: سپر فلڈ کی تیاری، ضلعی انتظامیہ اور مسلح افواج متحرک

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نےکہا ہےکہ دریا راوی اور تریموں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اور حکومت سپر فلڈ کی تیاری کر رہی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گڈو بیراج پر میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ دریا راوی اور تریموں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اور حکومت سپر فلڈ کی تیاری کر رہی ہے سپر فلڈ کی صورتحال میں 9 لاکھ کیوسکس پانی بہنے کی توقع ہے، تاہم صوبائی حکومت کو امید ہے کہ اتنا پانی نہیں آئے گا،سپر فلڈ کی صورت میں کچے کے علاقے ڈوب سکتے ہیں، اس لیے انتظامیہ نے پورے کچے کو خالی کرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے عوام، مویشیوں اور فصلوں کے تحفظ کے لیے ضلعی انتظامیہ کو تمام نقشے، آبادی کی تفصیلات اور مویشیوں کی معلومات فراہم کی گئی ہیں اور انہیں پی ڈی ایم اے کے تعاون کی ہدایت دی گئی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاک بحریہ اور پاک فوج کی مدد سے 192 کشتیاں کچے کے علاقوں میں تعینات کی جا چکی ہیں اور انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے، طبی امدادی کیمپ بھی فعال کر دیے گئے ہیں، جہاں سانپ کے کاٹنے کے ویکسین سمیت تمام ضروری ادویات موجود ہیں،متاثرین کے لیے وقتی رہائش اور واپسی کے انتظامات بھی مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ کچے میں ڈوبنے والے گھروں کو دوبارہ اونچے مقامات پر تعمیر کیا جائے گا،24 اگست کو گڈو سے ساڑھے 5 لاکھ کیوسکس پانی گذرا، جس کی وجہ سے کچھ بندوں اور فصلوں کو نقصان ہوا۔ انہوں نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور خوف پھیلانے سے گریز کریں۔

    صوبائی وزیر محکمہ آبپاشی جام خان شورو، سیکریٹری ظریف کھیڑو اور چیف انجنیئر سردار شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی کہ سندھ بند سپر فلڈ کے مطابق تشکیل دیا گیا ہےبند مینوئل گائیڈلائنز کے تحت ہر میل پر چار لاندیاں قائم کی گئی ہیں اور 16 افراد بند کی نگرانی کے لیے گشت پر مامور ہیں۔ یہ عملہ 24 گھنٹے چوکس رہے گا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال پر فوری اقدامات کرے گا۔

    دریائے سندھ کے دائیں کنارے گڈو اور سکھر بیراج کے 820 میل پر 3280 افراد تعینات کیے گئے ہیں جبکہ لیفٹ مارجینل بند، کے کے بند، کے کے فیڈر بند، نیو گھورگھاٹ، ایکس بند، اولڈ توری بند اور ایس بی بند کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہےبائیں کنارے گڈو تا سکھر 516 میل پر 2064 افراد تعینات ہیں، جہاں قادر پور شنک بند، قادر لوپ بند، راونتی بند، بائیجی بند اور آر این بند کو بھی حساس مقامات قرار دیا گیا ہے۔

    ان مقامات پر رات کے گشت، عملہ کی تعیناتی، ضروری مشینری، کمزور جگہوں کی مرمت اور مضبوطی کے کام شامل ہیں۔ کمزور لوکیشنز پر بھاری پتھروں کی فراہمی اور 24 گھنٹے افسران کی موجودگی یقینی بنائی گئی ہےوزیراعلیٰ سندھ نے حفاظتی اقدامات مزید تیز کرنے، حساس بندوں کی کھڑی نگرانی کرنے اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دینے کی ہدایات بھی دی ہیں۔ یہ اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ انسانی جانوں، مویشیوں، فصلوں اور بیراجوں کو ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سپر فلڈ کی ممکنہ صورتحال میں احتیاطی اقدامات کا جائزہ لیا اور ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی پلان پر بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر آغا شیرزمان نے وزیراعلیٰ کو متاثرہ علاقوں، انخلا کے انتظامات اور ریلیف کے اقدامات سے تفصیلی آگاہ کیا، سپر فلڈ کی صورت میں 8 یونین کونسلز، 38 دیہات اور 171 گائوں متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جہاں مجموعی طور پر 2 لاکھ 6 ہزار 107 افراد اور 31 ہزار 257 خاندان آباد ہیں۔ ان علاقوں میں 2 لاکھ 68 ہزار 225 مویشی موجود ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ عوام کو ان کے مویشیوں کے ساتھ محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور انخلا کے تمام اقدامات کو حتمی شکل دی جائے۔ کندھ کوٹ میں 15 کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا جائے گا، جبکہ 21 دیگر کشتیوں کی مدد سے کام آسان بنایا جائے گا۔

    ضلعی انتظامیہ نے ریلیف کیمپ قائم کر دیے ہیں، جن میں توری بند، کے کے بند، گھوراغاٹ اور بی ایس فیڈر آر ڈی 45 پر چار میڈیکل کیمپس شامل ہیں۔ متاثرہ افراد کے لیے 30 فیصد حفاظتی بندوں کے نزدیک سرکاری اسکولوں یا عمارتوں میں قیام فراہم کیا جائے گا اور باقی افراد کو ٹینٹ سٹیز/ویلیجز میں محفوظ پناہ دی جائے گی۔ کندھ کوٹ میں 14، کشمور میں 10 سرکاری عمارتیں ریلیف سینٹر میں تبدیل کی گئی ہیں، جبکہ تینوں اضلاع میں ٹینٹ سٹیز بھی قائم کی جائیں گی۔

    صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے کندھ اسپتال میں 24 ڈاکٹرز، 78 پیرامیڈیکل اسٹاف، 20 بستروں اور 2 ایمبولینس، کشمور اسپتال میں 13 ڈاکٹرز، 113 پیرامیڈیکل اسٹاف، 6 بستروں اور ایک ایمبولینس، اور دیگر ہسپتالوں میں بھی ضروری طبی انتظامات مکمل کر دیے گئے ہیں۔ PPHI کے تحت 44 ہیلتھ فیسلیٹیز، 10 KMC سروسز، 10 EPI سینٹرز، 16 لیبر رومز، اور 9 لیبارٹریز بھی خدمات انجام دیں گی۔ ایمرجنسی کے لیے 2 سول ایمبولینس، 7 PPHI ایمبولینس اور 5 ایمبولینس 112 تعینات کی گئی ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، کسی بھی کمی یا غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور تمام کمپلین سیل فعال رہیں گے ضرورت پڑنے پر تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا تاکہ انسانی جانوں اور مویشیوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

  • سیلاب سے بیس لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے ،مریم اورنگزیب

    سیلاب سے بیس لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے ،مریم اورنگزیب

    پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ صوبے میں اس وقت سیلاب کی تاریخ کی سب سے غیر معمولی صورتحال درپیش ہے-

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ صوبے میں اس وقت سیلاب کی تاریخ کی سب سے غیر معمولی صورتحال درپیش ہے، جس نے 20 لاکھ سے زائد آبادی کو متاثر کیا ہے،دریاؤں راوی، ستلج اور چناب میں اس طرح کی سیلابی کیفیت پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی،وزیراعلیٰ پنجاب اور تمام ادارے ایک مٹھی کی طرح عوام کی جانیں بچانے کے لیے متحرک ہیں اور غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں،سینیئر وزیر نے بتایا کہ سیلاب سے بیس لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے جن میں سے 7 لاکھ 50 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے،5 لاکھ سے زائد مویشیوں کو بھی بچا لیا گیا ہے اور 400 سے زیادہ ویٹنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

    بھارت سے 70 ہزار کیوسک سے زائد پانی آنے کا خدشہ،الرٹ جاری

    پنجاب میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ،2200 دیہات زیر آب ، ڈی جی پی ڈی ایم اے

    پنجاب سیلاب متاثرین کے لیے مفت کالنگ سہولت میں توسیع

  • بھارت سے 70 ہزار کیوسک سے زائد پانی آنے کا خدشہ،الرٹ جاری

    بھارت سے 70 ہزار کیوسک سے زائد پانی آنے کا خدشہ،الرٹ جاری

    بھارت سے آئندہ دنوں میں 70 ہزار کیوسک سے زائد پانی آنے کا خدشہ ہے-

    ڈائریکٹر جنرل پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے خبردار کیا ہے کہ بھارت سے آئندہ دنوں میں 70 ہزار کیوسک سے زائد پانی آنے کا خدشہ ہے اور صورتِ حال مزید بگڑ سکتی ہے بھارت کے مادھوپور ہیڈورکس ٹوٹنے کے باعث مزید پانی پاکستان کی طرف آ رہا ہےلاہور فی الحال سیلاب کے خطرے سے محفوظ ہے تاہم قصور اور ملتان کے اضلاع کے لیے الرٹ جاری ہے۔

    عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ جھنگ شہر کو بچانے کے لیے بند توڑنا پڑا جبکہ ہیڈ اسلام کے لیے بھی اگلے 24 گھنٹوں میں خطرات موجود ہیں، اس وقت گنڈا سنگھ پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک ہے جس کے باعث فوج اور ضلعی انتظامیہ نے 20 دیہات خالی کرائےہیڈ سلیمانکی پر ایک لاکھ سے زائد کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، جبکہ ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 75 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا ہے۔

    یوکرین کے سابق وزیردفاع قاتلانہ حملے میں ہلاک

    دریائے راوی میں 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک کا ریلا پہلے ہی گزر چکا ہے، اس وقت بھی 1 لاکھ 29 ہزار کیوسک پانی موجود ہے،بلوکی میں 2 لاکھ 11 ہزار کیوسک اور ننکانہ صاحب سے 20 ہزار کیوسک پانی شامل ہو چکا ہے۔ ہیڈ محمد والا پر 7 لاکھ کیوسک کا ریلا ملتان تک پہنچے گا جہاں شگاف ڈالنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

    اسرائیلی فوج کا حماس ترجمان ابو عبیدہ پر حملے کا دعویٰ

  • پنجاب میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ،2200 دیہات زیر آب  ، ڈی جی پی ڈی ایم اے

    پنجاب میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ،2200 دیہات زیر آب ، ڈی جی پی ڈی ایم اے

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ پنجاب کے تینوں دریاؤں میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ہے، سیلابی ریلے کے اطراف سے دیہات سے لوگوں کا انخلا جاری ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ دریائے ستلج میں قصور کے مقام پر پانی کی سطح کم ہوئی ہے، ہیڈسلیمانکی پر پانی بڑھ رہا ہے ،شام تک اس میں مزید اضافہ ہو گا،2 ستمبر کو ستلج اور چناب کا پانی مل جائے گا، تریموں بیراج پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 61 ہزار 633 کیوسک ہو گیا ہے، سیلاب سے اب تک 20 لاکھ آبادی متاثر ہوچکی ہے ، 2200 دیہات زیر آب آئے ہوئے ہیں ، ریسکیوا ٓپریشن میں ساڑھے 7 لاکھ افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے، کل تک راوی اور چناب کا پانی ہیڈ محمد والہ اور ملتان کو ٹچ کرے گا ، ہیڈ محمد والہ اور شیرشاہ بریج پر مشکل آ سکتی ہے، سب سے پہلے آبادیوں اور لوگوں کی جان بچانا ہے ، ملتان میں بھی جو ضروری فیصلے ہوں گے وہ ڈائریکشن آ چکی ہے۔

    دریائے ستلج میں وہاڑی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے، جس کے باعث متاثرہ علاقوں میں مسلسل تباہی کا سلسلہ جاری ہےدریائے ستلج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہونے کے بعد سیلابی پانی نے مزید مکانات کو زمین بوس کر دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہزاروں افراد ابھی بھی سیلابی علاقوں میں محصور ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ نے سیلاب متاثرین کے لیے 13 ریلیف کیمپ قائم کر دیے ہیں، جہاں محکمہ صحت، لائیو سٹاک، ریسکیو 1122، ریونیو اور دیگر محکموں کی جانب سے تمام سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

    ڈی سی عمرانہ توقیر کے مطابق جن علاقوں میں مزید سیلابی پانی آنے کا خطرہ ہے، وہاں سے لوگوں کا انخلاء جاری ہے۔ مویشیوں کو بھی حفاظتی مقامات تک پہنچایا جا رہا ہے اور ان کی ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ چارے کا انتظام بھی کیا گیا ہےہیڈ سائفن پر پانی کی سطح 48,552 کیوسک تک پہنچ چکی ہے، جب کہ ہیڈ اسلام پر 70,000 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔

    35 ہزار سے زائد ایکڑ رقبہ زیر آب آ چکا ہے، اور 13,159 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ 3,281 مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات تک منتقل کیا جا چکا ہےدریائے ستلج میں بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑے جانے سے پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یونین کونسل نمبر 25 داد کمیرا کے 17 دیہات اور بستیاں مکمل طور پر زیر آب آ گئی ہیں۔

    داد کمیرا کی 23,171 نفوس پر مشتمل آبادی شدید متاثر ہو چکی ہے، اور پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے۔ میاں حاکم، لکھا، کھچی، بونگہ اعظم، کوٹ گھلو، گل شاہ، جندا باقر شاہ اور میرو بلوچ سمیت کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔

  • سیلاب کے بعد بارشوں کا نیا سلسلہ شروع،سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ

    سیلاب کے بعد بارشوں کا نیا سلسلہ شروع،سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ

    ملک میں سیلاب کے بعد بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

    چنیوٹ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مسلسل بارش کی وجہ سے سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے چنیوٹ میں مرکزی شاہرائیں،گلیاں اورمحلے زیرآب آ گئے ہیں،ڈپٹی کمشنر آفس،سی او بلدیہ،اسسٹنٹ کمشنرکے دفاتر بھی پانی میں ڈوب گئے، محلہ مشکی شاہ،گڑھا محلہ اورمعظم شاہ میں ہرطرف پانی ہی پانی ہے، فرنیچر مارکیٹ سمیت اندرون شہر کی تمام سڑکیں زیرآب آ چکی ہیں،، بارش کے باعث متعدد فیڈرز بھی ٹرپ کرگئے،شیخوپورہ اور گرد و نواح میں تیز بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا، جہلم اور گرد و نواح میں بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔

    لاہورکے مختلف علاقوں میں بھی بارش ہوئی، راوی روڈ، بند روڈ، شاہدرہ، ملتان روڈ اور چوہنگ کے علاقوں میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ڈسکہ میں بھی بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔

    محسن نقوی سے سعودی عرب کے سفیر کی ملاقات

    ننکانہ صاحب میں موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آ گئے ہیں، متعدد سڑکیں بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں، شادباغ کالونی اورہاؤسنگ کالونی زیر آب ہے، بارش کی وجہ سے متعدد فیڈرز ٹرپ کرگئے جس سے مختلف علاقوں کو بجلی منقطع ہو گئی۔

    مالاکنڈ، بٹ خیلہ اور گرد و نواح میں موسلا دھار بارش ہوئی، جس کے بعد مختلف علاقوں کے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، بٹ خیلہ خوڑ میں طغیانی کے باعث سڑکیں زیرآب آ گئیں، سیلابی صورتحال کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہے، ہیروشاہ کے برساتی نالے میں گاڑیاں پھنس گئیں۔

    فیلڈ مارشل کے سکھ کمیونٹی کیساتھ بیٹھنے سے سر فخر سے بلند ہوگیا۔سکھ رہنما

    خیبر، لنڈی کوتل میں موسلادھار بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، جمرود میں بارش کے باعث سیلابی ریلے سے آبادی متاثرہونے کا خدشہ ہے، مختلف بازاروں میں سیلابی پانی جمع ہے،ریسکیوآپریشن جاری ہے، بونیر میں بارش سے پیر بابا بازار کی ندی میں پانی کا بہاؤ تیز ہو گیالنڈی کوتل کے مقام پر گاڑیاں سیلابی پانی میں پھنس گئیں۔

  • بلاول بھٹو  اور وزیر اعلیٰ سندھ صورتحال کو براہ راست مانیٹر کر رہے ہیں، شرجیل میمن

    بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ صورتحال کو براہ راست مانیٹر کر رہے ہیں، شرجیل میمن

    سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ،بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ صورتحال کو براہ راست مانیٹر کر رہے ہیں، ہر 3 گھنٹے بعد ہینڈ آؤٹ جاری ہوگا –

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فلڈ کنٹرول روم قائم کر دیا ہے جو 24 گھنٹے فعال ہے اور تمام اداروں کے نمائندے وہاں موجود ہیں،تونسہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ بڑھ رہا ہے اور 2 یا 3 ستمبر کو سیلابی ریلا پنجاب سے سندھ میں داخل ہوگا ان کے مطابق سندھ کے 15 اضلاع متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ 16 لاکھ سے زائد افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ پوری طرح الرٹ ہیں، 192 ریسکیو بوٹس اور دیگر انتظامات مکمل ہیں ایمرجنسی کی صورت میں شہری 04199222962، 02199222902 اور 02199222758 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

    سندھ حکومت کا دریائے سندھ میں ممکنہ سیلاب پر ہائی الرٹ

    انہوں نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ صورتحال کو براہ راست مانیٹر کر رہے ہیں، ہر 3 گھنٹے بعد ہینڈ آؤٹ جاری ہوگا جبکہ ضلعی انتظامیہ ممکنہ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی بروقت منتقلی یقینی بنا رہی ہے، موسمیاتی تبدیلی پوری دنیا کا مسئلہ ہے، پاکستان کا کاربن ریشو صرف ایک فیصد ہے لیکن سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

    ایشیا کپ: ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کا آغاز ہو گیا

  • دریائے چناب سے 1 ہزار 169، راوی سے 462 اور ستلج میں  391 موضع جات متاثر

    دریائے چناب سے 1 ہزار 169، راوی سے 462 اور ستلج میں 391 موضع جات متاثر

    لاہور:پنجاب میں سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہوگئی،جبکہ،سیلاب سے 15 لاکھ 16 ہزار 603 لوگ متاثر ہوئے ہیں-

    سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق سیلاب سے 15 لاکھ 16 ہزار 603 لوگ متاثر ہوئے ہیں، متاثرہ علاقوں سے 4 لاکھ 81 ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، تین دریاؤں کے سیلابی پانی سے دو ہزار 38 موضع جات متاثر ہوئے، دریائے چناب سے 1 ہزار 169، راوی سے 462 اور ستلج میں سیلاب سے 391 موضع جات متاثر ہوئے۔

    سینئیر صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ 511 ریلیف اور 351 میڈیکل کیمپس متاثرین کی چوبیس گھنٹے مدد اور دیکھ بھال کر رہے ہیں، 6 ہزار 373 متاثرین ریلیف کیمپس میں ہیں، 4 لاکھ 5 ہزار سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، مویشیوں کے علاج کے لئے 321 ویٹرنری کیمپ بھی کام کر رہے ہیں، 808 کشتیاں ریکسیو مشن میں شریک ہیں، چھتیس گھنٹوں میں 68 ہزار 477 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے ساتھ ہیں، عوام کی خدمت اور مدد کا تاریخی ریلیف آپریشن وزیراعلیٰ پنجاب کی براہ راست نگرانی میں تیزی سے جاری ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے پیشگی حفاظتی انتظامات اور تجاوزات کے خلاف آپریشن کی وجہ سے تاریخ کے اتنے بڑے سیلاب میں بڑے جانی نقصان سے پنجاب بچ گیا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی تباہی میں بدل چکی ہے، پیشگی خبردار کرنے والے جدید ترین نظام پنجاب میں لائیں گے، سیلاب سے بحالی کے بعد تجاوزات کے خاتمے کا آپریشن ہوگا، حالیہ سیلاب میں ہونے والے تجربات کی روشنی میں جامع حکمت عملی تیار کریں گے،ریسکیو اور ریلیف میں دن رات کام کرنے والے ہمارے ہیروز ہیں، متاثرین کی بحالی اور نقصانات کا ازالہ اولین ترجیح ہے۔