Baaghi TV

Tag: سیلاب

  • آبی گزرگاہوں پر قبضہ کرنے والوں کو پھانسی دینے کی تجویز

    آبی گزرگاہوں پر قبضہ کرنے والوں کو پھانسی دینے کی تجویز

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں آبی گزرگاہوں پر قبضہ کرنے والوں کو پھانسی دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس چیئرپرسن منزہ حسن کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزارت موسمیاتی تبدیلی کی کارکردگی اور تیاریوں پر سخت تنقید کی گئی،چیئرپرسن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت بروقت بریفنگ پیپرز فراہم کرنے میں ناکام رہی اور ریجنل کانفرنس میں شرکت کے لیے انہیں وقت پر بریف نہیں دیا گیا سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے بھی اپنی وزارت کی نااہلی کا اعتراف کرتے ہوئے کمیٹی سے معذرت کی۔

    اجلاس کے دوران رکن کمیٹی صاحب زادہ صبغت اللہ نے کہا کہ گلیشیئرز سے متعلق بنائے جانے والے فریم ورک کے بارے میں بھی اراکین کو مناسب معلومات نہیں دی گئیں،چیئرپرسن کمیٹی نے خبردار کیا کہ آئندہ سال مون سون 22 فیصد زیادہ شدید ہوگا جبکہ این ڈی ایم اے تو فعال کردار ادا کر رہی ہے مگر پی ڈی ایم ایز کے کردار پر سوالیہ نشان ہے لوکل حکومت نہ ہونے کے باعث ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی موجود نہیں، جس سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

    ممبر کمیٹی نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں صرف چیک تقسیم اور فوٹو سیشن کیے جاتے ہیں، اصل میں انفرا اسٹرکچر پر کوئی کام نہیں ہو رہابھارت سے آنے والے پانی کے خطرے کے باوجود کوئی تیاری نہیں کی گئی، اس پر سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے وضاحت دی کہ یہ بھارت کے ڈیموں کے بھرنے کی وجہ سے پیدا
    ہونے والا مسئلہ ہے اور اس پر وزارت آبی ذخائر کو بریفنگ دینی چاہیے۔

    ٹرمپ نے 4 بار فون کیے، مودی نے کالز وصول کرنے سے انکار کر دیا، جرمن اخبار کا دعویٰ

    اجلاس میں رکن اویس جکھڑ نے اپنے ضلع لیہ میں سیلابی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے گھر اجڑ گئے ہیں، مگر این ڈی ایم اے نے لیہ کو متاثرہ اضلاع میں شامل ہی نہیں کیا،انہوں نے الزام لگایا کہ جنوبی پنجاب کو فنڈز نہیں دیے جاتے، بڑے شہروں میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں جب کہ کچے کے علاقے ہر سال ڈوب جاتے ہیں، اس پر سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے یقین دہانی کرائی کہ ان کے ضلع کو متاثرہ علاقوں میں شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔

    رکن شائستہ پرویز نے کہا کہ سیلاب سے معیشت تباہ ہو رہی ہے، مگر اصل تباہی ٹمبر مافیا کی وجہ سے ہے جس نے کے پی، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں جنگلات کا صفایا کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ طاقتور مافیا حکومت کی مدد کے بغیر نہیں چل سکتا اور اس پر تحقیقات ہونی چاہییں، چیئرپرسن کمیٹی نے بھی اس مؤقف کی تائید کی اور کہا کہ ہمارے پہاڑ ننگے ہو رہے ہیں جبکہ بھارتی سائیڈ سرسبز ہے۔

    دریاؤں میں سیلابی صورتحال،بھارت نے پاکستان کو آگاہ کر دیا

    اجلاس میں سخت تجاویز بھی سامنے آئیں، رکن کمیٹی طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ آبی گزرگاہوں پر قبضہ کرنے والے اور ایسے این او سی جاری کرنے والوں کو پھانسی پر لٹکایا جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسا اقدام نہ کرے رکن کمیٹی شازیہ صوبیہ نے نشاندہی کی کہ آج راوی میں پانی بڑھ رہا ہے مگر کوئی الرٹ جاری نہیں کیا گیا۔

    شائستہ پرویز نے پارلیمانی کمیٹیوں کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم صرف کمیٹیاں کھیل رہے ہیں اور میں حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی کمیٹی چھوڑنے کا سوچ رہی ہوں، اس پر چیئرپرسن نے کہا کہ کمیٹی تجاویز دے سکتی ہے اور ماضی میں کئی تجاویز پر عمل درآمد ہوا ہے، اب ٹمبر مافیا کے خلاف بھی ہدایات جاری کی جائیں گی،اجلاس میں اراکین نے اتفاق کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے مسائل کے حل کے لیے صوبوں کو بھی شامل کرنا ہوگا اور کلائمٹ چینج اتھارٹی کو طلب کر کے سخت سوالات کیے جائیں گے۔

    پی ٹی آئی کا این اے 129 لاہور کا ضمنی الیکشن لڑنے کا اعلان

  • سیلاب نے ہر طرف تباہی مچا دی، 72 سے زائد دیہات شدید متاثر

    سیلاب نے ہر طرف تباہی مچا دی، 72 سے زائد دیہات شدید متاثر

    بھارت سے آنے والے سیلابی ریلے کے باعث دریائے ستلج، راوی اور چناب بپھر گئے، دریائے ستلج میں شدید طغیانی سے 72 سے زائد دیہات زیر آب آگئے-

    دریائے ستلج میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب نے ہر طرف تباہی مچا دی، ستلج کے پانی سے بیری پیر سمیت کئی مقامات پر سے حفاظتی بند ٹوٹ گئے، 72 دیہات شدید متاثر گھروں اور کھیتوں میں پانی داخل ہوگیا، لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہو گئے، گنڈا سنگھ کے قریب 50 سے زائد دیہات پانی میں ڈوب گئے اور متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی منتقلی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے ستلج ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 4 53 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح 23 فٹ تک پہنچ گئی، دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال پر فوج بھی طلب کر لی گئی ہے، ریسکیو آپریشن سمیت امدادی سرگرمیوں میں فوج حصہ لے گی۔

    ڈپٹی کمشنر عمران علی نے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے مزید پانی کی آمد کا عندیہ بھی دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122، پولیس اور ریونیو عملہ رات بھر پانی میں پھنسے لوگ کو نکالنے میں مصروف رہا، ان کا کہنا تھا کہ ہنگامی صورتحال ہے اب 24 گھنٹے کام کریں اللہ تعالیٰ ہماری مدد کرے۔

    ڈپٹی کمشنر عمران علی نے کہا کہ لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اس مصیبت میں ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔ دوسری جانب دریائے چناب میں بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے، سیلابی پانی وزیر آباد کے متعدد دیہاتوں میں داخل ہوگیا، متاثرہ علاقوں میں سوہدرہ، رسول نگر، رتووالی شمال، گورالی، شامل ہیں، کوٹ کہلوان، چک علی شیر، جھامکے کے 5 مواضعات بھی شدید متاثر ہیں۔

    برج دھلا، بھرج چیمہ، گڑھی غلہ، کوٹ راتہ اور تھاٹی بلوچ کے علاقے بھی سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، ڈپٹی کمشنرگوجرانوالہ کے مطابق سیلاب متاثرہ علاقوں میں 13 ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے، ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ نے اب تک 5 ہزار 100 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے، سیلابی پانی سے 1 ہزار 700 جانوروں کا بھی انخلاء مکمل کیا گیا ہے،دریائے راوی میں ممکنہ سیلاب کے بارے میں الرٹ جاری کر دیاگیا ہے،فتیانہ، ماڑی پتن اور عالم شاہ کی آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    نارووال کے نالہ بئیں کا برساتی پانی آبادی میں داخل ہوگیا جہاں سے 126 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا۔ اسی طرح ظفروال میں پانی تیز بہاؤ کے باعث پل بہہ گیا۔ سیلاب کے نتیجے میں دریا کنارے کی درجنوں بستیاں زیر آب آ گئیں، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ مختلف اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال کے باعث وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر امدادی اقدامات کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں،سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پنجاب کے 7 اضلاع لاہور، اوکاڑہ، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، سرگودھا اور نارووال میں سول انتظامیہ کی امداد اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فوج طلب کرلی گئی ہے۔

    پنجاب کے 7 اضلاع میں ضلعی انتظامیہ نے فوج کی فوری تعیناتی کی درخواست کی تھی جس کے بعد آج محکمہ داخلہ پنجاب نے فوج کی فوری تعیناتی کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ لکھ دیا ہے، جس کے تحت فوج کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سیلابی صورتحال میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کو طلب کیا گیا ہے، بھارت کی آبی جارحیت سے پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال ہے، ان 7 اضلاع میں فوجی دستوں کی تعداد ضلعی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد طے ہوگی، سیلابی علاقوں میں آرمی ایوی ایشن سمیت دیگروسائل فراہم ہوں گے جبکہ پنجاب حکومت کےتمام ادارے سیلابی صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں، عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب این ڈی ایم اے نے دریائے چناب، راوی اور ستلج بارے ایمرجنسی الرٹ جاری کیا ہے، نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کے مطابق دریائے چناب، راوی اور ستلج میں غیر معمولی سیلابی صورتحال ہے، دریائے چناب میں مرالہ پر 7لاکھ69ہزار481 کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ موجود جو مزید تجاوز کر سکتا ہے۔

    دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر 7لاکھ 5ہزار225 کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ موجود، جسکا بہاؤ کم ہو رہا ہے،دریائے راوی میں جسر کے مقام پر 2 لاکھ2ہزار200 کیوسک کا اونچے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے جو 2 لاکھ29ہزار700 کیوسک پر پہنچ سکتا ہے،دریائے چناب کے اطراف میں 128 دیہات زیرِ آب آچکے ہیں تاہم لوگوں کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے 90 کروڑ روپے جاری کر دیے گئے ہیں۔

    دریائے چناب میں پانی بڑھنے سے سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن کے 41 دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ قریبی دیہات سے آبادی کا انخلا جاری ہے

    دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر72900 کیوسک کابہاؤ جاری ہے، سیلابی ریلے کی وجہ سے شاہدرہ،پارک ویو اور موٹر وے ٹو کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے، دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر 2.45 لاکھ کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلہ برقرار ہے، دریائے ستلج میں سلیمانکی کے مقام پرحالیہ بہاؤ 1 لاکھ 355 کیوسک سیلابی ریلہ برقرار ہے۔

    وزیراعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے تمام ریسکیو و ریلیف سرگرمیاں کی نگرانی کر رہا ہے،نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر 24 گھنٹے کے لئے مکمل فعال ہے،این ڈی ایم اے سول و عسکری اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے، دریاؤں کے کناروں اور واٹر ویز پر رہائش پذیر افرادکو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • سیالکوٹ ،355 ملی میٹر ریکارڈ بارش سے شہر زیرِ آب

    سیالکوٹ ،355 ملی میٹر ریکارڈ بارش سے شہر زیرِ آب

    سیالکوٹ میں ہونے والی طوفانی بارش نے شہر کو ڈبو دیا، اب تک 355 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

    مرکزی شہر اور گردونواح کے تمام علاقے زیرِ آب آگئے، کوئی سڑک، چوراہا، بازار یا محلہ ایسا نہیں جہاں 2 سے 3 فٹ پانی جمع نہ ہو۔بارش کے باعث معمولاتِ زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے، گلیاں اور بازار ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگے جبکہ پانی گھروں میں داخل ہونے سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔شدید بارش کے باعث واپڈا کے بیشتر فیڈرز ٹرپ کر گئے اور کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے۔نالہ ڈیک میں 70 ہزار کیوسک کا ریلا گزرنے سے متعدد دیہات متاثر ہوئے، جن کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا، ریسکیو ٹیموں نے سیلاب میں پھنسے درجنوں افراد کو بھی نکالا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اعلان کیا کہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا بوجھ حکومت پنجاب برداشت کرے گی۔سیکریٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے واسا کو الرٹ رہنے اور تمام نکاسی پوائنٹس پر عملہ و مشینری ہنگامی بنیادوں پر پہنچانے کی ہدایت دی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات جاری ہیں۔

    کیپٹو پاور لیوی کا فائدہ عوام کو منتقل کرنے کی منظوری

    امریکا میں پاکستانی سفیر کا ہر محاذ پر بھارت کا مقابلہ کرنے کا عزم

    کوئٹہ: ڈیگاری قتل کیس میں اہم پیشرفت، مقتولہ کا دیور گرفتار

    بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے 47 دہشت گرد ہلاک

  • دریائے ستلج میں پانی میں اضافہ،سیلاب کا الرٹ جاری

    دریائے ستلج میں پانی میں اضافہ،سیلاب کا الرٹ جاری

    قصور
    دریائے ستلج میں سیلاب، ضلعی انتظامیہ نے الرٹ جاری کر دیا

    تفصیلات کے مطابق دریائے ستلج میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے اور سیلاب کی صورتحال برقرار ہے
    گنڈا سنگھ والا (ڈی/ایس فیروز پور) میں پانی کی سطح 21.10 فٹ جبکہ اخراج 1,33,770 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے

    تلوار پوسٹ پر پانی کی سطح 9.20 فٹ،بکارکے پوسٹ پر ریڈنگ لیول 625.40 اور
    فتح محمد پوسٹ پر پانی کی سطح 11.70 فٹ ہے

    انتظامیہ کے مطابق دریائے ستلج میں پانی کی آمد کے باعث نچلے درجے کے علاقوں میں خطرہ بڑھ گیا ہے
    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوام کے لیے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ
    دریا کے کنارے اور نچلے علاقوں میں رہائش پذیر افراد فوری طور پر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں اور
    کسان حضرات اپنی فصلیں اور مال مویشی اونچے مقامات پر منتقل کریں
    عوام الناس غیر ضروری طور پر دریائی علاقوں کا رخ نہ کریں نیز کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں

    ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے

  • سوات : امدادی کارروائیوں کے دوران مدارس کے طلبا کی ایمانداری کی اعلیٰ مثال

    سوات : امدادی کارروائیوں کے دوران مدارس کے طلبا کی ایمانداری کی اعلیٰ مثال

    وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی اپیل پر مختلف مدارس کے ہزاروں طلبا خیبر پختونخوا میں آنے والے حالیہ سیلاب سے متاثر ہونے والے اضلاع میں دیگر اداروں کی طرح امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

    ریسکیو اداروں، فلاحی تنظیموں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں مدارس کے طلبا بھی خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں،وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی اپیل پر مختلف مدارس کے 3 ہزار طالبعلم امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

    مدارس کے طلبا کی امدادی کارروائیوں کے دوران کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سوات میں امدادی کارروائیوں کے دوران کچھ طلبا کو ایک گھر سے سونے کے زیورات ملے جو انہوں نے اپنے متعلقہ امیر کے سپرد کر دیےویڈیو میں ایک شخص کو پشتو زبان میں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ یہ زیوارت تصدیق کے بعد مالک کے سپرد کر دیے جائیں گے۔

    https://x.com/ziaurrehman76/status/1958538916178612405

    یاد رہے کہ کے پی میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، اس دوران سب سے زیادہ تباہی ضلع بونیر میں ہوئی جہاں مقامی افراد اپنے پیاروں کو کھونےکے بعد نفسیاتی مسائل سے بھی دوچار ہونے لگے ہیں ۔

  • متاثرین کی مدد و بحالی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، وزیراعظم شہباز شریف

    متاثرین کی مدد و بحالی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، وزیراعظم شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی مدد و بحالی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،سیلاب متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کا کام مکمل ہونے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، بحالی کے کاموں کو پورے خلوص کے ساتھ جاری رکھنا ہوگا جب تک یہ اپنے اختتام کو نہ پہنچ جائے۔

    وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حالیہ دنوں میں طوفانی بارشوں سے دریاؤں میں طغیانی آئی ہے، سوات، صوابی،مانسہرہ،شانگلہ میں بھی بے پناہ نقصانات ہوئے، خیبرپختونخوا میں بادل پھٹنے سے فلش فلڈنگ سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا-

    وزیراعظم نے کہا کہ بارشوں سے متاثرہ علاقے بونیر کا دورہ کیا، دورے کے دوران آرمی چیف بھی ہمراہ تھے جہاں بے پناہ نقصان ہوا، آفت کی اس گھڑی میں وفاق نے صوبائی حکومت ساتھ مل کر کام کیا، وفاقی وزرا نے امدادی کاموں میں بھرپور حصہ لیا، جب تک بحالی اور تعمیر نو کا کام مکمل نہیں ہوتا چین سے نہیں بیٹھیں گے،متاثرین کی مدد و بحالی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، سب مل کر کام جاری رکھیں گے۔

    بھارت اپنی عادت کے مطابق حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے،دفتر خارجہ

    وزیر اعظم نے کہا کہ امیر مقام کی زیر قیادت امدادی کارروائیاں جاری ہیں، سیلاب کے باعث مجموعی طور پر 700اموات ہوئیں،چین کے وزیرخارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا، جلد میں بھی چین کا دورہ کروں گا، ان کا کہنا تھا کہ پاک چین دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے۔

    برطانیہ کا سیلاب متاثرین کیلئے 13 لاکھ پاؤنڈ امداد کا اعلان

  • سیلاب متاثرین ہمارے اپنے ہیں ان کے لیے ہر حد تک جائیں گے، علی امین گنڈاپور

    سیلاب متاثرین ہمارے اپنے ہیں ان کے لیے ہر حد تک جائیں گے، علی امین گنڈاپور

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ،ریسکیو آپریشنز اور امدادی سرگرمیوں کی براہِ راست نگرانی کررہا ہوں، روزانہ کی بنیاد پر امدادی سرگرمیوں کی رپورٹ دیکھ رہا ہوں۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے نقصانات کا سروے مکمل ہوچکا ہے، ابتدائی تفصیلات کی بنیاد پر جامع حکمت عملی تیار کی جارہی ہے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرہ اضلاع میں ریسکیو آپریشنز جاری ہیں،سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف و بحالی کا کام بھی کر رہے ہیں، اور ان علاقوں میں کھانے، پینے سمیت رہائش کا بندوبست بھی کیا گیا ہے۔

    ڈیفالٹرز سے بجلی بلز کی ریکوریاں ڈسکوز کیلئے بدستور بڑا چیلنج ،480 ارب روپے کی وصولی کرنے میں ناکام

    انہوں نے بتایا کہ ریسکیو آپریشنز اور امدادی سرگرمیوں کی براہِ راست نگرانی کررہا ہوں، روزانہ کی بنیاد پر امدادی سرگرمیوں کی رپورٹ دیکھ رہا ہوں، متاثرین کو روزگار، گھروں کی تعمیرِ نو اور ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ سیلاب متاثرین کے لیے مزید فنڈز بھی مختص کیے جائیں گےخیبرپختونخوا حکومت اپنے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہی ہے، سیلاب متاثرین ہمارے اپنے ہیں ان کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔

    سندھ میں کوئی دوسرا صوبہ نہیں بنایا جائے گا۔شرجیل میمن

  • صوبائی حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ متاثرہ لوگوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پرکھڑا کر سکے،علی امین گنڈاپور

    صوبائی حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ متاثرہ لوگوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پرکھڑا کر سکے،علی امین گنڈاپور

    پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ متاثرہ لوگوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پرکھڑا کر سکے۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں سیلاب میں شہید افراد کےدرجات کی بلندی کے لیے دعا اور فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ سیلاب سے ہونے والےنقصانات، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ پہلےمرحلے میں ریسکیو آپریشن مکمل ہوگیا ہے تاہم لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے، شہداء کےاہلخانہ اور زخمیوں کو معاوضوں کی ادائیگی جاری ہے، سیلاب زدہ علاقوں میں املاک کےنقصانات کا ڈیٹا اکھٹا کیا جا رہا ہے، صوبائی حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ متاثرہ لوگوں کو دوبارہ اپنے پاؤں پرکھڑا کر سکے۔

    پی ٹی آئی نے سینیٹ کی خالی نشست پر اعجاز چوہدری کی اہلیہ کو ٹکٹ جاری کردیا

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جن جن کے گھر تباہ ہوئےہیں، انہیں گھر بنا کر دیں گے، جن کےکاروبار متاثر ہوئے ہیں انہیں بھی بھرپور پیکیج دیا جائےگا،لائیو اسٹاک کے نقصانات کا بھی معاوضہ دیا جائےگا،متاثرہ علاقوں میں بحالی اور امداد کے لیے3 ارب کےعلاوہ مزید 2 ارب روپے جاری کیےگئے ہیں-

    متنازع یوٹیوبر اور بگ باس او ٹی ٹی کے فاتح کے گھر پر مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ

  • موجودہ موسمی حالات میں مل کر کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے،وزیراعظم

    موجودہ موسمی حالات میں مل کر کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاق آج پھر صوبوں کے ساتھ مل کر موسمیاتی آفت کا مقابلہ کررہا ہے، سیلاب زدہ علاقوں میں امداد اور بحالی کے کاموں میں کوئی تفریق نہیں کی جائے، موجودہ موسمی حالات میں مل کر کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے-

    وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے پر بونیر میں خطاب کرتے ہوئےکہا کہ ناگہانی آفت میں جاں بحق افراد کےلواحقین سے افسوس کرنے آیا ہوں، اللہ تعالیٰ مرحومین کے درجات بلند کرے، شمالی علاقہ جات میں گزشتہ چند روز کے واقعات پر پوری قوم اشکبار ہے، انسانی جانوں کے ضیاع سے بڑھ کر دکھ کی کوئی اور بات نہیں ہوسکتی، بادل پھٹنے سےآبی ریلے نے طغیانی کی شکل اختیار کی جس سے نقصانات ہوئے ، 350 سے زائد افراد جاں بحق ، سیکڑوں زخمی اور لاپتا ہیں۔

    حکومتی فیصلے پر عمل نہیں ہوتا لیکن حکومت پر تنقید کی جاتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    انہوں نے کہا کہ 2022میں جب سیلاب آیا تو جہاں تک ممکن ہوسکا وہاں تک گیا تھا، 2022 کے سیلاب میں بھی دلخراش واقعات دیکھے تھے، وفاق نے2022کےسیلاب میں امدادی رقوم کےعلاوہ 100 ارب روپے دیے تھے، وفاق آج پھر صوبوں کے ساتھ مل کر موسمیاتی آفت کا مقابلہ کررہا ہے، سیلاب زدہ علاقوں میں امداد اور بحالی کے کاموں میں کوئی تفریق نہیں کی جائے، موجودہ موسمی حالات میں مل کر کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

    آئی سی سی نے نئی ون ڈے رینکنگ جاری کر دی ،رضوان اور شاہین کی تنزلی

    وزیراعظم نےکہا کہ غیرقانونی ہوٹل بنانا اور اس کی اجازت دینا ناقابل معافی جرم ہے، تجاوزات کے خلاف سخت پالیسی اپنانا ہوگی، دنیا کے کسی قانون میں تجاوزات کی کوئی گنجائش نہیں ہے،متعلقہ اداروں کے مطابق بارشوں کے مزید2 اسپیل آنے ہیں، متوقع بارشوں کے پیش نظر ہمیں اپنی تیاری کرنا ہوگی، ہم انسانی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو اپنا ہی نقصان کریں گے۔

    ربیع الاول کا چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 24 اگست کو طلب

    وزیراعظم نے کہا کہ پاک افواج اور سول انتظامیہ کے ریسکیو آپریشنز کو سراہتے ہیں، فیلڈ مارشل کی سربراہی میں پاک فوج دن رات سیلاب زدگان کی مدد کررہی ہے پاکستان ایک گھر ہے اس کو ہم سب نے مل کر سنوارنا ہے،قرضوں سےنجات کیلئے ہمیں اپنا پیسہ ٹھیک جگہ پر استعمال کرنا ہے، تجاوزات پیسے کے ضیاع کے مترادف ہیں، تحریک چلائیں کہ ندی نالوں کے ساتھ تعمیرات نہ ہوں،وفاق کےتمام وسائل متاثرہ عوام کیلئے بروئےکار لائیں گے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے انتہائی متاثرہ 10ممالک میں شامل ہے۔

    پاک امریکا تعلقات : دنیا فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کامیاب ڈپلومیسی کی معترف ،واشنگٹن پوسٹ

  • سیلاب متاثرین کی مدد ہمارا قومی فریضہ ہے، عطاء اللہ تارڑ

    سیلاب متاثرین کی مدد ہمارا قومی فریضہ ہے، عطاء اللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی مدد ہمارا قومی فریضہ ہے، وفاقی حکومت قومی ذمہ داری کے تحت اپنا کردار نبھا رہی ہے۔

    وزیر اعظم کی زیر صدارت سیلاب اور امدادی سرگرمیوں سے متعلق اجلاس کے بعد وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں مون سون کی حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال سمیت خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ملک کے مختلف حصوں میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں جاری امدادی اور ریسکیو آپریشنز کا بھی جائزہ لیا گیا، صوبائی حکومتوں کے ساتھ مؤثر انداز میں رابطہ کاری کی جا رہی ہے، این ڈی ایم اے کے ذریعے ابتدائی وارننگ سسٹم کے تحت متعلقہ حکام کو باقاعدگی سے ڈیٹا فراہم کیا جا رہا ہے، وزیر اعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے صوبائی حکومتوں سے رابطے میں ہے، متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    وفاقی کابینہ کی ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کو عطیہ کرنیکا اعلان

    وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی، مصدق ملک،نے کہا کہ متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جائیں گی، انہوں نے صوبائی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ مہم چلا کر دریاؤں اور پہاڑی نالوں کے کنارے رہنے والے لوگوں کو مستقل طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کریں۔

    این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننت جنرل انعام حیدر نے کہا کہ اتھارٹی متاثرہ علاقوں میں بروقت امداد اور مؤثر ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اب تک 670 افراد جاں بحق جبکہ ایک ہزار زخمی ہوئے ہیں۔

    نائیجیریا میں کشتی حادثہ، 40 افر ادلاپتہ

    انہوں نے مزید کہا کہ 420 سے زائد ریلیف کیمپس متاثرہ علاقوں میں فعال کر دیے گئے ہیں، مون سون کے مزید 2 سے 3 اسپیل متوقع ہیں اور موجودہ اسپیل جمعے تک جاری رہے گا، صورتحال ستمبر کے آخر تک معمول پر آ جائے گی، حکومت کی اولین ترجیح لوگوں کو ریسکیو کرنا اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہے،سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل مون سون سیزن ختم ہونے کے بعد شروع کیا جائے گا۔