Baaghi TV

Tag: شام

  • شام  :بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ، اسد دور کی جیلیں دوبارہ فعال

    شام :بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ، اسد دور کی جیلیں دوبارہ فعال

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شام میں بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے باوجود بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پرانی جیلیں ایک بار پھر بھر رہی ہیں اور نئی حکومت کے دور میں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات سامنے آ رہے ہیں شام میں سابق صدر بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد جن بدنام زمانہ جیلوں کو خالی کر دیا گیا تھا، وہ ایک بار پھر قیدیوں سے بھرنے لگی ہیں۔

    پورٹ کے مطابق صدر احمد الشراع کی قیادت میں قائم نئی حکومت کے دور میں سیکیورٹی بنیادوں پر گرفتاریاں دوبارہ معمول بنتی جا رہی ہیں،اسد کے زوال کے فوراً بعد قیدیوں کی رہائی اور جیلوں کے دروازے کھول دیے گئے تھے، تاہم جلد ہی گرفتار افراد کی نئی لہر شروع ہو گئی ابتدا میں اسد حکومت سے وابستہ فوجی اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا، اس کے بعد علوی، دروز اور دیگر اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی گرفتاریاں ہوئیں، جب کہ سنی اکثریت سے تعلق رکھنے والے شہری، انسانی حقوق کے کارکنان اور صحافی بھی ان کارروائیوں سے محفوظ نہ رہ سکے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کم از کم 28 ایسی جیلیں اور حراستی مراکز دوبارہ فعال ہو چکے ہیں جو اسد دور میں استعمال ہوتے تھے ان مراکز میں بڑی تعداد میں افراد کو بغیر کسی باضابطہ الزام، عدالتی کارروائی یا شفاف ریکارڈ کے قید رکھا جا رہا ہے۔ متعدد خاندانوں نے بتایا کہ وہ مہینوں تک اپنے عزیزوں کے بارے میں کسی اطلاع سے محروم رہے۔

    رائٹرز نے خاندانوں، سابق قیدیوں، وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے بات چیت کے بعد کم از کم 829 افراد کی نشاندہی کی ہے جو اسد کے زوال کے بعد سیکیورٹی بنیادوں پر گرفتار کیے گئے تاہم رپورٹ کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہےمتعدد خاندانوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ قیدیوں کی رہائی کے بدلے پیسے مانگے گئے، جب کہ کچھ افراد نے حراست کے دوران بدسلوکی اورغیر انسانی حالات کا سامنا کرنے کی شکایت بھی کی۔ رائٹرز کے مطابق کم از کم 11 افراد کی حراست کے دوران ہلاکت کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں سے بعض خاندانوں کو اپنے عزیزوں کی موت کی اطلاع بہت دیر سے ملی۔

    شامی وزارتِ اطلاعات نے رائٹرز کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابقہ حکومت کے جرائم میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے اور بعض گرفتاریاں اسی عمل کا حصہ ہیں وزارت کے مطابق ادارہ جاتی کمزوریوں کے باعث مسائل ضرور ہیں، تاہم اصلاحات اور احتساب کا عمل جاری ہے۔

    رائٹرز کے مطابق شام کی نئی قیادت کو ایک طرف ماضی کے جرائم کا احتساب کرنا ہے، تو دوسری جانب ایک مستحکم اور قانون پر مبنی نظام قائم کرنے کا چیلنج بھی درپیش ہے، جس میں اب تک خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی اسد کے زوال کے بعد شام میں من مانی گرفتاریاں، اغوا اور ماورائے عدالت کارروائیوں کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر حراستوں نے نئی حکومت کے اصلاحی دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

  • سعودی عرب کا شام میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

    سعودی عرب کا شام میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

    سعودی عرب نے شام میں 5.6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور شراکتی معاہدوں کا اعلان کیا ہے۔

    تقریباً 150 سرمایہ کاروں اور سعودی سرکاری و نجی شعبوں کے نمائندوں پر مشتمل وفد نے وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح کی قیادت مٰں آج جمعرات کو ہونے والے فورم سے قبل دمشق میں حکام سے ملاقاتیں کیں،سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح نے شام کے شہر’عدرا‘ میں سیمنٹ فیکٹری کا بھی افتتاح کیا –

    سعودی وزارت سرمایہ کاری کے مطابق یہ فورم دونوں برادر ممالک کے عوام کے مفاد میں پائیدار ترقی کے لیے تعاون کے مواقع تلاش کرنے اور معاہدوں پر دستخط کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔

    سعودی وزارت کے اعلامیے کے مطابق اعلان کردہ سرمایہ کاری میں ریئل اسٹیٹ، بنیادی ڈھانچہ، مواصلات و آئی ٹی، ٹرانسپورٹ، صنعت، سیاحت، توانائی، تجارت اہم اور اسٹریٹجک کے شعبے شامل ہیں،یہ منصوبہ مملکت کی جانب سے شام کی تعمیر نو اور اقتصادی تعاون بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

    بلوچ عوام پاکستان سے تاریخ، مذہب، ثقافت اور روایت کے رشتوں میں جُڑے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

    شام کی تعمیر نو کا منصوبہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی ہدایات پر شروع کیا گیا ہےجس کا مقصد دوطرفہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم اور شام کی اقتصاد ی ترقی میں تعاون کرنا ہے، سعودی وزیر سرمایہ کاری انجینیئر خالد الفالح منگل کو دمشق پہنچے ہیں وہ سعودی وفد کی سربراہی کررہے ہیں جس میں سرکاری اور نجی شعبے کے 150 سے زیادہ افراد شامل ہیں۔

    بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے مسلسل اضافہ،مودی حکومت خاموش تماشائی

  • برطانیہ کا شام سے مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان

    برطانیہ کا شام سے مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان

    برطانیہ نے شام کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات دوبارہ قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان شامی صدر بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ لیمی نے دمشق کے دورے کے دوران اس اہم پیش رفت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے تنازع کے بعد شامی عوام کے لیے نئی امید پیدا ہوئی ہے، اور برطانیہ نئی شامی حکومت کو مستحکم، محفوظ اور خوشحال مستقبل کی تعمیر میں مدد دینا چاہتا ہے۔

    ڈیوڈ لیمی کا یہ دورہ شام کے عبوری صدر احمد الشراع سے ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ شامی ایوانِ صدر کے مطابق یہ ملاقات دمشق میں ہوئی، جہاں وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے بھی برطانوی وزیر خارجہ کا استقبال کیا۔احمد الشراع کے دفتر سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے طریقوں اور علاقائی و عالمی حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    یہ پیش رفت برطانیہ اور شام کے درمیان تعلقات میں ایک اہم موڑ تصور کی جا رہی ہے، جو برسوں کے سفارتی تعطل کے بعد دوبارہ بحال ہو رہے ہیں۔

    چلاس میں گرمی کا 28 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    افغان بورڈ نے پاکستان کے ساتھ سہ ملکی ٹی20 سیریز کی تصدیق کر دی

    کراچی، گرنے والی عمارت کے ملبے تلے افراد کی تلاش جاری، متاثرہ خاندانوں کی امیدیں قائم

    نئے مالی سال میں متوسط طبقے کی گاڑیاں مہنگی، لگژری گاڑیاں سستی

    فضائی نگرانی کی صلاحیت ، پاکستان کا چین سے KJ-500 طیارہ خریدنے کا فیصلہ

    روسی تیل بھارت کے لیے اب سستا سودا نہیں رہا، رعایتیں کم ہونے لگیں

  • ٹرمپ نے شام پر اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیئے

    ٹرمپ نے شام پر اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیئے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کے ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کر دیئے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ شام پر سے 2004 میں لگائی گئیں ان پابندیوں کو اٹھایا جائے گا جس میں شامی حکومت کی جائیداد کو منجمد کیا گیا تھا،سابق شامی صدر بشارالاسد، داعش اور ایرانی اتحادیوں پر پابندیاں برقرار رہیں گی امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ امریکا شام کو دہشتگردی کی معاون ریاست قرار دینے کے فیصلے کا جائزہ لے رہا ہے۔

    دوسری جانب شامی وزیر خارجہ نے امریکا کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں اٹھانے سے شام عالمی برادری کے لیے کھل جائے گا، پابندیاں ہٹنے سے معاشی بحالی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی۔

    کراچی میں ٹرمپ کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نے مئی میں شام پر سے زیادہ تر پابندیاں اٹھا لی تھیں، جس کا مقصد سعودی عرب اور ترکیہ کی درخواستوں کا جواب دینا تھا، جب احمد الشرع نے اسد خاندان کی نصف صدی پر محیط حکومت کا خاتمہ کیا تھا،ایک ایگزیکٹو آرڈر میں، ٹرمپ نے 2004 سے نافذ ’قومی ہنگامی حالت‘ کو ختم کر دیا، جس کے تحت شام پر وسیع پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جن میں مرکزی بینک سمیت بیشتر سرکاری ادارے شامل تھے۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ اقدام ملک کے امن اور استحکام کے راستے کی حمایت اور فروغ دینے کی کوشش ہے۔

    اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم ، انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدامات ایک ایسے شام کے ساتھ نئے تعلقات قائم کرنے کے صدر کے وژن کی عکاسی کرتے ہیں، جو خود اپنے ساتھ اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن و ہم آہنگی میں ہو شام کو دہشت گردی کی معاون ریاستوں کی فہرست سے نکالنے کے ممکنہ طور پر طویل عمل کا آغاز کریں گے، جس کا یہ درجہ 1979 سے شام پر لگا ہوا ہے اور جس نے سرمایہ کاری کو سختی سے روکے رکھا ہے احمد الشرع اور ان کی تحریک ’حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کو دہشتگرد تنظیم کی فہرست سے نکالنے پر غور کریں گے، جس کا ماضی میں القاعدہ سے تعلق رہا ہے، امریکا نے الشرع کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کے سر کی قیمت بھی ہٹا دی تھی۔

    ٹریژری ڈپارٹمنٹ کے پابندیوں کے انچارج اہلکار بریڈ اسمتھ نے کہا کہ یہ اقدام شام کو بین الاقوامی مالیاتی نظام سے جوڑ دے گا، جو عالمی تجارت اور علاقائی و امریکی سرمایہ کاری کا راستہ ہموار کرے گا۔

    وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ حکم نامے میں کہا گیا کہ اسد کے زوال کے بعد شام میں تبدیلی آئی ہے، خاص طور پر صدر احمد الشرع کی قیادت میں نئی حکومت کے مثبت اقدامات کی وجہ سے یہ ممکن ہوا ہے۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

  • امریکا نے شام پر عائد پابندیاں باضابطہ طور پر اٹھا لیں

    امریکا نے شام پر عائد پابندیاں باضابطہ طور پر اٹھا لیں

    امریکا نے شام پر عائد پابندیاں باضابطہ طور پر اٹھا لیں۔

    امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ا مریکا نے شام پرعائد پابندیاں باضابطہ طور پراٹھالی ہیں، شام کو مستحکم ملک بننے کے لیے کام جاری رکھنا چاہیے، امریکی اقدامات شام کو استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں گے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ شام پرعائد پابندیوں میں 180 دنوں کی چھوٹ دی گئی ہے، پابندیاں اٹھانا امریکا اورشام کے تعلقات بحالی کی جانب پہلا قدم ہے-

    سکھوں کا عالمی عدالت میں بھارت کے ننکانہ صاحب پر ڈرون حملے کی تحقیقات کا مطالبہ

    یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران ریاض میں ہونے والے سرمایہ کاری فورم میں کیے گئے اعلان کے بعد عمل میں لایا گیا ہے صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات کے بعد شام پر پابندیاں اٹھانے کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم شام کی نئی حکومت کیساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں، ایک نئی شروعات کے لیے ہم نےشام پر سے پابندیاں اٹھانےکا فیصلہ کیا ہےامید ہے کہ شامی عوام اس موقع سےفائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے ملک کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    موسلادھار بارش اور ژالہ باری کی پیشگوئی

    شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے سعودی عرب میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی یہ 25 سال بعد شام اور امریکا کے سربراہان مملکت کی پہلی براہ راست ملاقات تھی، جو خطے میں نئے سیاسی دور کا اشارہ دے رہی ہے۔

  • شام : 23 وزراء پر مشتمل نئی حکومت کا اعلان

    شام : 23 وزراء پر مشتمل نئی حکومت کا اعلان

    دمشق:شام کے صدر احمد الشرع نے عبوری حکومت کا اعلان کر دیا ہے، جس میں 23 وزیروں کی تقرری کی گئی۔

    باغی ٹی وی :شام کے صدر احمد الشرع نے ہفتے کی شام نئی حکومت کی تشکیل کا اعلان کیا انھوں نے باور کرایا کہ وہ "ایک طاقت ور اور مستحکم ریاست کی تعمیر ” کے لیے پُر عزم ہیں،نئی حکومت میں وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور وزیر دفاع مرہف ابو قصرہ نے اپنے قلم دان برقرار رکھے،جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ انس خطاب کو وزیر داخلہ مقرر کیا گیا ہے۔

    عبدالرحمن الویس وزیر انصاف، محمد ابو الخیر شکری وزیر اوقاف، محمد عبدالرحمن وزیر تعلیم، محمد البشیر وزیر توانائی،محمد یشر برنیہ وزیر خزانہ، محمد نضال الشعار وزیر معیشت، مصعب العلی وزیر صحت اور مروان الحلبی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ہوں گے،نئی کابینہ میں یاروب بدر کو وزیرِ ٹرانسپورٹ جبکہ امجد بدر کو وزیرِ زراعت مقرر کیا گیا، امجد بدر دروز برادری سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ یاروب بدر علوی برادری سے ہیں۔

    صدر الشرعہ نے پہلی بار ایک وزارت برائے کھیل اور ایک وزارت برائے ایمرجنسی قائم کرنے کا اعلان کیا، اور ایمرجنسی وزارت کے وزیر کے طور پر وائٹ ہیلمٹس نامی امدادی گروپ کے سربراہ رائد صالح کو مقرر کیا گیا،ہند کبوات جو کہ ایک مسیحی خاتون ہیں اور اسد حکومت کے خلاف اپوزیشن کا حصہ رہی ہیں کو وزیرِ سماجی امور و محنت مقرر کیا گیا، ان کی خدمات خواتین کے حقوق اور بین المذہبی رواداری کے لیے رہی ہیں۔

    یہ کابینہ اس بات کا سنگ میل سمجھی جا رہی ہے کہ یہ اسد خاندان کی دہائیوں پر محیط حکمرانی کے خاتمے اور شام کے مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانےکی طرف اہم قدم ہےنئی حکومت جو کہ سنی اسلام پسندوں کی قیادت میں ہےمغرب اور عرب ممالک کیجانب سے ملک کی مختلف نسلی اور مذہبی برادریوں کی شمولیت پر زور دینے کے دباؤ میں رہی ہے، یہ دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب اس ماہ شام کے مغربی ساحل پر علوی مسلمانوں کے سینکڑوں افراد کے قتل کے بعد عالمی سطح پر مذمت کی گئی۔

    نئی حکومت کا اعلان کرتے ہوئے اپنے خطاب میں صدر احمد الشرع نے کہا کہ "ہم اس وقت اپنی تاریخ میں ایک نئے مرحلے کا جنم دیکھ رہے ہیں، نئی حکومت ، تبدیلی اور تعمیر کی حکومت ثابت ہو گی،ہم اپنے اداروں میں بد عنوانی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    شامی صدر نے باور کرایا کہ ہم قومی فوج بنانے پر کام کریں گے جو ملک کی حفاظت کرے، بجلی، تیل اور گیس کی وزارتوں کو وزارت توانائی میں ضم کر دیا گیا ہےشام میں نئے حکام سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد ملک کو دوبارہ سے متحد کرنے اور اس کے اداروں کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں۔

    واضح رہے کہ مسلح اپوزیشن گروپوں نے آٹھ دسمبر 2024 کو بشار الاسد کا تختہ الٹ دیا تھا جنوری میں عبوری صدر اعلان کیے جانے کے بعد احمد الشرع عبوری مرحلے کی انتطامیہ کے نگراں بن گئے یہ مرحلہ 5 برس تک جاری رہے گا، عبوری مرحلے کے بعد نئے آئین کی بنیاد پر ملک میں انتخابات کا اجرا ہو گا۔

  • شامی صدر کی روسی ہم منصب سے بشارالاسد کی واپسی کی درخواست

    شامی صدر کی روسی ہم منصب سے بشارالاسد کی واپسی کی درخواست

    دمشق: شام کے صدر احمد الشرع نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتین سے سرکاری طور پر درخواست کی ہے کہ وہ بشار الاسد کو ان کے حوالے کر دیں-

    باغی ٹی وی :عرب میڈیا کے مطابق شام کے صدر احمد الشرع نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے سرکاری طور پر درخوا ست کی ہےکہ وہ بشار الاسد کو ان کے حوالے کر دیں،اس اقدام کا مقصد شامی سرزمین پر بشار الاسد کے خلاف عدالتی کارروائی ہے۔

    رواں ماہ کے اوائل میں ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ شامی صدر الشرع نے بشار کی جانب سے ماسکو میں رکھی گئی مالی رقوم واپس کی جائیں، تاہم ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کچھ عرصہ قبل دمشق کا دورہ کرنے والے روسی وفد نے الشرع کو آگاہ کر دیا کہ بشار الاسد نے روس میں کوئی رقم ڈپازٹ نہیں کی ہے۔

    ضرورت پڑی تو حکومت کہیں بھی دہشتگردی کے خاتمے کیلئے آپریشن کر سکتی ہے،عرفان صدیقی

    ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے ایک روسی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ روس بشار کی حوالگی پر کبھی راضی نہیں ہو گا،روسی وفد کےدمشق کےدورے کےدوران میں شامی ذمے داران کا کہنا تھاکہ دونوں ملکوں کے بیچ تعلقات کی بحالی کے سامنے بشار کی واپسی کوئی بڑی رکاوٹ نہیں بنے گی۔

    پی سی بی کا نئے کھلاڑیوں کی تلاش کیلئے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کرنے کا اعلان

  • شام میں دو روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک

    شام میں دو روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک

    شام میں حکومتی فورسز اور معزول شامی صدر بشار الاسد کے حامیوں کے درمیان دو روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق جھڑپوں کے نتیجے میں انتقامی ہلاکتیں بھی ہوئیں، جس میں تقریباً 750 شہری، 125 سرکاری سکیور ٹی اہلکار، اور اسد سے منسلک 148 عسکریت پسند مارے گئے، ساحلی ریجن میں جاری جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز اوراتحادی گروپوں کے حملوں میں 311 عام شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ جھڑپوں کے بعد شمال مغربی ساحلی شہر لاذقیہ اور طرطوس میں کرفیو برقرار ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ دنوں معزول شامی صدر بشارالاسد کے حامیوں کی جانب سے گھات لگا کر حملے کیے گئے تھے، جو مربوط اور منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے شامی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں استحکام بحال کرکے عوام کی جان اور املاک کا تحفظ کریں گے۔

    پنجاب پولیس نے دہشتگردوں کا ایک اور حملہ ناکام بنا دیا

    واضح رہے یہ 8 دسمبر 2024 کو بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد سے نئی اتھارٹی کے خلاف اب تک کے سب سے زیادہ پرتشدد حملے ہیں۔

    پاکستان میں اتنا پیار ملا کہ خود کو شاہ رخ خان سمجھنے لگا،بھارتی صحافی

  • شام میں بغاوت کے سربراہ احمد الشرع عبوری صدر مقرر

    شام میں بغاوت کے سربراہ احمد الشرع عبوری صدر مقرر

    دمشق: شام کی عبوری حکومت نے ملک سے بشار الاسد کے طویل دور کے خاتمے اور باغی سربراہ کی حکمرانی کے تناظر میں اہم فیصلوں کا اعلان کیا ہے،یہ اعلانات دمشق میں مختلف مسلح دھڑوں کے اجلاس کے بعد کئے گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کے ترجمان ملٹری آپریشن کمانڈ حسن عبدالغنی نے اعلان کیا کہ ملک کا 2012 کا آئین معطل کردیا گیا ہےشام میں ایمرجنسی پروسیجر کے تحت اپنائے گئے قوانین بھی منسوخ کردیئے گئے ہیں۔

    علاوہ ازیں احمد الشرع سابق جنگجو المعروف ابو محمد الجولانی کو ملک کا نیا عبوری صدر مقرر کرتے ہوئے ایک عارضی قانون ساز کونسل بنانے کا بھی اختیار دیا گیاعبوری صدر کی جانب سے بنائی گئی عارضی قانون ساز کونسل ملک کے نئے آئین کی منظوری تک اپنا کام انجام دے گی۔

    شازیہ مری کا یوٹیلٹی اسٹورز کی بندش پر حکومتی یوٹرن پر تشویش کا اظہار

    شام میں متحارب مختلف مسلح دھڑوں کو تحلیل کرکے انھیں ریاستی اداروں میں ضم کیا جائے گا جو وزارت دفاع کے ماتحت ہوں گے شام میں جابر فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر دہائیوں تک حکومت کرنے والی بعث پارٹی کو ختم کیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ احمد الشرع المعروف ابو محمد الجولانی کی سربراہی میں ہونے والی مسلح بغاوت نے شام میں 5 دہائیوں سے زائد عرصے سے قائم اسد خاندان کا تختۂ اقتدار الٹ دیا تھا،بشار الاسد کو جب کہیں پناہ نہ ملی تو شکست قبول کرکے اپنے خاندان کے ہمراہ خصوصی طیار ے میں روس فرار ہوگئے تھے اور تاحال وہیں مقیم ہیں۔

    خیبرپختونخوا میں نئے آئی جی کی تعیناتی،علی امین کو گرفتاریوں کا خوف

  • پیٹرولیم کمپنی کا ملازم پاکستانی شہری شام میں لاپتا

    پیٹرولیم کمپنی کا ملازم پاکستانی شہری شام میں لاپتا

    پیٹرولیم کمپنی کا ملازم پاکستانی شہری شام میں خانہ جنگی کے دوران لاپتا جبکہ ان کے بیوی اور 2 بچے محصور ہوگئے.

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے شام میں محصور پاکستانی فیملی کی وطن واپسی کی درخواست پر 27 جنوری تک فریقین کو جواب جمع کروانے کی ہدایت کردی۔سندھ ہائی کورٹ میں شام میں محصور پاکستانی فیملی کی وطن واپسی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔وزارت خارجہ، شام میں پاکستانی سفارتخانے و دیگر کی جانب سے جواب جمع نہیں کروائے گئے۔وکیل نے درخواست گزار کا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ شام میں حالات تبدیل ہوچکے ہیں، محصور فیملی سے رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔

    درخواست گزار نے کہا کہ میری بہو اور اس کے دو بچے شام میں محصور ہیں، میرا بیٹا محمد کامران پیٹرولیم کمپنی میں ملازمت کرتا تھا، شام میں خانہ جنگی کے بعد بیٹا لاپتا ہے، بہو اور بچے پناہ گزین کیمپ میں رہائش پذیر تھے۔انہوں نے کہا کہ شام میں پاکستانی سفارت خانہ کوئی مدد نہیں کر رہا ہے وزیر اعظم دیگر ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے انتظامات کر رہے ہیں، شام میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے بھی انتظامات کیے جائیں۔

    کراچی کیلیے بجلی کی قیمت میں کمی کا امکان

    جنوبی افریقہ کو جھٹکا، فاسٹ بولر اینرچ نورکیا چیمپئنز ٹرافی سے باہر

    خیرپور، دریافت تیل و گیس کے ذخائر سے پیداواری عمل شروع

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ