Baaghi TV

Tag: شام

  • روس میں بشار الاسد کی صحت پر سوالات, زہر دینے کی افواہیں

    روس میں بشار الاسد کی صحت پر سوالات, زہر دینے کی افواہیں

    روس کے دارالحکومت ماسکو میں شامی صدر بشار الاسد کو مبینہ طور پر زہر دیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق، سابق شامی صدر بشار الاسد کو روس میں قتل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    گزشتہ ماہ دسمبر میں، جب شامی دارالحکومت دمشق پر اپوزیشن فورسز کا قبضہ ہونے والا تھا، بشار الاسد اپنے خاندان کے ہمراہ روس فرار ہو گئے تھے۔ روس نے انہیں اور ان کے خاندان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ فراہم کی تھی۔رپورٹ کے مطابق، جنرل ایس وی آر کے نام سے ایک آن لائن اکاؤنٹ سے بیان جاری کیا گیا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ روس کے ایک سابق اعلیٰ جاسوس کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ اس بیان میں بتایا گیا کہ 59 سالہ بشار الاسد اتوار کے روز ماسکو میں بیمار ہو گئے۔ انہیں شدید کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور دیگر علامات کا سامنا تھا، جس کے بعد انہوں نے فوری طور پر طبی امداد طلب کی۔اس اکاؤنٹ میں مزید کہا گیا کہ بشار الاسد کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور ان کا علاج ان کے اپارٹمنٹ میں کیا گیا۔ بعد ازاں ان کی حالت میں بہتری آئی اور پیر تک وہ مستحکم ہو گئے تھے۔ طبی ٹیسٹوں میں یہ بات سامنے آئی کہ بشار الاسد کو زہر دیا گیا تھا۔

    اگرچہ جنرل ایس وی آر کے اکاؤنٹ سے اس واقعے کی تفصیلات دی گئی ہیں، تاہم اس بیان میں ذرائع کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، یہ واقعہ عالمی میڈیا میں زیر بحث آ چکا ہے۔ دوسری طرف، روسی حکومت کی جانب سے اس انکشاف کی تاحال کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

    واضح رہے کہ بشار الاسد کی حکومت نے شام میں اپوزیشن کے خلاف شدید جنگ چھیڑ رکھی تھی اور 2011 سے جاری خانہ جنگی میں ان کی فوجی پوزیشن کافی کمزور ہو گئی تھی۔ جب دمشق پر اپوزیشن فورسز کا خطرہ بڑھا تو بشار الاسد نے اپنے خاندان کے ساتھ روس میں پناہ لی۔ روسی حکومت نے انہیں سیاسی پناہ دی تھی اور اس کے بعد وہ ماسکو میں مقیم ہیں۔اس نئے انکشاف نے عالمی سطح پر مختلف سوالات کو جنم دیا ہے اور بشار الاسد کی حفاظت کے حوالے سے مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تاہم روسی حکام نے اس بارے میں تاحال کسی بھی قسم کی وضاحت فراہم نہیں کی ہے۔

    26 نومبر احتجاج،250 ملزمان کی ضمانت منظور،150 کی خارج

    کیلیفورنیا میں چھوٹا طیارہ کمرشل عمارت سے ٹکرا کر تباہ، 2 ہلاک، 18 زخمی

  • شام کے عبوری لیڈر  احمد الشرع کا ہیئت التحریر الشام کی تحلیل کا فیصلہ

    شام کے عبوری لیڈر احمد الشرع کا ہیئت التحریر الشام کی تحلیل کا فیصلہ

    دمشق: بشار الاسد حکومت کا تختہ الٹنے والی فورسز کے سربراہ اور ملک کے عبوری رہنما احمد الشرع کا کہنا ہے کہ شام میں انتخابات کے انعقاد میں 4 سال لگ سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عرب ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے احمد الشرع کا کہنا تھا شام میں آئین کی تیاری میں 3 سال تک لگ سکتے ہیں اور انتخابات کے انعقاد میں 4 سال لگ سکتے ہیں قومی ڈائیلاگ کانفرنس میں ہیئت التحریر الشام کی تحلیل کا اعلان کریں گے،شام کے روس کے ساتھ اسٹریٹجک مفادات ہیں، ہم نہیں چاہتے روس شام سے تعلقات کو غیر موزوں طریقے سے چھوڑ دے شام کی وزارت دفاع کرد فورسز کو اپنی صفوں میں ضم کرے گی، امید ہے ٹرمپ انتظامیہ شام پر سے پابندیاں اٹھا لے گی۔

    دوسری جانب شامی انٹیلی جنس سروس کے نئے سربراہ انس خطاب نے اپنے عہدے پر تعیناتی کے بعد اپنے پہلے بیان میں اعلان کیا ہے کہ تمام شاخوں کو تحلیل کرنے کے بعد سکیورٹی ادارے کو دوبارہ تشکیل دیا جائے گا شامی عوام پچھلی حکومت کی ناانصافی اور ظلم کا شکار ہو چکے ہیں۔

    شام کے عبوری لیڈر احمد الشرع کا ہیئت التحریر الشام کی تحلیل کا فیصلہ

    شام کے اخبار "الوطن” نے ان کے پہلے کے بیانات کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ تمام فرقوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے ہمارے قابل فخر لوگ سابق حکومت کی ناانصافیوں اور ظلم و ستم سے بہت زیادہ نقصان اٹھا چکے ہیں۔ سابق حکومت کی مختلف سکیورٹی سروسز نے زمین پر تباہی مچا دی تھی اور انہوں نے لوگوں کو مختلف سانحات سے گزارا تھا۔

    شامی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ نے مزید کہا کہ اس حوالے سے صرف اللہ ہی کا شکر ہے کہ شام کا بابرکت انقلاب 13 سال کی قربانیوں کے بعد فتح یاب ہوگیا۔ اس دوران شام کے سپوتوں نے لگن، صبر اور استقامت کا نمونہ پیش کیا۔

    ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟
    گزشتہ منگل کو نئی حکومت کے ایک اجلاس کے دوران ایک معاہدہ طے پا گیا تھا جس میں تمام دھڑوں کو تحلیل کرنے اور انہیں وزارت دفاع کی چھتری میں ضم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا انتظامیہ نے وضاحت کی ہے کہ یہ قدم عسکری ادارے کی تنظیم نو اور ملک میں فوجی اور سیکورٹی فیصلہ سازی کے اتحاد کو مضبوط بنانے کے فریم ورک کے تحت آتا ہے

    واضح رہے کہ شام میں اپوزیشن فورسز نے چند روز کے بعد ملک کے بڑے شہروں پر قبضہ کرتے ہوئے سابق صدر بشار الاسد کو ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا تھا، بشار الاسد اپنی فیملی کے ساتھ روس فرار ہو گئے تھے جہاں انہوں نے سیاسی پناہ لے لی ہے۔

    عطاء اللہ تارڑ نے کے پی حکومت کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کردیا

  • اسرائیل کی جانب سے شام پر  نیوکلئیر حملہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کی جانب سے شام پر نیوکلئیر حملہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے 16 دسمبر 2024 کو شام کے شہر طرطوس میں ہتھیاروں کے گودام پر ایک بڑا فضائی حملہ کیا تھا،جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پا گردش کر رہی ہے-

    باغی ٹی وی:انڈین ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) نے 16 دسمبر 2024 کو شام کے شہر طرطوس میں ہتھیاروں کے ڈپو پر فضائی حملہ کیا، اسرائیل نے مبینہ طور پر شام میں واقع سکڈ میزائل کی تنصیب کو تباہ کر دیا، تاہم، رپورٹس میں یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ اس حملے سے ہونے والا نقصان زیادہ سنگین تھا اور اسرائیل کی طرف سے ایک چھوٹا جوہری ہتھیار استعمال کیا گیا ہو گا، وہ حملہ اسرائیل کی جانب سے شام پر چھوٹا نیوکلئیر دھماکہ تھا-

    یونان کشتی حادثہ: ایف آئی اے کے 31 افسران اور اہلکاروں کےملوث ہونے کا انکشاف

    رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل نے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر حملے کے ذریعے شام میں واقع سکڈ میزائل کی تنصیب کو تباہ کیا، تاہم رپورٹس میں یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ اس حملے سے ہونے والا نقصان بہت سنگین تھا اور اسرائیل کی جانب سے شام پر چھوٹا نیوکلئیر حملہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

    دھماکے کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سامنے آئی ہے اسرائیلی حملے کے نتیجے میں زور دار دھماکے کے ساتھ 3 شدت کا زلزلہ بھی آیا تھا زلزلے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ 820 کلومیٹر دور ترکی کے شہر ازنک تک محسوس کیا گیا۔

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں سے ملاقات

    روسی میڈیا تنظیم سپوتنک نے اس دوران کہا تھا کہ اسرائیل نے اسے ایک جنگی جہاز سے نئے میزائل سے نشانہ بنایا ہے تاہم کچھ رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ دھماکے میں امریکا کا تیار کردہ B61 ایٹمی بم استعمال ہوا تھا۔

    کچھ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دھماکے کے 20 گھنٹے بعد بھی ترکی اور قبرص میں تابکاری کی سطح معمول سے زیادہ تھی یہ ڈیٹا یورپی یونین کے ریڈی ایشن مانیٹرنگ سسٹم نے فراہم کیا، لوگوں کو یہ لگا کہ شاید کوئی چھوٹا ایٹمی ہتھیار استعمال کیا گیا ہے۔

    جعلسازی سے شناختی کارڈ حاصل کرنے والی 3 بنگالی خواتین گرفتار

    20 دسمبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے تک جاری رہنے والے امن مشن میں توسیع کے بعد اسرائیلی فورسز اتوار (22 دسمبر) کو گولان کی پہاڑیوں میں شام-اسرائیل جنگ بندی لائن کے ساتھ ساتھ کام کرتی رہیں، اقوام متحدہ کے مشن میں چھ ماہ کی توسیع کی گئی اور سلامتی کونسل نے خدشہ ظاہر کیا کہ علاقے میں فوجی سرگرمیاں کشیدگی میں اضافہ کر سکتی ہیں۔

    شیطانی پھونک سے یادداشت کو مٹا کر لوگوں کو لوٹنے والی خاتون گرفتار

  • شام:  عبوری حکومت کے کمانڈر انچیف نے نئی ملٹری پالیسی جاری کردی

    شام: عبوری حکومت کے کمانڈر انچیف نے نئی ملٹری پالیسی جاری کردی

    دمشق: شام میں بشار الاسد کی حکومت کا ےختہ الٹنے والے باغی رہنما اور عبوری حکومت کے کمانڈر انچیف احمد الشراح المعروف ابو محمد الجولانی نے ملک کی نئی ملٹری پالیسی جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق دہائیوں سے جنگ زدہ شام میں بغاوت کے بعد بننے والی عبوری حکومت کے کمانڈر انچیف احمد الشراح سے آج سعودی وفد، ترک وزیر خارجہ اور اقلیتی دروز فرقے کے رہنما نے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور بغاوت کے بعد شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

    احمد الشراح نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جلد ہی شام کے مسلح دھڑے خود کو تحلیل کرکے شامی فوج میں داخل ہونے کا اعلان کرنا شروع کر دیں گے ریاستی کنٹرول سے باہر ملک میں ہتھیار رکھنے کی قطعی اجازت نہیں دیں گے چاہے وہ انقلابی دھڑوں سے ہوں یا ایس ڈی ایف کے علاقے میں موجود دھڑے ہوں، ملک میں مختلف گروہوں کے پاس موجود اسلحہ ریاست کے کنٹرول میں آ جا ئیں گے اور یہ ملک میں قیام امن کے لیے بے حد ضروری ہے۔

    اقلیتی دروز فرقے کے رہنما سے ملاقات کے بعد احمد الشراح کا کہنا تھا کہ ہم فرقوں اور اقلیتوں کے جان و مال اور مقدس مقامات کی حفاظت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں ملک میں فرقہ ورانہ فسادات اور ملک کی موجودہ صورت حال سے فائدہ اُٹھانے کی "بیرونی” کوششوں کو بھی ناکام بنائیں گے۔

  • بشارالاسد مشکل میں،اقتدار جانے کے بعد بیوی بھی جانے کو تیار

    بشارالاسد مشکل میں،اقتدار جانے کے بعد بیوی بھی جانے کو تیار

    شام کے معزول صدر بشار الاسد کی اہلیہ، برطانوی نژاد اسماء الاسد نے روس کی عدالت میں طلاق کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔

    ترک اور عرب میڈیا کے مطابق اسماء الاسد اس وقت ماسکو میں خوش نہیں ہیں اور وہ لندن واپس جانا چاہتی ہیں۔ واضح رہے کہ 2011 میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد بشار الاسد اپنے خاندان کے ہمراہ روس فرار ہو گئے تھے، جہاں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں سیاسی پناہ دی تھی۔اسماء الاسد نے روس کی عدالت میں طلاق کی درخواست کے ساتھ ساتھ ماسکو چھوڑنے کی خصوصی اجازت کی درخواست بھی دائر کی ہے۔ ان کی درخواست پر روسی حکام غور کر رہے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، اسماء کے پاس برطانیہ اور شام کی دوہری شہریت ہے، اور وہ لندن میں شامی والدین کے یہاں پیدا ہوئیں۔ وہ 2000 میں شام گئی اور اسی سال 25 سال کی عمر میں بشار الاسد سے شادی کی تھی۔

    اگرچہ روس نے بشار الاسد کی سیاسی پناہ کی درخواست قبول کر لی ہے، لیکن وہ اب بھی سخت پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بشار الاسد کو ماسکو چھوڑنے یا کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔ روسی حکام نے بشار الاسد کی جائیداد اور رقم بھی ضبط کر لی ہے، جس میں 270 کلو سونا، 2 بلین ڈالر اور ماسکو میں 18 اپارٹمنٹس شامل ہیں۔سعودی اور ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق، بشار الاسد کے بھائی مہر الاسد کو روس میں سیاسی پناہ نہیں دی گئی ہے اور ان کی درخواست کا ابھی تک جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مہر الاسد اور اس کا خاندان اس وقت روس میں نظر بند ہیں۔

    یہ پیش رفت اس بات کا غماز ہے کہ بشار الاسد اور ان کے خاندان کے لیے صورتحال پیچیدہ ہو چکی ہے۔ روس میں سیاسی پناہ کی درخواستیں اور ان کے ساتھ جڑے مسائل عالمی سطح پر اس بات کا اشارہ ہیں کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت اور ان کے خاندان کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسماء الاسد کی طرف سے طلاق کی درخواست نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کی نیت رکھتی ہیں، جس سے مزید سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔

    اسعد الشیبانی شام کے عبوری وزیر خارجہ منتخب

    امریکا نے شامی باغی رہنما کی گرفتاری پر 10 ملین ڈالر کا انعام ختم کر دیا

    13 سال بعد گھر آیا تو والدہ سجدے میں تھیں،شامی نوجوان کی کہانی

    بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

  • بائیڈن انتظامیہ کو ایران کے جوہری ہتھیاروں بارے گہری تشویش

    بائیڈن انتظامیہ کو ایران کے جوہری ہتھیاروں بارے گہری تشویش

    واشنگٹن: امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کو ایران کے جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ خطرے کے حوالے سے گہری تشویش ہے۔

    انہوں نے یہ بات واشنگٹن میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تفصیل سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔سلیوان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن مقاصد کے بجائے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے یورینیئم کی افزودگی میں اضافے کے بعد یہ خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں، کیونکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف توانائی کی پیداوار کے لیے ہے، مگر امریکہ اس دعوے سے مطمئن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوران ایران کے جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا تھا اور اس خدشے کو آج بھی برقرار رکھا ہے۔ جیک سلیوان نے یہ بھی کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کے اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ سکتا ہے، جو کہ عالمی امن کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہو گا۔

    امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے ایران کی جوہری صلاحیت میں کمی آئی ہے۔ ان حملوں کی وجہ سے ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کمزور ہوئی ہے اور اس سے ایران کی دفاعی پوزیشن متاثر ہوئی ہے۔سلیوان نے مزید کہا کہ یہ صورت حال سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے کے حوالے سے ایک معاون قدم ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران کی کمزور پوزیشن عالمی سطح پر اس کے خلاف مزید دباؤ ڈالنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

    جیک سلیوان نے شام میں ایرانی اثر و رسوخ کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ شامی صدر بشارالاسد کے زوال سے ایران کی علاقائی پوزیشن کو سخت دھچکا پہنچا ہے۔ اس سے ایران کا مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ کم ہوا ہے، جس کے باعث ایران کی حکمت عملی اور طاقت پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اس تمام صورتحال کے پیش نظر امریکہ نے عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام اور اس کی خطے میں بڑھتی ہوئی موجودگی کے حوالے سے سخت نگرانی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

  • اسعد الشیبانی شام کے عبوری وزیر خارجہ منتخب

    اسعد الشیبانی شام کے عبوری وزیر خارجہ منتخب

    شام میں ملٹری آپریشنز کے محکمے کی جنرل کمان نے آج ہفتہ کو اعلان کیا ہے کہ اس نے اسعد حسن الشیبانی کو عبوری حکومت میں خارجہ امور کا عہدہ سونپا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق جنرل کمانڈ نے شام کی نئی حکومت میں مسٹراسعد حسن الشیبانی کو وزارت خارجہ کا قلمدان سونپنے کا اعلان کیا ہے”۔

    واضح رہے کہ الشیبانی کا تعلق بنی شیبان سے ہے وہ 1987ء میں الحسکہ گورنری میں پیدا ہوا ہوئے وہ اپنے خاندان کے ساتھ دمشق میں منتقل ہوئے جہاں انہوں نے 2009 میں دمشق یونیورسٹی سے آرٹس اینڈ ہیومینٹیز اور انگریزی زبان ادب میں گریجوایشن کی۔

    انہوں نے 2011ء میں شامی انقلاب کے آغاز سے ہی اس میں شمولیت اختیار کی شامی سالویشن گورنمنٹ کے قیام میں حصہ لیا اور سیاسی امور کے محکمے کی بنیاد رکھی انہوں انسانی ہمدردی کے میدان میں کام کیا اقوام متحدہ اور اس کی ایجنسیوں کے ساتھ تعلقات قائم کیے اور شمال مغربی شام میں انسانی ہمدردی کے کاموں میں سہولت فراہم کی۔

  • مسلح گروپوں کو نئی فوج میں ضم کیا جائے گا،احمد الشرع

    مسلح گروپوں کو نئی فوج میں ضم کیا جائے گا،احمد الشرع

    دمشق:شام کے نئے رہنما احمد الشرع نے کہا ہے کہ مسلح گروپوں کو نئی فوج میں ضم کیا جائے گا-

    باغی ٹی وی: شام میں جنرل کمان نے اعلان کیا کہ احمد الشرع نے فوجی گروپوں سے ملاقات کی اور عسکری ادارے کی شکل کے بارے میں بات چیت کی ہے، ان دھڑوں کو وزارت دفاع کے زیر انتظام نئی فوج کے ایک ادارے میں ضم کر دیا جائے گا۔

    قبل ازیں احمد الشرع نے کہا تھا کہ تمام دھڑوں کو تحلیل کر دیا جائے گا اور شامی ریاست کے سوا کسی کے ہاتھ میں ہتھیار نہیں ہوگا اور شام میں اب جبری بھرتی نہیں ہو گی، انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ شام میں تنخواہوں میں 400 فیصد اضافہ کرنے کے لیے کام کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

    "العربیہ” کے مطابق احمد الشرع نے زور دیا تھا کہ شام افغانستان میں تبدیل نہیں ہو سکتا، انہوں نے کہا ملک جنگ سے تھک چکا ہے اور شام سے اس کے پڑوسیوں یا مغرب کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے انہوں نے دمشق پر سے تمام امریکی اور یورپی پابندیاں اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا تھا تاکہ شام دوبارہ اٹھ سکے۔

    انہوں نے اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ کی درجہ بندی کے مطابق ’’ھیئہ تحریر الشام‘‘ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کا بھی مطالبہ کیا سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے احمد الشرع نے ایک سے زیادہ مرتبہ اس بات پر زور دیا ہے کہ شام کے کسی بھی جز کو خارج کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے تمام شہریوں کے اتحاد پر زور دیا۔

    واضح رہے کہ 27 نومبر کو شام میں مسلح گروپوں نے اپنی کارروائیاں شروع کی تھیں اور پھر 8دسمبر کو بشار الاسد کی حکومت کو الٹ دیا تھا۔

  • امریکا نے شامی باغی رہنما کی گرفتاری پر  10 ملین ڈالر کا انعام ختم کر دیا

    امریکا نے شامی باغی رہنما کی گرفتاری پر 10 ملین ڈالر کا انعام ختم کر دیا

    دمشق:امریکہ کے ایک سینئر سفارتکار نے اعلان کیا ہے کہ شام کے نئے رہنما احمد الشرع کی گرفتاری پر 10 ملین ڈالر کا انعام ختم کر دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی:الجزیرہ کے مطابق یہ اعلان ایک ایسی بغاوت کے بعد کیا گیا ہے جس نے صدر بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹا دیا محکمہ خارجہ کی معاون وزیر برائے مشرق قریب باربرا لیف اور دیگر امریکی حکام نے شامی دارالحکومت دمشق کا دورہ کیا اور نئی شامی حکومت کے ساتھ بات چیت کی، جس کے بعد امریکہ کی طرف سے مقرر کیا گیا انعام ہٹانے کا اعلان کیا گیا۔

    الجزیرہ کے مطابق یہ امریکی سفارتکاروں کا شام کا پہلا دورہ تھا، جو اس وقت کیا گیا جب بشار الاسد کو رواں ماہ کے شروع میں ھیئۃ تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) گروپ کی قیادت میں ہونے والے تیز حملے کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹایا گیا تھا، امریکہ نے 2018 میں ایچ ٹی ایس کو ایک "دہشت گرد” تنظیم قرار دیا تھا، الشرع جو ابو محمد الجولانی کے نام سے بھی مشہور ہیں، اس گروپ کے رہنما ہیں ، وہ پہلے القاعدہ سے وابستہ تھے۔

    باربرا لیف نے بتایا کہ الشرع کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں مثبت پیغامات ملنے کے بعد انعام ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جن میں یہ وعدہ بھی شامل تھا کہ "دہشت گرد” گروہ خطرہ پیدا نہیں کر سکیں گے انہوں نے کہا، "میں نے انہیں بتایا کہ ہم وہ انعام واپس لے رہے ہیں جو کئی سالوں سے نافذ العمل تھا۔”

    رپورٹ کے مطابق دمشق کے دورے میں لیف کے ساتھ سابق خصوصی ایلچی ڈینیئل روبنسٹین اور یرغمالیوں کے معاملات کے امریکی ایلچی راجر کارسٹنز بھی شامل تھے امریکی حکومت اور دیگر مغربی ممالک ایچ ٹی ایس کی "دہشت گرد” تنظیم کے طور پر درجہ بندی ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں، یہ شام کے نئے سیاسی ماحول کے پیش نظر ایک اہم اقدام ہو سکتا ہے۔

  • بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

    بشار الاسد شام سے کیسے فرار ہوئے، تفصیلات آ گئیں

    شام کے سابق صدر بشارالاسد کا اقتدار ختم ہونے کے بعد ایران کی مشرق وسطیٰ میں پوزیشن مزید کمزور ہو گئی ہے، اور اسرائیل اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس حوالے سے کئی اہم اور حیران کن تفصیلات سامنے آئی ہیں جن میں بشارالاسد کے شام سے فرار کی کہانی اور اس کے بعد اسرائیل کی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بشارالاسد نے اپنے ملک چھوڑنے سے قبل اپنے معاونین، قریبی رشتہ داروں اور فوجی حکام کو بھی اپنی اصل صورتحال سے لاعلم رکھا۔ حتیٰ کہ اپنے چھوٹے بھائی ماہر الاسد اور فوجی کمانڈروں کو بھی ان کی روانگی کے بارے میں کچھ نہ بتایا۔ایک اہم رپورٹ کے مطابق، بشارالاسد نے ملک چھوڑنے سے کچھ گھنٹے پہلے اپنے فوجی افسران سے ملاقات کی اور روس سے فوجی مدد آنے کی یقین دہانی کرائی۔ اسی دوران، بشارالاسد نے اپنے دفتر کے منیجر کو بتایا کہ وہ اپنے گھر جا رہے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہو گئے، جہاں سے وہ روسی ایئر بیس پہنچے اور وہاں سے ماسکو روانہ ہو گئے۔

    شام کے حکمران بشار الاسد کی اپنے ملک سے فرار کی تفصیلات اب منظر عام پر آچکی ہیں، جس کے مطابق ان کا یہ فرار روسی حمایت سے عمل میں آیا اور اس کی منصوبہ بندی مکمل طور پر خفیہ رکھی گئی تھی، یہاں تک کہ ان کے قریبی معاونین اور اہل خانہ بھی اس سے لاعلم تھے۔جب باغی فوجیں دمشق کے قریب پہنچنا شروع ہوئیں اور اس بات کا امکان بڑھا کہ بشار الاسد کا اقتدار ختم ہونے والا ہے، تو ماسکو نے مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ انہیں شام سے باہر نکالا جا سکے۔اس منصوبے کے بارے میں کسی کو بھی اطلاع نہیں دی گئی، اور 8 دسمبر کی صبح جلدی بشار الاسد نے دمشق کے ایئرپورٹ سے اپنے نجی طیارے میں سوار ہو کر سفر شروع کیا۔ طیارہ سمندر کی سمت میں روانہ ہوا اور پھر اچانک غائب ہوگیا، امکان ہے کہ طیارے کے پائلٹس نے فلائٹ ٹریکنگ سسٹم کو بند کر دیا تھا تاکہ ان کی پوزیشن کا پتہ نہ چل سکے۔یہ طیارہ شام کے شہر حمص کے اوپر ایک یو ٹرن لینے کے بعد غائب ہوگیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طیارہ روسی فضائی اڈے "حمیمیم” کی طرف جا رہا تھا، جو شمال مشرقی شام کے شہر لاذقیہ کے قریب واقع ہے۔یہ نجی طیارہ بعد ازاں حمیمیم ایئر بیس پر پہنچا، جہاں بشار الاسد کو روسی فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا اور ماسکو کے لیے پرواز کی گئی۔

    اسد کا فوری خاندان، بشمول ان کی برطانوی نژاد بیوی اسماء اور تین بالغ بچے، پہلے ہی ماسکو پہنچ چکے تھے، جہاں انہیں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی طرف سے پناہ دی گئی تھی۔اس کے فوراً بعد، اسلامی گروہ "حیات تحریر الشام” کی قیادت میں باغیوں نے دمشق پر قبضہ کر لیا اور اسد کی حکومت کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی بشار الاسد اور ان کے خاندان کا 50 سالہ حکومتی دور اور 24 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوا، جس نے شام میں جاری خونریز 13 سالہ خانہ جنگی کو بھی ایک نیا موڑ دیا۔باغیوں نے اسد کے محلوں اور ذاتی گھروں پر دھاوا بول دیا، اور لوٹ مار کے دوران ان کے ذاتی سامان اور عیاشی کی زندگی کی تصاویر سامنے آئیں۔ ایک ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا کہ اسد کے گھر میں پکایا ہوا کھانا چولہے پر رکھا تھا، جبکہ خاندانی فوٹو البمز اور دستاویزات بھی بکھری ہوئی تھیں۔

    سات دن بعد اسد نے اپنی خاموشی توڑی اور اپنے پریسیڈنشل ٹیلی گرام چینل پر ایک حیران کن بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے شام چھوڑنے کے اپنے آخری لمحات کی تفصیلات دی۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ 8 دسمبر کی صبح دمشق سے حمیمیم کی طرف روانہ ہوئے، لیکن ان کا یہ کہنا تھا کہ وہ شام چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے کیونکہ روسی فضائی اڈہ ڈرون حملے کا شکار ہوا، جس کے نتیجے میں روس نے ان کی ایمرجنسی ایواکیوشن کا حکم دیا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے شام چھوڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور نہ ہی کسی نے انہیں اقتدار چھوڑنے یا پناہ گزینی کی تجویز دی۔ "میں دمشق میں اپنے فرادی ذمہ داریوں کو پورا کر رہا تھا اور دہشت گردوں کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا”، اسد نے اپنے آپ کو ایک محب وطن رہنما اور خاندان کے فرد کے طور پر پیش کیا جو اپنے عوام کے ساتھ جنگ کے دوران موجود رہا، حالانکہ ان کی افواج، جو روس، حزب اللہ اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے ساتھ تھی، ہزاروں شہریوں کے قتل کی ذمہ دار تھیں۔

    ہفتہ کے روز، جب بشار الاسد ماسکو کے لیے روانہ ہو رہے تھے، انہوں نے دفاعی وزارت میں تقریباً 30 فوجی اور سیکیورٹی افسران سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ روسی فوجی مدد جلد پہنچنے والی ہے اور فورسز کو دباؤ کا سامنا کر کے لڑنے کی ہدایت دی۔ ایک افسر کے مطابق اس ملاقات کے دوران اسد نے اپنی فوجیوں کو ہمت دی تھی۔اسد کے دفتر کے اسٹاف کو بھی ان کے فرار کے منصوبے کی خبر نہیں تھی۔ اس کے ایک معاون نے بتایا کہ اسی رات اسد نے اپنے میڈیا مشیر بثینہ شعبان کو گھر آنے اور ان کے لیے خطاب لکھنے کو کہا، لیکن جب وہ پہنچیں تو وہاں کوئی نہیں تھا۔اسد کے آخری وزیر اعظم، محمد جلالی نے اس ہفتے سعودی ٹی وی "العربیہ” کو بتایا کہ انہوں نے 8 دسمبر کی رات اسد سے بات کی تھی، اور اسد نے ان سے کہا تھا: "کل ہم دیکھیں گے، کل، کل۔”جلالی کے مطابق، اسد کا آخری جملہ یہی تھا، اور جب انہوں نے اگلے دن صبح اسد کو دوبارہ کال کرنے کی کوشش کی، تو ان کا فون بند تھا۔

    بشارالاسد کے فرار کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ ان کا اقتدار اب ختم ہو چکا تھا۔ شامی حکومت کے اہم عہدے داروں اور ایرانی حکام سے مل کر بشارالاسد نے اپنا بچاؤ کرنے کی کوشش کی، لیکن جب روس نے ان کی فوجی مداخلت کی درخواست کو نظرانداز کیا، تو وہ مجبور ہو گئے کہ ملک چھوڑ کر روس چلے جائیں۔اسرائیل کی فوج نے شام میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کیا اور اس نے شام کی اہم دفاعی تنصیبات کو تباہ کرنا شروع کر دیا۔ اسرائیل کی فضائیہ نے شام کے فضائی دفاع کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا اور اس کے بعد اسرائیلی فورسز نے شامی سرحد کے بفر زون کو پار کر لیا، جس کے نتیجے میں اسرائیل نے اہم اسٹریجک پہاڑی "ماؤنٹ حرمن” کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا۔اسرائیل کی دفاعی افواج کا خیال ہے کہ شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے اور ایران کے پراکسیز کی کمزوری کے بعد ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کا موقع میسر آ چکا ہے۔ اسرائیل کی فضائیہ اس وقت ایران پر حملوں کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید مستحکم کر رہی ہے، اور اس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچانا ہے۔

    بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایران کو سب سے بڑا نقصان پہنچا ہے کیونکہ شام ایران کا اہم اتحادی تھا اور اس کی حکومت کے تحت ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں کا اہم نیٹ ورک قائم تھا۔ ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں میں حزب اللہ، حماس اور یمن کے حوثی باغی شامل ہیں جو اسرائیل اور دیگر عرب ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج تھے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کو امریکہ اور اسرائیل کی سازش قرار دیا ہے اور اس میں شام کے ہمسایہ ممالک خاص طور پر ترکی کے کردار کا ذکر کیا ہے۔ تاہم، ایران کی اس سازش میں کامیابی کے باوجود اسرائیل نے شام میں اپنی پوزیشن مضبوط کی اور ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں تیز کر دیں۔

    شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد باغیوں نے عبوری حکومت قائم کر لی ہے، جس کی قیادت ابو محمد الجولانی کر رہے ہیں، جو ماضی میں القاعدہ کا حصہ رہ چکے ہیں۔ اس تبدیلی کے بعد، شام میں ایران کا اثر و رسوخ تقریباً ختم ہو چکا ہے، اور اسرائیل نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔شام کے نئے حکومتی ڈھانچے کی قیادت ابو محمد الجولانی کر رہے ہیں، اور انہوں نے دمشق کی مسجد امیہ میں اپنے خطاب میں کہا کہ یہ فتح خطے میں نئی تاریخ رقم کرے گی۔ شام میں اس وقت ایک نئی عبوری حکومت قائم ہو چکی ہے، اور اس کے ساتھ ہی شامی شہری بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کا جشن مناتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

    ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے دوران بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد اب اپنے وطن واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، باغیوں کی کامیاب پیش قدمی کے بعد بے گھر شامی افراد اپنے گھروں کی طرف واپس آ رہے ہیں، اور اب تک لاکھوں افراد نے اپنے ملک واپس جانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔بشارالاسد کا اقتدار ختم ہونے کے بعد شام میں ایران کا اثر و رسوخ کم ہو چکا ہے، اور اس کا فائدہ اسرائیل نے بھرپور انداز میں اٹھایا ہے۔ اسرائیل نے شام میں اپنی فضائی برتری قائم کرتے ہوئے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے اپنی تیاریوں کو مزید تیز کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ، شام میں باغیوں کی حکومت کا قیام اور شامی مہاجرین کی واپسی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں ایک نیا سیاسی منظرنامہ ابھر رہا ہے۔