Baaghi TV

Tag: شام

  • شام اور سعودی عرب؛ سفارتی تعلقات کی بحالی کے اثرات

    شام اور سعودی عرب؛ سفارتی تعلقات کی بحالی کے اثرات

    شام اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی روس کے لیے ایک قابل ذکر جیت ہے لیکن یہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے جبکہ ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کی پالیسی نے سفارتی اڈے کو وسعت دینے کی طرف مائل کیا ہے جو اب تک امریکہ تک محدود تھا، جہاں تک سپر پاورز کی بات ہے وہ روس اور چین دونوں کو اپنے دائرہ کار میں شامل کرنے کی سرشار کوشش ہے۔ تاہم شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کا فیصلہ بیجنگ کے قریب آنے کا واضح اقدام ہے۔

    صدر بائیڈن نے 2022 میں اپنے دورہ ریاض کے دوران ولی عہد کو ماسکو اور ریاض کے قریب جانے سے بچنے کے لیے اپنی رائے سے آگاہ کیا تھا تاہم یقینی طور پر واشنگٹن مندرجہ بالا پیش رفت پر خوش نہیں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اہم سوال یہ ہوگا کہ کاموں میں اسپینر پھینکنے کے لیے امریکہ کتنا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے؟ لیکن دوسری طرف واشنگٹن اسے ایک مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھ سکتا ہے:

    جبکہ عرب ریاستوں کو امریکہ کے ساتھ دوستانہ بنیادوں پر استوار کرنا اور دمشق کے ساتھ مضبوط قدم جمانا۔ شام میں امریکی افواج کے دستے کے پس منظر اور شام اور ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے درمیان جاری جھڑپوں کے پیش نظر، اسد کی حکومت کے ساتھ رابطے کا راستہ کھولنے کے لیے یہ یقینی طور پر مفید ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ بشار الاسد کی حکومت ایک حقیقت ہے.

    تاہم ریاض کو یہ سوال ضرور حل کرنا چاہیے کہ شام میں سفارت خانہ کھولنا امریکہ کی جانب سے شام کے خلاف عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں لیکن ریاض اس مقام سے دمشق کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے کیسے آگے بڑھے گا؟ اسے احتیاط سے آگے بڑھنا ہو گا واشنگٹن کے لیے اسے لیٹا جانا مشکل ہو سکتا ہے جسے روس اور چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو جگہ دینے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ یہ امریکہ کے دوست عرب ممالک پر پابندیاں نہیں لگا سکتا تاہم جنگ زدہ شام پر واشنگٹن کے ایسا ہی کرنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے.

    علاوہ ازیں آگے بڑھنے کے طریقہ سے متعلق ریاض کا فیصلہ اس بات کو مدنظر رکھے گا کہ ایران کے ساتھ اس کے تعلقات کیسے بڑھتے ہیں اور یمن میں جنگ بندی جاری ہے یا نہیں؟ لہذا اگر دونوں پیش رفت مثبت رہیں تو واشنگٹن پر ریاض کا انحصار کم ہو جائے گا لیکن جہاں تک بات امریکی سلامتی کی ضمانتوں کا تعلق ہے تو وہ جیسا کہ عالمی طاقت کی حرکیات میں تبدیلی آرہی ہے وہ مشرقِ وسطیٰ ایک بلبلا کڑھائی ہے جو ان علاقوں میں نئے کھلاڑی قائم کرے گا جنہیں اب تک امریکی اثر و رسوخ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

  • نابینا افراد کے لیے منفرد گاؤں

    نابینا افراد کے لیے منفرد گاؤں

    دمشق: شام میں نابینا افراد کے لیے ایک ایسا گاؤں بسایا گیا ہے جو بصارت سے محروم افراد کو محفوظ اور آرام دہ زندگی فراہم کرتا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے شہر شام میں ایک گاؤں کو نابینا افراد کے حساب سے ڈیزائن کیا گیا ہے جہاں انہیں تمام ترسہولیات دستیاب ہیں اس گاؤں میں نابینا افراد کوبتایا جاتا ہے کہ انہیں دوران پرورش اور زندگی کے مختلف مراحل میں کیا حالات پیش آسکتے ہیں۔

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں …


    بین الاقوامی خبر رساں ادارے الجزیرہ نے شام کے اس گاؤں کی دستاویز کی ہے جہاں نابینا افراد کی پرورش، تحفظ اور زندگی کے حالات کے بارے میں روشنی ڈالی جاتی ہے۔

    اس گاؤں کو النور یا بریلی کے نام سے جانا جاتا ہے جسے نابینا افراد کے لیے محفوظ اور آرام دہ زندگی فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے نابینا افراد کے لیے بنائے گئے اس گاؤں میں مختلف ادارے بھی موجود ہیں جبکہ وہاں عبادت گاہ اور اسکول بھی ہے جہاں نابینا افراد کو مختلف موضوعات پر لیکچرز دیئے جاتے ہیں۔

    سابق امریکی صدر ٹرمپ پر فرد جرم عائد،کارروائی سیاسی انتقام ہے۔ٹرمپ


    یکساں طور پر، ‘بریل’ کی اصطلاح نابینا افراد کے ذریعے اور ان کے لیے استعمال ہونے والا تحریری نظام ہے اور 63 حروف کے کوڈ پر مشتمل ہے، ہر ایک چھ پوزیشن والے میٹرکس یا سیل میں ترتیب دیے گئے ایک سے چھ اٹھائے ہوئے نقطوں پر مشتمل ہے،یہ بریل حروف کاغذ پر لکیروں میں ابھرے ہوئے ہیں اور مخطوطہ پر انگلیوں کو ہلکے سے پھیر کر پڑھتے ہیں گاؤں میں عبادت گاہ اور ایک اسکول بھی ہے جہاں بصارت سے محروم افراد کو لیکچر دیا جاتا ہے۔

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں …

  • شام، ترکی، ایران اور روس کے نائب وزرائے خارجہ کی اپریل میں ماسکو میں ملاقات متوقع

    شام، ترکی، ایران اور روس کے نائب وزرائے خارجہ کی اپریل میں ماسکو میں ملاقات متوقع

    ماسکو: شام، ترکی، ایران اور روس کے نائب وزرائے خارجہ اپریل میں ماسکو میں ملاقات کریں گے۔

    باغی ٹی وی: ترکی اور ایرانی حکام کے مطابق چاروں ممالک کے حکام شام کی جنگ کے باعث برسوں کی جاری کشیدگی کے بعد انقرہ اور دمشق کے درمیان تعمیری رابطوں پر بات چیت کریں گے۔

    روس، یوکرین جنگ 24 گھنٹے میں ختم کروا سکتا ہوں،ڈونلڈ ٹرمپ کا دعوٰی

    ترکی کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ ماسکو میں 3 اور 4 اپریل کو شام کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا توقع ہے کہ یہ ملاقات وزارتی سطح کی ملاقاتوں کا تسلسل ہو گی۔

    واضح رہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے اتحادی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی حوصلہ افزائی پر شام اور ترکی کے حکام نے گزشتہ سال شام کی 12 سالہ جنگ کے باعث کشیدہ تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے ملاقاتیں کیں-

    تاہم بشارالااسد نے بعد میں ترک صدر طیب اردگان کے ساتھ کسی بھی ملاقات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ شمالی شام پر ترک افواج قابض ہے اور وہ اس وقت تک ملاقات نہیں کریں گے جب تک ترکی اپنی فوج واپس لینے کے لیے تیار نہیں ہو جاتا۔

    روس کے دفاعی نظام نے یوکرین کے داغے گئے امریکی ’ گائیڈڈ میزائل‘ کو ناکارہ …

    نیٹو کا رکن ترکی شام میں 12 سالہ خانہ جنگی کے دوران شامی صدر بشار الاسد کی سیاسی اور مسلح حزب اختلاف کا ایک بڑا حمایتی رہا ہے۔ تاہم حالیہ دنوں دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ ہم آہنگی کی کئی اشارے ملتے ہیں۔

    شام اور ترکیہ کے وزرائے دفاع نے دسمبر میں ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب کے ہمراہ تاریخی بات چیت کی جنوری میں، ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ فروری میں اپنے شامی ہم منصب سے ملاقات کر سکتے ہیں تاکہ دونوں پڑوسیوں کے درمیان تعلقات کی بہتری پر بات چیت کی جا سکے اسد کے اہم اتحادی روس نے بھی ترکیہ کے ساتھ مفاہمت کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

    حجاب پہننے والی ہندوستانی مسلم پائلٹ،سلویٰ فاطمہ کی کامیابی کا حیرت انگیز سفر

  • تُونس کے صدر کا شام کے ساتھ  سفارتی تعلقات بحال کرنے کا ارادہ

    تُونس کے صدر کا شام کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا ارادہ

    تُونس کے صدر قیس سعید نے شام کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق تونس اور شام کے تعلقات قریباً ایک دہائی پہلے دمشق کی جانب سے سیاسی مخالفین پر جبر کی مخالفت میں منقطع ہوگئے تھے تاہم اب تُونس کے صدر قیس سعید نے شام کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے-

    دبئی مسلسل تیسرے سال دنیا کا صاف ترین شہر قرار

    جمعہ کی شب صدارتی دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک ویڈیو کے مطابق، تونسی وزیر خارجہ نبیل عمار کےساتھ ایک ملاقات میں صدر نے کہا کہ دمشق میں تونس کے سفیر اور تونس میں شام کے سفیر کی عدم موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہےشام میں حکومت کا سوال صرف شامیوں سے تعلق رکھتا ہے،ہم دوسروں کے معاملات میں مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔

    تنہا روس ہی یوکرین جنگ کا ذمہ دار نہیں بلکہ کئی اور سامراجی قوتوں کےمقاصد …

    واضح رہے کہ تونس نے 2012 میں ملک کی خانہ جنگی کے آغاز میں صدر بشار الاسد کے مخالفین پر خونی جبر کی وجہ سے شام کے سفیر کو ملک بدر کر دیا تھا دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعطل سابق صدر منصف مرزوقی کے دور حکومت میں رونما ہوا تھا جبکہ اس وقت اپوزیشن کی طرف سے اس اقدام پر سخت تنقید کی گئی تھی۔

    2015 میں، تونس نے تعلقات کی بحالی کی طرف ایک قدم اٹھایا تھا جب شام میں تونس کے سفارت خانے میں نمایندگی کے لیے ایک قونصلر کو نامزد کیا گیا تھا تاکہ وہ ملک کے مفادات کی نگرانی کرسکیں۔

    بھارت میں ہولی کے دوران خاتون جاپانی سیاح اور مسلم خواتین پر تشدد .ویڈیو

  • ترکیہ و شام کے لیے امدادی سامان کی بڑی کھیپ روانہ

    ترکیہ و شام کے لیے امدادی سامان کی بڑی کھیپ روانہ

    ترکیہ و شام کے لیے امدادی سامان کی بڑی کھیپ بذریعہ سول بحری جہاز روانہ کردی گئی۔

    باغی ٹی وی: این ڈی ایم اے پاکستانی عوام کی جانب سے زلزلہ زدہ ترک و شامی بھائیوں کی مدد کیلئے مسلسل مصروف عمل ہے-

    ترجمان این ڈی ایم اے کےمطابق وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پرترکیہ وشام کےلیےامدادی سامان کی مذید کھیپ سول بحری جہازکے ذریعے روانہ کردی گئی ہے –


    ترجمان این ڈی ایم اے کےمطابق امدادی سامان سےلدے 65 کنٹینرز سول بحری جہاز کےذریعے روانہ کئے گئے ہیں جس میں زلزلہ متاثرین کے لیے 8 ہزار 200 لگ بھگ خیمے، 15 ہزار راشن بیگز اور دیگر ضروری اشیا شامل ہیں۔

    ترجمان این ڈی ایم اے کےمطابق امدادی سامان لے کر روانہ ہونے والا سول بحری جہاز 15 دنوں میں منزل پر پہنچے گا۔

    واضح رہے کہ ترکیہ اورشام میں قیامت خیز زلزلے کے نتیجے میں اب تک 50 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، زلزلے سے ہزاروں عمارتیں منہدم ہونے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی جبکہ اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔

  • ترکیےشام زلزلہ:  پاک بحریہ کے ذریعے ایک اور امدادی کھیپ بھیجی جائے گی

    ترکیےشام زلزلہ: پاک بحریہ کے ذریعے ایک اور امدادی کھیپ بھیجی جائے گی

    ترکیے اور شام کے متاثرینِ زلزلہ کیلئے امدادی کارروائیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے-

    باغی ٹی وی : ترکیے اور شام کے متاثرینِ زلزلہ کیلئے این ڈی ایم اے اور پاک بحریہ سرگرمِ عمل ہے،ترکیے اور شام زلزلہ متاثرین کیلئے پاک بحریہ کے ذریعے ایک اور امدادی کھیپ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے-

    لاہور ہائیکورٹ عمران خان کے دو مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواستوں پر اعتراض لگا …

    پاک بحریہ کا جہاز 550 ٹن کا امدادی سامان لیکر 23 اور 30 مارچ کو ترکیےاور شام پہنچے گا،این ڈی ایم کے اشتراک سے پاک بحریہ کا دوسرا جہاز دوسری کھیپ کیلئے تیار ی کے مراحل میں ہے،ساڑھے 3 ہزار سردی اور آگ سے بچاؤ کیلئے خیمے، 38 ہزار کمبل اور 113 ٹن سامان شامل ہے-

    رانا ثنا اللہ کا وارنٹ گرفتاری کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

    شام کیلئے تیار شدہ سامان میں 21 ہزار سے زائد کمبل اور 113 ٹن سے زائد کا دیگرشامل ہیں،انتظامات 9 سے 10 مارچ تک مکمل کر لیے جائیں گے ، 11 مارچ کوبحری راستے روانہ کیا جا ئےگا،ترکیے اور شام زلزلہ متاثرین کی امداد کیلئےاین ڈی ایم اے اور افواج پاکستان کی کاوشیں جاری ہیں-

  • ترکیہ اور شام زلزلہ: اموات 25 ہزار 800 سے متجاوز

    ترکیہ اور شام زلزلہ: اموات 25 ہزار 800 سے متجاوز

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات کی تعداد 25 ہزار 800 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: رپورٹس کے مطابق ترکیہ میں زلزلے سے اموات کی تعداد 22 ہزار 327 تک جا پہنچی جبکہ شام میں زلزلے سے اب تک 3 ہزار 553 افراد جان سے جا چکے ہیں۔

    ابھی تک شامی زلزلہ متاثرین کیلئے بھیجی گئی امداد کافی نہیں. اقوام متحدہ

    امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے کے بعد 7.6 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا، جس نے مزید تباہی پھیلائی۔

    زلزلے کے جھٹکے قبرص، یونان، شام، اردن، لبنان اور فلسطین میں بھی محسوس کیے گئے جب کہ قیامت خیز تباہی کے بعد 300 سے زیادہ آفٹر شاکس آچکے ہیں۔

    ترک وزیر صحت کے مطابق زلزلے سے ترکیہ میں 22 ہزار 327 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 80 ہزار سے زائد زخمی ہیں ۔اسی طرح شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 553 ہوگئی ہے۔

    ملبے تلے اب بھی متعدد افراد کے پھنسے ہونےکا خدشہ ہے، انہیں نکالنےکے لیے دن رات ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم شدید سردی اور بعض علاقوں میں برفباری کے باعث متاثرین کو کٹھن حالات کا سامنا ہے اور امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں۔

    ادھر ترکیہ میں 104 گھنٹے بعد زلزلے کے باعث منہدم عمارت کے ملبے سے نکالی گئی ترک خاتون دم توڑ گئی ریسکیو اہلکاروں نے بتایا کہ جنوبی ترکیہ میں ایک منہدم عمارت کے ملبے سے نکالے جانے کے ایک دن بعد ایک خاتون اسپتال میں دم توڑ گئی، وہ پیر کے روز آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد سے 104 گھنٹے تک ملبے تلے پھنسی ہوئی تھی۔

    ترکیہ، شام زلزلہ؛ اموات 25 ہزار سے بھی تجاوز کرگئیں

    جرمن ریسکیو اہلکار نے جمعہ کے روز جنوبی ترکیہ کے قصبے کیریخان میں 40 سالہ زینب کہرامن کو ملبے سے باہر نکالا، انہوں نے اس کے زندہ رہنے کو ایک “معجزہ” قرار دیا کیونکہ دہائیوں میں خطے کے سب سے خطرناک زلزلے کے بعد تلاش اور ریسکیو کی کوششوں سے مزید لاشیں نکلتی رہیں۔

    جرمن انٹرنیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کے لیڈر اسٹیون بائر نے کہا کہ مذکورہ خاتوں کے بھائی اور بہن سے اطلاع ملی کہ زینب کا اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ انہوں نے ٹیم کو مطلع کیا کہ وہ خاتون بدقسمتی سے انتقال کر گئی ہیں۔

    ٹیم کے ڈاکٹر نے کہا کہ اس طرح کے پیچیدہ ریسکیو آپریشن کے بعد پہلے 48 گھنٹوں کے دوران خطرات خاص طور پر زیادہ تھے جب کہ کچھ ریسکیور اہلکار ایک دوسرے کو تسلی دیتے اور آنسو روکتے رہےوہ خاتون واقعی 100 گھنٹے سے زیادہ کے لیے ملبے تلے دفن رہی، پھنسی نہیں بلکہ دفن رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو والوں کی کوششیں رائیگاں نہیں گئیں۔

    دوسری جانب ترک وزارت انصاف نے ناقص تعمیرات میں ملوث افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جبکہ 12 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    خبر رساں اداروں کے مطابق زلزلے کے باعث ترکیہ میں چھ ہزار عمارتیں تباہ ہوئی ہیں جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    اسمارٹ فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار

    ادھر زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے دورے پر گفتگو کے دوران ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں لاکھوں عمارتیں ناقابل رہائش ہوچکی ہیں، چند ہفتوں میں تباہ شدہ شہروں کی تعمیر نو شروع کرنے کے اقدامات کریں گے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیریس کا کہنا ہےکہ امدادی پروگرام کےسربراہ ترکیہ، شام کا دورہ کریں گے، زلزلہ زدہ علاقوں میں لوگوں کومرنےسےبچانے کے لیے ہرممکن مدد کی ضرورت ہے۔

    پاکستان کی جانب سے ترکیہ میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بھیجی گئی UN-INSARAG کی سند یافتہ پاکستان ریسکیو ٹیم نے ترکیہ کے صوبہ ادیامان میں اپنا ریسکیو اور ریلیف آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا ہے جو کہ زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 10 صوبوں میں سے ایک ہے۔

    شام زلزلہ:ملبے تلے پیدا ہونیوالی نومولود بچی کو اسے بچانے والے نے گود لے لیا

    52 رکنی ٹیم کے کمانڈر رضوان نصیر نے نجی‌ خبررساں ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اربن سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن اختتام کو پہنچ گیا اور ٹیم پیر کے روز پاکستان کے لیے روانہ ہوگی۔

    رضوان نصیر کے مطابق پاکستان ریسکیو ٹیم (پی آر ٹی) پہلی بین الاقوامی ٹیم تھی جو امدادی کاموں کے لیے ترکیہ پہنچی، ریسکیو آپریشن 5 روز تک جاری رہا اور ترک حکومت نے اب ملبہ ہٹانے اور بچ جانے والوں کو ملک کے مختلف حصوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ زلزلے کے بعد تقریباً 6 دن گزر چکے ہیں، ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے لوگوں کا زندہ بچنے کا امکان کم ہے جب کہ ٹیم نے لوکیٹرز کا استعمال کرتے ہوئے کم از کم 59 عمارتوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی اور جو زندہ مل گئے انہیں بچایا۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز

  • ترکیہ، شام زلزلہ؛  اموات 25 ہزار سے بھی تجاوز کرگئیں

    ترکیہ، شام زلزلہ؛ اموات 25 ہزار سے بھی تجاوز کرگئیں

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات کی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کرگئی، ایک لاکھ سے زائد افراد زخمی ہیں.

    6 روز کے دوران 1500 سے زائد آفٹر شاکس آچکے ہیں. گرنے والی ہزاروں عمارتوں کے ملبے میں دبے افراد کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے 100 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی کئی افراد کو زندہ نکال لیا گیا. دبے ہوئے افراد کے زندہ بچنے کی امیدیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جارہی ہیں۔ ترکیہ اور شام میں 6 فروری کی صبح آنے والے زلزلے کے باعث تباہ ہونے والی عمارتوں میں دبے افراد کو نکالنے کا کام جاری ہے. دونوں ممالک میں اب تک 24 ہزار سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ امدادی سرگرمیوں میں پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کی ریسکیو ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

    حکام اور طبی عملے کے مطابق ترکیہ میں 20 ہزار 665 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ شام میں ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 553 ہے، دونوں ممالک میں تصدیق شدہ اموات کی تعداد 24 ہزار 218 تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب شام میں اب تک 3 ہزار 600 سے زائد اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سرد موسم نے لاکھوں متاثرین کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے جبکہ بہت سے لوگوں کو امداد کی اشد ضرورت تھی۔

    عالمی ادارے نے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد دونوں ممالک میں کم از کم 8 لاکھ 70 ہزار افراد کو فوری طور پر خوراک کی ضرورت ہے، صرف شام میں 53 لاکھ بے گھر افراد کو فوری پناہ درکار ہے۔ تباہ کن زلزلے کے دوران اپنے گھر کے ملبے کے نیچے پھنسی ہوئی شامی خاتون نے جس بچی کو جنم دیا تھا اس کا نام ’’آیا‘‘ رکھا گیا ہے، جس کا عربی میں مطلب ’خدا کی نشانی‘ ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نوزائیدہ بچی کے والدین اور اس کے تمام بہن بھائی قیامت خیز زلزلے کی نذر ہوگئے، بچی کی کفالت اب اس کے والد کے چچا کریں گے۔

    ترکیہ کے علاقے دیارباکر میں 103 گھنٹے بعد ماں بیٹے کو ملبے سے ریسکیو کرلیا گیا، تو اک بار پھر اُمید بندھ گئی۔ کہارامانمارس میں شدید زلزلے سے ٹرین کی پٹریاں اکھڑ گئیں، سڑکوں کا بھی برا حال ہوگیا، امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شام کی وزراء کونسل نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا۔ صدر بشار الاسد نے حلب کے اسپتال میں زلزلہ متاثرین سے ملاقات کی، رضا کار تنظیم کے اہلکاروں نے 2 ننھی بہنوں کو بچالیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    زلزلہ زدہ ادلب کے نواحی گاؤں کے قریب ایک چھوٹا ڈیم ٹوٹ گیا، پانی نے گھروں اور کھیتوں میں داخل ہوکر شہریوں کیلئے مزید مشکلات کھڑی کردیں ترکیہ کے جنوبی وسطی علاقے میں آباد انطاکیہ کا شہر ہزاروں سال پرانی تۃزیب کا حامل ہے لیکن اس شہر کا بہشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے. عرب نیوز چینل الجزیرہ کے مطابق شام کے شہر حلب میں بے گھر ہونے والے لوگوں کے لیے حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ سرکاری سطح پر آنے والے ماہرین نے شہر کی کم و بیش تمام ہی عمارتوں کو مخدوش قرار دے دیا ہے۔

  • ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز

    رواں ہفتے کے آغاز پر ترکیہ اور شام میں آنے والے زلزلے کے باعث اموات کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز کرگئی، ریسکیو کے کام میں مصروف حکام کا کہنا ہے کہ یہ وقتی تعداد ہے جس میں ہر گھنٹے بعد نیا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : زمین کی ہولناک لرزش کو4 روز گزرنے کے بعد ملبےسے بچوں سمیت کئی افراد کو زندہ نکال لیاگیا جب کہ گزرتے وقت کے ساتھ مزید افراد کے زندہ نکلنے کی امیدیں دم توڑنے لگی ہیں ریسکیو عملہ مسلسل خون جما دینے والےموسم میں انسانی جانیں بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔

    ہر گذرتے لمحے کے بعد شام اور ترکیہ کے تباہ کن زلزلے اور اس کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کو دیکھتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں کسی بھی فرد کے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔

    گذشتہ سوموار کی صبح ترکی اور شام میں آنے والا زلزلہ جس میں ہزاروں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں کو کئی دہائیوں میں آنے والے سب سے زیادہ خونی زلزلے کا نام دیا جا رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیریس کا کہنا ہےکہ امدادی پروگرام کےسربراہ ترکیہ، شام کا دورہ کریں گے، زلزلہ زدہ علاقوں میں لوگوں کومرنےسےبچانے کے لیے ہرممکن مدد کی ضرورت ہے۔

  • ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز کرگئی، ترکیہ میں 12 ہزار 391 اور شام میں 2 ہزار 992 افراد ہلاک ہوئے ہیں،جبکہ ابھی مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو آنے والے زلزلے کی شدت 7.8 اورگہرائی 17.9 تھی زلزلے کا مرکز ترکیہ کے جنوب مشرقی صوبے غازیان کے نردوی کے قریب تھا اس کے بعد 7.6 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا،زلزلے کے جھٹکے قبرص، یونان، شام، اردن،لبنان اور فلسطین میں بھی محسوس کیےگئے جبکہ قیامت خیز تباہی کےبعد 300 سے زیادہ آفٹر شاکس آچکے ہیں۔

    ملبے تلے اب بھی متعدد افراد کے پھنسے ہونےکا خدشہ ہے، انہیں نکالنےکے لیے دن رات ریسکیو آپریشن جاری ہے تاہم شدید سردی اور بعض علاقوں میں برفباری کے باعث متاثرین کو کٹھن حالات کا سامنا ہے اور امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات پیش آرہی ہیں، ترکیہ میں عمارتوں کےملبوں سے8 ہزار سے زائد افراد کو نکالا جا چکاہے۔

    یورپی یونین کی جانب سے شام کے لیے 35 لاکھ یورو کی امداد کا اعلان کیا گیا ہے، یورپی یونین نے اسی امدادی پروگرام کے تحت ترکی کوبھی 30 لاکھ یورودینےکا اعلان کر رکھا ہے،دوسری جانب پاکستان،عراق، ایران، اردن، متحدہ عرب امارات اورمصرسے امدادی پروازیں شام پہنچ رہی ہیں۔

    ترک وزیر صحت کے مطابق زلزلے سے 32 ہزار کے قریب افراد زخمی ہیں اور متاثرہ علاقوں میں 5 ہزار 775 عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں، زلزلے میں مرنے والوں میں57 فلسطینی بھی شامل ہیں۔

    ترک میڈیا کے مطابق ملبے تلے دبے زلزلہ متاثرین موبائل فون سے ویڈیوز، وائس نوٹس اور لائیو لوکیشن بھیج رہے ہیں،ترکیہ میں 3 لاکھ 80 ہزار زلزلہ متاثرین کو شیلٹرز میں منتقل کردیا گیا، ترکیہ میں زلزلے سے ایک کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے دونوں ملکوں میں 40 ہزار اموات اور 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہونےکا خدشہ ہے جن میں 14 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کا دورہ کیا ہے، کئی لوگوں کا شکوہ ہے کہ حکومت نے اب تک کوئی خاص اقدامات نہیں کیے ہیں اور ان تک مدد نہیں پہنچی ہے یہ اتحاد و یکجہتی کا وقت ہے جبکہ تباہی کی پیشگی تیاری ممکن نہیں ہے۔

    ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے 10 صوبوں میں 3 ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی ہے ہولناک زلزلے کے باعث نقصانات سے امدادی کاموں میں دشواری ہے۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ جنوبی ترکیہ میں زلزلے کا شکار 10 شہروں کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے اور ان متاثرہ علاقوں میں 3 ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کردی گئی جبکہ امدادی کاموں کے لیے 5 ارب ڈالرز مختص کیے ہیں۔

    ترک صدر کا کہنا تھا کہ بے گھر ہونے والے افراد کے لیے 45 ہزار پناہ گاہیں جنگی بنیادوں پر تعمیرہوں گی جب کہ زلزلہ زدگان کو اناطولیہ کے ہوٹلوں میں عارضی طور رکھنے پرغور کیا جارہا ہےترکیہ اس وقت دنیا کے سب سے بڑے سانحہ سے گزر رہا ہے، 70 سے زائد ممالک نے امداد اور امدادی کارروائیوں میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔

    ترکیہ میں زلزلے کی تباہی کے بعد کاروباری مندی بھی ہو گئی ہے جس کے بعد ترک حکام نے استنبول اسٹاک ایکسچینج کو 5 روز کے لیے بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ استنبول اسٹاک ایکسچینج 24 سال میں پہلی مرتبہ بند ہوئی ہے۔


    دوسری جانب شام میں زخمیوں کی تعداد 8 ہزار سے زائد بتائی جارہی ہے شام میں ملبے تلے دبی ایک خاتون بچےکو جنم دے کر زندگی ہارگئی، لوگ دل تھام کر بیٹھ گئے جب کہ سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملبے میں دبی شامی بچی کو خود سے زیادہ ننھے بھائی کی فکر ہے، شامی شہر ادلب میں ایک خاندان کو چالیس گھنٹوں بعد ملبے سے نکالے جانے پر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔