Baaghi TV

Tag: شرح سود

  • اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں کمی کر دی

    اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں کمی کر دی

    کراچی: اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں مزید ایک فیصد کمی کر دی۔

    باغی ٹی وی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بتایا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود 13 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کر دی ہے، پاکستان کے معاشی اعشاریے مثبت ہیں، مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ خاطر خواہ کم ہوئے ہیں، مہنگائی مئی 2023 میں 38 فیصد تھی جو کم ہوکر 4.1 فیصد رہی، جنوری میں مہنگائی مزید کم ہوگی، کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں سرپلس رہا، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہنےکے سبب زرمبادلہ ذخائربڑھے۔

    پاکستان کوسٹ گارڈز کی بلوچستان میں کارروائی،1832کلوگوام اعلی کوالٹی کی چرس برآمد

    واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک اس سے قبل 5 جائزوں میں تسلسل کے ساتھ شرح سود میں 9 فیصد کمی لاچکا ہے ۔ قبل ازیں جون 2024 میں شرح سود 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر تھی، آخری بار 17 دسمبر 2024ء کو ہونے والے جائزے میں پالیسی ریٹ 2 فیصد کم کرکے 13 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔

    وزیراعظم کی ریلویز کے پرانے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کی ہدایت

    دوسری جانب وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں ایک فیصد کمی کا خیر مقدم کیا ہے،انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ کا 12 فیصد پر آنا ملکی معیشت کے لئے خوش آئند ہے پالیسی ریٹ میں کمی سے پاکستانی معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا پالیسی ریٹ میں کمی سے ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا-

    وزیر اعظم نے کہا کہ کم افراط زر کی شرح کی بدولت پالیسی ریٹ میں کمی آئی ہےپر امید ہوں آئندہ مہینوں میں افراط زر میں مزید کمی ہو گی ، معیشت کی بحالی کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کوششیں لائق تحسین ہیں-

  • اسٹیٹ بینک کی شرح سود میں 2 فیصد کمی ،وزیراعظم کا خیر مقدم

    اسٹیٹ بینک کی شرح سود میں 2 فیصد کمی ،وزیراعظم کا خیر مقدم

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے شرح سود میں 2 فیصد کمی کردی، جس کے بعد ملک کی شرح سود 15 فیصد سے کم ہوکر 13 فیصد پر آگئی۔

    باغی ٹی وی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا گیا، جس میں شرح سود میں مزید 2 فیصد کمی کردی گئی، کمی کے بعد شرح سود 15 فیصد سے کم ہوکر 13 فیصد پر آگئی،اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مسلسل پانچویں مرتبہ شرح سود کم کی ہے، اس ماہ مہنگائی کی شرح میں 4.9 فیصد کمی ہوئی۔

    دوسری جانب وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 2 فیصد کمی کا خیر مقدم کیا ہے-

    انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ کا 13 فیصد پر آنا ملکی معیشت کے لئے خوش آئند ہے ، پالیسی ریٹ میں کمی سے پاکستانی معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا،پالیسی ریٹ میں کمی سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا ، کم افراط زر کی شرح کی بدولت پالیسی ریٹ میں کمی آئی ہے ، امید کرتے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں افراط زر میں مزید کمی ہو گی ،معیشت کی بحالی کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کوششیں لائق تحسین ہیں-

  • کراچی چیمبر کا شرح سود میں نمایاں کمی پر زور

    کراچی چیمبر کا شرح سود میں نمایاں کمی پر زور

    کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد جاوید بلوانی نے ستمبر 2024 میں افراط زر میں نمایاں کمی کے ساتھ 6.9 فیصد کی سطح پر آنے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی میں پالیسی ریٹ میں کم از کم 300 سے 500 بیسس پوائنٹس کی کمی کا مشورہ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جاوید بلوانی نے گزشتہ تین اجلاسوں میں پالیسی ریٹ کو بتدریج 22 فیصد سے کم کرکے 17.5 فیصد کرنے پر اسٹیٹ بینک کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ستمبر میں مسلسل دوسرے ماہ مہنگائی میں سنگل ڈیجٹ تک کمی دیکھنے میں آئی لہٰذا مرکزی بینک کو اب پالیسی ریٹ کو مزید جارحانہ انداز میں کم کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ افراط زر اب قابو میں ہے اور اشیاء کی قیمتوں میں استحکام کے ساتھ کم از کم 300 سی500 بیسس پوائنٹس کی پالیسی ریٹ میں کمی کاروبار پر دباؤ کو کم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے بہت ضروری ہے نیزکم شرح سود بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ میں ترقی کو تقویت بخشے گی جس میں حالیہ مہینوں میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2021میں جب مہنگائی کی شرح9.2فیصد تھی اٴْس وقت ملک میں پالیسی ریٹ صرف 7.25فیصد تھا لہذا کراچی چیمبر کا شرح سود میں جارحانہ انداز میں کمی کا مطالبہ بالکل جائز ہے کیونکہ اب مہنگائی کی شرح اور زیادہ کم ہوچکی ہے ایسے حالات میں پالیسی ریٹ کو فوری طور پر سنگل ڈیجٹ پر لانا چاہئے۔

    جاوید بلوانی نے کہا کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ انڈیکس (ایل ایس ایم آئی) جنوری 2024 کے مقابلے میں جولائی2024 کے دوران 19.2 فیصد کم ہوا جس سے نجی شعبے کو درپیش چیلنجز کی نشاندہی ہوتی ہے جس کی وجہ زیادہ شرح سود، قرضوں تک کم رسائی اور بہت زیادہ زرِ ضمانت کی شرائط ہیں۔عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں زرِ ضمانت کی مالیت قرضوں کا اوسطاً 153 فیصد سے زیادہ ہے جس نے نجی شعبے کی فنانسنگ کو مزید محدود کر دیا گیا ہے۔
    انہوں نے ورلڈ بینک کے تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں نجی شعبے کا قرضہ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں کم ترین سطح پر آ گیا ہے جو کہ 2023 تک جی ڈی پی کا صرف 12.0 فیصد تھاجبکہ بھارت کے نجی شعبے کو قرضے جی ڈی پی کا 50.1 فیصد، ترکی 50.3 فیصد اور بنگلہ دیش میں 37.6 فیصد ہے۔سرکاری اور نجی شعبے کے قرضوں کے درمیان بڑھتا ہوا فرق تشویش کا باعث ہے کیونکہ حکومت اور پبلک سیکٹر ادارے مجموعی طور پر 79.7 فیصد قرضے جذب کررہے ہیں جس کی وجہ سے نجی شعبہ بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ستمبر 2024 تک مجموعی قرضوں میں نجی شعبے کا حصہ کم ہو کر محض 20.3 فیصد رہ گیا جو مارچ 2022 میں 29 فیصد تھا جب پاکستان میں پالیسی کی شرح زیادہ سازگار تھی۔انہوں نے بنگلہ دیش کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ وہاں مالی سال 2024 کے دوران سرکاری شعبے نے مجموعی قرض کا صرف 22.4 فیصد حاصل کیا جس سے ان کے نجی شعبے کو پنپنے کا موقع ملا۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے مہنگائی پر تو کامیابی سے قابو پالیا ہے تاہم اس کی سخت مانیٹری پالیسی غیر متوازن قرضوں کا ماحول پیدا کررہی ہے جو طویل مدتی ترقی کے امکانات کو متاثر کر سکتی ہے۔مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے بلند شرح سود پر ملکی قرضوں پر انحصار بھی پاکستان کے ڈومیسٹک قرضوں میں اضافے کا سبب بنا ہے۔مالی سال2024 کے دوران حد سے زیادہ پالیسی ریٹ کی وجہ ملکی قرضوں پر مارک اپ4.8کھرب سے بڑھ کر7.2 کھرب تک جا پہنچا جو50.4 فیصد کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

    معصوم بچیوں سے نازیبا حرکتیں ،ہراساں کرنے والا ملزم کو گرفتار

    سندھ پولیس کا بارودی مواد روک تھام کے لئے تربیت یافتہ کتوں کا استعمال شروع

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

  • امریکا میں 4 سال بعد شرح سود میں کمی

    امریکا میں 4 سال بعد شرح سود میں کمی

    واشنگٹن: امریکا کی مرکزی بینک نے 4 سال میں پہلی بار شرح سود میں کمی کر دی ہے،بینک نے یہ اقدام افراط زر پر قابو پانے کے لیے کیا-

    باغی ٹی وی : امریکا میں افراط زر کی وجہ سے شرح سود دو دہائیوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی ،تاہم اب اس پر قابو پانے کیلئے بینک نے 4 سال میں پہلی بار شرح سود میں کمی کر دی ہے،امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کا اعلان کیا ہے،اور فیڈ فنڈ ریٹ 4.75 سے 5 فیصد کر دیا ہے شرح سود میں یہ کمی تجزیہ کاروں کی حالیہ عرصے میں کی گئی پیشگوئیوں سے بڑی ہے،اس سے قبل جولائی 2023 سے فیڈ فنڈ ریٹ 5.25 سے5.50 فیصد پر برقرار تھا۔

    امریکی مرکزی بینک کی شرحیں مقرر کرنے والی کمیٹی کے پالیسی سازوں نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا، ”کمیٹی کو اس بات پر زیادہ اعتماد حاصل ہو گیا ہے کہ افراط زر مستحکم طور پر 2 فیصد کی طرف بڑھ رہا ہے، اور یہ سمجھتا ہے کہ اس کے روزگار اور افراط زر کے اہداف کو حاصل کرنے کے خطرات تقریباً متوازن ہیں۔“

    شمالی وزیرستان: بینک منیجر فائرنگ کے نتیجے میں شہید

    اس بیان پر گورنر مشیل بومین نے اختلاف کیا، جنہوں نے صرف ایک چوتھائی فیصد کی کمی کی حمایت کی۔

    فیڈ کے پالیسی سازوں کو توقع ہے کہ اس سال شرح سود میں مزید 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کی جائے گی شرح سود میں کمی کے اعلان کے بعد وال اسٹریٹ میں بھی دن کا اختتام قدرے گراوٹ کا شکار رہا اور ایس اینڈ پی 500 میں 0.29 فی صد کی کمی واقع ہوئی۔

    فیڈرل ریزرو بینک کے سربراہ جیروم پاول نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا شرح سود میں کمی کا یہ فیصلہ ہمارے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

    انٹرایکٹو بروکرز کے چیف مارکیٹ اسٹریٹجسٹ اسٹیو سوسنک نے میڈیا کو بتایا کہ 2022 کے موسم گرما میں عروج پر پہنچنے والے افراط زر میں بھی کمی واقع ہوئی ہے فیڈرل ریزرو بینک کی جانب سے اپنے بینچ مارک فیڈرل فنڈز کی شرح کو 4.75 فیصد سے 5 فیصد تک کم کرنے کا فیصلہ افراط زر کے خلاف اس کی جنگ میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔

    ایس ڈی او بہادر پورہ قصور سے صارفین مایوس،انصاف کیلئے عدالت پہنچ گئے

    معاشی ماہرین نے امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کے اعلان کو دنیا بھر کے لیے مثبت قرار دیا ہے، امریکی مرکزی بینک کے اس فیصلے سے امریکا میں قرض داروں کو ریلیف ملےگا۔

    ماہرین کے مطابق شرح سود 5.25 سے 5.50 فیصد رکھنے کے باعث امریکا میں مہنگائی کی شرح میں کمی ہوئی تاہم سخت مانیٹری پالیسی کی وجہ سے نئی ملازمتوں کے مواقع کم پیدا ہوئے امریکی حکام نے بھی بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی شرح پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

    اک بار اس نے مجھ کو دیکھا تھا مسکرا کر

  • آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اقتصادی سروے کے حوالے سے بریفنگ میں کہا ہے کہ ہمارے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے علاوہ کوئی پلان بی نہیں تھا،

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں آئی ایم ایف سے معاہدہ سب سے اہم معاشی کامیابی ہے،دو طرفہ عالمی اور کثیر الجہتی شراکت داری سے بھی مثبت شرح نمو ممکن ہوا،پاکستان میں رواں مالی سال ترقی کی شرح 2.38 فیصد رہی،عالمی سطح پر توانائی اور کھانے پینے کی اشیا ءکی قیمتوں میں اضافہ ہوا،
    حکومتی اصلاحاتی پالیسی سے بتدریج اقتصادی بحالی ہو رہی ہے، زرعی شعبے میں اچھی کارکردگی کی وجہ سے بھی اقتصادی شرح نمو میں اضافہ ہوا،زراعت کے شعبے میں گزشتہ 19 سال کے دوران سب سے زیادہ ترقی ہوئی،
    مالی سال 2024 کے دوران مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی ہو رہی ہے،رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 94.8 فیصد کمی ہوئی،رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا،رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران بیرونی سرمایہ کاری میں 8.1 فیصد اضافہ ہوا،معاشی اصلاحات کے نتیجے میں روپے کی قدر میں گراوٹ کا سلسلہ بھی رک گیا،جون 2023 کے بعد روپے کی قدر میں 2.8 فیصد کا اضافہ ہوا،زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 14 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں،جولائی تا اپریل تجارتی خسارے میں 21.6 فیصد کمی ہوئی،سٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی درست سمت کی طرف پیش قدمی ہے،حکومت مہنگائی کی شرح مزید کم کرنے کیلئے انتظامی،ریلیف اور پالیسی سطح پر اقدامات کر رہی ہے،

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جب میں پرائیویٹ سیکٹر میں تھا تب میں کہتا تھا کہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا چاہیے ،اگر ہم آئی ایم ایف کے پا س نہ جاتے تو صوتحال مختلف ہوتی ، میں شروع سے ہی کہتا آیا ہوں کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ضروری ہے، آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے،جی ڈی پی گروتھ میں بڑی صنعتوں کی گرؤتھ اچھی نہ رہی، مالی سال 2022-23 میں روپے کی قدر میں 29 فیصد کمی ہوئی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 50 کروڑ ڈالر تک محدود رکھنے میں کامیاب ہوئے ،رواں مالی سال ریونیو کلیکشن میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے ، مہنگائی کی شرح کم ہونے کی وجہ سے کل شرح سود کی کمی ہوئی ،ہمارے پاس 9 ارب ڈالرز کے ذخائر ہیں ،گزشتہ چند ماہ میں معاشی استحکام نظر آرہا ہے ،زراعت اور آئی ٹی کا آئی ایم ایف سے تعلق نہیں ، سب کچھ ہمارے کنٹرول میں ہے ،اسلام آباد ائیرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کا مراحلہ بھی آگے بڑھا ہے، اسلام آباد ائیرپورٹ کے بعد لاہور اور کراچی ائیرپورٹس کی طرف بڑھیں گے ،پی آئی اے کی نجکاری کیلئے 6 پارٹیز پری کولیفائی ہوچکی ہیں،

    اقتصادی سروے کے اہم نکات کے مطابق حکومت کو اقتصادی،صنعتی ترقی، مہنگائی میں کمی اور بجلی کی پیداواری صلاحیت سمیت اہم معاشی اہداف کے حصول میں ناکامی کا سامنا رہا،شرح سود 22 فیصد تک بڑھانے کے باوجود مہنگائی کم کرنےکا ہدف حاصل نہ ہوسکا۔

    مالی سال 2024 میں صحت کے شعبے پر جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد خرچ
    اقتصادی سروے 23-24،مالی سال 2024 میں صحت کے شعبے پر جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد خرچ کیا گیا
    دوران زچگی بچوں کی اموات کی شرح میں کمی آئی،ملک بھر میں رجسٹرد ڈاکٹروں کی تعداد 2لاکھ 99 ہزار،113 تک پہنچ گئی۔رجسٹرد دانتوں کے ڈاکٹرز 36 ہراز32،نرسز کی تعداد1 لاکھ 27 ہزار 855 ہو گئی،دائیاں 46 ہزار 110، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد 24 ہزار 22 ہو گئی۔2023 میں خوراک کی فراہمی کی شرح میں بہتری آئی،گذشتہ سال کے مقابلے میں شرح ساڑھے چار فیصد بہتر رہی۔

    بجٹ میں وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 1000 ارب روپے کے اضافے کا فیصلہ
    دوسری جانب نئے مالی سال کے بجٹ میں وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 1000 ارب روپے کے اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جاری اعلامیے کے مطابق آئندہ مالی سال معاشی شرح نمو کا ہدف 3.6 فیصد مقرر کیا گیا ہے، زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 2 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف 4.4 فیصد اور بڑی صنعتوں کی شرح نمو کا ہدف 3.5 فیصد رکھا گیا ہے، خدمات کے شعبے کی ترقی کا ہدف 4.1 فیصد اور جی ڈی پی میں مجموعی سرمایہ کاری کا ہدف 14.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے، آئندہ مالی سال افراط زر کا اوسط ہدف 12 فیصد مقرر کیا گیا ہے،نئے مالی سال کے لیے وفاق اور صوبے ملکر ترقیاتی منصوبوں پر 3792 ارب روپے خرچ کریں گے جو کہ رواں مالی سال کے مقابلے میں 1012 ارب روپے زیادہ ہے، وفاقی پی ایس ڈی پی 550 ارب اضافے کے ساتھ 1500 ارب روپے جب کہ چاروں صوبوں کا سالانہ ترقیاتی پلان 462 ارب روپے اضافے سے2095 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے،صوبہ سندھ ترقیاتی منصوبوں پر سب سے زیادہ 764 ارب روپے خرچ کرے گا، پنجاب نے 700 ارب روپے، خیبرپختونخوا نے 351 ارب جب کہ بلوچستان نے 281 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا ہے۔

    آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سیلز ٹیکس میں اضافہ متوقع ہے جس کے پیش نظر چینی، گھی، چائے کی پتی اور میک اپ کا سامان مہنگا ہونے کا امکان ہے،، چینی پر سیلز ٹیکس 18 سے بڑھ کر19 فیصد ہونے سے چینی کے فی کلو نرخ میں 5 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے گھی 5 سے 7 روپے، صابن 2 سے 5 روپے اور شیمپو 15 سے 20 روپے مہنگا ہونے کا امکان ہے۔

  • اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد کمی کردی

    اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد کمی کردی

    اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی جاری کردی

    اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد کمی کردی،شرح سود 22فیصد سے کم ہوکر20.5 فیصد ہو گئی، اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا ہے، نئی پالیسی کے مطابق اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد کمی کا اعلان کیا ہے، ایس بی پی اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ شرح سود 150 بیسسز پوائنٹس کم ہوا ہے۔

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں یہ چار سالوں میں پہلی کمی اور اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستانی معیشت ٹریک پر آنے کو ہے. شرح سود 25 جون 2023 سے 22 فیصد پر برقرار تھی۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ” بجٹ اعلانات اور بجلی گیس کی قیمتوں میں ردوبدل کی وجہ سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے اور جولائی میں شرح اوپر جاسکتی ہے، جولائی تا مارچ مالی سال 24 کے دوران مالیاتی اشاروں میں بہتری کا سلسلہ جاری رہا، اپریل میں 17.3 فیصد پر رہنے والی مہنگائی کی شرح 11.8 فیصد رہ گئی”۔

  • جاپان میں 17 سالوں میں پہلی مرتبہ شرح سود میں اضافہ

    جاپان میں 17 سالوں میں پہلی مرتبہ شرح سود میں اضافہ

    جاپان کے مرکزی بینک نے 17 سالوں میں پہلی مرتبہ شرح سود میں اضافہ کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق بینک آف جاپان نے شرح سود منفی 0.1 فیصد سے بڑھا کر 0 سے 0.1 فیصد کے درمیان کرنے کا اعلان کیا ہے، شرح سود میں اس اضافے کے بعد دنیا میں اب کوئی ایسا ملک نہیں بچا جہاں شرح سود منفی میں ہو۔

    رواں ماہ کے آغاز میں جاپان کی بڑی کمپنیوں نے تنخواہوں میں 5.28 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا جو کہ گزشتہ 3 دہائیوں کے دوران ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے،جاپان میں اشیا کی قیمتوں میں معمولی اضافے کی وجہ سے 1990 کی دہائی کے اواخر سے تنخواہوں میں قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا تھا۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف جائزہ مشن کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات مکمل

    منفی شرح سود کا مطلب یہ ہےکہ عوام کو بینکوں میں پیسہ رکھنے کے لیے بینکوں کو ادائیگی کرنا ہوتی ہے، ممالک کی جانب سے منفی شرح سود کا استعمال اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ عوام کو کم سے کم پیسہ بینکوں میں رکھنے اور زیادہ سے زیادہ پیسہ خرچ کرنے کے لیے راغب کیا جاسکے۔

    اوورسیز پاکستانیوں نے 42 مہینوں میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں کتنے ارب ڈالر جمع کرائے؟

  • بنیادی شرح سود 22 فیصد پر برقرار

    بنیادی شرح سود 22 فیصد پر برقرار

    کراچی: دوسرے کاروباری روز کے اختتام پر انٹربینک میں ڈالر پھر سستا ہو گیا۔

    باغی ٹی وی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعدادو شمار کے مطابق آج کاروبار کے اختتام پر انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں 12 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد ڈالر کی قیمت 283 روپے 90 پیسے سے کم ہو کر 283روپے 78 پیسے کی سطح پر بند ہوئی ہے۔
    https://x.com/StateBank_Pak/status/1734533623204999661?s=20
    آج صبح کاروبار کے آغاز پر انٹربینک میں ڈالر 40 پیسے سستا ہو نے کے بعد 283 روپے 50 پیسے پر ٹریڈ کر رہا تھا، گزشتہ کاروباری روز کے اختتام پر انٹربینک میں ڈالر 3 پیسےمہنگا ہونے کےبعد 283 روپے 90 پیسے پر بند ہوا تھا ۔
    https://x.com/StateBank_Pak/status/1734542057493180865?s=20
    دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے، اسٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس میں شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ ہوا، مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں اندازہ لگایا کہ مالی سال 24 کی دوسری ششماہی میں افراط زر میں نمایاں کمی متوقع ہے۔

    تجریہ کاروں کا کہنا ہے کہ افراط زر کی شرح کے پیش نظر پالیسی ریٹ میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں، تاہم بعض ماہرین کو توقع ہے کہ شرح سود میں ایک فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔

    اس وقت بنیادی شرح سود 22 فیصد ہے، اس سے قبل 30 اکتوبر کو پالیسی بیان میں شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

  • مانیٹری پالیسی کااعلان آج کیا جائےگا،شرح سود میں ایک سے دو فیصد تک اضافے کا امکان

    مانیٹری پالیسی کااعلان آج کیا جائےگا،شرح سود میں ایک سے دو فیصد تک اضافے کا امکان

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) آج مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا۔

    باغی ٹی وی: گورنراسٹیٹ بینک کی سربراہی میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس میں ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اور شرح سود میں ردوبدل کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس اسٹیٹ بینک آف پاکستان کراچی میں منعقد ہوگا، بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی اجلاس کے بعد شرح سود میں ردوبدل کا اعلان کرے گی، اس وقت بنیادی شرح سود 22 فی صد ہے-

    ترجمان اسٹیٹ بینک نے بتایا تھا کہ اجلاس کے بعد پریس ریلیز کے ذریعے مانیٹری نئی پالیسی کا اعلان کیا جائے گامانیٹری پالیسی کمیٹی شرح سود کا فیصلہ کرنے کا قانونی ادارہ ہے اور مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 14 ستمبر کو ہے جس میں شرح سود پر فیصلہ ہوگا۔

    انتخابی عمل کو پاکستان کے قوانین کے مطابق آگے بڑھایا جائے،امریکا

    خیال رہے کہ رواں سال 31 جولائی کو گورنر اسٹیٹ بینک نے شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھاماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ شرح سود میں ایک سے دو فیصد تک اضافے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک نے 26 جون کو شرح سود 100 بیسس پوائنٹس یعنی 1 فیصد بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد بنیادی شرح سود 22 فیصد ہوگئی تھی۔

    بجلی چوروں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن،درجنوں گرفتاریاں، ٹرانسفارمرزبھی اُتارلیے گئے

  • اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کا اجلاس ہوا ،

    گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا تھا کہ پچھلی مانیٹری پالیسی کی میٹنگ کو ریویو کیا ،اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 22 فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، امپورٹ پر پابندی مکمل طور پر ختم کردی، مئی 2022 میں اسٹیٹ بینک سے پیشگی اجازت 23 جون کو ختم کردی، اس سے قبل ایل سی پر مارجن 100 فیصد تک تھا وہ بھی واپس لے لیا گیا،اب معاملات بینک اور صارف کے درمیان معاملات ہیں، بینک اپنی کریڈٹ پالیسی اور لیکوڈیٹی کے مطابق فیصلہ کررہے ہیں،جولائی کے آغاز میں 4.5 ارب ڈالر کے ذخائر تھے،رواں ماہ 4.2 ارب ڈالر کے مزید انفلوز آئے،اس کے ساتھ قرضوں کی ادائیگی بھی جاری رہی، جولائی میں 1.8 ملیں ڈالر ادا کئے،

    آگلے دو ماہ تک شرح سود 22 فیصد پر برقرار رہے گا۔مہنگائی کی شرح 20 سے 22 فیصد رہنے کی توقع ہے،اگلے سال گروتھ دو سے تین فیصد رہنے کا امکان ہے ملک میں مہنگائی کی شرح 29.2 فیصد رہی ،رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 20 سے 22 فیصد کی توقع ہے ، رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ 2 سے 3 فیصد رہے گی ،حکومتی اقدامات کی وجہ سے کرنٹ اکاونٹ میں بہتری دیکھی گئی ، معاشی اعدادو شمار کے جائزے کے بعد شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ،

    ریاست مدینہ کے دعویدار نے مزید سود والا قرضہ لے لیا ،بہرہ مند تنگی

    نعرہ ریاست مدینہ کا اور ملک چلا رہے ہیں سود پر، مذمتی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ای ایف پی کا گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر سے شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ

     ملکی موجودہ ابتر معاشی صورتحال تباہ کن مغربی سودی نظام ہے،علامہ زاہدالراشدی

    سود کا خاتمہ حکم الہٰی کے ساتھ آئین پاکستان کا اہم تقاضا بھی، ڈاکٹر قبلہ ایاز