Baaghi TV

Tag: شرح سود

  • اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 1 فیصد اضافہ کردیا

    اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 1 فیصد اضافہ کردیا

    اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 1 فیصد اضافہ کردیا، جس کے بعد پاکستان میں بنیادی شرح سود 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ ڈیڑھ ماہ کے لئے زری پالیسی کی منظوری دی گئی، اجلاس میں شرح سود 100 بیسس پوائنٹس یعنی 1 فیصد بڑھا کر 22 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق شرح سود میں 1 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے، اور بنیادی شرح سود 22 فیصد ہوگئی ہے۔

    صنعتکار رہنماچیئرمین ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن لاہو میاں خرم الیاس نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے پالیسی ریٹ (شرح سود) میں مزید ایک فیصد اضافہ کے بعد 22فیصد مقرر کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی بزنس کمیونیٹی شرح سود میں مسلسل اضافوں سے پریشان ہے۔موجودہ بلند ترین شرح سود میں نئی صنعتیں نہیں لگ سکتیں

    انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں۔میثاق معیشت وقت کی اہم ضرورت ہے۔حکومت کو معاشی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے۔موجودہ شرح سود22فیصد میں کاروبار کرنا مشکل ترین ہوگیا ہے۔ امریکہ میں پچھلے دنوں شرح سود 0.25فیصد اضافہ کے بعد5فیصد ہوئی ہے،برطانیہ میں بھی شرح سود5فیصد ہے جبکہ ملک میں 22فیصد اور بینکوں کے چارجز میں اضافہ کے ساتھ بلند ترین شرح سود میں کاروبارکرنا ناممکن ہوگیا ہے۔ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے ٹاؤن شپ انڈسٹریز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین سہیل اکبر،احسن منیر چاولہ وائس چیئرمین کے ہمراہ صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

    میاں خرم الیاس نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں اضافہ سے صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوگی، شرح سود میں مزید اضافہ سے مقامی سطح پر کاروبار کرنے کیلئے سرمائے کی قلت پیدا ہوجائے گی۔ اسٹیٹ بینک کی طرف سے شرح سود کا تعین کرنے کے بعد کمرشل مالیاتی ادارے اپنے اخراجات ڈال کر اس میں مزید اضافہ کردیتے ہیں اور کوئی بھی کاروباری ادارہ اتنی بلند سطح پر قرض لیکر سرمایہ کاری کا رسک نہیں لے سکتا۔ پاکستان میں بلند شرح سود صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔ کیونکہ شرح سود میں اضافہ سے نئی انویسٹمنٹ متاثر ہوگی اور سرمایہ تجارتی سرگرمیوں کی بجائے محفوظ منافع کیلئے بینکوں میں رکھنے کو ترجیح دی جا ئے گی،

    انہوں نے کہا کہ ہ شرح سود بڑھنے سے بے شمار کاروباربند،بنک نادہندگی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔پاکستان میں بلند شرح سود اور عالمی معاشی حالات میں ابتری کے باعث پاکستانی درآمدات اور برآمدات بھی متاثر ہورہی ہیں اس لیے اسٹیٹ بنک شرح سود میں فوری کمی کرے کیونکہ خطہ میں پاکستان میں شرح سود سب سے زیادہ ہے

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی

    امریکا میں شرحِ سود بڑھنے سےعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز بڑی کمی ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی ڈبلیو ٹی آئی ساڑھے 3 ڈالر سستا ہوکر فی بیرل قیمت 68.60 پر آگئی ہے جبکہ برطانوی خام تیل 3 ڈالر سستا ہوجانے کے بعد فی بیرل تیل کی قیمت 72.30 ڈالر ہوگئی ہے۔

    امریکا میں شرح سود میں مزید اضافے کے بعد 16 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    گزشتہ روز ہی امریکی ڈبلیو ٹی آئی 3.94 ڈالر سستا ہو کر فی بیرل قیمت 71.71 ڈالر پرآیا تھا جبکہ برطانوی برینٹ 4 ڈالر کے قریب سستا ہونے کے بعد فی بیرل تیل کی قیمت 75.40 ڈالر ہوگئی تھی۔

    چینی وزیرخارجہ جمعے کو پاکستان کا دو روزہ دورہ کریں گے

    واضح رہے کہ امریکی مرکزی بینک نے شرحِ سود میں مزید 0.25 فیصد اضافہ کردیا ہے جس کے بعد امریکا میں شرحِ سود بڑھ کر5.25 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے شرح سود میں اضا فے کے بعد امریکی منڈیا ں گر گئیں ڈاؤ جونز ،ایس اینڈ پی اور نیسڈیک میں مندی دیکھی گئی ،اس اقدام نے اس کی بینچ مارک کی شرح کو 5فیصد اور 5.25فیصد کے درمیان دھکیل دیا ہے ماہرین کا خیال ہے کہ شرح سود میں آئندہ کچھ عرصے تک مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا-

    الیکشن کمیشن نے ق لیگ پارٹی صدارت کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا

  • امریکا میں شرح سود میں مزید اضافے کے بعد 16 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    امریکا میں شرح سود میں مزید اضافے کے بعد 16 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) نے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافہ کر دیا جس کے بعد شرح سود 16 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود 5 سے بڑھا کر 5.25 فیصد کردی ہےامریکا میں ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے میں شرح سود میں یہ 10ویں مرتبہ اضافہ کیا گیا ہےامریکی فیڈرل ریزرو مہنگائی کی سالانہ شرح 2 فیصد تک کرنے کا ہدف رکھتا ہے، شرح سود میں حالیہ اضافے کے بعد شرح سود 16 سال کی بلند سطح پر پہنچی ہے۔

    سگریٹ نوشی چھوڑنے کیلئے تُرک شہری نے اپنا سر پنجرے میں بند کر لیا

    فیڈرل بینک نے اشارہ کیا کہ بدھ کا اضافہ اب کے لیے آخری ہو سکتا ہے-

    شرح سود میں اضا فے کے بعد امریکی منڈیا ں گر گئیں ڈاؤ جونز ،ایس اینڈ پی اور نیسڈیک میں مندی دیکھی گئی ،اس اقدام نے اس کی بینچ مارک کی شرح کو 5فیصد اور 5.25فیصد کے درمیان دھکیل دیا ہے –

    ماہرین کا خیال ہے کہ شرح سود میں آئندہ کچھ عرصے تک مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

    بلند شرحوں نے دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں قرض لینے کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ کیا ہے، جس سے ہاؤسنگ اور تین امریکی بینکوں کی حالیہ ناکامیوں میں کردار ادا کرنے جیسے شعبوں میں سست روی پیدا ہوئی ہے۔

    فیڈرل ریزرو کے چیئر جیروم پاول نے اعلان کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اسے ایک "اہم تبدیلی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ہم مزید یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اضافی شرح سود میں اضافے کی توقع ہےتاہم، انہوں نے مزید کارروائی کو مسترد کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا: "ہم آنے والے ڈیٹا سے متاثر ہوں گے۔

    کینیا:109 پیروکاروں کی موت کا ذمہ دارخود ساختہ پادری عدالت میں پیش

    بینک نے گزشتہ سال اس وقت جارحانہ طور پر شرح سود میں اضافہ کرنا شروع کیا جب امریکہ میں قیمتیں دہائیوں میں سب سے تیز رفتاری سے بڑھ رہی تھیں برطانیہ اور یورپ سمیت دنیا بھر کے مرکزی بینکوں نے بھی ایسی ہی کارروائی کی ہے۔

    زیادہ شرح سود کے باعث گھر خریدنا، کاروبار کو بڑھانے کے لیے قرض لینا یا دیگر قرض لینا زیادہ مہنگا ہو جاتا ہے۔ ان اخراجات کو بڑھا کر، حکام توقع کرتے ہیں کہ مانگ گر جائے گی اور قیمتیں کم ہو جائیں گی۔

    جب سے فیڈرل بینک نے اپنی مہم شروع کی ہے، امریکہ میں قیمتوں میں اضافے نے اعتدال کے آثار دکھائے ہیں مارچ میں، افراط زر، جس شرح سے قیمتیں بڑھتی ہیں، 5فیصد پر کھڑی رہی – تقریباً دو سالوں میں سب سے کم سطح پر اگرچہ فیڈ کے لیے اب بھی غیر آرام دہ حد تک زیادہ ہے، جو کہ 2فیصد کی شرح کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    EY-Parthenon کے چیف اکانومسٹ گریگوری ڈیکو نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ فیڈ اب توقف کرنے کے لیے "سمجھداری” کا مظاہرہ کرے گا، کیونکہ سرگرمی سست ہونے سے معیشت کو خطرات بڑھ رہے ہیں۔

    سعودی عرب کیوں گئے؟فرانسیسی کلب نے میسی کو معطل کر دیا

    انہوں نے کہا کہ آج معیشت میں کساد بازاری کا خوف بہت زیادہ ہے۔ "مجھے نہیں لگتا کہ افراط زر کی جنگ ختم ہو گئی ہے، لیکن ہم ایک ایسی صورتحال میں ہیں جہاں ہم بتدریج کمی دیکھ رہے ہیں اور ہم ایسے ماحول میں بھی ہیں جہاں شرح سود زیادہ اور بلند ہے اور اس وجہ سے کاروباری سرگرمیوں کو روکنا چاہیے، جو آنے والے مہینوں میں مزید تنزلی کا باعث بنے۔”

    بال چین مینوفیکچرنگ، نیویارک میں ایک ملکیتی فرم میں، حالیہ مہینوں میں اقتصادی پریشانیوں کی وجہ سے صارفین زیادہ محتاط ہو گئے ہیں، صدر بل ٹوبنر کا کہنا ہے اس کی کمپنی نے اب بھی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے جواب میں اپنی سپلائی کو دوبارہ بھرنے میں کمی کر دی ہے۔

    لیکن انہوں نے کہا کہ ان کی فرم کو قرض لینے کی فوری ضرورتوں کا سامنا نہیں ہے اور وہ پر امید ہیں کہ کوئی بھی سست روی ہلکی اور نسبتاً مختصر مدت کے لیے ہوگی۔

    بکھنگم پیلس پر حملے کی کوشش،نامعلوم شخص گرفتار

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی وزیر خزانہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر قرض کی حد نہ بڑھائی گئی تو یکم جون تک امریکا دیوالیہ ہوجائے گا، کانگریس قرض کی حد بڑھائے یا حد کو معطل کر دے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکا میں سلیکون ویلی بینک اور سگنیچر بینک دیوالیہ ہوچکے ہیں۔

  • مانیٹری پالیسی کا اعلان،شرح سود میں ایک فیصد اضافہ

    مانیٹری پالیسی کا اعلان،شرح سود میں ایک فیصد اضافہ

    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا

    اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں 1 فیصد اضافہ کردیا ، اضافے کے بعد شرح سود 21 فیصد پر پہنچ گئی اسٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق مارچ میں مہنگائی کی شرح 35.4 فیصد ہو گئی

    واضح رہے کہ 2 مارچ کو گزشتہ اجلاس میں نو رکنی کمیٹی نے شرح سود میں تین سو بیسسز پوئنٹس کا اضافہ کیا تھا، اسٹیٹ بینک کا موجودہ پالیسی ریٹ بیس فیصد ہے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد شرح سود میں تین فیصد اضافہ ہوا اور شرح سود 17 فیصد سے بڑھ کر 20 فیصد ہوگئی تھی

    شرح سود میں اضافے کے بعد پی ٹی آئی رہنما سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال پاکستان میں مہنگائی کی شرح دگنی سے بھی زیادہ زیادہ ہوگی نہ جانے یہ پی ڈی ایم کی حکومت کیوں جھوٹے لارے دے رہی ہے قوم کو،

    تحریک انصاف کے رہنما حسان خاور کا کہنا ہے کہ سٹیٹ بینک نے شرح سود بڑھا کر 21 فیصد کر دی۔ حکومت معیشت کا پہیہ روکنے کے علاوہ اب تک کوئی حل نہیں دے سکی۔ معاشی بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس شرح سود کے ساتھ رہا سہا کاروبار بھی بند ہو جائے گا۔ بیروزگاری میں ہوشربا اضافہ ہو گا۔ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

  • امریکی مرکزی بینک نے  شرح سود میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا

    امریکی مرکزی بینک نے شرح سود میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا

    امریکی مرکزی بینک نےشرحِ سود میں 0.25 فیصد اضافہ کردیا، شرح سود 4.75 سے بڑھا کر 5 فیصد کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی:"بی بی سی” کے مطابق امریکی مرکزی بینک نے اس خدشے کے باوجود کہ یہ اقدام بینک کی ناکامیوں کے بعد مالیاتی بحران میں اضافہ کر سکتا ہے شرح سود میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے شرح سود میں 0.25 فیصد اضافے کے بعد شرح سود 4.75 سے بڑھا کر 5 فیصد کر دی گئی ہےلیکن امریکی مرکزی بینک نے خبردار کیا کہ بینک کی ناکامیوں کا نتیجہ آنے والے مہینوں میں اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    سائنسدانوں نے کورونا وائرس کو پھیلانے والے ممکنہ جانور کی شناخت کرلی

    وفاق قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے قرض لینے کے اخراجات میں اضافہ کر رہا ہے لیکن گزشتہ سال سے شرح سود میں ہوشربا اضافے نے بینکاری نظام میں تناؤ پیدا کر دیا ہے۔

    دو امریکی بینک سلیکون ویلی بینک اور سگنیچر بینک اس مہینے منہدم ہو گئے، زیادہ شرح سود کی وجہ سے پیدا ہونے والی پریشانیوں کی وجہ سے جزوی طور پر بحران کا شکار ہو گئے بینکوں کے پاس موجود بانڈز کی قدر کے بارے میں خدشات ہیں کیونکہ بڑھتی ہوئی شرح سود ان بانڈز کی قیمت گرا سکتی ہے-

    بینک بانڈز کے بڑے پورٹ فولیوز رکھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اہم ممکنہ نقصانات پر بیٹھے ہیں بینکوں کے پاس رکھے ہوئے بانڈز کی قدر میں کمی ضروری نہیں ہے جب تک کہ وہ انہیں بیچنے پر مجبور نہ ہوں۔

    دنیا بھر کے حکام نے کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ناکامیوں سے بڑے پیمانے پر مالی استحکام کو خطرہ لاحق ہے اور افراط زر کو کنٹرول میں لانے کی کوششوں سے توجہ ہٹانے کی ضرورت ہے۔

    جو بائیڈن نے کورونا سے متعلق خفیہ معلومات جاری کرنے کے قانون پر دستخط کر …

    گزشتہ ہفتے، یورپی مرکزی بینک نے اپنی کلیدی شرح سود میں 0.5 فیصد اضافہ کیابینک آف انگلینڈ جمعرات کو اپنی شرح سود کا فیصلہ کرنے والا ہے، ایک دن بعد جب سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فروری میں افراط زر کی شرح غیر متوقع طور پر 10.4 فیصد تک بڑھ گئی۔

    امریکی فیڈرل ریزروز کے چیئرمین جیرومی پاؤل نے میٹنگ کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے حالیہ بینکنگ بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈیپازیٹرز، صارفین، اور کاروباری طبقات کو اعتماد دینے کیلئے شرح سود بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ مرکزی بینک اور دیگر ایجنسیز کی جانب سے حالیہ کچھ دنوں میں اٹھائے گئے اقدامات کے باوجود بھی سسٹم بہت مضبوط ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک کا یہ عمل بتاتا ہے کہ تمام ڈیپازیٹرز کی بینکنگ سسٹم میں موجود سیونگز محفوظ ہیں اور حکام ان کی جمع پونجی کی حفاظت کیلئے تمام طریقہ کار بروئے کار لانے کیلئے تیار ہیں۔

    ملازمین کی ہڑتال ،پیرس کی سڑکوں پر ہزاروں ٹن کچرا جمع

    انہوں نے سلیکن ویلی بینک کو ایک مضبوط مالیاتی نظام میں "آؤٹ لیئر” کے طور پر بیان کیا لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ حالیہ ہنگامہ آرائی سے ترقی پر اثر پڑے گا، جس کا مکمل اثر ابھی تک واضح نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی مرکزی بینک کی جانب سے رواں سال شرح سود میں مزید اضافے کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔

  • اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان ،شرح سود میں اضافہ

    اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان ،شرح سود میں اضافہ

    اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا

    اسٹیٹ بینک نے شرح سود 3 فیصد بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی جاری کرتے ہوئے شرح سود 17 فیصد سے بڑھاتے ہوئے 20 فیصد مقرر کر دی ہے سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے حکومت سے شرح سود بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا یہ فیصلہ افراط زر کے نقطہ نظر اوراس کی توقعات میں بگاڑ ظاہر کرتا ہے بیرونی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے ٹھوس کوششوں کی ضرورت ہے

    اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ چند ماہ میں مہنگائی مزید بڑھے گی لیکن کچھ عرصہ بعد مہنگائی میں کمی آنا شروع ہوگی رواں سال مہنگائی 27 سے 29 فیصد رہے گی، نومبر 2022 میں 21 سے 23 فیصد کی پیشن گوئی کی گئی تھی مہنگائی کی توقعات پر قابو پانا اور مضبوط پالیسی ردعمل کی ضرورت ہے جاری کھاتے کے خسارے میں کمی کے باوجود کمزوری ہے

    اسٹیٹ بینک کے مطابق جنوری میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 24.2 کروڑ ڈالر رہا، اور رواں مالی سال 7 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3.8 ارب ڈالر رہا زرمبادلہ کے ذخائر پست سطح پر ہیں اس مانیٹری پالیسی سے آئی ایم ایف کے جائزے کی تکمیل سے چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی

  • پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ شرح سود بڑھانے پر اتفاق کرلیا

    پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ شرح سود بڑھانے پر اتفاق کرلیا

    اسلام آباد: پاکستان نے قرض کی قسط کیلیےآئی ایم ایف کی ایک اور پیشگی شرط مان لی پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ پالیسی ریٹ(شرح سود) بڑھانے پر اتفاق کرلیا-

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہےکہ پاکستان اور آئی ایم ایف جائزہ مشن کے درمیان ہونیو الے ورچوئل مذاکرات میں تکنیکی سطح کی بات چیت ہوئی ہے جس میں پاکستان نے پالیسی ریٹ بڑھانے پر اتفاق کرلیا ہے،توقع ہے کہ پاکستان شرح سود میں دو فیصد تک اضافہ کرے گا-

    ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے پیشگی اقدامات میں سے زیادہ تر اقدامات پورے کردیئے گئےہیں، پاور سیکٹرکے معاملے پر کچھ معاملات ہیں جو حتمی مرحلے میں ہے پاکستان نے آئی ایم ایف حکام کو جون تک غیر ملکی زرِمبادلہ حاصل ہونے کے ذرائع پر بھی تفصیلی بریفنگ دی ہے، اور توقع ہے کہ اس بارے بھی جلد پیشرفت ہوگی-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے معاملات طے ہونے کے بعد آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف سطع معاہدہ ہوجائے گا آئی ایم ایف سے اسٹاف سطع کا معاہدہ طے پانے کے بعد آئی ایم ایف جائزہ مشن نویں اقتصادی جائزے اور اگلے قسط آئی ایم ایف بورڈ کو منظوری کیلئے بھجوائے گا۔

  • برطانیہ: شرح سود میں دسویں مرتبہ اضافہ،14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    برطانیہ: شرح سود میں دسویں مرتبہ اضافہ،14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    بینک آف انگلینڈ نے مسلسل 10 ویں بار شرح سود میں اضافہ کردیا ہے جس کے بعد وہ 14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : مہنگائی کی روک تھام کے لیے بینک آف انگلینڈ نے شرح سود میں 0.50 فیصد اضافہ کیا ہے،اس اضافے کے بعد شرح سود 3.5 فیصد سے بڑھ کر 4 فیصد ہوگئی ہے۔

    برطانیہ تاریخ کےمشکل ترین دورمیں داخل:ہڑتالی ملازمین کی تعداد6 لاکھ تک جاپہنچی

    بینک آف انگلینڈ نے کہا کہ برطانوی معیشت کو مختصر عرصے کی کساد بازاری کا سامنا ہوسکتا ہے مگر اس کا دورانیہ گزشتہ سال پیشگوئی کیے گئے دورانیے سے کم ہوگا۔

    ماہرین کے مطابق آنے والے مہینوں میں شرح سود 4.5 فیصد تک جاسکتی ہے مگر اگلے سال سے اس میں کمی آنے لگے گی۔

    شرح سود بڑھنےسےٹریکرمارگیج صارفین کو ہر ماہ 49 پاؤنڈ زائد ادا کرنا ہوں گے جبکہ عام ریٹ پر مارگیج لینے والے صارفین 31 پاؤنڈ زائد ماہانہ ادا کریں گے۔

    برطانیہ میں ہڑتالیں ہی ہڑتالیں

    دوسری جانب دنیا اس وقت معاشی بحرانوں کی زد میں ہےاوراب تو ترقی یافتہ ممالک بھی اپنےمشکل ترین دورسے گزر رہے ہیں ، ملازمین کو تنخواہیں دینے کےلیے پیسے نہیں ہیں اور ملک چلانے کےلیے خزانے میں کچھ بچا نہیں ، دوسری طرف کل برطانیہ کی معاشی صورت حال سے متعلق آئی ایم ایف کا کہنا تھاکہ برطانوی معیشت 2023 میں 0.6 فیصد تک سکڑ جائے گی۔ برطانیہ میں 6 لاکھ سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے پر ہڑتال کردی، ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔

    کل 5 لاکھ کے قریب سرکاری ملازمین ہڑتال میں شامل تھے مگرآج یہ تعداد بڑھ گئی ہے اوربرطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ حالات بہت ہی زیادہ بگڑگئے ہیں احتجاج میں ایمبولینس، ٹرین، بس اور بارڈر فورس کے ملازمین سمیت 127 محکموں کے6 لاکھ ورکرز نے حصہ لیا۔ملازمین کی ہڑتال کے باعث اسکول، یونیورسٹیز، ٹرین اور بس سروسز بُری طرح متاثر ہوئی، جبکہ ملک بھر میں 75 سے زیادہ احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔جبکہ اس سے پہلے ہی چار لاکھ سے زیادہ اساتذہ کی ہڑتال سے تقریباً 85 فیصد اسکول اور 150 یونیورسٹیز جزوی یا مکمل طور پر بند رہیں۔

    برطانیہ میں 200 پناہ کے متلاشی لاوارث‌ بچے لاپتا ہونے کا اعتراف

  • امریکا میں شرح سود میں اضافہ

    امریکا میں شرح سود میں اضافہ

    امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) نے شرح سود میں صفر اعشاریہ دو پانچ فیصد اضافہ کردیا۔

    باغی ٹی وی: بلوم برگ کے مطابق امریکی مرکزی بینک نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافہ کیا ہے جس کے بعد امریکا میں شرح سود 4.75 فیصد ہو گئی، امریکا میں رواں سال شرح سود بلند سطح پر ہی رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    امریکی سینیٹر کی ترک صدر پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ

    فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں ایک چوتھائی فیصد اضافہ کیا اور اس سال باقی تمام چھ میٹنگز میں اضافے کا اشارہ دیا، چار دہائیوں میں تیز ترین افراط زر سے نمٹنے کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا یہاں تک کہ اقتصادی ترقی کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

    چیئر جیروم پاول کی قیادت میں پالیسی سازوں نے اپنی کلیدی شرح کو 0.25% سے 0.5% کی ہدف کی حد تک اٹھانے کے لیے 8-1 ووٹ دیا، جو کہ 2018 کےبعد پہلا اضافہ ہےسینٹ لوئس فیڈ کے صدر جیمز بلارڈ نے آدھے نکاتی اضافے کے حق میں اختلاف کیا-

    پاول نے بدھ کو فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "امریکی معیشت بہت مضبوط اور سخت مالیاتی پالیسی کو سنبھالنے کے لیے اچھی پوزیشن میں ہے میں نے ایک کمیٹی کو دیکھا جو معیشت کو قیمتوں میں استحکام کی طرف لوٹانے کی ضرورت سے بخوبی واقف ہے۔”

    برطانیہ میں 124محکموں کے لاکھوں ورکرز کی ہڑتال، نظام زندگی بری طرح متاثر

    پاول کی جانب سے کساد بازاری کے خطرے کو کم کرنے اور سخت پالیسی کو برداشت کرنے کے لیے معیشت کو کافی مضبوط قرار دینے کے بعد S&P 500 انڈیکس نے اس فیصلے پر حاصل ہونے والے فوائد کو مختصراً مٹا دیا۔ یہ 2 فیصد سے ازئد پر بند ہوا۔

    موڈیز اینالیٹکس انکارپوریشن میں مانیٹری پالیسی ریسرچ کے سربراہ ریان سویٹ نے کہا، "یہ ایک بہت ہی جارحانہ سختی کا دور ہوگا، مجھے نہیں معلوم کہ کیا فیڈ نرم لینڈنگ کو ختم کرنے جا رہا ہے یہ بہت واضح ہے کہ فیڈ مہنگائی پر قابو پانے میں دوگنا سے زیادہ ہے۔

    امریکا کے قرضے بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے،ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ

  • مانیٹری پالیسی جاری، شرح سود میں 1.25 فیصد اضافہ

    مانیٹری پالیسی جاری، شرح سود میں 1.25 فیصد اضافہ

    کراچی: اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی جاری کرتے ہوئے شرح سود میں 1 اعشاریہ 25 فیصد کا اضافہ کردیا۔

    ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا جس میں شرح سود میں 1 اعشاریہ 25 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اضافے کے بعد بنیادی شرح سود 14 فیصد ہوگئی ہے۔

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ عمومی مہنگائی غیر متوقع طور پر اپریل میں دو سال کی بلند ترین سطح 15 فیصد تک پہنچ گئی، مہنگائی دیہی اور شہری علاقوں میں مزید بڑھ کر بالترتیب 11.5 فیصد اور 11.1 فیصد ہوگئی، جب کہ زری پالیسی کمیٹی مہنگائی، مالی استحکام، اور نمو کے وسط مدتی امکانات پر اثر انداز ہونے والی تبدیلیوں کی محتاط نگرانی برقرار رکھے گی۔

    اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مانیٹری اور اقتصادی پالیسی سے طلب کو پائیدار کرنا ہوگا، مہنگائی کی توقعات اور بیرونی خدشات کم کرنے کی ضرورت ہے، مہنگائی کی صورتحال بیرونی اور اندرونی حالات سے متاثر ہوئی ہے، رواں مالی سال کی اقتصادی پالیسی، انرجی سبسڈی پیکیج سے طلب بڑھی۔