Baaghi TV

Tag: شرح سود

  • جوبائیڈن کی شرح سود میں اضافے کی پالیسی امریکیوں کا کچومرنکال دے گی:امریکی میڈیا

    جوبائیڈن کی شرح سود میں اضافے کی پالیسی امریکیوں کا کچومرنکال دے گی:امریکی میڈیا

    واشنگٹن :جوبائیڈن کی شرح سود میں اضافے کی پالیسی امریکیوں کا کچومرنکال دے گی:اطلاعات کے مطابق معروف امریکی میڈیا گروہ فوربس میڈیا کے سی ای او اسٹیو فوربس نے خبردار کیا ہے کہ مہنگائی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے صدر جو بائیڈن کی شرح سود میں اضافے کی پالیسی "لوگوں کو غریب” کر دے گی۔

    قدامت پسند نیوزآؤٹ لیٹ نیوز سماکس کے ساتھ ایک انٹرویو میں فوربس نے زور دیا کہ شرح سود میں اضافے سے امریکی صارفین پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔جس کی روک تھام کےلیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ضروری ہے

    امریکہ میں شرح سود میں اچانک غیرمعمولی اضافہ،عالمی سطح پر منفی اثرات مرتب ہونے کا…

    انہوں نے انٹریو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا۔”آئیے اس کے بارے میں دو ٹوک رہیں۔ جب وہ نرم لینڈنگ کے بارے میں بات کرتے ہیں یا معیشت کو سست کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے لوگوں کو غریب بنانا،” انہوں نے مزید کہا کہ "امریکی معیشت کو زیادہ شرح سود کے ساتھ سزا دینے” کے بجائے، فیڈرل ریزرو کو اپنی کوششیں ڈالر کی قدر کو مستحکم کرنے پر مرکوز کرنی چاہیے۔

    گزشتہ ہفتے فیڈ کی جانب سے 28 سالوں میں سب سے زیادہ شرح سود میں اضافے کے اعلان کے بعد بہت سے ماہرین اقتصادیات نے ممکنہ کساد بازاری کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔اسی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے فوربس نے زور دیا کہ شرح سود میں اضافے سے صارفین کو خاص طور پر اس وقت نقصان پہنچے گا جب "اس سال کے آخر میں رہن کی شرحوں کو ایڈجسٹ کیا جائے گا” اور سردیوں میں حرارتی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔

    جنگوں نے امریکہ کا دیوالیہ نکال دیا۔ تحریر: محمد شعیب

    انہوں نے مزید کہا کہ "ایک بڑی، بری چیز ہو رہی ہے۔ اور جب اس سردیوں میں تیل کی قیمتیں گرم ہوتی ہیں، جب آپ پہلے کی نسبت دگنی قیمت ادا کر رہے ہوتے ہیں اور آپ کو اپنے گھر کو گرم کرنا پڑتا ہے، تو یہ ایک تباہی ہو گی،” ان کایہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے دوچار ہے، اس کی آبادی بہت سے یورپی ممالک کی طرح شدید دباؤ میں ہے۔

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا آئندہ 2 ماہ کیلئے شرح سود 7.75 فیصد پر برقراررکھنے کا…

    یاد رہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ نے اس سال کے شروع میں روسی تیل پر پابندی عائد کر دی تھی، اس کے فوراً بعد جب روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے 24 فروری کو یوکرین کے خلاف فوجی مہم کا اعلان کیا تھا۔ اس نے پورے ملک میں گیس اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ اس اقدام نے اناج، کھانا پکانے کے تیل، کھادوں اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں۔

  • برطانیہ بھی سخت مشکلات کا شکار:مہنگائی میں شدید اضافہ

    برطانیہ بھی سخت مشکلات کا شکار:مہنگائی میں شدید اضافہ

    لندن :برطانیہ بھی سخت مشکلات کا شکار:مہنگائی میں شدید اضافہ ،اطلاعات ہیں کہ اس وقت برطانیہ بھی سخت معاشی مشکلات کا شکار ہے اور ماہرین کی طرف سے اکتوبر میں افراط زر کی شرح 11 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، بینک آف انگلینڈ نے کہا ہے کہ بڑی جدوجہد کے باوجود معاملات نہیں سنبھل رہےجس کا مطلب آنے والے دنوں میں برطانوی شہریوں کو بہت زیادہ مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا

    مہنگائی مارگئی:33 فیصد برطانوی شہری اگلے پانچ سالوں میں اپنے آپکوبے گھرہوتےدیکھ…

    شاید ہی وجہ ہے کہ بینک آف انگلینڈ نے مہنگائی کو روکنے کے لیے شرح سود کو 1 فیصد سے بڑھا کر 1.25 فیصد کر دیا ہے، جس سے کاروباروں کے لیے قرض لینا اورپھرواپس کرنا مہنگا ہو گیا ہے، یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اگریہ صورت حال رہی تو آنے والے دنوں میں بڑی تیزی سے بے روزگاری پھیلنے کا خدشہ ہے

    بینک آف انگلینڈ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مطلب ہے کہ افراط زر 1981 کے بعد سے بلند ترین سطح پر پہنچ جائے گا، پچھلے مہینے کی پیشن گوئی 10 فیصد اوپر کی طرف نظر ثانی کی گئی تھی۔بینک آف انگلینڈ کی افراط زر کی ہدف کی شرح دو فیصد ہے۔ اقدامات کا مقصد اس کو پورا کرنا ہے،جبکہ عام گروسری آئٹمز کی قیمتیں پہلے ہی بڑھ رہی ہیں۔

    بینک کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اپریل میں 500 گرام گائے کے گوشت کی قیمت 2.02 پاونڈ سے بڑھ کر 2.34پاونڈ ہوچکی ہے اور ایسے ہی 600g چکن بریسٹ 3.22 سے3.50 پاونڈ تک پہنچ گئی تھی۔

    لیبر کے شیڈو چیف سکریٹری برائے ٹریژری پیٹ میک فیڈن ایم پی نے کہا: "یہ معیشت کو درپیش صورتحال کی سنگینی کی نشاندہی کرتا ہے۔ بہت سے خاندان پریشان ہوں گے کہ اس سے ان کے گھریلو بلوں پر کیا اثر پڑے گا،وہ یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں وہ یوٹیلٹی بل ادا کریں گے یا پھراپنے پیٹ پالنے کا سامان کریں گے

    ان کا کہنا تھا کہ "ہمیں ایک مضبوط، زیادہ مستحکم معیشت کے لیے ایک منصوبے کی ضرورت ہے، جو قلیل مدتی مسائل کو حل کر سکے اور طویل مدتی کے لیے بنیادیں درست کر سکے۔”شاید یہی وجہ ہے کہ سٹیزن ایڈوائس بیورو ایسے لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ رہا ہے جو فلیٹ اجرت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے امتزاج کا مقابلہ نہیں کر پا رہے ہیں، سٹیزن ایڈوائس سکاٹ لینڈ کے مائیلس فٹ نے کہا۔

    مہنگائی کی وجہ مردایک سے زائد شادی افورڈ نہیں کر سکتا:درفشاں

    "اسکاٹ لینڈ میں بہت سے گھرانے پہلے سے ہی اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے سخت جدوجہد کر رہے ہیں۔ توانائی کے بلوں، پٹرول کی قیمتوں اور دیگر ادائیگیوں کے ساتھ جب کہ اجرتیں جمود کا شکار ہیں، ایسے لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ رہے ہیں جو صرف اس کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں،”

    "آج کی شرح سود میں اضافہ ایسے لوگوں کو سخت متاثر کرے گا، جس سے ان کے لیے روزمرہ کے اخراجات کو پورا کرنا مشکل ہو جائے گا۔ حکومتوں کو بحران کے پیمانے کو پہچاننے اور ان لوگوں کو مزید مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے جوبظاہرحکومت کی پہنچ سے دوردکھائی دے رہی ہے

    ملک میں مہنگائی 23.98 فیصد کی بلند شرح پر پہنچ گئی

  • امریکہ میں شرح سود میں اچانک غیرمعمولی اضافہ،عالمی سطح پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ

    امریکہ میں شرح سود میں اچانک غیرمعمولی اضافہ،عالمی سطح پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ

    امریکہ میں شرح سود میں اچانک غیرمعمولی اضافہ کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق یہ اقدام مہنگائی قابو کرنے کے لئے کیا گیا جبکہ شرح سود 0.75 فیصد بڑھا دی گئ1994 کے بعد یہ شرح سود میں سب سے بڑا اضافہ ہے چیئرمین فیڈرل ریزرو کا کہنا ہے کہ کساد بازاری روکنے کی کوشش کررہے ہیں-

    عرب امارات نے بھارت سے گندم ، گندم سے بننے والی مصنوعات کے معاہدے منسوخ کردیئے

    فیڈرل ریزرو نے 1994 کے بعد سب سے زیادہ شرح سود میں اضافے کی منظوری دی ہے اور اشارہ دیا ہے کہ وہ اس سال شرحوں میں اضافے کو دہائیوں میں سب سے تیز رفتاری سے جاری رکھے گا کیونکہ یہ اقدامات معیشت کو سست کرنے اور افراط زر کا مقابلہ کرنے کیلئے کئے جا رہے ہیں جو 40 سال کی بلند ترین سطح پر چل رہی ہے۔

    حکام نے بدھ کو ختم ہونے والی اپنی دو روزہ پالیسی میٹنگ میں 0.75 فیصد پوائنٹ کی شرح میں اضافے پر اتفاق کیا، جس سے فیڈ کے بینچ مارک فیڈرل فنڈز کی شرح 1.5فیصد اور 1.75فیصد کے درمیان کی حد تک بڑھ جائے گی۔

    نئے تخمینوں نے میٹنگ میں شرکت کرنے والے تمام 18 عہدیداروں کو ظاہر کیا ہے کہ فیڈ اس سال کم از کم 3فیصد تک شرحیں بڑھائے گا، جس میں کم از کم نصف تمام عہدیداروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیڈ فنڈز کی شرح اس سال تقریباً 3.375فیصد تک بڑھنے کی ضرورت ہے۔

    سرکاری ملازمین کو پھل اور سبزیاں اگانےکیلئے ایک دن کی اضافی چھٹی دینے کا فیصلہ

    فیڈ کے چیئرمین جیروم پاول نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ مرکزی بینک کساد بازاری کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ ایک نام نہاد "سافٹ لینڈنگ” حاصل کرنا زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس میں معیشت کساد بازاری سے بچتے ہوئے افراط زر کو کم کرنے کے لیے کافی سست ہو جاتی ہے یہ ایک واضح رعایت کی نمائندگی کرتا ہے کہ معیشت کے سخت مانیٹری پالیسی کو ہضم کرنے پر مندی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

    مسٹر پاول نے کہا کہ گزشتہ چند مہینوں کے واقعات نے ایک نرم لینڈنگ کے حصول میں دشواری کی حد کو بڑھا دیا ہے۔” "اب ایک بہت بڑا موقع ہے کہ یہ ان عوامل پر منحصر ہوگا جن پر ہم قابو نہیں رکھتے ہیں۔ اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور اضافہ اس اختیار کو ہمارے ہاتھ سے چھین سکتا ہے۔

    پاکستانی سفیر کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات

    شرح سود میں اس تاریخی اضافے سے جہاں امریکہ میں مکانات کی خریداری اور کاروبار کے لیے دیئے گئے قرضوں کی مالیت میں اضافہ ہوا وہیں ماہرین نے عالمی سطح پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہونے کے خدشات کا اظہار کیا۔

    عالمی سطح پر غربت میں کمی کے لیے کام کرنے والے جوبلی یوایس نیٹ ورک کےایگزیکٹو ڈائریکٹرایرک لی کومپیٹ کا کہناہےکہ امریکہ میں شرح سود میں اضافے سے ترقی پذیر ممالک پر دباؤ بڑھے گاترقی پذیر ممالک میں شرحِ سود بڑھنےسے کاروباری قرضے کم ہوں گے اور صنعتی و پیدواری سرگرمیاں متاثر ہونے کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔

    ہتھیارڈال دیں ورنہ !! روس کی یوکرینی فوج کو آخری وارننگ:سیورو دونیسک شہرمیں لڑائی جاری

    آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جارجیوا پہلے ہی خبردار کرچکی ہیں کہ کم آمدن والے 60 فی صد ممالک اس وقت شدید ‘قرضوں کے دباؤ’ کا شکار ہیں۔ اس دباؤ سے مراد یہ ہے کہ ان کے قرضے ان کی مجموعی معیشت کے حجم کے نصف سے بڑھ چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی امریکہ میں مرکزی بینک نےشرح سود میں اعشاریہ پانچ فی صد اضافہ کر دیا تھا جو گزشتہ 22 برسوں کے دوران سب سے بڑا اضافہ تھا۔

    چین کےاندورنی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے:69 ممالک کا اقوام متحدہ سے مطالبہ

  • ای ایف پی کا  شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ

    ای ایف پی کا شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ

    ای ایف پی کا گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر سے شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ
    شرح سود میں ڈھائی فیصد، ایکسپورٹ فنانسنگ کی شرح سود میں ڈھائی فیصد اضافہ معیشت کو تباہ کردے گا،اسماعیل ستار
    سنگین سیاسی بحران کی موجودگی میں کاروباری لاگت میں اضافے سے گریز کیا جائے، صدر ایمپلائرز فیڈریشن پاکستان

    ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے صدر اسماعیل ستار نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے شرح سود میں ڈھائی فیصد اضافے اور ایکسپورٹ ری فنانس کی شرح بھی ڈھائی فیصد بڑھانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کو ملکی معیشت، تجارت اورصنعت کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے شرح سود میں نمایاں کمی کا مطالبہ کیا ہے اورگورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر سے درخواست کی ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اقدامات سے گریز کریں جو معاشی لحاظ سے ملک کے لیے شدید نقصانات کا باعث ہو۔

    اسماعیل ستار نے ایک بیان میں کہا کہ ملک میں جاری سنگین سیاسی بحران کی موجودگی میں شرح سود 12.25فیصد کی بلند سطح پر پہنچے سے تاجر برادری الجھن کا شکار ہو گئی ہے کیونکہ ان اقدامات کے نتیجے میں کاروباری لاگت میں نہ صرف بے پناہ اضافہ ہوگا بلکہ مہنگائی کا طوفان آجائے گا جس کو سنبھالنا آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے مرکزی بینک کے دعوے کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ شرح سود میں یہ اضافہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ بڑھتی ہوئی ملکی سیاسی بے یقینی صورتحال کی وجہ سے ہوا ہے جبکہ ملک میں شرح سود میں اضافے کے اچانک اور غیر مستحکم فیصلے کی وجہ سے پاکستان 2022 کے آغاز سے خطے کے سب سے زیادہ مہنگائی والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور بھوٹان جیسے ملکوں میں شرح سود اب بھی 4 فیصد سے 7.16 فیصد کے درمیان ہے۔ اس کے باوجود پاکستان جیسا ملک جو سماجی و اقتصادی عدم استحکام کا شکار ہے مگر پھر بھی استحکام کے نام پر غیردانشمندانہ فیصلوں پر اکتفا کیاجارہا ہے۔

    ان کہنا تھا کہ مرکزی بینک کے فیصلے نے ایکسپورٹ فنانس اسکیم (ای ایف ایس) کے تحت ایکسپورٹ فنانسنگ کے لیے شرح سود میں بھی 2.5 فیصد اضافہ کیا ہے جس کا اعلان حال ہی میں ہونے والے ایم پی سی اجلاس کے دوران پالیسی ریٹ میں اضافہ کیا گیا تھا۔ اگر اس طرح کے اقدامات برقرار رہے تو پاکستان کی تاجر برادری کو برآمدات کے حوالے سے ایک بڑا دھچکا لگے گا کیونکہ معیشت مخالف فیصلے درحقیقت پاکستان کو عالمی مارکیٹوں میں مصنوعات کی قیمتوں کی دوڑ سے باہر کردے گا۔

    صدر ای ایف پی نے مزید کہا کہ ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان کا موجود معاشی اسٹرکچر کا تجزیہ اس یقین کی پاسداری کرتا ہے کہ پاکستان کا معاشی اسٹرکچر درحقیقت لاگت کو بڑھانے والا افراط زر کا نظام ہے جہاں شرح سود میں اضافہ قیمتوں میں زبردست اضافہ کا سبب بنے گا۔ گزشتہ چند دہائیوں کے تاریخی رجحانات یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ شرح سود میں اضافے نے پاکستان کی معیشت کو بار بار بری طرح متاثر کیا۔انہوں نے کہاکہ اسٹیٹ بینک کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ اس طرح کے اقدامات سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور شرح سود میں اضافے کا روایتی نظام پاکستان میں معاشی اسٹرکچر کے خاتمے کا باعث بن رہا ہے۔ اگر مقررہ وقت پر کوئی اقدامات نہ کیے گئے تو ملک کو کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    اسماعیل ستار نے کہا کہ کہ ابتر معاشی اسٹرکچر کے باعث کاروباری لاگت میں اضافے، افراط زر کے مسئلے سے سخت انتظامی یا مالیاتی پالیسیوں سے نمٹا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں اہم اداروں پر غور و فکر اور تجزیہ یقیناً پائیدار نظام کے قیام میں بہت اہم کردار ادا کرے گا جس سے خطے میں تاجر برادری کا اعتماد بڑھے

    گا

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    وزارت خزانہ نے مجموعی قرضوں کی تازہ ترین تفصیلات جاری کردیں

    ریاست مدینہ کے دعویدار نے مزید سود والا قرضہ لے لیا ،بہرہ مند تنگی

    نعرہ ریاست مدینہ کا اور ملک چلا رہے ہیں سود پر، مذمتی قرارداد اسمبلی میں جمع

  • سٹیٹ بنک نے شرح سود ڈھاٸی فیصد بڑھا کر 12.25فیصد کردی ہے

    سٹیٹ بنک نے شرح سود ڈھاٸی فیصد بڑھا کر 12.25فیصد کردی ہے

    اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے 2 ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا ہے۔جس کے مطابق سٹیٹ بنک نے شرح سود ڈھاٸی فیصد بڑھا کر 12.25فیصد کردی ہے

    اس حوالے سے کچھ دیر پہلے اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک نے شرح سود 250 بیسس پوائنٹس (ڈھائی فیصد) بڑھا کر 12.25 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے پچھلے اجلاس کے بعد سے مہنگائی کا منظرنامہ مزید بگڑ گیا ہے اور بیرونی استحکام کو درپیش خطرات بڑھ گئے ہیں۔

    اسٹیٹ بینک کا کہنا ہےکہ بیرونی لحاظ سے مستقبل کی منڈیوں سے امکان ظاہر ہوتا ہے کہ اجناس کی عالمی قیمتیں بشمول تیل طویل تر عرصے تک بلند رہیں گی اور امکان ہے کہ فیڈرل ریزرو اس سے زیادہ تیزی سے شرح سود میں اضافہ کرے جتنا پہلے سمجھا گیا تھا، جس سے عالمی مالی حالات کے زیادہ سخت ہونے کا اندیشہ ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق برآمدات اور ترسیلات زر کی بنا پر فروری میں جاری کھاتےکا خسارہ سکڑ کر 0.5 ارب ڈالر رہ گیا جو اس مالی سال کی پست ترین سطح ہے، تاہم ملک میں بڑھی ہوئی سیاسی غیریقینی کیفیت نے پچھلے ایم پی سی اجلاس کے بعد سے روپے کی قدر میں 5 فیصد کمی میں کردار ادا کیا۔

    اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ان حالات کے نتیجے میں اوسط مہنگائی کی پیش گوئیوں میں اضافہ کردیا گیا ہے اور پیش گوئی کے مطابق اوسط مہنگائی مالی سال 2022 میں 11 فیصد سے تھوڑی اوپر ہوگی اور مالی سال 2023میں معتدل ہوجائے گی، جار ی کھاتے کا خسارہ ابھی تک متوقع طور پر مالی سال 2022 میں جی ڈی پی کے لگ بھگ 4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

     

  • اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا آئندہ 2 ماہ کیلئے شرح سود 7.75 فیصد پر برقراررکھنے کا فیصلہ

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا آئندہ 2 ماہ کیلئے شرح سود 7.75 فیصد پر برقراررکھنے کا فیصلہ

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ 2 ماہ کے لیے شرح سود 7 اعشاریہ 75 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ڈالر کی اوپن مارکیٹ کمی 180 روپے تک پہنچ گئی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 70 پیسے اضافے سے ایک بار پھر 180 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ادائیگیوں کے دباؤ اور درآمدی شعبے کی ڈیمانڈ کے باعث زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں پیر کو بھی ڈالر کی اڑان جاری رہی جس سے ڈالر کے اوپن ریٹ 180 روپے کی سطح پر پہنچ گئے۔

    انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر اتار چڑھاؤ کے بعد 26 پیسے کے اضافے سے 176.49روپے کی سطح پر بند ہوئی جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 70پیسے کے اضافے سے 180روپے کی سطح پر بند ہوئی۔

    امریکہ کے نامزد سفیرکب پہنچیں گے پاکستان؟

    جبکہ سونے کی عالمی مارکیٹ میں قیمت بڑھنے کے ساتھ مقامی مارکیٹ میں بھی سونے کے نرخ بڑھ گئے بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 2 ڈالر کے اضافے سے 1838 ڈالر کی سطح پر پہنچنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی پیر کو فی تولہ اور فی 10 گرام سونے کی قیمتوں میں بالترتیب 350 روپے اور 300 روپے کا اضافہ ہوگیا جس کے مختلف شہروں میں فی تولہ سونے کی قیمت بڑھ کر 126350 روپے اور فی 10 گرام سونے کی قیمت بڑھ کر 108325روپے ہوگئی۔

    اس کے برعکس فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 1450 روپے اور دس گرام چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 1243.14روپے پر مستحکم رہی۔

    آٹا مہنگا ہونے کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے، عمران اسماعیل

    دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ 2 ماہ کے لیے شرح سود 7 اعشاریہ 75 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہےکراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ کو موجودہ سطح پر برقرار رکھا جائے گا، شرح سود 9 اعشاریہ 75 پر برقرار رکھا گیا ہے۔

    پاکستان ریلوے نے کوچز کی نیلامی کے لیے اشتہار دے دیا

    گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ دوماہ کےدوران مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے، نومبر اور دسمبر میں مہنگائی میں اضافہ نہیں ہوا، نومبر میں قیمتیں 3 فیصد بڑھیں، نومبر کے مقابلے میں مہنگائی کی شدت دسمبر میں کم رہی، تجارتی خسارہ میں استحکام آرہاہے، طلب میں اضافہ ہورہا ہے، معاشی اشاریوں میں تبدیلی کی رفتار متوازن ہوئی ہے، افراط زر کی شرح 12.3 فیصد رہی تھی۔

    رضا باقر نے کہا کہ پاکستان کی گروتھ مستحکم ہے، منی بجٹ لانے سے ہمارا مالی خسارہ مزید کم ہوگا، ماہانہ بنیادوں پر مہنگائی کی رفتار کم ہوتی نظر آئےگی، پٹرولیم منصوعات کی قیمتیں ہمارے کنٹرول میں نہیں-

    سبی ہرنائی سیکشن کئی سال گزرجانے کے باوجود بحال نہ ہوسکا