Baaghi TV

Tag: شمالی کوریا

  • شمالی کوریا میں پہلے کورونا کیس کی تصدیق ، ملک میں نشینل ایمرجنسی نافذ

    شمالی کوریا میں پہلے کورونا کیس کی تصدیق ، ملک میں نشینل ایمرجنسی نافذ

    شمالی کوریا کی حکومت نے پہلی مرتبہ ملک میں ایک کورونا کیس کی تصدیق کی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا رپورٹس مطابق شمالی کوریا نے کورونا وبا کے آغازسے اب تک ملک میں کورونا کیسز کی موجودگی سے انکار کیا ہے تاہم اب کورونا کا ایک کیس سامنے آگیا ہے۔

    کرونا کی نئی قسم، وزیراعظم کا این سی او سی بحال کرنے کا حکم

    رپورٹس کے مطابق کورونا کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے ملک میں نیشنل ایمرجنسی نافذ کردی ہے اورلاک ڈاؤن لگا دیا ہے حکام کا کہنا ہے کہ اومیکرون وائرس سے متاثرمتعدد کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے انفیکشنز کا پتہ چلا ہے لیکن سرکاری خبر رساں ایجنسی نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ دارالحکومت پیانگ یانگ میں اومیکرون قسم کے کیسز پائے گئے ہیں KCNA نے رپورٹ کیا کہ 8 مئی کو بخار کا سامنا کرنے والے لوگوں کے ایک گروپ سے جمع کیے گئے نمونوں میں انتہائی متعدی اومیکرون قسم کے لیے مثبت تجربہ کیا گیا۔

    کوویڈ 19 کا پھیلنا شمالی کوریا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ملک کے خستہ حال صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کا امکان نہیں ہے کہ وہ بہت زیادہ متعدی بیماری میں مبتلا مریضوں کی ایک بڑی تعداد کا علاج کر سکے۔

    شمالی کوریا نے اس سے قبل کسی بھی کورونا وائرس کے کیسز کو تسلیم نہیں کیا تھا، حالانکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تقریباً 25 ملین افراد پر مشتمل ملک کو ایک وائرس سے بچایا گیا ہے جس نے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کیا ہے۔

    پاکستان میں کورونا اموات تصدیق شدہ ہیں، وزارت صحت نے عالمی ادارے کوکھری کھری سنادیں

    KCNA کے مطابق، جمعرات کو، شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے تمام شہروں میں لاک ڈاؤن کے اقدامات کا حکم دیا اور طبی سامان کی تقسیم کی ہدایت کی جو پارٹی نے مبینہ طور پر کووِڈ ایمرجنسی کی صورت میں اسٹاک کی تھی۔

    کورونا وبا کو پھیلنے سے متعلق ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ کورونا کوپھیلنے سے روکنے کے لئے فوری اورموثر اقدامات کئے جائیں گے۔۔

    امریکی وزیر خارجہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا

    کے سی این اے کے مطابق، پولٹ بیورو نے ملک کے انسداد وبا کے شعبے کو "لاپرواہی، سستی، غیر ذمہ داری اور نااہلی کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا، اور کہا کہ یہ پڑوسی خطوں سمیت دنیا بھر میں کوویڈ 19 کے بڑھتے ہوئے کیسز کے لیے "حساس طریقے سے جواب دینے میں ناکام رہا۔

    کے سی این اے نے رپورٹ کیا کہ کم نے کہا کہ ملک "غیر متوقع کوویڈ 19 پھیلنے” پر قابو پالے گا۔

    آج تک، شمالی کوریا صحت عامہ کے سخت اقدامات کی بدولت کوویڈ 19 کے کیسز کے بڑے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب رہا ہے شمالی کوریا کی سرحدوں کو جنوری 2020 سے سیل کر دیا گیا تھا تاکہ وائرس کو روکا جا سکے-

    رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کے پاس کورونا سے بچاؤ کی ویکسین نہیں ہے کیونکہ کم جونگ ان کی حکومت نے عالمی ادارہ صحت، چین اورروس کی جانب سے کورونا ویکسین کی فراہمی کی پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔

    نیٹو سربراہ کورونا وائرس کا شکار ہوگئے

  • شمالی کوریا کا رواں ہفتے دوسرا بیلسٹک میزائل تجربہ

    شمالی کوریا کا رواں ہفتے دوسرا بیلسٹک میزائل تجربہ

    پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے ایک اور بیلسٹک میزائل تجربہ کیا ہے جو رواں برس کا 15 واں اور رواں ہفتے کا دوسرا میزائل تجربہ ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سخت ترین حریف پڑوسی ملک جنوبی کوریا کے صدر کے حلف اُٹھانے کا دن جیسے جیسے قریب آتا جا رہا ہے، شمالی کوریا کے میزائل تجربات میں تیزی آگئی اور آج شمالی کوریا نے ایک بار پھر میزائل تجربہ کیا ہے۔

    شمالی کوریا کے سخت حریف ممالک جاپان اور جنوبی کوریا نے شُبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ بیلسٹک میزائل تجربہ تھا۔جنوبی کوریا کی فوج کے سربراہ نے الزام عائد کیا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے ساحلی علاقے میں واقع شپ یارڈ میں سب میرین سے مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

    جاپان اور جنوبی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل نے فضا میں 60 کلومیٹر تک اوپر گیا اور 600 کلومیٹر کی دوری پر جا گرا۔

    دوسری طرف جاپان اور جنوبی کوریا کی طرف سے شمالی کوریا کے ان عزائم کی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا خطے میں امن وسکون کا قاتل ہے ، ان مماللک کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کو عالمی فورم پراٹھائیں گے اوراحتجاج کریں گے ،دوسری طرف شمالی کوریا نے جنوبی کوریا اور جاپان کا یہ ردعمل مسترد کردیا ہے

    واضح رہے کہ شمالی کوریا نے گزشتہ برس اکتوبر میں بھی سب میرین لانچ بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا جو 2017 کے بعد سب سے بڑا تجربہ تھا۔

  • شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل تجربہ:جنوبی کوریا اور جاپان کاشدید تحفظات کا اظہار

    شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل تجربہ:جنوبی کوریا اور جاپان کاشدید تحفظات کا اظہار

    پیانگ یانگ:شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل تجربہ:جنوبی کوریا اور جاپان نے شدید تحفظات کا اظہار ،اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا نے پابندی کے باوجود ایک بار پھر اپنے مشرقی ساحل پر بیلسٹک میزائل تجربہ کیا جس پر جنوبی کوریا اور جاپان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    عالمی خبر رساں دارے کے مطابق شمالی کوریا نے اپنے جوہری قوتوں کو تیز رفتاری سے اپ ڈیٹ کرنے کی مہم کے تحت بیلسٹک میزائل تجربہ کیا ہے، یہ میزائل شمالی کوریا کے مشرقی ساحل سے سمندر کی طرف داغا گیا۔

    شمالی کوریا کے سخت حریف اور پڑوسی ملک جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے الزام عائد کیا کہ شمالی کوریا نے میزائل تجربہ بیلسٹک میزائل تجربہ تھا۔ میزائل نے تقریباً 470 کلومیٹر سفر طے کیا جب کہ فضا میں اس کی بلندی کی حد 780 کلومیٹر تھی۔

    جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف جسٹس نے مزید بتایا کہ یہ میزائل تجربہ بھی شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ کے علاقے میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب کی گئی۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں شمالی کوریا نے اپنا سب سے بڑا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تجربہ کیا تھا۔

    شمالی کوریا کا رواں برس 14 واں میزائل تجربہ ہے اور تازہ ترین میزائل تجربہ اس وقت کیا گیا ہے جب جنوبی کوریا کے نئے صدر یون سک یول 5 دن بعد اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔

    جنوبی کوریا، جاپان اور امریکا نے شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل تجربے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

  • شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل کا تجربہ:رواں برس 14 تجربات:سلسلہ جاری رکھنےکااعلان

    شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل کا تجربہ:رواں برس 14 تجربات:سلسلہ جاری رکھنےکااعلان

    :شمالی کوریا نے آج بدھ کے روز ایک نئے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ شمالی کوریا کے میزائل تجربات پر نظر رکھنے والے جنوبی کوریا اور جاپان کے حکام نے اطلاع دی ہے کہ کمیونسٹ ملک کی طرف سے فائر کیا گیا میزائل مشرقی سمندر میں گرا ہے۔

    کچھ دن قبل ہی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے اِس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو ہر ممکن تیز رفتاری سے جدید تر بنائیں گے۔ اِس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ وہ ان ہتھیاروں کو اپنے تمام مخالف ممالک کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ رواں برس شمالی کوریا کی طرف سے کیا گیا یہ 14 واں میزائل تجربہ تھا۔ عالمی برادری شمالی کوریا کے ان جوہری تجربات کو جزیرہ نما کوریا کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتی ہے۔

    جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق تازہ ترین بیلسٹک میزائل دارالحکومت پیانگ یانگ سے داغا گیا تھا جس نے مشرقی سمندر تک پرواز کی۔ اُنہوں نے شمالی کوریا کی جانب سے تسلسل کے ساتھ کیے جانے والے بیلسٹک میزائل تجربات کو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے بھیانک خطرہ قرار دیا۔

    جاپانی وزیراعظم فومیو کیشیدا نے بھی جو اِن دنوں روم کے دورے پر ہیں، شمالی کوریا کے نئے بیلسٹک میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی کوریا کو عالمی برادری کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے خطرات بننے والے تجربات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے مختلف قرار دادوں کے ذریعے شمالی کوریا کے جوہری تجربات پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جنہیں شمالی کوریا کبھی بھی خاطر میں نہیں لاتا۔

  • جوہری پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھائیں گے:کِم جونگ اُن

    جوہری پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھائیں گے:کِم جونگ اُن

    شمالی کوریا :جوہری پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھائیں گے:اس حوالے سے شمالی کوریا کے سربراہ کِم جونگ اُن نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھائے گا۔

    شمالی کوریا کی مرکزی خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق صدر کِم جونگ اُن نے یہ بات گزشتہ شام کورین پیپلز ریوولوشنری آرمی کے قیام کی 90 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ فوجی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

    صدر کم جونگ اُن کا کہنا تھا کہ جوہری صلاحیتوں کو تیز ترین رفتار کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جوہری قوتوں کا بنیادی مشن کم از کم دفاعی طاقت کا حصول ہے۔

    شمالی کوریا کے سربراہ نے کہا کہ اگر اُن کی سرزمین پر کوئی ناخوشگوار صورت حال پیدا ہوتی ہے تو اُن کے ملک کی جوہری قوت کسی ایک مشن تک محدود نہیں رہے گی۔

    اگر کوئی طاقت شمالی کوریا کے بنیادی مفادات میں مداخلت کرنے کی کوشش کرے گی تو اُن کی جوہری صلاحیت کے پاس اپنے دیگر مشن پورے کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

     

    اطلاعات کے مطابق اس موقع پر شمالی کوریا کے نئے بین البراعظمی میزائل ہوا سونگ 17 کی نمائش بھی کی گئی جبکہ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق ملٹری پریڈ میں تقریباً 20 ہزار فوجی اور 250 سے زیادہ عسکری ساز و سامان شامل تھا۔

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل تجربات پر پابندی عائد ہے۔ اِن عالمی پابندیوں کے باوجود رواں برس کے پہلے 3 ماہ میں شمالی کوریا مختلف میزائلوں اور جاسوس سیٹلائٹس کے 13 تجربات کر چکا ہے۔

    حکومتی دباؤ مسترد:امریکا میں سابق پاکستانی سفیر ڈٹ گئے:عمران خان کے موقف کی تائید…

  • شمالی کوریا کی جنوبی کوریا  کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی

    شمالی کوریا کی جنوبی کوریا کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی

    رہنما کم جونگ ان کی بہن کم یو جونگ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا جنگ کی مخالفت کرتا ہے لیکن اگر جنوبی کوریا نے حملہ کیا تو ایٹمی ہتھیار استعمال کریں گے۔

    باغی ٹی وی : غی ملکی ایجنسی کے سی این اے نے رپورٹ کیا کہ حکومت اور حکمراں جماعت کے ایک سینئر عہدیدار کم یو جونگ نے کہا کہ جنوبی کوریا کے وزیر دفاع کا شمالی کوریا پر حملوں کے بارے میں حالیہ ریمارکس دینا ایک “بہت بڑی غلطی” تھی۔

    مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا فرمان جاری

    جنوبی کوریا کے وزیر دفاع نے جمعے کے روز کہا تھا کہ ان کے ملک کی فوج کے پاس نمایاں طور پر بہتر رینج، اور طاقت والے میزائل موجود ہیں، جو “شمالی کوریا میں کسی بھی ہدف کو درست اور تیزی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    شمالی کوریا کی جانب سے اس سال تیزی سے طاقتور میزائلوں کے تجربات کیے گئے ہیں، جس کے بعد دونوں کوریائی ممالک کی جانب سے فوجی طاقت کا مظاہرہ بڑھا دیا ہے۔

    سیئول اور واشنگٹن میں حکام کو یہ خدشہ بھی ہے کہ وہ 2017 کے بعد پہلی بار جوہری ہتھیاروں کا تجربہ دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے –

    اگر جنوبی کوریا کی فوج شمالی کوریا کی سرزمین کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اسے ایک “ناقابل تصور خوفناک تباہی” کا سامنا کرنا پڑے گا، انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست پر کسی بھی حملے کے بعد بچ نہیں سکے گا۔

    دھمکی آمیز خط : روس کا ررد عمل بھی سامنے آگیا

    دوسری جانب الائیڈ مارکیٹ ریسرچ کی ایک رپورٹ کے مطابق جوہری میزائلوں اور بموں کی عالمی منڈی 10 برس کے اندر 126 بلین ڈالر سے تجاوز کر جائے جو 2020 کی سطح سے تقریباً 73 فیصد زیادہ ہے

    غیر ملکی خبررساں ادارے ’روئٹرز‘ نے 2020 میں پورٹ لینڈ میں قائم ریسرچ فرم کی رپورٹ کا حوالہ دے کر کہا کہ جغرافیائی سیاسی تنازعات اور بڑے فوجی بجٹ میں اضافہ ممکنہ طور پر 2030 تک 5.4 فیصد کی سالانہ شرح سے اعداد و شمار کو بڑھا دے گا۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ ہفتے ایک قومی دفاعی بجٹ کی درخواست کی تھی، جس میں بیلسٹک میزائل آبدوزوں، بمباروں اور زمینی میزائلوں کے جوہری ’ٹرائیڈ‘ کو جدید بنانے کو ترجیح دی جائے گی۔

    سری لنکا: احتجاج روکنے کیلئے فیس بک، یو ٹیوب ، ٹوئٹر ، انسٹاگرام اور واٹس ایپ…

    رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ چھوٹے نیوکلیئر وار ہیڈز کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے جنہیں ہوائی جہاز اور زمین پر مبنی میزائلوں کے ذریعے آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2020 میں سب میرین سے لانچ کیے جانے والے بیلسٹک میزائل (ایس ایل ایم ) ​​مارکیٹ کا ایک چوتھائی حصہ تھے۔

    برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکا نے سال کے آغاز میں ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ ایٹمی جنگ میں کسی کی فاتح نہیں ہو سکتی اور اس سے گریز کرنا چاہیے۔

    سری لنکا:معاشی بحران شدت اختیارکرگیا: احتجاجی مظاہروں میں بھی شدت آگئی

  • امریکا طویل جنگ کے لیے تیار رہے:شمالی کوریا کی دھمکی

    امریکا طویل جنگ کے لیے تیار رہے:شمالی کوریا کی دھمکی

    پیانگ یانگ:امریکا طویل جنگ کے لیے تیار رہے:شمالی کوریا کی دھمکی،اطلاعات کےمطابق شمالی کوریا نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ طویل مدت کی جنگ کے لیے تیار ہے۔

    تفصیلات کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ ہم امریکا کے ساتھ طویل المدت تصادم کے لیے تیار ہیں۔

    کم جونگ اُن نے بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل کے تجربے کی جگہ کا دورہ کیا تھا، اس موقع پر انھوں نے کہا شمالی کوریا کا نیا اسٹریٹجک ہتھیار ایک بار پھر پوری دنیا کو ہماری مسلح افواج کی طاقت سے واضح طور پر آگاہ کر دے گا۔

    کِم جونگ اُن کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کی قومی دفاعی افواج بہت اچھی فوجی اور تکنیکی صلاحیت کی حامل ہیں، اور جو بھی طاقت ہماری ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گی، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اسے بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔

    واضح رہے کہ جاپان اور جنوبی کوریا نے یہ خبر دی تھی کہ شمالی کوریا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے، جاپانی حکام کے مطابق شمالی کوریا کا میزائل فضا میں تقریباً ایک گھنٹے تک رہا اور 1100 کلومیٹر دور جاپان کے جنوبی سمندر میں جا کر گرا۔

    رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کا یہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل2017 کے میزائل کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور ہے، جو 6 ہزار کلو میٹر سے زیادہ بلندی تک پہنچتا ہے۔

    شمالی کوریا نے 2017 کے بعد کئی مرتبہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا ہے، امریکا نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی مذمت کی ہے، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے کہا یہ تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    امریکا کا مؤقف ہے کہ اس تجربے سے خطے میں بلا ضرورت تناؤ میں اضافہ ہوگا اور صورت حال غیر مستحکم ہو سکتی ہے۔

  • شمالی کوریا کا 2 ماہ میں نوواں میزائل تجربہ

    شمالی کوریا کا 2 ماہ میں نوواں میزائل تجربہ

    پیانگ یانگ: شمالی کوریا صرف 2 ماہ میں اب تک 9 میزائل تجربات کر لئے ہیں-

    باغی ٹی وی : شمالی کوریا نے اپنے سخت ترین حریف جنوبی کوریا میں انتخابات کے قریب آتے ہی میزائل تجربات میں ضافہ کردیا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز رواں برس کا نواں میزائل تجربہ کیا ہے۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا اور جاپان نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں ماہ مزید ایسے تجربات ہوسکتے ہے۔

    امریکا اور جنوبی کوریا کے ساتھ جوہری ہتھیاروں پر ہونے والے مذاکرات کی معطلی کے بعد سے شمالی کوریا نے میزائل تجربات تیز تر کردیئے ہیں اس سے قبل شمالی کوریا کی جانب سے آخری تجربہ 27 فروری کو کیا گیا تھا –

    جبکہ 30 جنوری کو ہواسونگ 12 نامی درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا گیا تھا مذکورہ تجربہ سال2017 کے بعد سے سب سے بڑا ہتھیار کا تجربہ تھا، ہواسونگ-12 نے تقریباً 2,000 کلومیٹر (1,200 میل) کی بلندی اور 800 کلومیٹر (500 میل) کی حد تک پرواز کی۔

    شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے سمندر میں ایک اور ’نامعلوم میزائل‘ فائر کیا ہے۔ شمالی کوریا رواں برس اب تک نو بار مختلف طرح کے ہتھیاروں کا تجربہ کر چکا ہے۔

    جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے ہفتے کی صبح ایک بیان میں کہا تھا کہ شمالی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کے مشرق میں سمندر کی طرف ایک نامعلوم قسم کا میزائل فائر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا مشتبہ طور پر یہ ایک بیلیسٹک میزائل کا تجربہ تھا۔

    اس بیان کے بعد ہی جاپان کے کوسٹ گارڈز نے بھی کہا تھا کہ ممکن ہے کہ شمالی کوریا نے سمندر میں میزائل فائر کیا ہو۔ جاپان کے وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گيا کہ مشتبہ طور پر یہ ایک بیلیسٹک میزائل ہو سکتا ہے۔

    سلامتی کونسل نے اس میزائل لانچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی جوہری اور میزائل سے متعلق تمام تنصیبات کی سختی سے نگرانی کرے گا۔

    شمالی کوریا نے ایک اور میزائل کا تجربہ کرلیا

    جنوبی کوریا کی فوج نے بتایا ہے کہ تازہ ترین میزائل سونان کے قریب ایک مقام سے لانچ کیا گیا۔ سونان شمالی کوریا کے دارالحکومت پیونگ یانگ کا ایک شمال مغربی ضلع ہے اور شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی میزبانی کرتا ہے۔

    شمالی کوریا ماضی میں بھی کئی بار اپنے نئے ہتھیاروں کے تجربے کے لیے اسی ہوائی اڈے کا استعمال کرتا رہا ہے 27 فروری کو بھی اس نے اپنے جاسوس سیٹلائیٹ سسٹم کا تجربہ بھی یہیں سے کیا تھا۔

    جاپان کے وزیر دفاع نوبو کیشی کا کہنا ہے کہ ابتدائی جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ میزائل نے زیادہ سے زیادہ 550 کلومیٹر کی بلندی پر 300 کلومیٹر مشرق کی جانب پرواز کی۔ جاپانی وزیر دفاع کے مطابق پرواز کے بعد میزائل جزیرہ نما کوریا اور جاپان کے درمیان سمندر میں گرا۔

    واشنگٹن میں واقع ولسن سینٹر کے ایک فیلو جین لی کا کہنا ہے کہ اس وقت چونکہ تمام تر عالمی توجہ یوکرین پر مرکوز ہے، اس لیے ہمارے لیے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کا یہ وقت بڑا عجیب سا ہےلیکن شمالی کوریا کے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور ان کے لیے یہ بالکل مناسب بات ہے، جہاں سائنسدانوں کی توجہ نئے ہتھیار تیار کرنے پر مرکوز ہے، تاکہ وہ اپریل کے وسط میں ہونے والی ایک بڑی فوجی پریڈ میں ان کی نمائش کر سکیں۔

    شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ

    شمالی کوریا نے بظاہر میزائل کا یہ تجربہ جنوبی کوریا کے صدارتی انتخابات سے محض چار دن پہلے کیا ہے۔ اس برس یہ اس کی جانب سے اب تک کا ہتھیاروں کا نوواں تجربہ ہے شمالی کوریا نے جنوری میں یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور جوہری ہتھیاروں کے تجربات پر جو خود سے ہی پابندی عائد کر رکھی ہے، اسے بھی ترک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    علاوہ ازیں شمالی کوریا مستقبل قریب میں جاسوسی سٹیلائٹ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے جب کہ جوہری ہتھیاروں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی بیلسٹک میزائل کی تیاری کی بحالی کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔

    واضح رہے کہ جنوبی کوریا میں صدارتی الیکشن ہورہے ہیں جس کی ابتدائی ووٹنگ کا آغاز ہوگیا ہے اور اس موقع پر شمالی کوریا کے میزائل تجربات سے خطے میں تناؤ میں اضافہ ہوگیا۔

    یو کرین کی اپیل پرایلون مسک کی جانب سے مدد

  • شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ

    شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ

    شمالی کوریا نے آج (اتوار) کو ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سے سمندر کی جانب ایک مبینہ بیلسٹک میزائل داغا ہے، میزائل سنان کے قریب ایک مقام سے فائر کیا گیا جہاں پیانگ یانگ کا بین الاقوامی ہوائی اڈا واقع ہے۔

    جے سی ایس کا کہنا تھا کہ اتوار کے روز فائر کیے گئے میزائل نے تقریباً 620 کلومیٹر (390 میل) کی زیادہ سے زیادہ بلندی تک 300 کلومیٹر (190 میل) تک کا فاصلہ طے کیا۔

    روس خلائی اسٹیشن کا 5 سو ٹن ملبہ بھارت پر گرنے کا خدشہ

    ہوائی اڈا اس سے پہلے بھی میزائل تجربات کا مقام رہا ہے، جہاں سے 16 جنوری کو مختصر فاصلے تک مار کرنے والے 2 بیلسٹک میزائل کے تجربات بھی کیے گئے تھے۔

    جنوبی کوریا اور جاپان کے فوجی حکام نےتجربے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک کے گزشتہ ماہ میں ریکارڈ تعداد میں تجربات بعد رواں ماہ یہ پہلا تجربہ ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پرواز کا ڈیٹا ماضی میں کیے گئے ٹیسٹوں سے ملتا جلتا نہیں ہے اور رائے دی کہ یہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہو سکتا ہے۔

    اتوار کے روز کیا گیا تجربہ ایسے وقت ہوا کہ جب جنوبی کوریا کے 9 مارچ کے صدارتی انتخابات میں دو ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    جنوبی کوریا اور جاپان میں کچھ لوگوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا تھا کہ بین الاقوامی توجہ یوکرین پر روس کے حملے پر مرکوز ہے اس دوران شمالی کوریا میزائل تجربات کو مزید آگے بڑھا سکتا ہے۔

    جاپان کے وزیر دفاع نوبو کیشی کا اپنے ایک ٹیلیویژن بیان میں کہنا تھا کہ سال کے آغاز سے ہی مسلسل تجربات کیے جا رہے ہیں، شمالی کوریا تیزی سے بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے، شمالی کوریا جاپان، خطے اور عالمی برادری کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

    جاپانی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ یہ تجربہ اس وقت ہوا ہے جب عالمی برادری یوکرین پر روسی حملے کا جواب دے رہی ہے، اگر شمالی کوریا اس صورت حال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے تو یہ ایسی چیز ہے جسے ہم برداشت نہیں کر سکتے۔

    شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    امریکی فوج کی انڈو پیسیفک کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکا نے تازہ ترین تجربے کی مذمت کی اور شمالی کوریا سے عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا، تاہم اس تجربے سے فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    صدارتی بلیو ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق جنوبی کوریا کی قومی سلامتی کونسل نے میزائل تجربے پر تبادلہ خیال کے لیے ایک ہنگامی اجلاس بلایا۔

    اجلاس کے دوران تجربے کو افسوسناک قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا یوکرین کی جنگ کے حل کے لیے کوششیں کر رہی ہے، بیلسٹک میزائل کا تجربہ دنیا، خطے اور جزیرہ نما کوریا میں امن و استحکام کے لیے مناسب نہیں ہے۔

    اس سے قبل شمالی کوریا کی جانب سے آخری تجربہ 30 جنوری کو ہواسونگ 12 نامی درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا گیا تھا مذکورہ تجربہ سال2017 کے بعد سے سب سے بڑا ہتھیار کا تجربہ تھا، ہواسونگ-12 نے تقریباً 2,000 کلومیٹر (1,200 میل) کی بلندی اور 800 کلومیٹر (500 میل) کی حد تک پرواز کی۔

    شمالی کوریا نے ایک اور میزائل کا تجربہ کرلیا

  • شمالی کوریا نے ایک اور میزائل کا تجربہ کرلیا

    شمالی کوریا نے ایک اور میزائل کا تجربہ کرلیا

    پیونگ یونگ: شمالی کوریا نے ایک اور میزائل تجربہ کرلیا-

    باغی ٹی وی : واضح رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے ایک ماہ میں کیا جانے والا یہ چھٹا میزائل تجربہ ہے عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا کے فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے سمندر میں 2 کم فاصلے تک مارکرنے والے میزائل فائرکئے جبکہ دوروزقبل کروزمیزائل کا تجربہ بھی کیا تھا۔

    شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    امریکا نے نئے میزائل تجربات کے بعد شمالی کوریا پرمزید پابندیاں عائد کی ہیں عالمی قوانین کے تحت شمالی کوریا پربیلسٹک میزائل اورجوہری ہتھیاربنانے پرپابندی عائد ہے۔

    شمالی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت مضبوط بنانے پرکام کرتے رہیں گے۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اِن نے حال ہی میں حکمراں جماعت کی ایک کانفرنس کے دوران ملک کی فوجی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور بیلیسٹک میزائلوں کے تجربے کی وجہ سے شمالی کوریا کے خلاف کئی طرح کی بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    شمالی کوریا نے جب سن 2006 میں اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا تھا تو اس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔ پیونگ یانگ کی جانب سے اس طرح کے دیگر تجربات کے ساتھ ساتھ ان پابندیوں میں بھی مزید سختی ہوتی رہی جوہری سرگرمیاں ختم کرنےکےبدلے میں پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان ہونے والی بات چیت تعطل کا شکار ہے۔

    اسرائیلی صدرکی عرب امارات پرحوثیوں کے ڈرون حملوں کی مذمت:جدید دفاعی نظام کی پیشکش…

    جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن نے نئے سال کے موقع پر اپنے روایتی خطاب میں شمالی کوریا سے مذاکرات کی میز پر واپس لوٹ آنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک امن معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکن کوشش کریں گے۔

    شمالی کوریا نے آخری مرتبہ رواں ماہ 5 اور11 جنوری میں بیلیسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا اس سے قبل اکتوبر اور ستمبر کے مہینے میں چار دیگر میزائل تجربات بھی کیے تھے جس میں ہائپر سونک میزائل کا تجربہ بھی شامل تھا۔

    وزیراعظم عمران‌ خان کا ابوظہبی کے ولی عہد سے ٹیلی فونک رابطہ، حوثی حملے کی شدید…