Baaghi TV

Tag: شمالی کوریا

  • شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل کا تجربہ:رواں برس 14 تجربات:سلسلہ جاری رکھنےکااعلان

    شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل کا تجربہ:رواں برس 14 تجربات:سلسلہ جاری رکھنےکااعلان

    :شمالی کوریا نے آج بدھ کے روز ایک نئے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ شمالی کوریا کے میزائل تجربات پر نظر رکھنے والے جنوبی کوریا اور جاپان کے حکام نے اطلاع دی ہے کہ کمیونسٹ ملک کی طرف سے فائر کیا گیا میزائل مشرقی سمندر میں گرا ہے۔

    کچھ دن قبل ہی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے اِس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو ہر ممکن تیز رفتاری سے جدید تر بنائیں گے۔ اِس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ وہ ان ہتھیاروں کو اپنے تمام مخالف ممالک کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ رواں برس شمالی کوریا کی طرف سے کیا گیا یہ 14 واں میزائل تجربہ تھا۔ عالمی برادری شمالی کوریا کے ان جوہری تجربات کو جزیرہ نما کوریا کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتی ہے۔

    جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق تازہ ترین بیلسٹک میزائل دارالحکومت پیانگ یانگ سے داغا گیا تھا جس نے مشرقی سمندر تک پرواز کی۔ اُنہوں نے شمالی کوریا کی جانب سے تسلسل کے ساتھ کیے جانے والے بیلسٹک میزائل تجربات کو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے بھیانک خطرہ قرار دیا۔

    جاپانی وزیراعظم فومیو کیشیدا نے بھی جو اِن دنوں روم کے دورے پر ہیں، شمالی کوریا کے نئے بیلسٹک میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی کوریا کو عالمی برادری کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے خطرات بننے والے تجربات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے مختلف قرار دادوں کے ذریعے شمالی کوریا کے جوہری تجربات پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جنہیں شمالی کوریا کبھی بھی خاطر میں نہیں لاتا۔

  • جوہری پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھائیں گے:کِم جونگ اُن

    جوہری پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھائیں گے:کِم جونگ اُن

    شمالی کوریا :جوہری پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھائیں گے:اس حوالے سے شمالی کوریا کے سربراہ کِم جونگ اُن نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھائے گا۔

    شمالی کوریا کی مرکزی خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق صدر کِم جونگ اُن نے یہ بات گزشتہ شام کورین پیپلز ریوولوشنری آرمی کے قیام کی 90 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ فوجی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

    صدر کم جونگ اُن کا کہنا تھا کہ جوہری صلاحیتوں کو تیز ترین رفتار کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جوہری قوتوں کا بنیادی مشن کم از کم دفاعی طاقت کا حصول ہے۔

    شمالی کوریا کے سربراہ نے کہا کہ اگر اُن کی سرزمین پر کوئی ناخوشگوار صورت حال پیدا ہوتی ہے تو اُن کے ملک کی جوہری قوت کسی ایک مشن تک محدود نہیں رہے گی۔

    اگر کوئی طاقت شمالی کوریا کے بنیادی مفادات میں مداخلت کرنے کی کوشش کرے گی تو اُن کی جوہری صلاحیت کے پاس اپنے دیگر مشن پورے کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

     

    اطلاعات کے مطابق اس موقع پر شمالی کوریا کے نئے بین البراعظمی میزائل ہوا سونگ 17 کی نمائش بھی کی گئی جبکہ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق ملٹری پریڈ میں تقریباً 20 ہزار فوجی اور 250 سے زیادہ عسکری ساز و سامان شامل تھا۔

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل تجربات پر پابندی عائد ہے۔ اِن عالمی پابندیوں کے باوجود رواں برس کے پہلے 3 ماہ میں شمالی کوریا مختلف میزائلوں اور جاسوس سیٹلائٹس کے 13 تجربات کر چکا ہے۔

    حکومتی دباؤ مسترد:امریکا میں سابق پاکستانی سفیر ڈٹ گئے:عمران خان کے موقف کی تائید…

  • شمالی کوریا کی جنوبی کوریا  کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی

    شمالی کوریا کی جنوبی کوریا کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی

    رہنما کم جونگ ان کی بہن کم یو جونگ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا جنگ کی مخالفت کرتا ہے لیکن اگر جنوبی کوریا نے حملہ کیا تو ایٹمی ہتھیار استعمال کریں گے۔

    باغی ٹی وی : غی ملکی ایجنسی کے سی این اے نے رپورٹ کیا کہ حکومت اور حکمراں جماعت کے ایک سینئر عہدیدار کم یو جونگ نے کہا کہ جنوبی کوریا کے وزیر دفاع کا شمالی کوریا پر حملوں کے بارے میں حالیہ ریمارکس دینا ایک “بہت بڑی غلطی” تھی۔

    مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا فرمان جاری

    جنوبی کوریا کے وزیر دفاع نے جمعے کے روز کہا تھا کہ ان کے ملک کی فوج کے پاس نمایاں طور پر بہتر رینج، اور طاقت والے میزائل موجود ہیں، جو “شمالی کوریا میں کسی بھی ہدف کو درست اور تیزی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    شمالی کوریا کی جانب سے اس سال تیزی سے طاقتور میزائلوں کے تجربات کیے گئے ہیں، جس کے بعد دونوں کوریائی ممالک کی جانب سے فوجی طاقت کا مظاہرہ بڑھا دیا ہے۔

    سیئول اور واشنگٹن میں حکام کو یہ خدشہ بھی ہے کہ وہ 2017 کے بعد پہلی بار جوہری ہتھیاروں کا تجربہ دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے –

    اگر جنوبی کوریا کی فوج شمالی کوریا کی سرزمین کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اسے ایک “ناقابل تصور خوفناک تباہی” کا سامنا کرنا پڑے گا، انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست پر کسی بھی حملے کے بعد بچ نہیں سکے گا۔

    دھمکی آمیز خط : روس کا ررد عمل بھی سامنے آگیا

    دوسری جانب الائیڈ مارکیٹ ریسرچ کی ایک رپورٹ کے مطابق جوہری میزائلوں اور بموں کی عالمی منڈی 10 برس کے اندر 126 بلین ڈالر سے تجاوز کر جائے جو 2020 کی سطح سے تقریباً 73 فیصد زیادہ ہے

    غیر ملکی خبررساں ادارے ’روئٹرز‘ نے 2020 میں پورٹ لینڈ میں قائم ریسرچ فرم کی رپورٹ کا حوالہ دے کر کہا کہ جغرافیائی سیاسی تنازعات اور بڑے فوجی بجٹ میں اضافہ ممکنہ طور پر 2030 تک 5.4 فیصد کی سالانہ شرح سے اعداد و شمار کو بڑھا دے گا۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ ہفتے ایک قومی دفاعی بجٹ کی درخواست کی تھی، جس میں بیلسٹک میزائل آبدوزوں، بمباروں اور زمینی میزائلوں کے جوہری ’ٹرائیڈ‘ کو جدید بنانے کو ترجیح دی جائے گی۔

    سری لنکا: احتجاج روکنے کیلئے فیس بک، یو ٹیوب ، ٹوئٹر ، انسٹاگرام اور واٹس ایپ…

    رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ چھوٹے نیوکلیئر وار ہیڈز کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے جنہیں ہوائی جہاز اور زمین پر مبنی میزائلوں کے ذریعے آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2020 میں سب میرین سے لانچ کیے جانے والے بیلسٹک میزائل (ایس ایل ایم ) ​​مارکیٹ کا ایک چوتھائی حصہ تھے۔

    برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکا نے سال کے آغاز میں ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ ایٹمی جنگ میں کسی کی فاتح نہیں ہو سکتی اور اس سے گریز کرنا چاہیے۔

    سری لنکا:معاشی بحران شدت اختیارکرگیا: احتجاجی مظاہروں میں بھی شدت آگئی

  • امریکا طویل جنگ کے لیے تیار رہے:شمالی کوریا کی دھمکی

    امریکا طویل جنگ کے لیے تیار رہے:شمالی کوریا کی دھمکی

    پیانگ یانگ:امریکا طویل جنگ کے لیے تیار رہے:شمالی کوریا کی دھمکی،اطلاعات کےمطابق شمالی کوریا نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ طویل مدت کی جنگ کے لیے تیار ہے۔

    تفصیلات کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ ہم امریکا کے ساتھ طویل المدت تصادم کے لیے تیار ہیں۔

    کم جونگ اُن نے بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل کے تجربے کی جگہ کا دورہ کیا تھا، اس موقع پر انھوں نے کہا شمالی کوریا کا نیا اسٹریٹجک ہتھیار ایک بار پھر پوری دنیا کو ہماری مسلح افواج کی طاقت سے واضح طور پر آگاہ کر دے گا۔

    کِم جونگ اُن کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کی قومی دفاعی افواج بہت اچھی فوجی اور تکنیکی صلاحیت کی حامل ہیں، اور جو بھی طاقت ہماری ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گی، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اسے بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی۔

    واضح رہے کہ جاپان اور جنوبی کوریا نے یہ خبر دی تھی کہ شمالی کوریا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے، جاپانی حکام کے مطابق شمالی کوریا کا میزائل فضا میں تقریباً ایک گھنٹے تک رہا اور 1100 کلومیٹر دور جاپان کے جنوبی سمندر میں جا کر گرا۔

    رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کا یہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل2017 کے میزائل کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور ہے، جو 6 ہزار کلو میٹر سے زیادہ بلندی تک پہنچتا ہے۔

    شمالی کوریا نے 2017 کے بعد کئی مرتبہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا ہے، امریکا نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی مذمت کی ہے، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے کہا یہ تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    امریکا کا مؤقف ہے کہ اس تجربے سے خطے میں بلا ضرورت تناؤ میں اضافہ ہوگا اور صورت حال غیر مستحکم ہو سکتی ہے۔

  • شمالی کوریا کا 2 ماہ میں نوواں میزائل تجربہ

    شمالی کوریا کا 2 ماہ میں نوواں میزائل تجربہ

    پیانگ یانگ: شمالی کوریا صرف 2 ماہ میں اب تک 9 میزائل تجربات کر لئے ہیں-

    باغی ٹی وی : شمالی کوریا نے اپنے سخت ترین حریف جنوبی کوریا میں انتخابات کے قریب آتے ہی میزائل تجربات میں ضافہ کردیا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز رواں برس کا نواں میزائل تجربہ کیا ہے۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا اور جاپان نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں ماہ مزید ایسے تجربات ہوسکتے ہے۔

    امریکا اور جنوبی کوریا کے ساتھ جوہری ہتھیاروں پر ہونے والے مذاکرات کی معطلی کے بعد سے شمالی کوریا نے میزائل تجربات تیز تر کردیئے ہیں اس سے قبل شمالی کوریا کی جانب سے آخری تجربہ 27 فروری کو کیا گیا تھا –

    جبکہ 30 جنوری کو ہواسونگ 12 نامی درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا گیا تھا مذکورہ تجربہ سال2017 کے بعد سے سب سے بڑا ہتھیار کا تجربہ تھا، ہواسونگ-12 نے تقریباً 2,000 کلومیٹر (1,200 میل) کی بلندی اور 800 کلومیٹر (500 میل) کی حد تک پرواز کی۔

    شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے سمندر میں ایک اور ’نامعلوم میزائل‘ فائر کیا ہے۔ شمالی کوریا رواں برس اب تک نو بار مختلف طرح کے ہتھیاروں کا تجربہ کر چکا ہے۔

    جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے ہفتے کی صبح ایک بیان میں کہا تھا کہ شمالی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کے مشرق میں سمندر کی طرف ایک نامعلوم قسم کا میزائل فائر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا مشتبہ طور پر یہ ایک بیلیسٹک میزائل کا تجربہ تھا۔

    اس بیان کے بعد ہی جاپان کے کوسٹ گارڈز نے بھی کہا تھا کہ ممکن ہے کہ شمالی کوریا نے سمندر میں میزائل فائر کیا ہو۔ جاپان کے وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گيا کہ مشتبہ طور پر یہ ایک بیلیسٹک میزائل ہو سکتا ہے۔

    سلامتی کونسل نے اس میزائل لانچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی جوہری اور میزائل سے متعلق تمام تنصیبات کی سختی سے نگرانی کرے گا۔

    شمالی کوریا نے ایک اور میزائل کا تجربہ کرلیا

    جنوبی کوریا کی فوج نے بتایا ہے کہ تازہ ترین میزائل سونان کے قریب ایک مقام سے لانچ کیا گیا۔ سونان شمالی کوریا کے دارالحکومت پیونگ یانگ کا ایک شمال مغربی ضلع ہے اور شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی میزبانی کرتا ہے۔

    شمالی کوریا ماضی میں بھی کئی بار اپنے نئے ہتھیاروں کے تجربے کے لیے اسی ہوائی اڈے کا استعمال کرتا رہا ہے 27 فروری کو بھی اس نے اپنے جاسوس سیٹلائیٹ سسٹم کا تجربہ بھی یہیں سے کیا تھا۔

    جاپان کے وزیر دفاع نوبو کیشی کا کہنا ہے کہ ابتدائی جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ میزائل نے زیادہ سے زیادہ 550 کلومیٹر کی بلندی پر 300 کلومیٹر مشرق کی جانب پرواز کی۔ جاپانی وزیر دفاع کے مطابق پرواز کے بعد میزائل جزیرہ نما کوریا اور جاپان کے درمیان سمندر میں گرا۔

    واشنگٹن میں واقع ولسن سینٹر کے ایک فیلو جین لی کا کہنا ہے کہ اس وقت چونکہ تمام تر عالمی توجہ یوکرین پر مرکوز ہے، اس لیے ہمارے لیے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کا یہ وقت بڑا عجیب سا ہےلیکن شمالی کوریا کے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور ان کے لیے یہ بالکل مناسب بات ہے، جہاں سائنسدانوں کی توجہ نئے ہتھیار تیار کرنے پر مرکوز ہے، تاکہ وہ اپریل کے وسط میں ہونے والی ایک بڑی فوجی پریڈ میں ان کی نمائش کر سکیں۔

    شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ

    شمالی کوریا نے بظاہر میزائل کا یہ تجربہ جنوبی کوریا کے صدارتی انتخابات سے محض چار دن پہلے کیا ہے۔ اس برس یہ اس کی جانب سے اب تک کا ہتھیاروں کا نوواں تجربہ ہے شمالی کوریا نے جنوری میں یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور جوہری ہتھیاروں کے تجربات پر جو خود سے ہی پابندی عائد کر رکھی ہے، اسے بھی ترک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    علاوہ ازیں شمالی کوریا مستقبل قریب میں جاسوسی سٹیلائٹ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے جب کہ جوہری ہتھیاروں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی بیلسٹک میزائل کی تیاری کی بحالی کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔

    واضح رہے کہ جنوبی کوریا میں صدارتی الیکشن ہورہے ہیں جس کی ابتدائی ووٹنگ کا آغاز ہوگیا ہے اور اس موقع پر شمالی کوریا کے میزائل تجربات سے خطے میں تناؤ میں اضافہ ہوگیا۔

    یو کرین کی اپیل پرایلون مسک کی جانب سے مدد

  • شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ

    شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ

    شمالی کوریا نے آج (اتوار) کو ایک اور بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سے سمندر کی جانب ایک مبینہ بیلسٹک میزائل داغا ہے، میزائل سنان کے قریب ایک مقام سے فائر کیا گیا جہاں پیانگ یانگ کا بین الاقوامی ہوائی اڈا واقع ہے۔

    جے سی ایس کا کہنا تھا کہ اتوار کے روز فائر کیے گئے میزائل نے تقریباً 620 کلومیٹر (390 میل) کی زیادہ سے زیادہ بلندی تک 300 کلومیٹر (190 میل) تک کا فاصلہ طے کیا۔

    روس خلائی اسٹیشن کا 5 سو ٹن ملبہ بھارت پر گرنے کا خدشہ

    ہوائی اڈا اس سے پہلے بھی میزائل تجربات کا مقام رہا ہے، جہاں سے 16 جنوری کو مختصر فاصلے تک مار کرنے والے 2 بیلسٹک میزائل کے تجربات بھی کیے گئے تھے۔

    جنوبی کوریا اور جاپان کے فوجی حکام نےتجربے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک کے گزشتہ ماہ میں ریکارڈ تعداد میں تجربات بعد رواں ماہ یہ پہلا تجربہ ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پرواز کا ڈیٹا ماضی میں کیے گئے ٹیسٹوں سے ملتا جلتا نہیں ہے اور رائے دی کہ یہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہو سکتا ہے۔

    اتوار کے روز کیا گیا تجربہ ایسے وقت ہوا کہ جب جنوبی کوریا کے 9 مارچ کے صدارتی انتخابات میں دو ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    جنوبی کوریا اور جاپان میں کچھ لوگوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا تھا کہ بین الاقوامی توجہ یوکرین پر روس کے حملے پر مرکوز ہے اس دوران شمالی کوریا میزائل تجربات کو مزید آگے بڑھا سکتا ہے۔

    جاپان کے وزیر دفاع نوبو کیشی کا اپنے ایک ٹیلیویژن بیان میں کہنا تھا کہ سال کے آغاز سے ہی مسلسل تجربات کیے جا رہے ہیں، شمالی کوریا تیزی سے بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے، شمالی کوریا جاپان، خطے اور عالمی برادری کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

    جاپانی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ یہ تجربہ اس وقت ہوا ہے جب عالمی برادری یوکرین پر روسی حملے کا جواب دے رہی ہے، اگر شمالی کوریا اس صورت حال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے تو یہ ایسی چیز ہے جسے ہم برداشت نہیں کر سکتے۔

    شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    امریکی فوج کی انڈو پیسیفک کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکا نے تازہ ترین تجربے کی مذمت کی اور شمالی کوریا سے عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا، تاہم اس تجربے سے فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    صدارتی بلیو ہاؤس کے ایک بیان کے مطابق جنوبی کوریا کی قومی سلامتی کونسل نے میزائل تجربے پر تبادلہ خیال کے لیے ایک ہنگامی اجلاس بلایا۔

    اجلاس کے دوران تجربے کو افسوسناک قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا یوکرین کی جنگ کے حل کے لیے کوششیں کر رہی ہے، بیلسٹک میزائل کا تجربہ دنیا، خطے اور جزیرہ نما کوریا میں امن و استحکام کے لیے مناسب نہیں ہے۔

    اس سے قبل شمالی کوریا کی جانب سے آخری تجربہ 30 جنوری کو ہواسونگ 12 نامی درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا گیا تھا مذکورہ تجربہ سال2017 کے بعد سے سب سے بڑا ہتھیار کا تجربہ تھا، ہواسونگ-12 نے تقریباً 2,000 کلومیٹر (1,200 میل) کی بلندی اور 800 کلومیٹر (500 میل) کی حد تک پرواز کی۔

    شمالی کوریا نے ایک اور میزائل کا تجربہ کرلیا

  • شمالی کوریا نے ایک اور میزائل کا تجربہ کرلیا

    شمالی کوریا نے ایک اور میزائل کا تجربہ کرلیا

    پیونگ یونگ: شمالی کوریا نے ایک اور میزائل تجربہ کرلیا-

    باغی ٹی وی : واضح رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے ایک ماہ میں کیا جانے والا یہ چھٹا میزائل تجربہ ہے عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا کے فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے سمندر میں 2 کم فاصلے تک مارکرنے والے میزائل فائرکئے جبکہ دوروزقبل کروزمیزائل کا تجربہ بھی کیا تھا۔

    شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    امریکا نے نئے میزائل تجربات کے بعد شمالی کوریا پرمزید پابندیاں عائد کی ہیں عالمی قوانین کے تحت شمالی کوریا پربیلسٹک میزائل اورجوہری ہتھیاربنانے پرپابندی عائد ہے۔

    شمالی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت مضبوط بنانے پرکام کرتے رہیں گے۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اِن نے حال ہی میں حکمراں جماعت کی ایک کانفرنس کے دوران ملک کی فوجی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور بیلیسٹک میزائلوں کے تجربے کی وجہ سے شمالی کوریا کے خلاف کئی طرح کی بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    شمالی کوریا نے جب سن 2006 میں اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا تھا تو اس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔ پیونگ یانگ کی جانب سے اس طرح کے دیگر تجربات کے ساتھ ساتھ ان پابندیوں میں بھی مزید سختی ہوتی رہی جوہری سرگرمیاں ختم کرنےکےبدلے میں پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان ہونے والی بات چیت تعطل کا شکار ہے۔

    اسرائیلی صدرکی عرب امارات پرحوثیوں کے ڈرون حملوں کی مذمت:جدید دفاعی نظام کی پیشکش…

    جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن نے نئے سال کے موقع پر اپنے روایتی خطاب میں شمالی کوریا سے مذاکرات کی میز پر واپس لوٹ آنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک امن معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکن کوشش کریں گے۔

    شمالی کوریا نے آخری مرتبہ رواں ماہ 5 اور11 جنوری میں بیلیسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا اس سے قبل اکتوبر اور ستمبر کے مہینے میں چار دیگر میزائل تجربات بھی کیے تھے جس میں ہائپر سونک میزائل کا تجربہ بھی شامل تھا۔

    وزیراعظم عمران‌ خان کا ابوظہبی کے ولی عہد سے ٹیلی فونک رابطہ، حوثی حملے کی شدید…

  • شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    پیونگ یونگ: شمالی کوریا نے ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق کردی۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے تجربے کا مشاہدہ کیا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا نے گزشتہ روز ہائپرسونک میزائل کا تجربہ کیا جس نے 1000 کلومیٹر دورسمندر میں ہدف کو نشانہ بنایا شمالی کوریا کی سرکاری خبرایجنسی کے مطابق تجربے کودیکھنے کے لئے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان بھی موجود تھے کم جونگ ان نے 2 سال بعد کسی میزائل تجربے میں شرکت کی کم جونگ ان کی میزائل تجربے کے دوران کی تصاویر بھی جاری کردی گئیں۔

    شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے شمالی کوریا کی جانب سے میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے اسے سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔

    شمالی کوریا کا ایک ہفتے میں یہ دوسرا میزائل تجربہ اور ہائپرسونک میزائل کا مجموعی طور پر تیسرا تجربہ ہے۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا نے منگل کی صبح میزائل کا تجربہ کیا شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا جو زمین سے مشرقی سمندر کی جانب لانچ کیا گیا جاپان کے کوسٹ گارڈز نے بھی فائرکی گئی بیلسٹک میزائل جیسی چیز کی تصدیق کی ہے۔شمالی کوریا کا 6 روز کے دوران بیلسٹک میزائل کا یہ دوسرا تجربہ ہے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے عالمی تنقید کوخاطر میں نہ لاتے ہوئے ملکی دفاع مزید مضبوط بنانے کا اعلان کیا ہے۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اِن نے گزشتہ ہفتے حکمراں جماعت کی ایک کانفرنس کے دوران ملک کی فوجی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور بیلیسٹک میزائلوں کے تجربے کی وجہ سے شمالی کوریا کے خلاف کئی طرح کی بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں۔

    لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی…

    شمالی کوریا نے جب سن 2006 میں اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا تھا تو اس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔ پیونگ یانگ کی جانب سے اس طرح کے دیگر تجربات کے ساتھ ساتھ ان پابندیوں میں بھی مزید سختی ہوتی رہی جوہری سرگرمیاں ختم کرنےکےبدلے میں پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان ہونے والی بات چیت تعطل کا شکار ہے۔

    جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن نے نئے سال کے موقع پر اپنے روایتی خطاب میں شمالی کوریا سے مذاکرات کی میز پر واپس لوٹ آنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک امن معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکن کوشش کریں گے۔

    شمالی کوریا نے آخری مرتبہ اکتوبر 2021 میں بیلیسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ اسے ایک آبدوز سے داغا گیا تھا۔ اس سے قبل اکتوبر اور ستمبر کے مہینے میں چار دیگر میزائل تجربات بھی کیے تھے جس میں ہائپر سونک میزائل کا تجربہ بھی شامل تھا۔

    فلسطینیوں کے لیے 50 ہزار قرآن کے نُسخے:تحفہ کس نے بھیجا؟اہم خبرآگئی

  • شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    سیئول: شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل کا ایک اورتجربہ کرلیا،شمالی کوریا کا جانب سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل سن 2022 میں شمالی کوریا کا دوسرا میزائل تجربہ ہے-

    باغی ٹی وی :جنوبی کوریا کے فوجی حکام کے مطابق شمالی کوریا نے منگل کی صبح میزائل کا تجربہ کیا شمالی کوریا نے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا جو زمین سے مشرقی سمندر کی جانب لانچ کیا گیا۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    جاپان کے کوسٹ گارڈز نے بھی فائرکی گئی بیلسٹک میزائل جیسی چیز کی تصدیق کی ہے۔شمالی کوریا کا 6 روز کے دوران بیلسٹک میزائل کا یہ دوسرا تجربہ ہے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے عالمی تنقید کوخاطر میں نہ لاتے ہوئے ملکی دفاع مزید مضبوط بنانے کا اعلان کیا ہے۔

    امریکی مشن برائے اقوام متحدہ جس میں امریکا، فرانس، آئرلینڈ، جاپان، برطانیہ اورالبانیہ شامل ہیں نے گزشتہ ہفتے کئے گئے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی مذمت کی تھی۔

    شمالی کوریا پر بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کرنے کے حوالے سے بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں تاہم وہ انہیں نظر انداز کرتے ہوئے اکثر تجربات کرتا رہتا ہے۔

    امریکی جاسوس ڈرونز آبدوز کامنصوبہ دوسرے اور نئے مرحلے میں داخل

    قبل ازیں شمالی کوریا نے 5 جنوری بدھ کو بھی میزائل کا تجربہ کیا گیا تھا بدھ کے روز داغا جانے والا بیلسٹک میزائل سن 2022 میں شمالی کوریا کا پہلا میزائل تجربہ تھا

    بعد ازاں جاپان کے وزیر اعظم فومیو کیشیدا نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا "شمالی کوریا اکثر میزائل داغتا رہتا ہے، جو کہ انتہائی افسوس کی بات ہے۔”

    جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف نے اپنے ایک بیان میں کہا، "ہماری فوج ممکنہ مزید میزائل داغنے کی تیاری کی صو رت میں پوری طرح تیار ہے اور ہم امریکا کی معاونت سے صورت حال پر قریبی نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔” انہوں نے بتایا کہ شمالی کوریا کی طرف سے میزائل داغنے کے بعد کی صورت حال کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔

    جنوبی کوریا کی قومی سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی اور کہا کہ میزائل داغنے کا یہ واقعہ "ایسے وقت پیش آیا ہے جب داخلی اور خارجی استحکام انتہائی اہم ہیں۔” کونسل نے شمالی کوریا سے مذاکرات بحال کرنے کی اپیل کی۔

    بھارت کا اگنی پرائم کے بعد ‘پرالے ‘ میزائل کا تجربہ

    جاپان کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز بتایا تھا کہ جاپانی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع جمعے کے روز اپنے اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کرنے والے ہیں اور وہ سیکورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اِن نے گزشتہ ہفتے حکمراں جماعت کی ایک کانفرنس کے دوران ملک کی فوجی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور بیلیسٹک میزائلوں کے تجربے کی وجہ سے شمالی کوریا کے خلاف کئی طرح کی بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں۔

    شمالی کوریا نے جب سن 2006 میں اپنا پہلا جوہری تجربہ کیا تھا تو اس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس پر پابندیاں عائد کردی تھیں۔ پیونگ یانگ کی جانب سے اس طرح کے دیگر تجربات کے ساتھ ساتھ ان پابندیوں میں بھی مزید سختی ہوتی رہی جوہری سرگرمیاں ختم کرنےکےبدلے میں پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان ہونے والی بات چیت تعطل کا شکار ہے۔

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن نے نئے سال کے موقع پر اپنے روایتی خطاب میں شمالی کوریا سے مذاکرات کی میز پر واپس لوٹ آنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک امن معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکن کوشش کریں گے۔

    شمالی کوریا نے آخری مرتبہ اکتوبر 2021 میں بیلیسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ اسے ایک آبدوز سے داغا گیا تھا۔ اس سے قبل اکتوبر اور ستمبر کے مہینے میں چار دیگر میزائل تجربات بھی کیے تھے جس میں ہائپر سونک میزائل کا تجربہ بھی شامل تھا۔

    بحری جہاز کو دھکیلنے والی دنیا کی پہلی پیرافوائل پتنگ کا کامیاب تجربہ

  • عوام پر 11 روز کے لئے ہنسنے،تفریح کرنے اورگھرکا سودا خریدنے پرپابندی

    عوام پر 11 روز کے لئے ہنسنے،تفریح کرنے اورگھرکا سودا خریدنے پرپابندی

    پیونگ یونگ: شمالی کوریا میں عوام پر 11 روز کے لئے ہنسنے اورگھرکا سودا خریدنے پرپابندی عائد کردی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی :غیرملکی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کے آنجہانی رہنما کم جونگ ال کے انتقال کو10 سال مکمل ہونے پرشمالی کوریا کی حکومت نے 11 روز کے سوگ کااعلان کیا۔

    سوگ کے دوران عوام کے ہنسنے، شاپنگ کرنے اورالکوحل پینے پرپابندی عائد کردی گئی ہے خوشی کی تقریبات منعقد کرنے پربھی پابندی ہوگی۔ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

    سابق سپریم لیڈر کم جونگ ال کا انتقال 2011 میں 69 برس کی عمرمیں ہوا تھا ان کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا تھا جس کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے کم جونگ ان نے حکمرانی سنبھالی اوروہ تاحال شمالی کوریا کے رہنما ہیں۔

    برطانوی رکن پارلیمنٹ پر14سالہ لڑکےکیساتھ جنسی زیادتی کاالزام:سماعت کی تاریخ بھی مقرر کردی گئی

    شمالی کوریا کے سرحدی شہر سینوئجو کے ایک شہری نے ریڈیو فری ایشیا کو اس ضمن میں بتایا ہے کہ ماضی میں عائد کردہ ان پابندیوں پر عمل درآمد نہ کرنے والے کئی لوگ پکڑے گئے تھے اور انہیں حکومت نے نظریاتی مجرم قرار دیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ پکڑے جانے والے مجرمان پھر دوبارہ کبھی دکھائی نہیں دیئے۔

    ریڈیو فری ایشیا کے مطابق اس شخص کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں اس قدر سخت ہیں کہ اس دوران مرنے والے کی آخری رسومات ادا کرنے اور سالگرہ جیسی تقاریب منعقد کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

    مسافر طیارہ تباہ:تین نامورشخصیات کی ہلاکت نے چاہنے والوں کوغمگین کردیا