Baaghi TV

Tag: شمالی کوریا

  • شمالی کوریا نے والدین کو بچوں کے انوکھے نام رکھنے کی ہدایت کر دی

    شمالی کوریا نے والدین کو بچوں کے انوکھے نام رکھنے کی ہدایت کر دی

    شمالی کوریا نے والدین کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے نام’Bomb’،’ Gun’ اور ‘Satellite’ جیسے حب الوطنی کی نشاندہی کرنے والے نام رکھیں۔

    باغی ٹی وی: شمالی کوریا دوسرے ممالک سے مختلف ہے۔ اتنا تو دنیا میں سب جانتے ہیں۔ لیکن جب سب سے ابتدائی اور معمول کی چیزوں کی بات کی جائے تو وہ کتنے مختلف ہیں؟-

    مطلق العنان حکومت باقی دنیا سے مختلف قوانین کی پیروی کرتی ہے۔ ان کا اپنا کیلنڈر ہے، شہریوں کو بغیر اجازت ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے، غیر ملکی موسیقی پر پابندی ہے، بے وفائی کی سزا سخت ہے، اور بال کٹوانے کے لیے حکومت سے منظور شدہ ہونا ضروری ہے۔

    یہ ملک کے بہت سے غیر معمولی قوانین میں سے کچھ ہیں۔ فہرست میں اضافہ کرنے کے لیے، حکومت نے حال ہی میں ملک میں والدین کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے نام ‘بم’، ‘گن’ اور ‘سیٹیلائٹ’ رکھیں تاکہ حب الوطنی کا جذبہ پیدا ہو۔

    حکومت چاہتی ہے کہ شمالی کوریا کے بچے حب الوطنی اور عسکری پسندی کی عکاسی کرنے والے نام رکھیں جس سے جنوبی کوریا اور ان کی ثقافت میں فرق آئے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے یہ فیصلہ ملک میں پیار بھرے نام رکھنے کے خلاف کریک ڈاؤن کے طور پر کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل شمالی کوریا کی حکومت نے شہریوں کو جنوبی کوریا کی طرح زیادہ پیار بھرے نام جیسے کہ A Ri (پیارا) اور Su Mi (انتہائی خوبصورت) رکھنے کی اجازت دی تھی۔

    اگر امریکی کانگریس نے میڈیا بل منظور کیا تو فیس بک سے خبریں ہٹا دیں گے،میٹا

    لیکن اب حکومت نے حکم دیا ہے کہ وہ اس قسم کے ناموں کے بجائے مزید محب وطن اور نظریاتی ماننے والوں کی نشاندہی کرنے والے نام رکھیں۔

    یہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پیانگ یانگ ان ناموں کے استعمال پر کریک ڈاؤن کر رہا ہے جو حکومت کے خیال میں بہت نرم ہیں۔
    جنوبی کوریا کی طرح، دارالحکومت نے پہلے ایسے ناموں کی اجازت دی تھی جو سر کے ساتھ ختم ہوتے ہیں جیسے A Ri (پیار) اور Su Mi (سپر بیوٹی)۔ جو کہ اب نئی حکومتی ہدایت کے ساتھ تبدیل ہونے والا ہے۔

    حکومت چاہتی ہے کہ ‘نرم ناموں’ والے لوگ اپنے اور اپنے بچوں کے نام بدل کر زیادہ نظریاتی اور عسکری معنی رکھنے والے رکھیں۔
    رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کم جونگ ان کی قیادت والی حکومت ان خاندانوں پر جرمانے عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو اس ہدایت کی تعمیل نہیں کریں گے۔

    کہا جاتا ہے کہ حکومت کا خیال ہے کہ جن ناموں کا کوئی حتمی حرف نہیں ہے وہ ‘سوشلسٹ مخالف’ ہیں ملک کے حکام نے مبینہ طور پر کہا کہ نئے نام جنوبی کوریا کے ناموں سے ملتے جلتے نہیں ہونے چاہئیں۔

    ناسا کا خلا میں ٹماٹر اگانے کا منصوبہ شروع

    رپورٹس کے مطابق شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن چاہتے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کے نام ایسے رکھیں جس میں final consonant(حروف کا ایک ایسا گروپ، عام طور پر دو یا تین جو لفظ کے آخر میں اپنی آواز نکالتے ہیں) شامل ہوں، مثال Pok Il (bomb)، Ui Song (satellite)۔

    انہوں نے ان لوگوں کو جرمانے کی دھمکی دی ہے جو اس کی خلاف ورزی کریں گے، رپورٹس کے مطابق کم جونگ مانتے ہیں final consonant کے بغیر نام اینٹی سوشلسٹ ہوتے ہیں۔

    دوسری جانب کچھ شہری شکایت کر رہے ہیں کہ حکام لوگوں کو ملک کے مطلوبہ معیارکے مطابق اپنے نام تبدیل کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق ایسے لوگ جن کے ناموں میں final consonant نہیں ہیں، ان کے پاس سال کے آخر تک وقت ہے کہ وہ ریاست کے معیارپر پورا اترنے کے لیے ایسے نام رکھیں جس کے سیاسی معنی ہوں۔

    کولمبیا میں مٹی کا تودہ بس پرگرنے سے27 افراد ہلاک

  • دنیا کا سب سے بڑا جوہری طاقت والا ملک بننا چاہتے ہیں:شمالی کوریا

    دنیا کا سب سے بڑا جوہری طاقت والا ملک بننا چاہتے ہیں:شمالی کوریا

    سیئول: شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ امریکی سامراج کی جوہری بالادستی کا مقابلہ کرنے اور اپنے ملک اور عوام کے وقار و خودمختاری کے تحفظ کے لیے دنیا کی سب سے بڑی جوہری طاقت بننا چاہتے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے ملک کے سب سے بڑے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل بنانے والے درجنوں فوجی افسران کو ترقی اور اسناد دینے کی تقریب سے خطاب کیا۔ اس بیلسٹک میزائل سے متعلق جاپان کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکا تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    چین اور کیوبا کے درمیان تعلقات میں سرگرمی،اہم معاہدے

    تقریب سے خطاب میں کم جونگ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا ہدف دنیا کی سب سے بڑی جوہری طاقت بننا ہے جس کی اس صدی میں مثال نہیں ملتی اور یہ کہ ملک کی جوہری صلاحیتوں میں اضافہ ریاست اور عوام کے وقار اور خودمختاری کا ضامن ہوگا۔شمالی کوریا کے حکمراں نے حال ہی میں تجربہ کیے گئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ’’ Hwasong-17‘‘ کو دنیا کا سب سے مضبوط اسٹریٹجک ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ میزائل شمالی کوریا کی فوج کو دنیا کی سب سے مضبوط فوج بنا سکتا ہے۔

    سیلولر کمپنیوں کی بین الاقوامی تنظیم کا پاکستان سےٹیکسوں میں کمی کا مطالبہ

    شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ حکمراں کم جونگ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ Hwasong-17‘‘ میزائل نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ عوامی جمہوریہ کوریا(شمالی کوریا کا خوساختہ اور متنازع نام) ایک مکمل جوہری طاقت ہے جو امریکی سامراج کی جوہری بالادستی کے خلاف کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    حکمراں کم جونگ اُن کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے سائنسدانوں نے بیلسٹک میزائلوں پر جوہری وار ہیڈز کو نصب کرنے کی ٹیکنالوجی میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے اور توقع ہے کہ ملک کی جوہری ڈیٹرنٹ صلاحیتوں کو غیر معمولی تیز رفتاری سے بڑھایا جائے گا۔

    فیفا ورلڈ کپ؛ پولینڈ نےسعودی عرب کو2گول سےشکست دے دی

    سرکاری میڈیا کے مطابق فوجی انجینیئرز کو سراہنے کی تقریب میں حکمراں جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں نے کم جونگ اُن کے “مکمل اختیار” کے دفاع کا عہد کیا، اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمارے میزائل صرف اس سمت میں بھرپور طریقے سے پرواز کریں گے جس جانب کم جونگ اُن اشارہ کریں گے۔اس تقریب میں شمالی کوریا کے حکمراں کے بیٹی بھی موجود تھیں۔ وہ پہلی مرتبہ Hwasong-17 کے ٹیسٹ کے موقع پر اپنے والد کے ہمراہ منظر عام پر آئی تھیں اور اب یہ دوسرا اہم موقع ہے جس سے لگتا ہے کہ شمالی کوریا کی حکمرانی اب چوتھی نسل میں منتقل ہونے والی ہے۔

    امن کے لیےشمالی کوریا کےساتھ مل کرکام کرنا چاہتےہیں:چینی صدر

    واضح رہے کہ شمالی کوریا نے امریکا تک مار کرنے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ 18 نومبر کو کیا تھا جس پر امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر شمالی کوریا کو اس جارحیت پر جواب دینے اور مزید پابندیوں پر زور دیا تھا۔

  • میزائل تجربات جنوبی کوریا اور امریکا پر حملے کی تیاری ہیں، یہ جنگی مشقیں جاری رہیں گی،شمالی کوریا

    میزائل تجربات جنوبی کوریا اور امریکا پر حملے کی تیاری ہیں، یہ جنگی مشقیں جاری رہیں گی،شمالی کوریا

    پیانگ یانگ: شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے میزائل تجربات اپنے سخت حریف ممالک جنوبی کوریا اور امریکا پر حملے کے لیے کئے اور یہ جنگی مشقیں جاری رہیں گی-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے "روئٹرز” کے مطابق شمالی کوریا نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران درجنوں میزائل داغے اور جنگی طیاروں کی سمندر حدود میں پروازوں کو بڑھادیا جس پر شمالی کوریا کی فوج کا کہنا تھا کہ یہ مہمات جنوبی کوریا اور امریکی فضائیہ کی بڑی فوجی مشقوں کے خلاف بطور احتجاج کی گئیں۔

    مصنوعی سیاروں کو خلا میں لے جانے والے ایرانی راکٹ کی کامیاب آزمائشی پرواز

    شمالی کوریا کی فوج کا کہنا تھا کہ ہتھیاروں کے تجربات میں ڈسپریشن وار ہیڈز سے لدے بیلسٹک میزائل اور زیر زمین دراندازی کے وار ہیڈز شامل تھے جن کا مقصد دشمن کے فضائی اڈوں پر حملہ کرنا تھا جان بوجھ کر کشیدگی کو بڑھانا تھا اور بہت زیادہ جارحانہ نوعیت کی ایک خطرناک جنگی مشقیں کیں-

    شمالی کی فوج نے کہا کہ اس نے فضائی اڈوں اور ہوائی جہازوں کے ساتھ ساتھ جنوبی کوریا کےایک بڑےشہر پر حملوں کی نقلی سرگرمیاں انجام دی ہیں تاکہ دشمنوں کے مسلسل جنگی جنون کو ختم کیا جا سکے –

    میزائل لانچوں کی ہلچل میں ایک ہی دن میں اب تک کا سب سے زیادہ حملہ شامل ہے، اور جوہری ہتھیاروں سے لیس شمالی کوریا کے میزائل تجربے کے ریکارڈ سال کے درمیان آیا ہے۔

    علاوہ ازیں زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے تجربات کیے جو دشمن کے طیاروں کو مختلف اونچائیوں اور فاصلوں پر “فنا” کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ تجربات میں اسٹریٹجک کروز میزائل جنوبی کوریا کے جنوب مشرقی ساحلی شہر السان سے 80 کلومیٹر دور بین الاقوامی پانیوں میں گرے۔

    شمال کی فوج نے فنکشنل وار ہیڈ کے ساتھ ایک بیلسٹک میزائل کے ایک اہم تجربے کا بھی دعویٰ کیا جس کے ذریعے دشمن کے آپریشن کمانڈ سسٹم کو مفلوج کر دیا گیا لیکن کچھ مبصرین کو شک ہے کہ شمالی کوریا کے ہاس ایسے برقناطیسی حملے کی صلاحیت نہیں۔

    آرٹیمس1مشن کو14 نومبر کو چاند پر بھیجے جانے کا امکان

    شمالی کوریا کی فوج کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ میزائل تجربات جنوبی کوریا اور امریکی اہداف جیسے کہ فضائی اڈوں اور آپریشن کمانڈ سسٹم کو مختلف قسم کے میزائلوں کے ساتھ “بے رحمی سے نشانہ بنانے کی مشقیں تھیں جن میں ممکنہ طور پر جوہری صلاحیت کے ہتھیار شامل تھے۔

    جس پر امریکا اور جنوبی کوریا نے مشترکہ فوجی مشقیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے شمالی کوریا کو خبردار کیا کہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے نتیجے میں کِم جونگ اُن کی حکومت کا خاتمہ ہوگا۔

    شمالی کوریا کی جواباً فوجی مشقوں کوماہرین حکمراں کِم جونگ اُن کے اپنے حریفوں کی فوجی مشقوں کے دباؤ کے سامنے پیچھے نہ ہٹنے کے عزم کی نشاندہی سمجھتے لیکن کچھ ماہرین کی رائے ہےکہ کِم جونگ اُن نے اپنی مشقوں کوجوہری ہتھیاروں کوجدید بنانےسمیت امریکا اور جنوبی کوریا کے ساتھ مستقبل کے معاملات میں اپنا فائدہ بڑھانے کے بہانے کے طور پر بھی استعمال کیا۔

    جنوبی کوریا اور امریکی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ پیانگ یانگ نے جوہری ڈیوائس کا تجربہ کرنے کے لیے تکنیکی تیاری کر لی ہے، یہ 2017 کے بعد پہلی بار ہو گا۔

    تنزانیہ:وکٹوریہ جھیل میں مسافر طیارہ گرکرتباہ

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے سینئر سفارت کاروں نے اتوار کو فون پر بات کی اور حالیہ تجربات کی مذمت کی، جس میں ایک میزائل کا "لاپرواہ” لانچ بھی شامل ہے جو گزشتہ ہفتے جنوبی کوریا کے ساحل سے گرا تھا۔

    جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے ایک اہلکار نے پیر کو بتایا کہ جنوبی کوریا کے ایک جہاز نے ملبہ برآمد کیا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شمالی کوریا کے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل (SRBM) کا حصہ ہے۔ یہ پہلا موقع تھا جب شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل جنوبی کوریا کے پانیوں کے قریب گرا تھا۔

    اہلکار نے بتایا کہ جنوبی کوریائی بحریہ کے ریسکیو جہاز نے پرزوں کی بازیابی کے لیے زیرِ آب تحقیقات کا استعمال کیا، جن کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

  • شمالی کوریا کا نیا تجربہ، میزائل جنوبی کوریا میں جاگرا

    شمالی کوریا کا نیا تجربہ، میزائل جنوبی کوریا میں جاگرا

    پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے ایک بار پھر میزائل کا تجربہ کرلیا۔ تجربے کے لیے فائر کیا گیا میزائل جنوبی کوریا کی حدود میں گرا۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا نے نیا میزائل تجربہ کیا ہے۔ تجرباتی طور پر فائر کیا گیا میزائل شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کا میری ٹائم بارڈر عبور کر کے جنوبی کوریا کے علاقے میں گرا۔

    برازیل : بولسونارو انتظامیہ نے الیکشن میں شکست تسلیم کرلی،اقتدارنومنتخب صدر لولا…

    شمالی کوریا نے بدھ کے روز اپنے مشرقی اور مغربی ساحلوں سے کم از کم 10 میزائل داغے، جو جنوبی کوریا میں گرا اور ایک آبادی والے جزیرے پر فضائی حملے کا الرٹ جاری کر دیا-

    رپورٹس کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی 1945 میں تقسیم کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب شمالی کوریا کی طرف سے فائر کیا گیا میزائل جنوبی کوریا میں گرا ہے شمالی کوریا کا نیا میزائل مختصر فاصلے تک مار کرنے والا میزائل جنوبی کوریا کی حدود کے 60 کلومیٹر اندرسوکچو شہر میں گرا جس کے باعث علاقے میں فضائی حملے کے الارم بجائے گئے۔

    جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے میزائل کے جواب میں 3 میزائل فائر کیے جنوبی کوریا کے صدر نے شمالی کوریا کے اس اقدام میں سرحدی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    کینیڈا نے ایران پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں نئی پابندیاں عائد کردیں

    نیویارک ٹائم ز کے مطابق شمالی کوریا کا ایک میزائل جنوبی کوریا کے مشرقی ساحل سےشمال مغرب میں 103 میل کے فاصلے پر گرا، جس کی آبادی تقریباً 9, 000 ہے، فوج نے وہاں ہوائی حملے کا الرٹ جاری کیا جنوبی کوریا کی فوج کے چیف ڈائریکٹر آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل کانگ شن چول نے اس لانچ کو "انتہائی غیر معمولی اور ناقابل برداشت حرکت” قرار دیا۔

    اولیونگ کے ایک مقامی اہلکار چنگ ینگ ہوان نے کہا کہ سائرن صبح 8:55 پر بجنا شروع ہوئے اور ہمیں اپنے سرکاری کمپیوٹر سسٹم سے ایک پیغام ملا کہ یہ ‘حقیقی زندگی کی صورت حال’ ہے،” کوئی موک ڈرل نہیں، "ہم نے دوبارہ باہر آنے سے پہلے تین یا چار منٹ کے لیے زیر زمین پناہ گاہ میں پناہ لی۔

    ایران میں امریکی سفارتکار راب میلی نے اپنے ٹوئٹ پر معافی مانگ لی

    مسٹر چنگ نے کہا کہ سائرن پورے جزیرے میں بجنے لگا لیکن رہائشیوں کو فوری طور پر اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے خبریں دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوا کہ یہ شمالی کوریا کا میزائل ہے۔

    جنوبی کی فوج نے بعد میں کہا کہ اس کے F-15K اور KF-16 لڑاکا طیاروں نے ایک انتباہ کے طور پر، شمال کے اپنے علاقائی پانیوں سے زیادہ دور بین الاقوامی پانیوں میں فضا سے زمین پر مار کرنے والے تین میزائل فائر کیے تھے۔ جنوبی کوریا کی وزارت ٹرانسپورٹ نے اولیونگ کے آس پاس کے علاقے سے جمعرات کی صبح تک ہوائی ٹریفک کو روک دیا۔

    آئی سی سی نے افغانستان میں تحقیقات دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی

  • شمالی کوریا نے مزید دو بیلسٹک میزائل داغ دیئے

    شمالی کوریا نے مزید دو بیلسٹک میزائل داغ دیئے

    شمالی کوریا کی جانب سے آج مزید دو بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : جنوبی کورین فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے مشرقی ساحل کی جانب بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں، جاپان نے بھی شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل فائر کرنے کی تصدیق کی ہے۔

    جاپانی حکام نے بتایاہے کہ شمالی کوریا نے ہفتے کے روزایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔جاپان کے قومی نشریاتی ادارے این ایچ کے نے یہ خبر دی ہے شمالی کوریا نے ممکنہ طور پر دومیزائل داغے ہیں۔

    شمالی کوریا نے دو اور بیلسٹک میزائل داغ دیئے

    شمالی کوریا کا 25 ستمبر کے بعد سے اس طرح کے میزائلوں کا یہ ساتواں تجربہ ہے اور اس کی ان سرگرمیوں سے ٹوکیو اور واشنگٹن دونوں کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

    شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل تجربات جاری ہیں اورگزشتہ دو ہفتوں میں شمالی کوریا سات بیلسٹک میزائل فائر کر چکا ہے رواں ہفتے شمالی کوریا نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا تھا، میزائل کے جاپان کی حدود سے گذرنے پر جاپان نے شدید مذمت کی تھی۔

    شمالی کوریا کے میزائل تجربوں میں تیزی کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں کا تجربہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    این ایچ کے کا کہنا ہے کہ ایسالگتا ہے،ایک بیلسٹک میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے دور گراہے۔اس نے بعد میں وزارت دفاع کے ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا ایک اورمیزائل بھی فائر کیا گیا ہے جبکہ فوری طور پر مزید معلومات دستیاب نہیں ہوئی ہیں۔

    شمالی کوریا کے تجربے کے جواب میں امریکہ اور جنوبی کوریا نے میزائل داغ دیئے

    جنوبی کوریا کی یونہاپ نیوزایجنسی نے جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے حوالے سے خبردی ہے کہ شمالی کوریا نے مشرقی ساحل کی جانب ایک غیرواضح بیلسٹک میزائل داغا ہے۔

    جاپان کے وزیر مملکت برائے دفاع توشیرو انو نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں میزائل 100 کلومیٹر (60 میل) کی بلندی تک پہنچے اورانھوں نے اپنی 350 کلومیٹر کی رینج کا احاطہ کیا ہے۔ پہلا میزائل مقامی وقت کے مطابق رات ایک بج کر 47 منٹ (1647جی ایم ٹی) پر داغا گیا اور دوسرا اس کے چھے منٹ کے بعد فائرکیا گیا۔

    انھوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ دونوں میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر گرے ہیں اور حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس قسم کے میزائل داغے گئے تھے ، جس میں یہ امکان بھی شامل ہے کہ یہ آبدوز سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائل تھے۔

    شمالی کوریا نے گذشتہ منگل کے روز جوہری ہتھیاروں سے لیس پہلے سے کہیں زیادہ دور تک مار کرنے والے ایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔اس کے بعد یہ پانچ سال میں پہلی بار جاپان کی فضائی حدود سے شمالی کوریا کا میزائل گزرا ہے اور وہاں کے مکینوں کو خبردارکردیا گیا ہے کہ وہ محفوظ مقامات میں پناہ لے لیں۔

    توشیرو انو نے کہا کہ ٹوکیو شمالی کوریا کی جانب سے بار بار کی جانے والی اس طرح کارروائیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔

    واضح رہے کہ شمالی کوریا اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میزائل اور جوہری تجربات کررہا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس نے نئے میزائل تجربات امریکا سے لاحق براہ راست فوجی خطرات کے خلاف اپنے دفاع کے لیے کیے ہیں اور ان سے ہمسایہ ممالک اور خطوں کی سلامتی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔

    امریکہ نے ڈرون حملوں کی پالیسی میں تبدیلی کر دی

    شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے سی این اے نے ایوی ایشن انتظامیہ کے ایک ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ ہمارے میزائل تجربات ملک کی سلامتی اور علاقائی امن کو براہ راست امریکا سے لاحق فوجی خطرات سے بچانے کے لیے معمول کا ایک منصوبہ بند خود دفاعی اقدام ہے۔

    امریکا اور جنوبی کوریا نے جمعہ کے روز مشترکہ بحری مشقیں کی ہیں۔ اس سے ایک روز قبل سیئول نے شمالی کوریا کی جانب سے بظاہر بمباری کی مشقوں کے جواب میں لڑاکا طیاروں کوچوکس کیا تھا۔

    دریں اثناء امریکا نے ان تازہ میزائل تجربات کے جواب میں شمالی کوریا کے خلاف گذشتہ روز نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے دوسری جانب اقوام متحدہ نے شمالی کوریا کے بیلسٹک اور نیوکلیئر میزائل تجربوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

  • شمالی کوریا نے دو اور بیلسٹک میزائل داغ دیئے

    شمالی کوریا نے دو اور بیلسٹک میزائل داغ دیئے

    شمالی کوریا نے سمدنر کی جانب دو مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے ہیں-

    باغی ٹی وی: جاپانی حکام نے بھی شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل کی جاپان کے اوپر سے گزرنےکی تصدیق کر دی اس سے ایک روز قبل بھی شمالی کوریا کی جانب سے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا گیا تھا۔

    شمالی کوریا کے تجربے کے جواب میں امریکہ اور جنوبی کوریا نے میزائل داغ دیئے

    جاپانی وزیر اعظم فومیو کشیدا نے صحافیوں کو بتایا کہ مختصر عرصے میں یہ چھٹا موقع ہے کہ صرف ستمبر کے آخر تک گنتی کی جا رہی ہے۔ یہ قطعی طور پر برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

    جے سی ایس نے کہا کہ پہلا میزائل شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ کے قریب ایک سائٹ سے صبح 6.01 بجےپرجبکہ دوسرا 22 منٹ بعد داغا گیا-

    ایک بیان میں، جنوبی کوریا کی فوج نے لانچوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی "واضح خلاف ورزی” ہیں۔ ملک کی قومی سلامتی کونسل نے بھی لانچوں کو بین الاقوامی برادری کے لیے "ناقابل قبول چیلنج” قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور "سخت ردعمل” سے خبردار کیا۔

    جمعرات کی لانچنگ اس وقت ہوئی جب امریکہ نے اپنے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس رونالڈ ریگن کو جزیرہ نما کوریا کے پانیوں میں تبدیل کر دیاجنوبی کوریا کے ساتھ نایاب مشترکہ میزائل مشقوں کے بعد – جسے جنوبی کوریا کی فوج نے اتحادیوں کی "مضبوط مرضی” کا مظاہرہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔ IRBM لانچ کے بعد پیانگ یانگ کی مسلسل اشتعال انگیزیوں کا مقابلہ کریں۔

    شمالی کوریا نے جاپان کے اوپر سے بیلسٹک میزائل داغ دیا

    قبل ازیں شمالی کوریا نے ایک ایسا درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا میزائل فائر کیا تھا جو جاپان کے اوپر سے گزرا اور جاپان میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

    منگل کو میزائل نظر میں آتے ہی حکام نے شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی ہدایت کی اور ٹرین سروس بھی بند کر دی گئی تھیں اس میزائل تجربے کے جواب میں گزشتہ روز جنوبی کوریا اور امریکہ کی جانب سے بھی دو دو میزائل فائر کیے گئے تھے۔

    امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے باعث پیانگ یانگ کی طرف سے 12 روز میں چھٹا بیلسٹک میزائل تجربہ کیا گیا ہے اس سے قبل پچھلے ہفتے امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا تینوں ملکوں نے مل کر جنگی مشقیں کی تھیں۔

    بھارتی فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، ایک پائلٹ ہلاک، دوسرا زخمی

  • شمالی کوریا نے جاپان کے اوپر سے بیلسٹک میزائل داغ دیا

    شمالی کوریا نے جاپان کے اوپر سے بیلسٹک میزائل داغ دیا

    شمالی کوریا نے جاپان کے اوپر سے بیلسٹک میزائل داغ دیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق جاپانی حکومت نے میزائل کی جاپان کی طرف بڑھنے کی وارننگ جاری کی تھی2017 کے بعد پہلی مرتبہ شمالی کوریا نے جاپان کی حدود میں میزائل داغا ہے-

    برطانوی بادشاہ چارلس کا جلد پاکستان کا دورہ کرنے میں دلچسپی کا اظہار

    درمیانے درجے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل جاپان کے مشرق میں سمندر میں گرا، جاپانی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے وحشیانہ اقدام کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔

    میزائل تجربے کے دوران جاپان میں ٹرینوں کی آمدورفت معطل کردی گئی تھی، جاپانی حکام کےمطابق شمالی کوریا نے شائد بین البراعظمی میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

    جاپانی وزیراعظم ومیو کیشیدا نے نیشل سیکورٹی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    بی بی سی کے مطابق بیلسٹک میزائل نے بحرالکاہل میں گرنے سے پہلے تقریباً 4,500 کلومیٹر (2,800 میل) کا فاصلہ طے کیا اگر اس نے ایک اور رفتار اختیار کی تو یہ امریکی جزیرے گوام کو نشانہ بنانے کے لیے کافی ہے۔

    اقوام متحدہ نے شمالی کوریا کو بیلسٹک اور جوہری ہتھیاروں کے تجربات سے روک دیا ہے۔ بغیر کسی پیشگی انتباہ یا مشاورت کے دوسرے ممالک کی طرف یا اس کے اوپر میزائل اڑانا بھی بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

    ٹرمپ نےسی این این کیخلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائرکردیا

    ہوکائیڈو جزیرہ اور اوموری شہر سمیت جاپان کے شمال میں لوگ مبینہ طور پر سائرن اور ٹیکسٹ الرٹس کی آواز سے بیدار ہوئے جس میں لکھا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ شمالی کوریا نے میزائل لانچ کیا ہے۔ براہ کرم عمارتوں یا زیرزمین چلے جائیں انہیں خبردار کیا گیا کہ وہ گرنے والے ملبے سے بچیں۔

    بعد میں حکام نے بتایا کہ درمیانی فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل جاپان سے بہت دور بحرالکاہل میں گرا، اور اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    اس نے شمالی کوریا کے میزائل کے ذریعے اب تک کا سب سے طویل فاصلہ طے کیا تھا، اور تقریباً 1000 کلومیٹر کی اونچائی تک پہنچ گئی تھی جو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے زیادہ تھی۔

    جاپان کے وزیر اعظم Fumio Kishida نے لانچ کو "پرتشدد رویہ” قرار دیا جب کہ وزیر دفاع یاسوکازو ہماڈا نے کہا کہ جاپان اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے "جوابی حملے کی صلاحیتوں” سمیت کسی بھی آپشن کو مسترد نہیں کرے گا۔

    امریکی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایڈرین واٹسن نے اسے ایک "خطرناک اور لاپرواہ فیصلہ” قرار دیا جو خطے کے لیے "غیر مستحکم” ہے۔

    سیلاب:اقوام متحدہ نے پاکستان کیلئے انسانی امداد کی اپیل میں 5 گنا اضافہ کر دیا

    یہ لانچ اس وقت ہوا جب جاپان، امریکہ اور جنوبی کوریا شمالی کی طرف سے بڑھتے ہوئے خطرے کے جواب میں اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔

    گزشتہ ہفتے، تینوں ممالک نے 2017 کے بعد پہلی بار ایک ساتھ بحری مشقیں کیں۔ اس طرح کی مشقوں نے پیانگ یانگ کے رہنما کم جونگ اُن کو طویل عرصے سے مخالف رکھا ہے، جو انہیں اس بات کا ثبوت سمجھتے ہیں کہ ان کے دشمن جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔

    2017 میں مشترکہ مشقوں کے بعد، شمالی کوریا نے جواب میں جاپان پر دو میزائل داغے۔ ایک ہفتے بعد، اس نے ایٹمی تجربہ کیاحالیہ انٹیلی جنس نے تجویز کیا ہے کہ شمالی کوریا ایک اور جوہری ہتھیار کا تجربہ کرنے کے لیے تیار ہو رہا ہے۔

    توقع ہے کہ شمالی کوریا اس وقت تک انتظار کرے گا جب تک چین اس کا اہم اتحادی اس ماہ کےآخر میں اپنی کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس کا انعقاد کرے گا۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان منجمد اثاثوں کے بدلے میں قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ طے

    لیکن کچھ ماہرین اب پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ توقع سے جلد آسکتا ہے – ان کا ماننا ہے کہ منگل کے لانچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا جوہری تجربے کے لیے زمین تیار کر رہا ہے۔

  • جنوبی کوریا کا شمالی کوریا پر بیلسٹک میزائل فائر کرنے کا الزام

    جنوبی کوریا کا شمالی کوریا پر بیلسٹک میزائل فائر کرنے کا الزام

    سیول : جنوبی کوریا کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا نے اتوار کے روز مشرقی سمندر میں ایک بیلسٹک میزائل داغا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی خبر رساں ایجنسی دی گارجئین” کے مطابق جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے مزید تفصیلات بتائے بغیر اتوار کی صبح ایک بیان میں بتایا کہ شمالی کوریا نے ایک نامعلوم بیلسٹک میزائل داغا ہے-

    جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے کہا کہ مغربی اندرون ملک شہر تائیچون سے داغے گئے میزائل نے شمالی کوریا کے مشرقی ساحل کے پانیوں میں اترنے سے پہلے 600 کلومیٹر (370 میل) زیادہ سے زیادہ اونچائی پر 600 کلومیٹر (370 میل) کراس کنٹری پرواز کی۔

    جنوبی کوریا کی فوج نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے-

    جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے ایک بیان میں کہا کہ شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل کا تجربہ ایک سنگین اشتعال انگیزی ہے جس سے جزیرہ نما کوریا اور بین الاقوامی برادری کے امن و سلامتی کو خطرہ ہے۔

    یہ میزائل لانچ ان رپورٹس کے بعد سامنے آئی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ پیانگ یانگ آبدوز سے لانچ کیے جانے والے بیلسٹک میزائل فائر کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    کینیڈا میں آندھی اور طوفانی بارش،مختلف علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ

    جاپان کے ساحلی محافظ نے بھی ٹوکیو کی وزارت دفاع کی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے ممکنہ بیلسٹک میزائل لانچ کی تصدیق کی اور جہازوں کو خبردار رہنے کی ہدایت کی۔

    کوسٹ گارڈ نے کہا کہ بحری جہاز براہ کرم نئی معلومات کے لیے چوکس رہیں اور اگر آپ کو کوئی چیز نظر آتی ہے تو براہ کرم ان کے قریب نہ جائیں بلکہ کوسٹ گارڈ کو مطلع کریں۔ جاپان کے پبلک براڈکاسٹر نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ یہ آبجیکٹ جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر گرا ہے۔

    یو ایس انڈو پیسیفک کمانڈ نے کہا کہ لانچ سے "امریکی اہلکاروں یا علاقے یا ہمارے اتحادیوں کے لیے فوری خطرہ” نہیں تھا، لیکن پھر بھی اس نے شمالی کوریا کے غیر قانونی جوہری ہتھیاروں اور میزائل پروگراموں کے غیر مستحکم اثرات کو اجاگر کیا۔

    نائجیریا: جامع مسجد پر ڈاکوؤں کا حملہ،ا5 افراد ہلاک متعدد زخمی

    جمعے کے روز جوہری طاقت سے چلنے والے یو ایس ایس رونالڈ ریگن اور اس کے سٹرائیک گروپ کے جہاز جنوبی بندرگاہی شہر بوسان میں ڈوب گئے تھے جو سیول اور واشنگٹن کی جانب سے خطے میں کام کرنے والے مزید امریکی سٹریٹجک اثاثے رکھنے کی کوشش کا حصہ ہے۔ مئی میں اقتدار سنبھالنے والے جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے اپنے پیشرو کے دور میں شمالی کوریا کے ساتھ برسوں کی ناکام سفارت کاری کے بعد امریکہ کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کو تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

    یو ایس ایس ریگن رواں ماہ جنوبی کوریا کے مشرقی ساحل پر مشترکہ مشقوں میں حصہ لے گا۔ واشنگٹن سیول کا اہم سکیورٹی اتحادی ہے اور جنوبی کوریا میں تقریباً 28 ہزار 500 فوجیوں کو شمالی کوریا سے بچانے کے لیے تعینات ہے۔

    دونوں ممالک نے طویل عرصے سے مشترکہ مشقیں کی ہیں جن کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ وہ خالصتاً دفاعی (مشقیں) ہیں تاہم شمالی کوریا انہیں حملے کی مشق کے طور پر دیکھتا ہے۔ جنوبی کوریا اور امریکی حکام کئی مہینوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان ایک اور جوہری تجربہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    سابق جاپانی وزیراعظم کی آخری رسومات ملکہ برطانیہ سے بھی مہنگی،عوام کی شدید تنقید

  • شمالی کوریا نے ایٹمی حملہ کرنے کا قانون منظور کرلیا

    شمالی کوریا نے ایٹمی حملہ کرنے کا قانون منظور کرلیا

    عالمی سطح پر سخت پابندیوں کے باوجود شمالی کوریا نے ایٹمی حملہ کرنے کا قانون منظور کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی: شمالی کوریا نے ایک نیا قانون پاس کیا ہے جس میں خود کو جوہری ہتھیاروں کی حامل ریاست قرار دیا گیا ہے جس میں رہنما کم جونگ ان کا کہنا ہے کہ یہ "ناقابل واپسی” ہے۔

    امریکی بمبار طیارے کو دوران پرواز 6 سعودی لڑاکا طیاروں نے سیکیورٹی فراہم کی

    شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ ملک کے سربراہ کم جونگ ان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نئے قانون سے جو ہری ہتھیاروں کی حامل ریاست کی حیثیت ناقابل واپسی ہو گی۔اور کہا کہ جوہری تخفیف پر کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی کیونکہ انہوں نے اس قانون کی منظوری کو سراہا ہے-

    نئے قانون میں پیانگ یانگ کے اپنے تحفظ کے لیے قبل از وقت جوہری حملوں کے استعمال کے حق کو بھی شامل کیا گیا ہے – ایک سابقہ ​​موقف کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے کم نے کہا تھا کہ وہ اپنے ہتھیاروں کو صرف اس وقت تک رکھے گا جب تک کہ دوسرے ممالک جوہری ہتھیاروں سے پاک نہیں ہو جاتے اور انہیں غیر جوہری ریاستوں کے خلاف پہلے سے استعمال نہیں کریں گے۔

    جوہری ہتھیار ریاست کے وقاراور مطلق طاقت کی نمائندگی کرتے ہیں، کم نے کہا کہ انہوں نے ملک کی ربڑ اسٹیمپ پارلیمنٹ ، سپریم پیپلز اسمبلی کی طرف سے نئے قانون کو متفقہ ووٹ میں منظور کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

    امریکا نے پاکستان کو ایف 16 طیاروں کے سامان اورآلات فروخت کرنےکی منظوری دیدی

    کم نے کہا، "قومی جوہری طاقت کی پالیسی سے متعلق قوانین اور ضوابط کو اپنانا ایک قابل ذکر واقعہ ہے کیونکہ یہ ہمارا اعلان ہے کہ ہم نے قومی دفاع کے ایک ذریعہ کے طور پر جنگی ڈیٹرنس کو قانونی طور پر حاصل کیا ہے نئے قانون میں دیگر ممالک کے ساتھ جوہری ٹیکنالوجی کے اشتراک پر بھی پابندی ہے۔

    یہ شمالی کوریا کی جانب سے اپنے جوہری ہتھیاروں اور میزائل پروگرام کی توسیع پر بڑھتے ہوئے علاقائی کشیدگی کے درمیان آیا ہے۔
    کم نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایشیا میں اس کے اتحادیوں کے خلاف جوہری تنازعے کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیز دھمکیاں دی ہیں۔

    اس کے ساتھ ہی امریکہ کو یہ تشویش بڑھ گئی ہے کہ شمالی کوریا برسوں میں اپنے پہلے زیر زمین جوہری تجربے کی تیاری کر رہا ہے۔
    سیئول میں یونیورسٹی آف نارتھ کورین اسٹڈیز کے پروفیسر یانگ مو جن نے کہا کہ یہ قانون پیانگ یانگ کی چین اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی امیدوں کو ظاہر کرتا ہے جب کہ عالمی تناؤ میں اضافہ ہوا ہے-

    واضح رہے کہ شمالی کوریا نے سخت پابندیوں کے بعد بھی 2006 سے 2017 کے درمیان 6 جوہری تجربات کیے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فوجی صلاحیت کو آگے بڑھایا۔

    امریکہ فی الفورتائیوان کی فوجی مدد کرنےسے بازآجائے:چین کی امریکہ کوسخت وارننگ

  • جنوبی کوریا،امریکہ اوراتحادیوں کوکروزمیزائل فائرکرنےکی وجہ توسمجھ آگئی ہوگی:شمالی کوریا

    جنوبی کوریا،امریکہ اوراتحادیوں کوکروزمیزائل فائرکرنےکی وجہ توسمجھ آگئی ہوگی:شمالی کوریا

    سیول:شمالی کوریا نےدوکروزمزائل چلاکرجنوبی کوریا اورامریکہ کوسخت پیغام دے دیا ،اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے مغربی ساحل سے سمندر کی طرف دو کروز میزائل فائر کیے ہیں، جب کہ جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی جاری ہے۔ان حالات میں فائر کیا جانا ایک وارننگ ہوسکتی ہے

    اس سلسلے میں جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے ایک ذریعے نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ دونوں پراجیکٹائل کو بدھ کی صبح جنوبی پیونگن صوبے کے مغربی ساحلی شہر اونچون سے لانچ کیے گئے اس میزائل کو فقط ٹیسٹ کرنا ہی مقصود نہیں تھا بلکہ یہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظرجنوبی کوریا،امریکہ ،جاپان،آسٹریلیا ،تائیوان اوردیگرملکوں کے لیے ایک وارننگ تھی ۔ذرائع نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا اور امریکی فوجی حکام میزائل کی پرواز کی تفصیلات کا تجزیہ کر رہے ہیں،

    روس اور شمالی کوریا کے خلاف امریکہ کی تازہ پابندیاں

    کہا جارہا ہےکہ تازہ ترین لانچ جو کہ گزشتہ ماہ کے اوائل سے پیانگ یانگ کا پہلا ہتھیاروں کا تجربہ ہے، جنوبی کوریا اور امریکہ کی جانب سے طویل عرصے سے معطل لائیو فیلڈ ٹریننگ کی تیاری کے لیے چار روزہ ابتدائی مشترکہ مشق شروع کرنے کے ایک دن بعد ہوا جو 22 اگست تا 1 ستمبرجاری رہیں گی

    ان فوجی مشقوں کو الچی فریڈم شیلڈ کا نام دیا گیا ہے، اس میں ہوائی جہاز، جنگی جہاز، ٹینک اور ممکنہ طور پر دسیوں ہزار فوجیوں پر مشتمل فیلڈ مشقیں شامل ہوں گی۔امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان بڑے پیمانے پر مشترکہ فوجی مشقیں چار سالوں میں پہلی بار اگست میں ہوں گی۔

     

    شمالی کوریا کے صدر کورونا سے صحتیاب

     

    پیانگ یانگ نے سیئول اور واشنگٹن پر مشتمل مشترکہ فوجی مشقوں کے خلاف اکثر احتجاج کیا ہے اور انہیں واشنگٹن کے سفارت کاری کے منتر کے باوجود حملے کی مشقیں قرار دیا ہے۔

    تازہ ترین پیشرفت اس وقت بھی سامنے آئی ہے جب جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی شرط پر وسیع پیمانے پر امدادی پیکج کی پیشکش کی ہے، اس تجویز پر پیانگ یانگ کی طرف سے غور کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

    شمالی کوریا نے اس سال ریکارڈ تعداد میں میزائلوں کا تجربہ کیا ہے جب سیئول اور واشنگٹن میں حکام کے دعووں کے درمیان پیانگ یانگ 2017 کے بعد پہلی بار جوہری ہتھیار کا تجربہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    شمالی کوریا میں پہلے کورونا کیس کی تصدیق ، ملک میں نشینل ایمرجنسی نافذ

    یاد رہے کہ شمالی کوریا نے ستمبر 2017 میں اپنا چھٹا جوہری تجربہ کیا تھا۔ تاہم، بعد میں امریکہ کے ساتھ غیر نتیجہ خیز مذاکرات کے دوران، اس نے ایک جوہری تنصیب کو ختم کر دیا اور اس کے بعد سے کوئی دوسرا جوہری تجربہ نہیں کیا۔امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر پیانگ یانگ نے ساتواں جوہری تجربہ کیا تو وہ مزید پابندیاں عائد کرے گا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ پچھلے مہینے شمالی کے رہنما کم جونگ ان نے کہا تھا کہ ان کا ملک امریکہ اور سیئول کے ساتھ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی فوجی تنازع میں اپنے جوہری ڈیٹرنٹ کو "متحرک” کرنے کے لیے تیار ہے۔