Baaghi TV

Tag: شوبز

  • اداکارہ حمیرا اصغر علی کی موت اکتوبر 2024 میں واقع ہوئی،فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر تصدیق

    اداکارہ حمیرا اصغر علی کی موت اکتوبر 2024 میں واقع ہوئی،فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر تصدیق

    حکام نے فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر تصدیق کی ہے کہ اداکارہ اور ماڈل حمیرا اصغر علی کی موت اکتوبر 2024 میں واقع ہوئی تھی۔

    گزشتہ دنوں حمیرا اصغر کی لاش کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایک فلیٹ سے اُس وقت ملی جب پولیس عدالتی حکم پر مکان مالک کی شکایت پر فلیٹ خالی کرانے پہنچی،ڈی آئی جی جنوبی سید اسد رضا کے مطابق، پولیس ٹیم نے جب فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے کوئی جواب نہیں ملا، جس کے بعد دروازہ توڑ کر داخل ہونے پر اداکارہ کی لاش ملی۔

    پوسٹ مارٹم کرنے والی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق، لاش گلنے سڑنے کے انتہائی مرحلے میں داخل ہو چکی تھی اور اس قدر مسخ ہو گئی تھی کہ فوری طور پر موت کی وجہ بیان کرنا ممکن نہیں،لاش کی حالت دیکھ کر بظاہر اندازہ ہوتا ہے کہ موت ایک ماہ قبل واقع ہوئی ہوگی جبکہ پولیس کی جانب سے حمیرا اصغر کے فون ریکارڈز، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور پڑوسیوں سے کی گئی تفتیش میں کوئی ایسا ثبوت نہیں ملا، جس سے ثابت ہو کہ وہ اکتوبر 2024 کے بعد زندہ تھیں۔

    حمیرا کی لاش چھ ماہ پرانی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ

    تفتیش سے معلوم ہوا کہ اداکارہ نے آخری فیس بک پوسٹ 11 ستمبر 2024 کو، جب کہ انسٹاگرام پر آخری پوسٹ 30 ستمبر 2024 کو کی تھی، پولیس اور صحافیوں سے بات کرنے والے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اداکارہ کو ستمبر یا اکتوبر 2024 کے بعد دوبارہ نہیں دیکھا۔

    ڈی آئی جی پولیس سید اسد رضا نے تصدیق کی کہ حمیرا اصغر کا فون آخری بار اکتوبر 2024 میں استعمال ہوا اور آخری کال بھی اسی ماہ کی گئی تھی، کالنگ ریکارڈ کے مطابق آخری کال اکتوبر 2024 میں کی گئی، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں،کیس کی تفتیش کرنے والے دو افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اداکارہ کی موت کا اندازاً وقت اکتوبر 2024 ہے۔

    اسلام آبادپولیس پر حملہ کیس،عمران خان ذاتی حیثیت میں عدالت طلب

    ایک افسر کے مطابق، حمیرا کی لاش تقریباً نو ماہ پرانی ہے، ممکنہ طور پر وہ فلیٹ کا آخری یوٹیلیٹی بل ادا کرنے اور بجلی بند ہونے کے درمیانی عرصے میں وفات پا گئی ہوں، ممکنہ طور پر بل کی عدم ادائیگی کے باعث فلیٹ کی بجلی کاٹی گئی ہواداکارہ نے آخری بار مئی 2024 میں کرایہ ادا کیا تھا اور اکتوبر کے آخر میں کے الیکٹرک نے بجلی منقطع کر دی تھی۔

    دوسرے افسر نے بتایا کہ کچن میں موجود اشیا کی ایکسپائری تاریخ 2024 تھی اور برتنوں پر زنگ بھی واضح تھا،اسی منزل پر صرف ایک اور اپارٹمنٹ تھا جو اس وقت خالی تھا، جس کی وجہ سے لاش کے پتا چلنے میں تاخیر ہوئی،اس منزل کے دوسرے اپارٹمنٹ کے مکین فروری 2025 میں واپس آئے، تب تک بدبو کافی حد تک ختم ہو چکی تھی، عام طور پر دس سے پندرہ دن میں بدبو کم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور فلیٹ کی بالکونی کا دروازہ بھی کھلا ہوا تھا،فلیٹ میں پانی کی پائپ لائنیں خشک اور زنگ آلود تھیں، نہ ہی کوئی متبادل بجلی کا ذریعہ تھا اور نہ ہی گھر میں موم بتیاں موجود تھیں۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید، جنہوں نے منگل کو پوسٹ مارٹم کیا، بدھ کے روز سینئر افسران کے ہمراہ دوبارہ جائے وقوعہ پر گئیں انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے مختلف سطحوں سے نمونے حاصل کیے گئے ہیں جو لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں، تاہم انہوں نے مزید تبصرے سے گریز کیا۔

    دوسری جانب اداکارہ حمیرا اصغر کے بہنوئی نے ان کی میت وصول کرنے کے لیے حکام سے رابطہ کر لیا ہے ان کا کہنا ہے کہ مرحومہ کے والد اچانک انتقا ل کی خبر سن کر ڈپریشن میں چلے گئے تھے، اس لیے انہوں نے ابتدائی طور پر میت لینے سے انکار کیا، تاہم اب وہ رضامند ہو گئے ہیں اور جلد میت وصول کر نے آ رہے ہیں، پولیس نے بہنوئی کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی خونی رشتہ دار کے ہمراہ آئیں، کیونکہ متوفیہ کی لاش صرف خونی رشتہ دار کو ہی دی جائے گی۔

  • اداکارہ حمیرا اصغر کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

    اداکارہ حمیرا اصغر کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی

    کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) فیز سکس کے اتحاد کمرشل ایریا میں واقع ایک فلیٹ سے ملنے والی ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش کا ابتدائی پوسٹ مارٹم جناح ہسپتال میں مکمل کر لیا گیا ہے-

    پولیس کے مطابق 32 سالہ اداکارہ کی لاش اس وقت برآمد ہوئی جب گزری پولیس عدالتی حکم پر فلیٹ خالی کروانے پہنچی ڈی آئی جی جنوبی سید اسد رضا نے بتایا کہ پولیس نے جب دروازہ کھٹکھٹایا تو کوئی جواب نہیں ملا، جس پر دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے اور لاش برآمد کی گئی۔

    ایس ایس پی جنوبی محظور علی کے مطابق اداکارہ مذکورہ فلیٹ میں کرائے پر مقیم تھیں اور تنہا زندگی گزار رہی تھیں،انہوں نے 2024 سے کرایہ دینا بند کر دیا تھا جس پر مالک مکان نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

    پوسٹ مارٹم کرنے والی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق لاش ڈی کمپوز ہونے کے ایڈوانس اسٹیج پر ہے اور اس قدر مسخ ہو چکی ہے کہ فوری طور پر موت کی وجہ بیان کرنا ممکن نہیں، ابتدائی معائنے میں کچھ بھی حتمی کہنا قبل از وقت ہے، تاہم کیمیکل ایگزیمن اور ڈی این اے تجزیے کے لیے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، ان ٹیسٹوں کی رپورٹس کے بعد ہی ڈرگز کے ممکنہ استعمال اور موت کی اصل وجہ سامنے آ سکے گی۔

    اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش وصول کرنے سے گھر والوں کا انکار

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ متوفیہ کے جسم کے بعض اعضا کو محفوظ کر لیا گیا ہے تاکہ فرانزک تجزیہ کیا جا سکے، تاحال یہ واقعہ قتل معلوم نہیں ہوتا تاہم پولیس تمام پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہے۔

    اداکارہ حمیرا اصغر متعدد ڈرامہ سیریلز جیسے ’احسان فراموش‘، ’گرو‘ اور دیگر میں اداکاری کے جوہر دکھا چکی تھیں اور سوشل میڈیا پر بھی کافی متحرک تھیں،حمیرا کا اصل میدان تھیٹر تھا، جہاں وہ 40 سے زائد اسٹیج ڈراموں میںاپنی پرفارمنس دکھا چکی تھیں۔ تھیٹر کے ساتھ ساتھ ساتھ وہ ماڈلنگ اور فلاحی سرگرمیوں میں بھی فعال رہتی تھیں، حمیرا نے نجی ٹی وی چینل کے ریئلٹی شو ”تماشہ“ میں بھی شرکت کی اور انہیں اصل شہرت بھی وہیں سے ملی، جہاں ان کی تند و تیز گفتگو اور جھگڑے سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنے رہے-

    اوورسیز پاکستانیوں نےترسیلات زر وطن بھیجنےکا نیاریکارڈ قائم کر دیا

    پولیس کی جانب سے اہل خانہ سے رابطے کی کوششیں کی گئیں، تاہم انہوں نے لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا، ان کا مؤقف تھا کہ وہ کچھ عرصہ قبل حمیرا اصغر سے تما م تعلقات ختم کر چکے تھے، پولیس واقعے کی مزید تفتیش کے لیے موبائل فون ڈیٹا، سی سی ٹی وی فوٹیج اور قریبی رہائشیوں سے معلومات حاصل کر رہی ہے۔

  • ہتک عزت کیس : معروف ہدایت کار جامی کو دو سال بامشقت قید کی سزا

    ہتک عزت کیس : معروف ہدایت کار جامی کو دو سال بامشقت قید کی سزا

    کراچی کی ایڈیشنل سیشنز کورٹ نے معروف ہدایت کار جمشید محمود رضا المعروف جامی کو ساتھی ہدایت کار سہیل جاوید کو 2019 میں بدنام کرنے کے جرم میں دو سال قید کی سزا سنادی۔

    کراچی کی ایک عدالت نے فلمساز جمشید محمود رضا (جامی) کو ہتک عزت کے مقدمے میں مجرم قرار دیتے ہوئے دو برس قید بامشقت اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے،جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں جامی کو مزید ایک ماہ قید بامشقت بھگتنی ہوگی۔

    جامی کے وکیل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہدایت کار کو سزا کاٹنے کے لیے کراچی سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا ہے،یہ کیس ایک خط سے متعلق ہے جو جامی نے ’لاہوتی میلو ’ میں پڑھا تھا، یہ ایک میلہ تھا جو جامشورو میں منعقد ہوا تھا جس کا موضوع #می ٹو (#MeToo) موومنٹ تھا، اور اس خط کو انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر بھی پوسٹ کیا تھا۔

    یہ خط ایک نامعلوم جنسی ہراسگی کا شکار ہونے والی خاتون کی طرف سے تھا جس میں ایک معروف شخصیت پر جنسی حملے کا الزام لگایا گیا تھا، لیکن اس میں کسی کا نام نہیں لیا گیا تھا، جامی نے اپنے فیس بک پوسٹ میں بھی مبینہ حملہ آور کا نام نہیں لیا تھا، تاہم سہیل جاوید کا کہنا تھا کہ اس پوسٹ کے کمنٹس میں بہت سے لوگوں نے اندازہ لگا لیا کہ یہ اُن کے بارے میں ہے اور جامی نے اس قیاس آرائی کو روکنے یا تردید کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

    اسحاق ڈار سے ترک ہم منصب کی ملاقات

    سہیل جاوید نے کہا کہ خط میں کچھ ’ واضح حوالہ جات’ موجود تھے جیسے کہ’ میوزک ویڈیو اور ٹی وی سی ڈائریکٹر’ کا ذکر، ’ ’وہ حیدرآباد کے ایک فیسٹیول میں پینلسٹ تھے‘ ، ’ انہوں نے اپنے 23 یا 24 سالہ بیٹے سے ملوایا جو اسی شعبے میں کام کرتا تھا’ اور ’ ذاتی کہانیوں کی تفصیل’ وغیرہ جنہوں نے لوگوں کو یہ یقین دلایا کہ الزا م انہی پر ہے، اس سے ان کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

    یہ کیس 2019 میں دائر کیا گیا تھا، اسی سال فروری میں سہیل جاوید نے جامی کو قانونی نوٹس بھیجا جس میں کہا گیا کہ وہ اسی پلیٹ فارم پر ’ بلا مشروط عوامی معافی’ مانگیں جس پر خط شائع کیا گیا تھا۔

    جامی کی قانونی ٹیم نے 9 مارچ کو اس نوٹس کا جواب دیتے ہوئے الزامات کی تردید کی تھی، اسی دن سہیل جاوید نے جامی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر دیا جس میں انہوں نے ان پوسٹس کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ 50 کروڑ روپے ہرجانہ اور 50 کروڑ روپے ذہنی اذیت کے لیے مانگے۔

    پاک فضائیہ کے سربراہ سے ترک وزیر دفاع کی ملاقات

    جامی نے ہتک عزت کے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ یہ خط انہیں لاہوتی میلو کے منتظم نے دیا تھا اور پڑھنے سے پہلے وہ اس کے مواد سے لاعلم تھے۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ جامی نے کہا کہ ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد دیگر صارفین نے شکایت کنندہ کا نام لینا شروع کیا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ نہ تو انہوں نے خود کسی کا نام لیا اور نہ ہی بدنام کرنے کا ارادہ تھا، جب انہوں نے کمنٹس میں اس کا نام دیکھا تو پوسٹ ڈیلیٹ کر دی اور حتیٰ کہ اپنا فیس بک اکاؤنٹ بھی ڈی ایکٹیویٹ کر دیا۔’

    فیصلے میں مزید کہا گیا’ انہوں نے خود کو ایک کارکن اور پروڈیوسر کے طور پر پیش کیا جس کا کوئی بدنیتی پر مبنی ارادہ نہیں تھا اور کہا کہ شکایت کنندہ (سہیل جاوید) نے کسی مرحلے پر اُن افراد کو ’معاف‘ کر دیا تھا جن کے کہنے پر یہ خط پڑھا گیا تھا۔’

    عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ان کے دفاع میں ’ کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے’ اور جامی یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ انہوں نے خط کے مصنف، لاہوتی میلو کے منتظمین سے کوئی رابطہ یا ایسی کوئی معتبر شہادت کیوں نہیں پیش کی کہ وہ مواد سے لاعلم تھے،سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت نہ کر سکے کہ جب انہوں نے غلط شناخت کا ادراک کر لیا تھا تو پھر کیوں دوبارہ پوسٹ کیا اور کمنٹس میں اس طرح جواب دیئے جس سے الزام مزید پختہ ہوا۔

    ارشد شریف قتل کیس،عدالتی فیصلہ،بیوی کی جدوجہد نے سچ کو عدالت تک پہنچایا

    فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ان کا یہ دعویٰ کہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دی گئی تھی، اگر مان بھی لیا جائے تو نقصان ہونے کے بعد کیا گیا اقدام ان کی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتا، خاص طور پر انہوں نے حلف پر اپنا بیان ریکارڈ کرانے یا دفاع میں کوئی شواہد پیش کرنے سے بھی انکار کیا۔’

    جامی کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 500 (ہتک عزت) کے تحت مجرم قرار دیا گیا ہے، اور انہیں دو سال قید اور 10 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

    جامی کی گرفتاری پر جبران ناصر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ جامی اپنے ضمیر کی آواز کی وجہ سے جیل میں ہیں کیوں کہ وہ اپنے اصولوں کے ساتھ کھڑے رہے اور بے آواز لوگوں کی آواز بنےجامی خود بھی ایک متاثرہ شخص ہیں جنھوں نے کئی مشکل سال کاٹنے کے بعد ایک اور متاثرہ شخص کے حق میں آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا اور مقدمات کے باوجود اپنی آزادی اور کریئر کو خطرے میں ڈالتے ہوئے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا۔

    جبران ناصر نے لکھا کہ ’جامی کا موقف تعریف کا ہی نہیں بلکہ حمایت کا بھی حقدار ہے وہ اپنی آسانی کے لیے پیچھے نہیں ہٹے بلکہ انھوں نے ہراسانی کے خلاف لڑائی کے لیے خود کو وقف کر دیا،ہمیں امید ہے کہ وہ جلد ضمانت پر رہا ہوں گے اور ان کو دی جانے والی سزا بھی ختم ہو گی۔

    آصف زرداری پہلے سویلین صدر ہوں گے جو اپنی دو صدارتی مدتیں مکمل کریں گے، شازیہ مری

    فریحہ عزیز نے ایکس پر لکھا کہ ’جامی کو سزا دیے جانے پر خوفزدہ ہوں،یہ ایک ایسا مقدمہ ہے جس میں می ٹو کے دعووں کو بھی سزا ہوئی۔

    جمشید محمود رضا جو عام طور پر جامی کے نام سے جانے جاتے ہیں، معروف پاکستانی فلم ساز، مصنف، اور ہدایت کار ہیں انھوں نے امریکہ کے آرٹ سینٹر کالج آف ڈیزائن، پاساڈینا سے فلم کی تعلیم حاصل کی اور 1998 میں اپنے آبائی شہر کراچی واپس آ کر اپنی آزاد فلم کمپنی قائم کی۔

    جامی نے فیچر فلموں کے علاوہ ٹیلی ویژن اشتہارات اور میوزک ویڈیوز کی ہدایت کاری میں بھی اپنی شناخت بنائی اس کے علاوہ انھوں نے ابھرتے نوجوان فلم سازوں کی رہنمائی اور کراچی اور بلوچستان کے فلمی سکولوں میں پڑھانے کے لیے بھی وقت صرف کیا ہےجامی کے سب سے زیادہ بااثر کاموں میں سے ایک 2015 کی ڈرامہ فلم ’مور‘ ہے، جس کا مطلب پشتو میں ’ماں‘ ہے۔

    ٹک ٹاک اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہ کرنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    جو بلوچستان کے ریلوے نظام کی افسوسناک زوال پذیری کو گہرائی سے بیان کرتی ہے، یہ کہانی ایک ایسے خاندان کے گرد گھومتی ہے جس کی زندگی ایک ریلوے سٹیشن سے اٹوٹ طور پر جڑی ہوئی ہے، جو منظم بدعنوانی اور ایک ٹوٹے ہوئے نظام کے تباہ کن اثرات سے جدوجہد کر رہا ہےاس فلم کو 2015 میں اکیڈمی ایوارڈز کے لیے منتخب کیا گیا اور جامی نے خود لکس اسٹائل ایوارڈز میں ’مور‘ کے لیے بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ حاصل کیا، تاہم 2019 میں انھوں نے ایک معروف میڈیا شخصیت کی نامزدگی پر اعتراض کیا اور اپنا ایوارڈ سڑک پر پھینک دیا۔

  • جاوید اختر ایک بار پھر شدید  تنقید کی زد میں

    جاوید اختر ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں

    بھارتی مصنف اور نغمہ نگار جاوید اختر ایک بار پھر اپنے متنازع بیان کے باعث سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں۔

    ایک تقریب کے دوران دیئے گئے ان کے بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ جنت اور جہنم سے متعلق طنزیہ تبصرہ کرتے نظر آرہے ہیں یہ بیان انہوں نے دو سال قبل ایک تقریب کے دوران دیا تھا جو اب ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے تاہم یہ پہلی مرتبہ نہیں جب ان کا کوئی متنازع بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہو۔

    ویڈیو میں جاوید اختر کہتے ہیں کہ جنت میں میرے پسندیدہ پھل، جیسے کیلا اور امرود نہیں ہیں شاید یہ پھل جہنم میں ہوں، اسی لیے میں جنت جا نے کی کوشش نہیں کرتا، بھارتی مصنف کے اس متنازع بیان پر تقریب میں موجود افراد ہنستے نظر آئے، تاہم سوشل میڈیا پر صارفین نے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے کئی صارفین کا کہنا ہے کہ جاوید اختر نے محض چند لوگوں کو ہنسانے کے لیے اپنی آخرت خراب کرلی ہے۔

    سنی اتحاد کونسل کے 26 ارکان کیخلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی جاوید اختر پاکستان اور مذہب سے متعلق مختلف متنازع بیانات دے چکے ہیں جن پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، ایک پرانے پروگرام میں وہ کہہ چکے ہیں کہ اگر انہیں پاکستان اور جہنم میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو وہ جہنم کو ترجیح دیں گے۔

    پولیو ورکرز کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے ، وزیراعظم

  • کے- پاپ گلوکار شِم جے ہیون انتقال کر گئے

    کے- پاپ گلوکار شِم جے ہیون انتقال کر گئے

    وریا کے مشہور کے- پاپ گلوکار شِم جے ہیون 23 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    رپورٹ کے مطابق معروف گلوکار اور سابق بوائے بینڈ F.ABLE کے رکن شِم جے ہیون، جنہیں مداح "جے ہیون” کے نام سے جانتے تھے، 23 سال کی عمر میں لیوکیمیا (خون کے کینسر) سے لڑتے ہوئے انتقال کر گئے جے ہیون کی بیماری کے بارے میں عوام کو کوئی اطلاع نہیں تھی، کیونکہ انہوں نے اپنی صحت سے متعلق معاملہ نجی رکھا۔

    تاہم ان کی موت کی خبر 29 جون کو ان کے قریبی ذرائع نے سوشل میڈیا پر دی، جس کے بعد سابق ساتھی فنکاروں نے جذباتی پوسٹ کے ذریعے اس خبر کی تصدیق بھی کی،۔ ان کی صحت کے بارے میں معلومات کی عدم موجودگی نے ان کی موت کو مزید چونکا دینے والا بنا دیا ان کی موت پر مداحوں کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔

    تنخواہ میں اضافہ،خواجہ آصف کی تنقید،ایاز صادق نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا

    معیشت میں شفافیت لانے کے لیے ڈیجیٹل ٹرانزیکشن سسٹم ناگزیر ہے : وزیراعظم

    ملک کے مختلف حصوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

  • کونسی مائیں  بہتر انداز میں اپنی اولاد کی پرورش کر سکتی ہیں؟نادیہ جمیل کی ویڈیو وائرل

    کونسی مائیں بہتر انداز میں اپنی اولاد کی پرورش کر سکتی ہیں؟نادیہ جمیل کی ویڈیو وائرل

    پاکستان شوبز کی اداکارہ و سماجی کارکن نادیہ جمیل نے ماؤں کی ذہنی اور جسمانی صحت کو سب سے اہم قرار دے دیا۔

    نادیہ جمیل نے ‘المعارد ویمین سوسائٹی’ کے ایک ایونٹ میں ماں کے کردار سے متعلق بدلتے ہوئے نظریات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ آج کی ماں کو خود کو نظرانداز کرنے کے بجائے اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ وہ ایک متوازن اور مؤثر والدہ ثابت ہو سکے۔

    انہوں نے کہا کہ مختلف نسلوں میں ماں کے تصور میں واضح تبدیلی آئی ہے پہلے ماں کو صرف قربانی دینے والی اور ہر حال میں بچوں کو خود پر مقدم رکھنے والی ہستی تصور کیا جاتا تھا،جن میں سے ایک یہ ہے کہ محبت کا ایک بہت خوبصورت چہرہ قربانی ہے، جیسے ماں خود بھوکی رہ لے لیکن بچوں کو پہلے کھلائے لیکن
    اب یہ شعور بڑھ رہا ہے کہ ایک خوش، صحت مند اور خودمختار ماں ہی بہتر انداز میں اپنی اولاد کی پرورش کر سکتی ہے۔

    نادیہ جمیل نے کہا کہ ‘لیکن آج میں جب ایک 23 سال کے بیٹے کی ماں ہوں اور ساتھ ہی 4 سال کی بیٹی کی بھی ماں ہوں تو میں اپنی چھوٹی بیٹی کی پرورش کے دوران خود میں بہت سی تبدیلیاں لائی ہوں اور اب میں ایک بہت مختلف ماں ہوں کیونکہ اب میں اپنی بھلائی، خیر کے بارے میں سوچتی ہوں۔’

    انہوں نے کہا کہ میری اس تبدیلی کی وجہ یہ ہے کہ میں ہی اگر نفسیاتی طور پر مضبوط نہیں ہوں، صحتمند، خوشحال نہیں ہوں تو میں ایک اچھی ماں بن ہی نہیں سکتی، میرے اچھی ماں بننے کیلئے ضروری ہے کہ میں بے تحاشہ مشکلات کو بے وجہ برداشت نہ کروں کیونکہ یہ مجھے ذہنی طور پر ختم کر دے گا، ہمیں اپنی حدود کا تعین کرنا سکھایا ہی نہیں جاتا کہ کس حد تک ہمیں قربانی دینی ہے اور کس حد کے بعد ہمیں اپنے لیے اسٹینڈ لینا ہے، اگر میرا بیٹا بھی مجھے سے بدتمیزی سے بات کرے تو مجھے اور اسے پتہ ہونا چاہئے کہ کس حد تک بدتمیزی قبول کی جاسکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عورت کو چاہیے کہ وہ صرف ماں ہونے کے کردار تک خود کو محدود نہ کرے بلکہ اپنی ذات، خواہشات، مشاغل اور زندگی کے دیگر پہلوؤں پر بھی توجہ دے یہ سوچ اب اہمیت اختیار کر رہی ہے کہ ماں کا اپنے لیے وقت نکالنا نہ صرف اس کی اپنی صحت کے لیے ضروری ہے بلکہ اس کا مثبت اثر بچوں کی نشوونما اور گھریلو فضا پر بھی پڑتا ہے۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ ایک مضبوط ماں ہی مضبوط نسل کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

    سوشل میڈیا پر نادیہ جمیل یہ ویڈیو گردش کر رہی ہے جس پر صارفین انہیں سراہا رہے ہیں تاہم کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ ماں ایک ایسی ہستی ہے جس کیلئے اولین ترجیح صرف اس کی اولاد ہی رہتی ہے چاہے زمانہ کتنا ہی بدل کیوں نہ جائے۔

  • اداکارہ شیفالی کی اچانک موت،رہائشی سوسائٹی کے گارڈ کا بیان سامنے آ گیا

    اداکارہ شیفالی کی اچانک موت،رہائشی سوسائٹی کے گارڈ کا بیان سامنے آ گیا

    گزشتہ روز بھارتی اداکارہ رئیلیٹی ٹی وی اسٹار اور گانے ‘کانٹا لگا’ میں اپنی ڈانس پرفارمنس سے شہرت حاصل کرنے والی شیفالی جریوالہ 42 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں،اداکارہ شیفالی کی رہائشی سوسائٹی کے سکیورٹی گارڈ شتروگھن نے اس رات سے متعلق کچھ تفصیلات شیئر کیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق شیفالی کو گزشتہ شب اچانک دل کا دورہ پڑا جس کے بعد انہیں فوری اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ نہ جانبر نہ ہوسکیں، شیفالی کی اچانک موت کی خبر نے شوبز انڈسٹری اور ان کے مداحوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

    اداکارہ شیفالی کی رہائشی سوسائٹی کے سکیورٹی گارڈ شتروگھن نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ ’ اداکارہ شیفالی کو رات ساڑھے 10 بجے کے قریب اسپتال لے جایا گیا، اس سےقبل تقریباً 9 بجے ان کے شوہر پیراگ تیاگی موٹر سائیکل پر سوسائٹی میں آئے تھے اور میں نے ہی ان کے لیے سوسائٹی کاگیٹ کھولا تھا۔

    گارڈ کے مطابق اس سے قبل پرسوں شام کے وقت شیفالی اور پیراگ اپنے پالتو کتے کے ساتھ سوسائٹی کے احاطے میں چہل قدمی کررہے تھے،گزشتہ شب شیفالی کو اسپتال لے جانے کے فوراً بعد پولیس کی ٹیمیں اور فارنزک یونٹ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، شیفالی کے گھر کے باہر کل رات سے ہی 2 موبائل فارنزک یونٹ کی گاڑیاں موجود ہیں۔

    گارڈ نے مزید بتایا کہ ’ شیفالی کو اسپتال لے جانے کے بعد ایک شخص سوسائٹی میں موٹر سائیکل پر آیا تھا جو بظاہر ان کا دوست لگ رہا تھا، اس شخص نے ہمیں بتایا کہ شیفالی اب نہیں رہی، جب ہم نے سنا تو ہمیں یقین نہیں آیا کیوں کہ ہم نے میڈم کو پرسوں ہی دیکھا تھا‘۔

    واضح رہے کہ شیفالی جریوالہ 2002 میں ‘کانٹا لگا ‘گانے کی ویڈیو میں پرفارمنس سے راتوں رات شہرت کی بلندی پر پہنچ گئی تھیں، اس کے بعد انہوں نے نچ بلیے اور بگ باس 13 جیسے شوز میں بھی شرکت کی تھی، ایک انٹرویو میں شیفالی جریوالہ نے بتایا تھا کہ ’مجھے 15 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ مرگی کا دورہ پڑا تھا، اس وقت میں اپنی پڑھائی میں اچھی کارکردگی کیلئے بہت زیادہ دباؤ میں تھی۔

  • چاہت خان کی اپنے ذومعنی اور نامناسب گانوں پر انوکھی منطق

    چاہت خان کی اپنے ذومعنی اور نامناسب گانوں پر انوکھی منطق

    سوشل میڈیا پر متنازع شہرت پانے والے گلوکارچاہت فتح علی خان نے اپنی ’’فنکارانہ‘‘ زندگی، گانوں اور خاص طور پر ذومنی اور فحش اشعار کے حوالے سے انوکھی منطق پیش کی۔

    گلوکارچاہت فتح علی خان نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی،پوڈکاسٹ میزبان آصف جٹ نےان سے پوچھا کہ وہ اپنی ویڈیوز میں خواتین کے ساتھ حد سے قریب ہونے کی کوشش کیوں کرتے ہیں، اور یہاں تک کہ ماڈل و میزبان متھیرا بھی یہ کہہ چکی ہیں کہ چاہت جب کسی شو یا تقریب میں آتے ہیں تو ’’کچھ زیادہ ہی بے باک ہوجاتے ہیں-

    جس پر چاہت نے دعویٰ کیا کہ میں بالکل بھی فحش نہیں ہوں،’یہ سب ایکٹنگ ہے۔ میں حقیقت میں کچھ غلط نہیں کر رہا، سب کچھ صرف ویڈیو کا حصہ ہوتا ہے‘‘ یعنی جو کچھ نظر آتا ہے، اس کے پیچھے کوئی بدنیتی نہیں، صرف ’’فنونِ لطیفہ‘‘ کا مظاہرہ ہے۔

    صدی کا طویل ترین سورج گرہن کب ہوگا؟

    جب میزبان نے ان کے مشہور گانے ’’پاؤ پاؤ‘‘ کا ذکر چھیڑا، جسے دہرے معنی رکھنے والے اشعار کی وجہ سے خاصی تنقید کا سامنا رہا، تو چاہت نے ہنستے ہنستے اشعار دہرا دیے پہلے تو انہوں نے کہا کہ ان اشعار میں کچھ بھی غلط نہیں، لیکن جب بحث گہری ہوئی تو بالآخر مان ہی لیا کہ ہاں، مجھے اپنی زبان اور مواد پر تھوڑا دھیان دینا چاہیے۔

    چاہت فتح علی خان کے مطابق ان کے الفاظ کا مقصد صرف تفریح ہوتا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک بڑی تعداد میں بچے، نوجوان اور عام لوگ ان کی ویڈیوز دیکھتے ہیں، تو کیا فن کے نام پر کسی بھی حد کو پار کرنا درست ہے؟چاہت نے سوالوں کا جواب دینے کے بجائے طنز اور مذاق کے ذریعے بات کو ٹالنے کی کوشش کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے گیتوں اور رویے پر اٹھنے والے سوالات اب بھی قائم ہیں کیا واقعی یہ سب صرف ’ایکٹنگ‘ ہے، یا پھر شوبز کے نام پر معیار کو قربان کیا جا رہا ہے؟-

    بیوہ خواتین سماج کی اجتماعی ذمہ داری ہے، وزیراعلیٰ پنجاب

  • سلمان خان خطرناک اور جان لیوا بیماریوں کا شکار

    سلمان خان خطرناک اور جان لیوا بیماریوں کا شکار

    بالی ووڈ کے سلان سلمان خان کا سنگین بیماریوں میں مبتلا ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے باعث وہ شادی نہیں کرر ہے۔

    سلمان خان نے ’’دی گریٹ انڈین کپل شو‘‘ میں اپنی سنگین بیماریوں کا تذکرہ کرکے مداحوں کو حیران و پریشان کردیا سلمان خان نے شو کے دوران انکشاف کیا کہ کئی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں،سلمان خان نے جن بیماریوں کے نام لیے یہ بہت خطرناک اور جان لیوا ہیں-

    شو کے میزبان کپل شرما نے سلمان خان نے ان کی شادی نہ کرنے سے متعلق سوال پوچھا تھا جس پر سلمان خان نے جواب دیا کہ ’’ہم روز ہڈیاں تڑوا رہے ہیں، پسلیاں ٹوٹ چکی ہیں، ٹریجمنل نیورالجیا کے ساتھ کام کررہے ہیں، دماغ میں انیورزم ہے، اس کے باوجود کام کررہے ہیں، اے وی مالفارمیشن بھی ہے، پھر بھی چل رہے ہیں‘‘۔

    واضح رہے کہ ٹریجمنل نیورالجیا ایک دائمی اعصابی بیماری ہے، جسے ’’سوسائیڈ ڈیزیز‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں مریض کے چہرے میں شدید درد کے جھٹکے محسوس ہوتے ہیں جو اسے خودکشی کی طرف مائل کرسکتے ہیں جبکہ برین انیورزم دماغ میں کسی خون کی نالی کے کمزور ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والا ابھار ہوتا ہے، جو کہ عام طور پر خاموشی سے بڑھتا ہے اور جب پھٹتا ہے تو دماغ میں خطرناک حد تک خون بہنے کا باعث بن سکتا ہے جسے ’’ہیمرجک اسٹروک‘‘ کہتے ہیں، اے وی مالفارمیشن ایک نایاب بیماری ہے جس میں دماغ یا ریڑھ کی ہڈی میں شریانیں اور رگیں غیر معمولی انداز میں جڑ کر الجھ جاتی ہیں اس بیماری کے باعث خون کے معمول کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے اور بیہوشی، جھنجھناہٹ کا احساس، سر درد یا دماغی خلل جیسی سنگین طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

  • شادی کے بعد افیئرز کا ذمہ دار  کون مرد  یا عورت؟

    شادی کے بعد افیئرز کا ذمہ دار کون مرد یا عورت؟

    معروف اداکار، مصنف اور ہدایتکار یاسر حسین نے کہا ہے کہ دوسری شادیوں اور شادی کے بعد کے افیئرز کیلئے خواتین زیادہ ذمہ دار ہیں-

    یاسر حسین نے حال ہی میں ایک شو میں شرکت کی، جہاں انہوں نے متعدد سماجی موضوعات پر کھل کر اظہارِ خیال کیاشادیوں، خصوصاً مرد کے چار نکاح کے موضوع پر بات کرتے ہوئے یاسر حسین نے اس خیال سے اختلاف کیا کہ مرد کو چار شادیاں کرنی چاہئیں۔

    انہوں نے کہا کہ میں نے محبت کی شادی کی ہے اور کسی اور عورت کی طرف دیکھنے کا تصور بھی میر ے لیے ممکن نہیں یاسر حسین کے مطابق دو شادیوں یا غیر ازدواجی تعلقات میں مرد سے زیادہ عورت کا کردار اہم ہوتا ہے۔

    یاسر حسین نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کی خواتین ایسے مردوں کو پسند کرتی ہیں جو مالی طور پر مستحکم ہوں اور بچوں کی کفالت کر سکیں، اس کے پاس گاڑی ہو،ایسی صورت میں، اگرچہ انہیں علم ہوتا ہے کہ مرد پہلے سے شادی شدہ ہے، پھر بھی وہ دوسرا نکاح قبول کر لیتی ہیں میں کئی ایسی خواتین کو جانتا ہوں جنہوں نے خود اپنی مرضی سے دوسرے نکاح کا انتخاب کیا اور اکثر ایسی ہی خواتین پہلی بیوی سے طلاق دلوانے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔

    جب انہیں کہا گیا کہ بہت سارے مرد اپنی پہلی شادی چھپاتے ہیں تو اس پر یاسر حسین نے کہا کہ ایسے مردوں کی تعداد بہت کم ہے، ایسے مردوں کی تعداد ایک فیصد ہوگی لیکن زیادہ تر غلطیاں لڑکیوں کی ہوتی ہیں۔

    یاسر حسین کی جانب سے مرد کی دوسری شادی اور غیر ازدواجی تعلقات استوار کرنے میں لڑکیوں کو قصور وار ٹھہرانے پر بعض افراد نے ان سے اختلاف بھی کیا اور انہیں آڑے ہاتھوں بھی لیا۔