Baaghi TV

Tag: شوبز

  • عالیہ بھٹ کا شو میں شرکت کیلئے ہوشربا رقم کے مطالبہ، کپل شرما شو انتظامیہ نے معذرت کر لی

    عالیہ بھٹ کا شو میں شرکت کیلئے ہوشربا رقم کے مطالبہ، کپل شرما شو انتظامیہ نے معذرت کر لی

    ممبئی :بالی ووڈ اداکارہ عالیہ بھٹ کی جانب سے شو میں شرکت کے لیے ہوشربا رقم کے مطالبے پر کپل شرما شو انتظامیہ نے معذر ت کر لی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کپل شرما کے نیٹ فلکس ورژن میں شرکت کیلئے عالیہ بھٹ کی جانب سے طلب کی گئی فیس انہیں اس شو میں شرکت سے محروم کر گئی، نیٹ فلکس عالیہ بھٹ کی فیس کے مطالبات کو پورا نہیں کر سکا، کمپنی ہر قسط کے لیے ایک مخصوص بجٹ مختص کرتی ہے جس سے تجاوز کرنا ممکن نہیں تھا،چنانچہ جب وہ عالیہ بھٹ کی فیس کو ایڈجسٹ نہیں کر سکے، تو انہوں نے شو میں شرکت سے معذرت کرلی۔

    نیٹ فلکس کی جانب سے 2024 کے شوز کا اعلان کیا گیا تھاکپل شرما کے اس شو میں سنیل گروور کےدوبارہ شو کا حصہ بننے اور کپور خاندان کے ساتھ پہلی قسط نے خوب داد سمیٹی، تاہم، ناظرین نے رنبیر کپور، نیتو کپور، اور ردھیما کپورکے ساتھ بالی وڈ اداکارہ عالیہ بھٹ کی غیر موجودگی کو محسوس کیا۔

    اس سے قبل بہت سے فنکاروں نے ایپی سوڈز میں بغیر معاوضہ شرکت کی کیونکہ وہ اپنے پروجیکٹس کی پروموشن کر رہے ہوتے تھےعالیہ بھٹ بھی اس سے قبل اپنے ساتھی اداکاروں کے ساتھ اپنے پروجیکٹس کی تشہیر کے لیے کئی بار ٹیلی ویژن پر ’دی کپل شرما شو‘ میں نظر آ چکی ہیں،ایسا لگتا ہے کہ مشہور شخصیات کو اب ‘دی گریٹ انڈین کپل شو‘ میں آنے کے لیے ایک بھاری رقم کی ادائیگی کی جائے گی-

  • گلوکار عاطف اسلم کا  نیا  نعتیہ کلام ریلیز

    گلوکار عاطف اسلم کا نیا نعتیہ کلام ریلیز

    کراچی: عالمی شہرت یافتہ پاکستانی گلوکار عاطف اسلم نے اپنا نعتیہ کلام ریلیز کردیا۔

    باغی ٹی وی : عاطف اسلم نے نئی نعت ’’میں صدقے یا رسول اللہ ﷺ‘‘ یوٹیوب پر ریلیز کی ہے اور ساتھ ہی لکھا کہ یہ کلام براہ راست میرے دل سے ہے جس کے ہر لفظ کا اپنا منفرد اور طاقتور معنی ہے، مجھے امید ہے کہ آپ سب اس سے جُڑیں گے۔

    اس سے قابل عاطف اسلم نے رمضان المبارک کی آمد پر دلوں کو چُھو لینے والی اپنی آواز میں نیا کلام ’اللّٰہ ہو اللّٰہ‘ جاری کیا تھا جسے خوب پسند کیا گیا تھا،دیں اثناء عاطف اسلم کی پڑھی گئی نعتوں ’تاجدارِ حرم‘ اور ’مصطفیٰ جانِ رحمت پر لاکھوں سلام‘ نے بھی خوب پذیرائی حاصل کی تھی،عاطف اسلم نے اپنی سحر انگیز آواز میں اذان پیش کی تھی جبکہ ان کی آواز میں 99 ناموں ”اسماء الحسنیٰ“، حمد”وہی خدا ہے،کو بھی مداحوں کی جانب سے بے حد پسند کیا گیا تھا۔

    ایک انٹرویو میں اُن کا کہنا تھا کہ نعت اور حمدیہ کلام نہ صرف مداح بلکہ خود ان کے اور ان کے بچوں کیلئے بھی بہت معنی رکھتے ہیں، یہ کلام اُنہیں روحانی سکون پہنچاتے ہیں، عاطف اسلم کی خواہش ہے کہ وہ مکہ میں اذان دینے کا شرف حاصل کریں۔

  • آریان خان کے برازیلی ماڈل کیساتھ  ڈیٹنگ  کے چرچے

    آریان خان کے برازیلی ماڈل کیساتھ ڈیٹنگ کے چرچے

    ممبئی: بالی وڈ کنگ شاہ رخ خان کے صاحبزادے آریان خان برازیلی ماڈل لاریسا بونیسی کو ’ڈیٹ‘ کرنے لگے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آریان خان کو لاریسا بونیسی کے ساتھ متعدد تقریبات میں ایک ساتھ دیکھا گیا ہے،سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ریڈ اٹ‘ پر آریان خان کی برازیلی ماڈل کے ساتھ تصاویر بھی اپلوڈ کی گئی ہیں، لاریسا بونیسی آریان کے کپڑوں کے برانڈ کیلئے ماڈلنگ بھی کررہی ہیں سال 2022 میں آریان نے اپنا برانڈ ’ڈی یاوال‘ لاؤنچ کیا تھا اور 2023 میں فلم میکنگ کی دنیا میں قدم بھی رکھا، دونوں نے سوشل میڈیا پر ناصرف ایک دوسرے بلکہ ایک دوسرے کے خاندان کے افراد کو بھی فالو کر رکھا ہے، آریان خان فلموں میں اداکاری کا شوق نہیں رکھتے اور وہ مستقبل میں ڈائریکشن کے میدان میں جانا چاہتے ہیں۔

  • مس یونیورس آرگنائزیشن کی سعودی ماڈل  سے متعلق رپورٹس کی تردید

    مس یونیورس آرگنائزیشن کی سعودی ماڈل سے متعلق رپورٹس کی تردید

    میکسیکو: مس یونیورس آرگنائزیشن نے سعودی عرب کی ایک ماڈل رومی القحطانی سے متعلق رپورٹس کی تردید کردی ہے-

    باغی ٹی وی : مس یونیورس آرگنائزیشن نے کہا کہ سعودی عرب میں ’مس یونیورس‘ کے لیے انتخاب کا عمل نہیں کیا گیا تھا لیکن وہ ”سخت جانچ پڑتال کے عمل“ سے گزررہے ہیں، اگرچہ سعودی عرب ابھی تک ان ممالک میں شامل نہیں ہے جن کی اس سال مس یونیورس مکمل طور پر شرکت کی تصدیق ہوئی ہے ، لیکن ہم فی الحال ایک ممکنہ امیدوار کو کوالیفائی کرنے اور نمائندگی کے لیے قومی ڈائریکٹر مقرر کرنے سے متعلق سخت جانچ پڑتال کے عمل سے گزر رہے ہیں، سعودی عرب کو اس وقت تک ہمارے باوقار مقابلے میں شرکت کا موقع نہیں ملے گا جب تک کہ یہ حتمی نہیں ہو جاتا اور ہماری منظوری کمیٹی اس کی تصدیق نہیں کر دیتی۔

    آرگنائزر کی جانب سے یہ بیان سعودی ماڈل رومی القحطانی کی جانب سے سوشل میڈیا پر سالانہ مقابلے میں شرکت کے اعلان کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے،انسٹا گرام پر اپنے 10 لاکھ فالوورز کا حوالہ دیتے ہوئے القحطانی کا کہنا تھا کہ مس یونیورس 2024 میں شرکت کرنا اعزاز کی بات ہے،مس یونیورس مقابلے میں سعودی عرب کی یہ پہلی شرکت ہے ۔

    مس یونیورس آرگنائزیشن کے بیان کے بعد سے سوشل میڈیا پر رومی القحطانی کے اعلان کو ہٹایا یا تبدیل نہیں کیا گیا ہےانسٹاگرام بائیو کے مطابق ریاض میں پیدا ہونے والی ماڈل کا مس عرب پیس، مس پلینٹ، مس مڈل ایسٹ سمیت متعدد دیگر ایونٹس میں مملکت کی نمائندگی کرچکی ہیں۔

    واضح رہے کہ رواں سال ’مس یونیورس‘ ایونٹ ستمبر میں میکسیکو میں منعقد کیا جائے گا جس میں عالمی سطح پر100 سے زیادہ شرکاء شامل ہوں گی۔

  • پاپ میوزک کی نمبر ون  پاکستانی گلوکارہ نازیہ حسن

    پاپ میوزک کی نمبر ون پاکستانی گلوکارہ نازیہ حسن

    آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے

    نازیہ حسن

    پاپ میوزک کی نمبر ون پاکستانی گلوکارہ نازیہ حسن 3 اپریل 1965 میں پیدا ہوئیں انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز پاکستان ٹیلی وژن کے مشہور پروگرام سنگ سنگ چلیں سے کیا جس میں ان کے بھائی زوہیب حسن بھی ان کے ساتھ شرکت کرتے تھے،ان دونوں بھائی بہن نے گلوکاری کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی۔

    پاکستان پاپ موسیقی کو روشناس کرانے کا سہرا بھی انہی بھائی بہن کو جاتا ہے عالمی سطح پر نازیہ حسن کو اس وقت شہرت ملی جب انہوں نے بھارتی موسیقار بدو کی موسیقی میں فلم قربانی کا مشہور نغمہ آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے ریکارڈ کروایااس نغمے نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے اور اس پر انہیں بھارت کا مشہور فلم فیئر ایوارڈ بھی عطا ہواوہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی شخصیت تھیں فلم قربانی کے اس نغمے کی مقبولیت کے بعد نازیہ اور زوہیب حسن کا مشہور البم ڈسکو دیوانے ریلیز ہوا، اس کیسٹ نے بھی فرو خت اور مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔

    برڈ فلو کا وائرس انسان میں منتقل ہونے کا دوسر ا کیس سامنے آگیا

    نازیہ حسن اور زوہیب حسن نے پاکستان میں پاپ موسیقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا اور صاف ستھرا انداز اپناتے ہوئے عالمی شہرت حاصل کی، دونوں بہن بھائی نے جب جدید انداز میں ٹیلی وژن اور اسٹیج پر پرفارم کرنے شروع کیا تو ان پر اعتراضات کی بھرمار بھی ہوئی لیکن دونوں سب اعتراضات سے بے نیاز آگے بڑھتے رہے۔

    02 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    نازیہ حسن اور زوہیب حسن کے دیگر مقبول کیسٹوں میں بوم بوم اور ینگ ترنگ کے نام سرفہرست ہیں، 1995ء میں نازیہ حسن کی شادی مرزا اشتیاق بیگ سے ہوئی، ان کے ایک بیٹا بھی ہوا، شادی کے کچھ عرصے کے بعد اطلاع ملی کہ نازیہ حسن کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہیں اس کے بعد ان کے اپنے شوہر اشتیاق بیگ سے اختلافات کی خبریں بھی منظرعام پر آئیں، نازیہ حسن 13 اگست 2000ء کو لندن میں وفات پاگئیں، وہ نارتھ لندن کے مسلم قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔۔!!!

    ’گمراہ کن‘ اشتہارات بند نہ کیے تو سخت کارروائی ہو گی،بھارتی سپریم کورٹ …

  • برصغیر کی خوب صورت اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری

    برصغیر کی خوب صورت اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری

    راہ دیکھا کرے گا صدیوں تک
    چھوڑ جائیں گے یہ جہاں تنہا

    مینا کماری
    31 مارچ 1972: تاریخ وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی خوب صورت اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری یکم اگست 1933 میں بمبئی کے ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوئی ان کے والد کا نام علی بخش اور ماں کا نام اقبال بانو تھا۔ ماں نے اس کا نام ماہ جبین بانو رکھا جبکہ گھر میں اسے منجو کے نام سے پکارا جاتا تھا اور فلمی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد وہ فلمی نام مینا کماری کے نام سے مشھور ہوئی۔ مینا کماری جتنی خوب صورت تھی زندگی میں اسے اتنے ہی دکھ اور غم ملے۔ اس کے پیدا ہوتے ہی اس کے باپ علی بخش نے ایک یتیم خانہ میں چھوڑدیا اس کی وجہ یہ تھی کہ علی بخش کو پہلے دو بیٹیاں تھیں جن کے بعد اسے بیٹے کی شدید خواہش ہوئی لیکن تیسری بیٹی پیدا ہوئی تو اس نے غصے کے طور پر اپنی بیٹی کو یتیم خانہ میں داخل کرا دیا مگر اپنی بیوی کے رونے اور ممتا کی تڑپنے کی وجہ سے کچھ روز بعد بیٹی کو اپنے گھر واپس لے آیا۔ ماہ جبیں نے چار سال کی عمر میں چائلڈ اسٹار کے طور پر اداکاری کا آغاز کیا جس میں اسے بے بی مینا کا نام دیا گیا وہ جب سن بلوغت کو پہنچی تو اسے فلمساز وجے بھٹ نے اپنی فلم ”بچوں کا کھیل“میں مینا کماری کا نام دیا۔ مینا کماری فلمی دنیا ایک عظیم اداکارہ کا مقام حاصل کر لیا وہ ہندستان کی پہلی اداکارہ تھی جس کو فلم بیجوباورا میں بہترین اداکاری کی وجہ سے فلم فیئرایوارڈ دیا گیا۔ جبکہ مجموعی طور پر اس نے چار فلم فیئر ایوارڈز حاصل کیے۔ مینا کماری کی مشہور فلموں میں بیجو باورا، صاحب بیوی غلام، یہودی، دل ایک مندر، پرینتیا، کاجل ، کوہ نور ، دل اپنا اور پریت پرائی ، آرتی، میں چپ رہوں گی اور آزاد شامل ہیں ۔

    مینا کماری نے 1952 میں فلمساز کمال امروہوی سے اس کی دوسری بیوی کی حیثیت سے شادی کی ۔ 1964 میں کمال امروہوی کے درمیان شدید اختلافات کے باعث علیحدگی ہو گئی ۔ مینا کماری کو بچپن سے ہی شاعری سے دلچسپی تھی لیکن زمانے کے دکھ درد کے باعث خود بھی شاعرہ بن گئی اور ناز تخلص اختیار کیا مرزا غالب اس کا پسندیدہ شاعر تھا جبکہ شاعری میں وہ گلزار سے مشاورت کرتی تھی۔ اس کی شاعری اس کی زندگی کے دکھ اور غموں کی تفسیر بن گئی تھی جبکہ غمگین اداکاری ک وجہ سے اسے ملکہ جذبات کے خطاب سے نوازا گیا۔ 31 مارچ 1972 میں تنہائی کے عالم میں اس کی وفات ہوئی کیوں کہ اس کو اولاد نہیں تھی ۔

    مینا کماریناز کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے
    مرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے

    نمی سی آنکھ میں اور ہونٹ بھی بھیگے ہوئے سے ہیں
    یہ بھیگا پن ہی دیکھو مسکراہٹ ہوتی جاتی ہے

    تیرے قدموں کی آہٹ کو یہ دل ہے ڈھونڈتا ہر دم
    ہر اک آواز پر اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہے

    یہ کیسی یاس ہے رونے کی بھی اور مسکرانے کی
    یہ کیسا درد ہے کہ جھنجھناہٹ ہوتی جاتی ہے

    کبھی تو خوبصورت اپنی ہی آنکھوں میں ایسے تھے
    کسی غم خانہ سے گویا محبت ہوتی جاتی ہے

    خود ہی کو تیز ناخونوں سے ہائے نوچتے ہیں اب
    ہمیں اللہ خود سے کیسی الفت ہوتی جاتی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا
    ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا

    ذرے ذرے پہ جڑے ہوں گے کنوارے سجدے
    ایک اک بت کو خدا اس نے بنایا ہوگا

    پیاس جلتے ہوئے کانٹوں کی بجھائی ہوگی
    رستے پانی کو ہتھیلی پہ سجایا ہوگا

    مل گیا ہوگا اگر کوئی سنہری پتھر
    اپنا ٹوٹا ہوا دل یاد تو آیا ہوگا

    خون کے چھینٹے کہیں پوچھ نہ لیں راہوں سے
    کس نے ویرانے کو گل زار بنایا ہوگا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    چاند تنہا ہے آسماں تنہا
    دل ملا ہے کہاں کہاں تنہا

    راہ دیکھا کرے گا صدیوں تک
    چھوڑ جائیں گے یہ جہاں تنہا

  • پاکستانی ہدایت کار اور اداکارہ  انجلین ملک

    پاکستانی ہدایت کار اور اداکارہ انجلین ملک

    کراچی: انجلین ملک ایک پاکستانی ہدایت کار اور اداکارہ ہیں، ملک نے 2006 میں بہترین ہدایت کار اور بہترین اداکارہ کے لیے لکس اسٹائل ایوارڈز جیتا تھا۔

    باغی ٹی وی : انجلین ملک انڈس ویژن پر آنے والے پہلے آنے والے ٹاک شو بلیک اینڈ وائٹ اور متنوع کرداروں کے انتخاب کے لیے بھی مشہور ہیں،ان کا نام 2002 سے اس شعبے میں کام کرنے والے پاکستان کے ٹاپ ڈائریکٹرز میں آتا ہے،وہ اینجلیک فلمز کے بینر تلے کام کرنے والی پروڈیوسر کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں، لندن سے کمپیوٹر امیجنگ اور اینی میشن کی ڈگری لے کر ملک نے 2002 میں فیشن اور شوبز کی دنیا میں قدم رکھا جس کے بعد سے انجلین ملک مسلسل مختلف شعبوں میں محنت کرکے اپنا نام روشن کر رہی ہیں۔

    ایک مشہور ماڈل کے طور پر فیشن ریمپ پر اپنی ہمت دکھانے کے علاوہ، انجلین ملک نے بطور پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور اینکر کے طور پر بھی خود کو ثابت کیا ہے،ملک نے مختلف چینلز پر کئی ٹی وی ڈراموں میں مختلف قسم کے کردار ادا کیے ہیں، ملک ان پراجیکٹس کے بارے میں بہت حساس اور منتخب ہے جو وہ سمت کے لیے اپناتی ہیں بنیادی طور پر ہمارے معاشرے میں جڑے گہرے مسائل پر توجہ مرکوز کرتے ہیں،اس نے ایک ایسی صنعت میں اپنے لیے ایک نام پیدا کیا ہے جس میں زیادہ تر مردوں کا غلبہ ہے جو اس نے ادا کیے ہیں اور ان کے منتخب کردہ مضامین۔

  • پاکستان کی نامور اداکارہ و گلوکارہ  آشا پوسلے

    پاکستان کی نامور اداکارہ و گلوکارہ آشا پوسلے

    آشا پوسلے \رفعت عائشہ

    (گلوکارہ اداکارہ)

    آشا پوسلے کا اصل نام صابرہ بیگم تھا اور وہ 1927ء میں ریاست پٹیالہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ 1946ء میں انہوں نے فلم کملی سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔آشا پوسلے نے ہیروئن کے ساتھ ساتھ کئی فلموں میں ویمپ کا کردار بھی ادا کیا بلکہ اس کردار میں وہ ہیروئن سے زیادہ پسند کی گئیں۔ آشا پوسلے کے والد ماسٹر عنایت علی ناتھ فلمی دنیا سے بطور موسیقار منسلک تھے اور ان کی ایک بہن رانی کرن بطور اداکارہ اور دوسری کوثر پروین بطور گلوکارہ فلمی دنیا سے منسلک رہی تھیں. معروف غزل گائیک اعجاز قیصر سات سال کی عمر میں جب اپنے استاد اختر حسین اکھیاں کے گھر پر رہنے لگے تو ان تینوں بہنوں یعنی رانی کرن۔ آشا پوسلے اور اختر حسین اکھیاں کی شریک حیات کوثر پروین نے ان کی پرورش کی اعجاز قیصر ان تینوں بہنوں کو بہت احترام و عقیدت سے دیکھتے تھے جس کا ذکر ہم اعجاز قیصر صاحب کی سوانح عمری میں تفصیل سے کریں۔

    آشاء پوسلےجو قیام پاکستان سے قبل لاہور میں بننے والی آخری فلم کی بھی ہیروئن تھیں شوکت علی چھینہ کی ایک تحریر میں انہوں نے آشاء پوسلے بارے تفصیلی معلومات لکھیں جن میں سے چند اقتباس پیش خدمت ہیں وہ لکھتے ہیں کہ وہ کہا کرتی تھیں کہ ”میرے جنازے میں پوری فلم انڈسٹری شریک ہواور مجھے پوری شان و شوکت سے قبر میں اتارا جائے تاکہ دُنیا کو پتہ چلے کے شہزادی آشا پوسلے مر گئی ہے“ یہ آخری حسرت تھی ماضی کی معروف اداکارہ اور پاکستان کی پہلی فلم کی ہیروئن آشا پوسلے کی، جو پوری نہ ہوسکی اور اس کی موت پر کوئی بھی فلمی شخصیت اس کے جنازے میں شریک نہ ہوئی۔

    جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا پے کہ آشا پوسلے کا اصل نام صابرہ بیگم تھا مگر وہ ریڈیو پر رفعت عائشہ کے نام سے گاتی رہیں لیکن فلمی دنیا میں آشا پوسلے نام اختیار کیا۔ ان کے والد عنایت علی ناتھ مشہور گرامو فون کمپنی ”ہز ماسٹر وائس“ (H.M.W)میں میوزک ڈائریکٹر تھے۔ بڑی بہن رانی کرن ریڈیو آرٹسٹ اور فلمی اداکارہ تھیں، چھوٹی بہن کوثر پروین نے گلوکاری میں نام پیدا کیا، ان کے بھائی شمشیر علی موسیقار تھے۔

    آشا نے اپنی فنی زندگی کا آغاز چار پانچ برس کی عمر میں دہلی ریڈیو میں بچوں کے پروگرام سے کیا۔جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا توپنجاب کے میلوں ٹھیلوں میں تھیٹرلگانے شروع کر دئیے۔ ا س زمانے میں ان کے تھیٹر بہت مقبول ہوئے، گلوکاری کا فن انہیں ورثے میں ملا تھا۔وہ غزل ، گیت ، ٹَپّے، ٹھمری، دادرا اور بہت سی دوسری اصناف گانے میں مہارت رکھتی تھیں۔ انہیں ایک ہی گیت کو 20مختلف انداز میں گانے میں مہارت حاصل تھی۔وہ اپنے تھیٹر میں ایک حاضرین کوایک ہی گیت سے دو دو گھنٹے تک محظوظ کیا کرتی تھیں۔

    تھیٹر کے علاوہ انہیں ٹی وی کے بھی ابتدائی فنکاروں میں شمار کیا جاتاتھا۔ انہوں نے چند ٹی وی ڈراموں میں اداکاری بھی کی۔اس کے علاوہ ریڈیو اور ٹی وی پر نامور گلوکار طفیل نیازی کی سنگت میں بھی کئی یادگار گیت پیش کئے۔

    1940ءکے لگ بھگ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ دہلی سے لاہور منتقل ہوگئیں۔ آشا پوسلے کا فلمی کیریئر اس وقت شروع ہوا جب وہ اپنے والد کے ساتھ 1942ءمیں ریلیز ہونے والی ہدایت کار بی آر سیٹھی کی فلم ”گوانڈھی“ کی شوٹنگ دیکھنے سٹوڈیوز گئیں۔ اس دوران ہدایت کار برکت مہرہ نے انہیں اپنی فلم ”چمپا“ میں کام کرنے کی آفر کی، جو اس نے فوراً قبول کر لی۔

    اس فلم میں آشا کے علاوہ منورما، مجنوں، شیخ اقبال اور غلام قادر نے کام کیا۔ یہ فلم 1944ءمیں ریلیز ہوئی مگر کامیاب نہ ہوسکی۔ 1946ءمیں ہدائت کار پرکاش بخشی کی فلم ”کملی“ میں پہلی بار ہیروئن آئیں، یہ فلم بھی ناکام رہی ۔اس کے بعد آئی بہار، خاموش نگاہیں،آر سی اور ایک روز جیسی فلموں میں مرکزی اور ثانوی رول کیے۔قیام پاکستان سے قبل لاہور میں بن کر ریلیز ہونے والی فلم ”پرائے بس میں “بطور ہیروئن ان کی آخری فلم تھی۔

    اس طرح انہوں نے قیام پاکستان سے قبل بھی متعدد فلموں میں کام کیا۔ آشا جی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ متحدہ ہندوستان کی لاہور میں بننے والی سب سے آخری فلم ”پرائے بس میں“ اور قیام پاکستان میں بعد لاہور میں بننے والی پاکستانی کی پہلی فلم ”تیری یاد“ کی ہیروئن تھیں۔

    قیام پاکستان کے بعد 1948ء میں پاکستان کی پہلی فلم ”تیری یاد “ریلیز ہوئی ، اس میں بھی یہ ہیروئن تھیں۔ اس فلم کے ہیرو دلیپ کمار کے بھائی ناصر خان تھے۔ یہ فلم لاہور کے پربھات (موجودہ امپائر)سینما میں ریلیز ہوئی اور صرف پانچ ہفتے تک چل سکی۔ پھر ”غلط فہمی “ اور ”بلبل“ میں ہیروئن آئیں،یہ بھی ناکام رہیں۔

    یوں اس کا فلمی کیرئیر شائد ختم ہی ہو جاتا کہ ہدائتکار داؤد چاند نے انہیں اپنی ایک فلم ”سسی“ (1954ء)میں ویمپ کے کردار میں کاسٹ کر لیا ، یہ فلم سپر ہٹ ثابت ہوئی اور گولڈن جوبلی کی۔یوں اس نے بحیثیت ویمپ ایک نئے سفر کا آغاز کیا، اس فلم میں اس کی اداکاری واقعی لاجواب تھی۔

    اس کے بعد 1956ءمیں ہدائتکار نذیر اجمیر ی کی فلم ”قسمت “میں بھی ویمپ کا رول کیا ، یہ بھی کامیاب ہوئی۔ اس میں اس کا ایک رقص نہائت بے مثال تھا۔ اسی سال اس کی ایک اور فلم ”انتظار“ریلیز ہوئی، اس میں بھی اس نے نور جہاں کے مقابل ویمپ کا رول کیااور اپنی اداکاری کے انمٹ نقوش چھوڑے۔ فلم ”انارکلی“ شہنشاہ اکبر کی رانی اور شہزادہ سلیم کی ماں جودھا بائی کے کردار میں بھی انہوں نے لاجواب پرفارمنس دی۔

    وہ اپنے وقت کی بہترین ڈانسر بھی تھیں، ان کا ریکارڈ آج تک کوئی ہیروئن نہیں توڑ سکی۔ہدایت کار لقمان کی فلم ”پتن“ کیلئے انہوں نے پورا گانا صرف دو گھنٹے میں پکچرائز کروا دیا۔ رقص کی تربیت انہوں نے اس وقت کے نامور رقاص استاد عاشق حسین سمراٹ سے حاصل کی تھی۔

    اس کے بعد وہ مزاحیہ ٹریک پر آئیں تو کامیڈین نذر کے ساتھ اس کی جوڑی خوب بنی، اس سلسلے میں ”دلا بھٹی“اس کی یادگار فلم تھی، اس میں اس نے شیخ اقبال کی بیوی اور آصف جاہ کی محبوبہ کا رول کیا تھا۔ آشا پوسلے ایک کامیاب ہیروئن تو نہ بن سکی مگر ویمپ اور مزاحیہ کرداروں میں خوب نام کمایا ۔

    پاکستان میں ویمپ کے کردار کی ابتداءبھی آ شا پوسلے نے ہی کی۔انہوں نے کم و بیش سو سوا سو فلموں میں کام کیا۔اسکی یادگار فلموں میں طوفان، قسمت، آشیانہ، ہم ایک ہیں ،سسی ، پتن، حاتم، شعلہ برکھا، دُلّا بھٹی ،مورنی ،گڈی گڈا،مراد ، سات لاکھ، مکھڑا ، پردیسی، نغمہءدل ،انار کلی اور نوکری کے نام شامل ہیں۔ان کی آخری فلم ”راجو بن گیا جنٹلمین“تھی جو 1996ءمیں ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں انہوں نے 20سال کے عرصہ کے بعد صرف ایک سین کیاتھا جس میں اداکار افضل خان ریمبو کو مشکل میں ڈال کے رکھ دیا۔

    آشا جی نے تمام عمر شادی نہیں کی۔ انہوں نے اپنی بہن کوثر پروین (جو جوانی ہی میں انتقال کر گئی تھیں) کا بیٹا شہزاد اختر گود لیا ہوا تھا۔وہ کہا کرتی تھیں یہ آرٹسٹ لوگوں کا ملک ہی نہیں، یہاں فن کار کی قدر نہیں کی جاتی، اور یہ اس بات کی زندہ مثال تھی کہ اپنی موت سے کچھ عرصہ قبل ماضی کی یہ نامور فنکارہ قیام پاکستان کے موضوع پر بنائے گئے ایک ڈرامے میں درجن بھر فنکاروں کے پیچھے ایک ایکسٹرا کی حیثیت سے چپ چاپ کھڑی نظر آئی تھیں۔

    عمر کے آخری دنوں میں ان کا دماغی توازن بگڑ چکا تھااور وہ کچھ عرصہ سے دل کے عارضہ میں بھی مبتلا رہنے لگی تھیں۔ بالآخر 25مارچ 1998ءکی شام کو اپنے خالق حقیقی سے جاملیں ۔ان کے جنازہ میں کوئی فلمی شخصیت شریک نہ ہوئی اور یوں اس کی آخری حسرت بھی پوری نہ ہوسکی۔ انہیں دوہٹہ قبرستان گڑھی شاہو میں سپرد خاک کیا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بی بی سی اردو سروس

  • پاکستان میں فن اور فنکار کی قدر نہیں، اقبال پٹھانے خان

    پاکستان میں فن اور فنکار کی قدر نہیں، اقبال پٹھانے خان

    اسلام آباد(انٹرویو:محمداویس ) معروف لوک گلوکار پٹھانے خان کے فرزند اقبال پٹھانے خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں فن اور فنکار کی قدر نہیں میرا گلہ ہے کہ جو مقام پٹھانے خان کو ملنا چاہیے تھا نہیں دیا گیاپٹھانے خان نے لوک گلوکاری کے زریعے پاکستان کانام دنیا بھر میں روشن کیامیری عمر گزر گئی لیکن میں آج تک خاں صاحب کے سر تک نہیں پہنچ سکا پٹھانے خان کو 1979 میں صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا، ذوالفقار علی بھٹو نے ان سے مل کر انہیں آفر کی جو چاہتے ہیں بتائیں آپکو دیا جائیگا لیکن انہوں نے سادہ زندگی گزارنے کو ترجیح دی پٹھانے خان محبت کرنیوالےخوش بخت اور خوشحالی انسان تھے انکی معروف کافی”میڈا عشق وی تو میڈایار وی تو” جو انہوں نے گایا ویسا میں آج تک نہیں گا سکا،

    ان خیالات کا اظہار معروف لوک گلوکار اقبال پٹھانے خان نے وفاقی دارالحکومت کے سینئر صحافیوں کے دوری کوٹ ادو پریس کلب کے دوران صحافیوں کیساتھ ایک خصوصی نشست کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا اقبال پٹھانے خان نے کہا کہ خان صاحب کی نوے گھنٹے کی ریکارڈنگ محفوظ ہے اس کو کسی پلیٹ فارم پر جاری کیا جائے تاکہ ان کے مدعا اس کو دیکھ اور سن سکیں مجھے پٹھانے خان کے کلام کو گاتے ہوئے عمر گزر گئی لیکن ان جیسا نہیں گا سکا اسلام آبادنیشنل کونسل آف دی آرٹس لوک ورثہ پنجاب آرٹ کونسل سندھ آرٹ کونسل اور ملک کے مختلف علاقوں میں جاری پرفارم کرچکا ہوں

    اقبال پٹھانے خان نے کہا کہ میرے علاوہ خاندان میں سے کوئی بھی گلوکاری کیطرف نہیں آیا حالانکہ مجھ سے اچھی آواز رکھنے والے میری فیملی میں موجود تھے اقبال پٹھانے خان نے گلہ کیا کہ پٹھانے خانایک بہت بڑا نام تھا جسے اپنے منفرد طرز گلوکاری کیوجہ سے شہرت ملی لیکن بدقسمتی سے انہیں اپنے ملک میں وہ مقام نہیں دیا گیا جو انکا حق تھا پٹھانے خان کا گایا ہوا تمام کلام محفوظ ہے اور وہ ہر پاکستانی کا سرمایہ ہے سوشل میڈیا پر پٹھانے خان کے نام سے لوگ لاکھوں کروڑوں روپے کما رہے ہیں والد کے بعد حکومت کیجانب سے اعزازیہ مقرر کیا گیا تھا جو میری والدہ اورانکی وفات کے بعدبہن کو ملتا رہا بعد میں وہ بند ہو گیا پٹھانے خان نے لوک گلوکاری کے زریعے ملک وقوم کانام دنیا بھر میں روشن کیاجومیرے لئے باعث فخر ہے

  • اجے دیوگن کی فلم”شیطان”نے  ایک ہفتے میں 14 ملین ڈالر کمالئے

    اجے دیوگن کی فلم”شیطان”نے ایک ہفتے میں 14 ملین ڈالر کمالئے

    ممبئی: اجے دیوگن اور آر مادھاون کی ہندی فلم "شیطان ” نےعالمی باکس آفس پر دھوم مچا رکھی ہے

    باغی ٹی وی : فوربز کے مطابق فلم "شیطان” سات دنوں میں دنیا بھر میں 14.2 ملین ڈالر کما چکی ہے، کوئین اور سپر 30 شہرت کے وکاس بہل نے اس فلم کی ہدایت کاری کی جس میں اجے دیوگن، جیوتھیکا اور مادھون نے اہم کردار ادا کیے ہیں-

    بھارتی میڈیا ذرائع کے مطابق ’سنگھم‘ کا مجموعی بزنس 102 کروڑ تھا جبکہ ’شیطان‘ نے ایک ہفتے میں ہی 103 کروڑ کا سنگ میل حاصل کرلیا ہے فلم کی کہانی کبیر (اجے دیوگن) اور اس کی فیملی کے گرد گھومتی ہے جب ان کا تفریحی ویک اینڈ ایک بھیانک خواب کا روپ دھار لیتا ہے نامور اداکار آر مادھاون ایک اجنبی کی صورت میں بطور مہمان ان کے گھر میں داخل ہوتے ہیں اور پھر دہشت اور سنسنی کا ایک ایسا کھیل شروع ہوتا ہے جو ناظرین کو دم بخود کردیتا ہے ’شیطان‘ کے ساتھ نامور اداکارہ جیوتیکا کی ہندی سینما میں بیس برس بعد واپسی ہوئی ہے اس لیے مداحوں میں زیادہ جوش و خروش ہے۔

    فلم شیطان نے ہندوستان میں سات دنوں میں 9 ملین ڈالر کی کمائی کر لی ہے اپنے دوسرے جمعہ کے اختتام تک، فلم دنیا بھر میں 15 ملین ڈالر سے تجاوز کرنے میں کامیاب رہی اس نے 8 مارچ کو سینما گھروں میں ریلیز ہونے پر 9.7 ملین ڈالر کا شاندار عالمی آغاز کیا۔

    معروف امریکی ریپر لِل جون نے اسلام قبول کر لیا

    8 مارچ کو دنیا بھر میں 2.6 ملین ڈالرکی افتتاحی کمائی کے بعد ، شیطان نے دوسرے اور تیسرے دن کی کلیکشن 3.5 ملین ڈالر اور 3.6 ملین ڈالر رہی۔ 2.6 ملین ڈالر میں سے، اکیلے بھارت سے 2 ملین ڈالر جمع ہوئے فلم کا ہندوستان میں پہلے ہفتے کے آخر میں مجموعی کمائی 7.9 ملین رہی شیطان 2024 کی دوسری سب سے زیادہ اوپننگ کرنے والی ہندی فلم ہے اور اسے مادھون کی اب تک کی سب سے زیادہ اوپننگ کرنے والی فلم کا درجہ بھی حاصل ہے-

    راکھی ساونت جلد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہو گی،سابق شوہر عادل درانی

    واضح رہے کہ کالے جادو اور سُپر نیچرل مناظر سے بھر پور فلم شیطان کی دیگر کاسٹ میں جانکی بودی والا اور جیوتیکا ساراونن شامل ہیں، شیطان، گجراتی فلم ’یش‘ کا ری میک ہے-

    سدھو موسے والا کے والدین کے ہاں بیٹے کی پیدائش

    ’شیطان‘ کو وکاس بہل ہدایت کاری دے رہے ہیں جبکہ اسے اجے دیوگن، جیوتی دیش پانڈے، کمار منگت پاٹھک اور ابھیشیک پاٹھک پروڈیوس کریں گے،اس سے قبل اجے دیوگن نے ’شیطان‘ کی پہلی جھلک شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’جب بات اپنے پری وار (فیملی) پر آجائے تب وہ ہر شیطان سے لڑ جائے گا۔