Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • پنجاب میں لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا کا راج، تحریر: شہزاد قریشی

    پنجاب میں لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا کا راج، تحریر: شہزاد قریشی

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی)صوبہ پنجاب میں چف سیکرٹری کی فرائض منصبی سرانجام دینے سے معذرت اور سرکاری محکموں بشمول پولیس و سول انتظامیہ کی لاغر کارکردگی نہ صرف وزیراعلٰی پنجاب بلکہ تحریک انصاف کے بلند وبانگ نعروں کا پول کھول رہے ہیں۔ انتظامیہ کی پرائس کنٹرول میں عدم دلچسپی پولیس کے اعلی افسران کی عوامی مسائل اور کرپشن روکنے اورکرائم کنٹرول میں ناکامی محکمہ مال ، محکمہ زرعت ، محکمہ ورکس اینڈ کنسٹرکشن ، اینٹی کرپشن اور دوسرے لا تعداد محکموں میں اپنے اپنے شعبوں میں مفلوج پن اس امر کا ثبوت ہے کہ معاملات اوپر سے خراب ہیں ۔ محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی بروقت بھرتی میں عدم دلچسپی سے سرکاری سکولوں میں داخل طلباء اساتذہ کا راہ دیکھ رہے ہیں۔ جبکہ صوبے کے چیف سیکرٹری کا یہ واویلا کہ انہیں صوبے سے تبدیل کیا جائے کیونکہ ان کے کاموں میں غیر ضروری مداخلت کی جا رہی ہے اور غیر مناسب سفارشیں کی جاتی ہیں اس بیان سے اور عملی طور پر فیلڈ میں گڈ گورننس کا فقدان ان مافیاز اور قبضہ گروپوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کہ اس وقت حکومت سے بھی طاقتور ہیں۔

    تحریک انصاف قانون کی حکمرانی کی ملک میں جنگ لڑنے کا دعویٰ کررہی جبکہ پنجاب میں مکمل طورپر لینڈ مافیا ، قبضہ مافیا ، جعلی ہائوسنگ سوسائٹیز ، ڈرگ مافیا کا راج ہے ۔ صوبہ پنجاب کی سرکاری مشینری کا غیر فعال ہونا کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے ۔ راولپنڈی ،اسلام آباد جیسے حساس ترین شہروں میں قبضہ مافیا کی طرف سے اسلحہ کی نمائش اور انسانوں کا قتل عام اعلیٰ پولیس افسران اور انتظامیہ کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ پنجاب میں اعلیٰ پولیس افسران کے دفاتر تجارتی مراکز کا روپ دھار چکے ہیں۔ عوام کو قبضہ مافیا ، بڑے بڑے لینڈز مافیا ، ڈاکوؤں اورقانون شکن کرنے والے اعلیٰ پولیس افسران کو کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔

    اگر مقتدر حلقوں نے اعلیٰ عدلیہ نے پنجاب کے اس خوفناک منظر نامے اور اسلام آباد جیسے شہر میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت پر توجہ نہ دی تو ملک جو پہلے ہی دوبارہ دہشت گردی کی لہر اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے وطن عزیز میں بسنے والے شہریوں کا کیا ہو گا؟ پاک فوج کے جوانوں کا افغانستان کے بارڈر پر شہید ہونا ان سول انتظامیہ اور اعلیٰ پولیس کے افسران کو کیوں نظر نہیں آتا ؟

  • سیلاب سے تباہی اورحکمران طبقے کی بے حسی:(تجزیہ شہزاد قریشی)

    سیلاب سے تباہی اورحکمران طبقے کی بے حسی:(تجزیہ شہزاد قریشی)

    ایوان وزیراعلیٰ پر تیتر بٹیر اور ہرن گوشت کے من و سلویٰ کی بارشیں اور کروڑوں روپے کی لگژری گاڑیوں کی مبینہ خریداری ۔ جنوبی پنجاب سمیت سندھ بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں سیلاب زدگان کی بدحالیاں اور عالمی طاقتوں سے امداد کی اپیلیں۔ نگر نگر جلسے جلوسوں میں آزادی اور آزاد بیورو کریسی کی عوامی شکایات اور مسائل سے اظہار تعلقی یہ وہ مناظر ہیں جو قومی افق پر بیک وقت نظر آرہے ہیں اور ان سب حالات و واقعات کا بیک وقت تسلسل سے ظہور پذیر ہوتے رہنا اس طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ارباب اقتدار عوام کو بے وقوف سمجھ رہے ہیں۔ اسلام آباد اورپنجاب کی پولیس اور انتظامیہ کو اپنی سرد جنگ میں الجھا کر شہریوں کو چوروں، ڈکیتوں، لینڈ مافیا، قبضہ مافیا کے سپرد کر دیا گیا اب تو نوبت یہاں تک آپہنچی بڑے بڑے پولیس افسران اور سول انتظامیہ لینڈ مافیہ سے پلاٹ بطور گفٹ لے کر قبضوں اور سرکاری زمین پر قبضوں کی اجازت بھی دے رہی ہے۔

    سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود زرعی زمینوں پر ہائوسنگ سوسائٹیز بنائی جا رہی ہیں۔ پی ڈی ایم اور تحریک انصاف کی حکمرانی کے نیچے یہ غیر قانونی کام دن کی روشنی میں ہور ہے ہیں۔ قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگانے والوں نے قانون کی حکمرانی کی رٹ کو قائم کرنیوالے اعلیٰ پولیس افسران کو اور سول انتظامیہ کے افسران کو کھڈے لائن لگا دیا جبکہ قانون شکنوں کی پشت پناہی کرنیوالوں کو اعلیٰ عہدوں پر بٹھا دیا ہے اور کمال یہ ہے کہ آج کے حکمران تنقید کا نشانہ پاک فوج اور اس سے جبڑے قومی سلامتی کے اداروں کو بنا رہے ہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

    کیا کرپٹ اور بددیانت اعلیٰ پولیس کے افسران اور سول انتظامیہ کے آفیسران کی تعیناتی جن کا برائے راست رابطہ عوام سے رہتا ہے وہ پاک فوج کرتی یا سول حکمران؟ لیکن کیا کہا جائے اور یہ ایک حقیقت ہے جب ملک و قوم کے معاملات کی خبر رکھنے والے حالات و واقعات کا درست تجزیہ نہ کر سکیں تو اچھی بھلی باوقار غیرت مند قوم بھی مصائب و آلام اور آزمائش و ابتلاء کا شکار ہوجاتی ہے۔

    آج کے سیاستدانوں کی تاریخ لکھنے والا کیا تاریخ لکھے گا؟ یاد رکھئے اپنی قوم کو مایوس کرنیوالے ان کے یقین اعتماد اور بھروسے کو توڑنے والے نہ تو کہیں تاریخ کے صفحات میں جگہ پاتے ہیں اور نہ ہی قوم انہیں یاد رکھتی ہے ان کی حیثیت ان لوگوں کی سی ہوتی ہے جنہیں ایک اتفاق ایک حادثہ ایوان اقتدار میں پہنچاتا ہے تو دوسرا اتفاق ایوان اقتدار سے اٹھا کر تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیتا ہے۔

  • عدلیہ،اداروں پر تنقید.حب الوطنی کبھی نہیں ہو سکتی،:تجزیہ، شہزاد قریشی

    عدلیہ،اداروں پر تنقید.حب الوطنی کبھی نہیں ہو سکتی،:تجزیہ، شہزاد قریشی

    عدلیہ،اداروں پر تنقید.حب الوطنی کبھی نہیں ہو سکتی،:تجزیہ، شہزاد قریشی
    تبدیلی آ گئی سے لے کر انقلاب آرہا ہے تک قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگانے والے عمران خان کو کون سمجھائے تبدیلی قربانی مانگتی ہے اور سیاست میں ہمیشہ قربانی عوام نے دی ہے ۔ بلاشبہ اس وقت عمران خان نوجوانوں میں مقبول ہیں بہت ہی بڑے بڑے جلسے کر رہے ہیں اور عمران خان اپنے آپ کو سقراط پیش کرنے کی ناکام کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنے آ پکو عصر حاضر کا سقراط سمجھنے والے جانتے ہیں کہ سقراط نے مشروب اجل کیوں پیا تھا؟ وہ بے گناہ تھا مگر مشروب اجل کو منہ سے لگا لینے کا مقصد اس وقت کے عدالتی فیصلے کو قبول اور سرخم تسلیم کرنے کا مقصد ایک ادارے کی عزت اور وقار کو برقرار رکھنا تھا۔ مگر ہمارے آج کے سقراط جلسوں، چوراہوں، گلی محلوں میں اپنے اداروں پر کھلے عام تنقید کرتے ہیں۔ وہ پاک فوج ہو، عدلیہ ہو یا پھر صحافی، صحافیوں کو بھرے جلسے میں لفافہ صحافی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

    کیا اسے قومی فریضہ کہا جاتا ہے ؟ کسی محب وطن پاکستانی کو میر جعفر اور میر صادق کے نام سے جلسوں میں پکارا جاتا ہے نوجوان نسل کے ذہنوں میں کیا بھرا جا رہا ہے؟ نوجوان نسل کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں کیا یہ نوجوان نسل کی تربیت ہو رہی ہے؟ہم ایک ایٹمی ملک بھی ہیں اور بہادر قوم بھی اور ہماری فوجی طاقت ملک کے دفاع اور قوم کے دفاع سب کچھ لٹا سکتی ہے کیا ہماری فوج یا بہادر قوم کسی میرجعفر یا میر صادق کو برداشت کر سکتی ہے؟ جو اس ملک و قوم کے لئے خطرہ ہو ہیں ایسا ہرگز نہیں۔

    ملک میں انقلاب کے دلفریب نعرے لگائے جا رہے ہیں کیا انقلاب کی حقیقت جانتے ہیں انقلاب کا راستہ پھولوں کی سیج نہیں ہوتا۔ ہر چند کے موجودہ پی ڈی ایم کی حکومت بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی لیکن ہرگز ہرگز اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ میر جعفر یا میر صادق ہیں یا انہیں ملکی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا جائے۔ سیاستدان ایک دوسرے کو غدار، میر جعفر میر صادق، دہشت گرد، ملک کے لئے اگر ایک دوسرے کو خطرہ قرار دیتے رہے تو پھر اس ملک کی عوام اور جمہوریت کا کیا ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس بہت زیادہ وسائل ہیں ہم اگر مقروض اور بدحال ہیں تو ہماری بدحالی بدانتظامی کی وجہ سے ہے ۔ اگر سیاستدانوں نے اپنی پالیسیاں نہ بدلیں پھر ہمیں بدل دیا جائے گا ابھی بھی وقت اس وطن عزیز کی اور قوم کی خاطر جمہوریت کو مستحکم کرنے کی خاطر ملک کو قرضوں کی دلدل سے نکالنے کی خاطر، ملک کو ترقی یافتہ بنانے کی خاطر اپنے آپ کو بدل لیں ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔

    ارد گرد ممالک کی پالیسیاں بدل رہی ہیں ہم ایک دوسرے کو غدار سکیورٹی رسک اور دہشت گرد قرار دے کر کون سا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں؟

  • طاقت کا سرچشمہ عوام،سیلابی ریلے میں بہہ رہا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

    طاقت کا سرچشمہ عوام،سیلابی ریلے میں بہہ رہا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

    کہا جاتا ہےکہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ۔نام نہاد ساستدانوں کا نعرہ سالوں سے سنا جا رہا ہے ۔صوبوں میں سیلابی ریلے میں طاقت کا چشمہ بہہ رہا ہے ۔ بعض مقامات پر لاشیں بہہ رہی ہیں۔ لوگ بے گھر ہوگئے ہیں ۔نہ کھیت نہ گھر ،نہ مال مویشی ،جان لیوا بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ دوسر طرف اسلام آباد میں سیاستدانوں کا جنگی ماحول جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اختیارات، مفادات، اقتدار کی جنگ ہوس زر اور ہوس اقتدار نے انہیں دیوانہ بنا دیا۔ جس ملک کے ماہرین اقتصادیات کے مطابق معیشت آخری سانس لے رہی ہو کیا وہاں کے حکمران اور اپوزیشن ایک دوسرے کیخلاف مقدمات درج کروا کر وکٹری کا نشان بناتے ہیں؟

     

    چہرے بدلے باقی کچھ نہیں بدلا، تجزیہ : شہزاد قریشی

    پنجاب اور مرکز میں جو کھیل جاری ہے کیا اس کا فائدہ ملک و قوم کو ہو رہا ہے ؟ ہر طرف اخلاقی تباہی دیکھ کر ڈر لگتا ہے کہ یہ قوم کہیں کسی سیلاب میں بالکل بہہ نہ جائے ؟ 75 سالوں میںپاکستان کو جس بھنور میں پھنسا دیا ہے اس کا تصور کرنا بھی محال ہو گیا ہے۔ عصر حاضر کے وطن عزیز کے حالات و واقعات نے روشن مستقبل کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے۔ صوبوں میں سیلاب زدگان کی آہ وبکا نے زندہ دلوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جو کل تک اپنے گھروں میں تھے وہ کھلے آسمان تلے پڑے ہیں بلوچستان کو تو سیلابی ریلے نے اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔ قیامت کی اس گھڑی کو اس قدر قریب سے دیکھنے کے باوجود کوئی سبق حاصل نہ کرے تو کیا کہا جائے؟

    جشن آزادی پر عہد کریں…تجزیہ: شہزاد قریشی

    یہ ملک کسی سیاستدان، کسی جاگیردار، کسی وڈیرے، کسی سرمایہ دار، کسی جرنیل، کسی بیورو کریٹ کی جاگیر نہیں یہ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے۔ عوام کے بنیادی حقوق کا خیال کون کرے گا؟ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کون کرے گا؟

    اخلاقیات کو مسخ کرنا آزادی صحافت نہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    حکومت میں شامل جماعتیں ہوں یا اپوزیشن ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں 75 سالوں کے بعد بھی ہم بالغ نظر، باصلاحیت اور معاملہ فہم قیادت سے شاید محروم ہیں۔ مشکل حالات میں اختلافات کو اجاگر کرنے کے بجائے بالغ نظری کا مظاہرہ کریں ملک و قوم کو مشکلات سے نکالنے کے لئے مل بیٹھیں اور عالمی دنیا کو تاثر نہ دیں کہ پاکستان میں قیادت کا فقدان ہے۔ ہوس اقتدار، ہوس زر، ہوس اختیارات، ہوس مفادات سے باہر نکل کر ملک و قوم کے مفاد میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایک دوسرے پر غداری کے فتوے نہ لگائیں اس ملک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں وزرات عظمیٰ پر بیٹھنے والوں پر کیا گزری اور کیا گزر رہی ہے سبق حاصل کریں ورنہ تاریخ بار بار دہرائی جاتی رہے گی۔

  • چہرے بدلے باقی کچھ نہیں بدلا، تجزیہ : شہزاد قریشی

    چہرے بدلے باقی کچھ نہیں بدلا، تجزیہ : شہزاد قریشی

    رواں سال ملک میں جمہوریت کے لئے فیصلہ کن سال ہے اب یہ جمہوریت کے دعویداروں پر ہے کہ وہ کس طرح جمہوریت کی کشتی جو اس وقت ہچکولے کھا رہی ہے اس کو بچا پائیں گے یا پھر خود اس کشتی کو ڈبو دیں گے یہ جانتے ہوئے کہ ملک غیر جمہوری صدموں سے دوچار رہا ہے اس کے باوجود آج ایک بار پھر جمہوریت اور جمہوری ادارے ایک پھر سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔

    جمہوری عمل کا فقدان ہماری تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہےملک کی تمام سیاسی جماعتیں اور سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے سوال ہے کہ ہر بار جمہوریت ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے کیوں؟ آج تک جمہوری عمارت مکمل نہیں ہوسکی ا س پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

    ہر نئے آنے والے نے عوامی حاکمیت کا نعرہ لگایا کسی نے عوام کی دہلیز پر انصاف پہنچانے کا دعویٰ کیا کوئی کشکول توڑنے کی بات کرتا رہا۔ کوئی قانون کی حکمرانی کا نعرہ لگاتا رہا۔ کوئی اسلامی نفاذ کا نعرہ لگاتا رہا۔ کوئی غربت مٹائو کا نام دیتا رہا۔ کوئی روٹی کپڑا مکان کا خواب دکھاتا رہا لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلتی رہی اقتدار حاصل کرنے کے بعد ان کے لب و لہجہ تبدیل ہوتے رہے۔ دعوئوں اور وعدوں کی جگہ مجبور یوں، تکبر اور غرور کی حدوں کو عبور کرتے رہے۔

    آج کا منظر نامہ بھی پرانی سیاسی تاریخ کے منظر نامے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ عوام کی اکثریت آج بھی مستحکم جمہوری نظام کی تلاش میں ہیں۔ عمران خان کی حکومت کے بعد پی ڈی ایم کی حکومت کا نعرہ غربت مکائو کا نعرہ چند مہینوں میں ہی بے نقاب ہو گیا تمام خواب قوم کی پلکوں سے پھسل کر زمین پر آگرے یوں محسوس ہوتا ہے چہرے بدلے ہیں کچھ نہیں بدلا۔

    عمران خان کے جانے کے بعد بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ غربت، بیروزگاری، مہنگائی، بھوک افلاس عوام کی حالت پہلے سے بھی بدتر کر دی ہے۔ عمران حکومت اگر عوام کو لولی پاپ دیتی رہی تو یہ پی ڈی ایم کی حکومت اپنی ناکام پالیسیوں کا سارا ملبہ پچھلی حکومت پر ڈال رہی ہے۔ تاہم عوام کی تقدیر اور نصیب کے دامن کسی فقیر کے کاسہ گدائی کی طرح خالی کے خالی ہی رہے۔

    پوری قوم بند گلی میں کھڑی ہےاسےراستہ نہیں مل رہامسلم لیگ (ن) کی موجودہ لیڈر شپ ہو یا پیپلزپارٹی کی پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی۔ ملک اور قوم کے مسائل سے نکالنا ان کے بس کی بات نہیں مسلم لیگ (ن) کے قائدنوازشریف اس ملک کے تین بار وزیراعظم رہ چکے جو محمد شہبازشریف کے پاس وہ تجربہ نہیں جو نوازشریف کے پاس ہےنوازشریف ستمبر میں وطن واپسی کی خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔

  • اخلاقیات کو مسخ کرنا آزادی صحافت نہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    اخلاقیات کو مسخ کرنا آزادی صحافت نہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    آزادی صحافت کا مطلب ذمہ داری صحافت ہے صحافت کو ملی و قومی اقدار کا پابند بنانا اور اس پر سختی سے کاربند رہنا صحافیانہ ذمہ داری کا اولین تقاضا ہے۔ قومی تقاضوں کا سودا کرنا اور تاریخ کو مسخ کر کے پیش کرنا اور اپنے صفحات اور اسکرین پر اخلاقیات کا جنازہ نکال دینا کسی طور بھی آزادی صحافت کے زمرے میں نہیں آتا۔

    بدقسمتی سے صحافیوں نے قومی فریضہ کو پس پشت ڈال کر سیاسی جماعتوں کے بیانیے پر چلنا شروع کر دیا ہے صحافی گروپوں میں تقسیم ہو چکے ہیں ملک اور قوم کے مسائل کو پس پشت ڈال کر قصیدے لکھنا اور بولنا شروع کر دیا جس کا نقصان ملک و قوم کو ہوتا ہے۔ جو کچھ آج ہو رہا یا ماضی میں ہوتا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

    اس وقت قوم جن اداروں پر فخر کرتی ہے وہ عدلیہ، پاک فوج اور میڈیا ہے جانبداری میڈیا کے لئے زہر قاتل ہے میڈیا کا کوئی ادارہ ہو یا کوئی فرد جب وہ جانبدار بن گیا تو وہ ختم ہو جاتا ہے یعنی میڈیا نے اپنی حیثیت اور وقار کو خود ہی ختم کر دیا۔ قارئین اور سامعین نہ تو کسی کی تنخواہ دیکھتے ہیں نہ کسی کا عہدہ و الفاظ دیکھتے ہیں اور انہی الفاظ سے اس کی قدر و قیمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔

    آج صحافی گروپوں میں تقسیم ہو کر اپنا نقصان کر رہے ہیں۔ وہ میڈیا اور صحافی جو ماضی میں قیادت کے فرائض انجام دیتے تھے قومی مسائل اور تحریکوں میں قائدانہ کردار اداکرتے تھے آج گروپوں میں تقسیم ہو کر سیاسی جماعتوں اور سیاسی جماعتوں کےقائدین کے فلسفوں پر چل کر اپنا وقار اور عزت دائو پر لگا رہے ہیں۔

    میڈیا بدنام ہو رہا ہے کہ میڈیا یکطرفہ ہو گیا ہےبعض صحافیوں نے تو کسی ایک سیاسی جماعت کی حمایت میں اندھا دھند کام شروع کیا ہے۔ ہمیں اس ملک کو سیاسی انتشار اور بحرانوں سے بچانے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ قومی معاملات اور ریاستی مفادات کو سامنےرکھ کر لکھنا اور بولنا ہوگا۔

    ملک کا سیاسی مستقبل اور ملک کا مستقبل قانون کی حکمرانی سے جڑا ہے۔ ملکی سیاسی جماعتیں آئین اور قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی منصفانہ و شفاف انتخابات کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں۔ سیاسی جماعتیں انتقامی راستوں کا انتخاب کرنا چھوڑ دیں سیاست میں تشدد ہلاکو خان اور چنگیز خان کا مذہب ہے۔

    اقتدار اور عوامی حمایت یہ سب کچھ عارضی ہوتا ہے جو کسی کے پاس مستقل نہیں رہتا۔ شداد کی جنت نہ رہی ، فرعون کی خدائی نہ رہی الغرض کئی حکمران جو فلک بوس محلوں میں رہتے تھے زمین بوس ہو گئے۔

  • عمران خان کا مقابلہ نواز شریف ہی کر سکتا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

    عمران خان کا مقابلہ نواز شریف ہی کر سکتا ہے:تجزیہ:۔ شہزاد قریشی

    موجودہ حالات میں فہم و فراست اور سوجھ بوجھ کا مظاہرہ ہی ملک میں جمہوریت کو دوام اور جمہوری اداروں کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ باقی تمام راستے غلط ہیں۔ جمہوریت میں سیاسی رونقیں ہونی چاہئیں بلکہ عروج پر ہونا چاہئے۔ بلاشبہ عمران خان کی تحریک انصاف حقیقت ہے افسانہ نہیں لیکن آصف علی زرداری کی قیادت میں اس جماعت کو دیوار سے لگانے کی جو کوشش کی جا رہی ہے اور جن راستوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے کیا وہ راستہ جمہوری ہے؟ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو بھٹو کو ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے پھانسی لگا دی گئی تھی کیا تادم تحریر آج کی پیپلزپارٹی بھٹو کے نام سے ووٹ حاصل نہیں کر رہی؟ کیا بھٹو کی جماعت کو کوئی طاقت ختم کر سکی؟

    مشکل وقت،جذبے سے کام لینا ہو گا،تجزیہ : شہزاد قریشی

    بلاشبہ عمران خان بھٹو نہیں لیکن ملک میں اس وقت تحریک انصاف کو مقبولیت حاصل ہے بالخصوص نوجوان طبقہ عمران خان کو اپنا ہیرو سمجھتا ہے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں جن میں شہباز شریف سمیت مولانا فضل الرحمٰن، آصف علی زرداری، عوام میں کتنے مقبول ہیں؟ مسلم لیگ (ن) میں آج بھی نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز مقبول ترین ہیں آج بھی اگر نوازشریف پنجاب میں خود موجود ہوں تو وہ عمران کا سیاسی اور جمہوری طریقے سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ نوازشریف کی مقبولیت کا اندازہ 1990ء سے لے کر 1993ء تک بخوبی لگایا جا سکتا ہے نوازشریف کی کامیاب سیاسی حکمت عملی نے پنجاب میں کسی دوسری جماعت کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔

    عمران خان کے بیانیہ پر ن لیگ کیسے حاوی ہو سکتی؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    پیپلزپارٹی کے سنجیدہ اور بھٹو کے قریبی دوستوں کو یاد ہوگا پیپلزپارٹی کے وجود کو ختم کرنے کے لئے ایم کیو ایم معرض وجود میں آئی کیا صوبہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے وجود کو ختم کیا گیا؟ اس لئے آصف علی زرداری کو تاریخ سے سبق حاصل کرنا ہوگا ۔ان دنوں ملکی سیاست میں پردے کے پیچھے بہت کچھ جاری ہے چلئے عمران خان کو مائنس کر دیا گیا، وہ نااہل ہو گیا لیکن کیا نوازشریف کو نااہل اور سزا دے کر ان کی جماعت کو ختم کر دیا گیا نوازشریف آج بھی عوام میں مقبول ہیں۔ کیا مریم نواز کو سزا دی گئی کیا مریم نواز کی مقبولیت ختم ہو گئی۔

    سیاسی انتشار کی وجہ قیادت کا فقدان، تجزیہ: شہزاد قریشی

    بھٹو کا نام ختم ہو گیا کیا محترمہ بے نظیر بھٹو آج بھی عوام کے دلوں اور دماغ میں زندہ نہیں؟ اسی طرح عمران کا سیاسی مقابلہ کرنے کے بجائے جن راستوں کاانتخاب پی ڈی ایم کر رہی ہے اس سے عمران خان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ جس طرح بھٹو اوران کی بیٹی موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کا استقبال کیا بہت کم سیاستدان ہیں جو اس طرح کے بہادر ہیں۔ عمران خان بھی معلو م نہیں کتنا بہادر ہے تاہم ان کا سیاسی مقابلہ نوازشریف ہی کر سکتا ہے ۔ وطن عزیز میں سیاستدانوں کا رویہ سیاست کو مقتل گاہ کی طرف لے کر جا رہا ہے ۔

  • دوسروں کو چور کہنے والا خود کتنا بڑا چور نکلا۔ اسحاق ڈار

    دوسروں کو چور کہنے والا خود کتنا بڑا چور نکلا۔ اسحاق ڈار

    دوسروں کو چور کہنے والا خود کتنا بڑا چور نکلا۔ اسحاق ڈار

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی) الیکشن کمیشن کے فیصلے نے ثابت کردیا کہ عمران خان جو قانون کی حکمرانی کا دعویدار تھا خود قانون شکن نکلا عمران کی جھوٹی سیاست کا سورج غروب ہونے والا ہے ۔ اس نے ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے پاکستان اورعوام کو نقصان پہنچا عوام کو گمراہ کیا مدینہ کی ریاست کے دعویدار کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی ۔ ان خیالات کا اظہار سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں انتشار کی سیاست کو فروغ دیا تحریک انصاف افواہ ساز فیکٹری کا روپ دھار چکی ہے اس افوا ساز فیکٹری کو اب الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد تالا لگنے والا ہے ۔ یہ سیاسی جماعت نہیں ایک افواہ ساز تھی جو دوسروں کے خلاف جھوٹی افواہیں پھیلانے کا فریضہ سرانجام دے رہی تھی۔

    سینیٹر اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ عمران خود تسلیم کرلیں کہ وہ صادق اور امین نہیں تھے اور نہیں ہیں۔ ملکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج اگر ملکی معیشت لڑکھڑا رہی ہے تو اس تباہی میں بھی عمران خان کا ہی ہاتھ ہے ۔ نواز شریف کے دور حکومت میں ملک ترقی کررہا تھا ملکی معیشت مستحکم تھی ۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا رُخ پاکستان کی طرف تھا ملک سے غربت ، بے روزگاری کا خاتمہ کیا جا رہا تھا عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونے جا رہا تھا ۔ عمران خان کا دور حکومت پاکستان کی تاریخ میں بدترین دور اقتدار یاد کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ 22 کروڑ عوام اور پاکستان کے مستقبل سے نہیں کھیلنے دیا جائے ۔ قانون حرکت میں آئے گا ۔ عمران خان اور اس میں ملوث کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچایاجائے گا۔الیکشن کمیشن کا فیصلہ اس بات کی گواہی ہے کہ دوسروں کو چور کہنے والا خود کتنا بڑا چور نکلا۔

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

  • قومی سلامتی کے اداروں پر ذمّہ داری بڑھ گئی: تجزیہ:-شہزاد قریشی

    قومی سلامتی کے اداروں پر ذمّہ داری بڑھ گئی: تجزیہ:-شہزاد قریشی

    ملکی معیشت اور سیاست کے افق پر غیر یقینی کے بادل گہرے ہو گئے ۔ جاری سیاسی رسہ کشی اور اقتدار کی جنگ نے ایک خطرناک نہج اختیار کرلی۔ جس پر قومی سلامتی کے اداروں پر بہت بڑی ذمہ داری آن پڑی ہے۔ سیاسی کشمکش کے زہریلے اثرات نہ صرف معیشت بلکہ مقتدر حلقوں کی صفوں میں سرایت کرتے جا رہے ہیں۔

    وقت آن پڑا ہے کہ مقتدر حلقے اور سیاسی زعماء سرجوڑ کر بیٹھیں۔ ماضی کی غلطیوں، غلط فیصلوں، کوتاہیوں کو خلوص دل سے تسلیم کر کے اور کروا کے مستقبل میں اپنی حدود اور قیود کا نئے سرے سے تعین کریں اور فیصلہ کریں ملک میں معاشی استحکام ہو۔ ذاتی پسند ناپسند اپنی مرضی کے ججوں، جرنیلوں، دوسرے اہم اداروں میں تعیناتیوں کی دوڑ میں ہم آج اس مقام پر کھڑے ہیں۔ اگر اس وقت بھی اقتدار اور اقرباء کی حوس کو لگام نہ ڈالی گئی اور جج میرا جنرل میرا وزیراعظم میرا وزیراعلیٰ میرا چیئرمین۔ میرا میم ڈی میرا وزیر خارجہ میرا وروزیر خزانہ کی رٹ جاری رہی تو ملک اور عوام کو اس کا مزید نقصان ہو سکتا ہے۔

    اس وقت ایک اخلاص محبت الوطنی اور سچائی کے جذبے کی ضرورت ہے جو ذاتیات سے بلند ہو کر اعلیٰ ذہانت اور بے لوث قیادت کے ساتھ وطن عزیز کو سیاسی و معاشی منجدھار سے نکالے اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں ملکی سیاسی گلیاروں میں افواہ پھیلانا روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ ملکی قومی سلامتی کے اداروں کو اپنی اصلاح کرنے کا پیغام دینا ہرذی شعور پاکستانی کا حق ہے مگر تواتر کے ساتھ پاک فوج اور ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید ملک کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

    ملکی حالات کے پیش نظر سیاستدانوں کو قومی سلامتی کے اداروں پر الزام تراشی سے گریز کرنا چاہئے۔ عراق، لیبیا، شام، افغانستان ، آج اگر کھنڈرات کی شکل اختیار کر چکے ہیں ان ممالک میں قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنایا گیا عالمی طاقتوں نے کمزور قومی سلامتی کے اداروں کو دیکھ کر ان ممالک کا حشر نشر کر دیا آج یہ ممالک عبرت کا نشان ہیں ان ممالک کو دیکھ کر ہمارے سیاستدانوں کو اقتدار کی حوس میں اپنے قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ ہم اپنے جن قومی سلامتی کے اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اگر کسی باہوش بھارتی سے پوچھیں تو وہ ڈرتا بھی انہی اداروں سے ہے۔

  • ن لیگ ووٹ کو عزت دو بیانیہ سے محروم،  تجزیہ : شہزاد قریشی

    ن لیگ ووٹ کو عزت دو بیانیہ سے محروم، تجزیہ : شہزاد قریشی

    ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی اور پی ڈی ایم جماعتوں اور بالخصوص مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں شکست نواز شریف کے بیانیے ووٹ کو عزت دو سے انحراف نے عوامی پذیرائی سے محروم کردیا ۔ ٕ

    جب تک ووٹ کو عزت دو کا پرچار کیا جارہا تھا عوام کی اکثریت نواز شریف اور بعد میں مریم نواز کے جلسوں میں دیوانہ وار شرکت کررہے تھے۔ جس تحریک کا آغاز نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو شروع کیا تھا اس طرح کی تحریکیں ٹھنڈی نہیں ہوا کرتیں لیکن ڈیل اور ڈھیل کی سیاست نے نواز شریف کی سیاست کو اور جماعت کو شدید نقصان پہنچایا پھر پاکستان مسلم لیگ(ن) کی پاکستان میں موجودہ قیادت نے (ن) لیگی کارکنوں اور عہدیداروں کو نظر انداز کیا وہ ایک الگ کہانی ہے ۔

    نواز شریف کی ہمدردی میں جو لہر اُبھری تھی اس لہر کوبھی دوبارہ اُبھارنے کے لئے نواز شریف کی ضرورت ہے ۔ ملک میں موجود مسلم لیگ (ن) کی قیادت اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں(ن) لیگ کی پنجاب میں شکست کے برابر شریک ہیں۔ میاں محمد شہباز شریف اور ان کی ٹیم کو یہ بات سمجھنی ہو گی کہ پارلیمانی سیاست ، پارلیمنٹ اور سیاست میں جن راستوں پر وہ چل پڑے ہیں کبھی بھی سیاسی جماعتوں کو مضبوط نہیں کرسکتی مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اور قائدین اپنا تجزیہ کرنے کو تیار نہیں ان کے طرز عمل سے کیسے جمہوری نظام اور ووٹ کی سیاست کمزور ہو رہی ہے ۔

    یہ ہماری سیاست کا المیہ ہے کہ طاقت کی سیاست کے پیچھے بھاگاجا رہا ہے ۔ عوام کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جمہوری ممالک میں عوام ہی انتخابات میں فیصلہ کرتے ہیں۔ آج کل ملک میں آئین کے آرٹیکل 6 پر باتیں کی جا رہی ہے آئینی ماہرین کے مطابق آئین کے آرٹیکل 6 سے پہلے آرٹیکل 3 بھی آتا ہے جس کی رو سے ملک میں ہر قسم کے استحصال کا خاتمہ ،ہر شہری کو باعزت روزگار کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ آئینی ماہرین کے مطابق آرٹیکل 38 بھی اسی آئین کا حصہ ہے ۔

    ان آئین کی شقوں کی خلاف ورزی حکومتیں کرتی چلی آرہی ہیں ۔ اس پامالی پر شور کیوں نہیں مچایا جاتا ؟ ان شقوں پر پارلیمنٹ میں بحث کیوں نہیں ہوتی ؟اگر آمریت نے آئین کو پامال کیا ہے تو کیا جمہوری حکومتوں نے اس کی پاسداری کی ہے ؟ سچ تو یہ ہے کہ ملک میںاہل ہوس مدعی بھی ہیں اور منصف بھی ۔ عوام مسلسل دھوکہ اور فریب کھا رہی ہے۔ عوام کا رُخ موڑنے کے لیے کھیل تماشے کئے جاتے ہیں ۔ عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنا تو دور کی بات یہ سوچنے سے بھی عاری ہیں ۔75 سالوں میں جس ملک میں بجلی کا بحران ختم نہیں ہوا ور کی تمنا عوام عوام کیسے کرے گی ۔