Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • نازیبا ویڈیوز کی جنگ،ہم کہاں جا رہے ہیں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    نازیبا ویڈیوز کی جنگ،ہم کہاں جا رہے ہیں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    گالم گلوچ‘ ہلڑ بازی‘ بلوہ بندوق کیا کم تھے کہ نازیبا اور فیک ویڈیو کے وار کرکے ملک کے نہ صرف معاشرتی و سماجی اقدار کو پامال کیا جارہاہے بلکہ سیاست اور سیاستدانوں کے زندہ جنازے نکالے جارہے ہیں اور نوجوان نسل کے ذہنوں میں سیاست کے لئے نفرت بھری جارہی ہے۔ یاد رکھیں کسی بھی معاشرے میں سیاسی آزادیوں کے فروغ اور سیاسی پارٹیوں کا استحکام ہی درپیش چیلنجز سے قوموں کو نکالنے میں مدد کرتے ہیں۔ مضبوط سیاسی اقدار مضبوط سیاسی افکار ہی کسی قوم کو مضبوط مستحکم معاشرہ اور مضبوط معیشت دیتے ہیں۔ مضبوط معیشت ہی ناقابل تسخیر دفاع کی ضامن ہے

    صد افسوس کہ ہمارے ہاں سیاست کو کھیل تماشا ناچ گانا گالم گلوچ احتجاج کے نام پر سرکاری اور نجی املاک کو آگ لگانے سکول کالج بند کرانے تو بنا ہی دیا گیا تھا لیکن سیاستدانوں کی ویڈیو جنگ نے تو ہر باشعور اور سنجیدہ حلقے کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ حال ہی میں اعظم سواتی کی ازدواجی زندگی پر فیک ویڈیو کا ڈرامہ رچایا گیا اور اسی عمر کے بزرگ سیاستدان پرویز رشید کی ایک ویڈیو منظر عام پر لائی گئی جس نے سنجیدہ سیاسی حلقوں میں سکتہ طاری کردیا ہے۔ پرویز رشید سیاست میں رواداری اور سنجیدگی کا آئی کان ہے اور ان کی سیاسی جدوجہد کو تمام سیاسی پارٹیوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ایسی شخصیات کے لباس پر غلاظت کے چھینٹوں سے کون سے مذموم عزائم کو پورا کرنے کی مشق کی جارہی ہے اور ان حرکات کو قوم کو سماجی انحطاط معاشرتی بے راوہ روی اور سیاسی بانجھ پن کی صورت میں قوم کو مستقبل قریب میں ایک بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مقتدر حلقوں سیاسی جماعتوں اور معاشرتی قوتوں کو یکجا ہو کر ایسی سازشوں کو روکنا ہوگا.

  • کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    کون سا نظریہ، اصول؟ یہاں سب بے نقاب ہو چکے ،تجزیہ :شہزاد قریشی
    آج کے سیاستدان جب جمہوریت، آزادی، قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی آئین کی باتیں کرتے ہیں تو ان کے جھوٹ اور منافقت سے گھن آتی ہے۔ مخلوق خدا کو برباد کر کے یہ کس منہ سے عوام کا نام لیتے ہیں۔ ملکی صورتحال خاصی پیچیدہ ہو چکی ہے ،قیادت کا فقدان ہے ۔جب تک اس گلے سڑے نظام کو دفن نہیں کیا جاتا کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔ موجودہ نظام کو جب تک تبدیل نہیں کیا جاتا عوام کی زندگی کبھی سہل نہیں ہو سکتی۔ موجودہ سیاست بڑھکوں، دھمکیوں اور ہلڑ بازی کے سوا کچھ نہیں۔ عوامی نمائندے ایسی بدزبانی اور غنڈہ گردی پر اتریں گے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

    موجودہ شور شرابے میں اقتصادی بحران گھمبیر ہوتا جا رہا ہے بنیادی اشیائے صرف کی ہولناک مہنگائی جاری ہے۔ ایک دوسرے کے بارے بیہودہ گفتگو پہلے سے پست ثقافت اور اخلاقیات مزید پست ہو رہی ہے ایک تعفن پھیل رہا ہے اور پھیلایا جا رہا ہے ہر ذی شعور انسان کا دم گھٹ رہا ہے۔ جو کچھ اس ملک و قوم کے ساتھ ہو رہا ہے یہ سارا کھلواڑ اتنا بے سبب بھی نہیں ہے۔ ان کی آپس میں لڑائیاں بھی ایک بہت بڑا فریب ہے کوئی مظلوم بن کر عوامی حمایت چاہتا ہے تو کوئی نجات دہندہ۔

    دوسری طرف پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کو بین الاقوامی سطح پر مشکوک بنا دیا گیا ان کی آپس کی لڑائیوں میں ملکی وقار اور سلامتی کو بھی دائو پر لگا دیا گیا ہے۔ ہوس اقتدار اور ہوس زر نے ان کو اس قدر آندھا کر دیا ہے کہ ملک کے وقار اور سلامتی کو بھی بھول گئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں کون سا نظریہ اور کون سے اصول باقی رہ گئے ہیں۔ ملکی کی تمام سیاسی جماعتیں اصول۔ نظریے اور ضمیر سے عاری ہو چکی ہیں۔ سب کچھ بے نقاب ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے ان کی منافقت۔ ایک دوسرے کو گالیاں دینا۔ بد سے بدترین ایک دوسرے پر الزامات لگانے کی سیاست ہو رہی ہے بین الاقوامی سیاسی کھلاڑی تماش بین بن کر تماشا دیکھ رہے ہیں بھارت میں بھنگڑے ڈالے جا رہے ہیں خدارا ملک سے انتشار کی سیاست کا خاتمہ کیا جائے اس ریاست پر رحم کیا جائے اور اس ریاست کے ذمہ داران کو گلی کوچوں ، چوراہوں، جلسے جلوسوں میں برا بھلا نہ کہا جائے۔

  • اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں ،تجزیہ: شہزاد قریشی
    ملک کے انتہائی اہم اداروں کے وقار کو روندنے کا خبط ہوس اقتدار اور اقتدار سے چمٹنے کا نشہ کہیں کسی ردالفساد کا منتظر تو نہیں ؟ جمہوریت ، قانون کی حکمرانی ،پارلیمنٹ کی بالا دستی ایک خواب بن کر رہ گیا ۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جس میں مہنگائی کا زخم پہلے سے بدن دریدہ عوام پر نہ لگایا جاتا ہو، بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سڑکیں ٹوٹ رہی ہیں۔ صاف پانی ، گیس ، بجلی اور دوسری بنیادی سہولیات کی محرومی دن بدن شدت پکڑتی جا رہی ہے ۔ لینڈ مافیا سرکاری زمینوں کے ساتھ ساتھ زرعی زمینوں پر ہائوسنگ سوسائٹی بنا کر قانون اور قانون بنانے والوں کا مذاق اڑا رہا ہے ۔ سوسائٹیز سے منسلک ادارے کروڑوں روپے کی رشوت لے کر پاکستان برائے فروخت کا بورڈ اپنے دفاتروں پر آویزاں کردیا ہے ۔

    ملکی معیشت کا جنازہ نکال کر عمران خان کس مقصد کے لئے لانگ مارچ کررہے ہیں اگر یہ مارچ نئے انتخابات کے لئے ہیں تو اس سے قبل عمران خان حکومت نے عام آدمی کے مسائل کے حل کرنے کے لیے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے ؟ حیرت اس بات پر کہ اس سرکس نما مارچ میں اعلیٰ عسکری اداروں پر زبان درازیاں اور الزامات کی بوچھاڑ نام نہاد راہنمائوں کی اپنی ہی شخصیت کے پول کھول رہی ہے دوسری جانب لانگ مارچ میں جس شرمناک طریقے سے ملک کی مایہ ناز خفیہ ایجنسی کے سربراہان کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس پر یہی کہا جا سکتا ہے ۔اس دور کے بونے اپنے سے بڑے کا قد ناپ رہے ہیں۔ بلاشبہ جنرل ندیم انجم ایک اعلیٰ پیشہ وارانہ ریکارڈ کے حامل حقیقی سولجر ہیں اوران کا تعلق شہیدوں ،غازیوں اور نشان حیدر والوں کی سرزمین گوجر خان سے ہے ، گوجر خان تحصیل کے قبرستانوں میں شہداء کی قبروں پر پاکستان کے جھنڈے موجود ہیں اور گوجر خان کو افواج پاکستان کا نشان حیدر حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ اس خطے نے پاکستان آرمی کو آرمی چیف بھی دئیے ہیں ۔ جن میں جنرل سوار خان ، جنرل اشفاق پرویز کیانی، جیسے سپہ سالار شامل ہیں۔ جنرل ندیم انجم افواج پاکستان کا فخر ہیں اور گوجر خان کی غیور عوام کو بھی ان پر فخر ہے ۔ ملک کے محب وطن عوام سیاسی سرکس میں ہونے والی بدست تقریروں اور نعرہ بازیوں پر شدید رنجیدہ ہیں اور سنجیدہ حلقے سوچ رہے ہیں کہ ہماری سیاسی قیادت کو ملکی سلامتی اور بقا سے زیادہ اقتدار عزیز ہے ؟

  • لانگ مارچ،عوام کو مزید مسائل میں جھونکنے کا مذاق:تجزیہ شہزاد قریشی

    لانگ مارچ،عوام کو مزید مسائل میں جھونکنے کا مذاق:تجزیہ شہزاد قریشی

    ملکی سیاسی تاریخ جلسے جلوسوں لانگ مارچ اور دھرنوں سے بھری پڑی ہے عمران خان کا لانگ مارچ کوئی نئی بات نہیں۔ جلسے جلوسوں دھرنوں لانگ مارچ میں مذاکرات بھی کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم موجودہ دور کی سیاست کا انداز پہلی بار دیکھا گالی گلوچ کی سیاست اور افواہ سازی کی سیاست اس ملک اور قوم کو کدھر لے کر جا رہی ہے ملک کی داخلی صورتحال کچھ عرصہ پہلے انتہائی خوفناک بلکہ خونی تھی

    لانگ مارچ کا تیسرا دن:عمران خان لانگ مارچ کی قیادت کرنےگھرسے کب اورکس کےساتھ…

    پاک فوج نے اور سول حکومت نے دہشتگردی کا خاتمہ کیا ضرب عضب سے لے کر ردالفساد تک فوج نے قربانیاں دے کر ملک کو ترقی کے راستے پر ڈالا بلاشبہ ملک کی سیاسی صورتحال کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال ہے آنے والے چند ہفتوں میں صورتحال کی شکل و صورت واضح ہونے کے لئے اہم قرار دیئے جارہے ہیں کسی زمانے میں پنجاب میں بھٹو پھر نواز شریف اور آج عمران خان کا پرجوش استقبال ہو رہا ہے لیکن ہوائوں میں اڑ جانے والے جلسوں کے اونچے نعروں اور بے مغز تقریروں سے عوام کی کون سی بگڑی بن سکتی ہے؟

    سینیٹراعظم سواتی پرتشدد کیوں؟ سپریم کورٹ نے کارروائی شروع کردی

    پنجاب میں عمران خان کے کامیاب جلسوں اور عوام کی بھرپور شرکت کا سہرا ملک میں موجود مسلم لیگ کی قیادت کو جاتا ہے جس کے پاس ترجمان بھی شاید کم ہو گئے جو میاں محمد نوازشریف کے دور حکومت کے ترقیاتی کاموں ملکی معیشت کی صورتحال سے عوام کو آگاہ نہیں کر سکے جو ترجمان ہیں وہ بھی گالی گلوچ کا جواب گالی گلوچوں اور بھڑکوں میں دینے پر مجبور ہیں۔ جن معاملات میں عمران خان مارچ لے کر نکلے ہیں کیا یہ سیلاب سے تباہ شدہ عوام کی بحالی کی کوشش ہے؟ ڈوبتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینے کا چیلنج، مہنگائی، بیروزگاری کے سمندر سے عوام کی بازیابی، سرحڈدوں پر منڈلاتے ملکی سالمیت کو خطرات ایسے مسائل ہیں جن سے نبرد آزما ہونے کے لئے حکومت اور عسکری ادار ے ہمہ تن مصروف ہیں۔

    اپنےلوگوں کاتحفظ کرنامیرابنیادی حق،میری جان بھی انکےلیےحاضر:علی امین گنڈا پورکا…

    ان حالات میں لانگ مارچ کسی بھی محب وطن اور محب قوم لیڈر کو ملکی معیشت اور قومی سلامتی کے مسائل کو پس پشت ڈال کر عوام کو مزید مسائل میں جھونکنے کا مذاق ہوگا۔ جس کی قیمت آنے والی نسلیں ادا کرتی رہیں گی۔ اس سلسلے میں اپنی ریٹنگ بڑھانے والے اینکرز اور یوٹیوبرز کو بھی ذمہ دارانہ صحافت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ خداراہ وطن عزیز کو مزید بحرانوں کا شکار نہ کریں۔

  • ارشد شریف کےخون پروطن عزیز میں عدم استحکام پیدا کرنےسےروکا جائے

    ارشد شریف کےخون پروطن عزیز میں عدم استحکام پیدا کرنےسےروکا جائے

    اسلام آباد( رپورٹ شہزاد قریشی)ارشد شریف کی افسوسناک مگر پُراسرار موت نے نہ صرف پاکستان کی سیاسی اور صحافتی دنیا میں ایک بھونچال برپا کردیا بلکہ پوری دنیا کی صحافتی اور سیکورٹی تنظیموں میں ہل چل مچا دی اور یہ المناک واقعہ تمام دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ۔ بلاشبہ ارشد شریف شہید ایک بلند مرتبہ صحافی تھے اور تھوڑے ہی عرصہ میں انہوں نے صف اول کے صحافیوں میں اپنا مقام بنا لیا تھا۔

     

    ملک کونوجوان ہی مشکلات سےنکال سکتےہیں:سراج الحق

    ان کا کہنا تھا کہ اُن کی افسوسناک موت کو طویل مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ ملک کی جغرافیائی اور انتظامی سرحدوں سے دور ممتاز صحافی کی پُراسرار موت اور کینیا کی پولیس کو بدلتے موقف نے اس معاملے کو پیچیدہ بنا دیا ہے جبکہ حکومت نے اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیم کینیا روانہ کردی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کو اس قتل کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ حاصل کرنے اور سستی شہرت کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیئے اور ہماری اپنی خفیہ ایجنسیوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہیئے ۔ ہماری ملکی سلامتی کی ایجنسیاں ملک کی بقا ء اور استحکام کی ضامن ہیں ۔

    میں آخری دن تک ارشد شریف سے رابطے میں تھا:فیصل واوڈ

    شہزاد قریشی کہتےہیں کہ اس طرح غیر ذمہ دارانہ بیان بازی سے اجتناب برتنا چاہیئے اور اعلیٰ سطح تحقیقات کے نتائج اور حقائق کا صبر کے ساتھ انتظارکرنا چاہیئے اس سلسلے میں ہمارے صحافتی حلقوں کا بھی فرض ہے کہ کسی بھی قیمت پر کسی شخص یا سیاسی پارٹی کو ارشد شریف شہید کے خون پر وطن عزیز میں عدم استحکام پیدا کرنے سے روکا جائے۔ملک کے اقتدار اعلیٰ کے دوڑ میں شامل سیاسی رہنمائوں کی جانب سے قومی یکجہتی اور ملکی وحدت کا خیال نہ رکھنا افسوسناک ہے ۔ کیا ہم ایک ایسی قوم بن گئے ہیںجو لاشوں پر سیاست کرتے ہیں۔

    روس نےایک بارپھرپاکستان کوگندم درآمد کرنےکی پیشکش کردی

  • پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں۔ تجزیہ:- شہزاد قریشی

    پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں۔ تجزیہ:- شہزاد قریشی

    جوبائیڈن کو امریکی الیکشن کے پس منظر میں پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر بیان بازی کا سہارا نہیں لینا چاہیے پاکستان کا ایٹمی پروگرام انتہائی محفوظ مضبوط اور ذمہ دار ہاتھوں میں ہے جس کا اعتراف ماضی قریب میں بشمول امریکی انتظامیہ دیگر بین الاقوامی ایجنسیاں کر چکی ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور جنوبی ایشیا خطے کی صورتحال میں پاکستان آرمی اور بالخصوص آئی ایس آئی کی موجودہ قیادت نے علی پیشہ ورانہ اور انتہائی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور نیٹو فورسز سمیت دیگر ممالک کی عسکری قیادت نے پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی کی کامیابیوں کا اعتراف بھی کیا

    اس تناظر ٹریک ریکارڈ کے باوجود امریکی صدر کا بیان آقائے اور تجربات کے منافی ہے جس کو محض الیکشن اسسٹنٹ ٹھیک گردانا جاسکتا ہے پاکستانی افواج اور دیگر عسکری ادارے ہیں وطن سے کبھی غافل نہیں ہیں اور اپنے دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی ہمہ تن صلاحیت سے لیس ہیں اور اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے دشمن کے خلاف امن قائم رکھنے کے لیے استعمال جانتے ہیں پاکستان کبھی بھی جارح ملک نہیں رہا ماضی قریب میں پاکستان کو شرکت کی سرحد پر واقع ہندوستان نے کی موقع میں غیر ذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ حرکات کرکے نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کشمیر میں شرمناک خلاف ورزیاں کیں بلکہ پاکستان کی حدود میں میزائل بھی داغے ڈالے جس پر پاکستان نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور صبر و تحمل کا دامن نہ چھوڑا

    امریکی صدر کو پاکستان کے بجائے بھارت کے ایٹمی پروگرام اور ان کے اشتعال انگیز پالیسیوں پر بیان جاری کرنا چاہیے رہا سوال پاکستان میں سیاسی عمان گی کا تو پاکستانی عوام دفاعی پاکستان کی ضامن افواج پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے ہیں اور چند نہاد سیاسی حلقوں کوچاہئے کہ وہ عوامی سیاست کریں اور پاکستان کے دفاعی اداروں کو سیاست میں ملوث نہ کریں چھبیس ستمبر کو میں نے اپنے تجزیے میں خبردار کیا تھا کہ غیر سنجیدہ بیانات سے اجتناب برتیں ہمارے الیکٹرانک میڈیا کو بھی سیاسی حلقوں کی کوریج پر ذمہ داری کا ثبوت دینا ہوگا

  • غیر سنجیدہ تجربات دہرانا حل نہیں،تجزیہ : شہزاد قریشی

    غیر سنجیدہ تجربات دہرانا حل نہیں،تجزیہ : شہزاد قریشی

    غیر سنجیدہ تجربات دہرانا حل نہیں،تجزیہ : شہزاد قریشی

    ملک کی مخدوش معیشت کو سنبھالا دے کر ترقی کرتی ہوئی معیشت میں بدلنے کا بیڑہ اسحاق ڈار کے ذمے لگانا نہ صرف میاں محمد نواز شریف بلکہ ذمہ داران ریاست کا بہترین فیصلہ ہے۔ سینیٹر اسحا ق ڈار وزیر خزانہ نے بگڑی معاشی صورت کو درست سمت گامزن کرنے کی حامی بھر کے ملک اورعوام پر احسان کیا ہے جس کو سنجیدہ کاروباری اور عوامی حلقے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام کا رحجان اور سٹاک ایکسچینج میں بلندی کی روش کسی معجزے سے کم نہیں پاکستان کو سری لنکا کی معیشت سے تشبیہہ دینے والے نابلد و ن اکام سیاسی اور معاشی پنڈتوں کو منہ کی کھانی پڑی اسحاق ڈار نے وطن عزیز کو معاشی گرداب سے نکالنے کی اٰمید کو زندہ کردیا۔

    ان کے سامنے آئی ایم ایف سمیت تمام بین الاقوامی مالیاتی فورمز کے ساتھ پاکستان کا کیس لڑنا ہے جبکہ ملکی سطح پر مائکرو اکنامکس کو نئے سرے سے منظم کرنے سے لے کر میگا اکنامکس، سمال انڈسٹری سے لے کر بڑی صنعتوں کی ترقی پٹرولیم کی قیمتوں میںکمی جیسے چیلنجز ہیں۔ ان تمام مسائل سے نمٹنے کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ لوگ جو ملک کی ماضی قریب کی ابھرتی معیشت سے کھلواڑ کھیل گئے ان کو ہوش کے ناخن لے کر معاشی ترقی کے لئے ساز گارسیاسی وسماجی ماحول فراہم کرنے میں مدد دینی چاہئیے اور وسیع تر قومی مفاد میں معاشی استحکام کی مخلصانہ کوششوں کو کامیاب ہوتے دیکھنا چاہیئے ایک ساز گار سیاسی وسماجی ماحول ہی معاشی ترقی کو پنپنے دے گا۔

    دفاعی اور کاروباری ترقی کے شعبوں ملک ایک بار پھر اقوام عالم میں دوبارہ ابھرتی ہوئی معاشی قوت کا مقام حاصل کرے گا۔ معاشی ترقی کا سنبھالا بلاشبہ دفاع پاکستان کا ضامن ہوگا ۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران جوغیر سنجیدہ وغیر دانشمندانہ تجربات کئے گئے اٰن کو دہرانے سے گریز کیا جائے ۔ادھر حکمران جماعت کے وزراء اور مشیران کو بھی چاہیے کہ وہ نہ صرف بے بنیاد پروپیگنڈوں کا منہ توڑ جواب دیں بلکہ ا پنے اپنے حلقوں اور علاقوں میں عوام رابطہ مہم کے ذریعے عوامی مسائل کو حل کریں اور اپنے آپ کو اسلام آباد کےایوانوں کی زینت ہی نہ بنائے رکھیں ۔ غرور اور تکبر کی حدوں کو کراس کرنے سے گریز کریں۔

  • آڈیو لیکس ۔خطرے کی گھنٹی:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    آڈیو لیکس ۔خطرے کی گھنٹی:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو لیکس کی جنگ اور ایک دوسرے کی جاسوسی پر اترانے والے سیاستدانوں او رنجی ٹی وی چینلز پر تبصرہ کرنے والوں کو معاملے کی حساسیت پر غور وفکر کرنا چاہیئے ۔ کہ کہیں وطن عزیز کی سیکورٹی اور سالمیت تو داؤ پر نہیں لگ چکی ؟ پاکستان ایک عظیم ایٹمی قوت کا حامل ملک ہے اور اس کی ہمسائیگی میں ازلی دشمن تاک لگائے بیٹھے ہیں۔ ملک کی آئی ایس آئی ایک مایہ ناز ملکی سلامتی کا ادارہ ہے۔ جس کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی اقوام عالم معترف ہے جبکہ آئے دن سابقہ و وموجودہ وزیراعظموں ،وزراء اور سیاسی لیڈروں کی پارٹی میٹنگ پالیسی ایشیو پر گفتگو حتی کہ خواتین راہنمائوں کے بیڈ روم تک بکنگ اور فون ریکارڈنگ کے لیک ہونے کے الزامات اور مبینہ واقعات ملک کی سیکورٹی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔

    ایک دوسرے کے آڈیو ویڈیو لیکس اور بغلیں بجانے والے سیاسی مخالفین کو نہ صرف شادیانے بجانے سے اجتناب کرنا چاہیئے بلکہ فکر کرنی چاہیئے کہ کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے ایوان صدر وزیراعظم ہائوس و آفس سے لے کر تمام وزارتوں اور حساس تنصیبات پر موجود اہلکاروں کی سخت ترین سکریننگ ہونی چاہئے اور ا س کے ساتھ ساتھ موبائل فون و ٹیلی فون کمپنیوں کو بھی تطہیر کے عمل سے گزارا جائے کیوں کہ اگر وزیراعظم ہاؤس و آفس اور اعلی سیاسی قیادت بھی محفوظ نہیں تو وطن عزیز کی سیکورٹی پر تبصرہ کرنے سے قلم اجازت نہیں دیتا

     

     

    حکومتی عہدیداروں اور سیاسی شخصیات کو بھی چاہیئے کہ وہ اپنی ذات سے بالاتر ہو کر ملک وقوم کی خدمت کا شیوہ اپنائیں کیونکہ کھوکھلے نعروں اور دوغلی پالیسی کے جھانسے میں عوام نہیں آئیںگے پاک فوج اور قومی سلامتی کے ادارے جہاں تک سرحدوں کی حفاظت پر ماموس ہیں انہیں اس حساس معاملے پر قومی سلامتی کے فول پروف اقدامات کرنا چاہیئے ۔

  • چھوٹی سوچ والےقومی لیڈرکیسے؟ تجزیہ:۔شہزاد قریشی

    چھوٹی سوچ والےقومی لیڈرکیسے؟ تجزیہ:۔شہزاد قریشی

    ملک میں سیاسی بحران اور انتشار کی سیاست پر جب سیاستدان باتیں کرتے ہیں اس کے ذمہ دار بھی خود اہل سیاست ہی ہیں جو بڑی بڑی غلطیاں کرتے ہیں مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کا اعتراف نہیں کرتے اور نہ ہی ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنا پارلیمنٹ ہائوس کو جہاں قانون سازی ہوتی ہے وہاں بیٹھ کر ایک دوسرے کو غدار اور نہ جانے کیا کیا الزامات لگائے جاتے ہیں۔ ریاستی اداروں کو متنازعہ بنانے کا فریضہ بھی سرانجام دیتے ہیں۔ عوامی مفادات کو پس پشت ڈال کر ذاتی مفاد اور اقتدار حاصل کرنے اقتدار کو طول دینے کی خاطر ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

    الزام تراشیوں کی سیاست نے ملک کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے ملک کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا مقروض بنادیا۔ مہنگائی، غربت، بیروزگاری کی بڑھتی ہوئی لہر کی وجہ سے چوریوں، ڈکیتیوں اور دیگر معاشرتی برائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جن پولیس افسران نے ان بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانا تھا ان کو بھی متنازعہ بنا دیا گیا پولیس کے محکمہ میں سیاسی مداخلت نے تباہی پھیر دی ہے نواب آف کالاباغ کے دور اقتدار سے شروع ہونیوالی سیاسی مداخلت نے پولیس نظام کو تباہ کر دیا ہے کسی بھی حکومت میں پولیس ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے اس نظام کی اصلاح کی توجہ دینے کے بجائے سیاستدانوں نے ان کو استعمال کیا۔ جب تک پولیس مداخلت سے آزاد نہیں ہوتی پولیس کا نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا۔

    میں ایسے کئی پولیس افسران کو جانتا ہوں جو اپنی زندگی اپنے اصولوں کے مطابق گزارنے پر اصرار کرتے ہیں کئی ایسے پولیس افسران پنجاب میں موجود ہیں جو نرم دل اور فرض شناس ہیں جن افسران کو فیلڈ نہیں ہونا چاہئے ان کو کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔ مرکز اور صوبے کی لڑائی نے پولیس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پنجاب میں تعینات اعلیٰ پولیس افسران کا مورال بلند نہیں ہو رہا ملکی سیاستدان فوج سمیت ان دوسرے ریاستی اداروں کو متنازعہ بنا کر کون سا قومی فریضہ ادا کر رہے ہیں؟ آئین کے مطابق ریاستی ادارے آزاد ہوتے ہیں وہ آزادی سے اپنا فریضہ ادا کرتے ہیں

    بدقسمتی سے ہمارے سیاستدانوں کا جاہ و جلال شاید ان ہی ریاستی اداروں کے مرہون منت ہے اور اسی لئے وہ ان اداروں کو قانون کے مطابق کام کرنے نہیں دیتے۔ جو سیاستدان یہ میرا پولیس افسر یہ تیرا پولیس افسر کے گرد گھوم رہا ہے اس کو قومی لیڈر کیسے کہا جا سکتا ہے؟

  • ترک الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے؟ تجزیہ::-شہزاد قریشی

    ترک الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے؟ تجزیہ::-شہزاد قریشی

    موجودہ دور کی سیاست میں منہ پھٹ اور سیاسی بدتمیز لوگوں کی اکثریت آچکی ہے۔ سیاستدانوں کی لڑائی نے اس ملک کو کنگال کرکے رکھ دیا ہے آج کے سیاستدانوں کی جنگ نے ملک اور عام آدمی کی زندگی کو بنیادی ضروریات زندگی سے محروم کردیا۔ ملکی اور قومی مفادات کو پس پشت ڈال کر ذاتی مفادات کی سیاست کو پروان چڑھایا جا رہا ہے ۔

    اگر عمران خان کے دور اقتدار میں عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی نہیں دیکھی تو کیا پی ڈی ایم کی 4 ماہ کی کارکردگی میں عام آدمی کی زندگی بدل گئی ؟ ہرگز نہیں عوام کے سامنے ایک ناٹک کیا جارہا ہے ایک سیاسی طبقہ عمران خان کو سلیکٹڈ کہتا رہا اور اب موجودہ حکومت کو کٹھ پتلی کا نام دیا جا رہا ہے ۔ قصہ مختصر دونوں طرف سے اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کی جاتی رہی اور کی جا رہی ہے ۔ یعنی ہماری اسٹیبلشمنٹ کا حال ان سیاستدانوں نے یہ کردیا ہے بقول ایک پرانے گیت کے ۔

    ترک الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے
    ہر طرف آگ لگی ہے دامن کو بچائیں کیسے

    یوں تو وطن عزیز کراچی سے لے کر خیبر تک ۔ ڈاکوئوں ،لینڈ مافیا ۔ قبضہ مافیا ، اغوا برائے تاوان کے قبضے میں ہے ۔ اسلام آباد راولپنڈی کے شہری محفوظ تھے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے دور میں ان جڑواں شہروں کے شہری سکھ کاسانس لیتے تھے آج راولپنڈی ، اسلام آباد میں قبرستانوں ، عام آدمی کی زرعی زمینوں ، ریلوے کی زمینوں ،دیہہ شاملات اور دیگر شہری مکانوں پر قبضے کے ساتھ ساتھ جعلی ہائوسنگ سوسائٹیز کی بھر مار ہے ۔

    چوہدری نثارعلی خان کی سیاست پر اُن کے سیاسی مخالفین تنقید کر سکتے ہیں لیکن اُن کے کردار پر انگلی کھڑی کرنا ممکن نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ ایک قومی سیاست میں کردار ادا کرنے والے کیوں خاموش ہیں اس کا جواب تو چوہدری نثارعلی خان ہی دے سکتے ہیں تاہم اسلام آباد راولپنڈی میں بڑھتے ہوئے جرائم کودیکھ کر عام آدمی چوہدری نثارعلی خان کو یاد کرتا نظر آرہا ہے ۔

    راولپنڈی اسلام آباد کی سیاست میںسیاسی راہنمائوں کی بڑی تعداد موجود ہے لیکن چوہدری نثارعلی خان کے قومی سیاست میں کردار اور ذاتی کردار والا ایک بھی نظر نہیں آتا۔ قومی سیاست جس نہج پر پہنچ چکی ملک وقوم کو چوہدری نثار علی خان جیسے باکردار شخصیات کی ضرورت ہے ۔ ان جیسے دوسرے لوگوں کو آگے آکر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔