Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • سیاستدان، عوام، تاجر،خود حکمران بھی سراپا احتجاج کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاستدان، عوام، تاجر،خود حکمران بھی سراپا احتجاج کیوں؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی جماعتوں میں سیاستدان کم مخبروں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے البتہ بے نقاب بھی ہورہے ہیں۔ سیاستدانوں کی لڑائیاں اب سیاسی نہیں ذاتی دشمنی پر اتر آئی ہیں۔ پارلیمنٹ کی بالادستی‘ آئین اور قانون کی حکمرانی کے نعرے باقی رہ گئے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے تنازعات میں ایک دوسرے کو ننگا کررہی ہیں۔ ان حرکات سے جمہوریت کی پری بھی مکھڑا چھپا رہی ہے۔ عالمی دنیا اپنے مفادات کی جنگ لڑرہی ہے ہمارے سیاستدان ریاست اور عوام کے مسائل کو پس پشت ڈال کر اقتدار کی جنگ میں مصروف عمل ہیں دنیا ہمارا تماشا دیکھ رہی ہے۔ سیاسی تماشائیوں میں عوام کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔ ملکی اداروں کو متنازعہ بنا دیا گیا یا متنازعہ بنایا جارہا ہے۔ الیکشن کمیشن سے لیکر تمام اداروں کو متنازعہ بنا کر ہم اس ملک کی کونسی خدمت کررہے ہیں۔

    سیاستدان سراپا احتجاج‘ عوام سراپا احتجاج‘ تاجر سراپا احتجاج‘پی ڈی ایم میں شامل خود سیاسی جماعتیں سراپا احتجاج‘ صحافی سراپا احتجاج۔ آخر انہیں کس نے اتنا مجبور کردیا ہے کہ سب سراپا احتجاج ہیں؟تمام سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ملک میں نہ آئین ہے نہ آئین اور قانون کی حکمرانی ہے نہ کوئی انسانی حقوق ہیں۔ ان حالات میں پنجاب اور کے پی کے کے الیکشن بھی مشکوک ہوگئے ہیں۔ آئین تو انتخابات کا راستہ دکھاتا ہے اگر موجودہ حکومت نے پنجاب اور کے پی کے میں بروقت انتخابات نہ کروائے تو معاملہ عدالتوں میں چلا جائے گا۔ اگر وفاق انتخابات نہیں کرواتا تو پھر یہ آئین سے روگردانی ہوگی۔ امید تو یہی ہے کہ وفاق ایسا نہیں کرے گا اگر ایسا کیا تو اس کے نتائج بھیانک ہوسکتے ہیں۔

    ملک اور عوام کے مفاد میں مقتدر حلقوں اور قومی سلامتی کمیٹی کو مل کر سیاسی خلفشار کو کم کرنے کی راہ نکالنی چاہئے اور تمام سیاسی جماعتوں کا ڈآئیلاگ اور اس کے ساتھ ساتھ معاشی گرداب سے ملک کو نکالنے کے لئے وطن عزیز کے تمام اعلیٰ پائے کے معیشت دانوں کے ساتھ بامقصد کانفرنس کرکے تجاویز لی جائیں اور قابل عمل راہ اختیار کی جائے۔ تمام سیاسی مصلحتوں اور پسند ناپسند سے بالاہو کر حکومت اور مقتدر حلقوں کو خلوص کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ معاشی بحران پاکستان ہی نہیں امریکہ سمیت عالمی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ خود ڈیفالٹ ہونے کے قریب تر ہے تاہم ڈیفالٹ سے بچنے کے لئے امریکی سیکرٹری خزانہ جانیٹ پالین نے کانگریس سے درخواست کی ہے کہ وہ قرض کی حد از جلد بڑھا دے تاکہ تاکہ ڈیفالٹ کے خطرے کو ٹالا جاسکے۔

  • نوجوان پاکستان کا مستقبل مگر؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    نوجوان پاکستان کا مستقبل مگر؟ تجزیہ : شہزاد قریشی

    آج 75 سالوں میں وطن عزیز جہاں کھڑا ہے اور جس حال میں کھڑا ہے یہاں تک پہنچانے میں آمریت اورجمہوریت کے علم برداروں دونوں کا ہاتھہ ہے۔ا س ملک اور عوام کے ساتھ بہت کھلواڑ ہو چکااس ملک کو پالیسی سازوں ،قانو ن سازوں ، معیشت دانوں کی ضرورت ہے۔ مسخرے سیاستدانوں نے اس ملک کو ہر سطح پر لاغر بنا دیا کیونکہ یہ خود بھی لاغر ہیں ان کی سوچ بھی لاغر ہو چکی ہے-

    کسی بھی ملک کا سرمایہ نوجوان ہوتے ہیں ملک کے پڑھے لکھے نوجوان بے روزگاری سے تنگ آکر جرائم کی دنیا میں جا رہے ہیں کچھ پڑھے لکھے نوجوان مجبوری سے سرکاری اور غیر سرکاری دفاتروں میں قاصد اور نائب قاصد کی نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔ ملک کا بہترین سرمایہ اور اس کے روشن مستقبل کی ضمانت پڑھے لکھے نوجوان ہیں آج کے نوجوان کل کے نہایت ہی ذمہ دار افراد کہلائیں گے ملک کے فیصلہ ساز اداروں سیاسی رہنمائوں کو ملک کے اس مستقبل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    لاکھڑاتی ٹانگوں والوں، لاغر جسم والوں کے لئے اقتدار میں لانے کے لیے سیاستدان ایک دوسرے کے لئے کوشش کر سکتے ہیں تو ملک کے مستقبل ان پڑھے لکھے نوجوان طبقہ کی فکر کون کرئے گا؟ملک میں نوجوانوں میں ایک عزم وحوصلہ موجود ہے لیکن انہیں تربیت اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ماضی کی حریف سیاسی جماعتوں پر مشتمل پی ڈی ایم ابھی تک تو ایک دوسرے کے ساتھ ہیں آگے چل کر کیا ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہے ۔

    ماضی میں پنجاب نواز لیگ کا گڑھ تھا لیکن اس قلعے میں نقب عمران خان نے لگائی ہے اسی طرح کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی نے نقب لگائی ہے پنجاب کو دوبارہ فتح کرنے کے لئے نواز شریف نے اختیارات کے ساتھ مریم نواز کو پنجاب فتح کرنے کے لئے لندن سے روانگی کا حکم دیا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ نواز لیگ کی مستقبل کی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا تاہم یہ بات طے ہے کہ مریم نواز کی مقبولیت عمران خان کی سیاست کا مقابلہ کر سکتی ہے دیکھنا یہ ہے کہ کیا مریم نواز پنجاب کو دوبارہ فتح کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔ عمران خان نے بھی اعلان کیا ہےکہ اُن کے پاس ابھی بہت کارڈ ہیں جو کھیلیں گے۔ کیا مریم نواز ووٹ کو عزت دو کا کارڈ کھیلے گی یا پھر کوئی اور کارڈ کھیلیں گی۔

  • نیا سال اور پھر سیاستدانوں کے نئے عزائم، تجزیہ: شہزاد قریشی

    نیا سال اور پھر سیاستدانوں کے نئے عزائم، تجزیہ: شہزاد قریشی

    نئی عیسوی سال 2023ء کا آغاز ہو چکا ہے ۔ اہل مغرب خاص طور پر اس موقع پر دو کام کرتے ہیں ایک دوسرے کو مبارکباد اور نئے سال کے لئے عزائم، عرب ممالک میں بھی تبدیلی شروع ہو چکی بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سعودی عرب مشرقی اور مغرب کے درمیان ایک دوسرے سے جڑا ہوا مرکز بن چکا ہے دوسری طرف قطر نے یورپی دنیا میں عربوں کی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے۔ چین کے صدر نے بھی سعودی عرب کا دورہ کیا۔ اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ بن سلیمان کی پالیسیوں کی وجہ سے سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ امن اور استحکام کا مرکز بن چکا ہے۔ ہم نے نئے سال کا جشن تو منایا مگر تادم تحریر ہمارے سیاسی رہنمائوں نے ایک دوسرے کو غدار، چور، ڈاکو، کرپٹ، نااہل، بدکار، ثابت کرنے میں وقت ضائع کر دیا۔ ملک و قوم دونوں کو لاغر کر دیا۔ ملک و قوم کو بے بس، لاچار، بے چارہ دوسروں کے رحم و کرم پر پہنچا دیا۔ خون خرابہ، دہشت گردی، تمام صوبوں میں ایک ہنگامہ برپا ہے۔ پاک فوج اور پولیس اپنے شہید ہونیوالے جوانوں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں حکمران اور اپوزیشن والے بتائیں اب نئے سال کے کیا عزائم ہیں؟ کس سیاستدان کس جماعت کو عبرت کا نشان بنانا ہے؟ امریکہ سمیت کس مغربی ممالک کو گالیاں دے کر اپنی سیاست کو زندہ رکھنا ہے۔ کس کو بھارتی ایجنٹ اسرائیلی ایجنٹ قرار دینا ہے۔ کارکردگی کا عالم تو یہ ہے ملک میں نہ گیس ہے نہ بجلی۔ دنیا ترقی کے منازل طے کر رہی ہے ایک دوسرے پر ایک دوسرے پر آئی ایم ایف سے قرض لینے کا الزام لگانے والے سیاستدانوں کو اور فیصلہ ساز اداروں کو یاد نہیں کہ جس سیاستدان نوازشریف نے آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اپنے ایک دور حکومت میں جس میں موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار تھے پالیسی بنائی تھی اس کو غدار، کرپٹ ترین، مودی کا یار، ملک دشمن قرار نہیں دیا؟ ایک دور میں نوازشریف نے آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے صوابدیدی فنڈ سے دستبرداری کا اعلان نہیں کیا تھا؟ کیا حکومتی برآمدات بڑھانے ، درآمدات جو کہ غیر ضروری ہیں ان کو کنٹرول کرے؟ ملک اپنے وسائل پرانحصار کرے۔ اگر 1990ء کے دور حکومت میں نوازشریف کی معاشی اصلاحات پر کام جاری رہتا تو آج ہم کب کا کشکول توڑ چکے ہوتے۔ بدقسمتی سے ہماری کسی حکومت کو مدت پوری کرنے نہیں دی گئی جس کا خمیازہ ملک اور قوم دونوں بھگت رہے ہیں۔ پاکستان کو معاشی اصلاحات دینے والا نوازشریف آج بھی اپنے ایک بھائی اور مسلم لیگی ورکر شہبازشریف کے دورحکومت میں جلاوطن ہی ہے۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہم 2023 میں داخل ہونے والے ہیں۔ایک طرف بھارت اور افغانستان کی طرف سے وطن عزیز میں دوبارہ دہشت گرد ی خودکش حملوں کا سلسلہ جاری ہے فوجی افسران ،فوجی جوان، پولیس اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب سیاسی انتشار اپنے عروج پر ہے ۔ اقتدار حاصل کرنے اور اقتدار کو طول دینے کی سیاست ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بے یقینی کے ایسے خوفناک وقت میں ہم کیسے پُر امید ہو سکتے ہیں کہ ان حالات میں ہماری معیشت ، ملک میں امن ، دہشت گردی کا خاتمہ ۔ آنے والے سال میں ملک ان مسائل سے چھٹکارا حاصل کرے گا؟ ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے ۔سیاسی جماعتیں ریاست ااور اس میں بسنے والے عوام کے لئے متحد ہو جائیں۔ سیاسی انتشار میں کوئی معاشرہ اور ریاست ، اور معیشت ترقی نہیں کر سکتی۔ قومی سلامتی کے لئے نئی حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی ۔ ترقی کے لئے پُرامن ماحول میں بہت ہی ضروری ہے۔

    21 ویں صدی میں مل کر پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لیے پالیسیاں بنائی جائیں ۔ وطن عزیز کے وسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مگر کیا کیاجائے ہمارے سیاستدانوں کو اقتداراور صرف اقتدار چاہیئے۔ انہیں ریاست اور عوام کے مسائل سے دلچسپی نہیں ۔آج سیاسی گلیاروں میں اخلاقی اقدار کے معیار گر گئے۔ آج سیاست میں عوام کی موجودگی نہیں ۔ عوام کے بنیادی مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ۔ ہر طرف اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ ایک دوسرے کو چور ڈاکو سمیت غیر اخلاقی الزامات لگائے جارہے ہیں ۔سیاستدان سیاسی گلیاروں میں ایک دوسرے کی مائوں ، بہنوں ،بیٹیوں اوربیویوں کی سوشل میڈیا پر توہین کرتے نظر آرہے ہیں ان حالات میں سیاست اور ریاست کی حالت کیا ہوگی ؟ ۔

    زمینی حقائق سے کوسوں دورسیاست میں شوروغل مچا ہوا ہے۔ محسوس ہوتا ہے سیاست عوام اور ریاستی مسائل سے بے بہرہ ہو کر تماشوں تک محدود ہو گئی ہے ۔ موجودہ شور شرابے میں وطن عزیز کی معیشت مستحکم کیسے ہو سکتی ہے ؟۔اقتدار حاصل کرنے والے اوراقتدار کوطول دینے والے ہوش کے ناخن لیں ہمارے اطراف میں دہشت گردی کی آگ دوبارہ لگا دی گئی ہے ۔پاک فوج ،قومی سلامتی کے ادارے ، پولیس اس نئی آگ کو ملک و قوم کو محفوظ رکھنے کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ سیاستدان بھی ملک وقوم کی خاطر انتشار کی سیاست کو دفن کرکے ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں۔

  • ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں بحران،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں بحران،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بڑھتی شرح سود،امریکی ڈالر کی مضبوطی، ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں بحران،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان سمیت دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ممالک کو بڑھتی ہوئی مہنگائی، بڑھتی ہوئی شرح سود اور امریکی ڈالر کی مضبوطی ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں ایک بحران جنم لے رہا ہے۔ دی اکانومسٹ نے 53 ممالک کی نشاندہی کی ہے جو یا تو اپنے قرضے ادا کر چکے ہیں یا قرض کی وجہ سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ ورلڈ بنک کے مطابق تقریباً ساٹھ فیصد ممالک زیادہ قرض دار بن چکے ہیں۔ دی اکانومسٹ نے جن 53 ممالک قرضوں کی وجہ سے پریشانی کی نشاندہی کی ہے وہ دنیا کی اٹھارہ فیصد آباد ی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بہت سے ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں تیزی سے گراوٹ آئی ہے قرض دینے والے کم آمدنی والے ممالک کے لئے قرض میں ریلیف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور ان کو لازمی طور پر ادا کرنا چاہئے۔ درمیانی آمدن والے ممالک جیسے لبنان، سری لنکا اور سورنیام پہلے ہی نادہند ہ ہیں۔ جبکہ مصر، گھانا، پاکستان، تیونس سمیت دیگر کو قرض کی شدید پریشانی کا سامنا ہے ارجنٹائن اور ایکواڈور نے پہلے ہی 2020 میں اپنے غیر ملکی قرضوں کی تنظیم نو کر لی ہے عالمی معاشی ماہرین نے آئی ایم ایف ورلڈ بنک اور عالمی مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کو وہ ریلیف دیں جس کی انہیں ضرورت ہے

    ورلڈبنک یا علاقائی ترقیاتی بنکوں کے لئے کریڈٹ کی سہولت فراہم کریں جس سے پریشان قرض دہندگان رضاکارانہ طور پر استعمال کریں۔ یہ سہولت تمام دوطرفہ اور تجارتی قرضوں اور مساوی شرائط پر لاگو ہو اور قرضوں پر دوبارہ گفت و شنید کے دوران اس عمل کا انتظام کرنے والے کثیر الطرفہ بنک کی طرف سے سخت نگرانی کی جائے عالمی معاشی ماہرین نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اس میں شامل ممالک کو تکمیلی کریڈٹ کی پیشکش کر کے قرضوں کی تنظیم نو کے معاہدوں میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ بین الاقوامی اداروں کو ہر معاملے کی بنیاد پر ریلیف کے بارے میں فیصلے کرنے چاہئیں۔ اس کی تکمیل کثیر الجہتی ترقیاتی بنکوں کی طرف سے مزید عالمی امداد سے کی جانی چاہئے۔ صرف ان ممالک کے لئے جن کو قرضوں میں ریلیف کی ضرورت ہے بلکہ ان کے لئے بھی جو نہیں کرتے اور یقینا تمام ترقی پذیر ممالک کو طویل مدتی قرضوں کی پائیداری کو یقینی بنانے کے لئے ساختی اور مالیاتی اصلاحات کو نافذ کرنا چاہئے۔

  • آڈیو ویڈیو لیکس کے ڈرامے،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو لیکس کے ڈرامے،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو لیکس کے ڈرامے،تجزیہ :شہزاد قریشی
    اینٹ کا جواب پتھر سے دے کر سیاسی جماعتیں کون سا اخلاقی برتری کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ ا یک دوسرے کی آڈیو وڈیو لیک کے بل بوتے پر سیاست کا آغاز کرنے والے سیاستدانوں نے بلیک میلنگ کی روش اپنا کر اپنے سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کا جو راستہ اپنایا اُس کی اجازت اسلام بھی نہیں دیتا ۔ اسلام رواداری،برداشت، شرم و حیا اور دوسروں کی عزت و احترام کا جہاں درس دیتا ہے، وہاں بدی کو نیکی سے، شر کو امن ، اندھیرے کو روشنی سے، ظلم کو امن سے ختم کرنے کا بھی درس دیتا ہے ۔

    آڈیو اور وڈیو پر لیکس کے ڈرامے سے مقتدر ایجنسیوں کا کوئی لینا دینا نہیں وہ وطن عزیز کے دفاع اور سلامتی کی ضامن ہیں۔ اس وقت ملکی سلامتی کے اداروں کی پوری توجہ دہشت گردی کے جن کو قابو رکھنے پ مبذول کی ہوئی ہے ۔ کسی بھی سیاسی شخصیت یا پارٹی کو اپنے اخلاقی دیوالیہ پن کا ملبہ قومی سلامتی کے اداروں پر ڈالنے سے اجتناب برتنا چاہیئے ۔ موجودہ قومی سلامتی ادارے کے سربراہ جنرل ندیم انجم پاک فوج کا فخر ہیں ان کا تعلق غازیوں، شہیدوں کی سرزمین کے ساتھ ساتھ شہیدوںاور غازیوں کے خاندان سے ہے ۔ ان کی تربیت ان کے حقیقی ماموں( مرحوم) بطور کیپٹن پاک فوج میں سرانجام دیتے رہے جبکہ ان کے حقیقی بھائی افواج پاکستان میں بطور آفیسر جام شہادت نوش فرما چکے ہیں۔

    کسی کی ذات پر کیچڑ اُچھالنا یا کسی کو بے توقیر کرنا ان کی شخصیت اور خاندان اورتربیت کا ہرگز خاصا نہیں ۔ایک بے داغ بے لوث اور اعلٰی اخلاقی دار کے حامل خاندان سے ان کا تعلق ہے ۔ کسی بھی سیاسی سرکل کو بے جا الزام تراشیوں سے گریز کرنا چاہیئے ۔ پاک فوج اور قومی سلامتی کے ادارے اس وقت دشمنان پاکستان کے بدخواہوں کی سازشوں کو ناکام بنانے میں مصروف ہیں کسی بھی غیر مناسب پروپیگنڈے کو عوام پاکستان وطن عزیز کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں ۔ سیاستدان معاشی، بدحالی اور سیاسی بے یقینی اور مالیاتی دیوالیہ پن کے خطرات جو منڈلا رہے ہیں اُس پر توجہ دیں۔ سیاستدان آڈیو اور ویڈیو کے کاروبار کو فوری بند کریں ان کے اس کاروبار سے وطن عزیز کے مستقبل کی فصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اخلاق سوز جنگ کا بائیکاٹ کریں اسلامی اقدار کو فروغ دیا جائے ۔

  • آڈیو ویڈیو کی سیاست نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو کی سیاست نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی)آڈیو اور ویڈیو کی سیاست نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے یہ کسی کی بھی ہوں صحیح ہوں یا فیک کیا ہم نوجوان نسل کو کس طرف لے کر جارہے ہیں۔ کسی بھی ملک کے نوجوان ملک کا مستقبل ہوتے ہیں کیا ہم ان کا مستقبل سنوار رہے ہیں کیا آنے والا کل پاکستان کا نوجوان سرحدوں کی حفاظت کرے گا۔ مغربی ممالک کو گالیاں دینے والے مذہبی ٹھیکیدار کہاں ہیں؟ ملک کو کنگال کرنے کے بعد اب ملک کے مستقبل نوجوانوں سے یہ گندہ کھیل جاری ہے جسے کسی بھی زاویے سے درست قرار نہیں دیا جاسکتا،

    آلودہ فضا سے بیمار ہونے والوں میں کراچی کی عوام سرِ فہرست ہے:ماہرین صحت نے…

    بلاشبہ سوشل میڈیا نے ابلاغی مقام حاصل کرلیا ہے روایتی صحافت پیچھے رہ گئی ہے۔ سوشل میڈیا کو تعمیری کام کے لئے استعمال کیا جائے۔ سوشل میڈیا پر افراد پر تیشہ زنی کی جگہ امن‘ حیا‘ پاکیزگی‘ رشتوں کے احترام کی بحالی معاشرے سے فحاشی اور عریانی کو ختم کرنے کے لئے تدابیر اختیار کی جائیں۔ اس سلسلے میں علماء اور مشائخ اپنا کردار ادا کریں۔ اختلافات سے بالاتر ہو کر معاشرے کو درپیش اہم مسائل خاندانی نظام کا تحفظ‘ بزرگوں کا احترام‘ معاشرتی رواداری‘ عریانی اور فحاشی کے رائے عامہ کی بیداری بچوں کی تربیت کی آگاہی کی طرف توجہ دیں۔ عالمی دنیا میں اجازت کے بغیر کسی کی نجی زندگی سے متعلق معلومات کو شیئر کرنا قانونی طور پر قابل سزا جرم ہے۔

    کورونا کی پھرسے ابھرتی لہر:قبرستان بھرگئے:چینی حکومت نئے قبرستانوں کا سوچنے لگی

    کیا اس کو سیاست کہتے ہیں یہ زوال ہے سیاستدان ہوش کے ناخن لیں ملک کے مستقبل نوجوان نسل کو کیسی تربیت دی جارہی ہے۔ گجرات کے چوہدری ہوں یا عمران ہو یا آصف علی زرداری ہو یا پھر مسلم لیگ (ن) ہو خدارا اس ملک پر رحم کریں نوجوان نسل کا اور اس ملک کا مستقبل یہ نوجوان بچے اور بچیاں ہیں اقتدار کی خاطر ان سے کھیلنا بند کریں۔ اس طرح کے کھیل تماشے سیاست نہیں جمہوری زوال کا نام دیا جاسکتا ہے۔

  • ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ  رہے ہیں،تجزیہ ، شہزاد قریشی

    ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ رہے ہیں،تجزیہ ، شہزاد قریشی

    ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ رہے ہیں،تجزیہ ، شہزاد قریشی
    پاک فوج ملکی سلامتی کے ادارے پولیس ، اس وطن عزیز اوربسنے والے کروڑوں عوام کی خاطر شہید ہو رہے ہیں۔ پاک فوج اورقومی سلامتی کے ادارے کئی محاذوں اورآزمائشوں سے گزر رہے ہیں ۔ دشمن کی بھاری تخریب کاری کا مقابلہ جاری ہے ۔ سیاستدانوں کا کام عوام کے مسائل کو حل کرنا تھا مگروہ اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں آج وطن عزیز جن حالات سے گزر رہا ہے سیاستدانوں نے ہی اس حال تک پہنچایا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ان سے باز پرس کون کرے گا؟ جو ان سے باز پُرس کرنے والے ہیں وہ ڈھول کی تھاپ پر ان کے آگے بھنگڑے ڈالتے ہیں اوروقت آنے پر ووٹ بھی انہی کو دیتے ہیں ۔عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم بھی ہوتے ہیں اور غربت سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ تاہم بھارت اور پاکستان دشمن قوتوں کی طرف سے تخریب کاری بھی جاری ہے اوراقتدار حاصل کرنے اقتدار کو طول دینے والوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔

    قوم بے فکر رہے تخریب کاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے موجودہ فوجی جرنیل اور ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ رہے ہیں بھارت کی حکمت عملی کو خاک میں ملا دیں گے۔ قوم کو بلوچستان اور پاک افغان سرحد پر ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے اپنی جان نثار کرنے والے شہیدوں اور غازیوں ،پولیس کے شہداء اور غازیوں جو مادر وطن کے لیے اپنا خون بہا چکے ہیں اور انہی کے راستے پر چلتے ہوئے ان کے سینکڑوں ہزاروں ساتھی ملکی بقا اور سلامتی کے لیے نبرد آزما ہیں ۔ ہماری افواج کے افسر اور جوان وطن عزیز اور کروڑوں عوام کے لئے بے مثال قربانیاں پیش کررہے ہیں ۔

    ہمارے شہداء اور غازی اس بات کے حقدار ہیں ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جائے ۔ سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ قوم کو متحد کریں ۔ اپنی انائوں کی سولیاں اکھاڑ لیں جن پر مصلوب کرتے ہیں اور کبھی قوم کے مفادات کو قومیں کبھی دو عملی اوردو رخی پالیسی سے سرخرو نہیں ہو سکتیں ۔ فوجیں کبھی قوم کی پشت پناہی کے بغیر فتح یاب نہیں ہوا کرتی۔ خود پسندی ، انا پرستی اور منافقت کو خیر باد کہہ کر قومی یکجہتی کے دھارے میں شامل ہونے کا لمحہ ہے ۔ ایک طرف معاشی بحران دوسری طرف تخریب کاری۔ملکی سالمیت اور بقاء کے لئے قوم کے مسائل کے حل کے لیے نفرتوں کو دفن کریں۔

  • قول و فعل کے تضاد سے نقصان ہی ہوا۔ تجزیہ، شہزاد قریشی

    قول و فعل کے تضاد سے نقصان ہی ہوا۔ تجزیہ، شہزاد قریشی

    آج بابائے قوم کے پاکستان اور اس ریاست میں بسنے والوں کے ساتھ کیسا کھلواڑ جاری ہے۔ اقتدار کی لاجواب بندر بانٹ نے ملکی معیشت کا گلا گھونٹ دیا ہے اقتدار میں دوبارہ لائو۔ میری باری تیری باری اور تقرریوں کی بولیاں۔ پلاٹوں کی بندر بانٹ نے وطن عزیز کو اس نہج پر لے آئی ہے کہ مالی دیوالیہ پن منڈیرپر آچکا ہے لیکن الیکشن کرائو نہ کرائو سری لنکا کی تقلید کے نعرے سیاسی ناعاقبت اندیشی اور اہم نوعیت کے مقدمات میں عدالتوں میں التواء ایسے عوامل ہیں جن پر تاحال کوئی قابو و کنٹرول نہ پایا جا سکا۔

    مقتدر حلقوں کو بلاتاخیر وطن عزیز میں جاری اللوں تللوں کو جام کر کے مالیاتی ایمرجنسی لگا کر لوٹ مار میں ملوث شخصیات کو سمری ٹرائل کے ذریعے سزائیں دے کر لوٹا ہوا قومی سرمایہ واپس قومی خزانے میں جمع کرانا ہوگا۔ بنکوں سے اربوں کے قرضے لے کر معاف کرانے والوں سے قرضے واپس کرنا ہوں گے۔ موجودہ حالات میں الیکشن کی رٹ لگانے والوں کو بھی بلارعایت احتساب کے عمل سے گزار کر اگلے الیکشن کا انعقاد کیا جائے۔ قارئین ان اقدامات کی تجویز عالمی سطح پر ملکی وقار اور ملکی عزت کو مدنظر رکھ کر دے رہا ہوں۔

    میں جمہوری عمل پر یقین رکھنے والا شخص ہوں لیکن وطن عزیز میں جمہوریت کے ڈھنڈورے کو صرف اقتدار حاصل کر نے کا ذریعہ ہی سمجھا گیا ہے۔ مجھے آج ماضی کے وزیراعظم محمد خان جونیجو مرحوم جنہوں نے ضیاء الحق کے مارشل لا میں مہنگی گاڑیوں کا استعمال ملکی معیشت پر بوجھ سمجھ کر تمام سرکاری افسران بشمول ملٹری افسران کے لئے چھوٹی سوزوکی کاروں کے استعمال کی کڑی شرط عائد کر کے معاشی ڈسپلن اور کفایت شعاری کی راہ تو دکھائی تھی لیکن بیورو کریسی اور افسران کو یہ بات ذرا نہ بھائی تھی اور محمد خان جونیجو مرحوم جیسے حقیقت پسند اور شریف النفس شخصیت کو اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑے اگر اس وقت سے ہی ایسی معاشی پابندیاں اور سیلف ڈسپلن کی روش کو جاری رکھا جاتا تو آج ہماری حالت یہ نہ ہوتی

    اج ہم مغرب میں سائیکلوں پر سفر کی مثالیں دے کر اقتدار تو حاصل کر لیتے ہیں پھر ہیلی کاپٹروں کو رکشہ ٹیکسی کی طرح زیر استعمال کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی وابستگیوں اور ذاتی پسند ناپسند سے بالاتر ہو کر محب وطن ٹیکنو کریٹس، رائٹ مین راٹ جاب کے فارمولے پر مامور کر کے ملک کو معاشی اور سیاسی گرداب سے نکالا جائے۔

  • سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی
    ملک میں سیاسی استحکام سیاستدانوں میں عدم خود اعتمادی اور سیاسی بلوغت کے فقدان کے سبب ہے۔ موروثی سیاست کی دوڑ اور مقتدر حلقوں کے مرہون منت شخصیات اور لینڈ مافیا کے جہازوں میں جھولے لینے والے سیاستدان کسی طرح بھی وطن عزیز کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ پنجاب میں بھرتیوں سے لیکر سیاسی امور حتیٰ کہ اسمبلیوں کی تحلیل پر پالیسی بیان ٹویٹ کرکے اپنے ڈی فیکٹو وزیراعلیٰ پنجاب ہونے کا تاثر دینے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ اور حیف ہے ان نام نہاد سیاستدانوں پر جو طفل سیاست کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ کر قومی معاملات میں ان سے مشاورت کے لئے گھنٹوں انتظار کی لائن میں لگے رہتے ہیں۔ کیا کسی بھی جمہوری ملک میں ایسا ممکن ہے کہ کسی وزیراعظم’ وزیراعلیٰ’ مشیر اعلیٰ کی اولادیں قومی اور سیاسی انتظامی اور پارلیمانی امور میں اپنے والدین کے عہدوں کے بل بوتے پر فیصلے صادر کررہے ہوں۔ ہرگز نہیں

    ہمارے ہاں سیاسی انحطاط کی اس سے بدتر مثال کہیں نہیں ملتی آج اس بدانتظامی کو مثال بنا کر کسی بھی اعلیٰ پولیس آفیسر یا بیوروکریٹ یا انتظامی افسران کا بیٹا بیٹی بھی انتظامی احکامات پر ٹویٹ در ٹویٹ کرنا شروع کردے تو کیا تعجب ہوگا؟ آج کے سیاستدانوں کو قائد اعظم’ خان لیاقت علی خان’ نواب زادہ نصراﷲ’ ایئرمارشل اصغر خان’ پروفیسر این ڈی خان’ معراج خالد’ معراج محمد خان’ ملک قاسم’ بے نظیر بھٹو’ ذوالفقار علی بھٹو’ رضا ربانی’ پرویز رشید’ مولانا عبدالستار خان نیازی’ مولانا مودودی’ مولانا مفتی محمود’ مولانا کوثر نیازی اور اسی طرح دیگر بہت سے نام ہیں جن کی سیاسی بصیرت اور ادراک کو مشعل راہ بنانا چاہئے اور اپنے سیاسی فیصلوں کے لئے گیٹ نمبر4 اور پانچ کی طرف یا آبپارہ کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے فوج نے سیاسی کردار سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور انہوں نے سیاسی دروازے بند کردیئے ہیں سیاستدانوں کو بیساکھیوں کو چھوڑ کر اپنے کردار سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا۔