Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • نیا سال اور پھر سیاستدانوں کے نئے عزائم، تجزیہ: شہزاد قریشی

    نیا سال اور پھر سیاستدانوں کے نئے عزائم، تجزیہ: شہزاد قریشی

    نئی عیسوی سال 2023ء کا آغاز ہو چکا ہے ۔ اہل مغرب خاص طور پر اس موقع پر دو کام کرتے ہیں ایک دوسرے کو مبارکباد اور نئے سال کے لئے عزائم، عرب ممالک میں بھی تبدیلی شروع ہو چکی بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سعودی عرب مشرقی اور مغرب کے درمیان ایک دوسرے سے جڑا ہوا مرکز بن چکا ہے دوسری طرف قطر نے یورپی دنیا میں عربوں کی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے۔ چین کے صدر نے بھی سعودی عرب کا دورہ کیا۔ اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ بن سلیمان کی پالیسیوں کی وجہ سے سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ امن اور استحکام کا مرکز بن چکا ہے۔ ہم نے نئے سال کا جشن تو منایا مگر تادم تحریر ہمارے سیاسی رہنمائوں نے ایک دوسرے کو غدار، چور، ڈاکو، کرپٹ، نااہل، بدکار، ثابت کرنے میں وقت ضائع کر دیا۔ ملک و قوم دونوں کو لاغر کر دیا۔ ملک و قوم کو بے بس، لاچار، بے چارہ دوسروں کے رحم و کرم پر پہنچا دیا۔ خون خرابہ، دہشت گردی، تمام صوبوں میں ایک ہنگامہ برپا ہے۔ پاک فوج اور پولیس اپنے شہید ہونیوالے جوانوں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں حکمران اور اپوزیشن والے بتائیں اب نئے سال کے کیا عزائم ہیں؟ کس سیاستدان کس جماعت کو عبرت کا نشان بنانا ہے؟ امریکہ سمیت کس مغربی ممالک کو گالیاں دے کر اپنی سیاست کو زندہ رکھنا ہے۔ کس کو بھارتی ایجنٹ اسرائیلی ایجنٹ قرار دینا ہے۔ کارکردگی کا عالم تو یہ ہے ملک میں نہ گیس ہے نہ بجلی۔ دنیا ترقی کے منازل طے کر رہی ہے ایک دوسرے پر ایک دوسرے پر آئی ایم ایف سے قرض لینے کا الزام لگانے والے سیاستدانوں کو اور فیصلہ ساز اداروں کو یاد نہیں کہ جس سیاستدان نوازشریف نے آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اپنے ایک دور حکومت میں جس میں موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار تھے پالیسی بنائی تھی اس کو غدار، کرپٹ ترین، مودی کا یار، ملک دشمن قرار نہیں دیا؟ ایک دور میں نوازشریف نے آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے صوابدیدی فنڈ سے دستبرداری کا اعلان نہیں کیا تھا؟ کیا حکومتی برآمدات بڑھانے ، درآمدات جو کہ غیر ضروری ہیں ان کو کنٹرول کرے؟ ملک اپنے وسائل پرانحصار کرے۔ اگر 1990ء کے دور حکومت میں نوازشریف کی معاشی اصلاحات پر کام جاری رہتا تو آج ہم کب کا کشکول توڑ چکے ہوتے۔ بدقسمتی سے ہماری کسی حکومت کو مدت پوری کرنے نہیں دی گئی جس کا خمیازہ ملک اور قوم دونوں بھگت رہے ہیں۔ پاکستان کو معاشی اصلاحات دینے والا نوازشریف آج بھی اپنے ایک بھائی اور مسلم لیگی ورکر شہبازشریف کے دورحکومت میں جلاوطن ہی ہے۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ہم 2023 میں داخل ہونے والے ہیں۔ایک طرف بھارت اور افغانستان کی طرف سے وطن عزیز میں دوبارہ دہشت گرد ی خودکش حملوں کا سلسلہ جاری ہے فوجی افسران ،فوجی جوان، پولیس اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب سیاسی انتشار اپنے عروج پر ہے ۔ اقتدار حاصل کرنے اور اقتدار کو طول دینے کی سیاست ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بے یقینی کے ایسے خوفناک وقت میں ہم کیسے پُر امید ہو سکتے ہیں کہ ان حالات میں ہماری معیشت ، ملک میں امن ، دہشت گردی کا خاتمہ ۔ آنے والے سال میں ملک ان مسائل سے چھٹکارا حاصل کرے گا؟ ہماری طاقت ہمارے اتحاد میں ہے ۔سیاسی جماعتیں ریاست ااور اس میں بسنے والے عوام کے لئے متحد ہو جائیں۔ سیاسی انتشار میں کوئی معاشرہ اور ریاست ، اور معیشت ترقی نہیں کر سکتی۔ قومی سلامتی کے لئے نئی حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی ۔ ترقی کے لئے پُرامن ماحول میں بہت ہی ضروری ہے۔

    21 ویں صدی میں مل کر پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لیے پالیسیاں بنائی جائیں ۔ وطن عزیز کے وسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مگر کیا کیاجائے ہمارے سیاستدانوں کو اقتداراور صرف اقتدار چاہیئے۔ انہیں ریاست اور عوام کے مسائل سے دلچسپی نہیں ۔آج سیاسی گلیاروں میں اخلاقی اقدار کے معیار گر گئے۔ آج سیاست میں عوام کی موجودگی نہیں ۔ عوام کے بنیادی مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ۔ ہر طرف اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ ایک دوسرے کو چور ڈاکو سمیت غیر اخلاقی الزامات لگائے جارہے ہیں ۔سیاستدان سیاسی گلیاروں میں ایک دوسرے کی مائوں ، بہنوں ،بیٹیوں اوربیویوں کی سوشل میڈیا پر توہین کرتے نظر آرہے ہیں ان حالات میں سیاست اور ریاست کی حالت کیا ہوگی ؟ ۔

    زمینی حقائق سے کوسوں دورسیاست میں شوروغل مچا ہوا ہے۔ محسوس ہوتا ہے سیاست عوام اور ریاستی مسائل سے بے بہرہ ہو کر تماشوں تک محدود ہو گئی ہے ۔ موجودہ شور شرابے میں وطن عزیز کی معیشت مستحکم کیسے ہو سکتی ہے ؟۔اقتدار حاصل کرنے والے اوراقتدار کوطول دینے والے ہوش کے ناخن لیں ہمارے اطراف میں دہشت گردی کی آگ دوبارہ لگا دی گئی ہے ۔پاک فوج ،قومی سلامتی کے ادارے ، پولیس اس نئی آگ کو ملک و قوم کو محفوظ رکھنے کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔ سیاستدان بھی ملک وقوم کی خاطر انتشار کی سیاست کو دفن کرکے ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں۔

  • ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں بحران،تجزیہ: شہزاد قریشی

    ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں بحران،تجزیہ: شہزاد قریشی

    بڑھتی شرح سود،امریکی ڈالر کی مضبوطی، ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں بحران،تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان سمیت دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ممالک کو بڑھتی ہوئی مہنگائی، بڑھتی ہوئی شرح سود اور امریکی ڈالر کی مضبوطی ترقی پذیر دنیا کے کئی ممالک میں ایک بحران جنم لے رہا ہے۔ دی اکانومسٹ نے 53 ممالک کی نشاندہی کی ہے جو یا تو اپنے قرضے ادا کر چکے ہیں یا قرض کی وجہ سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ ورلڈ بنک کے مطابق تقریباً ساٹھ فیصد ممالک زیادہ قرض دار بن چکے ہیں۔ دی اکانومسٹ نے جن 53 ممالک قرضوں کی وجہ سے پریشانی کی نشاندہی کی ہے وہ دنیا کی اٹھارہ فیصد آباد ی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بہت سے ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کرنسیوں میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں تیزی سے گراوٹ آئی ہے قرض دینے والے کم آمدنی والے ممالک کے لئے قرض میں ریلیف فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور ان کو لازمی طور پر ادا کرنا چاہئے۔ درمیانی آمدن والے ممالک جیسے لبنان، سری لنکا اور سورنیام پہلے ہی نادہند ہ ہیں۔ جبکہ مصر، گھانا، پاکستان، تیونس سمیت دیگر کو قرض کی شدید پریشانی کا سامنا ہے ارجنٹائن اور ایکواڈور نے پہلے ہی 2020 میں اپنے غیر ملکی قرضوں کی تنظیم نو کر لی ہے عالمی معاشی ماہرین نے آئی ایم ایف ورلڈ بنک اور عالمی مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کو وہ ریلیف دیں جس کی انہیں ضرورت ہے

    ورلڈبنک یا علاقائی ترقیاتی بنکوں کے لئے کریڈٹ کی سہولت فراہم کریں جس سے پریشان قرض دہندگان رضاکارانہ طور پر استعمال کریں۔ یہ سہولت تمام دوطرفہ اور تجارتی قرضوں اور مساوی شرائط پر لاگو ہو اور قرضوں پر دوبارہ گفت و شنید کے دوران اس عمل کا انتظام کرنے والے کثیر الطرفہ بنک کی طرف سے سخت نگرانی کی جائے عالمی معاشی ماہرین نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اس میں شامل ممالک کو تکمیلی کریڈٹ کی پیشکش کر کے قرضوں کی تنظیم نو کے معاہدوں میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ بین الاقوامی اداروں کو ہر معاملے کی بنیاد پر ریلیف کے بارے میں فیصلے کرنے چاہئیں۔ اس کی تکمیل کثیر الجہتی ترقیاتی بنکوں کی طرف سے مزید عالمی امداد سے کی جانی چاہئے۔ صرف ان ممالک کے لئے جن کو قرضوں میں ریلیف کی ضرورت ہے بلکہ ان کے لئے بھی جو نہیں کرتے اور یقینا تمام ترقی پذیر ممالک کو طویل مدتی قرضوں کی پائیداری کو یقینی بنانے کے لئے ساختی اور مالیاتی اصلاحات کو نافذ کرنا چاہئے۔

  • آڈیو ویڈیو لیکس کے ڈرامے،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو لیکس کے ڈرامے،تجزیہ :شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو لیکس کے ڈرامے،تجزیہ :شہزاد قریشی
    اینٹ کا جواب پتھر سے دے کر سیاسی جماعتیں کون سا اخلاقی برتری کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ ا یک دوسرے کی آڈیو وڈیو لیک کے بل بوتے پر سیاست کا آغاز کرنے والے سیاستدانوں نے بلیک میلنگ کی روش اپنا کر اپنے سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کا جو راستہ اپنایا اُس کی اجازت اسلام بھی نہیں دیتا ۔ اسلام رواداری،برداشت، شرم و حیا اور دوسروں کی عزت و احترام کا جہاں درس دیتا ہے، وہاں بدی کو نیکی سے، شر کو امن ، اندھیرے کو روشنی سے، ظلم کو امن سے ختم کرنے کا بھی درس دیتا ہے ۔

    آڈیو اور وڈیو پر لیکس کے ڈرامے سے مقتدر ایجنسیوں کا کوئی لینا دینا نہیں وہ وطن عزیز کے دفاع اور سلامتی کی ضامن ہیں۔ اس وقت ملکی سلامتی کے اداروں کی پوری توجہ دہشت گردی کے جن کو قابو رکھنے پ مبذول کی ہوئی ہے ۔ کسی بھی سیاسی شخصیت یا پارٹی کو اپنے اخلاقی دیوالیہ پن کا ملبہ قومی سلامتی کے اداروں پر ڈالنے سے اجتناب برتنا چاہیئے ۔ موجودہ قومی سلامتی ادارے کے سربراہ جنرل ندیم انجم پاک فوج کا فخر ہیں ان کا تعلق غازیوں، شہیدوں کی سرزمین کے ساتھ ساتھ شہیدوںاور غازیوں کے خاندان سے ہے ۔ ان کی تربیت ان کے حقیقی ماموں( مرحوم) بطور کیپٹن پاک فوج میں سرانجام دیتے رہے جبکہ ان کے حقیقی بھائی افواج پاکستان میں بطور آفیسر جام شہادت نوش فرما چکے ہیں۔

    کسی کی ذات پر کیچڑ اُچھالنا یا کسی کو بے توقیر کرنا ان کی شخصیت اور خاندان اورتربیت کا ہرگز خاصا نہیں ۔ایک بے داغ بے لوث اور اعلٰی اخلاقی دار کے حامل خاندان سے ان کا تعلق ہے ۔ کسی بھی سیاسی سرکل کو بے جا الزام تراشیوں سے گریز کرنا چاہیئے ۔ پاک فوج اور قومی سلامتی کے ادارے اس وقت دشمنان پاکستان کے بدخواہوں کی سازشوں کو ناکام بنانے میں مصروف ہیں کسی بھی غیر مناسب پروپیگنڈے کو عوام پاکستان وطن عزیز کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں ۔ سیاستدان معاشی، بدحالی اور سیاسی بے یقینی اور مالیاتی دیوالیہ پن کے خطرات جو منڈلا رہے ہیں اُس پر توجہ دیں۔ سیاستدان آڈیو اور ویڈیو کے کاروبار کو فوری بند کریں ان کے اس کاروبار سے وطن عزیز کے مستقبل کی فصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اخلاق سوز جنگ کا بائیکاٹ کریں اسلامی اقدار کو فروغ دیا جائے ۔

  • آڈیو ویڈیو کی سیاست نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو کی سیاست نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا۔ تجزیہ:شہزاد قریشی

    اسلام آباد (رپورٹ شہزاد قریشی)آڈیو اور ویڈیو کی سیاست نے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے یہ کسی کی بھی ہوں صحیح ہوں یا فیک کیا ہم نوجوان نسل کو کس طرف لے کر جارہے ہیں۔ کسی بھی ملک کے نوجوان ملک کا مستقبل ہوتے ہیں کیا ہم ان کا مستقبل سنوار رہے ہیں کیا آنے والا کل پاکستان کا نوجوان سرحدوں کی حفاظت کرے گا۔ مغربی ممالک کو گالیاں دینے والے مذہبی ٹھیکیدار کہاں ہیں؟ ملک کو کنگال کرنے کے بعد اب ملک کے مستقبل نوجوانوں سے یہ گندہ کھیل جاری ہے جسے کسی بھی زاویے سے درست قرار نہیں دیا جاسکتا،

    آلودہ فضا سے بیمار ہونے والوں میں کراچی کی عوام سرِ فہرست ہے:ماہرین صحت نے…

    بلاشبہ سوشل میڈیا نے ابلاغی مقام حاصل کرلیا ہے روایتی صحافت پیچھے رہ گئی ہے۔ سوشل میڈیا کو تعمیری کام کے لئے استعمال کیا جائے۔ سوشل میڈیا پر افراد پر تیشہ زنی کی جگہ امن‘ حیا‘ پاکیزگی‘ رشتوں کے احترام کی بحالی معاشرے سے فحاشی اور عریانی کو ختم کرنے کے لئے تدابیر اختیار کی جائیں۔ اس سلسلے میں علماء اور مشائخ اپنا کردار ادا کریں۔ اختلافات سے بالاتر ہو کر معاشرے کو درپیش اہم مسائل خاندانی نظام کا تحفظ‘ بزرگوں کا احترام‘ معاشرتی رواداری‘ عریانی اور فحاشی کے رائے عامہ کی بیداری بچوں کی تربیت کی آگاہی کی طرف توجہ دیں۔ عالمی دنیا میں اجازت کے بغیر کسی کی نجی زندگی سے متعلق معلومات کو شیئر کرنا قانونی طور پر قابل سزا جرم ہے۔

    کورونا کی پھرسے ابھرتی لہر:قبرستان بھرگئے:چینی حکومت نئے قبرستانوں کا سوچنے لگی

    کیا اس کو سیاست کہتے ہیں یہ زوال ہے سیاستدان ہوش کے ناخن لیں ملک کے مستقبل نوجوان نسل کو کیسی تربیت دی جارہی ہے۔ گجرات کے چوہدری ہوں یا عمران ہو یا آصف علی زرداری ہو یا پھر مسلم لیگ (ن) ہو خدارا اس ملک پر رحم کریں نوجوان نسل کا اور اس ملک کا مستقبل یہ نوجوان بچے اور بچیاں ہیں اقتدار کی خاطر ان سے کھیلنا بند کریں۔ اس طرح کے کھیل تماشے سیاست نہیں جمہوری زوال کا نام دیا جاسکتا ہے۔

  • ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ  رہے ہیں،تجزیہ ، شہزاد قریشی

    ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ رہے ہیں،تجزیہ ، شہزاد قریشی

    ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ رہے ہیں،تجزیہ ، شہزاد قریشی
    پاک فوج ملکی سلامتی کے ادارے پولیس ، اس وطن عزیز اوربسنے والے کروڑوں عوام کی خاطر شہید ہو رہے ہیں۔ پاک فوج اورقومی سلامتی کے ادارے کئی محاذوں اورآزمائشوں سے گزر رہے ہیں ۔ دشمن کی بھاری تخریب کاری کا مقابلہ جاری ہے ۔ سیاستدانوں کا کام عوام کے مسائل کو حل کرنا تھا مگروہ اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں آج وطن عزیز جن حالات سے گزر رہا ہے سیاستدانوں نے ہی اس حال تک پہنچایا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ان سے باز پرس کون کرے گا؟ جو ان سے باز پُرس کرنے والے ہیں وہ ڈھول کی تھاپ پر ان کے آگے بھنگڑے ڈالتے ہیں اوروقت آنے پر ووٹ بھی انہی کو دیتے ہیں ۔عوام بنیادی ضروریات زندگی سے محروم بھی ہوتے ہیں اور غربت سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ تاہم بھارت اور پاکستان دشمن قوتوں کی طرف سے تخریب کاری بھی جاری ہے اوراقتدار حاصل کرنے اقتدار کو طول دینے والوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔

    قوم بے فکر رہے تخریب کاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے موجودہ فوجی جرنیل اور ملکی دفاع کے ذمہ دار جاگ رہے ہیں بھارت کی حکمت عملی کو خاک میں ملا دیں گے۔ قوم کو بلوچستان اور پاک افغان سرحد پر ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے اپنی جان نثار کرنے والے شہیدوں اور غازیوں ،پولیس کے شہداء اور غازیوں جو مادر وطن کے لیے اپنا خون بہا چکے ہیں اور انہی کے راستے پر چلتے ہوئے ان کے سینکڑوں ہزاروں ساتھی ملکی بقا اور سلامتی کے لیے نبرد آزما ہیں ۔ ہماری افواج کے افسر اور جوان وطن عزیز اور کروڑوں عوام کے لئے بے مثال قربانیاں پیش کررہے ہیں ۔

    ہمارے شہداء اور غازی اس بات کے حقدار ہیں ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جائے ۔ سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ قوم کو متحد کریں ۔ اپنی انائوں کی سولیاں اکھاڑ لیں جن پر مصلوب کرتے ہیں اور کبھی قوم کے مفادات کو قومیں کبھی دو عملی اوردو رخی پالیسی سے سرخرو نہیں ہو سکتیں ۔ فوجیں کبھی قوم کی پشت پناہی کے بغیر فتح یاب نہیں ہوا کرتی۔ خود پسندی ، انا پرستی اور منافقت کو خیر باد کہہ کر قومی یکجہتی کے دھارے میں شامل ہونے کا لمحہ ہے ۔ ایک طرف معاشی بحران دوسری طرف تخریب کاری۔ملکی سالمیت اور بقاء کے لئے قوم کے مسائل کے حل کے لیے نفرتوں کو دفن کریں۔

  • قول و فعل کے تضاد سے نقصان ہی ہوا۔ تجزیہ، شہزاد قریشی

    قول و فعل کے تضاد سے نقصان ہی ہوا۔ تجزیہ، شہزاد قریشی

    آج بابائے قوم کے پاکستان اور اس ریاست میں بسنے والوں کے ساتھ کیسا کھلواڑ جاری ہے۔ اقتدار کی لاجواب بندر بانٹ نے ملکی معیشت کا گلا گھونٹ دیا ہے اقتدار میں دوبارہ لائو۔ میری باری تیری باری اور تقرریوں کی بولیاں۔ پلاٹوں کی بندر بانٹ نے وطن عزیز کو اس نہج پر لے آئی ہے کہ مالی دیوالیہ پن منڈیرپر آچکا ہے لیکن الیکشن کرائو نہ کرائو سری لنکا کی تقلید کے نعرے سیاسی ناعاقبت اندیشی اور اہم نوعیت کے مقدمات میں عدالتوں میں التواء ایسے عوامل ہیں جن پر تاحال کوئی قابو و کنٹرول نہ پایا جا سکا۔

    مقتدر حلقوں کو بلاتاخیر وطن عزیز میں جاری اللوں تللوں کو جام کر کے مالیاتی ایمرجنسی لگا کر لوٹ مار میں ملوث شخصیات کو سمری ٹرائل کے ذریعے سزائیں دے کر لوٹا ہوا قومی سرمایہ واپس قومی خزانے میں جمع کرانا ہوگا۔ بنکوں سے اربوں کے قرضے لے کر معاف کرانے والوں سے قرضے واپس کرنا ہوں گے۔ موجودہ حالات میں الیکشن کی رٹ لگانے والوں کو بھی بلارعایت احتساب کے عمل سے گزار کر اگلے الیکشن کا انعقاد کیا جائے۔ قارئین ان اقدامات کی تجویز عالمی سطح پر ملکی وقار اور ملکی عزت کو مدنظر رکھ کر دے رہا ہوں۔

    میں جمہوری عمل پر یقین رکھنے والا شخص ہوں لیکن وطن عزیز میں جمہوریت کے ڈھنڈورے کو صرف اقتدار حاصل کر نے کا ذریعہ ہی سمجھا گیا ہے۔ مجھے آج ماضی کے وزیراعظم محمد خان جونیجو مرحوم جنہوں نے ضیاء الحق کے مارشل لا میں مہنگی گاڑیوں کا استعمال ملکی معیشت پر بوجھ سمجھ کر تمام سرکاری افسران بشمول ملٹری افسران کے لئے چھوٹی سوزوکی کاروں کے استعمال کی کڑی شرط عائد کر کے معاشی ڈسپلن اور کفایت شعاری کی راہ تو دکھائی تھی لیکن بیورو کریسی اور افسران کو یہ بات ذرا نہ بھائی تھی اور محمد خان جونیجو مرحوم جیسے حقیقت پسند اور شریف النفس شخصیت کو اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑے اگر اس وقت سے ہی ایسی معاشی پابندیاں اور سیلف ڈسپلن کی روش کو جاری رکھا جاتا تو آج ہماری حالت یہ نہ ہوتی

    اج ہم مغرب میں سائیکلوں پر سفر کی مثالیں دے کر اقتدار تو حاصل کر لیتے ہیں پھر ہیلی کاپٹروں کو رکشہ ٹیکسی کی طرح زیر استعمال کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی وابستگیوں اور ذاتی پسند ناپسند سے بالاتر ہو کر محب وطن ٹیکنو کریٹس، رائٹ مین راٹ جاب کے فارمولے پر مامور کر کے ملک کو معاشی اور سیاسی گرداب سے نکالا جائے۔

  • سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاستدان بیساکھیوں کے ہی منتظر کیوں ہوتے.تجزیہ: شہزاد قریشی
    ملک میں سیاسی استحکام سیاستدانوں میں عدم خود اعتمادی اور سیاسی بلوغت کے فقدان کے سبب ہے۔ موروثی سیاست کی دوڑ اور مقتدر حلقوں کے مرہون منت شخصیات اور لینڈ مافیا کے جہازوں میں جھولے لینے والے سیاستدان کسی طرح بھی وطن عزیز کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ پنجاب میں بھرتیوں سے لیکر سیاسی امور حتیٰ کہ اسمبلیوں کی تحلیل پر پالیسی بیان ٹویٹ کرکے اپنے ڈی فیکٹو وزیراعلیٰ پنجاب ہونے کا تاثر دینے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ اور حیف ہے ان نام نہاد سیاستدانوں پر جو طفل سیاست کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ کر قومی معاملات میں ان سے مشاورت کے لئے گھنٹوں انتظار کی لائن میں لگے رہتے ہیں۔ کیا کسی بھی جمہوری ملک میں ایسا ممکن ہے کہ کسی وزیراعظم’ وزیراعلیٰ’ مشیر اعلیٰ کی اولادیں قومی اور سیاسی انتظامی اور پارلیمانی امور میں اپنے والدین کے عہدوں کے بل بوتے پر فیصلے صادر کررہے ہوں۔ ہرگز نہیں

    ہمارے ہاں سیاسی انحطاط کی اس سے بدتر مثال کہیں نہیں ملتی آج اس بدانتظامی کو مثال بنا کر کسی بھی اعلیٰ پولیس آفیسر یا بیوروکریٹ یا انتظامی افسران کا بیٹا بیٹی بھی انتظامی احکامات پر ٹویٹ در ٹویٹ کرنا شروع کردے تو کیا تعجب ہوگا؟ آج کے سیاستدانوں کو قائد اعظم’ خان لیاقت علی خان’ نواب زادہ نصراﷲ’ ایئرمارشل اصغر خان’ پروفیسر این ڈی خان’ معراج خالد’ معراج محمد خان’ ملک قاسم’ بے نظیر بھٹو’ ذوالفقار علی بھٹو’ رضا ربانی’ پرویز رشید’ مولانا عبدالستار خان نیازی’ مولانا مودودی’ مولانا مفتی محمود’ مولانا کوثر نیازی اور اسی طرح دیگر بہت سے نام ہیں جن کی سیاسی بصیرت اور ادراک کو مشعل راہ بنانا چاہئے اور اپنے سیاسی فیصلوں کے لئے گیٹ نمبر4 اور پانچ کی طرف یا آبپارہ کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے فوج نے سیاسی کردار سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اور انہوں نے سیاسی دروازے بند کردیئے ہیں سیاستدانوں کو بیساکھیوں کو چھوڑ کر اپنے کردار سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا۔

  • سیاسی عدم استحکام، جماعت اسلامی ہی کردار ادا کر سکتی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاسی عدم استحکام، جماعت اسلامی ہی کردار ادا کر سکتی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی

    سیاسی عدم استحکام، جماعت اسلامی ہی کردار ادا کر سکتی ہے،تجزیہ: شہزاد قریشی
    پوری قوم بند گلی میں کھڑی ہے۔ اس وقت قوم کو جن مسائل کا سامنا ہے انہیں حل کرنے کی کوشش کریں۔ خطے کی تازہ ترین صورت حال کو بھی مدنظر رکھیں بالخصوص افغانستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے اثرات اس خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ عمران خان بھی اقتدار میں ہے اور پی ڈی ایم بھی اقتدار میں ہے عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں کوسوں دور ہیں ملک و قوم کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے ایسے ایسے ناٹک اور عوام کو ایسے ایسے موضوعات میں الجھا رکھا ہے کہ خدا کی پناہ، مثلاً پہلے آرمی چیف کی تعیناتی کو لے کر قوم کو بحث پر لگا دیا یوں محسوس ہو رہا تھا کہ شاید انسانی تاریخ میں پہلی بار کسی ملک میں آرمی چیف کا تقرر ہونے جا رہا ہے۔ اب کہیں سے تحریک عدم اعتماد کہیں سے گورنر راج۔ کہیں سے اسمبلی توڑنے کی باتیں کہیں سے قومی انتخابات کی باتیں کی جا رہی ہیں تاہم عوام کی تقدیر اور نصیب کے دامن کسی فقیر کے کاسہ گدائی کی طرح خالی کے خالی ہی رہے۔ عوام کے بنیادی حقوق کا خیال کون کرے گا؟ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کون کرے گا؟

    خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال بالخصوص افغانستان اور ملک و قوم کے مفاد میں سیاسی انتشار جس میں روز بروز اضافہ ہو رہا اس وقت جماعت اسلامی اپنا کردار ادا کرے اور سیاسی جماعتوں اور مذہبی جماعتوں کو ٹھنڈا کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ بلاشبہ جماعت اسلامی ایک بڑی اور مقتدر پارٹی ہے جس کی شرافت اور اصول و ضوابط کے قائل ان کے بدترین دشمن بھی رہے ہیں مولانا مودودی مرحوم کی تحریر و تقدیر جماعت کے تمام ساتھیوں اور رفقاء کے سینوں میں پیوست ہے۔ بڑھتے ہوئے سیاسی انتشار میں جماعت اسلامی کے امیر اپنا کردار ادا کریں ملک میں سیاسی عدم استحکام کو کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یوں محسوس ہوتا ہے سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی جان کی دشمن بن چکی ہیں۔ ملکی معیشت اور سیاست کے افق پر غیر یقینی کے بادل گہرے ہو گئے ہیں سیاسی رسہ کشی اور اقتدار کی جنگ نے ایک خطرناک نہج اختیار کرلی ہے سیاسی کشمکش کے زہریلے اثرات نہ صرف معیشت بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں

  • میرٹ اورسنیارٹی کی بنیاد پر تعیناتیاں ایک مثال ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    میرٹ اورسنیارٹی کی بنیاد پر تعیناتیاں ایک مثال ،تجزیہ: شہزاد قریشی

    میرٹ اورسنیارٹی کی بنیاد پر تعیناتیاں ایک مثال ،تجزیہ: شہزاد قریشی
    پاک آرمی اور مسلح افواج کے سربراہان کی میرٹ اور سنیارٹی کی بنیاد پر تعیناتیاں ایک مثال ہے جس کے دور رس نتائج اور ثمرات ملک و قوم کو ملیں گے۔ مسلح افواج کی موجودہ اور آئندہ قیادت ایک عرصے سے یقین دہانیاں کرا رہی ہے کہ افواج پاکستان غیر سیاسی اور نیوٹرل رہنا چاہتی ہیں اور سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے چاہئیں اور مسلح افواج کو سیاسی معاملات میں نہ گھسیٹا جائے۔ قربان جاؤں میں اپنے میڈیا ہاؤسز اور اینکر پرسنز ، سوشل میڈیا پر جنہوں نے عسکری تقرریوں کے فوراً بعد اپنی اپنی سکرینوں پر سرشام اپنی اپنی بزم سجا کر ایک نئے جذبے سے مباحثے چھیڑ کر بلاضرورت تبصرے اور تجزیئے شروع کردیئے ۔ کیا ملک و قوم کے یہی ایشوزرہ گئے ہیں؟

    اس وقت اسلام آباد اور پنجاب میں سیاسی رہنمائوں نے اپنی من پسند انتظامی افسران اور پولیس افسران کو تعینات کر کے نہ صرف پنجاب بلکہ اسلام آباد کی معصوم عوام کو چوروں، ڈاکوئوں، لینڈ مافیا اور دیگر معاشرتی جرائم پیشہ کے حوالے کر دیا ہے۔ پنجاب کے سلطان وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی اور پی ٹی آئی کو نوجوان نسل جو پنجاب کے شہری اور دیہی علاقوں کے کالجز میں پڑھ رہی ہے پروفیسروں کی کمی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ کم عمر مزدوروں کی کھیپ آبادی میں اکثریت حاصل کر رہی ہے ۔ بیماریوں میں مبتلا بوڑھے ،بچے ،خواتین سندھ، بلوچستان، پنجاب ، کے پی کے اور گلگت بلتستان کے دور افتادہ علاقوں میں صحت کی سہولتوں سے محروم ہیں۔ غربت، بیروزگاری ، جہالت، جرائم میں بے پناہ اضافہ یہ وہ ایشوز ہیں جو عام آدمی کے ایشوز ہیں۔ عام آدمی کے مسائل کو پس پشت ڈال کر سیاسی پنڈت اور میڈیا عسکری تقرریوں کو موضوع بحث لاکر کون سی عوامی خدمت سرانجام دینے جا رہی ہے

    آدھی سے زیادہ آبادی کو اور بچوں کو ملاوٹ شدہ دودھ پلایا جا رہا ہے۔ جعلی ادویات، ملاوٹ شدہ خوراک، ذخیرہ اندوزی، زمینوں پر قبضے، سول بیورو کریسی کے ناز نخرے، نام نہاد سیاسی رہنمائوں کا غرور اور تکبر۔ خدا راہ اس ملک اور اس کی عوام پر رحم کریں کسی بھی ملک کی طاقت اور رونق عوام ہوتی ہے عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔