Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • نواز شریف سیاسی جماعتوں میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    نواز شریف سیاسی جماعتوں میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی گلیاروں میں عجب بے معنی شور ہے۔ مشکلات میں گھرے عوام اور پاکستان کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں سیاسی غبارہ وقت سے پہلے پھٹ جائے تو خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔ پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ (ن) ہو یا دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں یا تحریک انصاف۔ پیپلزپارٹی کسی زمانے میں بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں قومی جماعت ہوا کرتی تھی اب صوبائی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نوازشریف کی قیادت میں قومی جماعت ہوا کرتی اب نوازشریف کی لندن اور بار بار جلاوطنی اور شہبازشریف اور ان کے ہمنوا ساتھیوں نے اس جماعت کو صوبے تک محدود کر دیا ہے جس طرح پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت نے پیپلزپارٹی کو صوبےتک محدود کردیا ہے اسی طرح شہبازشریف کی مفاہمتی سیاست نے ن لیگ کو بھی صوبے تک محدود کر دیا ہے کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے بطور سیاسی جماعت کو قومی جماعت نہیں کہہ سکتی۔

    نوازشریف کی طرز سیاست نظام اور ڈھانچوں کو ایک ترقی یافتہ جمہوریت کے اصولوں آئین اور قانون کے تحت استوار کرنے کی کوشش تھی۔ ن لیگ میں حوس اقتدار کے ماروں نے وہ گل کھلائے کہ جمہوریت کی پری بھی شرما گئی ۔نوازشریف کو کبھی عدالتوں کے ذریعے اور کبھی ہائی جیکر بنا کر اقتدار سے الگ کر دیا گیا ۔کبھی اٹک قلعہ تو کبھی ہوائی جہاز کی سیٹوں کے ساتھ باندھ کر کراچی پہنچا دیا گیا۔ بھٹو جیسے عالمی لیڈر اور محترمہ بے نظیر کی پیپلزپارٹی کا حال یہ کر دیا گیا اب وہ پنجاب میں اختیارات کی بھیک مانگنے پر مجبور ہو گئی ہے اس وقت آئینی عہدے رکھنے کے باوجود اور ایک صوبے میں حکومت ہونے کے باوجود پیپلزپارٹی کے پاس صوبہ پنجاب میں کوئی ووٹ بنک نہیں ۔صوبہ پنجاب میں تازہ ترین حالات میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف دونوں کی مقبولیت ہے۔ سیاسی گلیاروں میں چمچہ گیری، چاپلوسی اور جی حضوری اور واہ ہی واہ کرنے والوں اور اپنے ہی سیاسی قائدین کی مخبری کرنے والوں کا اضافہ ہو چکا ہے۔ بقول شاعر؎
    مجروع قافلے کی مرے داستاں یہ ہے
    رہبر نے ملکر لوٹ لیا راہزن کے ساتھ

    سیاسی جماعتیں اپنی ناکام پالیسیوں ناکام سیاست کا بدلہ قومی اداروں سے لے رہے ہیں سوال یہ ہے کہ ذرا سوچئے ہم کن راہوں کو چل نکلے ہیں ہمارا کیا بنے گا؟ ملک اور اس کے اداروں کی ناقدری نہ کریں ، رک جائیں۔ غیروں کی سازشوں کا آلہ کار نہ بنیں وطن عزیز تو اپنا ہے ہمارے سیاسی جھگڑے ختم کیوں نہیں ہوتے۔ نوازشریف اس پورے پاکستان کے سب سے پرانے اور زیرک سیاستدان ہیں سیاسی جماعتوں میں ثالثی کا کردار اداکر سکتے ہیں۔ نوازشریف بلاشبہ ماضی کے سیاسی زخموں سے بھرے پڑے ہیں بہت دھوکے بھی کھائے ہیں ایک مضبوط سیاسی رہنما بھی ہیں۔

  • بلوچستان دہشتگردی نے ہر محب وطن پاکستانی کو ہلا دیا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    بلوچستان دہشتگردی نے ہر محب وطن پاکستانی کو ہلا دیا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    گوادر پورٹ کی تعمیر پر بھارت کومروڑ اٹھ رہے،گھٹیا پن پر اترآیا
    معصوم شہریوں کا قتل عام،خوف وہراس پھیلانے کی بھونڈی سازش
    پاک فوج نے وطن عزیز کو محفوظ بنانے کے لئے اپنا کردار ہردم اداکیا

    بلوچستان میں دلخراش واقعات نے ہلا کر رکھ دیا، بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی وجوہات کیا ہیں؟ اصل وجہ گوادر پورٹ کی تعمیر ہے، بھارت سمیت وطن عزیز کے قریبی ہمسایہ ممالک اور کچھ بین الاقوامی طاقتیں جنہیں چین کا یہ منصوبہ ہضم نہیں ہو رہا وہ بلوچستان میں ان واقعات میں ذمہ دار ہو سکتے ہیں، دنیا کے ممالک کے درمیان نئی تجارتی منڈیوں ،سمندری زمینی فاصلوں کی کمی سستی تجارت پر سردجنگ زوروں پر ہے، چین کے مغربی علاقوں میں کوئی سمندر نہیں اورگوادر پورٹ چین کے مغربی علاقوں تک واحد راستہ ہے ، چین اور پاکستان اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے کاشغر تا گوادر ایک اقتصادی راہداری بنانے کے منصوبہ پر عمل پیرا ہیں،چین اور پاکستان کے اس عظیم الشان منصوبے سے پاکستان مخالف قوتیں اور چندقریبی ہمسایہ ممالک کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں اس لئے وہ بلوچستان میں دہشت گردی کے ذریعے خوف و ہراس پھیلارہے ہیں،

    میرا سوال ان نام نہاد سیاستدانوں اور نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں سے ہے کیا دنیا کا کوئی ملک اپنی سلامتی یا قومی سلامتی پر حملہ آوروں یا اس مکروہ سازش میں ملوث افراد کو اجازت دیتا ہے ؟ ضرب عضب ہویا ردالفساد اور اب استحکام پاکستان یہ سب وطن عزیز کی سلامتی اور قوم کے مفاد پر مبنی تھے اور ہیں،ان دلخراش واقعات کے پیش نظر پاک فوج اور جملہ اداروں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ وطن عزیز کو محفوظ بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں، پاک فوج اور جملہ اداروں کے ساتھ ہماری قومی سیاسی جماعتوں کے قائدین پربھی اس وطن عزیز کے لئے کردارادا کرنا اولین فریضہ ہے، جس طرح اپنے وزارت عظمی کے دوران میاں محمد نواز شریف نے قوم کے اتحاد اور سلامتی کے لئے بلوچستان میں اپنا اور اپنی جماعت کا اقتدار قربان کیا بلوچستان میں عوامی حکومت بنائی گئی ان لوگوں کو حکومت دی گئی جو سرداروں میں سے نہیں تھے،

    پاکستان کے موجودہ حالات کسی ایسے سیاسی لیڈر شپ کا تقاضا کرتے ہیں جو دشمنوں کے عزائم کو روک سکتا ہے یا دشمن کی سازش کو ناکام بنا سکتا ہے، ایک مضبوط سیاسی رہنما سلامتی اور استحکام کو نافذ کرتا ہے افراتفری سے بچاتا ہے ، کسی رہنما کے لئے صرف طاقت ہی کافی نہیں ہے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کو کیسے چلاتا ہے ملک کے اور عوام کے لئے اس کا وژن کیا ہے، ایک زیرک سیاستدان اپنے ملک کے دفاع کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔

  • نہتے پولیس اہلکاروں کی شہادت،انتظامیہ کی کارکردگی،سنجیدگی پر سوالات،تجزیہ: شہزاد قریشی

    نہتے پولیس اہلکاروں کی شہادت،انتظامیہ کی کارکردگی،سنجیدگی پر سوالات،تجزیہ: شہزاد قریشی

    کچے کے علاقہ میں پولیس کے نہتے اہلکاروں کی شہادت نے جہاں پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے وہاں وزارت داخلہ سے لے کر ضلعی پولیس انتظامیہ تک کی کارکردگی اور سنجیدگی پر سوالات کھڑے کردئیے ہیں ۔ کچے کا علاقہ جو کہ سندھ اور پنجاب پر پھیلا ہوا ہے وہاں پر ڈاکو راج کسی بھی حکومت خواہ وہ صوبائی ہو یا مرکزی، سے بالکل پوشیدہ نہیں تھا لیکن تساہل پسندی ،عہدوں سے لطف اندوزی ، فیلڈ میں ناتجربہ کار افسران کی سفارشو ں پر تعیناتیاں ، حقائق سے چشم پوشی ،کچے کے علاقے میں کچے اور ناتجربہ کار افسران کو عہدوں سے نوازنا اور سابقہ آپریشن کے تجربات کو سرد خانوں میں ڈمپ کرنا شامل ہیں۔

    آج پاکستان کو استحکام پاکستان کا جو چیلنج درپیش ہے اور اس چیلنج کو ہمارے آرمی چیف سید عاصم منیر اور وزیراعظم اور مقتدر حلقوں نے جس دلیری سے قبول کیا ہے وہ قابل ستائش ہے لیکن کچہ کے علاقے میں پولیس کے قتل عام نے تقاضہ کیاہے کہ آج جنرل نصیر اللہ بابر مرحوم جیسا وزیر داخلہ چاہیئے ۔ڈاکٹر شعیب سڈل جیسا پولیس کمانڈر اور میاں نواز شریف جیسا لیڈر چاہیئے جو اپنی ذات اور اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر کراچی جیسے بدامنی کے گھمسان کو امن کا گہوارہ بنانے کا جذبہ رکھتے تھے۔ حال ہی میں سائوتھ پنجاب کے سابق آئی جی نے بھی کچہ کے علاقے میں چھوٹو گینگ کے خلاف کامیاب آپریشن کیا تھا اور عہدے سے سبکدوش ہونے سے پہلے انہوں نے ذرائع کے مطابق ایک جامع رپورٹ اس وقت کے وزیراعلی پنجاب اور وزیراعظم پاکستان جناب میاں شہباز شریف کو ( جو اب بھی وزیراعظم ہیں) ارسال کی تھی ۔ کیا ان کی سفارشات اور تجاویز کو نیکٹا میں زیر غورلایا گیا ۔ کوئی معلوم نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ استحکام پاکستان کا عزم ایک نعرے کا نام نہیں جو کہ آرمی چیف نے لگا دیا ۔

    میں نے اپنے سابقہ کالموں میں بھی لکھا ہے کہ استحکام پاکستان کے سفرمیں سفارش ،مفادات پرست ،تساہل پسند اور کرپٹ ہمسفروں کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ وزارت داخلہ سے ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی جی سے تھانہ تک ، سفارش ، بدعنوانی ،رشوتیں دے کر عہدے خریدنے اور میرا ڈی پی او ، تیرا سی پی او والا کلچر ختم کرنا ہوگا۔ اگر ان مصلحتوں سے بالاتر ہو کر عمل نہ کیا گیا تو پھر راولپنڈی ڈویژن جیسے علاقے بھی کچے کے علاقے میں بدلتے جائیں گے اور پردہ اٹھتا جائے گا کہ فلاں ا فسر ماتحت ایس ایچ او کی سفارش پر لگا تھا اور فلاں ایس ایچ او کو ضلعی افسر نے عدالتی کارروائی سے بچانے کے لئے معطل کرکے بچا لیا تھا۔ تمام خفیہ ایجنسیوں کو متحرک ہو کر کام کرنا ہوگا ورنہ پوراپنجاب کچے کے افسروں کے ہاتھوں کچے کا علاقہ بن جائے گا۔

    اللہ کا واسطہ مجھے بچا لیں، ماچھکہ میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں یرغمال پولیس اہلکار کی دہائی

    اطلاع دیں،ایک کروڑ انعام پائیں، خطرناک ڈاکوؤں کی تصاویر جاری

    رحیم یار خان،پولیس اہلکاروں کی شہادت پر مقدمہ درج

    کچے کے علاقے میں شہید 12 پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا

    رائفل پکڑ لو لگتا ہے آخری ٹائم ہے،حملے سے قبل پولیس اہلکاروں کی ویڈیو وائرل

    پنجاب پولیس کی جوابی کارروائی،حملے کا مرکزی ملزم بشیر شر ہلاک

  • پاکستان میں تعلیمی نظام منافع بخش کاروبار کیوں؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    پاکستان میں تعلیمی نظام منافع بخش کاروبار کیوں؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    عالمی یونیورٹیوں کی اکیڈمک ریکنگ 2024 میں یورپی اور امریکی یونیورسٹیوں کا غلبہ رہا۔U) (ARW کے مطابق 2024 امریکہ کی کیمبرج میں واقعہ ہارورڈ یونیورسٹی نے مسلسل 22 سال سہر فہرست مقام حاصل کیا۔ دو اور امریکی ادارے سیٹنورڈ یونیورسٹی اور میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی یونیورسٹیوں کا غلبہ رہا۔ غلبے کی وجہ ان ممالک نے اقراء پر عمل کیا۔ ان اداروں میں پڑھانے والے پروفیسرز اپنی بھرپور توجہ اپنے اداروں پر اور پڑھنے والے بچے اور بچیوں پر دیتے ہیں۔ مسلم دنیا سمیت پاکستان کے پروفیسرز اور سکولوں کے اساتذہ کی بھرپور توجہ پرائیویٹ سکول او رکالجز پر ہوتی ہے جہاں آمدن کے ذرائع زیادہ ہوتے ہیں۔ ملک کے گلی کوچو ں میں پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں کی بھرمار ہے جو منافع بخش کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ سرکاری سکولوں اور کالجوں میں پڑھانے والوں کی سرپرستی میں یہ کاروبار اپنے عروج پر ہے۔ جس ملک میں تعلیمی اداروں کو منافع بخش کاروبار میں تبدیل کردیا جائے اس کی عالمی ریکنگ کیا ہوگی ؟ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران بھی اس منافع بخش کاروبار میں ملوث ہیں۔

    امریکہ اور یورپی ممالک کے تعلیمی اداروں سے وابستہ افراد خدمت کے جذبے سے جبکہ ہمارے ہاں اپنے مفادات دیکھے جاتے ہیں پاکستان اور ریاست کے نشیمن پر بجلیاں گرانے والے صرف تعلیمی اداروں میں بیٹھے اعلی افسران ہی نہیں سیاسی گلیاروں میں بیورو کریٹس میں ،سول انتظامیہ میں ، پولیس کے اعلی افسران میں۔ محکمہ مال میں،صحت کے اداروں میں۔ اسی طرح دیگر شعبوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ عوام کی اکثریت ملاوٹ میں ملوث ہے ۔ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ ، ادویات میں ملاوٹ ، سرکار دو عالمۖ کا حکم ہے کہ جو ملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔ کیا علماء ،مشائخ نے کبھی اس طرف توجہ دی ؟ انسانی زندگیوں سے کھلواڑ ہو رہاہے ۔ کھانے پینے اور ادویات میں ملاوٹ کا سورج اپنی آب و تاب کے ساتھ زندگیوں کا جھلسا رہا ہے ۔ علما، مشائخ ، عدلیہ ،بیورو کریسی ، سول انتظامیہ یا خود عوام نے غور کیا کہ ہم مخلوق خدا کے ساتھ یہ ظلم ہوتا کیو ں دیکھ رہے ہیں۔ گذشتہ 77 سالوں سے ہم انتشار اور خلفشار کا شکار ہیں آخر کیوں غور و فکر کیں ۔ ہم خدا اور اس کے رسولۖ کے نافرمان تو نہیں ؟ تعلیمی حوالے سے ایک مغربی دانشور نے کیا خوب کہا تھا:
    تعلیم و تدریس ایک بہترین پیشہ اور بدترین تجارت ہے۔

  • کارساز حادثہ،تلخ حقائق ،مبشر لقمان نے کیا حق ادا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    کارساز حادثہ،تلخ حقائق ،مبشر لقمان نے کیا حق ادا، تجزیہ: شہزاد قریشی

    گزشتہ روز ایک اور سانحہ کارساز رونما ہو گیا اور کراچی کی ایک سڑک پر ایک غریب محنت کش اور اس کی تعلیم یافتہ بیٹی کو ایک سرمایہ دار گروپ کی خاتون نے ٹکر مار کر نہ صرف لقمہ اجل بنا ڈالا بلکہ دیگر افراد کو بھی اپنی گاڑی تلے کچل کر زخمی کر دیا اور پھر قانون نے اسے تھانے پہنچا کر ایئرکنڈیشن کمرے کی زینت بنایا ،پھر اگلے روز جیسا کہ توقع تھی عدالت میں بھی پیش نہ کی جا سکی اور دولت کی کارسازیاں منظر عام پر آتی گئیں وطن عزیز میں قانون کی بالادستی، حقوق کی برابری اور انصاف کی اعلیٰ پیمانوں کی دھجیاں توکارساز کے سانحات میں قوم سے پوشیدہ نہیں مگر اس سانحہ کارساز نے صحافت کے نام نہاد ستونوں کی کارسازی بھی آشکار کر دی اور قوم کو دکھا دیا کہ سرمایہ دار نے صحافت کی آزادی، صحافت کی اخلاقیات، صحافت کے اصولوں، صحافت کے اسباق کو بھی سانحہ کارساز سے اٹھا کر بحیرہ ہند میں غرق کر دیا ہے۔

    پاکستان کی صحافت کے نام نہاد علمبردار انگریزی میں شائع ہونے والے کراچی کے بعض اخبارات نے اپنی ناک تلے ہونے والے حادثے کی خبر کو مختصر رکھا۔ جبکہ الیکٹرانک میڈیا کابھی کچھ یہی حال رہا۔ صحافت میں یہی سکھایا اور پڑھایا جاتا ہے کہ جتنا بڑا واقعہ ہوتا ہے اتنا ہی نمایاں ہوتا ہے کچھ کراچی کے انگریزی اخبارات نے اپنی صحافت کو زندہ بھیمرکھا جبکہ معروف اینکر مبشر لقمان نے اپنے پروگرام میں اس دلخراش واقعہ کے اصل حقائق قوم کے سامنے رکھ دیئے ڈرائیونگ لائسنس کے بارے کہا گیا کہ وہ غیر ملکی لائسنس ہے امریکہ سے لے کر برطانیہ تک کسی ذہنی مریض کو لائسنس نہیں دیا جاتا ،مبینہ طور پر کراچی کے ڈاکٹروں نے اس خاتون کو ذہنی مریضہ قرار دیا ہے جو بارہ کروڑ کی گاڑی چلا رہی تھی اسے صحافیان پاکستان بلاشبہ الیکٹرانک میڈیا کے مالکان اور پرنٹ میڈیا کے مالکان کی اکثریت سرمایہ داروں کی ہو چکی ہے جن کا صحافت سے دور کا بھی واسطہ نہیں تاہم اپنی صحافت کو برقرار رکھو قصیدے بولنے اور لکھنے والے یاد رکھیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی بہت بڑا واقعہ کسی دن آپ کو اخبار شائع کرنے سے روک دے۔

    امیر اور غریب کا فرق نہ آئین پاکستان میں ہے اور نہ آئین جہان میں اشتہاری پارٹیوں اور سرمایہ دار رشتہ داریوں کی خبریں دبانے سے آ پکی آواز بھی دب جائے گی یاد رکھیئے ! قوم عاد جیسی طاقتور قوموں اور فرعون جیسے طاقتور بادشاہوں نے بھی جب ظلم اور زیادتی کا بازار گرم کیا تو رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ ’’آخر تیرے رب نے ان سب پر عذاب کا کوڑا برسایا‘‘ (سورہ الفجر)

  • معیشت کو مستحکم کرنے میں اسحاق ڈار کا کردار،نواز شریف بھی معترف،تجزیہ : شہزاد قریشی

    معیشت کو مستحکم کرنے میں اسحاق ڈار کا کردار،نواز شریف بھی معترف،تجزیہ : شہزاد قریشی

    وطن عزیز اس وقت ایسے ایسے بحرانوں سے دوچار ہے بقول کسی شاعر کے ہر طرف آگ ہے دامن کو بچائیں کیسے ۔ سیاسی گلیاروں میں ایسی ایسی بُری خبریں سوشل میڈیا پر دکھائی اور سنائی دیتی ہیں شاید ہم اس وقت بُری چیزوں کی زد میں ہیں۔ تاہم اس بحران اور بُری خبروں میں پنجاب کی عوام کے لئے ملک کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور اُن کی بیٹی وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی طرف سے بجلی کے بلوں پر دو ماہ کا ریلیف صوبہ پنجاب میں سورج کی روشنی کے طور پریہ خبر ایک ایسی قوم کو ملی جو شاید بُری خبریں سننے کی عادی ہو چکی تھی۔ موجودہ معاشی بحران میں دو ماہ کا ریلیف عوام کے لئے اندھیرے میں روشنی کے برابر ہے۔ میاں محمد نواز شریف نے معاشی بحران کا ذکر کرتےہوئے 2017 کا ذکر کیا اور اپنی حکومت کی کارکردگی معیشت کاذکر کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کا بطور خاص نام لے کر کہا کہ انہوں نے معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بلاشبہ حکومتیں اپنی عوام کے تحفظ اورمعاشی بدحالی کو روکنے کے لئے کوشش کرتی ہیں کوئی بھی اس پر اختلاف نہیں کرے گا۔ معاشی خطرے سے نمٹنا اولین سیاسی ترجیح ہوتی ہے ۔2017 بلاشبہ ملک معاشی مستحکم تھا سینیٹر اسحاق وزیرخزانہ نواز شریف کی قیادت میں رات گئے اپنے دفتر میں معاشی ماہرین کے ساتھ کام کرتے تھے۔

    اس عالمی دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال کا جائزہ لے کر سیاسی افراتفری سے باہر نکلنا ہوگا بین الاقوامی رواں سال کئی ممکنہ سیاسی دراڑیں ابھر سکتی ہیں۔ بشمول مشرقی وسطیٰ امریکہ سمیت اگر دیگر عالمی قوتوں نے غزہ تنازعے کو حل کرانے میں کردار نہ کیا تو اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک مکمل علاقائی جنگ تبدیل ہو سکتی ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف سیاست بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی پڑیں گے۔ یوکرین میں جاری جنگ شمالی کوریا کا جوہری ہتھیار حاصل کرنا اس صورت میں چین یا تو امریکہ اور مغرب کے ساتھ تنائو کا بڑھتا ہوا ذریعہ ہو یا پھر ممکنہ طور پر زیادہ نتیجہ خیز شراکت داری کا آغاز ہو ۔ ان تمام بین الاقوامی سیاست کی تبدیلی کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر بھی پڑیں گے جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پاکستان کو اس وقت اپنے مفادات ملکی سلامتی اور معیشت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جب بھی کوئی معاشرہ یا ملک کسی بڑی تبدیلی یا غیر یقینی صورت حال سے گزرتا ہے تو سماج دشمن عناصر اس صورت حال سے فائدہ اٹھا نے کی کوشش کرتے ہیں۔

  • محمد بن سلمان کو قتل کا خدشہ،خطے کو سنگین صورتحال کا سامنا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    محمد بن سلمان کو قتل کا خدشہ،خطے کو سنگین صورتحال کا سامنا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    خطے کو کس سنگین صورت حال کا سامنا ہے۔ مڈ ل ایسٹ میں حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ بن سلیمان نے اپنے قتل کا خدشہ ظاہر کردیا۔ امریکہ اور یورپی ممالک ،روس ،یو کرائن جنگ پر اپنی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔ روس اور یوکرائن کے درمیان ہونے والی جنگ کے کیا نتائج نکلیں گے۔ یہ ایک سوال ہے ؟ برطانیہ کی سڑکوں پر نسلی فسادات ، ایران میں اسماعیل ہانیہ کا قتل ،بنگلہ دیش کی صورت حال ، دنیا چونکا دینے والے حالات سے گزر رہی ہے ۔ا ن تمام حالات کے اثرات معیشت پر پڑ رہے ہیں اور قریبی ممالک بھی ان حالات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ان تمام حالات کے پیش نظر وطن عزیز میں افواہ ساز فیکٹریاں سوشل میڈیا پر ، یوٹیوبر ، وی لاگرز ، بغیر کسی وقفے کے ایسی ایسی افواہیں پھیلا رہے ہیں جس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔

    پورے عرب ممالک کے سامنے ، فلسطین میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ غزہ مین شہید ہونے والے خواتین نوجوان بچے ، بوڑھوں کے قبرستان بھر چکے ہیں۔ جنہوں نے آگے ہو کر اس قدیمی مسئلے کا حل کروانا تھا انہوں نے اپنے قتل کا خدشہ ظاہر کردیا ہے ۔ کشمیر میں سالوں سے بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کا خون ، اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، او آئی سی اور دیگر عالمی اداروں نے کیا کیا؟ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بلوچستان میں مداخلت کررہا ہے۔ افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔ وطن عزیز کی تمام سیاسی جماعتوں کو صدق دل سے جھوٹ ، بہتان فریب کی سیاست کو پس پشت ڈال کر ان بین الاقوامی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے قومی اداروں کو مستحکم کرنے میں کردارا دا کرنا ہوگا۔ پاک فوج اورجملہ اداروں کو متنازعہ بنا کر ہم کیا قومی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں؟ اس وقت عدلیہ کو اہم کردار اداکرنے کی ضرورت ہے ۔ملکی سیاسی جماعتوں کو خارجہ اور اندرونی مسائل کو سامنے رکھ کر ملک وقوم کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ موجودہ دل شکن ماحول میں قوم کی نظریں عسکری اداروں اور انصاف کا ترازو تھامنے والوں پر لگی ہیں۔

  • فوج نے احتساب دکھادیا،سیاسیوں کا کون کرے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    فوج نے احتساب دکھادیا،سیاسیوں کا کون کرے گا؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    جرم کے خاتمے کیلئےپولیس ،بیوروکریسی میں بھی کڑا احتساب ناگزیر
    محض اتفاق کرسی پربھی بٹھاتا ہے اور کوڑے دان میں بھی پھینک سکتا

    تجزیہ، شہزاد قریشی
    پاک آرمی نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پرانضباطی کارروائی کا آغاز کرکے قوم پر ثابت کردکھایا ہے کہ پاکستان آرمی اور مقتدر حلقے استحکام پاکستان کے راستے میں آنے والی بڑی سے بڑی رکاوٹ کو مصلحت سے بالاتر ہو کر اپنے راستے سے ہٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، پاک فوج میں خود احتسابی ایک بہت سخت کڑا کار عمل ہے جو ہر وقت جاری رہتا ہے اس احتسابی نظام میں کسی قسم کی کرپشن ،بے ضابطگی قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی پر یہ نظام ایکشن میں آتا ہے اور اس میں کسی قسم کی تفریق نہیں برتی جاتی جتنا بڑاآفیسر ہوتا ہے اتنا ہی سخت احتساب ہوتا ہے اوریہ اندرونی احتساب کا عمل ہر وقت متحرک رہتا ہے اور یہ محض الزامات پر ایکشن نہیں لیتا بلکہ ٹھوس شواہد پر ایکشن میں آتا ہے، پاک فوج نے ثابت کردیا کہ استحکام پاکستان ا ور دفاع پاکستان ایک خواب نہیں، مضبوط عزم سے جنم لینے والی حقیقت ہے، فیض حمید کے خلاف کارروائی سے پاک آرمی نے عوام پر آشکار کردیا ہے کہ پاکستان کا استحکام اور مستقبل مضبوط ہاتھوں میں ہے اور مقتدر حلقے اپنے وقار ، اخلاص ، محب الوطنی پر ذرا آنچ نہیں آنے دیتے،

    قارئین پاک آرمی اور مقتدر قیادت نے تو ثابت کردیا کہ استحکام پاکستان کے سامنے کسی فرد ، عہدے ، طاقتور شخصیت کی کوئی اہمیت نہیں، اب ملکی سیاسی جماعتوں ، حکمرانوں ، بیورو کریسی ، پولیس کو بھی اپنی آنکھیں کھولنی چاہیے ، سیاسی جماعتوں میں مرکز ، ڈویژن ضلع و تحصیل ، پولیس ، بیورو کریسی میں تھانہ و پٹوارخانہ سے ضلع ڈویژن اور صوبے کی سطح پر لینڈ مافیا ، منی لانڈرنگ ، عوام سے لوٹ مار ، جواء، منشیات کے دھندوں میں ملوث بھتہ خور عناصر کو اپنے اپنے رینکس اور قطار میں گھس بیٹھیے نام نہاد سیاسی رہنمائوں اور کرپٹ افسران سے نجات حاصل کرنا ہوگی، قومی سلامتی کے اداروں کو بیورو کریسی اورپولیس پر کڑی نظر رکھنا ہوگی تاکہ استحکام پاکستان کے کاررواں میں سے رہزنوں کو نکال کر منزل کا حصول ممکن ہو ، ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو یاد رکھنا ہوگا کہ قوموں کو مایوس کرنے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی، ایک اتفاق ایک حادثہ ایوان اقتدا رمیں پہنچاتا ہے دوسرا اتفاق ایوان اقتدار سے اٹھا کر تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیتا ہے۔

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

     فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

  • راولپنڈی چوروں ،ڈاکو ؤں کے حوالے،شہری لٹنے لگے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    راولپنڈی چوروں ،ڈاکو ؤں کے حوالے،شہری لٹنے لگے.تجزیہ: شہزاد قریشی

    پولیس حکام کی کیا مجبوری،جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھٹی دیدی
    چند ایس پیز،اور ڈی ایس پیز کا نیٹ ورک اتنا مضبوط کیوں،کون ذمہ دار؟

    راولپنڈی شہر میں ا یک ہی دن میں 112 وارداتوں کی خبر نے ہلا کر رکھ دیا ہے ،،،، گاڑی چوری، موٹر سائیکل چوری سمیت گھروں کو لوٹ لیاگیا،،، اگر راولپنڈی جیسے حساس ترین شہر جہاں پاک فوج اورجملہ اداروں کے دفاتر موجود ہیں کا یہ حال ہے تو باقی صوبے کا کیا ہوگا؟ یہ سوال وزیراعلیٰ پنجاب ، آئی جی پنجاب ، وفاقی وزیر داخلہ ، آر پی او اور سی پی او راولپنڈی سے ہے،راولپنڈی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس تماشا دیکھنے پر کیوں مجبور ہیں؟ مسلح ڈاکو دیدہ دلیری سے لوٹ مار مچا رہے ہیں،سوال یہ بھی ہے کہ راولپنڈی جیسے حساس ترین شہر میں اعلیٰ پولیس ، افسران کی تعیناتی میں آنکھیں بند کیوں کی گئی ہیں ؟ عوام کو چوروں ، ڈاکوئوں ، رسہ گیروں ، لینڈ مافیا کے حوالے کرنے کا کون ذمہ دار ہے؟ آئی جی پنجاب کیوں بے بس ہیں،راولپنڈی کو لے کر آئی جی پنجاب کی گڈ گورننس کے آگے کون سی دیوار ہے ؟ راولپنڈی کو دوسرا کراچی کیوں بنا دیاگیا ؟ کیا راولپنڈی لاوارث شہر ہے ؟

    گذشتہ دنوں پاک فوج کے سربراہ نے درست کہا کہ اللہ تعالی کے نزدیک سب سے بڑا جرم فساد فی الارض ہے،پاک فوج اللہ تعالی کے حکم کے مطابق فساد فی الارض کے خاتمے کے لئے جدوجہد کررہی ہے ان کی ساری تقریر سنی ایک باوقار شخص باوقار گفتگو کرتا ہے، یقینا پاک فوج اور جملہ اداروں نے قربانیاں دے کر ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا ماضی میں بھی مقابلہ کیا، مستقبل میں بھی عوام پاک فوج سے یہی توقع رکھتی ہے، ماضی میں کسی زمانے میں کراچی روشنیوں کے شہر کو اندھیروں میں تبدیل کردیا گیا تھا لیکن پاک فوج اور جملہ اداروں اور ذمہ دار پولیس افسران نے مل کر کراچی میں روشنیاں بحال کی تھیں، بلاشبہ پاک فوج اورجملہ اداروں کے ساتھ پنجاب اور دیگرصوبوں کی پولیس نے بھی امن بحال کرنے میں کردار بھی ادا کیا اور شہادتیں دیں مگر یہ کیاقہرہے کہ آج راولپنڈی میں پولیس کے وہ افسران جن میں ایس پیز ، ڈی ایس پیز کاایک مخصوص نیٹ ورک ہے، جس نے مخلوق خدا کو چوروں ، ڈاکوئوں ،لینڈ مافیا ،رسہ گیروں ، جوئے کے اڈے چلانے والوں ، اور بدمعاشوں کے حوالے کردیا ہے،آخر سی پی او اور آر پی او راولپنڈی کی وہ کونسی مجبوری اور بے بسی ہے کہ وہ اس پولیس نیٹ ورک کے آگے بے بس ہیں جبکہ آئی جی پنجاب بھی راولپنڈی کو لے کر بے بس ہیں کیا آج کے یہ پولیس افسران پاک فوج اور جملہ اداروں کے ساتھ جہاد فی الارض میں حصہ لے سکتے ہیں ؟

  • محب وطن جماعتیوں کو پھانسی دینے والی حسینہ کا عبرتناک انجام.تجزیہ:شہزاد قریشی

    محب وطن جماعتیوں کو پھانسی دینے والی حسینہ کا عبرتناک انجام.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پہنچی وہیں پہ خاک.جہاں کا خمیر تھا
    اصل غدار بے نقاب،ملک کو دولخت کرنے والے اپنے آقائوں کی بانہوں میں پہنچ گئے
    بھارتی آقائوں کے سامنے اقتدار کی ہوس کیلئے غلامی کا سودا مہنگا پڑ گیا
    فوج پر الزام لگانے والے سیاسی یاد رکھیں تاریخ اور تقدیر معاف نہیں کرتی

    بھارت کی کوکھ اگرتلہ سے جنم لینے والی سازش مکتی باہنی کے بازئوں میں پلنے والے مجیب الرحمان کی بیٹی حسینہ واجد اقتدار چھوڑ کر ننگے پائوں واپس اگرتلہ بھاگ گئی پاکستان کو دولخت کرنے والا ٹولہ اپنے آقائوں کی بانہوں میں پناہ لے کر خلیج بنگال میں ڈوب گیا، 1971ء میں ہم نے پاکستان ٹوٹتے دیکھا اور آج ہم نے پاکستان سے غداری کرنے والے مجیب الرحمان اور اس کی باقیات کو عبرتناک انجام تک پہنچتے دیکھا، محب وطن پاکستانی عوام کو روحانی تسکین ہوئی اور بنگلہ دیش میں مکتی باہنی کی رانی حسینہ واجد کے ہاتھوں تختہ دار پر جھولنے والے علمائے دین جماعت اسلامی کے اکابرین اور مکتی باہنی کی آمریت کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے والے رضاکاروں کی ارواح کو بھی تسکین ہوئی ہوگی، جنہوں نے غدار وطن مجیب الرحمان اور اس کی بیٹی کی آمریت پر شہادت کو ترجیح دی، افواج پاکستان کے شہداء اور غازیوں کو بھی سکون ملا ہوگا کہ کس طرح دشمنان پاکستان سے اگرتلہ کے ایئربیس پر 1968ء میں سازباز کر کے مجیب الرحمان کو متحدہ پاکستان کے دارالخلافے میں پٹ سن کی خوشبو آنا شروع ہوئی اور اس نے بھارت کے آقائوں کے آگے اپنی اقتدار کی ہوس کے لئے غلامی کا سودا کیا ، مشرقی پاکستان میں افواج پاکستان اور محب پاکستان کے جان و مال اور عزتوں سے خون کی ہولی کھیلی اور بھارتی پروپیگنڈے اور وسائل کے بل بوتے پر سقوط ڈھاکہ کی راہ ہموار کی اور اقتدار حاصل کیا اور پھر اس کی بیٹی نے بھی اپنے آقائوں کی آشیر باد سے دھونس دھاندلی سے ظلم سے اپنے اقتدار کو طوالت دی، آج افواج پاکستان پر لگائے جانے والے سقوط ڈھاکہ کے الزامات کو بھی قدرت نے جھوٹا قرار دے دیا،

    شہیدان ملت اور غازیان پاک فوج بھی سروخرو ہو گئے قدرت نے غداری اور محب وطن کو رات اور دن کے فرق کی طرح واضح کر دیا، افسوس ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت پاک فوج پر الزامات لگاتی رہی اور نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کا فریضہ سرانجام دیتی رہی، مجیب الرحمان سے حسینہ واجد کے انجام سے ان لوگوں کو سبق سیکھنا ہوگا جو اب بھی بھارتی ایجنسیوں کے جھانسے میں آکر کوڑیوں کے مول اپنے اقتدار کے خوابوں کے بدلے وطن عزیز کے خلاف اور افواج پاکستان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ یاد رکھیں تاریخ اور تقدیر کبھی کسی غدار کو معاف نہیں کرتی۔