Baaghi TV

Tag: شہزاد قریشی

  • ایک ہی نعرہ ایک ہی خواب،سب سے پہلے پاکستان.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ایک ہی نعرہ ایک ہی خواب،سب سے پہلے پاکستان.تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز شریف نے عوامی فلاح وبہبود کیلئے کئی سکیمیں شروع کردیں
    عوام کونواز شریف کی پاکستان کے لئے خدمات کا بخوبی ادراک، یاد ہے ذرہ،ذرہ
    پی ٹی آئی احتجاجی سیاست ترک کرے،خیبر پختونخوا کے عوام کی تقدیر بدلے

    اسلام آباد (تجزیہ،شہزاد قریشی) ملکی ترقی کے راستے بند کرنے والے پاکستانی عوام کے لیڈر نہیں ہو سکتے،پاکستان بے پناہ جانی ومالی قربانیوں اور مسلمان پاک و ہند کی لازوال تحریک کے نتیجے میں بنا،نوجوانوں کو اپنے بزرگ اور عمر رسیدہ لوگوں سے پاکستان کی آزادی کے حالات وواقعات سے آگاہی لینی چاہیے،پاکستان کی قدر اُن سے پوچھیں جنہوں نے آزادی کی ہجرت میں اپنے پیاروں کی جان ومال ، گمشدگیوں کو برداشت کیا اور اپنوں کی عزتوں اور جانوں کو اپنے سامنے پا مال ہوتے دیکھا،پاکستانی قوم ایک عظیم قوم ہے اور پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور محل وقوع اسے خطے میں اہم بناتا ہے، پاکستان میں شنگھائی کونسل کے ممبر ممالک کی کانفرنس کا انعقاد پاکستان کے وقار اور ترقی کے ثمرات کا ضامن ہے،پاکستان میں سی پیک ٹو کی تعمیر کا مرحلہ ، ریلوے میں انقلاب ،صنعتی ترقی اور اس میں بین الاقوامی شراکت داروں کی دلچسپی ملک میں خوشحالی ، قرضوں سے نجات ، افراط زر اور مہنگائی میں کمی اور معاشی استحکام کے اشارے ہیں جن کو پاکستان کے دشمن گوارہ نہیں کر رہے،ادھر افواج پاکستان سرحدوں پر دشمنوں کو شکست دے رہی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج کے عظیم سپاہی جانوں کا نذرانہ دےرہے ہیں،استحکام پاکستان اور دفاع پاکستان کی جاری اس جنگ کے دوران عوامی اور قومی اتحاد میں رخنہ اندیزیاں ہرگز ناقابل برداشت ہیں اور محب وطن حلقے ایسی تعصباتی سیاست ، طبقاتی و لسانی تفریق،ریاستی اداروں سے ٹکرائو،جلائو ،گھیرائو اور بے معنی تکرار و جملے بازی،الزام طرازی کو سراسر ناپسندیگی کی نظر سے دیکھتے ہیں،

    اس وقت پنجاب میں مسلم لیگ نواز ، سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی،بلوچستان میں بلوچوں کی حکومت اور کے پی کے میں اقتدار پی ٹی آئی کے پاس ہے، سب صوبائی حکومتوں کو عوام کی ترقی ،خوشحالی کا سوچنا ہوگا، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اورخدمت کی سیاست کو اپنا معیار اور شعار بنانا چاہیے، بلاشبہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عوام دوست ، کسان دوست ، طلباء دوست ، مزدور دوست اور غریب دوست سکیموں کا آغاز کرکے صوبے کےعوام کی خدمت میں ریکارڈ اقدامات اٹھائے ہیں،وزیراعلیٰ کے پی کے کو بھی ایسے اقدامات کرکے عوام کی محرومیاں ختم کرنی چاہیے نہ کہ آئے روز جلسوں ،جلوسوں میں سرکاری وسائل کا ضیاع کرکے عوام کی محرومیوں میں اضافہ کریں،میاں محمد نواز شریف نے گذشتہ دنوں اپنی تقریر میں حکومتی ترجیحات اور پاکستان کو ایشیا کا ٹائیگر بنانے کے لئے اٹھائے گئے جن اقدامات کا تذکرہ کیا ان میں کوئی مبالغہ نہیں، باشعور عوام کو میاں نواز شریف کی پاکستان کے لئے خدمات کا بخوبی ادراک ہے اور ان کی حکومت کو ختم کرنے والے عناصر کی ناعاقبت اندیشی پر رنج و ملال بھی ہے، مقتدر حلقے اور موجودہ وفاقی حکومت ان غلطیوں کے ازالہ کے لئے کوشاں ہیں، عوام کو چاہیے کہ وہ پاکستان مخالف قوتوں کے جھانسے میں نہ آئیں اور سب سے پہلے پاکستان کی ترجیح اپنائیں۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا عوامی خدمت کا سفر قابل ستائش،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وزیراعلیٰ پنجاب کا عوامی خدمت کا سفر قابل ستائش،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قومی سیاست کا دھارا عام آدمی کے مسائل کی طرف سے کسی اور طرف موڑ دیا گیا ہے۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے اختلاف اور اتفاق رائے کا حق ہر جماعت اور ہر سیاسی رہنما کو حاصل ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی اختلافات کی بنا پر عوام کا استحصال کیا جائے ،جمہوری حکومت کا اولین فرض ہے کہ وہ عام آدمی کے بنیادی مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس وقت پنجاب میں صوبے کی چیف منسٹر مریم نواز کی توجہ صوبے کے عام آدمی کے مسائل پر ہے جس کے اثرات پولیس تھانوں سے لے کر دوسرے محکمہ جات میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اگر صوبے کے چیف سیکرٹری، سول بیوروکریسی کے سیکرٹریوں کے دفاتر اور صوبہ بھر کے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر پر توجہ دیں تو وزیراعلیٰ پنجاب کی عوامی خدمت کو چار چاند لگ سکتے ہیں۔

    پنجاب کی سول بیورو کریسی کا رویہ مغلیہ دور کے شہزادوں جیسا ہے ماضی کی کئی جمہوری حکومتوں کی ناکامی میں بیورو کریسی کا کردار روا ہے، بیورو کریسی کا چال چلن اگر مغلیہ دور کے شہزادوں جیسا ہوگا جمہوری نظام کیسے چلے گا ،کیسے کامیاب ہوگا ،عوامی مسائل کس طرح حل ہونگے؟۔ صوبہ پنجاب کے چیف سیکرٹری کو سول بیورو کریسی کو عوام کا حاکم نہیں خادم بنانے پر توجہ دینا ہوگی صوبے کی چیف منسٹر کے عوامی منصوبوں کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ دیگر صوبوں کےوزیراعلیٰ اور چیف سیکرٹری صاحبان اپنا رخ عام آدمی کے مسائل کو حل کرنے کی طرف موڑ دیں۔

    پنجاب پولیس میں تھانہ کلچر میں تبدیلی میرٹ کی پالیسی پر عمل، جس طرح پنجاب میں ہوا ہے انہی راستوں کا دیگر صوبوں کو بھی انتخاب کرنا ہوگا۔ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کی ترقی کا راز میرٹ اور وقت کی پابندی ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے شفاف انتظامی نظام خشت اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک کامیاب ریاست بنانے کے لئے ہمیں اپنے ریاستی محکموں میں اصلاحات کا ایک مربوط نظام لانے کی ضرورت ہے ،ملک کو عقل سے عاری نااہل اور مفاد پرست منہ زور سول بیورو کریسی اور بیورو کریٹ افسران نے جکڑ رکھا ہے۔ منہ زور افسر شاہی اپنے مفادات کا تحفظ کرتی ہے یہ حکمرانوں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے غلط کاموں کی ترغیب دیتے ہیں۔ بلاشبہ وزیراعلیٰ پنجاب نے عوامی خدمت کے جس سفر کا آغاز کیا ہے وہ قابل ستائش ہے تاہم سول انتظامیہ کی تنظیم نو کرنے کے لئے ہنگامی اور انقلابی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا

  • جمہوریت کو درپیش خطرات،راستہ نواز شریف کے پاس:تجزیہ.شہزاد قریشی

    جمہوریت کو درپیش خطرات،راستہ نواز شریف کے پاس:تجزیہ.شہزاد قریشی

    پی ٹی آئی لاہور کا جلسہ کامیاب تھا یا ناکام اس سے قطع نظر میاں نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی وسیع القلبی اور جمہوری اقدار کی پاسداری کا یہ منہ بولتا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کے جلسے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی گئی آنسو گیس اور لاٹھی چارج نہیں ہوا اور نہ ہی کنٹینر کھڑے کر کے راستے بلاک کئے گئے صاحبان اقتدار کا یہ رویہ قابل تحسین اور جمہوری اقدار کا آئینہ دار ہے۔ اسی کو جمہوریت کا حسن قرار دیا گیا ہے ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اگر بنیادی جمہوری اصولوں کے پیش نظر تحمل وسیع القلبی باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھ کر سیاست کریں تو پاکستان کا جو خواب قائداعظم نے دیکھا تھا وہ شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ وطن عزیز میں جمہوریت اور جمہوری روایات کو فروغ نہ پانے کی بڑی وجہ تعصب اور اقتدار کا حصول ہے اقتدار کے جام کو تھام کر عقل اور شعور کی جگہ جاہ و جلال نے لے لی ہے۔ سیاسی گلیاروں میں اپنی پستی کا الزام دوسروں پر ڈالنے کا رواج عام ہے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔ کیا کبھی کسی سیاسی جماعت نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ جمہوریت آمریت کی آغوش میں کیوں اور کیسے جاتی رہی جمہوریت کو آمریت کی آغوش میں پہنچانے والے خود سیاستدان ہی ہوتے ہیں۔ کیا کبھی کسی سیاستدان نے یہ سوچنے کی زحمت کی سیاست کے افق پر چمکنے والے ستارے زمین بوس کیوں ہوتے ہیں؟

    اس وقت ملک و قوم کو جن مسائل کا سامنا ہے اس کا حل تصادم نہیں بلاشبہ سیاسی گلیاروں میں بھٹو نہیں محترمہ بے نظیر بھٹو نہیں مفتی محمود نہیں۔ خان ولی خان نہیں۔ نوابزادہ نصراللہ نہیں معراج خالد نہیں مولانا عبدالستار خان نیازی نہیں۔ قاضی حسین احمد نہیں۔ اسی طرح دیگر جو اس دنیا میں نہیں لیکن ان سب کے درمیان بیٹھنے والے ان سے سیکھنے والے موجود ہیں پھر نوازشریف جیسا لیڈر موجود ہے تصادم کی سیاست کو دفن کرنےکا فن نوازشریف سے بہتر کون جانتا ہے نوازشریف اس ملک و قوم اور جمہوریت کے لئے اپنا کردار ادا کریں اے پی سی ہی وہ واحد راستہ ہے جو پاکستان اور عوام کو درپیش مسائل سے نکال بھی سکتی ہے اور جمہوریت کو درپیش خطرات سے نکالنے کا بھی یہی راستہ ہے نوازشریف اے پی سی کا اجلاس بلائیں

  • انتشار  اور عدم استحکام کا حل کیا قومی حکومت؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    انتشار اور عدم استحکام کا حل کیا قومی حکومت؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کبھی حالت جنگ میں ہوتا ہے تو کبھی حالت انتشار میں، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے پاک فوج جملہ اداروں پولیس ، عوام نے قربانیاں دی ہیں۔ حالت جنگ کا یعنی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تو قربانیاں دینے والوں نے دی ۔اب اس حالت انتشار کے خاتمے کے لئے سیاسی و مذہبی جماعتوں کو قربانی دینا ہوگی۔ آخر کب تک پاکستان بطور ریاست اور عوام حالت انتشار میں رہے گی ؟صدارتی نظام بھی آزما چکے۔ ٹیکنو کریٹ بھی، اب اس انتشار اور عدم استحکام کا حل کیا قومی حکومت ہے ؟ بین الاقوامی دنیا میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ امریکہ میں الیکشن ہونے جا رہے ہیں ۔ عالمی دنیا کی نظریں وائٹ ہائوس کے نئے مکین پر لگی ہیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک روس اور یو کرائن جنگ میں بھی مصروف ہیں۔جبکہ مڈل ایسٹ کے حالات عالمی دنیا کے سامنے ہیں۔ غزہ اور اسرائیل کی جنگ کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے لبنان اور شام میں تباہی مچا دی ہے امریکہ نے کئی چینی کمپنیوں پر پابندی لگا دی ہے جس کا اعلان امریکی ترجمان نے کیا ہے ۔ پاکستان ان تمام حالات سے آگاہ ہے۔

    وطن عزیز کے حکمران ،اپوزیشن کو بین الاقوامی سیاسی تبدیلی کو مد نظر رکھتے ہوئے اور پاکستان کے وقار اور سلامتی کے پیش نظر سیاست کرنا ہوگی ۔ خدا کی پناہ ایک اسلامی مملکت میں یہ جج آئے گا تو ہمارا فائدہ ہوگا یہ جج ہمیں نقصان دے گا کیا ہم ایسے بیانات دے کر ملک کے وقار میں اضافہ کر رہے ہیں؟ امریکہ سے لے کر یورپی ممالک اور دیگر ممالک میں عدلیہ کو لے کر کبھی اس طرح کے بیانات سُنے؟ تمام ججز قابل احترام ہیں۔ ملائی اور حلوائی کی باتوں سے باہر نکل کر دنیا کے تازہ ترین حالات کا جائزہ لیں۔ ملکی وسائل ملکی معیشت پر توجہ دیں ملکی اداروں کے درمیان ٹکرائو کروانے سے گریز کریں ۔ اپنے مفادات کو وطن عزیز کے وقار اور سلامتی پر قربان کریں۔ اگر سیاسی قائدین ملک میں جمہوریت کو مستحکم پارلیمنٹ کی بالادستی ،آئین اور قانون کی حکمرانی کے خواہش رکھتے ہیں تو اپنے آپ کو ایک مضبوط لیڈر قوم اور دنیا میں ثابت کریں۔ اس کے ساتھ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ حالت انتشار کی ایک وجہ قرآن پاک سے دوری ہے۔ وطن عزیز ایک اسلامی ریاست ہے یہ اس ریاست کی شان کے خلاف ہے کہ ہم دین الٰہی سے دور رہیں ۔ سود زدہ معاشی نظام خالق کائنات سے برسرپیکارہے.

  • آئینی ترامیم کا تماشا،لیڈرشپ کا فقدان،ن لیگ کا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آئینی ترامیم کا تماشا،لیڈرشپ کا فقدان،ن لیگ کا المیہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کو لے کر دو دن جو کچھ ہوتا رہا، قوم سمیت عالمی دنیا پاکستان نہیں پاکستانی سیاستدانوں کا تماشا دیکھتی رہی۔ سیاسی قافلوں کے قائدین ہی جب ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم نہ کریں تو پھر آئینی ترمیم کیسی؟ وفاقی حکومت میں اتحادی اور آئینی عہدے رکھنے والی جماعت کے قائدین ہی ایک دوسرے کی سیاسی کامیابی کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہ رکھتے ہوں تو پھر پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم کیسی؟ سب لیڈر شپ کا فقدان ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سیاسی لیڈر تھے محترمہ بینظیر بھٹو سیاسی لیڈر تھیں پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کرنے والے لیڈر نہیں، سیاستدانوں میں اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے وزیراعظم سیاستدان ہیں لیڈر نہیں (ن) کے لیڈر نوازشریف ہیں۔ یہ نوازشریف کی سیاسی بصیرت اور لیڈر شپ ہی تھی جس نے ایٹمی دھماکے کرنے کے بعد واجپائی کو مینار پاکستان پر کھڑا کر دیا تھا یہ وہ وقت تھا جب پاکستان اور بھارت دونوں نے ایٹمی دھماکے کئے تو عالمی دنیا میں آوازیں آنا شروع ہو گئیں کہ دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے۔ یہ نوازشریف کی سیاسی بصیرت ہی تھی جب پی ٹی آئی نے 126 دن دھرنا دیا تو پی ٹی آئی لیڈر شپ سمیت کسی کارکن پر نہ لاٹھی چارج ہوا نہ آنسو گیس گرفتاریاں نہ مقدمات کا اندراج لیکن پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کا نشانہ تادم تحریر نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز ہی ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ آئی پی پیز نہ تو نوازشریف، نہ ان کے دونوں بیٹے اور نہ ہی دونوں بیٹیوں کا تعلق اور نہ ہی ان کی ملکیت ہیں۔

    مسلم لیگ (ن) کا المیہ یہ ہے کہ ان کے پاس اس وقت کو ئی ترجمان نہیں وفاقی وزراء کی لائن ہے مگر مسخروں کی تعداد کچھ زیادہ ہی ہے سوشل میڈیا نہ ہونے کے برابر ہے۔ بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کی اس ملک اور قوم کے لئے خدمات آج کی نوجوان نسل کو علم ہی نہیں اور نہ ہی پیپلزپارٹی نے اس سلسلے میں کوئی اقدامات کئے نوازشریف وزارت اعلیٰ سے لے کر وزارت عظمیٰ تک اور ایٹمی دھماکوں تک اس ملک کے لئے جو خدمات ہیں ان خدمات کو پس پشت ڈال کر مسلم لیگ (ن) نے مقبولیت میں اضافہ نہیں کیا (ن) کا ہر وفاقی وزیر اپنی جماعت اور نوازشریف کی ملک و قوم کے لئے خدمات بیان کرنے سے قاصر نظر آتا ہے جس کا خمیازہ (ن) لیگ بطور جماعت بھگت رہی ہے۔

    پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے لے کر ایک کارکن سوشل میڈیا عمران خان سے شروع ہو کر عمران خان پر ہی اپنی بات ختم کرتا ہے۔ وطن عزیز کا موجودہ بحران اور انتشار کا حل ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے میں ہے اس وقت مسئلہ سیاسی قوتوں اور اداروں کے ٹکرائو کا نہیں مسائل میں گھری عوام کا بھی ایک مقدمہ ہے۔ طرز سیاست کو بدلنا ہوگا۔ عوامی مفادات اور ملکی مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنا ہونگے

    آئینی ترامیم کی منظوری میں ناکامی، حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے مزید مشاورت کا فیصلہ، رانا ثناء اللہ

    میڈیا میں شائع ہونے والا ڈرافٹ اصل نہیں ہے۔

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئینی ترمیم کے مسودے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی

    آئینی ترامیم جمہوریت پر حملہ،سیاسی جماعتوں کو شرم آنی چاہیے،علی امین گنڈا پور

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

  • ہم پاکستانی کب بنیں گے؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    ہم پاکستانی کب بنیں گے؟ تجزیہ :شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    امریکی انتخابات عالمی دنیا کی اس وقت توجہ کا مرکز ہیں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی نظریں وائٹ ہائوس کے نئے مکین پر لگی ہیں۔ امریکہ سپُرپاور ہے امریکی صدارتی امیدواروں کی توجہ امریکی عوام ، معیشت ، خارجہ پالیسی ، جدید سے جدید ٹیکنالوجی ، موسمیاتی تبدیلی ،دفاع اور نیٹو، عالمی صحت اور وبائی امراض کی روک تھام ، امیگریشن بارڈر سیکورٹی ، اسرائیل غزہ اور مشرقی وسطی ، روس یو کرین جنگ، تجارت ، موضوع ہیں۔

    ہماری پارلیمنٹ کا موضوع آئینی تبدیلی ، جلسے ،جلوس ،دھرنے کمیٹیاں ، ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کارروائیاں ، ملازمت میں توسیع ، بحیثیت قوم ہم قوم اورپاکستانی نہیں کوئی بلوچی ، کوئی سندھی ، کوئی کے پی کے ، کوئی پنجابی کی صدائیں بلند کرتا نظر آرہا ہے کہیں سے بھی میں پاکستانی ہوں کی صدائیں بلند ہوتی نظر نہیں آرہی۔ عالمی دنیا کو ایک طرف رکھیں ۔ ہمارے قریب ترین ممالک ایران کسی اپلائی سے سوال کریں وہ اپنا تعارف ایرانی بتانے پر فخر محسوس کرتا ہے ۔ افغانستان افغانی جبکہ ہمارے ہاں اب تو نوبت یہاں تک آپہنچی کہ ایک صوبہ کی حکومت نے خارجہ پالیسی کو بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے ۔ کے پی کے کی حکومت افغانستان سے مذاکرات کا اعلان کرتی ہے۔ لگتاہے ہم مخلوق خدا ضرور ہیں مگر ایک قوم نہیں۔ ہم خدا کی زمین پر حکمرانی کرتے ہیں مگر طرز حکمرانی خداکے حکم کو نظر انداز کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں جس پارلیمنٹ میں بیٹھی ہیں۔یہ 1970 کے اُن سیاستدانوں کو ضرور یاد کریں کیا اُن سیاستدانوں کا ملک وقوم کو لے کر کردار یہ تھا؟

    حکمرانوں کولیکر اپوزیشن اور اپوزیشن کو لیکر مذہبی جماعتوں تک نے مسخرے پن کی حدود کو کراس کردیا ہے۔یہ ریاست اور ملکی خزانے پر بوجھ ہیں۔ ملکی اداروں پی آئی اے اور دیگر اداروں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا۔ ملکی وسائل سے توجہ ہٹا دی گئی ہے ۔ خدا کی پناہ عالمی دنیا میں یہ آواز کہیں سے نہیں آتی کہ یہ جج میرا یہ جج تیرا ،عدلیہ جیسے ادارے اور ملکی سلامتی جیسے اداروں کو جلسے،جلوسوں ،چوراہوں ، گلی کوچوں اور سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا لیا گیاہے ۔یہ جانتے ہوئے کہ وطن عزیز اور عوام کو معاشی بُحران کا سامنا ہے پارلیمنٹ میں بہت سے نام نہاد رہنما ہیں کسی نے معاشی بُحران کا حل پیش نہیں کیا آج کی سیاست ،آج کی جمہوریت ، آج کی پارلیمنٹ ،ایک افسوسناک عکاس ہے۔ کسی کی توجہ معاشی بُحران نہیں ذاتی بُحران ہیں۔ پارلیمنٹ ہائوس میں لیڈر شپ کا فقدان ہے۔ موجودہ حالات میں وطن عزیز میں جمہوریت کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔
    دل تباہ تو ہی کچھ بتا ہمیں
    چمن پہ کیوں خزاں کا رنگ چھا گیا

  • بحرانوں کا ذمہ دار کون،حل کیا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    بحرانوں کا ذمہ دار کون،حل کیا؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    آمریت سے لے کر جمہوریت اور جمہوریت سے لے کر آمریت کے دور حکمرانی دیکھے ۔موجودہ دور کی سیاست کے انداز بدل گئے ۔ سیاستدانوں کی وفاداری تبدیل بھی ہوتے دیکھی مگرموجودہ بحران ناقابل فراموش ہے اس بحران کا ذمہ دار کون ہے اس کا فیصلہ کون کرے گا یہ بھی ایک سوال ہے ۔ کیا اس موجودہ بحران جو وطن عزیز میں دیکھا جا سکتا ہے اگر سیاسی قائدین ، مذہبی قائدین اور انصاف کا نظام اس بات کا تادم تحریر اندازہ نہیں لگا سکا کہ اس بحران کا ذمہ دار کون ہے اور اُس کا حل کیا ہے اور کہیں سے یہ آواز بھی نہیں آرہی اس موجودہ بحران کے بارے میں کیا کرنا ہے ۔موجودہ بحران سیاست اور جمہوریت کو تباہ کر رہا ہے موجودہ بحران پر اگر کسی نے توجہ نہ دی تو ایک ناقابل یقین ،اخلاقی تباہی سے آگے کسی اورچیز میں بدل دے گا۔ ملکی سیاسی جماعتوں کی توجہ کا مرکز صرف اقتدار ، اختیارات اورطاقت رہ گئی ہے ۔ اس میں وہ مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں جنہیں اقتدار کی عادت پڑی ہے اور وہ ملکی بڑی سیاسی جماعتوں کے دوراقتدار میں ہمسفر رہے۔ آج جن مسائل کا پاکستان کا بطور ریاست اور عام آدمی کو سامنا ہے وہ ہے ملکی معیشت اور مہنگائی سیاسی جماعتوں نے ان مسائل کو اپنی فہرست سے نکال دیا ہے۔ آپ اگر اس وقت پورے ملک کا جائزہ لیں نتیجہ اخذ کریں کیا کسی جماعت کی توجہ معیشت اور مہنگائی پر ہے ؟ پاکستان اورعوام کو اس دلدل سے نکالنے کا راستہ کسی نے دکھایا ؟ اس وقت جو سیاسی جماعتوں کے درمیان جنگ ہے وہ یہ ہے کہ زیادہ مقبول کون ہے ۔ مقبولیت کا انداز بھی عالمی دنیا سے الگ تھلگ ہے ۔ملکی سرحدوں کے محافظ پاک فوج اورجملہ اداروں کے خلاف بات کرنا مقبولیت کہا جاتا ہے ۔ عالمی دنیا یں مقبولیت ملک و قوم کی خوشحالی کا نام ہے۔ وطن عزیز میں مقبولیت پاک فوج اورجملہ اداروں کو نشانے پر رکھنا مقبولیت کا نام ہے کیا یہ سیاست اور جمہوریت ہے ؟عالمی دنیا میں ملکی سلامتی کے ان اداروں کے بارے میں اس طرح کی زبان کا استعمال نہیں کیا جاتا جس طرح ماضی حال وطن عزیز میںکیا جا رہا ہے۔پنجاب ،سندھ ،بلوچستان ، کے پی کے کی سول بیورو کریسی اور مرکزی بیوروکریٹ اپنا چلن بدلیں۔اس ریاست کو پہلے ہی بہت نقصان پہنچا دیا گیاہے

    بابائے قوم کے اس پاکستان کو مستحکم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اپنی پوسٹنگ اور ہوس زر سے باہر نکلیں ۔ زمین آسمان کی ملکیت خدا پاک کی میدان حشر کو سامنے رکھیں اختیارات کی باز پُرس ہوگی وہاں کوئی سیاسی سفارشی نہیں ہوگا ،ہوش کریں۔

  • بلوچستان ، اتحاد و یکجہتی کی ضرورت۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    بلوچستان ، اتحاد و یکجہتی کی ضرورت۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    (تجزیہ شہزاد قریشی)
    بلوچستان کو لے کر اور سردار اختر مینگل کے استعفیٰ تک بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ بلوچستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور جن تازہ ترین حالات سے بلو چستان سے گذر رہا ہے ۔ اسی صورت حال سے نواز شریف کے دور حکومت میں گزر رہا تھا جس پر نواز شریف نے قابو پانے کے لئے اپنی جماعت کا قتدار قربان کیا تھا۔ نواز شریف نے سب سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔اچکزئی اور مینگل سے بھی نواز شریف کی دوستی تھی وہ بلوچستان کے حالات کو درست کرنے کے لئے نئی قیادت سامنے لائے سب کو خوش کرنے کی کوشش کی ۔ بلوچستان میں آج بھی نواز شریف جیسا کردار حالات کا رُخ موڑ سکتا ہے۔ لیکن کیا کہا جائے ہم نے بحیثیت قوم بھی اور بحیثیت سیاسی جماعتوں نے اپنے قائدین سے کوئی اچھا سلوک نہیں کیا بقول میر:
    ہم کو شاعر نہ کہو میر کہ صاحب ہم نے۔ درد و غم جمع کئے کتنے تو دیوان کیا
    جو جو صدمے ہم پر گزرے کیسے اُن کا بیان کریں۔کون سا داغ نکال کر دل سے ثبت سرے دیوان کریں

    مسلم لیگ (ن) سمیت سیاسی جماعتوں کی قیادت اور نام نہاد مرکزی قیادت نام نہاد رہنما بقراط اور سقراط ایسے مسخرے لوگوں سے ریاست اور قوم کا واسطہ پڑا ہے کہ خدا کی پناہ ۔ ان کی نااہلی ، بدعنوانی ،اور کردار کی گراوٹ کاخمیازہ بلوچستان ہی نہیں ۔پورا ملک بھگت رہا ہے ۔ انتشار اور منافرتوں کے زہر پھیلتے جا رہے ہیں ۔ بلوچستان میں سامراجی طاقتیں لوٹ مار کے لئے آپس میں دست و گریبان ہیں۔ وطن عزیز کایہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے کسی زمانے میں یہاں کی خوبصورتی کے نظارے دیکھنے کے لئے سیاح آیا کرتے تھے۔ پاک فوج جملہ ادارے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ جانوں کانذرانہ دے کر نہ صرف صوبہ بلوچستان بلکہ وطن عزیز کی حفاظت قوم کو دہشت گردوں سے بھی بچا رہی ہیں ۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ،مذہبی جماعتیں حکمران اور اپوزیشن اقتدار کی جنگ سے باہر نکل کر بلوچستان میں اپنا کردار ادا کریں ۔ دشمنان پاکستان کا مقابلہ فوج اور جملہ اداروں پر ہی نہیں کچھ ذمہ داری آپ پر بھی ہے ۔نواز شریف کی طرح اگر اپنا اقتدار بھی قربان کرنا پڑتاہے تو وہ بھی کریں۔ضرب عضب سے لے کر رد الفساد تک پاک فوج ،جملہ اداروں ، پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں نے قربانیاں دے کر وطن عزیز میں امن بحال کیا ہے۔ ملک سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کیا ۔ اس کو برقرار رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں ورنہ تاریخ آپ کو کوڑے دان میں پھینک دے گی۔

  • یوم دفاع پاکستان،قوم آج بھی فوج کے ساتھ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    یوم دفاع پاکستان،قوم آج بھی فوج کے ساتھ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    6 ستمبر1965 ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کھی نہ بھولنے اور سبق آموز دن ہے۔ پڑوسی ملک بھارت نے رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کردیا وطن عزیز کے غیور اور متحد ملک نے دشمن کے جنگی حملہ کا پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا۔ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے۔1965 ء کی جنگ نے ثابت کردیا کہ جنگیں ریاست عوام اورفوج متحد ہو کر ہی لڑتی اور جیت سکتی ہیں۔ قوم کی اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت اور جانثاری جرات مندانہ جذبے نے مل کر ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ پاک فوج نے ہر محاذپر دشمن کی جارحیت اور پیش قدمی کو پیشہ وارانہ مہارتوں سے روکا ہی نہیں دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ پاک فوج کے افسروں اورجوانوں نے اسلحہ بارود کے ساتھ ساتھ وطن عزیز اور قوم کی حفاظت کے لئے اپنے جسموں کے ساتھ بارود باندھ کر دشمن کی فوج اور ٹینکوں کو قبرستان بنا دیا۔ بلاشبہ اے پتر ہٹاں تے نیًں وکدے توں لبھدی پھرینیں بازارکڑے ۔

    یہی وہ پتر ہیں جنہوں نے اپنے جسموں کے ساتھ بارود باندھ کر وطن عزیز اور قوم کے لئے شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ پاک فوج نے ثابت کیا کہ ہم زندہ قوم ہیں اور جان دے کر اپنی آزادی کو بچاتے ہیں۔ یاد رکھیئے آج دنیا بدل گئی نئی اور جدید ٹیکنالوجی آگئی۔ دنیا کے کئی ممالک میں جنگیں جاری ہیں آج ہمارا دشمن ایک نہیں کئی ممالک میں ایٹمی پاکستان اور ایک طاقت ور ترین فوج کی حامل ریاست ہمارے ظاہری اور خفیہ طاقتوں کو پسند نہیں اس لئے جب تک ہمارا دشمن زندہ یہ ۔ ہمارا یوم دفاع بھی زندہ ہے کل بھی یوم دفاع تھا اور آج بھی یوم دفاع ہے۔ جب پاکستان دشمن قوتیں وطن عزیزکے خلاف سازشوں میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کرتی رہیں پاک فوج آج بھی پاکستان کا دفاع ہر محاذ پر کرتی رہیں گی اور پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ یوم دفاع کے موقع پر وہ سیاستدان ،وہ فوجی حکمران ،وہ سائنسدان، وہ انجنیئر جو اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئے خراج تحسین کے قابل ہیں۔ جنہوں نے 1965 ء کی جنگ کے بعد اپنا دفاع مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا۔ ان سیاستدانوں میں نواز شریف سابق وزیراعظم کے اس کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے دبائو کے باوجود ایٹمی دھماکے کئے اور پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنادیا۔

  • پارلیمنٹ ہاؤس یا ذاتی مفادات کے تحفظ کا ڈیرہ.تجزیہ:شہزاد قریشی

    پارلیمنٹ ہاؤس یا ذاتی مفادات کے تحفظ کا ڈیرہ.تجزیہ:شہزاد قریشی

    عام آدمی کی بہتری کیلئے آج تک کوئی قانون سازی نہ ہوئی
    ملازمتیں ملی نہ مہنگائی کم ہوئی،جو آیا اپنی جنگ لڑتا رہا

    وائٹ ہائوس کا مکین کون ہوگا؟ڈونالڈ ٹرمپ یا کیملا ہیرس، پوری دنیات کی نظریں امریکی انتخابات پر ہیں، جبکہ دونوں صدارتی امیدواروں کا امریکی عوام کیلئے موضوع معیشت ہے، دونوں امریکی صدارتی امیدوار اپنے معاشی پیغامات کو آگے بڑھا رہے ہیں تاہم ٹرمپ کی معاشی پالیسیاں امریکی عوام کی توجہ کا مرکز ہیں،امریکی معیشت اور امریکی مفادات دونوں ہی اُمیدواروں کے لئے اہم ہیں،اسی کا نام جمہوریت اور جمہور کی خدمت ہے، دونوں امیدواروں کی تقریریں امریکی مفادات اور عوام کے مفادات کے لئے ہیں،

    دوسری جانب دنیا کی توجہ بھی معیشت پر ہے، وطن عزیز کے نام نہاد سیاستدانوں کی پارلیمنٹ میں اگر تقریریں سنیں تو ذاتی مفادات سے شروع ہوکرذاتی مفادات کی قانون سازی پر ہی ختم ہوتی نظر آتی ہیں،عام آدمی کے مسائل اور ریاست کو درپیش مسائل کا ذکر دب کر رہ گیاہے، ایسی قانون سازی جس سے عام آدمی کو فوائد حاصل ہوں نظرہی نہیں آتی، کیاپارلیمنٹ ہائوس میں بیٹھے سیاستدانوں کو احساس ہے کہ ملکی معیشت ، وسائل ،صحت کی پالیسیاں ، بے روزگاری کے خاتمے کے لئے اقدامات پاکستان کی آنے والی نئی نسل کے لئے کوئی پالیسی،ریاست کو مستحکم بنانے کی پالیسی ،اگر ایسا نہیں تو پھر پارلیمنٹ ہائوس کیا اپنے مفادات کی جنگ لڑنے کی جگہ ہےیا عام آدمی اور ریاست کے مفادات کی بات کرنے کی جگہ ہے؟پارلیمنٹ کو سیاسی جماعتوں کے قائدین کی خوشامد، ذاتی مفادات، پروٹوکول ، اختیارات اور صرف اقتدار کی جنگ لڑنے کی جگہ بنا دیا گیاہے، کیا پارلیمنٹ میں قوم کے لئے کوئی قانون سازی کی گئی ہے؟ کوئی ایسا قانون جو ہماری اجتماعی اقدار کی عکاسی کرتا ہو ؟ کیا یہ جگہ ملازمتوں میں توسیع دینے کے لئے ہے ؟ یا پڑھے لکھے نوجوانوں کو ملازمتیں دینے کی جگہ ہے ؟پھر اپنی ناکام سیاست ناکام جمہوریت کا ملبہ پاک فوج پر جو سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہے پر ڈالنے کا کیا جواز ؟ کیا پارلیمنٹ میں آئی پی پیز کے ہاتھوں ،بجلی کے بلوں تلے دبے عوا م کے حق میں کوئی آواز اٹھے گی ؟ ملاوٹ ،منافع خوری ، مل مافیا اور لینڈ مافیا کے خلاف کوئی آوازاٹھے گی ؟اگر ان کا جواب نفی میں ہے تو پھر اس کو سلطانی جمہور کہا جائے یا سلطانی مجبور ،میرا سوال یہی رہے گا ریاست کے ذمہ داران نے آج تک عام آدمی کیلئے کیا کام کیا،جو آیا اپنے مفادات کا تحفظ کرتا رہا ور چلتا بنا