Baaghi TV

Tag: شیریں مزاری

  • شیریں مزاری کی گرفتاری،کمیشن نے 14 جولائی کو آئی جی اسلام آبادکو طلب کر لیا

    شیریں مزاری کی گرفتاری،کمیشن نے 14 جولائی کو آئی جی اسلام آبادکو طلب کر لیا

    شیریں مزاری کی گرفتاری،کمیشن نے 14 جولائی کو آئی جی اسلام آبادکو طلب کر لیا

    ڈاکٹر شیریں مزاری کی گرفتاری کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن کا معاملہ ڈاکٹر شیری مزاری انکوائری کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے لیے پہنچ گئی

    تین رکنی کمیشن کی سربراہی سابق سیکرٹری قانون جسٹس ریٹائرڈ شکور پراچہ نے کی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا تھا سابق آئی جی ڈاکٹر نعمان خان ، سابق وفاقی سیکرٹری ڈاکٹر سیف اللہ چھٹہ بھی کمیشن میں شامل ہیں

    کمیشن میں پیش ہونے کے بعد شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ میری غیر قانونی گرفتاری ہوئی اس حوالے سے کمیشن تحقیقات کرے گا کمیشن نے 14 جولائی کو آئی جی اسلام آباد کو طلب کیا ہے مجھ سے کمیشن نے پوچھ کیوں گرفتار کیا اور کس نے گرفتار کیا حکومت کی طرف سے کوئی نہیں آیا نہ ہی کوئی رپورٹ پیش کی گئی جلد ہم تحریری بیان بھی دیں گے ہم چاہتے ہیں اسمبلی مذاق بن گئی ہے الیکشن کی تاریخ دی جائے معیشت کی تین ماہ میں تباہی پھیر دی ہے پہلے الیکشن کی تاریخ پہلے آئے پھر بات ہو گی پاکستان کی سکیورٹی سے سے زیادہ ضروری ہے ان کو این ار او دیا گیاجن اداروں کا کام ہے دفاع کرنا ہے وہ دفاع کریں اداروں کا یہ کام۔ نہیں ایمپوڈ حکومت کے ساتھ مل کر ملک کی تباہی کرنا نہیں

    شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ اسمبلی اب مذاق بن چکی، اب الیکشن کی تاریخ دی جائے، اگر الیکشن کی تاریخ دے دی جاتی ہے تو بہت سے معاملات پر بیٹھ کربات کی جاسکتی ہے امریکا کے کہنے پر رجیم تبدیل کرا کے راستہ روک دیا گیا کیا ان چوروں کو این آراو دینا رجیم چینج کا مقصد تھا؟ کیا ہم نے اسرائیل کو تسلیم کرناہے؟ کیا ہم نے بھارت کے ساتھ تجارت کرنا ہے

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    پاک فوج پر تنقید کے مقدمہ میں ایمان مزاری نے ضمانت کروا لی

  • ہم کمیشن کو سپروائز نہیں کر سکتے ان کو اپنا کام کرنے دیں،عدالت

    ہم کمیشن کو سپروائز نہیں کر سکتے ان کو اپنا کام کرنے دیں،عدالت

    ہم کمیشن کو سپروائز نہیں کر سکتے ان کو اپنا کام کرنے دیں،عدالت
    شیریں مزاری کی گرفتاری کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کر دیا گیا

    شیریں مزاری کی گرفتاری کی تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکرٹری قومی اسمبلی سے سات جولائی تک رپورٹ طلب کر لی ،شیریں مزاری اور ایڈوکیٹ ایمان مزاری اپنے وکیل علی بخاری کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئیں، وکیل علی بخاری نے کہا کہ ہمارا اعتراض یہ ہے کہ چار جون کو انکوائری کمیشن کا نوٹیفکیشن جاری ہوا ، ابھی تک کمیشن سے متعلق ابھی کچھ نہیں ہوا نا ہمیں بلایا گیا ،ٹی او آر سے متعلق بھی ایک ریکوئسٹ تھی کہ کرمنل کاروائی کی تحقیقات کا ذکر بھی ہو جاتا ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کمیشن کو سپروائز نہیں کر سکتے ان کو اپنا کام کرنے دیں، اس عدالت کی اس متعلق رائے ہے کہ کاروائی قانونی پراسس کے مطابق نہیں تھی اگر آپ کا کوئی اعتراض مستقبل میں ہو تو دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں، کیا اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے کوئی رپورٹ آئی ہے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے کہا کہ ابھی کوئی رپورٹ نہیں مجھے نہیں دی گئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ علی وزیر ابھی بھی جیل میں ہے وہ بھی ممبر قومی اسمبلی ہیں،جب یہ حکومت میں تھے اس وقت یہ بھی ممبران اسمبلی کو خوشی خوشی اندر کر دیتے تھے،کیا اس عدالت کی حدود سے اس قسم کے ہونے والے واقعات کی کوئی تحقیقات ہوئیں ہیں؟ اس عدالت کی حدود میں صحافیوں کو بھی اٹھایا گیا کیا ان کی آج تک تحقیقات ہوئیں؟

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    سعودی عرب میں گرفتاریوں کی ویڈیو

    شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق مسجد نبوی میں واقعہ کی خود نگرانی کرتے رہے

    شیخ راشد شفیق کی عدالت پیشی،عید گزاریں گے جیل میں

    توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

    تمام مکاتب فکرکو اکٹھا کرکےعمرانی فتنے کا خاتمہ کرنا ہوگا،جاوید لطیف

    عدالت کا شہباز گل کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج توہین مذہب کے مقدمات چیلنج 

  • شیریں مزاری کی گرفتاری پر آج کمیشن تشکیل دیا جائیگا،عدالت میں جواب جمع

    شیریں مزاری کی گرفتاری پر آج کمیشن تشکیل دیا جائیگا،عدالت میں جواب جمع

    شیریں مزاری کی گرفتاری کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی شیریں مزاری اور بیٹی ایمان مزاری اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئیں، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ سمری بھیج دی ہے، آج شاید کمیشن تشکیل پا جائے گا، وفاقی حکومت نے عدالت میں جواب جمع کرواتے ہوئے کہا کہ امید ہے آج جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا جائے گا،

    قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافی صابر شاکر کی اہلیہ کی درخواست پر سماعت ہوئی صابر شاکر پر فوجداری مقدمات درج کئیے گئے ہیں، اہلیہ نے پولیس کیطرف سے صابر شاکر کو حراساں کرنے سے روکنے کی درخواست کی ہے،عدالت نے حکم دیا کہ صابر شاکر واپس آنے کی تاریخ سے عدالت کو مطلع کرینگے تو مناسب حکم جاری کرینگے،

    سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی، صابر شاکر کی اہلیہ کے وکیل بیرسٹر شعیب رزاق عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ صابر شاکر کب پاکستان آ رہئے ہیں، وکیل نے کہا کہ صابر شاکر کے خلاف کئی ایف آئی آر مختلف علاقوں میں درج ہیں، عدالت نے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں،وکیل نے کہا کہ دو ہفتوں کے بعد صابر شاکر پاکستان آئین گے، عدالت نے کہا کہ جب تاریخ صابر شاکر کی مقرر ہو تو عدالت کو بتائیں، عدالت نے سماعت ملتوی کر دی،

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    سعودی عرب میں گرفتاریوں کی ویڈیو

    شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق مسجد نبوی میں واقعہ کی خود نگرانی کرتے رہے

    شیخ راشد شفیق کی عدالت پیشی،عید گزاریں گے جیل میں

    توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

    تمام مکاتب فکرکو اکٹھا کرکےعمرانی فتنے کا خاتمہ کرنا ہوگا،جاوید لطیف

    عدالت کا شہباز گل کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کرنے کا حکم

    پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج توہین مذہب کے مقدمات چیلنج 

  • لوگ کہتے تھے آئین کیا ہے؟ کاغذ کا پرزہ ہے، یہی بنا دیا ہے، ریاست اختیار کا مسلسل غلط استعمال کر رہی ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ

    لوگ کہتے تھے آئین کیا ہے؟ کاغذ کا پرزہ ہے، یہی بنا دیا ہے، ریاست اختیار کا مسلسل غلط استعمال کر رہی ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ

    اسلام آباد : ہائیکورٹ کے جج چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ لوگ کہتے تھے آئین کیا ہے؟ کاغذ کا پرزہ ہے، یہی بنا دیا ہے یہ عدالت ریاست کی جانب سے اختیار کا مسلسل غلط استعمال دیکھ رہی ہے-

    باغی ٹی وی :چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی گرفتاری سے متعلق کیس کی سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو بھجوایا گیا ہے، علی وزیر کئی ماہ سے قید میں ہیں۔

    گرفتاریوں کیخلاف پی ٹی آئی کی درخواست،محض خدشے کے پیش نظر حکم جاری نہیں کرسکتے‘عدالت

    چیف جسٹس نے کہا کہ یہ وفاق، صوبائی حکومتوں اور پارلیمنٹ کا کام ہے، پہلے یہ سارے کام نہیں کرتے اور پھر اپوزیشن میں آتے ہیں تو کیس عدالت لے آتے ہیں اس طرح کی باتوں سے جمہوریت غیر فعال ہو جاتی ہے۔ تمام ادارے کام کریں تو ایسی درخواستیں عدالتوں میں نہ آئیں۔ سیاسی لڑائیوں میں یہ بھول جاتے ہیں کہ اپنے حلقہ کے عوام کو جوابدہ ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر سیاسی جماعتیں آپس میں بیٹھ کر بات نہیں کریں گی تو عدالت کیا کرے؟ حکومت خود سوئی ہوئی ہے اورحکومتی سپورٹرز عدالت پر طنز کرتے ہیں، پہلے بھی ایسا ہوتا تھا اور آج بھی ہوتا ہے، حکومت کا کام ہے کہ کمیشن بناکر ان مسائل کو حل کرے۔ جس کے حق میں فیصلہ آ جائے دوسرے اس پر برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

    عدالت کا لانگ مارچ کے شرکاء کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے لوگ کہتے تھے آئین کیا ہے؟ کاغذ کا پرزہ ہے، یہی بنا دیا ہے شیریں مزاری واحد پارلیمنٹیرین نہیں بہت سارے ایسے ممبران کو گرفتار کیا گیا۔ ان مسائل کو کمیشن بنا کر حل کرنا حکومت کا کام ہےیہ عدالت ریاست کی جانب سے اختیار کا مسلسل غلط استعمال دیکھ رہی ہے ہرریاستی ادارے کو اب پرو ایکٹو رول ادا کرنا چاہئے-

    عدالت نے شیریں مزاری کی گرفتاری سے متعلق کیس میں وفاق کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلئے مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے مزید سماعت 30 مئی تک ملتوی کر دی ۔

    پی ٹی آئی لانگ مارچ: ان کی جنگ ہم نہیں لڑ سکتے،کارکن کسی احتجاج کا حصہ نہ بنیں ،طاہر القادری کی اپنے…

  • شیریں مزاری کواغواکیاگیا،عدلیہ سوموٹولے:بابراعوان

    شیریں مزاری کواغواکیاگیا،عدلیہ سوموٹولے:بابراعوان

    اسلام آباد:پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان نے کہا ہے کہ کیس کی رپورٹ سے شیریں مزاری کا اغوا ثابت ہوتا ہے، اغوا کے خلاف تو پرچہ اور اس پر سوموٹو ہونا چاہیے، عدلیہ فوری ایکشن لے۔

    تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیس کی رپورٹ سے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کا اغوا ثابت ہوتا ہے اور اس اغوا کے خلاف تو پرچہ بلکہ اس پر سوموٹو ہونا چاہیے، عدلیہ فوری نوٹس لے۔

    پولیس کو کہتا ہوں کہ کسی کا ناجائز کام نہ کرنا، سڑک پر گھسیٹنا غیر قانونی طریقہ تھا، قانون کے تحت گرفتار کیا جائے تو گرفتاری پر کوئی اعتراض نہیں، پولیس ملزم کو حراست میں لے تو متعلقہ تھانے میں رپورٹ درج کرنی ہوتی ہے، شیریں مزاری کے کیس میں ایسی کوئی رپورٹ موجود نہیں، انہیں سیدھا سیدھا اغوا کیا گیا، تحریک انصاف کا مطالبہ ہے کہ عدلیہ فوری نوٹس لے اور تمام ریکارڈ کو اپنی تحویل میں لے تاکہ ردوبدل نہ کیا جاسکے۔

     

     

    پی ٹی آئی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ انسداد کرپشن کا مقدمہ صرف سرکاری ملازم کے خلاف درج ہوسکتا ہے، گرفتاری سے پہلے چارج شیٹ پیش کرنا ضروری ہوتا ہے، پولیس رولز کے مطابق ایک سے دوسرے صوبے میں جانے کی اجازت درکار ہوتی ہے، پولیس جہاں سے جاتی ہے وہاں رپورٹ لکھی جاتی ہے، پولیس رولز میں ان تمام باتوں کی پابندی ضروری ہے، ، ملزم کو گرفتاری کے بعد اسے چیک اپ کے لیے اسپتال لے جانا ضروری ہوتا ہے، پولیس فورس کو اسلام آباد میں آنے کے لیے اجازت ڈپٹی کمشنر دیتا ہے، ایس پی رینک سے اوپر کا افسر اجازت طلب کرتا ہے۔

    علاوہ ازیں بابر اعوان نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ شرم وحیا سےعاری، شوباز ابن شوباز اور درباری، شیریں مزاری کو گرفتار کرکے ثابت کررہے ہیں کہ ان کےہاتھوں کوئی محفوظ نہیں۔

    شیریں مزاری کو گرفتار کرکے ثابت کررہے ہیں، اُن کے ہاتھوں کوئی محفوظ نہیں۔ انارکی اور خانہ جنگی اُن کا اصل ٹارگٹ ہے۔ ڈاکٹر مزاری کو برسرِعام اہلکاروں نے پیٹا اور گھسیٹا۔ کرائم منسٹر، ماڈل ٹاؤن کا ماڈل اسلام آباد میں دہرانا چاہتا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ ڈاکٹر شیریں مزاری کو سرِعام اہلکاروں نے پیٹا اور گھسیٹا، کرائم منسٹر ماڈل ٹاؤن کا ماڈل اسلام آباد میں دہرانا چاہتا ہے، انارکی اور خانہ جنگی ان کا اصل ٹارگٹ ہے، یہ لوگ آزادی مارچ تو کیا اسکی ہوا کو بھی نہیں روک سکتے۔بابر اعوان نے بتایا کہ پی ٹی آئی لیگل ایڈ کمیٹی بنائی ہے جس سے زیادتی کا شکارکوئی بھی پاکستانی رابطہ کرسکتا ہے۔

  • شیریں مزاری کے اغوا کا مقدمہ، درخواست دائر کردی گئی

    شیریں مزاری کے اغوا کا مقدمہ، درخواست دائر کردی گئی

    اسلام آباد:شیریں مزاری کے اغوا کا مقدمہ، درخواست دائر کردی گئی،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی خواتین سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کے اغوا کا مقدمہ درج کرانے تھانے پہنچ گئیں۔پی ٹی آئی کی سابق خواتین ارکان اسمبلی نے تھانہ کوہسار میں درخواست دائر کر دی۔ عاصمہ قدیر، ظل ہما اور سابق ایم پی اے انیتا محسود نے درخواست جمع کرائی۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شیریں مزاری کو گرفتار کیا گیا جس کی ویڈیو بھی موجود ہے، اینٹی کرپشن کو متعلقہ تھانے میں آمد روانگی سے قبل نوٹ کروانا تھا۔مزید کہا گیا کہ اینٹی کرپشن نے متعلقہ تھانے کو آگاہ نہیں کیا گیا، اس سارے وقوع کے ذمہ دار حمزہ شہباز ہیں، حمزہ شہباز و دیگر کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا جائے۔

    یاد رہے کہ شیریں مزاری کو آج اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ کے باہر سے پولیس نے گرفتار کیا ہے۔

    پولیس کی جانب سے جاری بیان میں ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا کہ شیریں مزاری کیخلاف ڈی جی خان میں اینٹی کرپشن کے تحت مقدمہ درج تھا، گرفتاری کے بعد انہیں تھانہ کوہسار سے ڈیرہ غازی خان منتقل کردیا گیا ہے۔

    اینٹی کرپشن پنجاب نے شیریں مزاری کو اسلام آباد سے گرفتار کرلیا۔ پی ٹی آئی رہنما کو ان کے گھر کے باہر سے گرفتار کیا گیا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ شیریں مزاری کو گرفتار کرلیا گیا، ان کو ان کی رہائشگاہ ای سیون کے قریب گرفتار کیا گیا، شیریں مزاری کو لاہور منتقل کرنے کی کوشش کی گئی ، ان کو گھر کے باہر سے گرفتار کیا گیا، دوسرے تھانے کی حدود میں گرفتاری پر انٹری اور ایگزٹ ہوتی ہے، تھانہ کوہسار میں نہ کوئی انٹری ہے نہ کوئی ایگزٹ ہے،

    پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ مرد پولیس اہلکار شیریں مزاری کو گھسیٹ کر لے گئے، شیریں مزاری ایک جاندار آواز ہے جو اپنا مؤقف بلا خوف پیش کرتی ہیں، حکومت خوفزدہ ہوگئی ہے، ایسے ہتھکنڈوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے، شیریں مزاری کیساتھ مرد پولیس اہلکاروں نے بدتمیزی کی۔یہ شیری مزاری کا سیدھا سیدھا اغوا ہے۔

  • شیریں مزاری کی گرفتاری سیاسی جبرنہیں تواورکیا ہے؟پی پی رہنما کی سخت تنقید

    شیریں مزاری کی گرفتاری سیاسی جبرنہیں تواورکیا ہے؟پی پی رہنما کی سخت تنقید

    اسلام آباد:شیریں مزاری کی گرفتاری سیاسی جبرنہیں تواورکیا ہے؟پی پی رہنما کی سخت تنقید،اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر مصطفیٰ نوازکھوکھر نے شیریں مزاری کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی جبر کی سب سے بری شکل ہے۔

    سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور سابق وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے پاکستان میں چیزیں بدلنے والی نہیں، شیریں مزاری میری پڑوسی اورعزیزدوست ہیں، ان کی گرفتاری قابل مذمت اور سیاسی جبر کی سب سے بری شکل ہے۔

    پی پی رہنما نے کہا کہ جو لوگ ماضی میں ان چیزوں سے گزرے انہوں اسے برا بھلا کہا ہے، انہوں نے کہا کہ سوال اٹھایا کہ جو ان چیزوں سے ماضی میں گزر چکے وہ اس میں کیوں ملوث ہونگے یا اس پر آنکھیں بند کرینگے۔

    خیال رہے کہ سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کو گھر کے باہر سےگرفتار کرلیا گیا ہے ، اسلام آباد پولیس نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شیریں مزاری کیخلاف ڈی جی خان میں اینٹی کرپشن کے تحت مقدمہ درج تھا، انہیں تھانہ کوہسار سے ڈیرہ غازی خان منتقل کردیا گیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے گرفتاری کیخلاف ملک گیراحتجاج کی کال دے دی ہے۔

  • شیری مزاری کی گرفتاری،عمران خان کا رد عمل سامنے آ گیا

    شیری مزاری کی گرفتاری،عمران خان کا رد عمل سامنے آ گیا

    لاہور:سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین عمران خان نے شیری مزاری کی گرفتاری کے بعد احتجاج کا اعلان کر دیا۔

     

     

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے لکھا کہ تحریک انصاف کے سینئر رہنما شیریں مزاری کو اس فسطائی حکومت نے گھر کے باہر سے اغوا کر لیا۔ وہ مضبوط اور نڈر خاتون ہیں، اگر امپوٹڈ حکومت سمجھتی ہے وہ اسے اس فسطائیت سے مجبور کر سکتی ہے، تو انہوں نے غلط اندازہ لگایا ہے۔

     

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہماری تحریک مکمل طور پر پُرامن ہے لیکن یہ فاشسٹ امپورٹڈ حکومت ملک کو انتشار کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے۔ معیشت کو یکدم گرا دینا کافی نہیں تھا، اب یہ انتخابات سے بچنے کے لیے انارکی پھیلانا چاہتے ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ آج ہم احتجاج کریں گے اور کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد اپنے لانگ مارچ کا اعلان کروں گا۔ٹویٹر پر انہوں نے شیری مزاری کو رہا کرنے کا ٹیگ بھی استعمال کیا۔

     

    سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی گرفتاری پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا۔پارٹی رہنما اسد عمر نے اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹڑ پر ایک پیغام بھی جاری کیا۔

     

     

    شیرین مزاری کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے پر پارٹی کے کارکنان تمام پاکستان میں آج شام احتجاج کریں گے.

     

     

     

    پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری پر درج کیے گئے مقدمے کی تفصیلات سامنے آگئیں۔یہ مقدمہ اینٹی کرپشن پنجاب نے اسسٹنٹ کمشنر راجن پور کی شکایت پر درج کیا۔

    دستاویز کے مطابق شیریں مزاری پر زمین پر ناجائز قبضے کا الزام ہے، ان کے خلاف 11 مارچ 2022 کو شکایت نمبر 1272 درج کی گئی تھی جب کہ اسٹنٹ کمشنر راجن پور کو معاملے کی انکوائری کی ہدایت کی گئی۔

    مقدمے کے متن میں کہا گیا ہےکہ 8 اپریل کو اسسٹنٹ کمشنر نے اپنی رپورٹ تیار کی، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے اپنے رولز مجریہ 2014 کے تحت کرمنل مقدمہ درج کیا۔

    ادھر سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حکومت نے گرفتاریوں کا فیصلہ کرلیا اور ملک میں حالات خراب کرنے جارہی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے رہنما شیری مزاری کی گرفتاری پر اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میراخیال ہےانہوں نے گرفتاریوں کافیصلہ کرلیا، یہ اس سلسلےکی پہلی کڑی ہے، حکومت ملک میں حالات خراب کرنےجارہی ہے۔

    شیخ رشید نے شیری مزاری کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شیریں مزاری صاف ستھری سیاستدان ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نےساری زندگی اصولوں پرمقابلےکیے ہیں، ایسی گرفتاریاں ہوتی ہیں توبالکل تیارہیں، اب فیصلہ لانگ مارچ کی طرف بڑھ رہاہے۔

    سابق وزیر داخلہ نے مزید کہا انھوں نے اپنے پولیس افسر اسلام آباد میں لگا دیے ہیں، یہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

    یاد رہے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا ، شیریں مزاری کیخلاف ڈی جی خان میں اینٹی کرپشن کے تحت مقدمہ درج تھا، گرفتاری کے بعد انہیں تھانہ کوہسار سے ڈیرہ غازی خان منتقل کردیا گیا ہے۔

    سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی گرفتاری پران کی بیٹی ایمان مزاری نے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ٹوئٹر پر جاری بیان میں ایمان مزاری نے کہا کہ مجھے صرف یہ بتایا گیا کہ گرفتار کرنے والے اینٹی کرپشن ونگ لاہور کے اہلکار ہیں۔ایمان مزاری نے کہا کہ مرد پولیس اہلکار میری والدہ کومارتے ہوئے ساتھ لے گئے۔

    یاد رہے کہ اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کو گرفتار کر لیا گیا۔یہ خبریں گردش کررہی ہی ہیں‌ کہ اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم نے سابق وفاقی وزیر کو گرفتار کیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ شیریں مزاری کے خلاف ڈی جی خان میں ایک مقدمہ درج ہوا تھا جس پر انہیں اینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم نے اسلام آباد پولیس کی مدد سے تھانہ کوہسار کی حدود میں گرفتار کیا۔

     

     

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ شیریں مزاری کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

     

    اس حوالے سے سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ شیریں مزاری کی گرفتاری کو سیاسی انتقام کے طور پر لیا جائے گا اور اس گرفتاری سے شیریں مزاری کو نقصان نہیں بلکہ سیاسی طور پر بہت فائدہ ہو گا۔

  • شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کل میں دیکھ رہا ہوں کہ شیریں مزاری بہت زیادہ زہریلی ہوئی ہوئی ہیں۔ اور نہ صرف اداروں کو نشانہ بنا رہی ہیں بلکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے جیسے الزامات بھی لگا رہی ہیں وہ نیوٹرلز سے براہ راست پوچھ رہی ہیں کہ بتاو انہوں نے امریکہ کی سازش کیوں کامیاب کروائی، جو اس وقت تحریک انصاف کا بیانیہ ہے اس کے مطابق ان کی حکومت کو ہٹانا امریکہ سازش ہے اور اب یہ اس سازش میں فوج کو بھی گھسیٹ رہے ہیں۔ انہوں نے چند دن پہلے نیوٹرلز کے بارے میں کیا بات کی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یقینا انہیں یہ ڈیوٹی عمران خان نے دی ہے، لیکن کیا کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے اداروں کو نشانہ بنائے اور ملکی سالمیت کو خطرے میں ڈالے۔دراصل ہم اکثر سنتے ہیں کہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنا۔لیکن ہمارے لیڈر رنگ بدلنے میں گرگٹ سے بھی زیادہ تیز ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ کچھ دن پہلے جب محترمہ شیریں مزاری وزیر تھی اور سرکار کے پیسے پر عیاشیاں جاری تھی تو وہ اپنی نوکری بچانے کے لیے ان ادارون کے لیے اپنی بیٹی کو سوشل میڈیا پر جھاڑ پلا رہی تھی۔ ویسے تو پاکستانی معاشرے میں یہ بات بڑی معیوب ہے کہ ماں اور بیٹی پوری دنیا کے سامنے ٹویٹر پر ایک دوسرے سے دھینگا مشتی کریں۔ جبکہ وہ ایک ہی گھر میں موجود ہوں اور ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھٹکٹا کر ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے، قوم کو تماشا دیکھائیں، یقینا اس کے پیچھے بھی کوئی کہانی ہو گی لیکن آج میں اس ویڈیو میں بہت سی کہانیاں کھولنے والا ہوں۔

    شیرین مزاری کی بیٹی تحریک انصاف اور بشرہ بیگم کے بارے میں کیا خیال رکھتی تھی ۔ یہ دیکھیں ایمان مزاری کی ٹویٹ
    اگر ملک کو جادو ٹونے سے ہی چلانا تھا تو پھر اس قوم کا پیسہ اتنی بڑی کابینہ پر کیوں ضائع ھو رہا ہے۔ ملک کا مذاق جادو ٹونے سے اڑایا جا رہا ہے اور آپ چاہتے ہیں کے جادو کرنے والوں پر بات بھی نا ہو۔۔۔ ایسا تو ہر گز نہیں ھو گا۔

    اب جن لوگوں کی گھر میں ان کے بچے نہ سنتے ہوں کیا ان کا قوم کو درس دینے کا کوئی اخلاقی جواز بنتا ہے۔ان کے کنٹرول میں خود ان کے بچے بھی نہیں ہیں۔ جب شیریں مزاری ہیومن رائٹ کی وزیر تھی تو انکی بیٹھی ان کی سب سے بڑی Criticتھی اور صبح شام اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی تھی اس وقت شیریں مزاری کے کیا تاثرات تھے۔شیریں مزاری نے اٹھائیس نومبر کو ٹویٹ کی کہ میں یہ بات واضح کرنا چاہتی ہوں کہ میں اپنی بیٹی کے تاثرات سے متفق نہیں، اور میں اس زبان کی سختی سے مذمت کرتی ہوں جو اس نے ملٹری کے خلاف استعمال کی۔یہی نہیں۔ بلکہ شیریں مزاری نے اپنی بیٹی کو ایک وٹس ایپ بھی کیا اور ان کی بیٹی نے اپنی ماں کا پرائیویٹ پیغام ٹویٹر پر شیئر کر دیا ۔

    ایمان تم مسلسل آرمی کے خلاف پاگل ہوئی ہوئی ہو، اگر بھارتی فوج کا سربراہ کوئی بیان دے گا تو اس کا جواب ڈی جی آئی ایس پی آر ہی دے گا، تم دوبارہ میرے لیے شرمندگی بن رہی ہو، تمھیں پاک فوج کے خلاف اپنی نفرت کو روکنا ہو گا۔ تم اپنی دلیل کو کھو چکی ہو اور اس سے تمھاری ساکھ کو نقصان ہو رہا ہے۔ یہ میرے لیےبلکل احمقانہ اور شرمندگی کا باعث ہے۔

    اب آپ دیکھیں کہ جب ان کی نوکری کو خطرہ ہوتا ہے تو ان کا کیا رویہ ہوتا ہے اور جب دوباری نورکری چاہیے ہوتی ہے تو یہ کیسے اداروں کو بلیک میل کرتے ہیں۔شیرین مزاری نے چند دن پہلے ایک ٹویٹ کی جس میں اس نے ذکر کیا کہ سرکار کا ملازم۔ یعنی احمد قریشی کس کی مرضی سے اسرائیل گیا ہے اور کیا اسے سرکار کی رضا مندی حاصل ہے، اور ساتھ میں ڈی جی آئی ایس پی آر کو ٹیگ کر کے جواب مانگ لیا۔ اس وقت شیریں مزاری جو کچھ کر رہی ہیں وہ آج سے پہلے کبھی نہیں ہوا کہ ایک سویلین سیاسی معاملات ہر ہر روز فوج کے ترجمان سے کوئی نہ کوئی الزام لگا کر جواب مانگ لے لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک تویٹ انہوں نے احمد قریشی سے سوشل میڈیا پر لڑائی میں کی۔ احمد قریشی نے ٹویٹ کی کہ
    عمران خان اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے لیے تیار تھے، اور اس کے لیے اپنے ذاتی اور فیملی تعلقات بھی استعمال کیے، لیکن جب ان کی حکومت بری کارکردگی کی وجہ سے ناکام ہو گئی تو انہوں نے اپنا راستہ بدل لیا۔ اس ٹویٹ کہ جواب میں شیریں مزاری پھر فوج کو گھسیٹ لائی۔ اور ٹویٹ کی کہ بھڑاس نکالنے سے پہلے حقائق پرکھیں۔ہم بہت سے حساس معاملات پرخاموش ہیں مگرہمیں دیوارسے مت لگاؤ۔ایک برس تک ہم اس شخص کو بیہودہ الزامات کے ذریعےخان اوراسکی آزادخارجہ پالیسی کو ہدف بناتے دیکھتے رہے اور جواب نہیں دیا کیونکہ اس میں کچھ خاص جان نہ تھی @OfficialDGISPR ہمیں مجبور مت کرو

    اب دیکھیں کہ کہنے کو یہ امریکی غلامی کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن ان کا جینا مرنا پردیس میں ہے، جب توہین مذہب کا معاملہ آیا تو شیرین مزاری نے فوری اقوام متحدہ کو خط لکھ ڈالا کہ ہمیں بچاو۔ اب کسے نہیں پتا کہ اقوام متحدہ امریکہ کے اشاروں پر ناچتا ہے اور امریکہ کی مرضی کے بغیر ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا اور انہوں نے تو ویسے ہی قوم کو بیرونی آقاوں سے نجات دلانی ہے پھر یہ خود کیوں اپنے بیرونی آقاوں کو مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔

    جب امریکہ میں ہم جنس پرستی پر قانون پاس ہوا تو حمزہ علی عباسی کے مقابلے میں ایمان مزاری ہم جس پرستی کی حمایت میں سامنے آگئی۔
    محترمہ لکھتی ہیں کہ
    کسی کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ اس سے شادی کرے جسے وہ محبت کرتا ہو، اس سے آپ کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔اور تو اور اس میں مذہب کو بھی استعمال کر ڈالا، اور کہا کہ کوئی مذہب اس بات کی تعلیم نہیں دیتا کہ آپ نفرت پھیلائیں، ویسے تو ان کی والدہ کی جو جماعت ہے وہ امر بالمعروف کی بات کرتی ہے لیکن ان کی والدہ نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ مذہب میں کس چیز کی اجازت ہے اور کس کی نہیں۔ ہم جس پرستی اور اس کی حمایت کسی بھی صورت میں اسلام میں جائز نہیں ہے۔ یہاں تو قوم لوط پر عذاب نازل ہو گیا اور یہ مذہب کو اپنے مقاصد کے لیے غلط استعمال کر رہی ہیں ظاہری سی بات ہے جب امریکہ کی این جی اوز اور عورت مارچ کے رکھوالے بھاری فنڈنگ کرتے ہیں تو بڑے بڑوں کا ایمان ڈول جاتا ہے لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ آُ کا تو اپنا نام ہی ایمان ہے۔ اور آپ کی والدہ تو سیاست ہی اسرائیل کے نام پر کر رہی ہیں۔ کم از کم اپنی والدہ کی عزت کا ہی خیال رکھ لیا ہوتا،

    بحر حال یہاں آپ جس جگہ ہاتھ ڈالیں گے گنگا الٹی ہی بہہ رہی ہو گی۔تحریک انصاف کو انصاف کی بات کرتی ہے ایسے ایسے مفاد پرست اس پر قابض ہو چکے ہیں کہ اللہ کی پناہ۔مثال کے طور پر تحقیقات کے بعد شیریں مزاری اور ان کے والد کا نام ایف آئی آر میں شامل ہوگیا ہے کیا خبر ہے میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں ۔۔
    تفصیلات کے مطابق انسانی حقوق کی سابق وفاقی وزیر اور کرپشن کے خاتمے کی دعویدار تحریک انصاف کی مرکزی رہنما سابق رکن اسمبلی شیریں مزاری پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقہ بنگلہ اچھا دوئم میں نہ صرف خود بلکہ انکے خاندان کے دیگر افراد دو سو سے زائد مزارعین کی ملکیتی اور سرکاری35000ہزار کنال اراضی پر قابض ہیں۔اور ان کا مزارعین کے ساتھ غیر انسانی رویہ ہے، شیریں مزاری اور انکا خاندان دو سو زائد مزارعین کی ملکیتی اور سرکاری اراضی پر قابض ہے ڈیرہ غازیخان میں شیریں مزاری کے والد سردار عاشق مزاری نے لینڈ ریفارمز ایکٹ سے بچنے کےلیے جعلسازی کی اورجعلسازی کا یہ سلسلہ عاشق مزاری کے بعد شیریں مزاری نے بھی جاری رکھا عاشق مزاری نے بارہ ہزار کنال زمین مختلف کمپنیوں کے نام پر منتقل کی اس منتقلی کا واحد مقصد اس زمین کو بحق سرکار ضبط ہونے سے بچانا تھا چئیرمین فیڈرل لینڈ کمیشن نے اس اقدام کو جعلسازی اور جھوٹ سے تعبیر کر دیا ہے ان جعلی انتقالات میں سے ایک انتقال کے تحت شیریں مزاری کے نام بھی 800 کنال زمین منتقل کی گئی ڈپٹی لینڈ کمشنر ڈیرہ غازیخان نے شیریں مزاری کے بھائی سردار ولی محمد مزاری کے نام 770 ایکڑ زمین ایسی ہی بے ضابطگی ثابت ہونے کے بعد ضبط کرنے کا حکم دیالیکن ۔بااثر مزاری سرداروں نے اس فیصلے پر عملدرامد نہ ہونے دیا 9 مارچ دوہزار بائیس کو ڈپٹی کمشنر عدنان محمود نے جعلسازی کے خلاف اور صوبائی حکومت کے حق میں فیصلہ دیا جس کے بعد سرکاری وسائل استعمال کرتے ہوئے خاندانی جعلسازی کے تحفظ کےلیے ڈاکٹر شیریں مزاری اور انکی بھتیجی کرن مزاری نے ڈپٹی کمشنر عدنان محمود پر دباو ڈالا مزاری خاندان لینڈ ریفارمز کے تحت الاٹ کی گئی ہزاروں کنال زمین پر بدستور غیر قانونی قابض ہے اور مزارعین ریکارڈ میں مالک لیکن عملا دربدر ہیں لینڈ ریفارمز ایکٹ کے تحت سردار عاشق مزاری کی 35000 کنال زمین کو دو سو سے زائد مزارعین کے نام منتقل کیا گیا اورمزاری خاندان نے ان الاٹی مزارعین کو انکا حق دینے کی بجائے الٹا ان پر دباوڈالا بے گناہ مزارعین کے خلاف وقتاً فوقتاً جھوٹی ایف آئی آرز کرائی گئیں اوراور مزاری خاندان کے پالتو غنڈوں سے تشدد کا نشانہ بھی بنوایا جاتا رہا ڈیرہ غازیخان ۔ ڈاکٹر شیریں مزاری کے بہنوئی اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی سردار شوکت مزاری نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان مزارعین کی تین بستیوں کو اور انکی کاشتہ فصلات کو مکمل طور سے تباہ کردیا دراصل شیریں مزاری اور انکے خاندان نے زمینوں کو بحق سرکار ضبطگی سے بچانے کےلیے لینڈ ریفارمز ایکٹ کا تمام ریکارڈ غائب کرادیا اورجعلسازی سے دوبارہ ریکارڈ تیار کرا کے اپنی جعلسازی کو چھپانے کی کوشش کی۔

  • شیریں مزاری کی اختیارت کے ناجائز استعمال کی داستان

    شیریں مزاری کی اختیارت کے ناجائز استعمال کی داستان

    خواجہ آصف سے پوچھا گیا کہ آپ نے شریں مزاری کو ٹریکٹر ٹرالی کیوں کہا؟ تو خواجہ آصف نے جواب دیا کہ جس طرح تالاب کا ڈو ڈو شور کر تا ہے اُسی طرح شیریں مزاری کی ٹَر ٹَر ٹریکٹر ٹرالی کے شور کا سَماں پیش کرتی ہے۔
    اِقتدار کے آخری دنوں میں جب خان کو اپنی ناؤ ڈوبتی نظر آئی تو شیریں مزاری کی لاٹری نکل آئی۔
    خان نے مخالفین پر حملوں کیلئے شیریں مزاری کا انتخاب کیا۔ جس کی اپنی بیٹی ایمان مزاری بھی اُس کے کنٹرول میں نہیں۔
    اپنے مذہبی پسِ منظر کی وجہ سے شیریں مزاری مغرب اور بالخصوص امریکہ کے خلاف جارحانہ رویہ اپنائے رکھی ہیں۔
    شیریں مہر النساء مزاری کی اختیارت کے ناجائز استعمال کی ایک الگ داستان ہے۔
    نیب ملتان شیریں مزاری کے خلاف زمین کی جعلی کمپنیوں کو دینے کے خلاف انکوائری کر رہا ہے۔
    راجن پور میں شیریں مزاری نے129ایکڑ سرکاری اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے۔
    وِراثتی جائیداد میں بھی غلط حصے کیلئے شیریں مختلف اِداروں پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔
    راجن پُور میں ہی شیریں مزاری نے 35138 کنال زمین کے الاٹیز پر زمین کی الاٹمنٹ سے دَست بردار ہونے کیلئے جھُوٹی FIRsکاٹی گئیں۔حتیٰ کہ الاٹیز سے بھتہ بھی وَصول کیا جاتا رہا۔
    اِس رویے کے خلاف شیر محمد، میر محمد، حبیب اللہ وغیرہ نے مزاری خاندان کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائرکر رکھا ہے۔
    الاٹیز 1997سے انصاف کے حصول کیلئے دَر بدر پھر رہے ہیں۔
    شیریں مزاری اپنے بھائی جو کہ مُشرف دُور میں ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی تھے، سے مل کر مخالفین کو پولیس اور دیگر اداروں سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان بھر میں تنقید در تنقید کا ایک نہ رکنے والے سلسلے کا آغاز ہو گیا ہے۔ سیاسی وابستگی ایک طرف مگر عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کے کرتا دھرتا ہر شے پر بے جا تنقید اور سازش کے بیانیے کو یوں فروغ دینے میں مصروف ہیں کہ عوام میں غیر ضروری بے قراری ابھاری جا سکے۔ دراصل یہی وہ منطق ہے جس کے مسلسل پرچار سے خان اور اس کے ساتھی عوام کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد عوام کو حکومت اور اداروں کے خلاف کھڑا کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو تباہ و برباد کرنا ہے۔ جس کے ذریعے وہ اپنے ذاتی ایجنڈے کی پیروی چاہتے ہیں ۔ اس عمل میں کچھ میڈیا کے عناصر کو بھی اپنے گھناؤنے عزائم میں شامل کررکھا ہے ۔ عمران خان، فواد چوہدری، شیریں مزاری اور شہباز گل تو گویا ایسے چشمے سے پاکستان کے حالات کو دیکھتے ہیں کہ جیسے آج کے سیاسی و اقتصادی حالات کے لیے سابقہ چار سالوں سے پی ٹی آئی نہیں بلکہ یا تو موجودہ حکومت، ادارے یا امریکا ذمہ دار ہیں۔

    اپنے سازشی بیانیے کی پیروی ایک طرف پھر اپنے ہی بیانات میں افواج پاکستان کو ذاتی سیاسی مقاصد کے حصول کی کوشش کے اعتراف سے اپنے ہی بیانیے کی نفی کرتے ہیں۔ یہ تمام حکومتی سرگرمیوں کے ناقد ہیں اور نہیں چاہتے کہ کسی صورت بھی موجودہ حکومت انہی کی خراب کردہ معیشت کو ایک بہتر ڈگر پر چلا سکے۔ ایک طرف تو یہ نسرین جلیل کے بطور گورنر سندھ تعیناتی کی تجویز پر تنقید کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف اس بات سے لاعلم ہیں کہ شیریں مزاری کا یونائیٹڈ نیشنز کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی دعوت دینا انہی کے بیرونی سازش کے بیانیے کی نفی کرتا ہے۔

    کیا یہ یونائیٹڈ نیشنز میں امریکی اثر و رسوخ سے انجان ہیں؟ کیا یہ اس بات سے لاتعلق ہیں کہ جس توہین رسالت کے قانون کا یہ دفاع کرتے آئے ہیں، شیریں مزاری کے خط سے اسی کی تنقید کا سامان کر رہے ہیں؟ یو ٹرن ماسٹر تو یہ شروع سے ہی رہے ہیں مگر کیا آج اقتدار کی بھوک نے ان کو اس قدر اندھا کر دیا ہے کہ یہ ایک جھوٹا اعلامیہ جاری کر کے خود ہی اس کی انجانے میں نفی بھی کرتے ہیں اوراس احساس سے عاری بھی ہیں۔ کیا یہ خود داری کی بات کرنے والے منافقت تو نہیں کر رہے اور پاکستان اور اس کی عوام کو اپنے اقتدار کی ہوس سے نیچا سمجھتے ہیں کہ ان کا استعمال کر رہے ہیں؟ آج یہ نسرین جلیل کو بھارت کو خط لکھنے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کو کوئی عہدہ نہیں دیا جانا چاہئیے تو شیریں مزاری کا خط بھی ایسی ہی کارگزاری ہے۔ کیا یہ اپنے گریبان میں جھانکیں گے؟ اگر وہ غلط ہے تو پھر یہ بھی غلط ہے ۔ اور شیریں مزاری کو بھی مستقبل میں کسی بھی عہدے کے لیے ناموزوں سمجھا جائے ۔