Baaghi TV

Tag: شیر افضل مروت

  • دو بھگوڑے، بے شرم چوہے،معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔شیر افضل مروت

    دو بھگوڑے، بے شرم چوہے،معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔شیر افضل مروت

    پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے بیرون ممالک میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والے پی ٹی آئی رہنماؤں پر کڑی تنقید کی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پیغام میں شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ سوشل میڈیا پر بدنام زمانہ دو بھگوڑوں کے دفاع میں ایک بار پھر مہم چل رہی ہے۔ وہی گالم گلوچ، رگ و پے میں خون کے وہی عکس، وہی گندگی، پی ٹی آئی کے ہمدرد ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے۔ کچھ نے دعویٰ کیا ہے کہ میری اچھی امیج کو پیش کرنے اور مجھے ہیرو بنانے میں ان کا کردار ہے۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایسے کتنے ہیرو بنائے ہیں۔ مجھے ایک نام بتائیں؟ درحقیقت مجھے ایسے عناصر نے ہمیشہ ٹرول کیا ہے اور فرضی کہانیوں کے ذریعے میری ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ میں اب تک ان تمام اکاونٹس کو کھل کر جواب دوں گا جو ان دو برطرف دغابازوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ اگر خوف کے اندھیرے کے دوران مجھے کوئی چیز خوفزدہ نہیں کر سکتی تھی تو پھر چند دھوکے باز مجھے بلیک میل کیسے کر سکتے ہیں۔

    شیر افضل مروت نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں ہمیشہ ایسے گندے انڈوں سے ہر پلیٹ فارم پر لڑوں گا جو پی ٹی آئی اور اس کی قیادت کے لیے بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ وہ بے شرم چوہے ہیں جو صرف پادنا ہی کر سکتے ہیں۔ ان کی اخلاقیات ان کی رگوں میں دوڑتے ہوئے گندے خون کی عکاسی کرتی ہیں۔ میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ وہ پاکستان آنے کی ہمت کریں اور پھر لوگوں کو گالی دینے کی جرات کریں۔ ظالم کی آنکھوں میں جھانکنے کی ہمت نہیں تو معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنا چھوڑ دو۔ آپ کے دن گنے جا چکے ہیں اور جلد ہی آپ کو سوشل میڈیا پر اپنا حق مل جائے گا۔

    سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کے ذریعےخاتون کو بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    کپڑے بدلنے کے دوران سوشل میڈیا انفلوائنسر کا قیمتی بیگ چوری

    سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں شامی باغی رہنما کے ساتھ خوبصورت لڑکی کون؟

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ، ایف آئی اے متحرک،154مقدمے،30 گرفتار

    سوشل میڈیا پر شرانگیزی پھیلانے والے مزید 7ملزمان کیخلاف مقدمات درج

  • شیر افضل مروت نے  پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

    شیر افضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی،بیرسٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے عمر ایوب کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک مذاکرات کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

    بیرسٹر گوہر علی خان نے بدھ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت سے کسی نے کوئی وضاحت نہیں مانگی۔ ان کا اشارہ شیر افضل مروت کے اس بیان کی طرف تھا جو انہوں نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں دیا تھا۔ اس بیان میں شیر افضل مروت نے حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی بنانے اور مذاکرات کے لیے ٹی او آرز وضع کرنے کی درخواست کی تھی۔ شیر افضل مروت کی اس آفر کو حکومتی وزیروں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا گیا تھا۔بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کی پارٹی پالیسی کے خلاف کوئی بات نہیں کی ہے۔ ان کے مطابق، یہ تمام اقدامات ملکی مفاد میں ہیں اور پی ٹی آئی کی قیادت ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مسائل کا حل بات چیت میں ہی ہے۔

    دوسری جانب تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی ختم ہوگیا ہے جس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی پنجاب کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے گھروں اور ڈیروں پر چھاپوں کی بھرپور مذمت کی گئی ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز پر دباؤ ڈالنا بند کیا جائے، اور اگر چھاپوں اور دباؤ کا سلسلہ جاری رہا تو ایوان میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ کیا جائے گا۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر فوری طور پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے ان دونوں واقعات کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی ضرورت پر زور دیا۔ ساتھ ہی پارٹی نے بانی تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی اسیران کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

    پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت نے بھی ایک اہم بیان میں کہا کہ "سول نافرمانی تب شروع ہو گی جب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔ پاکستان کو معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ ایک آزاد عدلیہ کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاستی اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی مکمل طور پر بااختیار ہے اور ان کے مطابق عدلیہ کی آزادی، 9 مئی کے واقعات، اور مینڈیٹ کی چوری سمیت دیگر اہم مسائل مذاکرات میں زیر بحث آئیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیاسی قیادت دیرپا فارمولے پر رضامند ہو گی۔شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ ملک میں مسائل سنگین صورتِ حال اختیار کر چکے ہیں اور مذاکرات اب ناگزیر ہو گئے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام کی موجودہ صورتحال میں ہزاروں کارکن جیلوں میں بند ہیں، اور اگر مسائل کا حل پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے نکل آتا ہے تو یہ ملک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

  • خواجہ آصف کا بہت احترام  لیکن ان کی زبان آگ اگلتی ہے،شیر افضل مروت

    خواجہ آصف کا بہت احترام لیکن ان کی زبان آگ اگلتی ہے،شیر افضل مروت

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران پی ٹی آئی رکن شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ یہاں ہر وقت ایسا ماحول ہوتا جیسے سوتنیں لڑ رہی ہیں ،

    شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے کیلئے کبھی کوئی مثبت بات نہیں کی ،میڈیا مذاکرات کی بات کرتا ہے اور یہاں کہتے ہیں مذاکرات نہیں ہورہے ،قوم کے سامنے جھوٹ بولا جاتا ہے،سیاستدانوں میں ٹی او آرز طے ہی نہیں کیے جاتے ،خواجہ آصف کا بہت احترام ہے لیکن ان کی زبان بھی آگ اگلتی ہے ،میں گلہ کرتا ہوں لوگ مرے لیکن وزیر اطلاعات نے غلط بیانی کی ،کیا ممکن نہیں کہ ٹی او آرز اور مسائل کے حل کیلئے ایک کمیٹی بنائیں ،عوام کے مسائل کے ادراک کیلئے یہاں بھیجا ہے،ہمارے علاقوں میں طالبان نے قبضہ کیا ہے
    کل خواجہ صاحب نے کہا کہ پی ٹی آئی کو پہل کرنا پڑے گی ،کیا رانا ثناء اللہ حکومت کے باضابطہ موقف سے ہمیں آگاہ کریں گے ،اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ سے بھی بات ہوسکتی ہے

    جب تک حکومت اور اپوزیشن میں ڈائلاگ نہیں ہوگا یہ سسٹم نہیں چل سکتا ،رانا ثناء اللہ
    ن لیگی رہنما، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پانچ چھ ہفتے قبل وزیر اعظم ایوان میں آئے تو اپوزیشن سے ہاتھ ملایا،وزیر اعظم نے کہا کہ ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں ،اس کے بعد عمر ایوب نے جو جواب دیا وہ شیر افضل مروت کو معلوم ہوگا ،پچیس نومبر کی رات بھی مذاکرات جیل میں رسائی دی گئی ،اس وقت بھی نہیں تسلیم کیا گیا ،جن کی بھی جان گئی دونوں طرف سے افسوس ہونا چاہیے تھا ،جب تک حکومت اور اپوزیشن ڈائلاگ نہیں ہوگا یہ سسٹم نہیں چل سکتا ،یہ بات اس وقت بھی کہتے تھے جب کہا گیا چھوڑیں گے نہیں ،کہا گیا کمیٹی بنائی ہے جس کا دل چاہے بات کر لے ،سپیکر نے ہمیشہ غیر جانبداری کو برقرار رکھا ،پی ٹی آئی کی کمیٹی حکومت کو پیغام دینے کیلئے بتائیں کہ یہ کمیٹی ہے اور ہم سیاسی مذاکرات کرنا چاہتے ہیں ،ہم بھی اس کیلئے کوشش کریں گے ،مجھے امید ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلے گا

    رکن قومی اسمبلی پاکستان تحریک انصاف علی محمد خان نے کہا کہ ہم وہ بدقسمت قوم ہیں کہ آج تک ہوش کے ناخن نہیں لیے ،ایک وزیر اعظم کو شہید کیا گیا دوسرا پانچ سو دنوں سے قید میں ہے ،سیاستدان بات کرتا ہے گولی نہیں مارتا ،پاکستان ایک سیاستدان نے بغیر بندوق کے حاصل کیا تھا ،غفار خان اور ولی خان کو عزت دیتا ہوں،
    ہمیں سلیکٹڈ کہا گیا لیکن ہاتھوں پر کسی کا خون نہیں ہے ،وزیر اطلاعات ہمارے کارکنان کے گھروں پر میرے ساتھ جائیں ،رینجرز اور پولیس کے گھروں پر آپ کے ساتھ جانے کو تیار ہوں ،ہمارا ایک مطالبہ ہے ڈی چوک کا انصاف چاہیے ،ایک دن عمران خان بھی جیل سے نکل آئے گا ،آپ نے مجھ پر غداری اور دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا.

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بیٹھیں،وزیر قانون
    وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مولانا فضل الرحمٰن سے بات چیت پر تیار ہے،وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بیٹھیں،مولانا فضل الرحمٰن سے میرا اور میرے قائد کا احترام کا رشتہ ہے، 26 ویں ترمیم کے ساتھ اس بل کو دونوں ایوانوں نے پاس کیا، آئین کا آرٹیکل پچاس پارلیمنٹ کی تعریف کرتا ہے، صدرِ مملکت اس ایوان کا حصہ ہیں، کوئی بھی قانون سازی صدرِ مملکت کے دستخط کے بغیر مکمل نہیں ہوتی، آرٹیکل 75 کہتا ہے کہ صدر 10دن کے اندر منظوری دیتا ہے یا پھر مجلس شوریٰ کو واپس بھیجتے ہیں، جب صدر بل واپس کرتا ہے تو آئین کے مطابق بل کو مشترکہ اجلاس میں رکھا جاتا ہے، مشترکہ اجلاس میں بل ترامیم کے ساتھ یا ترامیم کے بغیر پاس ہو جاتا ہے، بل کو اسی شکل میں یا ترمیم کے ساتھ جو بھی صورت ہو مشترکہ اجلاس سے منظور کرنا ہو گا۔

    اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کا گنڈا پور کیخلاف اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج

  • سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف اور شیر افضل مروت کی پارلیمنٹ ہاؤس میں مختصر ملاقات ہوئی ہے

    خواجہ آصف نے شیر افضل مروت کی نشست کے پاس سے گزرتے ہوئے ان سے مصافحہ کیا،بعد ازاں ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ابھی تک تحریک انتشار کی ڈالی مشکلات دور کررہی ہے ،تحریک انصاف کے وزیرہوابازی کے ایک بیان نے پی آئی اے کا جو برا حشر کردیا تھا، وہ اب یورپین یونین کی جانب سے بحالی کے بعد پی آئی اے میں بہتری ہونے جارہی ہے، سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔میں تسلیم کرتا ہوں، میری زبان زہر اور آگ اُگلتی ہے، آپ بتائیں آپ کی طرف سے کون سے پھول جھڑتے ہیں،دھمکی سے مذاکرات نہیں ہوتے، میرے منہ سے آگ نکلنا چاہتی ہے مگر میں بریک لگا رہا ہوں،شیر افضل مروت کی باتوں سے پہلی بار خوشگوار ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ہے،اچھی بات ہے،یہ شروعات کم از کم اس ایوان میں اگر ایسی آوازیں اٹھتی رہیں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ زہر گھولنے والے کو ہمدرد نہیں سمجھا جاتا نا ہی گلے لگایا جاتا ہے۔ سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کیا گیا ہے، اسکے بعد بات چیت کر لیں گے، آپ بالکل سول نافرمانی کریں، دھمکی سے معاملات حل نہیں ہوتے، سیاستدان سیاسی زبان استعمال کرتے ہیں، بہت سی تلخیوں کا بوجھ ہم اٹھائے ہوئے ہیں، اسد قیصر یہاں بیٹھے ہیں وہ بتا دیں.آج بات ہوتی ہے جیل میں یہ سہولت نہیں، جیل میں 6 ٹمپریچر تھا مجھے کمبل دیدیا گیا، میں جنوری کی 12 راتیں جیل میں سویا، 2018 سے اب تک اس ہاؤس نے بہت تلخی دیکھی، کل بھی تصدیق کی تھی باضابطہ مذاکرات کی شروعات نہیں کی گئی، پہلی بار ادھر سے خوشگوار ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ہے۔لیکن سیاسی ذمہ داری آئینی ذمہ داری کے بعد آتی ہے

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ پارا چنار میں امن اومان کی صورتحال مخدوش ہے، دونوں سائیڈز سے افہام و تفہیم کی باتیں ہونی چاہئیں، مجھے بتایا گیا کہ کرم میں زمین کا جھگڑا ہے جو شیعہ سنی فساد میں تبدیل ہوگیا، آئین کہتا ہے یہ صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے، پارا چنار میں پوری طرح آگ نہیں بجھی، ہم نے حلف لیا ہے پہلی ذمہ داری آئین کی ہے،اسلام آباد پر ضرور حملہ کریں لیکن صوبے کے حالات پر بھی غور کریں،

    خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کا گنڈا پور کیخلاف اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج

    قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

  • مروت صاحب،آپکی پارٹی حکومت میں یہی دھندے کر رہی تھی،جسٹس ارباب محمد طاہر

    مروت صاحب،آپکی پارٹی حکومت میں یہی دھندے کر رہی تھی،جسٹس ارباب محمد طاہر

    پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کے خلاف درج کیسز کی تفصیلات فراہمی کے کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی۔

    اسلام آباد پولیس کی جانب سے شیر افضل مروت کے خلاف درج کیسز کی رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرا دی گئی،ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ نے کہا کہ جتنی بھی ایف آئی آرز ہیں وہ اس رپورٹ میں دے دی گئی ہیں۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے ڈی ایس پی لیگل سے سوال کیا کہ آپ بتائیں رپورٹ میں کتنی ایف آئی آرز سیل ہیں، ڈی ایس پی صاحب آپ جائیں اور سیل ایف آئی آر کی نقل لے کر آئیں،شیر افضل مروت کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمات کی تعداد 15 ہوگئی ہے،

    دوران سماعت شیر افضل مروت نے عدالت میں کہا کہ آپ کے گزشتہ آرڈر کے باوجود مجھے پولیس گرفتار کرنے کے لیے عدالت پہنچ گئی،جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مروت صاحب جس پارٹی سے آپ تعلق رکھتے ہیں جب وہ حکومت میں تھے وہ بھی یہ دھندے کر رہے تھے، ظلم اس وقت بھی ہو رہا تھا ظلم آج بھی ہو رہا ہے،

    شیر افضل مروت نے کہا کہ پنجاب پولیس کی جانب سے کوئی رپورٹ نہیں آئی، عدالت نے آئی جی پنجاب کو نوٹسز جاری کر دیے اور ڈی ایس پی لیگل کو سیل کی گئی ایف آئی آر کی نقول جمع کرانے کی ہدایت کی۔

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • ڈی چوک احتجاج، عدالت نے شیر افضل مروت کوگرفتارکرنے سے روک دیا

    ڈی چوک احتجاج، عدالت نے شیر افضل مروت کوگرفتارکرنے سے روک دیا

    ڈی چوک احتجاج ، پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات ،پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کی کیسوں کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سیکرٹری داخلہ ، آئی جی ، ایف آئی اے سمیت فریقین کو اگلے جمعے کے لیے نوٹس جاری کر دیا گیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے شیر افضل مروت کو کسی بھی نامعلوم مقدمے میں گرفتاری سے روک دیا۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے شیر افضل مروت کی کیسوں کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سیکرٹری وزارت داخلہ ، آئی جی ، ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر دیا،عدالت نے حکم دیا کہ شیر افضل مروت کے خلاف کتنے مقدمات درج ہیں ، سیکرٹری داخلہ ، آئی جی اسلام آباد ، ایف آئی اے اگلے جمعے تک رپورٹ پیش کریں ، عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی، شیر افضل مروت نے مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی اور گرفتاری سے روکنے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی،

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • کے پی کے عوام نے تین بار پی ٹی آئی کیلئے اپنا ووٹ قربان کیا، شیر افضل مروت

    کے پی کے عوام نے تین بار پی ٹی آئی کیلئے اپنا ووٹ قربان کیا، شیر افضل مروت

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں کارکردگی کو دیکھا جاتا تو پی ٹی آئی کو ووٹ نہ ملتا-

    باغی ٹی وی: ایبٹ آباد کے علاقے بکوٹ میں پی ٹی آئی کے پروگرام میں تقریر کے دوران شیر افضل مروت اپنی ہی جماعت پر چڑھ دوڑے اور خیبرپختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ،کے پی کے عوام نے تین بار پارٹی کیلئے اپنا ووٹ قربان کیا، اگرکارکردگی دیکھی جاتی تو پارٹی کو ووٹ نہ ملتا، پسماندگی کو ترقی اور دھوکے کو حقیقت نہیں کہہ سکتا۔

    انہوں نے کہا کہ غلط فیصلوں پر ڈٹے رہنا بے وقوفوں اور جاہلوں کی نشانی ہے،پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اپنی زبان پر کنٹرول نہ ہونے کی بیماری کی وجہ سے پارٹی کے اندر بھی مار پڑتی ہے-

    شیر افصل خان مروت نے بانڈیاں نمل کرکٹ ٹورنامنٹ میں بھی بطورِ مہمان خصوصی شرکت کی جہاں ان کا بھرپور استقبال کیا گیا۔

  • 10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    10،دس ہزار بندے لانے کی شرط،شیر افضل مروت نے بشریٰ بی بی کو آئینہ دکھا دیا، آڈیو لیک

    اسلام آباد: 24 نومبر کے احتجاج میں بشریٰ بی بی کی جانب سے دس دس ہزار لوگوں کو لانے کی ہدایت پر پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے شدید ردعمل دیا جس کی آڈیو لیک ہوگئی-

    باغی ٹی وی :‏شیر افضل مروت نے پنکی پیرنی کو آئینہ دکھا دیا جس کی آڈیو لیک ہوگئی، لیک آڈیو میں شیر افضل مروت کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ بشریٰ بی بی جو کہ آپ کو دس دس ہزار لوگوں کو لانے کا کہہ رہی ہیں پہلے آپ ان سے تصدیق کریں کہ کیا وہ خود احتجاج میں آئیں گی-
    https://x.com/BaaghiTV/status/1858933569902596607
    دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ ہم کیوں جائیں پشاور کے نوجوانوں سے درخواست ہے کہ 24 نومبر کو اسلام آباد کی جانب رخ نا کریں جو آپ کو لے کر جائیں گے ان کی اپنی اولاد گھر پر ہی ہو گی-

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی نے احتجاج کو فائنل کال قرار دیا اور ساتھ ہی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو بھی آخری وارننگ دے دی کہا کہ پی ٹی آئی ارکان اپنے ساتھ دس دس ہزار بندے لائیں ورنہ پارٹی ٹکٹ نہیں ملے گا بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کے احکامات پر پی ٹی آئی رہنما اور کارکن پریشانی کا شکار ہوگئے،پارٹی رہنماؤں نے سر پکڑ لیے۔

    بشریٰ بی بی پی ٹی آئی ارکان پر ناراض ہوئیں اور کہا کہ مجھے گزشتہ احتجاج اور قافلوں کی رپورٹ ملی ہے، کئی عہدیدار اور ممبر صرف حاضری کے لیے احتجاج میں آئے اور مختلف مقامات سے واپس لوٹ گئے،عمران خان کی رہائی کے لیے فائنل کال ہے، ورکرز کو نکالنا ہوگا، فیملیز کو بھی نکالنے کی کوشش کریں۔

    بشریٰ بی بی نے پارٹی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ احتجاج کے دوران گرفتاریوں سے بچیں جب کہ احتجاج کے لیے موثر تحریک اور وفاداری کی بنیاد پر ہی پی ٹی آئی میں ان کے مسقبل کا فیصلہ ہوگا، احتجاج کے دوران توقعات پر پورا نہ اترنے والے رہنماؤں کی پارٹی کے ساتھ دیرینہ وابستگی بھی انتخابات میں پارٹی ٹکٹ کی ضامن نہیں ہوگی،اسلام آباد میں ہونے والا احتجاج پی ٹی آئی سے وفاداری کا امتحان ہے، ہمارا ہدف عمران خان کی رہائی کو یقینی بنانا ہے اور ہم ان کے بغیر اسلام آباد سے واپس نہیں آئیں گے۔

    ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی نے پارٹی رہنماؤں کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت کے مطابق تمام ایم این ایز اور ایم پی ایز اپنے حلقوں سے نکلتے وقت اپنے قافلے کے ہمراہ ویڈیوز بناکر بھیجیں گے قافلے میں خالی گاڑیاں شمار نہیں ہوں گی بلکہ تمام رہنماؤں کو گاڑی کے اندر موجود لوگوں کی ویڈیوز بنانا ہوں گی، احتجاج میں شرکت نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی، پچھلے احتجاج کے برعکس اس بار خیبرپختونخوا سے قافلے الگ الگ روانہ ہوں گے، اسلام آباد روانگی کے لیے ہر ایم پی اے کو 5 ہزار اور ایم این اے کو 10 ہزار افراد لانے کا ٹاسک دیا گیا ہے،

    ارکان اسمبلی 10 ہزار کارکن نکالنے کی شرط پر چکرا گئے ،اراکین نے کہا کہ 24 نومبر کا احتجاج کامیاب کیسے بنائیں، زیادہ سے زیادہ لوگ اسلام آباد کیسے لائیں، بشریٰ بی بی کے مشکل ٹاسک سے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی پریشان ہوگئے اور 10 ہزار بندے لانا ناممکن قرار دے دیا،بمشکل 500 بندے ارینج کرپاتے ہیں، 10 ہزار کیسے لائیں؟ بشریٰ بی بی اور علیمہ خان الگ الگ احکامات دیتی ہیں، ارکان اسمبلی کشمکش میں مبتلا ہیں،علی امین گنڈاپور بھی مجبور ہیں، ڈی چوک سے واپسی پر ان کی پوزیشن خراب ہوگئی، بشریٰ بی بی نے ان پر واضح کردیا کہ اس بار ڈیلیور نہ کیا تو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نہیں رہو گے۔

    واضح رہے کہ 13 نومبر کو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان نے 24 نومبر کو احتجاج کی فائنل کال دے دی ہے مطالبات تسلیم کیے جانے تک احتجاج جاری رہے گا جبکہ قوم نے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے کہ وہ آزادی میں رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا تھا کہ احتجاج کے لیے تیاریاں مکمل ہے، علیمہ خان نے احتجاج کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہےاس بار کوئی واپسی نہیں ہے، جب تک ہماری مطالبات پورے نہیں ہوتے واپسی نہیں ہوگی۔

    اس سے قبل خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ احتجاج کی فائنل کال کے لیے تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے اور فائنل کال اتنی شدید ہوگی کہ شاید مریم نواز واپسی موخر کرکے وہیں رہنے میں عافیت سمجھیں احتجاج کی فائنل کال جعلی حکومت کے جنازے کی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔

    9 نومبر کو صوابی جلسے میں علی امین گنڈاپور نے کہا تھا کہ عمران خان اس ماہ احتجاج کی کال دیں گے تو ہمیں سروں پر کفن باندھ کر نکلنا ہوگا اور اس بار بانی پی ٹی آئی کو رہا کرا کر دم لیں گے۔

    دوسری جانب پنجاب پولیس نے پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں احتجاج کو روکنے کی تیاریاں شروع کر دیں اے آئی جی کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق پنجاب پولیس نے امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے 24 نومبر کا احتجاج روکنے کیلئے صوبے بھر سے 10ہزار 700کی نفری اسٹینڈ بائی کردی ہے-

    پی ایچ پی سے 3500 جبکہ 500پہلے سے ،پی سی سے 1000جبکہ 3000 کی نفری پہلے سے ہے، ایس پی یو سے 1000، ٹریننگ ڈائریکٹریٹ سے 1200،گوجرانوالہ ریجن سے 1300جبکہ 600 نفری پہلے سے موجود ہے، اسی طرح سرگودھا ریجن سے 500 جب کہ 400نفری پہلے سے ہے، شیخوپورہ سے 200، ننکانہ صاحب سے100، ضلع سرگودھا سے 200، خوشاب سے 200،فیصل آباد سے 500جبکہ 800نفری پہلے سے، بہاولنگر سے 200،بہاولپور سے 300،مظفرگڑھ سے 300اوراوکاڑہ سے 200اہلکار اسٹینڈ بائی رکھے گئے۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ فورس اینٹی رائٹ سامان سے لیس، متعلقہ ضلع و یونٹ کا آرپی او ، سی پی او اور ڈی پی او فورس کے ٹرانسپور ٹ کا ذمہ دار ہو گا آئی جی پنجاب کے حکم پر اے آئی جی آپریشنز پنجاب نے متعلقہ افسران کو مراسلہ ارسال کردیا۔

  • 24 نومبر،حکومت نے کچھ کیا تو پورا پاکستان اٹھ کھڑا ہو گا، شیر افضل مروت

    24 نومبر،حکومت نے کچھ کیا تو پورا پاکستان اٹھ کھڑا ہو گا، شیر افضل مروت

    پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ 24 نومبر کو ڈی چوک پر دھرنا ہو گا، ہم ریاستی قوانین پر عمل کریں گے،

    نجی ٹی وی 365 نیوز میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے شیر افضل مروت سے سوال کیا اور کہا کہ مروت صاحب اچھا لگے یا برا لگے، آپ لوگ ایس ایچ او وغیرہ سے نہیں ڈرتے ہوں گے، ہم تو واپڈا کا لائن مین آ جائے تو اس کی بھی منت سماجت شروع کر دیتے ہیں،جس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ میرا خیال یہ ہے کہ آٹھ فروری کو ان حالات میں ووٹ ڈالنا یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے پنجاب کی سیاست کو دیکھیں 1947 سے لے کر اب تک اسٹیبلشمنٹ کی سیاست رہی،پہلی بار اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ووٹ دیا، مبشر لقمان نے کہا کہ اب 24 کو کیا ہو گا، جس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ہم دھرنے پر پہنچ گئے اور دھرنا جما لیا تو توقع کریں گے کہ حکمران کن کن غلطیوں کا ارتکاب کریں گے، آنسو گیس ، لاٹھی چارج کریں گے، رینجرز یا فوج کو درمیان میں ڈالا، یہ حد سے بڑھ جاتے ہیں تو پھر پورا پاکستان اٹھ کھڑا ہو گا

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ اس بار کتنے سرکاری ملازم ہوں گے، پچھلی بار ریسکیو والے بھی تھے، انکی ضمانتین بھی نہیں ہوئی جس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ضمانتیں ہو گئی ہیں اور گاڑیاں بھی لے لی ہیں، سرکاری ملازمین پولیس والے پروٹوکول ہیں، یہ اسکے گارڈ ہیں، جو ساتھ ہوتے ہیں،یہ ہزاروں میں نہیں ہوتے چالیس پچاس ہوتے ہیں، 22 پولیس والے گرفتار ہوئے تھے، 1122 ایمرجنسی ایڈ کے لئے ہے تا کہ اگر کوئی واقعہ ہو تو وہ ساتھ ہوں اور ریسکیو کے کام کریں،

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ 24 تاریخ کو کیا کرنا ہے، شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ لاکھوں لوگوں کو ڈی چوک پر بٹھا دیں، ہم نے اتنے لوگوں کو نکالنا ہے کہ دنیا کی توجہ حاصل کرنی ہے، ہمارے پاس اب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، مبشر لقمان نے کہا کہ علی امین کہتا ہے کہ اڈیالہ کی دیواریں توڑ کر عمران کو نکال لوں گا، جس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ہم کوئی توڑ پھوڑ نہیں کریں گے ریاست کےقوانین پر عمل کریں گے، مبشر لقمان نے کہا کہ پھر آپ ڈی چوک میں دھرنا نہیں دے سکتے، شیر افضل مروت نے کہا کہ کس نے کہا ، احتجاج کا ہمیں حق ہے، ہم کر سکتے ہیں،مویشی منڈی میں ہمیں جگہ دینا ان کی بدمعاشی ہے،احتجاج سے محروم کرنا خلاف قانون ہے، ماضی میں کچھ ایسا ہوا تب بھی ٹھیک نہیں ہوا تھا، ہم پہلے بھی ڈی چوک گئے، مظاہرے بھی کئے اور ہم پر مقدمے بھی ہوئے،

  • ہمارا احتجاج  یک روزہ ، دس روزہ، سو روزہ یا لامحدود ہوسکتا ہے،شیر افضل خان مروت

    ہمارا احتجاج یک روزہ ، دس روزہ، سو روزہ یا لامحدود ہوسکتا ہے،شیر افضل خان مروت

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئیر رہنما شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ اب احتجاج کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پہلی دفعہ ہم نے حتمی احتجاج کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے اس بات سے انکار کیا کہ پی ٹی آئی کی حالیہ تحریکوں میں سے کوئی تحریک ناکام ہوئی، ’البتہ آخری جو ڈی چوک کا دھرنا تھا وہ دو دن جاری رہ سکا اور اب اس احتجاج کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پہلی دفعہ ہم نے حتمی احتجاج کا اعلان کیا ہے،’جب تک نتائج حاصل نہیں ہوتے، یہ یک روزہ بھی ہوسکتا ہے، دس روزہ، سو روزہ یا لامحدود ہوسکتا ہے، کیونکہ اس دفعہ ہم تہیہ کرکے نکلیں گے کہ کسی بھی صورت میں ہم اس وقت تک احتجاج سے دستبردار نہیں ہوں گے جب تک خان کی رہائی ممکن نہیں ہوتی-

    شیر افضل مروت نے کہا کہ احتجاج کے مقاصد کی تعداد کا باقاعدہ اعلان ابھی نہیں ہوا ہے، میں تو گزشتہ دوماہ سے ایک ہی نکتے پر مہم چلا رہا ہوں کہ ہمیں فی الوقت عمران خان کی رہائی درکار ہے کوشش کریں گے کہ ہم اس احتجاج کو فی الوقت خان کی رہائی تک محدود رکھیں ، جب خان باہر آجائیں گے تو پھر جو بھی سیاسی یا ملکی مفاد کیلئے مقاصد ہوں گے وہ ہم ان کی قیادت میں ان کی ہدایات کے مطابق احتجاج کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اس بار اگر بالفرض پاکستانی لاکھوں کی تعداد میں احتجاج کیلئے نہیں نکلتے ہیں تو ہمیں کیا فرق پڑے گا؟ ہم تو ایوانوں میں بھی ہیں، خان بلاتنازعہ لیڈر بھی ہے، اس کے بعد پاکستانیوں کی تقدیر میں کیا آئے گا؟ کیا پاکستان کے بعد معیشت کیلئے کوئی روڈ میپ ہے؟ کیا زرداری اور نواز پر قوم کا اعتماد ہے؟