Baaghi TV

Tag: صحافی

  • پیکا آرڈیننس فیصلہ،رانا محمد عظیم کی صحافی برادری کو مبارکباد

    پیکا آرڈیننس فیصلہ،رانا محمد عظیم کی صحافی برادری کو مبارکباد

    پیکا آرڈیننس فیصلہ،رانا محمد عظیم کی صحافی برادری کو مبارکباد

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کی قیادت نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ کی طرف سے پیکا ترمیمی آرڈیننس 2022 کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیے جانے کے فیصلے کو خوش آئندقرار دیتے ہوئے پورے ملک کے صحافیوں ، فوٹو اور کیمرہ جرنلسٹس کے علاوہ یوٹیوبر کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ پی ایف یو جے اپنی سابق روایات کو قائم رکھتے ہوئے ہر غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہو گی

    پی ایف یو جے کے صدر جی ایم جمالی، سیکرٹری جنرل رانا محمد عظیم ، فنانس سیکرٹری سیکرٹری جمیل مرزا ، نائب صدوراسلم ڈوگر ، قاضی رضوان ، فرحت فاطمہ، طارق عثمانی، عثمان خان ، عابد چوہدری، آر آئی یو جے کے صدر شکیل احمد ، جنرل سیکرٹری صدیق انظر نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جب حکومت نے راتوں رات ڈریکولین لاء کے ذریعے پیکا ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے اظہار رائے اور زبردستی زبان بندی کی تو پی ایف یو جے نے فوری طور پر انپے ایف ای سی ممبر رضوان قاضی کے ذریعے سب سے پہلے فوری طور پر اس کالے قانون کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی بعد ازاں 18سے زاہد تنظیموں نے بھی اس قانون کو چیلنج کیا اور یہ تمام درخواستیں پی ایف یو جے کی پٹیشن کے ساتھ کلب ہوتی گئیں اور آج چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے میرٹ پر فیصلہ سنا کر ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان عدلیہ آزاد اور باوقار ہے صحافیوں کی قیادت نے پی ایف یو جے کے وکیل ممتاز قانون دان عادل عزیز قاضی اور کاشف حسین شاہ ایڈووکیٹ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے پی ایف یو جے کی طرف سے عدالت کی بھر پور آئینی معاونت کی اور پوری جانفشانی سے اپنا کسی لڑا۔

    پنجاب یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پیکا آرڈیننس کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر جی ایم جمالی۔ سیکریٹری جنرل رانا محمد عظیم۔ آرائی یوجے کے صدر شکیل احمد ۔جنرل سیکریٹری صدیق انصر ۔پی ایف یوجے کے نائب صدر اسلم ڈوگر۔ ایف ای سی کے رکن طارق عثمانی۔ اور پی ایف یوجے کے وکیل قاضی صاحب سمیت سینئر صحافی حامد میر کو دلی مبارکباد۔ پی ایف یوجے نے پیکا آرڈیننس کے خلاف بروقت پٹیشن دائر کرکے ملک میں میں آزادی اظہار رائے پر کسی بھی قسم کی قدغن کو مسترد کیا اور اپنی روایت کو برقرار رکھا کہ وہی صحافیوں کے حقوق کی واحد نمائندہ تنظیم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ ملک میں آزادی اظہار کے حوالے سے ایک تاریخ بن گیا ہے۔ پی ایف یوجے زندہ بادہ

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے؟ عدالت

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کالعدم قرار

    تحریک انصاف کے تمام غیر قانونی اقدامات واپس ہونگے،پیکا آرڈیننس فیصلے پر ردعمل

  • تحریک انصاف کے تمام غیر قانونی اقدامات واپس ہونگے،پیکا آرڈیننس فیصلے پر ردعمل

    تحریک انصاف کے تمام غیر قانونی اقدامات واپس ہونگے،پیکا آرڈیننس فیصلے پر ردعمل

    تحریک انصاف کے تمام غیر قانونی اقدامات واپس ہونگے،پیکا آرڈیننس فیصلے پر ردعمل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا آرڈیننس کالعدم قرار دے دیا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے محفوظ فیصلہ سنایا، فیصلے کے بعد سیاسی رہنماؤں، صحافیوں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کہتے ہیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا شکریہ جس نے پیکا آرڈیننس کو معطل کیا،

    سلیم صافی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فاشسٹ نیازی حکومت کے پیکا آرڈیننس کو خلاف آئین قرار دے کر کالعدم کردیا۔ آئین کی بالادستی اور آزادی اظہار کی ایک اور فتح۔ زندہ باد اسلام آباد ہائی کورٹ۔ جزاک اللہ جسٹس اطہر من اللہ۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائے کورٹ کی جانب سے پیکا آرڈیننس کو کالعدم قرار دینے پر صحافیوں اور پورے پاکستان کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ 24 گھنٹوں کے اندر عدالت نے پی ٹی آئی حکومت کے ایک اور عمل کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ پیکا آرڈیننس مخالفین کو نشانا بنانے کے لئے لایا گیا تھا۔پیکا آرڈیننس آئینی اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ایک حکومتی ہتھکنڈا تھا۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں میڈیا اور آزادی اظہار پر قدغنیں لگائی گئی۔ اب تحریک انصاف کے تمام غیر جمہوری اور غیر قانونی اقدامات واپس ہونگے۔ انشااللہ ایک بدترین سویلین ڈکٹیٹرشپ کا اختتام ہوگا۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما ،ترجمان شازیہ مری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کاخیرمقدم کیا اور کہا کہ پیکا آرڈیننس کا کالعدم ہونا باعث مسرت ہے عمران خان آمر بن کر اظہار رائے کی آزادی چھیننا چاہتے تھے، ایوان صدر کو سازشوں کا گڑھ بنادیا گیا ہے

    مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے آئین کی سربلندی کا فیصلہ دیاجو لائق تحسین ہے عدلیہ نے فیصلہ دے دیا کہ کوئی میڈیا اور عوام کو اندھا، بہرہ اور گونگا نہیں بناسکتا آئین میں دی گئی شہری آزادیوں اور اظہار رائے کا تحفظ دستور اور جمہوریت کا تحفظ ہے پیکا جیسے کالے قانون کے سبب تاریخ عمران خان کی ہمیشہ مذمت کرتی رہے گی ،

    قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب شیر پاؤ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے پیکا آرڈیننس کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ نہایت خوش آئند ہے۔ عمران نیازی کا بدنیتی پرمبنی آزادی صحافت پرقدغن،سوشل میڈیا پر کنڑول اورصحافیوں کو سزائیں دینے کا کالا قانون یکا آرڈیننس اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا

    افراسیاب خٹک سینئر رہنما نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے پیکا (ترمیمی) آرڈیننس 2022 کو ختم کرنا ایک اچھی خبر ہے۔ یہ آرڈیننس فاشزم کے پھیلتے تاریکی کا حصہ تھا۔ عدالتوں کے حالیہ احکامات جمہوریت کے تحفظ کے لیے آزاد عدلیہ کی اہمیت کو ثابت کرتے ہیں۔

    محمد یوسف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت نے جتبے بھی غلط فیصلے کیے ہیں۔۔ان فیصلوں میں زیادہ تر میں فواد چودھری کی راٰے اور آئیڈیا کا نمایاں ہاتھ ہے۔ پیکا ترمیمی آرڈیننس کا کالعدم قرار دینا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ فواد چودھری نے عمران خان اور میڈیا میں دوریاں پیدا کیں۔

    لوٹے لے کر پی ٹی آئی کارکنان سندھ ہاؤس پہنچ گئے

    کرپشن مکاؤ کا نعرہ لگایا مگر…ایک اور ایم این اے نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا

    ہمارا ساتھ دو، خاتون رکن اسمبلی کو کیا آفر ہوئی؟ ویڈیو آ گئی

    بریکنگ، وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد، قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

    آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے ریفرنس، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ پہنچ گئے

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت ملتوی

    صحافی نے وی لاگ کیا تھا اور کتاب کا حوالہ دیا تھا،کارروائی کیسے بنتی ہے؟ عدالت

    پیکا ترمیمی آرڈیننس کالعدم قرار

  • حکومت کیخلاف بولنے والے صحافیوں کی تھانے میں برہنہ پریڈ،تصویر وائرل

    حکومت کیخلاف بولنے والے صحافیوں کی تھانے میں برہنہ پریڈ،تصویر وائرل

    حکومت کیخلاف بولنے والے صحافیوں کی تھانے میں برہنہ پریڈ،تصویر وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکمران جماعت کے رکن اسمبلی کے خلاف لکھنا صحافیوں کو مہنگا پڑ‌گیا

    پولیس نے صحافیوں کو گرفتار کر کے تھانے جا کر کپڑے اتروا دیئے، صحافیوں کی برہنہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، واقعہ بھارت میں پیش آیا ہے، بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس نے بھارت کی موجودہ حکمران جماعت بی جے پی کے رکن اسمبلی کیخلاف بولنے اور لکھنے پر صحافی کو گرفتار کیا ہے، ان صحافیوں کی گرفتاری پر آواز اٹھانے والے افراد کو بھی گرفتار کر کے تھانے میں بند کر دیا گیا ،پولیس نے تھانے میں صحافیوں کے کپڑے اتروا دیئے اور انکی برہنہ پریڈ کروائی،

    بھارتی میڈیا کے مطابق تصویر میں برہنہ نظر آنے والوں میں 2 مقامی صحافی اور دیگر ڈرامہ آرٹسٹ ہیں ،پولیس نے 2 اپریل کو مقامی تھیٹر آرٹسٹ کو گرفتار کیا تھا آرٹسٹ کو بی جے پی کے رکن پالیمنٹ کے خلاف توہین آمیز ریمارکس پر گرفتار کیا گیا تھا تھیٹر آرٹسٹ کی گرفتاری کے خلاف احتجاج پر پولیس نے دیگر افراد کو بھی گرفتار کر لیا،

    تھانے میں برہنہ پریڈ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے اور پولیس کے اس عمل پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے،بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس واقعہ پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور صحافیوں کو برہنہ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

    کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے مدھیہ پردیش میں بی جے پی رکن اسمبلی کے خلاف خبر لکھنے پر لاک اَپ میں صحافیوں کے کپڑے اتروائے جانے سے متعلق راہل گاندھی کا سخت رد عمل سامنے آیا ہے انھوں نے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ لاک اَپ میں جمہوریت کے چوتھے ستون کا چیر ہرن! یا تو حکومت کی گود میں بیٹھ کر ان کی تعریفیں کرو، یا جیل کے چکر کاٹو۔ ’نئے بھارت‘ کی حکومت سچ سے ڈرتی ہے۔

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    11 سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے پر بھارتی فوجی اہلکار گرفتار

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

  • مطیع اللہ نےفوادچوہدری سےبدتمیزی نہیں،    صحافتی    اصول پامال کیے’دیکھ کردنیاشرما گئی

    مطیع اللہ نےفوادچوہدری سےبدتمیزی نہیں، صحافتی اصول پامال کیے’دیکھ کردنیاشرما گئی

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل نے کہا ہے کہ مطیع اللہ نے فواد چوہدری کے ساتھ بدتمیزی نہیں کی بلکہ صحافتی اصولوں کو پامال کیا ہے۔شہبازگل کہتے ہیں کہ مطیع اللہ جان کا رویہ دیکھ کردنیا بھی شرما گئی کہ کس طرح پاکستان میں صحافت کے ذریعے سیاست کی جارہی ہے

    پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نے فواد چوہدری کی میڈیا سے گفتگو کے دوران ہونے والی بدنظمی پر اپنے ردعمل کا اظہار سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیا ہے۔

    شہباز گل نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ مریم میڈیا سیل کے ممبر مطیع اللہ جان نے آج فواد چوہدری کے ساتھ بدتمیزی نہیں کی بلکہ صحافتی اصولوں کو پامال کیا اور اس پیشے کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔

     

    شہباز گل نے مزید لکھا ہے کہ مطیع اللہ نے صرف صحافتی اصولوں کو پامال نہیں کیا بلکہ وہاں پر کھڑے دوسرے صحافیوں کے حقوق کو بھی پامال کیا ہے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ میڈیا میں صرف مریم بات کرے اور سوال صرف آپ، باقی سب صحافی چپ رہیں۔واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی میڈیا بریفنگ بدنظمی کا شکار ہوگئی تھی۔

    فواد چوہدری کے ڈائس پر آتے ہی صحافی مطیع اللہ نے ان سے سوال کردیا تھا اور اس موقع پر دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔

  • یوکرین روس جنگ : پانچ صحافی ہلاک درجنوں زخمی

    یوکرین روس جنگ : پانچ صحافی ہلاک درجنوں زخمی

    کیف: یوکرین روس جنگ : پانچ صحافی ہلاک درجنوں زخمی اطلاعات کے مطابق فوکس نیوز کے صحافی اولیکسانڈرا کرشائینووا اور کیمرہ مین پیئرے زکرزیوسکی منگل کے روز کییف کے نواح میں روسی فوج کی شیلنگ میں ہلاک ہوگئے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے یوکرین میں اب تک پانچ صحافی مارے جاچکے ہیں۔

    یوکرین کی وزارت دفاع نے فوکس نیوز کے صحافی اولیکسانڈرا کرشائینووا اور کیمرہ مین پیئرے زکرزیوسکی کی ہلاکت کے لیے روسی فوج کے حملے کو مورد الزام ٹھہرایا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دونوں صحافی روسی فوج کی شیلنگ میں اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کی گاڑی یوکرینی دارالحکومت کییف کے نواحی علاقے ہورنیکا میں پھنس گئی۔

    فوکس نیوز نے اپنی نیوز بلیٹن میں کرشائنیووا اور زکریوسکی کی موت کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ زکریوسکی کو چینل میں ایک ‘لیجینڈ’ کی حیثیت حاصل تھی۔ ”ان کی موت انتہائی تکلیف دہ ہے۔ وہ ہمارے ساتھ برسوں سے کام کررہے تھے۔انہوں نے عراق، افغانستان اور شام میں جنگ کی رپورٹنگ کی تھی۔

    وہ ہر طرح کے دباو میں بھی کام کرنے کے عادی تھے۔” کرشائنیووا اور زکریوسکی کی ہلاکت کے ساتھ ہی یوکرین پر روسی فوج کے حملے کے بعد سے جنگ کے دوران کم از کم پانچ صحافی ہلاک ہوچکے ہیں۔

    امریکی فلم ساز برینٹ ریناوڈ جنگ کی عکس بندی کے دوران ہفتے کے روز بری طرح زخمی ہوگئے تھے اور بعد میں ان کی موت ہوگئی۔ کرشائنیووا اور زکریوسکی کی ہلاکت کی اطلاع عام کیے جانے سے قبل منگل کے روز ہی یوکرینی پارلیمان میں انسانی حقوق کی سربراہ لدمیلا ڈینیسووا نے بتایا تھا کہ جنگ میں اب تک درجنوں صحافی زخمی اور کم از کم تین ہلاک ہوچکے ہیں۔

    ڈینیسووا نے کہا، "کم از کم 35 صحافی روسی فورسز کے حملے کا شکار ہوچکے ہیں، ان میں سے تین کی موت ہوچکی ہے۔” یوکرین کے ایک پولیس عہدیدار کے مطابق امریکی فلم ساز ریناوڈ کییف کے نواح میں ارپن قصبے میں 13 مار چ کو روسی فورسز کی گولیوں کا شکار ہوگئے۔

    اس سے قبل یوکرینی صحافی ایوگینی ساکن کی کییف ٹیلی ویژن پر روسی فوجی حملے کے دوران موت ہوگئی تھی جبکہ ایک دیگر یوکرینی نامہ نگار وکٹر ڈوڈار، مائیکو لیف شہر کے قریب جنگ کے دوران مارے گئے۔

    فوکس نیوز کے مطابق زکریوسکی کی عمر 55 برس اور کرشائنیووا کی 24برس تھی۔ وہ فوکس کے ایک دیگر نامہ نگار بنجامن ہال کے ساتھ کییف کے نواحی علاقے ہورینکا سے رپورٹنگ کررہے تھے۔ بنجامن ہال بھی اس واقعے میں زخمی ہوگئے اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    یوکرین کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں بتایا کہ بنجامن ہال کے پیر کا ایک حصہ کاٹنا پڑا۔ روس نے تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے والے تعطل کے بعد 24 فروری کو یوکرین پر فوجی حملہ کردیا تھا۔ اس جنگ کے نتیجے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے روس پر پابندیاں عائد کردیں۔

    اقوام متحدہ کے مطابق جنگ کی وجہ سے تقریباً 30 لاکھ یوکرینی شہریوں کو ملک چھوڑنا پڑا ہے کیونکہ روسی فوج نے متعدد شہروں اور قصبات کا محاصرہ کرلیا ہے اور ان پر بمباری کررہی ہے۔ صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم ‘کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس(سی پی جے)’ نے یوکرین سے جنگ کی رپورٹنگ کرنے والے بین الاقوامی نامہ نگاروں اور میڈیا کارکنوں نیز یوکرینی صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ سی پی جے نے یوکرینی صحافیوں کو لازمی فوجی خدمات سے مستشنیٰ رکھنے کی بھی اپیل کی ہے۔

    دریں اثنا متعدد صحافیوں اور صحافتی تنظیموں نے یوکرین میں صحافیوں کی ہلاکت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ امریکی کانگریس کے متعدد اراکین نے زکریوسکی کو ایک امریکی صحافی قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی۔ آئرلینڈ کے وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کہا کہ وہ ایک آئرش شہری تھے۔

    مارٹن نے ٹوئٹر پر لکھا، "آئرش شہری اور صحافی پیئرے زکریوسکی اور ان کے ایک شریک کار کی ہلاکت نے ہمیں غمزدہ اور مایوس کردیا۔ مصیبت کی اس گھڑی میں میں ان کے اہل خانہ، دوستوں اور ساتھی صحافیوں کے ساتھ ہوں۔ ہم یوکرین پر روس کے اس بلاجواز اور غیر اخلاقی جنگ کی مذمت کرتے ہیں۔”

  • مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر پابندیوں بارے پریس کونسل آف انڈیا کی رپورٹ فرد جرم ہے:حقائق ماننا پڑیں گے

    مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر پابندیوں بارے پریس کونسل آف انڈیا کی رپورٹ فرد جرم ہے:حقائق ماننا پڑیں گے

    سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ پر پابندیوں بارے پریس کونسل آف انڈیا کی رپورٹ فرد جرم ہے:حقائق ماننا پڑیں گے،اطلاعات کے مطابق نیشنل کانفرنس نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں آزادی صحافت سے متعلق پریس کونسل آف انڈیا کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے نتائج کو مقبوضہ علاقے میں بھارتی قابض انتظامیہ کی طرف سے صحافیوں اور صحافتی اداروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں مودی حکومت کے خلاف ایک فرد جرم قرار دیا ہے۔

    نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ تنویر صادق نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ کس طرح مقبوضہ کشمیر خصوصا وادی کشمیرمیں اخبارات اور نیوز چینلوں سمیت ذرائع ابلاغ کی آواز کو بڑے پیمانے پر پابندیوں کے ذریعے آہستہ آہستہ دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس نے مقبوضہ کشمیرمیں آزادی صحافت پر بڑھتی ہوئی پابندیوں پرہمیشہ اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ کمیٹی کے نتائج نے علاقے میں قابض انتظامیہ کی طرف سے صحافت کو کنٹرول کرنے کے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کیا ہے۔قابض انتظامیہ کی طر ف سے کشمیر میں تنقیدی آوازوں کو خاموش کرانا روز کا معمول بن چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میڈیا پر عائد پابندیوں کے ذریعے مقبوضہ علاقے میں معلومات تک رسائی کو روکا جارہا ہے ۔تنویرصادق نے کہا کہ آزادی صحافت پر پابندیوں کی وجہ سے مختلف مقامی اخبارات قابض حکام کی ناراضگی کے خوف سے مجبوراعوامی اہمیت کے مختلف مسائل کی کوریج نہیں کر رہے ہیں۔

    قابض انتظامیہ کی بے حسی اور تنازعہ کی صورت حال میں رپورٹنگ پر اندرونی دبائو کی وجہ سے کشمیر میں صحافتی برادری شدید خوف میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض ادا کر رہی ہے ۔ پارٹی رہنما نے کمیٹی کی رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ بھارت میں لبرل اور جمہوری قوتوں کوجموں و کشمیر کی زمینی صورتحال سے آگاہ کیاجائے گا۔انہوں نے پریس کونسل آف انڈیا سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں قید تمام صحافیوں کی رہائی کیلئے بھارتی حکومت پر دبائوڈالے۔

  • جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں

    جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں

    اسلام آباد:جوریاست کے ساتھ وفا نہیں کرے گا وہ اپنا نقصان آپ کرے گا:مودی ڈاکٹرائن سے صحافیوں کی زندگیاں خطرے میں ،اطلاعات کے مطابق بھارت صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ملکوں میں سے ایک ہے جہاں نریندر مودی کی فسطائی حکومت کی لائن پر نہ چلنے والے صحافیوں کو ہراساں کرنا روز کا معمول بن گیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں گزشتہ 5 برسوں میں 18 صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے کیونکہ مودی حکومت صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے مختلف دھمکی آمیز حربے استعمال کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں صحافیوں پر مقدمے، قتل اور ڈرانا دھمکانا معمول بن چکا ہے جبکہ2014 میں مودی کی بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں پر حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی مودی کی قیادت میں بھارت عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں مسلسل نیچے کی آرہاہے اور رپورٹرز ودآو¿ٹ بارڈر کی تازہ ترین سالانہ درجہ بندی میں 180 ممالک میں سے وہ 142 ویں نمبر پر ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جو صحافی بی جے ی کی لائن کو نہیں مانتے انہیں ہراساں کرنے اور دڑانے دھمکانے کا سلسلہ روز بہ روز تیز ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں میڈیا والوں کے خلاف سچ بولنے پر کالے قوانین کے تحت مقدمات درج گئے گئے ۔

    کے ایم ایس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 5 اگست 2019 سے مقبوضہ علاقے میں صحافیوں کو نشانہ بنانے میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی صحافی رعنا ایوب مودی حکومت کا تازہ ترین ہدف بنی ہیں اور انہیں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے جان سے مارنے اور ریپ کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممبئی میں مقیم خاتون مسلم صحافی رعنا ایوب تنقیدی رپورٹنگ کی وجہ سے مودی حکومت کے حملوں کی زد میں ہیں یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھی انہیں کو ہراساں کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسے نشانہ بنانا بند کریں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کو دنیا سے چھپانے کے لیے آزاد پریس کو نشانہ بنا رہی ہے۔

  • سماءنیوزچینل سے نوٹس کے بغیرصحافیوں کی برطرفی پر شدید افسوس ہوا ہے:لاہورپریس کلب

    سماءنیوزچینل سے نوٹس کے بغیرصحافیوں کی برطرفی پر شدید افسوس ہوا ہے:لاہورپریس کلب

    لاہور: سماءنیوزچینل سے نوٹس کے بغیرصحافیوں کی برطرفی پر شدید افسوس ہوا ہے:لاہورپریس کلب کی طرف سے اظہارہمدردی کا اعلان ، اطلاعات کے مطابق لاہور پریس کلب کے صدر اعظم چوہدری، سینئرنائب صدر سلمان قریشی ، نائب صدرناصرہ عتیق ، سیکرٹری عبدالمجید ساجد ، جوائنٹ سیکرٹری سالک نواز ، فنانس سیکرٹری شیراز حسنات اور اراکین گورننگ باڈی نے سماءنیوزچینل سے نوٹس کے بغیرصحافیوں کی برطرفی پر شدید افسوس کا اظہارکیا ہے ۔

    انھوں نے اپنے مذمتی بیان میں کہاہے کہ شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے افراد خصوصا صحافیوں کا معاشی طورپربرا حال ہے ، انھیں کئی کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی یا ان کی تنخواہوں میں کٹ لگانے کا رجحان ہے جبکہ صحافتی ذمہ داریاں اداکرنے پر انھیں قتل تک کردیاجاتاہے مگر کسی بھی ادار ے کی جانب سے انھیں تحفظ فراہم نہیں کیاجاتا۔

    انھوں نے کہاکہ صحافی ملک و قوم کا اثاثہ ہیں جو عوام اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں مگر ان کے ساتھ جس طرح سلوک کیا جاتاہے وہ تمام ملک و قوم کے لئے شرمندگی کا باعث ہیں۔ انھوں نے مزید کہاکہ سماءنیوزچینل کی جانب سے صحافیوں کو نوکری سے فارغ کرنا ناقابل برداشت اور قابل مذمت ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ سماءنیوزچینل کی انتظامیہ صحافیوں کا استحصال نہ کرے اور برطرف کئے گئے صحافیوں کو فوری طور پر ڈیوٹی پر بحال کیاجائے ۔

  • صحافی اپنے انتخابات پرامن نہیں کروا سکتے تو یہ سوچنے کی بات ہے،عدالت

    صحافی اپنے انتخابات پرامن نہیں کروا سکتے تو یہ سوچنے کی بات ہے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل پریس کلب انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست نمٹا دی

    نیشنل پریس کلب انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر صحافی اپنے انتخابات پرامن نہیں کروا سکتے تو یہ سوچنے کی بات ہے ،وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کس طرح ہراساں کیا جا رہا ہے؟ وکیل نے عدالت میں کہا کہ پولیس کالز کر کے ہراساں کر رہی ہے کہہ رہے ہیں صلح کر لیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو آپ صلح نہ کریں عدالت ہوا میں تو کچھ نہیں کریگی ،عدالت انویسٹی گیشن میں مداخلت نہیں کر سکتی درخواست گزار بھی نہیں کر سکتا عدالت وہ کام نہیں کریگی جو براہ راست نہیں کر سکتی،عدالت پولیس کو ہدایت کر دیتی ہے کہ ہراساں نہ کیا جائے۔

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت پریس کلب انتخابات میں مداخلت نہیں کرے گی

    واضح رہے کہ اسلام آباد پریس کلب میں ہونے والے الیکشن ایک گروپ نے جیتے تو دوسرے نے دھاندلی کا الزام لگا دیا،الیکشن کے بعد اسلام آباد پریس کلب میں لڑائی بھی ہوئی، دونوں گروپس نے ایک دوسرے کے خلاف مقدمے بھی درج کروائے

    درندگی کا نشانہ بننے والی بچی کے والد نے کیا حکومت سے بڑا مطالبہ

    جادو سیکھنے کے چکر میں بھائی کے بعد ملزم نے کس کو قتل کروا دیا؟

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    شوہر نے گھریلو جھگڑے کے بعد بیوی پر تیزاب پھینک دیا

    تیزاب گردی کا شکار "مریم” کا انصاف کا مطالبہ

    شوہر نے بیوی پر تیزاب پھینک دیا

    بے اولاد ہیں، بچہ خرید لیں، بچے پیدا کرنے کی فیکٹری، تہلکہ خیز انکشاف

    لاہور پریس کلب الیکشن، اعظم چودھری دوسری بار صدر منتخب

  • 33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    حکومت نے محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ کرلیا

    محسن بیگ کیخلاف 1988 میں جعلسازی، فراڈ، اقدام قتل کی دفعات کے تحت آبپارہ تھانے میں مقدمہ درج ہوا تھا ،33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا، حکومت نے تحقیقات اور ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کرلیا

    ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ محسن بیگ نے جعلی ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ چھاپے،محسن بیگ سرٹیفکیٹ کیش کرانے گئے، ڈاکخانہ عملے نے نے پولیس طلب کرلی ،پولیس کے آنے پر ملزم نے فائرنگ کردی، جس سے پولیس اہلکار زخمی ہوا،محسن بیگ صحافی کے لیٹر پر ویزا حاصل کرکے امریکا چلے گئے محسن بیگ نے 2020 میں مقدمے سے نام نکلوانے کی کوشش کی محسن بیگ کو تلاش نہیں کیا جاسکا تھا، اعجازشاہ دور میں وزارت داخلہ نے کیس ختم کرنے کی سفارش کی تھی

    واضح رہے کہ محسن بیگ کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کر رکھا ہے، محسن بیگ پر اسلام آباد، لاہور میں مقدمے قائم کئے گئے ہیں، آج انہیں عدالت پیش کیا گیا تھا، عدالت نے ویڈیو کی برآمدگی کے لئے محسن بیگ کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا،

    محسن بیگ کےگھر پرچھاپہ غیر قانونی ہے:عدالت کافیصلہ

    مریم نوازمحسن بیگ کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہوگئیں

    محسن بیگ کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ ختم کرنے کی درخواست سماعت کے لئے مقرر

    مزید کئی صحافی بھی حکومتی نشانے پر ہیں،عارف حمید بھٹی کا انکشاف

    محسن بیگ کی گرفتاری، اقرار الحسن پر تشددکیخلاف کئی شہروں میں صحافی سراپا احتجاج

    کسی جج کو دھمکی نہیں دی جا سکتی،عدالت،محسن بیگ پر تشدد کی رپورٹ طلب

    ایس ایچ او کے کمرے میں ایف آئی اے نے مجھے مارا،محسن بیگ کا عدالت میں بیان

    جس حوالات میں آج میں ہوں جلد اسی حوالات میں عمران خان ہوگا۔ محسن بیگ

    وزیراعظم کا بیان دھمکی،اس سے بڑی توہین عدالت نہیں ہوسکتی ،لطیف کھوسہ

    آخر ریحام خان کی کتاب میں ایسا کیا ہے جو قومی ایشو بن گیا،حسن مرتضیٰ

    محسن بیگ کیس،فیصلہ کرنیوالے جج کے خلاف ریفرنس دائر کیا تو..اسلام آباد بار کا دبنگ اعلان

    گرفتار محسن بیگ پر ایک اور مقدمہ درج

    کامیاب تحریک عدم اعتماد،محسن بیگ،پاکستانی صحافت اور ہمارا پوری دنیا میں نمبر

    ویڈیو برآمد کروانی ہے، پولیس نے محسن بیگ کا مزید ریمانڈ مانگ لیا