Baaghi TV

Tag: صحت

  • عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری

    عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا ،اور ان کا دوبارہ طبی معائنہ کرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

    جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس معاملے کی سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے طبی معائنے کے لیے نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائےعدالت نے اپنے حکم میں ہدایت دی کہ چیف کمشنر اسلام آباد میڈیکل بورڈ تشکیل دیں جو بانی تحریک انصاف کا تفصیلی طبی معائنہ کرے گا اور ان کی صحت کے حوالے سے مکمل رپورٹ عدالت میں پیش کرے گا۔

    عدالت نے حکم دیا کہ اس میڈیکل بورڈ میں ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر ندیم قریشی کو بھی شامل کیا جائے تاکہ طبی معائنے کا عمل جامع اور شفاف انداز میں مکمل ہو سکے۔

    آبنائے ہرمز میں کتنے جہازوں پر حملے ہوئے؟

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان کا دوبارہ مکمل طبی معائنہ کیا جائے اور ان کی صحت سے متعلق تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، عدالت نے ہدایت کی کہ معائنے کے بعد تیار ہونے والی میڈیکل رپورٹ متعلقہ حکام کو فراہم کی جائے، جیل رولز کے مطابق عمران خان کی فیملی کو طبی معائنے کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ بھی اس عمل سے باخبر رہیں۔

    عدالت نے مزید ہدایت دی کہ ڈاکٹر ندیم قریشی عمران خان کی فیملی کے ساتھ رابطے میں رہیں اور طبی معائنے سے متعلق ضروری معلومات فراہم کرتے رہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست نمٹاتے ہوئے قرار دیا کہ پہلے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سامنے آنے دی جائے تاکہ ان کی صحت کی صورتحال کے بارے میں واضح تصویر سامنے آ سکے۔

    امریکا کا پشاور میں قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

    سماعت کے دوران عمران خان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی تحریک انصاف کی صحت کے حوالے سے خدشات موجود ہیں اور انہیں مناسب طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کا بہترین علاج جاری ہے اور ان کی صحت تسلی بخش ہے اس پر جسٹس ارباب طاہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ آپ علاج کروا رہے ہیں۔

    جسٹس ارباب طاہر نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں ان کے طبی ٹیسٹ کروائے جائیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ ٹیسٹ ایک یا 2 گھنٹے میں ہو سکتے ہیں تو پھر انہیں وہاں لے جانے میں کیا مسئلہ ہے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس: عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور

    سماعت کے دوران جسٹس ارباب طاہر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ عدالت کے پاس اب تک عمران خان کی کوئی باقاعدہ میڈیکل رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی،اس موقع پر جسٹس خادم سومرو نے بھی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت عدالت کے سامنے صرف سپرنٹنڈنٹ جیل کا بیان موجود ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا محض اسی بیان کی بنیاد پر کوئی حتمی فیصلہ کیا جا سکتا ہے؟-

    درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ عمران خان کو مختلف طبی مسائل درپیش ہیں اور جیل میں موجود طبی سہولتیں ان کے مکمل علاج کے لیے ناکافی ہیں،وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ انسانی بنیادوں پر انہیں فوری طور پر کسی مناسب اسپتال منتقل کیا جانا ضروری ہے تاکہ ان کا مکمل طبی معائنہ اور علاج ممکن ہو سکے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس: عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور

    سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے عمران خان کو تمام ضروری طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، سرکاری مؤقف کے مطابق جیل میں طبی عملہ موجود ہے اور بوقت ضرورت ڈاکٹرز بھی معائنہ کرتے ہیں۔

    عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل تفصیل سے سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، اس موقع پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے پر 15 منٹ کے وقفے کے بعد فیصلہ سنائے گی، سماعت کے دوران عدالت میں غیر معمولی سنجیدگی دیکھنے میں آئی جبکہ بانی تحریک انصاف کی صحت کے حوالے سے مختلف قانونی نکات پر بھی بحث ہوئی۔

    
ایران کا فیفا ورلڈکپ 2026 کے بائیکاٹ کا اعلان

  • سندھ میں رواں سال کا پہلا پولیو کیس رپورٹ

    رواں سال کا پہلا پولیو کیس ضلع سجاول، سندھ سے رپورٹ ہوا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بیلو یونین کونسل، سجاول ضلع سندھ سے تعلق رکھنے والے چار سالہ بچے میں 2026 کے پہلے وائلڈ پولیو کیس کی تصدیق ہوئی ہے،این ای او سی کے مطابق یہ کیس پولیو سرویلنس نیٹ ورک کے ذریعے رپورٹ کیا گیا،اسلام آباد میں پولیو کے خاتمے کے لیے ریجنل ریفرنس لیبارٹری کی تصدیق بھی ہوچکی ہے۔

    سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر متوازی اپیل دائر نہیں ہو سکتی، وفاقی آئینی عدالت

    پاسداران انقلاب کا شمالی خلیج میں امریکی ٹینکر پر حملہ

    امریکا کو بحری جہاز پر حملہ بہت مہنگا پڑے گا، ایرانی وزیرِ خارجہ

  • پنجاب:  تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری

    پنجاب: تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری

    پنجاب بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز اور ہسپتالوں کو مراسلہ جاری کیا گیا جس میں صوبہ بھر کے ہسپتالوں کےایمرجنسی وارڈز 24 گھنٹے مکمل فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں کے آپریشن تھیٹرز اور ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹس 24/7 مکمل فعال رہیں گے۔

    ماہر ڈاکٹروں، خاص طور پر فزیشن، سرجن، آرتھوپیڈک سرجن کے ساتھ ساتھ نرسوں، پیرامیڈیکس اور الائیڈ اسٹاف کی دستیابی یقینی بنانے کا حکم بھی صادر کیا گیا۔ ہسپتالوں میں ادویات، آئی وی فلوئیڈز اور سرجیکل سامان کا وافر ذخیرہ رکھنے کی ہدایت کی گئی مزید برآں ٹراما اور سرجیکل ایمرجنسی انتظامات فوری مکمل رکھنے اور ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 سے قریبی رابطہ یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔

    محکمہ ہیلتھ پنجاب نے ہدایت کی کہ تمام عملے کے شفٹ وائز ڈیوٹی روسٹر پر سختی سے عملدرآمد کا حکماحکامات و ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

  • بانی پی ٹی آئی  کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، بیرسٹر گوہر

    بانی پی ٹی آئی کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گوہر علی خان نے کہا کہ پارٹی کی خواہش بدستور یہی ہے کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کا مکمل اور شفاف طبی معائنہ ممکن ہو سکے دھرنے کا اعلان اس رپورٹ کے بعد کیا گیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہو چکی ہے یہ خبر نہایت تشویشناک تھی اور اسی باعث احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔

    تاہم بعد ازاں بتایا گیا کہ عمران خان کی آنکھ کی حالت میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے، جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا عمران خان کو اسپتال منتقل کر کے ان کے ذاتی معالجین، پارٹی کے ڈاکٹروں اور اہلِ خانہ کی موجودگی میں علاج کی سہولت دی جانی چاہیے تھی، حکومت کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ ملاقاتوں پر پابندی ہی بیشتر مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔

    مارچ میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

    چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اگر ملاقاتوں کی اجازت ہوتی تو پارٹی قیادت کو بروقت معلوم ہو جاتا کہ عمران خان کی صحت کی صورتحال کیا ہے، کیا علاج ہو رہا ہے اور کسی ممکنہ آپریشن یا طبی پیش رفت کی تفصیلات کیا ہیں اہلِ خانہ، وکلا اور معالجین کو ملاقات کی اجازت نہ دینا زیادتی ہے، خصوصاً جب بات ایک سابق وزیرِاعظم اور ملک کے مقبول سیاسی رہنما کی ہو۔

    مارچ میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

  • بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا،محسن نقوی

    بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا،محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت شفافیت پر یقین رکھتی ہے اور اسی لیے کہا گیا کہ اگر ضرورت ہو تو وہ اپنے کسی ذاتی ڈاکٹر کا نام بھی دے دیں تاکہ طبی معائنے کے عمل کو مزید واضح بنایا جا سکے،اپوزیشن سے رابطوں کا عمل کسی خط کے بعد شروع نہیں ہوا بلکہ محمود خان اچکزئی کے خط لکھنے سے پہلے ہی حکومت اپوزیشن سے رابطے میں تھی، حکومت سنجیدہ مذاکرات اور معاملات کے حل پر یقین رکھتی ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے ابتدا ہی میں واضح کر دیا تھا کہ کوئی بھی قیدی ہو، اسے آئین و قانون کے مطابق علاج کی مکمل سہولت فراہم کی جائے گی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے معاملے پر بھی یہی اصول اپنایا گیا، حکومت کی جانب سے ایک غیر سیاسی ڈاکٹر کا نام مانگا گیا، جس کے بعد کہا گیا کہ فیملی کا نما ئندہ بھی ساتھ لے جایا جائے حکومت نے ڈاکٹر قاسم زمان کا نام تجویز کیا،بعد ازاں مطالبہ سامنے آیا کہ عمران خان کو ایک ہفتے کے لیے اسپتا ل منتقل کیا جائے، جس پر حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ فیصلہ ڈاکٹروں کی سفارش پر ہوگا، چاہے وہ ایک ہفتہ ہو یا 2 ہفتے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ آنکھوں کے معاملے پر بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا ان کے بقول عمران خان کے معالجین نے خود کہا کہ انہیں بہترین طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض معاملات میں سب فریقین متفق ہو جاتے ہیں مگر علیمہ خان ویٹو کر دیتی ہیں، کچھ اینکرز کی جانب سے یہ تک کہا گیا کہ عمران خان کی پوری آنکھ ضائع ہو چکی ہے، جو حقائق کے منافی ہے انہوں نے زور دیا کہ بینائی سے متعلق منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو صحافیوں کو جیل لے جا کر سہولتیں دکھائی جا سکتی ہیں تاکہ تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں ان کے بقول وہ چاہیں تو میڈیا نمائندوں کو خود وہاں لے جا سکتے ہیں تاکہ معاملہ ہمیشہ کے لیے واضح ہو جائےحکومت پہلے ہی اپوزیشن سے رابطے میں تھی اور محمود خان اچکزئی کے خط سے قبل ہی معاملات پر بات چیت جاری تھی،حکومت نے واضح یقین دہانی کرائی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کی ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔

    وزیر داخلہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے میڈیکل چیک اپ کے لیے ایک نان پولیٹیکل آئی اسپیشلسٹ تجویز کیا گیا اور پی ٹی آئی رہنماؤں سے بھی کہا گیا کہ وہ اپنے اعتماد کے کسی ماہر چشم کا نام دے دیں چیک اپ کے دوران فیملی ممبر کو بھی شامل ہونے کی اجازت دی گئی معائنے کے بعد بانی پی ٹی آئی قریباً ڈیڑھ گھنٹہ اسپتال میں موجود رہے بعد ازاں ایک ہفتے کے لیے اسپتال میں داخلے کا مطالبہ سامنے آیا، تاہم حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ داخلے کا فیصلہ ڈاکٹروں کی سفارش پر ہوگا مزید ٹیسٹ کرانے کی پیشکش بھی کی گئی تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی، اپوزیشن لیڈر سینیٹ اور بیرسٹر گوہر علی خان کو ملاقات کی دعوت دی گئی، جس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے پمز اسپتال میں ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات کی اس دوران قریباً 45 منٹ تک ڈاکٹروں نے فون پر تفصیلی بریفنگ دی اور میڈیکل رپورٹ بھی شیئر کی گئی، جس پر ڈاکٹرز نے اطمینان کا اظہار کیا بانی پی ٹی آئی کو اسپتال لانے کا مقصد صرف آنکھ کا علاج تھا اور حکومت یا ادارے اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتےغیر مصدقہ معلومات پھیلانا اور عوام کو گمراہ کرنا زیادتی ہے اگر سیاسی انتقام مقصود ہوتا تو جیل میں سختی کی جاتی، مگر حکومت نے ہمیشہ قانون اور انسانی تقاضوں کے مطابق اقدامات کیے ہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ بعض رہنما بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے زیادہ اپنی سیاست کے بارے میں فکر مند دکھائی دیتے ہیں اگر سنجیدہ قیادت کی بات سنی جاتی تو آج کی صورتحال پیدا نہ ہوتی اور 9 مئی جیسے واقعات سے بھی بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ ذمہ داروں کو خود احتسابی کرنا ہوگی اسلام آباد کے ریڈ زون میں خرابی پیدا کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے اور عدالت کے فیصلوں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گافیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ وہ سنجیدہ قیادت کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ وہ کسی بھی بحران یا مسئلے پر بات چیت کے لیے حاضر ہیں کیونکہ یہ ان کا فرض ہے، تاہم این آر او سے متعلق کسی قسم کی بات چیت ان کا موضوع نہیں، قومی مفاد کے معاملات پر گفتگو ہو سکتی ہے لیکن ذاتی رعایتوں پر نہیں، حکومت نے دہشتگردی کے معاملے پر عالمی سطح پر اپنا مؤقف پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ دہشتگردی کو مظلومیت کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حقائق دنیا کے سامنے لائے جائیں گے بلوچستان میں دہشتگردی کے لیے فنڈنگ میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں جب تک عالمی برادری حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گی، دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔

  • عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں بہتری آ رہی ہے،نورین خانم

    عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں بہتری آ رہی ہے،نورین خانم

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں بہتری آ رہی ہے اور آنکھ کے گرد سوجن میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

    نورین خانم نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ اتوار کی دوپہر Imran Khan کا طبی معائنہ Adyala Jail کے اندر کیا گیا، جہاں خصوصی طور پر slit lamp، OCT scan مشین اور مکمل سہولیات سے لیس ہیوی ایمبولینس بھی موقع پر پہنچائی گئی۔

    ڈاکٹر عارف (PIMS) اور ڈاکٹر ندیم قریشی (الشفا) نے جیل کے اندر فزیکل ایگزامینیشن کی بعد ازاں انہوں نے سینئر ڈاکٹروں کو اپنی رپورٹ سے آگاہ کیا، جن میں ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر مرزا شامل تھے جو کانفرنس کال کے ذریعے شریک ہوئے، بیرسٹر گوہر بھی اس تمام پیشرفت سے آگاہ ہیں۔

    ابتدائی رپورٹ کے مطابق!سوجن میں کمی آئی ہے، بینائی میں بہتری آ رہی ہے، تاحال کوئی بڑی پیچیدگی سامنے نہیں آئی،تاہم Shifa International Hospitals کے ڈاکٹرز اب بھی محتاط ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود کہ پہلے بتایا گیا تھا کہ عمران خان کو شفا منتقل کیا جائے گا، انہیں وہاں نہیں لایا گیا شفا کے ریٹینا اسپیشلسٹس جن میں ڈاکٹر امیر اعوان بھی شامل ہیں آج رات دیر تک اسٹینڈ بائی رہے، مگر عمران خان کو منتقل نہیں کیا گیا

    Eylea انجیکشن کی ایک ڈوز دی جا چکی ہے، جبکہ دوسری ڈوز 25 فروری کو دی جائے گی، ماہرین بشمول ڈاکٹر خرم مرزا کے مطابق Vabysmo زیادہ طاقتور اور مؤثر ہو سکتا ہے، اور یہ رائے PIMS کے CEO اور ریٹینا اسپیشلسٹ ڈاکٹر ندیم قریشی تک پہنچا دی گئی ہے تاہم فی الحال Eylea ہی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

    اگلا مرحلہ angiogram کا ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ ہوگا کہ لیزر ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے یا نہیں،عمران خان کی دائیں آنکھ کی صحت سے متعلق ہماری تشویش برقرار ہے، اور شفافیت کے ساتھ خان صاحب کی زاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں ان کا علاج کی جائے-

  • صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے ، طارق فضل چوہدری

    صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے ، طارق فضل چوہدری

    طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مقدم رکھتی ہے اور ہر قیدی کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی سہولت فراہم کر دی گئی ہےجبکہ حکومت نے ان کی صحت کے پیش نظر انہیں اسپتال منتقل کرنے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

    طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کو مقدم رکھتی ہے اور ہر قیدی کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہےعمران خان کی صحت سے متعلق اقدامات بھی قانون اور ضابطوں کے مطابق کیے جا رہے ہیں،صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ بے بنیاد پروپیگنڈا یا سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کرے حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہے اور اس معاملے کو سیاست کی نذر کرنے کے بجائے قومی سنجیدگی اور برداشت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ان کے طبی معائنے کے لیے 2 رکنی میڈیکل پینل تشکیل دیا ہے جو جلد ان کا معائنہ کر کے صحت کی صورتحال پر رپورٹ مرتب کرے گا۔ میڈیکل پینل میں ڈاکٹر امجد اور ڈاکٹر ندیم قریشی شامل ہیں۔

  • حکومت عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے پر رضامند ہو گئی ، سلمان اکرم راجہ کا دعویٰ

    حکومت عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے پر رضامند ہو گئی ، سلمان اکرم راجہ کا دعویٰ

    تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے پر رضامند ہو گئی ہے۔

    سلمان اکرم راجہ نے کسی کا نام لیے بغیر کہ ان کو بتایا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کو شفا اسپتال داخل کیا جا رہا ہے،حکومت نے عمران خان کے اہلخانہ کے ایک رکن کو بھی اسپتال میں ملاقات کی اجازت دینے کا وعدہ کیا ہےمناسب اور بروقت علاج عمران خان کا حق ہے اس میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔

    کراچی میں جماعت اسلامی کے مظاہرے پر پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے پاکستان میں موجودہ صورتحال کے حوالے سے عالمی اور سفارتی برادری کو ایک پیغام بھیجا ہے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی اور سفارتی برادری کو یہ یقینی بنانے میں کردار ادا کرنا چاہیے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو ان کے اہلخانہ کی ہدایت کے مطابق ڈاکٹروں کی نگرانی میں الشفاء اسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کا علاج مناسب طریقے سے ہو سکے۔

    عمران خان کی آنکھ کا علاج جاری، ذاتی مفاد کیلئے قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، عطاتارڑ

  • عمران خان کی آنکھ کا علاج جاری، ذاتی مفاد کیلئے قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، عطاتارڑ

    عمران خان کی آنکھ کا علاج جاری، ذاتی مفاد کیلئے قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، عطاتارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی آنکھ کے علاج کے تسلسل میں مزید معائنہ اور علاج ایک خصوصی طبی ادار ے میں ماہرینِ امراضِ چشم کریں گے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ‘عمران خان کی آنکھ کے جاری علاج کے تسلسل میں مزید معائنہ اورعلاج ایک خصوصی طبی ادارے میں ماہرین امراضِ چشم کریں گے،اس کی تفصیلی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی، اس معاملے پر قیاس آرائیوں، بے بنیاد خبروں اور ذاتی مفاد کے لیے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوششوں سے گریز کیا جائے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے فرینڈ آف دی کورٹ اور عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کی جیل میں فراہم سہولیات اور صحت کے متعلق رپورٹ کے بعد عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی اور بچوں سے رابطے کی سہولت دینے کا حکم دیا تھا۔

    ملک کے مختلف حصوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیشگوئی

    سلمان صفدر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی 85 فیصد بینائی ختم ہوگئی ہے اور انہوں نے جیل میں فراہم کی گئیں طبی سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہےعمران خان اپنی آنکھوں کے مسئلے پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ماہر ڈاکٹروں تک فوری رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    خطرناک اور تباہ کن زلزلے کی پیشگوئی

  • بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے معاملے پر سیاست کرنا مناسب نہیں،رانا ثنااللہ

    بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے معاملے پر سیاست کرنا مناسب نہیں،رانا ثنااللہ

    مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت سے متعلق سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ نے تمام الزامات کی نفی کر دی ہے۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئےمسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ صحت اور علاج ہر انسان کا بنیادی حق ہے، اور بانی پی ٹی آئی کو جیل میں مکمل طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جب کہ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ نے تمام الزامات کی نفی کر دی ہےرپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کو فراہم کی جانے والی تمام سہولیات کی تفصیل موجود ہے، جن میں ناشتہ، دوپہر کا کھانا، طبی معائنہ اور مشاورت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں قیدِ تنہائی سے متعلق دعوؤں کی بھی تردید کی گئی ہے،چیف جسٹس نے قرار دیا کہ سلمان صفدر اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹس میں مطابقت ہے۔

    رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کبھی یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ انہیں علاج کی سہولت نہیں دی جا رہی، بلکہ انہوں نے صرف فراہم کردہ علاج پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھاجب بھی انہوں نے شکایت کی، انہیں علاج فراہم کیا گیا اور آنکھ کے مسئلے پر انہیں پمز اسپتال بھی منتقل کیا گیا، بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے معاملے پر سیاست کرنا مناسب نہیں، اور خبردار کیا کہ قیدیوں کی صحت کے معاملے پر حکومت یا جیل حکام کی جانب سے سیاست کرنا جرم ہے۔