Baaghi TV

Tag: صحت

  • ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے،مصطفیٰ کمال

    ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے،مصطفیٰ کمال

    فاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے اور اس کی روک تھام کے لیے گلوبل فنڈ امداد فراہم کرتا ہے-

    ایچ آئی وی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے اور اس کی روک تھام کے لیے گلوبل فنڈ امداد فراہم کرتا ہے 2024 سے 2026 کے لیے فنڈ 65 ملین ڈالر مختص تھا، جس کی مدت جون 2026 میں ختم ہو جائے گی،65 ملین ڈالر میں سے حکومت پاکستان کو 3.9 ملین ڈالر دیے گئے، جبکہ باقی رقم نئی زندگی اور یو این ڈی پی کو فراہم کی گئی۔

    مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 84 ہزار ہے، جن میں سے 61 ہزار مریضوں کا علاج جاری ہے جبکہ 24 ہزار مریض لاپتا ہیں 2025 میں ملک میں اے آر ٹی سینٹرز کی تعداد 97 ہو گئی، جبکہ 2020 تک پورے ملک میں صرف 49 اے آر ٹی سینٹرز تھے تونسہ میں ایچ آئی وی کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، جو واقعہ رپورٹ ہوا وہ 2024 کا ہے اسلام آباد میں اس وقت ایچ آئی وی کے کل 618 رجسٹرڈ کیسز ہیں، جن میں سے 210 کیسز اسلام آباد کے ہیں، جبکہ باقی 408 کیسز راولپنڈی اور دیگر علاقوں کے رجسٹرڈ ہیں،ایچ آئی وی کی کوئی دوا مارکیٹ میں دستیاب نہیں، یہ ادویات صرف سرکاری اداروں سے فراہم کی جاتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معرکۂ حق میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، جس کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کے وقار میں مزید اضافہ ہوا ہے، 100 سال کی سفارتکاری میں بھی ایسی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی تھی،پاکستان نے تیسری جنگ عظیم رکوانے کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا، جبکہ ملک کی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں-

  • صحت سے متعلق افواہیں،فلپائنی صدر نے صحافیوں کے سامنے جمپنگ جیکس لگادیئے

    صحت سے متعلق افواہیں،فلپائنی صدر نے صحافیوں کے سامنے جمپنگ جیکس لگادیئے

    منیلا: فلپائن کے صدر مارکوس نے اپنی صحت سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے صحافیوں کے سامنے جمپنگ جیکس لگادیئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 68 سالہ صدر نے پریس کانفرنس میں جمپنگ جیکس لگا کر دکھائے اور اپنے دفتر کے باہر صحافیوں کی موجودگی میں ہلکی دوڑ بھی لگائی انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کی بیماری سے متعلق دعوے کر رہے ہیں وہ آ کر ان کے ساتھ ورزش کریں ان کے بیمار یا مفلوج ہونے کی خبریں بے بنیاد ہیں انہوں نے صحافیوں کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے ساتھ جم جا کر دیکھیں کہ کون بہتر انداز میں ورزش کر سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ جنوری میں کچھ عرصہ عوامی نظروں سے اوجھل رہنے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی صحت اور حتیٰ کہ وفات سے متعلق افواہیں گردش کر رہی تھیں،بعد ازاں صدر نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا تھا کہ انہیں پیٹ کی تکلیف کے باعث اسپتال جانا پڑا، جس کی وجہ انہوں نے ذہنی دباؤ اور عمر کو قرار دیا۔

  • تونسہ : بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خوفناک اضافہ،سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

    تونسہ : بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خوفناک اضافہ،سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

    تونسہ میں بچوں میں ایچ آئی وی وبا کے پھیلاؤ سے جڑے ہسپتال میں خفیہ فلمنگ کے ذریعے سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف سامنے آ یا ہے-

    بی بی سی آئی کی تحقیق کے مطابق نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان تونسہ میں 331 بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹیو کی تصدیق ہوئی ، 2024 کے اواخر میں جب ایک نجی کلینک کے ڈاکٹر نے تونسہ کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے جوڑا تو مقامی حکام نے سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے مارچ 2025 میں ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ کو معطل کر دیا، لیکن بی بی سی آئی کی حالیہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی ماہ بعد بھی استعمال شدہ انجیکشن لگائے جانے کا خطرناک رجحان جاری ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 2025 کے اواخر میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ میں 32 گھنٹوں کی خفیہ فلمنگ کے دوران دیکھا گیا کہ دس مختلف مواقع پر استعمال شدوں سرنجوں میں دوائی بھری گئی، جس سے ممکنہ طور پر انجیکشنز میں موجود دوا خراب ہوئی ہو گی ان میں سے چار مواقع پر اسی دوائی کی بوتل سے ایک مختلف یا دوسرے بچے کو دوا دی گئی یہ تو نہیں جانتے کہ اُن میں سے کوئی بچہ ایچ آئی وی پازیٹیو تھا یا نہیں لیکن اس طرح سے دوبارہ استعمال واضح طور پر وائرل ٹرانسمیشن کا خطرہ رکھتا ہے۔

    ڈاکٹر الطاف احمد پاکستان کے ممتاز کنسلٹنٹ مائیکروبائیولوجسٹ اور انفیکشس ڈیزیز کے ماہر نے خفیہ فوٹیج دیکھتے ہوئے کہا کہ اگر انھوں نے ٹیکے کی سوئی بدل کر نئی بھی لگا دی ہے تو ٹیکے کے پچھلے حصے، جسے ہم سرنج باڈی کہتے ہیں، میں وائرس ہو سکتا ہے جو نئی سوئی کے ذریعے ٹرانسفر ہو سکتا ہے۔‘

    ہسپتال کی دیواروں پر محفوظ انجیکشن لگانے کے طریقہ کار کی تصاویر والے پوسٹرز کے باوجود ہم نے سٹاف، بشمول ایک ڈاکٹر، کو 66 مرتبہ صاف دستانے پہنے بغیر مریضوں کو ٹیکا لگاتے ہوئے فلمایا اور ایک دوسرے ماہر نے بی بی سی آئی کو بتایا کہ یہ پاکستان میں مجموعی طور پر انفیکشن کنٹرول ٹریننگ کی کمزور یوں کو ظاہر کرتا ہے۔

    بی بی سی آئی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک نرس کو بھی دیکھا جو میڈیکل ویسٹ باکس یعنی طبی فضلے سے بھرے ڈبے میں بنا صاف دستانے پہنے ہاتھ پھیر رہی تھیں ڈاکٹر احمد کہتے ہیں کہ ’وہ دوائی انجیکٹ کرنے کے ہر اصول کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔‘

    تاہم جب یہی انڈر کور فوٹیج تونسہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے نئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قاسم بزدار کو دکھائی تو انھوں نے اسے درست ماننے سے انکار کر دیا انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ فوٹیج یا تو ان کی تعیناتی سے پہلے بنی یا پھر یہ فوٹیج ’سٹیج بھی ہو سکتی ہے،انھوں نے اصرار کیا کہ ان کا ہسپتال بچوں کے لیے محفوظ ہے۔

    ڈاکٹر گل قیصرانی ایک مقامی نجی کلینک میں کام کرتے ہیں ڈاکٹر قیصرانی نے سب سے پہلے 2024 کے اواخر میں یہ دیکھا کہ اُن کے کلینک میں آنے والے ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو ایچ آئی وی پازیٹیو ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے جن بچوں میں یہ تشخیص کی ان میں سے 65 سے 70 کا علاج تونسہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ہوا تھا ایک بچی کی والدہ کے مطابق اُن کی بیٹی کو اُسی سرنج سے ٹیکا لگایا گیا جس سے اُس کی ایک اور کزن کو بھی لگایا گیا تھا اورجو ایچ آئی وی پازیٹیو ہے، اور پھر وہی سرنج کئی اور بچوں پر بھی استعمال ہوئی ایک بچے کے والد کے مطابق جب انھوں نے استعمال شدہ سرنج لگانے پر احتجاج کیا تو نرسز نے ان کا احتجاج نظرانداز کر دیا۔

    بی بی سی آئی نے پنجاب ایڈز سکریننگ پروگرام، نجی کلینکس اور پولیس کی جانب سے لیک ہونے والے اعداد و شمار کی مدد سے ایسے 331 بچوں کی شناخت کی جو تونسہ میں نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان ایچ آئی وی پازیٹیو ہوئے 97 بچوں میں سے صرف چار کی مائیں ایچ آئی وی پازیٹیو تھیں اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ان میں سے بہت کم بچوں کو اپنی والدہ سے یہ مرض لگا، یعنی ماں سے بچے میں مرض کی ٹرانسمیشن ہوئی-

    صوبائی ایڈز سکریننگ پروگرام کے اعدادوشمار کے مطابق 331 بچوں میں سے نصف کو استعمال شدہ سوئی کی وجہ سے ایچ آئی وی لگا۔ باقی کے بارے میں ان اعداد و شمار میں نہیں بتایا گیا کہ انھیں ایچ آئی وی کیسے ہوا ہو گامارچ 2025 میں پنجاب حکومت نے 106 کیسوں کا حوالہ دیتے ہوئے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طیب فاروق چانڈیو کو معطل کر دیا تاہم معطلی کی تین ماہ کے اندر ہی وہ تونسہ کی مضافات میں ایک دیہی ہیلتھ سینٹر میں بطور سینیئر میڈیکل افسر ایک بار پھر بچوں کا علاج کر رہے تھے-

  • لاہور:آپریشن کے دوران ویڈیو بنانے کا معاملہ، متعدد ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملہ معطل

    لاہور:آپریشن کے دوران ویڈیو بنانے کا معاملہ، متعدد ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملہ معطل

    لاہور میں لیڈی ولنگڈن ہسپتال سے سامنے آنے والے ویڈیو اسکینڈل نے صحت کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے-

    لاہور کے لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں مبینہ ویڈیو اسکینڈل نے تہلکہ مچا دیا، جہاں دورانِ آپریشن ڈاکٹرز کی جانب سے مریضوں کی ویڈیوز بنانے کا انکشاف سامنے آیا، نہ صرف طبی اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی بلکہ ڈاکٹرز کے درمیان مبینہ مقابلہ بازی نے مریضوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔

    معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب ایک سیکیورٹی گارڈ کے مبینہ طور پر مریض کو اسپائنل اینستھیزیا دینے کی ویڈیو بھی سامنے آئی، جو کہ صرف ماہر ڈاکٹر کا کام ہوتا ہےیہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، مریضوں کی پرائیویسی اور حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

    واقعے کے بعد حکومت پنجاب نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ایم ایس اور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سے جواب طلب کر لیا، جبکہ متعدد ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر عملے کو معطل کر دیا گیا ہے 5 ڈاکٹرز کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ فوری طور پر ختم کر دی،یہ اقدام پالیسی اینڈ پروسیجر مینوئل کی شق 13.2 کے تحت غفلت اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر اٹھایا گیا۔

    متاثرہ ڈاکٹرز میں ڈاکٹر طیبہ فاطمہ، ڈاکٹر ماہم امین، ڈاکٹر زینب طاہر، ڈاکٹر عائشہ افضل اور ڈاکٹر آمنہ رشید شامل ہیں، جبکہ معاملہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کو بھی بھجوا دیا گیا ہے ادھر شہری جنید ستار بٹ ایڈووکیٹ نے پولیس میں درخواست دائر کر دی ہے، جس میں ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی اور پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات نہ صرف طبی اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ مریضوں کے وقار اور اعتماد کو بھی شدید متاثر کرتے ہیں۔

  • پنجاب:  چیف منسٹر کارڈیک سرجری پروگرام کا آغاز

    پنجاب: چیف منسٹر کارڈیک سرجری پروگرام کا آغاز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صحت کے شعبے میں ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے چیف منسٹر کارڈیک سرجری پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت دل کے مریضوں کو مفت اور بروقت علاج فراہم کیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے پروگرام شروع کیا، جبکہ منظوری کے بعد اس کا باقاعدہ اجرا بھی کر دیا گیا ہے، پروگرام کے تحت منتخب سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں دل کے امراض کا مفت علاج فراہم کیا جائے گاپنجاب کے 9 سرکاری اور 15 نجی کارڈیک ادارے اس پروگرام میں شامل ہیں، جبکہ یہ سہولت صوبے کے مستقل رہائشی دل کے مریضوں کے لیے مختص کی گئی ہے۔

    چیف منسٹر کارڈیک سرجری پروگرام کے تحت پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں پہلے مریض کی کامیاب اوپن ہارٹ سرجری بھی مکمل کر لی گئی ہے حکومت نے اس پروگرام کے لیے سالانہ 3 ارب روپے سے زائد فنڈز مختص کیے ہیں، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اوپن ہارٹ سرجری کی طویل ویٹنگ لسٹوں کو 6 ماہ میں ختم کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔

    پروگرام سے متعلق معلومات کے لیے 0800-09009 ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے، جبکہ مریض پیر تا ہفتہ صبح 8 بجے سے رات 11 بجے تک 042-99066000 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے واٹس ایپ نمبر 0333-6756390 پر بھی رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت دل کے ہزاروں مریضوں کو جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے اور یہ پروگرام امراض قلب میں مبتلا افراد کو مفت اور بروقت علاج کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوگا۔

  • عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری

    عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا ،اور ان کا دوبارہ طبی معائنہ کرانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

    جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اس معاملے کی سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر نے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے طبی معائنے کے لیے نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائےعدالت نے اپنے حکم میں ہدایت دی کہ چیف کمشنر اسلام آباد میڈیکل بورڈ تشکیل دیں جو بانی تحریک انصاف کا تفصیلی طبی معائنہ کرے گا اور ان کی صحت کے حوالے سے مکمل رپورٹ عدالت میں پیش کرے گا۔

    عدالت نے حکم دیا کہ اس میڈیکل بورڈ میں ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر ندیم قریشی کو بھی شامل کیا جائے تاکہ طبی معائنے کا عمل جامع اور شفاف انداز میں مکمل ہو سکے۔

    آبنائے ہرمز میں کتنے جہازوں پر حملے ہوئے؟

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان کا دوبارہ مکمل طبی معائنہ کیا جائے اور ان کی صحت سے متعلق تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، عدالت نے ہدایت کی کہ معائنے کے بعد تیار ہونے والی میڈیکل رپورٹ متعلقہ حکام کو فراہم کی جائے، جیل رولز کے مطابق عمران خان کی فیملی کو طبی معائنے کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ بھی اس عمل سے باخبر رہیں۔

    عدالت نے مزید ہدایت دی کہ ڈاکٹر ندیم قریشی عمران خان کی فیملی کے ساتھ رابطے میں رہیں اور طبی معائنے سے متعلق ضروری معلومات فراہم کرتے رہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست نمٹاتے ہوئے قرار دیا کہ پہلے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ سامنے آنے دی جائے تاکہ ان کی صحت کی صورتحال کے بارے میں واضح تصویر سامنے آ سکے۔

    امریکا کا پشاور میں قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ

    سماعت کے دوران عمران خان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی تحریک انصاف کی صحت کے حوالے سے خدشات موجود ہیں اور انہیں مناسب طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اسپتال منتقل کیا جانا چاہیے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کا بہترین علاج جاری ہے اور ان کی صحت تسلی بخش ہے اس پر جسٹس ارباب طاہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات تو تسلیم شدہ ہے کہ آپ علاج کروا رہے ہیں۔

    جسٹس ارباب طاہر نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں ان کے طبی ٹیسٹ کروائے جائیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ ٹیسٹ ایک یا 2 گھنٹے میں ہو سکتے ہیں تو پھر انہیں وہاں لے جانے میں کیا مسئلہ ہے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس: عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور

    سماعت کے دوران جسٹس ارباب طاہر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ عدالت کے پاس اب تک عمران خان کی کوئی باقاعدہ میڈیکل رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی،اس موقع پر جسٹس خادم سومرو نے بھی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت عدالت کے سامنے صرف سپرنٹنڈنٹ جیل کا بیان موجود ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا محض اسی بیان کی بنیاد پر کوئی حتمی فیصلہ کیا جا سکتا ہے؟-

    درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ عمران خان کو مختلف طبی مسائل درپیش ہیں اور جیل میں موجود طبی سہولتیں ان کے مکمل علاج کے لیے ناکافی ہیں،وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ انسانی بنیادوں پر انہیں فوری طور پر کسی مناسب اسپتال منتقل کیا جانا ضروری ہے تاکہ ان کا مکمل طبی معائنہ اور علاج ممکن ہو سکے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس: عمران اور بشریٰ کی اپیلوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور

    سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے عمران خان کو تمام ضروری طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، سرکاری مؤقف کے مطابق جیل میں طبی عملہ موجود ہے اور بوقت ضرورت ڈاکٹرز بھی معائنہ کرتے ہیں۔

    عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل تفصیل سے سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، اس موقع پر جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے پر 15 منٹ کے وقفے کے بعد فیصلہ سنائے گی، سماعت کے دوران عدالت میں غیر معمولی سنجیدگی دیکھنے میں آئی جبکہ بانی تحریک انصاف کی صحت کے حوالے سے مختلف قانونی نکات پر بھی بحث ہوئی۔

    
ایران کا فیفا ورلڈکپ 2026 کے بائیکاٹ کا اعلان

  • سندھ میں رواں سال کا پہلا پولیو کیس رپورٹ

    رواں سال کا پہلا پولیو کیس ضلع سجاول، سندھ سے رپورٹ ہوا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق بیلو یونین کونسل، سجاول ضلع سندھ سے تعلق رکھنے والے چار سالہ بچے میں 2026 کے پہلے وائلڈ پولیو کیس کی تصدیق ہوئی ہے،این ای او سی کے مطابق یہ کیس پولیو سرویلنس نیٹ ورک کے ذریعے رپورٹ کیا گیا،اسلام آباد میں پولیو کے خاتمے کے لیے ریجنل ریفرنس لیبارٹری کی تصدیق بھی ہوچکی ہے۔

    سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر متوازی اپیل دائر نہیں ہو سکتی، وفاقی آئینی عدالت

    پاسداران انقلاب کا شمالی خلیج میں امریکی ٹینکر پر حملہ

    امریکا کو بحری جہاز پر حملہ بہت مہنگا پڑے گا، ایرانی وزیرِ خارجہ

  • پنجاب:  تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری

    پنجاب: تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری

    پنجاب بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز اور ہسپتالوں کو مراسلہ جاری کیا گیا جس میں صوبہ بھر کے ہسپتالوں کےایمرجنسی وارڈز 24 گھنٹے مکمل فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں کے آپریشن تھیٹرز اور ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹس 24/7 مکمل فعال رہیں گے۔

    ماہر ڈاکٹروں، خاص طور پر فزیشن، سرجن، آرتھوپیڈک سرجن کے ساتھ ساتھ نرسوں، پیرامیڈیکس اور الائیڈ اسٹاف کی دستیابی یقینی بنانے کا حکم بھی صادر کیا گیا۔ ہسپتالوں میں ادویات، آئی وی فلوئیڈز اور سرجیکل سامان کا وافر ذخیرہ رکھنے کی ہدایت کی گئی مزید برآں ٹراما اور سرجیکل ایمرجنسی انتظامات فوری مکمل رکھنے اور ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 سے قریبی رابطہ یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔

    محکمہ ہیلتھ پنجاب نے ہدایت کی کہ تمام عملے کے شفٹ وائز ڈیوٹی روسٹر پر سختی سے عملدرآمد کا حکماحکامات و ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

  • بانی پی ٹی آئی  کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، بیرسٹر گوہر

    بانی پی ٹی آئی کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گوہر علی خان نے کہا کہ پارٹی کی خواہش بدستور یہی ہے کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کا مکمل اور شفاف طبی معائنہ ممکن ہو سکے دھرنے کا اعلان اس رپورٹ کے بعد کیا گیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہو چکی ہے یہ خبر نہایت تشویشناک تھی اور اسی باعث احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔

    تاہم بعد ازاں بتایا گیا کہ عمران خان کی آنکھ کی حالت میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے، جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا عمران خان کو اسپتال منتقل کر کے ان کے ذاتی معالجین، پارٹی کے ڈاکٹروں اور اہلِ خانہ کی موجودگی میں علاج کی سہولت دی جانی چاہیے تھی، حکومت کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ ملاقاتوں پر پابندی ہی بیشتر مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔

    مارچ میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

    چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اگر ملاقاتوں کی اجازت ہوتی تو پارٹی قیادت کو بروقت معلوم ہو جاتا کہ عمران خان کی صحت کی صورتحال کیا ہے، کیا علاج ہو رہا ہے اور کسی ممکنہ آپریشن یا طبی پیش رفت کی تفصیلات کیا ہیں اہلِ خانہ، وکلا اور معالجین کو ملاقات کی اجازت نہ دینا زیادتی ہے، خصوصاً جب بات ایک سابق وزیرِاعظم اور ملک کے مقبول سیاسی رہنما کی ہو۔

    مارچ میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی،چیئرمین پی ٹی اے

  • بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا،محسن نقوی

    بانی پی ٹی آئی کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا،محسن نقوی

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بینائی سے متعلق بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت شفافیت پر یقین رکھتی ہے اور اسی لیے کہا گیا کہ اگر ضرورت ہو تو وہ اپنے کسی ذاتی ڈاکٹر کا نام بھی دے دیں تاکہ طبی معائنے کے عمل کو مزید واضح بنایا جا سکے،اپوزیشن سے رابطوں کا عمل کسی خط کے بعد شروع نہیں ہوا بلکہ محمود خان اچکزئی کے خط لکھنے سے پہلے ہی حکومت اپوزیشن سے رابطے میں تھی، حکومت سنجیدہ مذاکرات اور معاملات کے حل پر یقین رکھتی ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت نے ابتدا ہی میں واضح کر دیا تھا کہ کوئی بھی قیدی ہو، اسے آئین و قانون کے مطابق علاج کی مکمل سہولت فراہم کی جائے گی بانی پی ٹی آئی عمران خان کے معاملے پر بھی یہی اصول اپنایا گیا، حکومت کی جانب سے ایک غیر سیاسی ڈاکٹر کا نام مانگا گیا، جس کے بعد کہا گیا کہ فیملی کا نما ئندہ بھی ساتھ لے جایا جائے حکومت نے ڈاکٹر قاسم زمان کا نام تجویز کیا،بعد ازاں مطالبہ سامنے آیا کہ عمران خان کو ایک ہفتے کے لیے اسپتا ل منتقل کیا جائے، جس پر حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ فیصلہ ڈاکٹروں کی سفارش پر ہوگا، چاہے وہ ایک ہفتہ ہو یا 2 ہفتے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ آنکھوں کے معاملے پر بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا ان کے بقول عمران خان کے معالجین نے خود کہا کہ انہیں بہترین طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض معاملات میں سب فریقین متفق ہو جاتے ہیں مگر علیمہ خان ویٹو کر دیتی ہیں، کچھ اینکرز کی جانب سے یہ تک کہا گیا کہ عمران خان کی پوری آنکھ ضائع ہو چکی ہے، جو حقائق کے منافی ہے انہوں نے زور دیا کہ بینائی سے متعلق منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو صحافیوں کو جیل لے جا کر سہولتیں دکھائی جا سکتی ہیں تاکہ تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں ان کے بقول وہ چاہیں تو میڈیا نمائندوں کو خود وہاں لے جا سکتے ہیں تاکہ معاملہ ہمیشہ کے لیے واضح ہو جائےحکومت پہلے ہی اپوزیشن سے رابطے میں تھی اور محمود خان اچکزئی کے خط سے قبل ہی معاملات پر بات چیت جاری تھی،حکومت نے واضح یقین دہانی کرائی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کی ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔

    وزیر داخلہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے میڈیکل چیک اپ کے لیے ایک نان پولیٹیکل آئی اسپیشلسٹ تجویز کیا گیا اور پی ٹی آئی رہنماؤں سے بھی کہا گیا کہ وہ اپنے اعتماد کے کسی ماہر چشم کا نام دے دیں چیک اپ کے دوران فیملی ممبر کو بھی شامل ہونے کی اجازت دی گئی معائنے کے بعد بانی پی ٹی آئی قریباً ڈیڑھ گھنٹہ اسپتال میں موجود رہے بعد ازاں ایک ہفتے کے لیے اسپتال میں داخلے کا مطالبہ سامنے آیا، تاہم حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ داخلے کا فیصلہ ڈاکٹروں کی سفارش پر ہوگا مزید ٹیسٹ کرانے کی پیشکش بھی کی گئی تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی، اپوزیشن لیڈر سینیٹ اور بیرسٹر گوہر علی خان کو ملاقات کی دعوت دی گئی، جس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے پمز اسپتال میں ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات کی اس دوران قریباً 45 منٹ تک ڈاکٹروں نے فون پر تفصیلی بریفنگ دی اور میڈیکل رپورٹ بھی شیئر کی گئی، جس پر ڈاکٹرز نے اطمینان کا اظہار کیا بانی پی ٹی آئی کو اسپتال لانے کا مقصد صرف آنکھ کا علاج تھا اور حکومت یا ادارے اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہتےغیر مصدقہ معلومات پھیلانا اور عوام کو گمراہ کرنا زیادتی ہے اگر سیاسی انتقام مقصود ہوتا تو جیل میں سختی کی جاتی، مگر حکومت نے ہمیشہ قانون اور انسانی تقاضوں کے مطابق اقدامات کیے ہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ بعض رہنما بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے زیادہ اپنی سیاست کے بارے میں فکر مند دکھائی دیتے ہیں اگر سنجیدہ قیادت کی بات سنی جاتی تو آج کی صورتحال پیدا نہ ہوتی اور 9 مئی جیسے واقعات سے بھی بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ ذمہ داروں کو خود احتسابی کرنا ہوگی اسلام آباد کے ریڈ زون میں خرابی پیدا کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے اور عدالت کے فیصلوں پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گافیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ وہ سنجیدہ قیادت کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ وہ کسی بھی بحران یا مسئلے پر بات چیت کے لیے حاضر ہیں کیونکہ یہ ان کا فرض ہے، تاہم این آر او سے متعلق کسی قسم کی بات چیت ان کا موضوع نہیں، قومی مفاد کے معاملات پر گفتگو ہو سکتی ہے لیکن ذاتی رعایتوں پر نہیں، حکومت نے دہشتگردی کے معاملے پر عالمی سطح پر اپنا مؤقف پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ دہشتگردی کو مظلومیت کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حقائق دنیا کے سامنے لائے جائیں گے بلوچستان میں دہشتگردی کے لیے فنڈنگ میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے اور اس کے شواہد موجود ہیں جب تک عالمی برادری حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گی، دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔