Baaghi TV

Tag: صحت

  • پاکستان میں پولیو وائرس کی موجودگی میں نمایاں کمی ریکارڈ

    پاکستان میں پولیو وائرس کی موجودگی میں نمایاں کمی ریکارڈ

    نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) نے کہا ہے کہ ملک میں پولیو وائرس کی موجودگی میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

    نیشنل ای او سی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح 48.1 فیصد سے کم ہو کر 13.1 فیصد رہ گئی ہے جون 2026 کے دوران ملک بھر سے پولیو وائرس کی نگرانی کے لیے 127 ماحولیاتی نمونے حاصل کیے گئے، جن میں سے 117 نمونے پولیو وائرس سے منفی جبکہ 10 نمونوں میں وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔

    اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے دوران مثبت ماحولیاتی نمونوں کی تعداد 369 سے کم ہو کر 100 رہ گئی، جو پولیو کے خلاف جاری مہم کی مؤثریت کی عکاسی کرتی ہے صوبائی سطح پر پنجاب سے حاصل کیے گئے تمام 31 ماحولیاتی نمونے منفی قرار پائے، جبکہ سندھ کے 29 میں سے 28، خیبر پختونخوا کے 34 میں سے 30 اور بلوچستان کے 23 میں سے 18 نمونے بھی پولیو وائرس سے پاک پائے گئے۔

    نیشنل ای او سی کے مطابق سال 2026 کے دوران اب تک ملک میں پولیو کے صرف 3 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے نگرانی اور انسداد پولیو مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔

  • ملک کےمختلف حصوں کےماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق

    ملک کےمختلف حصوں کےماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق

    ملک میں پولیو کے خاتمے کی مسلسل کوششوں کے باوجود مختلف اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میںپولیو وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے-

    نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق مئی 2026 میں ملک کے مختلف اضلاع سے حاصل کیے گئے سیوریج کے نمونوں کے تجزیے میں سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے بعض اضلاع میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے سندھ میں کشمور، قمبر، کراچی ضلع شرقی اور کراچی ضلع غربی کے سیوریج نمونے پولیو وائرس کے لیے مثبت آئے ہیں۔

    این ای او سی کے مطابق بلوچستان میں ڈیرہ بگٹی اور چمن کے ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس پایا گیا ہےاسی طرح خیبرپختونخوا کے پشاور اور بنوں کے سیوریج نمونوں میں بھی پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ پنجاب، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کے تمام ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس سے منفی آئے ہیں۔

  • مچھر کچھ لوگوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ نئی تحقیق میں  حیران کن انکشاف

    مچھر کچھ لوگوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف

    حالیہ سائنسی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ مچھر انسانوں کو منتخب کرنے کے لیے ایک منظم اور حساس حیاتیاتی نظام استعمال کرتے ہیں۔ تحقیقات کے بڑھتے ہوئے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ مچھر پہلے سے زیادہ ’چناؤ کرنے والے‘ ہوتے ہیں وہ انسانوں کو تلاش کرنے کے لیے بو، جسمانی کیمسٹری، حرارت اور بصری اشاروں کا استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنا اگلا شکار منتخب کر سکیں۔

    اکثر یہ منظر عام ہوتا ہے کہ کچھ افراد مچھروں کے حملوں کا زیادہ شکار بنتے ہیں جبکہ دوسرے تقریباً محفوظ رہتے ہیں سائنسدانوں کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ انسانی جسم کی مخصوص بو، سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) اور جلد کی کیمیائی ساخت وہ بنیادی عوامل ہیں جو مچھروں کو اپنے شکار کے انتخاب میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

    مچھر اپنے شکار کو تلاش کرنے کے لیے سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کئی میٹر کی دوری سے سونگھ لیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ لمبے قد کے حامل افراد، حاملہ خواتین، یا وہ لوگ جو زیادہ گہری سانس لیتے ہیں (جیسے ورزش کے بعد)، مچھروں کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں انسانی جلد پر قدرتی طور پر بیکٹیریا کی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جو پسینے کو مختلف کیمیکلز (جیسے لیکٹک ایسڈ اور یورک ایسڈ) میں تبدیل کرتی ہے ہر انسان کے جسم میں ان کیمیکلز کی مقدار مختلف ہوتی ہے، اور جن لوگوں کے جسم سے ان کی بو زیادہ آتی ہے، مچھر ان کا زیادہ رخ کرتے ہیں-

    سائنسی تحقیقی رپورٹس کے مطابق، مچھروں کی ترجیح میں خون کی اقسام بھی شامل ہوتی ہیں ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ O بلڈ گروپ کے حامل افراد مچھروں کا سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں، جبکہ اس کے بعد بلڈ گروپ A والے افراد کو زیادہ کاٹا جاتا ہے مچھر جسمانی حرارت (گرمی) کے بھی بہت حساس ہوتے ہیں زیادہ درجہ حرارت، مشقت یا ورزش کے دوران نکلنے والا پسینہ مچھروں کو فوری طور پر راغب کرتا ہے لیکن سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اصل میں جسم کی قدرتی بو اس سے کہیں زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہےمختلف مطالعات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ الکحل کا استعمال کرنے والوں کا جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، جس سے وہ مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش ہدف بن جاتے ہیں-

    Rockefeller University کی تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ جن افراد کی جلد پر قدرتی طور پر موجود کاربوکسلک ایسڈز زیادہ ہوتے ہیں، وہ مچھروں کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں ہر انسان سانس کے ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے جسے مادہ مچھر بہت دور سے بھی محسوس کر سکتے ہیں وہ افراد جو زیادہ CO₂ خارج کرتے ہیں جیسے بڑے جسم والے بالغ افراد، حاملہ خواتین، یا وہ لوگ جنہوں نے حال ہی میں ورزش کی ہو انہیں زیادہ مچھر کاٹتے ہیں کیونکہ وہ آسانی سے پہچانے جاتے ہیں۔ جسم کی گرمی اور نمی بھی مچھروں کو قریب آ کر شکار تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔

    مچھر ان لوگوں کو زیادہ آسانی سے دیکھ لیتے ہیں جو گہرے رنگ کے کپڑے پہنتے ہیں، جیسے کالا، نیوی بلیو اور سرخ، خاص طور پر جب وہ پہلے ہی CO₂ محسوس کر چکے ہوں۔ اس کے مقابلے میں ہلکے رنگ جیسے سفید اور سبز کم پرکشش ہوتے ہیں۔

    مچھر کے کاٹنے سے بچاؤ کے مؤثر طریقے
    ماہرین صحت کے مطابق مچھر کے کاٹنے سے بچاؤ کے لیے درج ذیل اقدامات مؤثر ہیں:

    DEET، picaridin یا قدرتی تیل پر مشتمل ریپیلنٹس کا استعمال،صبح اور شام کے اوقات میں مکمل بازو اور ٹانگیں ڈھانپنے والے کپڑے پہننا، ہلکے رنگوں کا انتخاب، کھڑا پانی ختم کرنا جہاں مچھر افزائش پاتے ہیں،کھڑکیوں پر جالیاں اور پنکھوں کا استعمال

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مچھر جلد ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ تاہم یہ سمجھنا کہ کچھ لوگ ’مچھر میگنیٹ‘ کیوں ہوتے ہیں، مستقبل میں بہتر ریپیلنٹس اور بیماریوں جیسے ڈینگی، ملیریا، ویسٹ نائل وائرس اور زیکا سے بچاؤ کے نئے طریقوں کی ترقی میں مدد دے سکتا ہے۔

  • اسلام آباد کے 42 نجی اسپتالوں میں مفت علاج ہوگا، وزیر صحت

    وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث سرکاری اسپتالوں پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے-

    بدھ کے روز اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت نے اسلام آباد میں 42 نجی اسپتالوں کو بھی صحت پروگرام کا حصہ بنایا ہے تاکہ سرکاری اسپتالوں پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کیا جا سکے ان نجی اسپتالوں میں علاج کے تمام اخراجات حکومت بردا شت کرے گی یہ اقدام صحت سہولت پروگرام کا حصہ ہے، جسے کئی سال کی معطلی کے بعد دوبارہ فعال کیا گیا ہے عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے-

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث سرکاری اسپتالوں پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مو جو دہ معاشی صورتحال میں اس رفتار کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے اسلام آباد کی آبادی ساڑھے 35 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ راولپنڈی، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں سے آنے وا لے مریضوں کے باعث سرکاری اسپتالوں پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں رش اور سہولیات کے معیار سے متعلق شکایات بڑھ رہی ہیں۔

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صحت کے شعبے پر 1156 ارب روپے خرچ کر رہی ہیں، لیکن مریضوں کے اطمینان کی شرح 10 فیصد سے بھی کم ہے اس کے برعکس ایک حکومتی تحقیق کے مطابق نجی شعبے کے اشتراک سے 210 ارب روپے میں بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں یونیور سل ہیلتھ کوریج مستقبل کی ضرورت ہے اور اگر نجی شعبے کو شامل نہ کیا گیا تو ملک کو طلب پوری کرنے کے لیے 5000 نئے اسپتال تعمیر کرنا ہوں گے۔

    وزیر صحت نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا ناقص علاج فراہم کرنے والے اسپتال کو فوری طور پر پروگرام سے خارج کر دیا جائے گا انہوں نے پروگرام کی بحالی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کو عالمی معیار کے صحت کے نظام کے قریب لے جانے میں مدد دے گا۔

  • طبی معائنے کے بعدصدر ٹرمپ کو مکمل طور پر فٹ قرار

    79 سالہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی معالج نے طبی معائنے کے بعد انہیں بہترین صحت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بطور صدر اپنی تمام ذمہ داریا ں ادا کرنے کے لیے مکمل طور پر فٹ ہیں تاہم انہیں وزن کم کرنے اور جسمانی سرگرمی بڑھانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    امریکی بحریہ کے کیپٹن اور صدارتی معالج شان باربابیلا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی صحت بہترین ہے اور ان کی قلبی، پھیپھڑوں، اعصابی اور مجموعی جسمانی کارکردگی مضبوط ہے،انہوں نے مزید بتایا کہ احتیاطی طبی مشوروں میں متوازن غذا، کم مقدار میں اسپرین کا استعمال، جسمانی سرگرمی میں اضافہ اور وزن میں کمی کی ہدایت شامل ہے۔

    3 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ واشنگٹن کے قریب واقع والٹر ریڈ میڈیکل اسپتال میں منگل کے روز کیے گئے طبی معائنے اور مختلف تشخیصی ٹیسٹوں کی تفصیلات پر مشتمل ہےڈاکٹر باربابیلا نے صدر کو کمانڈر اِن چیف اور سربراہ مملکت کے تمام فرائض انجام دینے کے لیے مکمل طور پر فٹ قرار دیا۔

    اگلے ماہ 80 برس کے ہونے والے ٹرمپ اس وقت 3 ادویات استعمال کر رہے ہی جن میں 2 کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے کے لیے جبکہ ایک دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے اسپرین شامل ہے ٹرمپ کا قد 6 فٹ 3 انچ (191 سینٹی میٹر) ہے جبکہ ان کا وزن 238 پاؤنڈ (108 کلوگرام) ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال اپریل میں ہونے والے طبی معائنے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس وقت ان کا وزن 224 پاؤنڈ تھا،رپورٹ میں ٹرمپ کی ٹانگوں میں معمولی سوجن اور ہاتھوں پر نشانات کا بھی ذکر کیا گیا جنہیں ڈاکٹرز نے معمولی اور بے ضرر قرار دیا۔

    معالج کے مطابق صدر کی قلبی کارکردگی مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے جبکہ جامع اعصابی معائنے میں ان کی ذہنی حالت نارمل پائی گئی جس میں ڈپریشن اور بے چینی کے ٹیسٹ بھی شامل تھے۔

    یہ معائنہ صدر کے دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد تیسرا طبی معائنہ تھا اور یہ ان کی صحت سے متعلق بڑھتی قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آیا جن میں ہاتھوں پر نیل پڑنے اور بعض ملاقاتوں کے دوران غنودگی کے تاثر جیسے معاملات شامل تھے۔

    صدر ٹرمپ نے طبی معائنے کے بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ان کا طبی معائنہ بالکل بہترین رہا۔

  • اسرائیلی وزیراعظم  طبیعت خرابی کے باعث اسپتال منتقل،عبرانی میڈیا کی تصدیق

    اسرائیلی وزیراعظم طبیعت خرابی کے باعث اسپتال منتقل،عبرانی میڈیا کی تصدیق

    اسرائیل کے74 سالہ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو پیر کی شام یروشلم کے ہداسا این کیریم میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    عبرانی زبان کے مقامی میڈیا پر وزیرِ اعظم کی اسپتال منتقلی کی خبریں نشر ہونے کے بعد وزیرِ اعظم کے دفتر نے باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی کہ نیتن یاہو اسپتال میں موجود ہیں اور وہاں ان کے دانتوں کا ایک ایسا علاج کیا جا رہا ہے جس کی تفصیلات فی الحال نہیں بتائی جا سکتیں۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کی صحت کا معاملہ حالیہ دنوں میں عوام اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ ماضی میں ان کی بیماریوں کی معلومات کو عوام سے چھپا نے پر حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس وجہ سے ملک کے اندر ان کی مجموعی صحت کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں جنم لے رہی ہیں۔

    گزشتہ ماہ ہی نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پیغام شیئر کرتے ہوئے پہلی بار یہ انکشاف کیا تھا کہ وہ اسی ہداسا اسپتال میں غدود کے کینسر یعنی پروسٹیٹ کی رسولی کا کامیاب علاج کروا چکے ہیں،اسرائیلانہوں نے اس معلومات کو عوام سے چھپانے کا دفاع کرتے ہوئے اپنے بیان میں لکھا کہ میں نے یہ معلومات عوام کو دینے سے گریز کیا کیونکہ میرا خیال تھا کہ ایران حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل کے خلاف پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے اس معلومات کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔

    نیتن یاہو نے اس وقت یہ تو تسلیم کیا کہ ان کی تابکاری یعنی ریڈی ایشن کے ذریعے تھراپی کی گئی ہے لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ انہیں کینسر کی تشخیص کب ہوئی، ان کا علاج کب شروع ہوا اور یہ کب ختم ہوا۔

    اس اعلان کے ساتھ ہی وزیرِ اعظم کے دفتر نے ان کی سالانہ صحت کی رپورٹ اور کینسر کے علاج سے متعلق کچھ دستاویزات بھی جاری کیں، لیکن ان دستاویزات پر کسی اسپتال کا مونوگرام یا کوئی سرکاری مہر موجود نہیں تھی جس سے ثابت ہو کہ یہ کوئی باقاعدہ طبی بیان ہے یہ رپورٹ محض چند غیر واضح نکات پر مشتمل تھی جس سے یہ بھی پتہ نہیں چل رہا تھا کہ یہ کس سال کی میڈیکل رپورٹ ہے۔

    نیتن یاہو کی صحت کی تاریخ بتاتی ہے کہ جولائی 2023 میں ان کے دل میں پیس میکر یعنی دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرنے والا آلہ لگایا گیا تھا، مارچ 2024 میں ان کا ہرنیا کا آپریشن ہوا اور دسمبر 2024 میں ان کے پروسٹیٹ کو نکالنے کی سرجری بھی کی گئی تھی ماضی میں جب نیتن یاہو کو پیس میکر لگایا گیا تھا، تو اس وقت بھی حکام نے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی تھی۔

    ابتدائی طور پر ان کے دفتر اور شیبا میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹروں نے عوام کو بتایا تھا کہ وزیرِ اعظم کو صرف شدید گرمی اور پانی کی کمی کی وجہ سے نگرانی کے لیے اسپتال رکھا گیا ہے، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ان کے دل کے نیچے ایک مانیٹرنگ آلہ فٹ کیا گیا ہے اس واقعے کے ایک ہفتے بعد اسپتال کے ڈاکٹروں نے اعتراف کیا کہ ہم نے ان کے دل کے ٹیسٹ میں کچھ خرابیاں دیکھی تھیں لیکن اس کے باوجود ہم نے اس وقت عوام کو یہی یقین دلایا کہ وزیرِ اعظم کا دل مکمل طور پر نارمل کام کر رہا ہے۔

  • کانگو میں مہلک ایبولا وائرس کی لہر،65 افراد ہلاک، 246 مشتبہ کیسز رپورٹ

    کانگو میں مہلک ایبولا وائرس کی لہر،65 افراد ہلاک، 246 مشتبہ کیسز رپورٹ

    جمہوریہ کانگو میں مہلک ایبولا وائرس کے پھیلاؤ نے خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے، جہاں اب تک 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں صحت حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وائرس خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے، جس کے پیش نظر ہنگامی اقدامات اور نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق کانگو کے صوبے ایتوری میں ایبولا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی ہے، جہاں اب تک 20 میں سے 13 نمونوں میں وائرس مثبت پایا گیا ہ۔ قومی انسٹی ٹیوٹ فار بایومیڈیکل ریسرچ کے ابتدائی نتائج کے مطابق یہ کیسز تصدیق شدہ ہیں۔

    حکام کے مطابق اب تک تقریباً 246 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں 65 اموات شامل ہیں۔ زیادہ تر کیسز مونگوالو اور رمپارا کے ہیلتھ زونز میں سامنے آئے ہیں، جبکہ چار اموات ایسے مریضوں کی ہیں جن میں لیبارٹری کے ذریعے ایبولا کی تصدیق ہو چکی تھی۔

    صحت حکام نے شہر بونیا میں بھی مشتبہ کیسز کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم ان کی حتمی تصدیق ابھی نہیں ہو سکی، افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن خطے میں کانگو، یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کی حکومتوں کے ساتھ مل کر نگرانی اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے، ادارے نے خبردار کیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں آبادی کی نقل و حرکت کے باعث وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    ایبولا ایک انتہائی خطرناک اور متعدی بیماری ہے جو متاثرہ افراد کے جسمانی رطوبتوں یا متاثرہ ٹشوز کے براہ راست رابطے سے پھیلتی ہےماہرین کے مطابق اس بیماری میں شرح اموات 90 فیصد تک بھی پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس کی علامات میں تیز بخار، کمزوری، سر درد، گلے کی سوزش، قے، اسہال اور بعض صورتوں میں اندرونی یا بیرونی خون بہنا شامل ہے۔

  • بشریٰ بی بی آنکھوں کے طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل

    بشریٰ بی بی آنکھوں کے طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو آنکھوں کے طبی معائنے کے لیے نجی اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی کو سخت سیکیورٹی میں جیل سے اسپتال لایا گیا اور طبی معائنے کے بعد انہیں واپس جیل منتقل کردیا جائے گا بشریٰ بی بی کی آنکھ کی 17 اپریل کو نجی اسپتال میں سرجری ہوئی تھی جس کے بعد بھی انہیں آنکھ میں کچھ تکلیف کی شکایت تھی۔

  • وزیراعظم  کی  ملک بھر میں آٹو ڈسیبل  سرنج کا استعمال یقینی بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم کی ملک بھر میں آٹو ڈسیبل سرنج کا استعمال یقینی بنانے کی ہدایت

    اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وائرل امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پورے ملک میں آٹو ڈسیبل (Auto Disable – AD) سرنج کا استعمال یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وزارت قومی صحت کے امور کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا،وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کی صحت کے لیے بہترین خدمات فراہم کرنا حکومت پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، کسی بھی ایک قیمتی جان کے تحفظ کے لیے ہم ہر حد، ہر رکاوٹ اور ہر قربانی سے گزرنے کو تیار ہیں، تمام سرکاری اسپتالوں میں ہیپا ٹائیٹس اور ایڈز جیسے موذی امراض کے مکمل خاتمے کے لیے تمام مریضوں کی اسکریننگ یقینی بنائی جائے۔

    وزیراعظم نے وزارت قومی صحت کو صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ہیپاٹائیٹس، ایڈز اور دیگر امراض کی بروقت رپورٹنگ کے لیے مربوط نظام تشکیل دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ بروقت شناخت سے ہی ان امراض کا مکمل سدباب ممکن ہو سکے گا، ہیپیٹائٹس کی اسکریننگ، ٹیسٹنگ اور علاج کے لیے وزارت صحت صوبوں کے اشتراک سے ’’وزیراعظم ہیپیٹائٹس کنٹرول پروگرام‘‘ کے نفاذ میں تیزی لائے۔

    وزیراعظم نے وائرل امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پورے ملک میں آٹو ڈسیبل سرنج کا استعمال یقینی بنانے کی ہدا یت کی اور کہا کہ ڈریپ اور دیگر ادارے سرنج کے دوبارہ استعمال کو مکمل طور پر روکنے کو یقینی بنائیں، پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کےلئے پر عزم ہیں،اجلاس میں وزیراعظم کو پولیو، ہیپاٹائیٹس اور ایڈز کے خاتمے کے لیے اقدامات کے حوالے سے جاری اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

    وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ایڈز جیسے مرض کے خاتمے کے لیے ملک کے بڑے اسپتالوں میں 98 اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی سینٹرز قائم ہوچکے ہیں، جسے ایک سال میں 164 تک لے جایا جائے گا، ملک واپس آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کے لیے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر ایڈز کی اسکریننگ کی سہولت شروع ہو چکی ہے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم قومی پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائیٹس سی کا پائلٹ جلد اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں شروع کیا جائے گا، ماحو لیاتی نمونوں کے حالیہ ٹیسٹوں میں پولیو وائرس کی موجودگی میں بتدریج کمی آرہی ہے جو کہ خوش آئند ہے، حالیہ انسداد پولیو مہم میں کوریج 98 فیصد رہی۔

    اجلاس میں وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ، وزیر صحت مصطفیٰ کمال، وزیر مملکت صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ، فوکل پرسن انسداد پولیو عائشہ رضا اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

  • لیبر، ورکرز اور مزدوروں کی فلاح و بہبود ملک کی ترقی کا بنیادی ستون ہے،مریم نواز

    لیبر، ورکرز اور مزدوروں کی فلاح و بہبود ملک کی ترقی کا بنیادی ستون ہے،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کارخانوں، فیکٹریوں اور دفاتر میں سیفٹی آلات اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا حکم دیا ہے جبکہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی بھی ہدایت کی ہے-

    کام کی جگہ پر حفاظت اور صحت کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب نے فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے جسمانی اور ذہنی صحت کے تحفظ پر خصوصی زور دیا کہا کہ لیبر، ورکرز اور مزدوروں کی فلاح و بہبود ملک کی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔

    وزیراعلیٰ نے لیبر ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ورک پلیس پر حفاظتی اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرائیں اور خلاف ورزی کرنے والی فیکٹریوں کے خلاف جرمانے اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائےمحفوظ اور صحت مند کارکن ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد رکھتا ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ پنجاب حکومت ورکرز کے تحفظ کے لیے لیبر قوانین میں ترامیم لا رہی ہے اور سیفٹی کلچر کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، انہوں نے صنعتی شعبے کے مالکان پر زور دیا کہ وہ مزدوروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیں راشن کارڈ کے ذریعے 14 لاکھ محنت کشوں کو ماہانہ مالی معاو نت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ رواں مالی سال کے دوران مزید 50 ہزار مزدوروں کو اس سہولت میں شامل کیا جائے گا ہر ورکر کو محفوظ ورکنگ ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں بین الاقوامی معیار کے سیفٹی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔