Baaghi TV

Tag: صحت

  • اسلام آباد کے 42 نجی اسپتالوں میں مفت علاج ہوگا، وزیر صحت

    وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث سرکاری اسپتالوں پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے-

    بدھ کے روز اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت نے اسلام آباد میں 42 نجی اسپتالوں کو بھی صحت پروگرام کا حصہ بنایا ہے تاکہ سرکاری اسپتالوں پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کیا جا سکے ان نجی اسپتالوں میں علاج کے تمام اخراجات حکومت بردا شت کرے گی یہ اقدام صحت سہولت پروگرام کا حصہ ہے، جسے کئی سال کی معطلی کے بعد دوبارہ فعال کیا گیا ہے عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے-

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث سرکاری اسپتالوں پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مو جو دہ معاشی صورتحال میں اس رفتار کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے اسلام آباد کی آبادی ساڑھے 35 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ راولپنڈی، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر علاقوں سے آنے وا لے مریضوں کے باعث سرکاری اسپتالوں پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں رش اور سہولیات کے معیار سے متعلق شکایات بڑھ رہی ہیں۔

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صحت کے شعبے پر 1156 ارب روپے خرچ کر رہی ہیں، لیکن مریضوں کے اطمینان کی شرح 10 فیصد سے بھی کم ہے اس کے برعکس ایک حکومتی تحقیق کے مطابق نجی شعبے کے اشتراک سے 210 ارب روپے میں بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں یونیور سل ہیلتھ کوریج مستقبل کی ضرورت ہے اور اگر نجی شعبے کو شامل نہ کیا گیا تو ملک کو طلب پوری کرنے کے لیے 5000 نئے اسپتال تعمیر کرنا ہوں گے۔

    وزیر صحت نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا ناقص علاج فراہم کرنے والے اسپتال کو فوری طور پر پروگرام سے خارج کر دیا جائے گا انہوں نے پروگرام کی بحالی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کو عالمی معیار کے صحت کے نظام کے قریب لے جانے میں مدد دے گا۔

  • طبی معائنے کے بعدصدر ٹرمپ کو مکمل طور پر فٹ قرار

    79 سالہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی معالج نے طبی معائنے کے بعد انہیں بہترین صحت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بطور صدر اپنی تمام ذمہ داریا ں ادا کرنے کے لیے مکمل طور پر فٹ ہیں تاہم انہیں وزن کم کرنے اور جسمانی سرگرمی بڑھانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

    امریکی بحریہ کے کیپٹن اور صدارتی معالج شان باربابیلا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ صدر ٹرمپ کی صحت بہترین ہے اور ان کی قلبی، پھیپھڑوں، اعصابی اور مجموعی جسمانی کارکردگی مضبوط ہے،انہوں نے مزید بتایا کہ احتیاطی طبی مشوروں میں متوازن غذا، کم مقدار میں اسپرین کا استعمال، جسمانی سرگرمی میں اضافہ اور وزن میں کمی کی ہدایت شامل ہے۔

    3 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ واشنگٹن کے قریب واقع والٹر ریڈ میڈیکل اسپتال میں منگل کے روز کیے گئے طبی معائنے اور مختلف تشخیصی ٹیسٹوں کی تفصیلات پر مشتمل ہےڈاکٹر باربابیلا نے صدر کو کمانڈر اِن چیف اور سربراہ مملکت کے تمام فرائض انجام دینے کے لیے مکمل طور پر فٹ قرار دیا۔

    اگلے ماہ 80 برس کے ہونے والے ٹرمپ اس وقت 3 ادویات استعمال کر رہے ہی جن میں 2 کولیسٹرول کو قابو میں رکھنے کے لیے جبکہ ایک دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے اسپرین شامل ہے ٹرمپ کا قد 6 فٹ 3 انچ (191 سینٹی میٹر) ہے جبکہ ان کا وزن 238 پاؤنڈ (108 کلوگرام) ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال اپریل میں ہونے والے طبی معائنے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس وقت ان کا وزن 224 پاؤنڈ تھا،رپورٹ میں ٹرمپ کی ٹانگوں میں معمولی سوجن اور ہاتھوں پر نشانات کا بھی ذکر کیا گیا جنہیں ڈاکٹرز نے معمولی اور بے ضرر قرار دیا۔

    معالج کے مطابق صدر کی قلبی کارکردگی مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے جبکہ جامع اعصابی معائنے میں ان کی ذہنی حالت نارمل پائی گئی جس میں ڈپریشن اور بے چینی کے ٹیسٹ بھی شامل تھے۔

    یہ معائنہ صدر کے دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد تیسرا طبی معائنہ تھا اور یہ ان کی صحت سے متعلق بڑھتی قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آیا جن میں ہاتھوں پر نیل پڑنے اور بعض ملاقاتوں کے دوران غنودگی کے تاثر جیسے معاملات شامل تھے۔

    صدر ٹرمپ نے طبی معائنے کے بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ان کا طبی معائنہ بالکل بہترین رہا۔

  • اسرائیلی وزیراعظم  طبیعت خرابی کے باعث اسپتال منتقل،عبرانی میڈیا کی تصدیق

    اسرائیلی وزیراعظم طبیعت خرابی کے باعث اسپتال منتقل،عبرانی میڈیا کی تصدیق

    اسرائیل کے74 سالہ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو پیر کی شام یروشلم کے ہداسا این کیریم میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    عبرانی زبان کے مقامی میڈیا پر وزیرِ اعظم کی اسپتال منتقلی کی خبریں نشر ہونے کے بعد وزیرِ اعظم کے دفتر نے باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی کہ نیتن یاہو اسپتال میں موجود ہیں اور وہاں ان کے دانتوں کا ایک ایسا علاج کیا جا رہا ہے جس کی تفصیلات فی الحال نہیں بتائی جا سکتیں۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کی صحت کا معاملہ حالیہ دنوں میں عوام اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ ماضی میں ان کی بیماریوں کی معلومات کو عوام سے چھپا نے پر حکومت کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس وجہ سے ملک کے اندر ان کی مجموعی صحت کے بارے میں طرح طرح کی افواہیں جنم لے رہی ہیں۔

    گزشتہ ماہ ہی نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پیغام شیئر کرتے ہوئے پہلی بار یہ انکشاف کیا تھا کہ وہ اسی ہداسا اسپتال میں غدود کے کینسر یعنی پروسٹیٹ کی رسولی کا کامیاب علاج کروا چکے ہیں،اسرائیلانہوں نے اس معلومات کو عوام سے چھپانے کا دفاع کرتے ہوئے اپنے بیان میں لکھا کہ میں نے یہ معلومات عوام کو دینے سے گریز کیا کیونکہ میرا خیال تھا کہ ایران حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل کے خلاف پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے اس معلومات کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔

    نیتن یاہو نے اس وقت یہ تو تسلیم کیا کہ ان کی تابکاری یعنی ریڈی ایشن کے ذریعے تھراپی کی گئی ہے لیکن انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ انہیں کینسر کی تشخیص کب ہوئی، ان کا علاج کب شروع ہوا اور یہ کب ختم ہوا۔

    اس اعلان کے ساتھ ہی وزیرِ اعظم کے دفتر نے ان کی سالانہ صحت کی رپورٹ اور کینسر کے علاج سے متعلق کچھ دستاویزات بھی جاری کیں، لیکن ان دستاویزات پر کسی اسپتال کا مونوگرام یا کوئی سرکاری مہر موجود نہیں تھی جس سے ثابت ہو کہ یہ کوئی باقاعدہ طبی بیان ہے یہ رپورٹ محض چند غیر واضح نکات پر مشتمل تھی جس سے یہ بھی پتہ نہیں چل رہا تھا کہ یہ کس سال کی میڈیکل رپورٹ ہے۔

    نیتن یاہو کی صحت کی تاریخ بتاتی ہے کہ جولائی 2023 میں ان کے دل میں پیس میکر یعنی دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرنے والا آلہ لگایا گیا تھا، مارچ 2024 میں ان کا ہرنیا کا آپریشن ہوا اور دسمبر 2024 میں ان کے پروسٹیٹ کو نکالنے کی سرجری بھی کی گئی تھی ماضی میں جب نیتن یاہو کو پیس میکر لگایا گیا تھا، تو اس وقت بھی حکام نے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی تھی۔

    ابتدائی طور پر ان کے دفتر اور شیبا میڈیکل سینٹر کے ڈاکٹروں نے عوام کو بتایا تھا کہ وزیرِ اعظم کو صرف شدید گرمی اور پانی کی کمی کی وجہ سے نگرانی کے لیے اسپتال رکھا گیا ہے، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ان کے دل کے نیچے ایک مانیٹرنگ آلہ فٹ کیا گیا ہے اس واقعے کے ایک ہفتے بعد اسپتال کے ڈاکٹروں نے اعتراف کیا کہ ہم نے ان کے دل کے ٹیسٹ میں کچھ خرابیاں دیکھی تھیں لیکن اس کے باوجود ہم نے اس وقت عوام کو یہی یقین دلایا کہ وزیرِ اعظم کا دل مکمل طور پر نارمل کام کر رہا ہے۔

  • کانگو میں مہلک ایبولا وائرس کی لہر،65 افراد ہلاک، 246 مشتبہ کیسز رپورٹ

    کانگو میں مہلک ایبولا وائرس کی لہر،65 افراد ہلاک، 246 مشتبہ کیسز رپورٹ

    جمہوریہ کانگو میں مہلک ایبولا وائرس کے پھیلاؤ نے خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے، جہاں اب تک 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں صحت حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وائرس خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے، جس کے پیش نظر ہنگامی اقدامات اور نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق کانگو کے صوبے ایتوری میں ایبولا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی ہے، جہاں اب تک 20 میں سے 13 نمونوں میں وائرس مثبت پایا گیا ہ۔ قومی انسٹی ٹیوٹ فار بایومیڈیکل ریسرچ کے ابتدائی نتائج کے مطابق یہ کیسز تصدیق شدہ ہیں۔

    حکام کے مطابق اب تک تقریباً 246 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں 65 اموات شامل ہیں۔ زیادہ تر کیسز مونگوالو اور رمپارا کے ہیلتھ زونز میں سامنے آئے ہیں، جبکہ چار اموات ایسے مریضوں کی ہیں جن میں لیبارٹری کے ذریعے ایبولا کی تصدیق ہو چکی تھی۔

    صحت حکام نے شہر بونیا میں بھی مشتبہ کیسز کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم ان کی حتمی تصدیق ابھی نہیں ہو سکی، افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن خطے میں کانگو، یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کی حکومتوں کے ساتھ مل کر نگرانی اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے، ادارے نے خبردار کیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں آبادی کی نقل و حرکت کے باعث وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    ایبولا ایک انتہائی خطرناک اور متعدی بیماری ہے جو متاثرہ افراد کے جسمانی رطوبتوں یا متاثرہ ٹشوز کے براہ راست رابطے سے پھیلتی ہےماہرین کے مطابق اس بیماری میں شرح اموات 90 فیصد تک بھی پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس کی علامات میں تیز بخار، کمزوری، سر درد، گلے کی سوزش، قے، اسہال اور بعض صورتوں میں اندرونی یا بیرونی خون بہنا شامل ہے۔

  • بشریٰ بی بی آنکھوں کے طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل

    بشریٰ بی بی آنکھوں کے طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو آنکھوں کے طبی معائنے کے لیے نجی اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی کو سخت سیکیورٹی میں جیل سے اسپتال لایا گیا اور طبی معائنے کے بعد انہیں واپس جیل منتقل کردیا جائے گا بشریٰ بی بی کی آنکھ کی 17 اپریل کو نجی اسپتال میں سرجری ہوئی تھی جس کے بعد بھی انہیں آنکھ میں کچھ تکلیف کی شکایت تھی۔

  • وزیراعظم  کی  ملک بھر میں آٹو ڈسیبل  سرنج کا استعمال یقینی بنانے کی ہدایت

    وزیراعظم کی ملک بھر میں آٹو ڈسیبل سرنج کا استعمال یقینی بنانے کی ہدایت

    اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وائرل امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پورے ملک میں آٹو ڈسیبل (Auto Disable – AD) سرنج کا استعمال یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وزارت قومی صحت کے امور کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا،وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کی صحت کے لیے بہترین خدمات فراہم کرنا حکومت پاکستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، کسی بھی ایک قیمتی جان کے تحفظ کے لیے ہم ہر حد، ہر رکاوٹ اور ہر قربانی سے گزرنے کو تیار ہیں، تمام سرکاری اسپتالوں میں ہیپا ٹائیٹس اور ایڈز جیسے موذی امراض کے مکمل خاتمے کے لیے تمام مریضوں کی اسکریننگ یقینی بنائی جائے۔

    وزیراعظم نے وزارت قومی صحت کو صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ہیپاٹائیٹس، ایڈز اور دیگر امراض کی بروقت رپورٹنگ کے لیے مربوط نظام تشکیل دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ بروقت شناخت سے ہی ان امراض کا مکمل سدباب ممکن ہو سکے گا، ہیپیٹائٹس کی اسکریننگ، ٹیسٹنگ اور علاج کے لیے وزارت صحت صوبوں کے اشتراک سے ’’وزیراعظم ہیپیٹائٹس کنٹرول پروگرام‘‘ کے نفاذ میں تیزی لائے۔

    وزیراعظم نے وائرل امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پورے ملک میں آٹو ڈسیبل سرنج کا استعمال یقینی بنانے کی ہدا یت کی اور کہا کہ ڈریپ اور دیگر ادارے سرنج کے دوبارہ استعمال کو مکمل طور پر روکنے کو یقینی بنائیں، پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کےلئے پر عزم ہیں،اجلاس میں وزیراعظم کو پولیو، ہیپاٹائیٹس اور ایڈز کے خاتمے کے لیے اقدامات کے حوالے سے جاری اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

    وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ایڈز جیسے مرض کے خاتمے کے لیے ملک کے بڑے اسپتالوں میں 98 اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی سینٹرز قائم ہوچکے ہیں، جسے ایک سال میں 164 تک لے جایا جائے گا، ملک واپس آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کے لیے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر ایڈز کی اسکریننگ کی سہولت شروع ہو چکی ہے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم قومی پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائیٹس سی کا پائلٹ جلد اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں شروع کیا جائے گا، ماحو لیاتی نمونوں کے حالیہ ٹیسٹوں میں پولیو وائرس کی موجودگی میں بتدریج کمی آرہی ہے جو کہ خوش آئند ہے، حالیہ انسداد پولیو مہم میں کوریج 98 فیصد رہی۔

    اجلاس میں وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ، وزیر صحت مصطفیٰ کمال، وزیر مملکت صحت ڈاکٹر مختار بھرتھ، فوکل پرسن انسداد پولیو عائشہ رضا اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

  • لیبر، ورکرز اور مزدوروں کی فلاح و بہبود ملک کی ترقی کا بنیادی ستون ہے،مریم نواز

    لیبر، ورکرز اور مزدوروں کی فلاح و بہبود ملک کی ترقی کا بنیادی ستون ہے،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کارخانوں، فیکٹریوں اور دفاتر میں سیفٹی آلات اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا حکم دیا ہے جبکہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی بھی ہدایت کی ہے-

    کام کی جگہ پر حفاظت اور صحت کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب نے فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے جسمانی اور ذہنی صحت کے تحفظ پر خصوصی زور دیا کہا کہ لیبر، ورکرز اور مزدوروں کی فلاح و بہبود ملک کی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔

    وزیراعلیٰ نے لیبر ڈیپارٹمنٹ اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ ورک پلیس پر حفاظتی اصولوں پر سختی سے عملدرآمد کرائیں اور خلاف ورزی کرنے والی فیکٹریوں کے خلاف جرمانے اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائےمحفوظ اور صحت مند کارکن ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد رکھتا ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ پنجاب حکومت ورکرز کے تحفظ کے لیے لیبر قوانین میں ترامیم لا رہی ہے اور سیفٹی کلچر کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، انہوں نے صنعتی شعبے کے مالکان پر زور دیا کہ وہ مزدوروں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیں راشن کارڈ کے ذریعے 14 لاکھ محنت کشوں کو ماہانہ مالی معاو نت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ رواں مالی سال کے دوران مزید 50 ہزار مزدوروں کو اس سہولت میں شامل کیا جائے گا ہر ورکر کو محفوظ ورکنگ ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں بین الاقوامی معیار کے سیفٹی قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

  • ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے،مصطفیٰ کمال

    ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے،مصطفیٰ کمال

    فاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے اور اس کی روک تھام کے لیے گلوبل فنڈ امداد فراہم کرتا ہے-

    ایچ آئی وی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایچ آئی وی لاعلاج مرض نہیں ہے اور اس کی روک تھام کے لیے گلوبل فنڈ امداد فراہم کرتا ہے 2024 سے 2026 کے لیے فنڈ 65 ملین ڈالر مختص تھا، جس کی مدت جون 2026 میں ختم ہو جائے گی،65 ملین ڈالر میں سے حکومت پاکستان کو 3.9 ملین ڈالر دیے گئے، جبکہ باقی رقم نئی زندگی اور یو این ڈی پی کو فراہم کی گئی۔

    مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 84 ہزار ہے، جن میں سے 61 ہزار مریضوں کا علاج جاری ہے جبکہ 24 ہزار مریض لاپتا ہیں 2025 میں ملک میں اے آر ٹی سینٹرز کی تعداد 97 ہو گئی، جبکہ 2020 تک پورے ملک میں صرف 49 اے آر ٹی سینٹرز تھے تونسہ میں ایچ آئی وی کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، جو واقعہ رپورٹ ہوا وہ 2024 کا ہے اسلام آباد میں اس وقت ایچ آئی وی کے کل 618 رجسٹرڈ کیسز ہیں، جن میں سے 210 کیسز اسلام آباد کے ہیں، جبکہ باقی 408 کیسز راولپنڈی اور دیگر علاقوں کے رجسٹرڈ ہیں،ایچ آئی وی کی کوئی دوا مارکیٹ میں دستیاب نہیں، یہ ادویات صرف سرکاری اداروں سے فراہم کی جاتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معرکۂ حق میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، جس کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کے وقار میں مزید اضافہ ہوا ہے، 100 سال کی سفارتکاری میں بھی ایسی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی تھی،پاکستان نے تیسری جنگ عظیم رکوانے کے لیے بھی اہم کردار ادا کیا، جبکہ ملک کی بہتری کے لیے کیے گئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں-

  • صحت سے متعلق افواہیں،فلپائنی صدر نے صحافیوں کے سامنے جمپنگ جیکس لگادیئے

    صحت سے متعلق افواہیں،فلپائنی صدر نے صحافیوں کے سامنے جمپنگ جیکس لگادیئے

    منیلا: فلپائن کے صدر مارکوس نے اپنی صحت سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے صحافیوں کے سامنے جمپنگ جیکس لگادیئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 68 سالہ صدر نے پریس کانفرنس میں جمپنگ جیکس لگا کر دکھائے اور اپنے دفتر کے باہر صحافیوں کی موجودگی میں ہلکی دوڑ بھی لگائی انہوں نے کہا کہ جو لوگ ان کی بیماری سے متعلق دعوے کر رہے ہیں وہ آ کر ان کے ساتھ ورزش کریں ان کے بیمار یا مفلوج ہونے کی خبریں بے بنیاد ہیں انہوں نے صحافیوں کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے ساتھ جم جا کر دیکھیں کہ کون بہتر انداز میں ورزش کر سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ جنوری میں کچھ عرصہ عوامی نظروں سے اوجھل رہنے کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی صحت اور حتیٰ کہ وفات سے متعلق افواہیں گردش کر رہی تھیں،بعد ازاں صدر نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا تھا کہ انہیں پیٹ کی تکلیف کے باعث اسپتال جانا پڑا، جس کی وجہ انہوں نے ذہنی دباؤ اور عمر کو قرار دیا۔

  • تونسہ : بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خوفناک اضافہ،سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

    تونسہ : بچوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں خوفناک اضافہ،سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف

    تونسہ میں بچوں میں ایچ آئی وی وبا کے پھیلاؤ سے جڑے ہسپتال میں خفیہ فلمنگ کے ذریعے سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف سامنے آ یا ہے-

    بی بی سی آئی کی تحقیق کے مطابق نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان تونسہ میں 331 بچوں میں ایچ آئی وی پازیٹیو کی تصدیق ہوئی ، 2024 کے اواخر میں جب ایک نجی کلینک کے ڈاکٹر نے تونسہ کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے جوڑا تو مقامی حکام نے سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے مارچ 2025 میں ہسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ کو معطل کر دیا، لیکن بی بی سی آئی کی حالیہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی ماہ بعد بھی استعمال شدہ انجیکشن لگائے جانے کا خطرناک رجحان جاری ہے۔

    رپورٹ کے مطابق 2025 کے اواخر میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ میں 32 گھنٹوں کی خفیہ فلمنگ کے دوران دیکھا گیا کہ دس مختلف مواقع پر استعمال شدوں سرنجوں میں دوائی بھری گئی، جس سے ممکنہ طور پر انجیکشنز میں موجود دوا خراب ہوئی ہو گی ان میں سے چار مواقع پر اسی دوائی کی بوتل سے ایک مختلف یا دوسرے بچے کو دوا دی گئی یہ تو نہیں جانتے کہ اُن میں سے کوئی بچہ ایچ آئی وی پازیٹیو تھا یا نہیں لیکن اس طرح سے دوبارہ استعمال واضح طور پر وائرل ٹرانسمیشن کا خطرہ رکھتا ہے۔

    ڈاکٹر الطاف احمد پاکستان کے ممتاز کنسلٹنٹ مائیکروبائیولوجسٹ اور انفیکشس ڈیزیز کے ماہر نے خفیہ فوٹیج دیکھتے ہوئے کہا کہ اگر انھوں نے ٹیکے کی سوئی بدل کر نئی بھی لگا دی ہے تو ٹیکے کے پچھلے حصے، جسے ہم سرنج باڈی کہتے ہیں، میں وائرس ہو سکتا ہے جو نئی سوئی کے ذریعے ٹرانسفر ہو سکتا ہے۔‘

    ہسپتال کی دیواروں پر محفوظ انجیکشن لگانے کے طریقہ کار کی تصاویر والے پوسٹرز کے باوجود ہم نے سٹاف، بشمول ایک ڈاکٹر، کو 66 مرتبہ صاف دستانے پہنے بغیر مریضوں کو ٹیکا لگاتے ہوئے فلمایا اور ایک دوسرے ماہر نے بی بی سی آئی کو بتایا کہ یہ پاکستان میں مجموعی طور پر انفیکشن کنٹرول ٹریننگ کی کمزور یوں کو ظاہر کرتا ہے۔

    بی بی سی آئی رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک نرس کو بھی دیکھا جو میڈیکل ویسٹ باکس یعنی طبی فضلے سے بھرے ڈبے میں بنا صاف دستانے پہنے ہاتھ پھیر رہی تھیں ڈاکٹر احمد کہتے ہیں کہ ’وہ دوائی انجیکٹ کرنے کے ہر اصول کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔‘

    تاہم جب یہی انڈر کور فوٹیج تونسہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے نئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر قاسم بزدار کو دکھائی تو انھوں نے اسے درست ماننے سے انکار کر دیا انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ فوٹیج یا تو ان کی تعیناتی سے پہلے بنی یا پھر یہ فوٹیج ’سٹیج بھی ہو سکتی ہے،انھوں نے اصرار کیا کہ ان کا ہسپتال بچوں کے لیے محفوظ ہے۔

    ڈاکٹر گل قیصرانی ایک مقامی نجی کلینک میں کام کرتے ہیں ڈاکٹر قیصرانی نے سب سے پہلے 2024 کے اواخر میں یہ دیکھا کہ اُن کے کلینک میں آنے والے ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو ایچ آئی وی پازیٹیو ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے جن بچوں میں یہ تشخیص کی ان میں سے 65 سے 70 کا علاج تونسہ تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ہوا تھا ایک بچی کی والدہ کے مطابق اُن کی بیٹی کو اُسی سرنج سے ٹیکا لگایا گیا جس سے اُس کی ایک اور کزن کو بھی لگایا گیا تھا اورجو ایچ آئی وی پازیٹیو ہے، اور پھر وہی سرنج کئی اور بچوں پر بھی استعمال ہوئی ایک بچے کے والد کے مطابق جب انھوں نے استعمال شدہ سرنج لگانے پر احتجاج کیا تو نرسز نے ان کا احتجاج نظرانداز کر دیا۔

    بی بی سی آئی نے پنجاب ایڈز سکریننگ پروگرام، نجی کلینکس اور پولیس کی جانب سے لیک ہونے والے اعداد و شمار کی مدد سے ایسے 331 بچوں کی شناخت کی جو تونسہ میں نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان ایچ آئی وی پازیٹیو ہوئے 97 بچوں میں سے صرف چار کی مائیں ایچ آئی وی پازیٹیو تھیں اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ان میں سے بہت کم بچوں کو اپنی والدہ سے یہ مرض لگا، یعنی ماں سے بچے میں مرض کی ٹرانسمیشن ہوئی-

    صوبائی ایڈز سکریننگ پروگرام کے اعدادوشمار کے مطابق 331 بچوں میں سے نصف کو استعمال شدہ سوئی کی وجہ سے ایچ آئی وی لگا۔ باقی کے بارے میں ان اعداد و شمار میں نہیں بتایا گیا کہ انھیں ایچ آئی وی کیسے ہوا ہو گامارچ 2025 میں پنجاب حکومت نے 106 کیسوں کا حوالہ دیتے ہوئے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر طیب فاروق چانڈیو کو معطل کر دیا تاہم معطلی کی تین ماہ کے اندر ہی وہ تونسہ کی مضافات میں ایک دیہی ہیلتھ سینٹر میں بطور سینیئر میڈیکل افسر ایک بار پھر بچوں کا علاج کر رہے تھے-