Baaghi TV

Tag: صحت

  • بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ

    بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ

    اللہ کی عظیم نعمتوں اور معدنیات سے مالا مال مگر حکمرانوں کی عدم توجہی کا شکار ہمارا بلوچستان پاکستان کا ہی صوبہ ہے. دوران سفر میں نے کراچی سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے فورٹ منرو تک بلوچستان کے بیسیوں شہر دیکھے، سنگلاخ چٹانیں، خشک پہاڑ، میلوں تلک پھیلی سطح مرتفع، کہیں کہیں فروٹس کے باغات اور درختوں کے جھنڈ، بکریوں کے ریوڑ اور خوبصورت بچے دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں مبتلا کردیتے ہیں.


    لیکن یہ سحر بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے کہ جب بیسیوں میل تک آپ کو پانی میسر نہ آئے، جب وہاں سے نکلنے والی بیش قیمت گیس تو لاہور، پشاور تک مل جائے ،اس کی رائلٹی سرداروں کی جیب میں چلی جائے اور سوئی کا باسی پنجاب ، سندھ اور کے پی کے میں جاتی گیس کے پائپ کے اطراف سے لکڑیاں اور گھاس پھونس اکٹھی کرکے اپنی پیٹھ پر لادے گھر جائے اور اس سے چولہا جلائے، جب سفر کرتے ہوئے سینکڑوں کلومیٹرز تک آپ کو موبائل سگنلز نہ ملیں.

    عورت اور اسلامی معاشرہ… محمد عبداللہ

    ہم گرائمرز، ایچی سن، کیڈٹس کالجز اور اسکول کے رسیا لوگوں کا بلوچستان کی خوبصورتی کا سحر اس وقت دھڑام سے گرتا ہے جب بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں خیمہ اور ٹاٹ اسکول بھی میسر نہ ہوں. جہاں معمولی بیماریوں سے لے کر سنگین بیماریوں تک کے علاج پر اس لیے نہ توجہ دی جائے کہ بوڑھی ماں اور باپ کی دو چار سال مزید عمر کے لیے کون سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرکے کوئٹہ اور کراچی جائے. مجھے کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں ایک بھی شہر پنجاب کے شہروں کے ہم پلہ نظر نہ آئے نہ سہولیات کے اعتبار سے اور نہ بلند و بالا بلڈنگز کے اعتبار سے. ہاں سرداروں کے وسیع و عریض محل، نت نئی گاڑیوں، جدید اسلحہ سے لیس محافظوں کی فوج ظفر موج آپ کو بتائے گی کہ بلوچستان کے مسائل کے پیچھے کیا عوامل کارفرماء ہیں.

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    میں نے بلوچستان کا بڑا مہذب نقشہ آپ کے سامنے رکھا ہے کہ مجھے الفاظ نہیں میسر کہ بلوچستان کی محرومیوں کی جو صورتحال جو آنکھوں نے دیکھی اس کو بیان کروں.

    تعلیم و صحت وغیرہ بنیادی انسانی حقوق ہیں مگر بلوچستان کے زیادہ تر لوگوں کو یہ انسانی حقوق میسر نہیں ہیں. ہاں میسر ہے تو وہ دھماکے ہیں، سازشیں ہیں، کلبھوشنز ہیں، براہمداغ و ماما قدیر ہیں، سرمچار ہیں، فراری ہیں اور ان سب کی وجہ سے فوجی آپریشنز میسر ہیں.
    جب صادق سنجرانی، قاسم سوری، جام کمال، طلال و سرفراز بگٹی اور اختر مینگل جیسے لوگ جو پاکستان کے اعلیٰ ترین عہدوں اور پارلیمنٹ کی کرسیوں پر براجمان ہیں وہ بلوچستان کے جائز حقوق کی آئینی اور قانونی جنگ نہیں لڑیں گے اور بلوچستان کی دگردوں صورتحال پر توجہ نہیں دیں گے تو پھر براہمداغ بگٹی وغیرہ جیسے راتب اغیار پر دم ہلانے والے محرومیوں کے ستائے بلوچوں کو استعمال کریں گے، پھر کلبھوشن دہشت گردی کے نیٹ ورک قائم کریں گے. پھر محمود اچکزئی جیسے لوگ این ڈی ایس کے آلہ کار بنیں گے.

    پاکستان کے دیگر صوبوں اور ہر طرح کی سہولیات سے لیس شہروں میں بیٹھ کر یہ بات کرنا تو بہت آسان ہے کہ بلوچستان کی بات نہ کرنا، وہاں کے حقوق پر آواز نہ اٹھانا کہیں دشمن تمہارے ان مطالبات کو غلط استعمال نہ کرلے تو جناب والا پھر پنجاب اور کے پی کے اور سندھ کے مسائل اور جرائم پر بات کرنے اور سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے کو بھی تو دشمن غلط مقصد اور بدنامی کے لیے استعمال کر سکتا ہے لیکن ہم وہ متواتر کیے چلے جاتے ہیں.
    ہمیں اور نہ ہی بلوچستان کے لوگوں کو اپنی افواج اور دیگر سکیورٹی کے اداروں سے کوئی گلہ یا شکوہ ہے کیونکہ یہ ادارے تو ان کو سازشوں سے بچاتے ہیں، حفاظت کرتے ہیں اور آفات اور مسائل میں حتیٰ المقدور بلوچستان کے غریب باسیوں کی مدد بھی کرتے ہیں.

    ہمیں شکوہ ہے تو سب سے پہلے بلوچستان کے سرداروں سے ہے، پاکستان کے ستر سال کے حکمرانوں سے ہے، موجودہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں پر ہے جو بلوچستان کے مسائل و معاملات کو پاکستان کا مسئلہ نہیں سمجھتے.
    اگر آپ واقعی بلوچستان میں امن لانا چاہتے ہیں اور دشمن کی سازشوں کو پنپنے کا موقع نہیں دینا چاہتے، کلبھوشنوں اور براہمداغ جیسوں کے نیٹورکس قائم نہیں ہونے دینا چاہتے تو بلوچستان میں تعلیم و صحت اور روزگار پر ترجیحی بنیادوں پر کام کیجیئے کہ بلوچستان بھی پاکستان ہے.

    Muhammad Abdullah
  • زندگی کی قدر کریں

    زندگی کی قدر کریں

    زندگی کی قدر وہی کرتے ہیں جنہوں نے موت کو قریب سے دیکھا ہو ۔ موت کو انتہائی قریب سے دیکھنے والوں میں ایک 60 سالہ اسکوبا ڈائیور استاد جان لو بھی ہے جو جنوبی چین (ساؤتھ چائنا) کے سمندر میں تائیومان جزیرے کے قریب اسکوبا ڈائیونگ کی تیاری کررہے تھے کہ اچانک اس کی کشتی الٹ گئی ۔ اس 60 سالہ چینی شخص نے جان بچانے والا ربڑ کا ٹائر نما لائف بواٸے نکال کر تیزی سے ساحل کی طرف آنے کی کوشش کی ۔ لیکن تیز لہروں نے اس جان لو نامی شخص کو ساحل سے بہت دور کر دیا ۔ یہاں تک کہ ساحل جان لو کی نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔ جان لو کے پاس کھانے پینے کو کچھ بھی موجود نہیں تھا ۔ جب جان لو کے پاس کوئی چارہ نہ رہا تو اس نے اپنے لائف بوائے ٹائر سے باتیں کرنا شروع کر دی ۔
    جان لو چار دن تک مسلسل کھارے پانی میں رہا جس کی وجہ سے جان لو کی جلد اتنی خراب ہوچکی تھی کہ جلد کے بعض حصے جسم سے الگ ہو رہے تھے ۔ کپڑوں کی رگڑ اس جلد کو مزید نقصان پہنچا رہی تھی ۔بالآخر چوتھی رات جان لو کی آزمائش کچھ کم ہوئی جب ایک بحری جہاز جان لو کے قریب سے گزرا اور اس نے جان لو کو پانی سے نکال کر اس کی جان بچائی

  • تخم بلنگوا، بڑھاپا بھگائیں، صحت بھی پائیں ۔۔۔ محمد نعیم شہزاد

    تخم بلنگوا، بڑھاپا بھگائیں، صحت بھی پائیں ۔۔۔ محمد نعیم شہزاد

    طاقت، صحت اور توانائی ہر ایک کے لیے پسندیدہ ہیں اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ بے پناہ طاقت و قوت حاصل کرے۔ اس کے برعکس بڑھاپا ایک غیر پسندیدہ چیز ہے اور ہر کوئی جوان نظر آنا چاہتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار انعامات سے نوازا ہے مگر اکثر ہم ان قیمتی انعامات کی بے قدری کرتے ہیں۔ حالانکہ ان سے مستفید ہو کر ہم مہنگے علاج معالجے سے بھی بچ سکتے ہیں اور صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔

    تخمِ بالنگوا جسے عام زبان میں تخم ملنگا بھی کہا جاتا ہے ایک نایاب  قدرتی نعمت ہے جسے عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے اور کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ حالانکہ تخم بلنگوا صحت کا ایک خزانہ اور طبی فوائد سے بھرپور چیز ہے۔

    اس کا اکثر استعمال تو مشروبات میں ہی نظر آتا ہے مگر یہ اس کے علاوہ بھی بہت سی خصوصیات کا حامل ہے۔ ازطق سپاہی جنگ سے پہلے اسے کھاتے تھے کیونکہ یہ توانائی سے بھرپور ہوتا ہے۔ اسی بنا پر تخمِ بلنگوا کو دوڑنے والے کی غذا بھی کہا جاتا ہے۔

    تخمِ بلنگوا کی 28 گرام مقدار میں 137 کیلوریز، 12 گرام کاربوہائیڈریٹس، ساڑھے چار گرام چکنائی، ساڑھے دس گرام فائبر، صفر اعشاریہ چھ ملی گرام مینگنیز، 265 ملی گرام فاسفورس، 177 ملی گرام کیلشیئم کے علاوہ وٹامن، معدنیات، نیاسین، آیوڈین اور تھایامائین موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تخمِ بلنگوا میں کئی طرح کے اینٹی آکسیڈنٹس بھی پائے جاتے ہیں۔

    اب تخمِ بلنگوا کے بعض نایاب فوائد کا ذکر کیے دیتے ہیں۔

    جلد نکھارے اور بڑھاپا بھگائے

    میکسکو میں تخمِ بلنگوا پر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں قدرتی فینولِک (اینٹی آکسیڈنٹ) کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہ جسم میں فری ریڈیکل بننے کے عمل کو روکتا ہے۔ اس طرح ایک جانب تو یہ جلد کے لیے انتہائی مفید ہے تو دوسری جانب بڑھاپے کو بھی روکتا ہے۔

    ہاضمے کے لیے مفید

    فائبر کی بلند مقدار کی وجہ سے تخمِ بلنگوا ہاضمے کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ السی اور تخمِ بلنگوا خون میں انسولین کو برقرار رکھتے ہیں اور کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کو بھی لگام دیتے ہیں۔ طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فائبر پانی جذب کرکے پیٹ بھرنے کا احساس دلاتا ہے اور وزن گھٹانے کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس کا استعمال معدے کے لیے مفید بیکٹیریا کی مقدار بڑھاتا ہے۔

    قلب کو صحتمند رکھے

    تخمِ بلنگوا کولیسٹرول گھٹاتا ہے، بلڈ پریشر معمول پر رکھتا ہے اور دل کے لیے بہت مفید ہے۔ اس کا باقاعدہ استعمال خون کی شریانوں کی تنگی روکتا ہے اور انہیں لچکدار بناتا ہے۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی وجہ سے یہ دل کا ایک اہم محافظ بیج ہے۔

    ذیابیطس میں مفید

    تخمِ بلنگوا میں الفا لائنولک ایسڈ اور فائبر کی وجہ سے خون میں چربی نہیں بنتی اور نہ ہی انسولین سے مزاحمت پیدا ہوتی ہے۔ یہ دو اہم عوامل ہیں جو آگے چل کر ذیابیطس کا خطرہ کم کرنے کی وجہ بنتے ہیں۔ اسی لیے تخم بلنگوا کا باقاعدہ استعمال ذیابیطس کو روکنے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔

    توانائی بڑھائے

    جرنل آف اسٹرینتھ اینڈ کنڈشننگ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق تخمِ بلنگوا ڈیڑھ گھنٹے تک توانائی بڑھاتا ہے اور ورزش کرنے والوں کے لیے بہت مفید ہے۔ یہ جسم میں استحالہ (میٹابولزم) تیز کرکے چکنائی کم کرتا ہے اور موٹاپے سےبھی بچاتا ہے۔

    ہڈیوں کی مضبوطی

    ایک اونس تخمِ بلنگوا میں روزمرہ ضرورت کی 18 فیصد کیلشیئم پائی جاتی ہے جو ہڈیوں کے وزن اور مضبوطی کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس میں موجود بورون نامی عنصر مینگنیز اور فاسفورس جذب کرنے میں مدد دیتا ہے اور یوں ہڈیاں اور پٹھے مضبوط رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ زنک اور دیگر اجزا منہ اور دانتوں کی صحت برقرار رکھتے ہیں اور قوت مدافعت بھی بڑھاتے ہیں۔

    موسم گرما میں بآسانی اسے مشروبات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تو اگر اس قدر فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ابھی سے اسے اپنی غذا کا حصہ بنائیں اور تندرستی و توانائی کے حصول کے ساتھ بڑھاپے کو بھی بھگائیں۔

  • قبض، علامات اور علاج ۔۔۔ حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    قبض، علامات اور علاج ۔۔۔ حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    قبض (Constipation) ، حصر

    تعریف:

    قبض امعاء غلط کے فعل کی کمی وکوتاہی کا نام ہے.
    قبض طبی اصطلاح میں حصر کو کہتے ہیں.
    اس حالت میں آنتیں براز کو گرفت میں لے لیتی ہیں.

    اقسام:
    1-دائمی قبض
    2-عارضی یا اتفاقی قبض

    دائمی قبض:

    کسی آدمی کو جب مرض قبض ہوتا ہے تو وہ اس کی طرف توجہ نہیں دیتا یعنی اس کا علاج معالجہ نہیں کرتا تو یہ مرض پرانا ہونے پر دائمی ہو جاتا ہے اور یہ زیادہ کھانے، بیٹھے رہنے اور گرم مصالحہ کے زیادہ استعمال وغیرہ سے ہوتی ہے۔

    عارضی یا اتفاقی قبض:

    قبض کی یہ حالت عارضی یا اتفاقی ہوتی ہے یعنی کوئی ایسی چیز کھائی جائے جس سے یہ علامت ہو جاتی ہے.
    یہ بعض اوقات خود بخود رفع ہو جاتی ہے یا فوراً تدارک کرنے سے ختم ہو جاتی ہے.

    اسباب:

    کبھی بلغم کی کثرت یا دیگر عوارض سے انتڑیوں کی قوت دافع کمزور ہو جاتی ہے یا پھر کبھی ثقیل دیر ہضم غذاؤں کے کثرت سے استعمال کرنے سے سدے بن جاتے ہیں جن کا اخراج پھر مشکل ہو جاتا ہے.
    یا اجابت کو روکنے سے بھی یہ مرض پیدا ہو جاتا ہے.

    علامات:

    براز مشکل سے خارج ہوتا ہے.
    رفع حاجت کے وقت زیادہ تکلیف اور دیر سے نکلے گا.
    سر میں درد ہوگا.
    دل تیز دھڑکے گا.
    جب براز دیر تک آنتوں میں رکا رہے تو فضلہ تعفن پا کر شکم میں ریاح ونفخ پیدا کر دیتا ہے.

    علاج:

    قرص ملین
    حب تنکار
    روغن بادام وغیرہ