Baaghi TV

Tag: صحت

  • وٹامن سپلیمنٹس پھیپھڑوں کےکینسربڑھنےاورپھیلنےکاسبب بن سکتا ہے،تحقیق

    وٹامن سپلیمنٹس پھیپھڑوں کےکینسربڑھنےاورپھیلنےکاسبب بن سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وٹامن سی اور ای کی گولیاں لینا پھیپھڑوں کے کینسر بڑھنے اور پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: چوہوں میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، وٹامن سی اور ای جیسے اینٹی آکسیڈنٹ سپلیمنٹس لینے سے پھیپھڑوں کے کینسر بڑے ہو سکتے ہیں اور ٹیومر کے اندر خون کی نالیوں کی تشکیل کو تحریک دے کر پھیل سکتے ہیں سوئیڈش سائنس دانوں کے مطابق وہ افراد جو کسی بھی قسم کے کینسر میں مبتلا ہیں ان کو اپنی میں غذا میں کسی قسم کی تبدیلی سے گریز کرنا چاہیئے۔

    محققین کے مطابق وٹامن سی اور ای سے بھرپور صحت مند غذا کے علاوہ سپلیمنٹ کا لینا کینسر کا مرض پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے جرنل آف کلینکل انویسٹیگیشن میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے کینسر میں مبتلا چوہوں کو اضافی وٹامن دیے جو وہ اپنی غذا میں پہلے ہی حاصل کر رہے تھے چوہوں میں جتنی زیادہ وٹامن کی مقدار تھی، کینسر کی رسولیوں میں اتنی زیادہ خون کی نئی شریانیں بن رہیں تھیں جو ممکنہ طور پر بیماری کےبڑھنے اور پھیلنےکا سبب ہوسکتی ہے،انہوں نے چوہوں کے پانی کو وٹامن سی کے ساتھ ملایا، جو جانور قدرتی طور پر پیدا کرتے ہیں، اور وٹامن ای اور این ایسٹیل سسٹین، جو وہ اپنی خوراک سے حاصل کرتے ہیں۔

    فرانس میں ڈسپوزایبل ویپس پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

    کیرولِنسکااِنسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف ڈاکٹر مارٹن برگو کا کہنا تھا کہ آج کل بہت سے لوگ جو صحت مند خوراک لیتے ہیں، کچھ سپلیمنٹ کھاتے ہیں اور پھر شاید اسموتھی بھی پیتے ہیں اگر یہ سب بطور غذا لیا جائے تو آپ کی وٹامن کی کھپت اتنی ہوتی ہے جس کے متعلق تحقیق میں بتایا گیا ہے وٹامن انسانی صحت کے لیے انتہائی اہم شے ہے اگر غذاؤں سے تمام اینٹی آکسیڈنٹ نکال لیں آپ متعدد وجوہات سے بیمار ہوسکتے ہیں جیسے کہ وٹامن کی کمی وغیرہ اور یہ کینسر پر اثر ڈالتا ہے۔

    ایک محقق نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس حالت میں مبتلا افراد کو اپنی خوراک میں ان اینٹی آکسیڈنٹ سے بچنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، لیکن سپلیمنٹس کے ذریعے ضرورت سے زیادہ حاصل کرنا نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

    سلطان النیادی کا خلا میں اپنا چھ ماہ کا تاریخی مشن مکمل

  • اسلام آباد؛ ڈینگی کے مریضوں میں اضافہ

    اسلام آباد؛ ڈینگی کے مریضوں میں اضافہ

    ڈسٹرکٹ ہیڈ آفیسراسلام آباد ن اسلام آباد میں ڈینگی سےمتاثرہ مریضوں کی تعدادمیں اضافے کی رپورٹ جاری کر دی ہے جبکہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ24 گھنٹوں میں مزید 17 افراد میں ڈینگی وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور ترنول میں سب سے زیادہ متاثر ابھی تک 28 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

    علاوہ ازیں کورال سے 10، ترلائی سے 7 ڈینگی کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ دیہی علاقوں سے 24 گھنٹوں میں 15 کیسز سامنےآئے،تاہم کل تعداد 56 ہوگئی تاہم ڈی ایچ او کے مطابق شہری علاقوں سے 2 کیسزرپورٹ ہوئے ہیں اور کل تعداد 29 ہوگئی ہے۔

    جبکہ رواں سیزن وفاق سے 85 افراد ڈینگی سے متاثر ہو چکے ہیں اور پمزمیں 2، کیپنیٹل اسپتال میں ایک اورنجی اسپتالوں میں 40 مریض زیرعلاج ہیں۔ دوسری جانب پنجاب میں 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی کے 67 نئے مریض رپورٹ ہوئے تھے جبکہ اس حوالے سے صوبائی سیکریٹری صحت علی جان خان نے کہا تھا کہ لاہور میں ڈینگی کے 28، راولپنڈی میں 15 اور فیصل آباد میں 6 مریض رپورٹ ہوئے۔

    سیکریٹری صحت نے بتایا تھا کہ ملتان اور شیخوپورہ میں ڈینگی کے 3، 3 جبکہ بہاولنگر میں دو ، گوجرانولہ، ننکانہ، گجرات اور بہاولپور میں ایک، ایک کیس رپورٹ ہوا ہے اور انہوں نے کہا تھا کہ ٹوبہ، نارووال، مظفر گڑھ، چکوال، رحیم یار خان اور خوشاب میں ڈینگی کا ایک ایک مریض رپورٹ ہوا ہے، پنجاب بھر میں رواں سال اب تک ڈینگی کے 1042 کنفرم مریض رپورٹ ہو چکے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال
    ملک میں روپے کے مقابلے امریکی کرنسی کی قیمت میں بھی اضافے کا سلسلہ جاری مہنگائی کے باعث نوجوانوں کی خودکشی، ایک جاں بحق دوسرا شدید زخمی

    علی جان خان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے اسپتالوں میں ڈینگی کے 61 مریض زیر علاج ہیں، رواں سال پنجاب کا کوئی شہری ڈینگی کی وجہ سے جاں بحق نہیں ہوا ادھر جانب ڈینگی ایکسپرٹ کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور کے نجی اسپتال میں 50 سالہ الیاس ڈینگی سے جاں بحق نہیں ہوا، کلینیکل آڈٹ سے ثابت ہوا ہے کہ الیاس کی وفات متعدد اعضا ناکارہ ہونے کی وجہ سے ہوئی۔

  • مٹی کے گھڑے کا پانی پینا صحت کیلئے کتنا ضروری؟

    مٹی کے گھڑے کا پانی پینا صحت کیلئے کتنا ضروری؟

    پانی ہر جاندار کی زندگی کیے لیے انتہائی اہم شے ہے۔ اس کے بغیر حیات کا تصور ممکن نہیں،ہر انسان کے لئے دن میں 8 گلاس یا اس سے زیادہ جسمانی ضرورت کے مطابق پانی پینا لازمی ہے تا کہ جسم اپنے تمام افعال بہتر طریقے سے انجام دے سکیں۔لیکن اگر آپ یہی پانی کسی ایسے برتن،بوتل یا گلاس میں پیتے ہیں جو پانی کو صاف کرنے کے بجائے مزید آلودہ بنا دے تو یہ پانی آپ کو صحت دینے کے بجائے بیماری کا سبب بن جائے گا لیکن مٹی کے گھڑے میں پانی بھر کے پینا انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ مٹی سے بے شمار معدنیات اور وٹامنز قدرتی طور پر حاصل ہوتے ہیں عرصہ قبل لوگ مٹی کے برتن سے پانی پیتے تھے کیونکہ وہ اس کی افادیت کو خوب جانتے تھے،مٹکے کے اندر پانی قدرتی طور پر ٹھنڈا رہتا ہے اور ساتھ ہی مٹی کی معدنیاتی نعمت سے بھی بھر پور رکھتا ہے-

    فائیو اے سایئڈ ہاکی ورلڈ کپ ایونٹ میں شرکت کے لئے قومی ٹیم عمان پہنچ …

    مٹی کے اندر قدرتی الکا لائن ہوتا ہے جو کہ جسم کےپی ایچ لیول کو متوازن رکھتا ہےانسانی جسم میں ایسیڈک ایسڈ ہوتا ہے، مٹی میں الکلائن کی فراہمی ہونے کی وجہ سے یہ پیٹ درد، معدے کی سوزش، تیزابیت او دیگر اندرونی درد کی شکایات کو دور رکھتا ہے،مٹکے کا پانی پینے سے میٹابولزم سسٹم بہتر ہوتا ہےاس سے کوئی خطرناک کیمیکلز کاخدشہ لاحق نہیں ہوتا جب کہ پلاسٹک کی بوتل اور دیگر چیزوں میں اکثر خطرناک کیمیکل بی پی اے وغیرہ شامل ہوتا ہے،آپ پلاسٹک کی بوتلیں پانی کو ذخیرہ کرنےکےلیےاستعمال کرتے ہیں جو کیمیکلز سے بنے ہیں تاہم مٹی کے برتن کیمیکل سے پاک ہوتے ہیں اور یہ زہریلے مادوں کو جسم میں داخل ہونے سے بھی دور رکھتے ہیں۔

    بھارتی حکومت چاند کو ہندو سلطنت قراردے،ہندو مہاسبھا کے قومی صدر کا مطالبہ

    مٹکے کا پانی پینے سے نظام ہاضمہ اور جسم میں ٹیسٹوسٹیرون متوازن رہتا ہے اس کے اندرمعدنیات محفوظ ہونے کے باعث یہ معدے اور نظامہ ہاضمہ کو درست رکھتا ہے،فریج میں رکھے ہوئے ٹھنڈے پانی کو پینے سے اکثر گلے میں تکلیف کی شکایت ہوتی ہے کیونکہ یہ گلے کے غدود کو نقصان پہنچاتے ہیں لیکن مٹکے کا پانی ایک ہی درجہ حرارت پر برقرار رہتا ہے اور اس کے پینے سے گلے کی کوئی شکایت درپیش نہیں ہوتی اس لیے مٹکے کا پانی کھانسی، ٹھنڈ اور سانس کی تکلیف سے بچاؤ میں مدد فراہم کرتا ہے،گرمی میں مٹکے کا پانی استعمال کرنا جسم میں نیوٹریشن ،وٹامن گلوکوز کو متوازن رکھتا ہے اور ہیٹ اسٹروک کے خدشے سے محفوظ رکھتا ہےجب کہ مٹکے کا پانی دن بھر تازگی اور تسکین فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی صحت کو تحفظ دیتا ہے۔

    خواتین مردوں سے زیادہ دھوکے باز ہوتی ہیں، نئی تحقیق

    گھڑا مختلف دیہات اور بالخصوص چولستان میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے، پہلے پہل گھڑا بنانے کا فن اتنا آسان نہ تھا گھڑا بنانے والی مٹی کو چھوٹے سائز میں ڈولی نما بنا کر گھڑے کو لکڑی کے پشتےسےکوٹ کرپورے گھڑے کا سائز بنایا جاتا تھا ،بعد ازاں گھڑے کا آدھا حصہ لکڑی کے چاک پراورپیندہ لکڑی کےپشتے سے مکمل کیا جاتا تھا آج کے اس مشینی دور میں یہ کام مکمل طور پر مشینوں پر رکھے سانچے میں مٹی بھر کر کیا جارہا ہے۔

    پنجاب کے دیہاتوں میں شادی کے موقع پر دُلہا کی بہنیں خوبصورت شیشوں والی گھڑولی میں پانی بھر کر لاتی ہیں جس سے دُلہے کو نہلایا جاتا ہے اور دیہات میں شادی کے موقع پر گیتوں میں بھی خاص طور پر گھڑا بجایا جاتا ہے۔

    یواےای میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد کو عبور

  • 61 سال ماں کے پیٹ میں رہنے والا بچہ پتھرکا بن گیا

    61 سال ماں کے پیٹ میں رہنے والا بچہ پتھرکا بن گیا

    خاتون کو اپنی اولاد کو دیکھنے کیلئے 61 سال انتظار کرنا پڑا،یہ ایک نایاب حالت ہے جو کسی ہارر فلم کی طرح لگتا ہے کہ ایک جنین مر جاتا ہے، اور پھر اس کی ماں کے جسم کے اندر بنیادی طور پر پتھر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: چین کی ایک خاتون ہوانگ ییجون نے 92 سال کی عمر میں بچے کو جنم دیا، مگر جب ڈاکٹروں نے ان کے بچے کو دیکھا تو ان کے ہوش اڑ گئے، کیونکہ ان کا بچہ پتھر بن چکا تھا،دراصل ہوانگ 1948 میں 31 سال کی عمر میں ماں بننے والی تھیں، مگر کچھ ایسا ہوا کہ انہیں اپنا بچہ 61 سال تک پیٹ میں رکھنا پڑاجب انہیں پتہ چلا کہ وہ ماں بننے والی ہیں تب انہیں خوشی توکافی ہوئی،مگر جب ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کی ایکٹوپک پریگنینسی ہے تو وہ فکر مند ہوگئی تھیں۔


    ہیلتھ لائن کے مطابق اس حالت میں فرٹیلائز ایگ ماں کے رحم سے چپک نہیں پاتا اس حالت میں ماں اور بچہ دونوں کیلئے کافی خطرات ہوتے ہیں ان حالات میں پیدا ہونے والے بچوں میں پیدائشی نقائص کا 21 فیصد امکان ہوتا ہے بنیادی طور پر حفاظتی ایمنیوٹک سیال کی عدم موجودگی اور رحمِ مادر کے اندر نارمل بچوں کے مقابلہ میں انہیں اضافی دباؤ جھیلنا پڑتا ہے۔

    بی سی سی آئی صدر راجر بنی نے دورہ پاکستان کی تصدیق کر دی

    ہوانگ کے معاملے میں بچہ زندہ نہیں بچا ان کے پیٹ میں پرورش پا رہا بچہ اتنا بڑا ہوگیا تھا کہ اس کا جسم خود بخود باہر نہیں نکل سکتا تھا ڈاکٹروں نے اس سے نجات کیلئے سرجری کرانے کا مشورہ دیا تھا، کیونکہ اس کو رکھنے سے بعد میں صحت سے وابستہ پریشانیاں لاحق ہوسکتی تھیں لیکن سرجری کی لاگت خاتون اور اس کے اہل خانہ کیلئے کافی زیادہ تھی ہوانگ نے آپریشن کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ایک ڈاکٹر نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ جب ایسے معاملات میں بچہ اتنا بڑا ہوجاتا ہے کہ جسم قدرتی طور پر اسے باہر نہیں نکال پاتا تو مردہ بافتوں کے پاس کیلشیم جمع ہوجاتا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجہ میں ایک ’اسٹون بے بی‘ بنتا ہے۔ جو خواتین اس کا تجربہ کرتی ہیں وہ اکثر اس سے انجان رہتی ہیں۔

    تاہم، ہوانگ کے غیر معمولی معاملے میں وہ پتھر کے بچے کی موجودگی کے بارے میں بخوبی واقف تھیں، لیکن وہ اس کو ہٹانے کا رسک نہیں اٹھا سکتی تھیں۔

    خیبرپختونخوا میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کیلئے ووٹنگ جاری

    آخر کار 2009 میں 92 سال کی عمر میں انہوں نے 60 سال سے رحم مادر میں موجود جنین کو ہٹانے کیلئے سرجری کروائی اور جب بچہ باہر نکلا تو اسے دیکھ کر ڈاکٹرز بھی حیران رہ گئے، کیونکہ وہ مکنمل طور پر پتھر بن چکا تھا۔

  • نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق

    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر سگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت اپنے ان ساتھیوں سے تبدیل ہوتی ہے جو سگریٹ نہیں پیتے۔

    باغی ٹی وی: برطانیہ میں کیمبرج اور واروک یونیورسٹیوں اور چین کی فوڈان یونیورسٹی کی سربراہی میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے 14، 19 اور 23 سال کی عمر کے 800 سے زائد نوجوانوں کے دماغی امیجنگ اور طرز عمل کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا،تحقیق میں دماغ کے دو حصوں میں موجود معلومات کو آگے بڑھانے والے بافتوں (سرمئی مادہ) کی مقدار اور نوجوانی میں سگریٹ نوشی کے آغاز کی طلب اور نِکوٹین کی عادت پختہ ہونے کے درمیان تعلق دیکھا گیا۔

    محققین کے مطابق ایسے طریقہ کار کا وضع ہونا جس سے سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہونے کے متعلق پتہ لگایا جاسکے، لاکھوں زندگیوں کو بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

    ماہرین نے پایا کہ، اوسطاً، 14 سال کی عمر سے سگریٹ نوشی شروع کرنے والے نوجوانوں کے بائیں فرنٹل لاب کے ایک حصے میں واضح طور پر کم سرمئی مادہ ہوتا ہے جو فیصلہ سازی اور اصول کی خلاف ورزی سے منسلک ہوتا ہے سرمئی مادہ دماغی ٹشو ہے جو معلومات پر کارروائی کرتا ہے، اور اس میں اعضاء کے تمام نیوران ہوتے ہیں۔ اگرچہ دماغ کی نشوونما جوانی تک جاری رہتی ہے، بلوغت سے پہلے سرمئی مادے کی نشوونما عروج پر ہوتی ہے۔

    تاریخ کا بڑا ٹرانسپلانٹ،بانجھ خواتین کے لیے بچے پیدا کرنے کے امکانات کھل گئے

    کیمبرج یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے شریک سینئر مصنف پروفیسر ٹریور روبنز کا کہنا تھا کہ سگریٹ نوشی دنیا کا سب سے عام نشہ آور رویہ ہے بڑی عمر کے افراد کی اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہےسگریٹ نوشی کی لت دورانِ نوجوانی لگتی ہے اس کی تشخیص کا کوئی بھی طریقہ لاکھوں زندگیوں کو بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ تحقیق میں دماغ کے بائیں حصے میں سرمئی مادے کی کم مقدار کا تعلق اصول توڑنے کے رویے میں زیادتی کے ساتھ دیکھا گیا اور ممکنہ طور پر اصول توڑے جانے کا یہ رویہ انسداد سگریٹ نوشی کے اصولوں کی نفی پر مائل کرسکتا ہے سائنس دانوں نے سگریٹ نوشی کرنے والوں کے دماغ کے دائیں حصے میں بھی سرمئی مادے کی مقدار کم دیکھی اس حصے میں اس مادے کا کم ہوجانا شراب نوشی اور بھنگ کے بھرپور استعمال دیکھا گیا۔

    بینک میں خواتین کے باتھ روم میں خفیہ کیمرے کا انکشاف

    ایک بار جب نیکوٹین کی عادت پکڑ لیتی ہے، دائیں فرنٹل لاب میں سرمئی مادہ سکڑ جاتا ہے، جو "ہیڈونک موٹیویشن” کو متاثر کر کے سگریٹ نوشی پر کنٹرول کو کمزور کر سکتا ہے جس طرح خوشی کی تلاش اور انتظام کیا جاتا ہے دائیں دماغ میں سرمئی مادے کے بہت زیادہ نقصان کا تعلق بہت زیادہ شراب پینے اور چرس کے استعمال سے بھی تھا۔

    محققین کا کہنا ہے کہ ایک ساتھ مل کر، نتائج ایک تباہ شدہ "نیوروبیہیوئل میکانزم” کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو نیکوٹن کے استعمال کو جلد شروع کرنے اور طویل مدتی لت میں بند ہونے کا باعث بن سکتا ہے اس تحقیق میں IMAGEN پروجیکٹ کے ڈیٹا کا استعمال کیا گیا ہے اور یہجرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہوا ۔

    کیمبرج کے شعبہ نفسیات کے شریک سینئر مصنف پروفیسر ٹریور رابنز نے کہا کہ تمباکو نوشی شاید دنیا کا سب سے عام نشہ آور رویہ ہے اور بالغوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہےسگریٹ نوشی کی عادت کا آغاز نوجوانی کے دوران ہونے کا سب سے زیادہ امکان ہوتا ہے اس کے بڑھتے ہوئے امکانات کا پتہ لگانے کا کوئی بھی طریقہ، تاکہ ہم مداخلتوں کو نشانہ بنا سکیں، لاکھوں جانیں بچانے میں مدد کر سکتے ہیں۔

    پوپ فرانسس کا مذاہب کے نام پر تشدد کا شکار افراد کے دن پر خصوصی …

    توقع ہے کہ اس دہائی کے آخر تک دنیا بھر میں سگریٹ سے ہونے والی سالانہ اموات کی تعداد 80 لاکھ تک پہنچ جائے گی فی الحال، ہر سال پانچ میں سے ایک بالغ کی موت صرف امریکہ میں سگریٹ نوشی سے ہوتی ہے۔

    رابنز نے کہا کہ ہمارے مطالعے میں، بائیں پریفرنٹل کورٹیکس میں گرے مادے میں کمی کا تعلق اصول توڑنے کے بڑھتے ہوئے رویے کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی کے ابتدائی تجربات سے ہے یہ ہو سکتا ہے کہ یہ اصول توڑنے سے تمباکو نوشی مخالف اصولوں کی خلاف ورزی ہو-

    بھارتی مشن چندریان 3 آج چاند پر اترے گا

  • تاریخ کا بڑا ٹرانسپلانٹ،بانجھ خواتین کے لیے بچے پیدا کرنے کے امکانات کھل گئے

    تاریخ کا بڑا ٹرانسپلانٹ،بانجھ خواتین کے لیے بچے پیدا کرنے کے امکانات کھل گئے

    برطانیہ میں پہلی بارایک خاتون کے رحم کی کامیاب پیوند کاری کی ہے جس سے ہر سال درجنوں بانجھ خواتین کے لیے بچے پیدا کرنے کے امکانات کھل گئے ہیں رحم کی عطیہ کنندہ خاتون کی بہن ہے۔

    باغی ٹی وی : سرجنوں نے برطانیہ میں ایک خاتون پر رحم کا پہلا ٹرانسپلانٹ کیا ہے،ابتدائی طریقہ کار کے پیچھے موجود طبی ٹیم کے مطابق، 34 سالہ نوجوان خاتون آپریشن کی کامیابی پر”ناقابل یقین حد تک خوش تھی، اب وہ آئی وی ایف کے ذریعے دو بچے پیدا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    برطانیہ کے آکسفورڈ ٹرانسپلانٹ سینٹر کے ماہرسرجنز نے 34 سالہ خاتون کے رحم مادر کے ٹرانسپلانٹ کا کامیاب آپریشن 9 گھنٹے میں مکمل کیا برطانوی شادی شدہ خاتون شادی کے بعد کئی سالوں سے اولاد کی خواہشمند تھیں لیکن رحم میں کچھ پیدائیشی پیچیدگیوں کے باعث ماں نہیں بن سکتیں تھیں خاتون کی 40 سالہ بہن رحم کی عطیہ دہندہ ہیں، ان کے پہلے ہی اپنے دو بچے تھے۔

    اب تک سویڈن، امریکہ، سعودی عرب، ترکی، چین، چیک جمہوریہ، برازیل، جرمنی، سربیا اور بھارت سمیت بین الاقوامی سطح پر 90 سے زائد رحم کی پیوند کاری کی گئی ہے اس کے نتیجے میں تقریبا 50 بچے پیدا ہوئے ہیں۔

    برظانوی ماہرین کے مطابق یہ ایک پیچیدہ سرجری تھی، جس میں ان کی میڈیکل ٹیم کے ایکسپرٹس نے بھر پور حصہ لیا اس کامیاب سرجری کے بعد ان خواتین کی حوصلہ افزائی ہوگی جو عرصہ دراز سے ماں بنننے کی خواہشمند ہیں۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے ہسپتالوں کے ایک حصے، آکسفورڈ ٹرانسپلانٹ سنٹر کی ایک کنسلٹنٹ سرجن، شریک لیڈ سرجن ازابیل کوئروگا نے کہا کہ وہ "پرجوش” اور "انتہائی فخر” ہیں کہ سرجری کامیاب رہی مریضہ "ناقابل یقین حد تک خوش” ہے امید کر رہی ہے کہ وہ ایک نہیں بلکہ دو بچے پیدا کر سکتی ہے اس کا رحم بالکل ٹھیک کام کر رہا ہے اور ہم اس کی پیشرفت کو بہت قریب سے مانیٹر کر رہے ہیں۔

    اس موسم خزاں میں دوسری خاتون پر یوکے میں رحم کی پیوند کاری ہونے والی ہے، جس کی تیاری کے مراحل میں مزید مریض ہیں۔ سرجنوں کے پاس 10 آپریشنز کی منظوری ہے جس میں دماغی مردہ عطیہ دہندگان کے علاوہ زندہ ڈون ر سمیت پانچ شامل ہیں۔

    چیریٹی وومب ٹرانسپلانٹ یوکے کے کلینکل لیڈ اور امپیریل کالج لندن کے کنسلٹنٹ گائنی سرجن کے شریک سرجن پروفیسر رچرڈ اسمتھ نے کہا کہ یہ آپریشن "بڑی کامیابی” رہا ہے۔

  • اب طویل العمری خواب نہیں ،اپنی عمر کو 100 سالوں تک بڑھا سکیں گے

    اب طویل العمری خواب نہیں ،اپنی عمر کو 100 سالوں تک بڑھا سکیں گے

    لمبی عمر جینا دنیا کے ہر ایک شخص کی خواہش ہوتی ہے متحدہ عرب امارات میں ایک نئی صحت لیب طویل العمری کے لیے ‘خلیاتی صحت’ میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہی ہے تاکہ آپ اپنی عمر کو 100 سالوں تک بڑھا سکیں۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق فائیو سکور لیبز، جو ہارورڈ کے تربیت یافتہ سائنسدانوں کے تعاون سے قائم کی گئی ہیں، دعویٰ کرتی ہے کہ وہ خطے کا پہلا طویل العمری کا صارف برانڈ ہے جس کا مقصد لوگوں کو زیادہ دیر تک صحت مند رہنے میں مدد کرنا ہے یہ لیب سائنس کی مدد سے میٹابولزم کو فروغ دے کر اور ڈی این اے کو نقصان سے بچا کر بڑھتی عمر کے اثرات سے بچانے کا دعوی کرتی ہے جس کی خدمات سعودی عرب سمیت پورے خطے میں پھیل رہی ہیں۔

    فائیو سکور لیبز کے بانی، الطارق نے العربیہ کو بتایا کہ طویل العمری کا نظام ممکنہ طور پر عمر سے متعلق بیماریوں جیسے کہ دل کی بیماری، ذیابیطس اور نیوروڈیجنریٹو عوارض کے آغاز میں تاخیر یا روک تھام میں مدد کر سکتا ہے ‘طویل العمری کا نظام’ ایک جامع منصوبہ ہے جو کسی کی صحت مند عمر کو بڑھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے اس میں طرز زندگی میں تبدیلیوں اور مخصوص غذائی سپلیمنٹس کے استعمال کروایا جاتا ہے، جسے سائنسی تحقیق کی حمایت حاصل ہے۔

    اے آئی ٹیکنالوجی،بل گیٹس نے لاکھوں اموات کی وجہ بننے والے نظام کی پیشگوئی کر …

    طارق نے کہا کہ 100 سال کی عمر تک جینے کا خیال، جو کبھی نایاب سمجھا جاتا تھا، "طب، صحت اور تندرستی میں ترقی کی وجہ سے اب ایک حقیقت پسندانہ خواہش بنتا جا رہا ہے عمر بڑھنا صرف ایک ناگزیر عمل نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس کو متاثر کیا جا سکتا ہے اور ممکنہ طور پر اسے سست کیا جا سکتا ہے ہمارا نقطہ نظر صرف زندگی کو بڑھانے کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ہماری عمر کے ساتھ زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جائے لیب مریضوں کے لیے دو قدرتی علاج استعمال کرتی ہے ایک متوازن خوراک اور دوسرا صحت مند طرز زندگی۔

    اطارق نے کہا کہ پہلا عنصر جو استعمال کروایا جاتا ہے وہ ریسویراٹرول ہےیہ ایک قدرتی مرکب جو کئی پودوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کو روکنے والے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے حالیہ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ریسویراٹرول ممکنہ طور پر کچھ جینز کو فعال کر سکتا ہے جنہیں سیرٹوئن کہتے ہیں جو لمبی عمر سے منسلک ہوتے ہیں۔

    چندریان تھری کا دو تہائی سفر مکمل،آج کا دن اہم

    مزید برآں، وہ نیکوٹینامائڈ مونو نیوکلیوٹائڈ کا استعمال کرواتے ہیں۔ یہ مرکب عام کھانوں جیسے بروکولی وغیرہ میں پایا جاتا ہے اور این اے ڈی+ کا پیش خیمہ ہے۔ یہ ایک شریک انزائم (خامرہ) ہے جو میٹابولزم کے ضابطے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، اور ساتھ ہی اس کا استعمال جسم میں خراب ڈی این اے کی مرمت کرتا ہے لمبی عمر، سے مراد عام طور پر زندگی کی طویل مدت ہوتی ہے تاہم، صحت اور تندرستی کے تناظر میں، یہ اس سے کہیں زیادہ پر محیط ہوتی ہے۔ یہ زندگی کی اس مدت کو بڑھانے کے بارے میں ہے جو اچھی صحت میں گزارا جائے اور کمزوری اور بیماری سے محفوظ رہے اسے ‘صحت کی مدت’ کہا جاتا ہے۔

    حیاتیاتی نقطہ نظر سے، طویل عمر پانے کے لیے عمر کے مختلف عمل کو سست کرنا یا ممکنہ طور پر تبدیل کرنا شامل ہے یہ پروگرام خلیات، ٹشوز اور اعضاء کے کام کو بہتر بناتا ہے تاکہ جب تک ممکن ہو زندگی اور صحت کو برقرار رکھا جا سکےخلیات ہمارے جسم کی بنیادی عمارت ہیں۔ "ہر عضو، ٹشو اور حیاتیاتی نظام ایسے خلیوں سے بنا ہوتا ہے جو ہمیں زندہ اور صحت مند رکھنے کے لیے ضروری کام انجام دیتے ہیں۔ اسی لیے سیلولر ہیلتھ میں سرمایہ کاری بہت اہم ہے ۔

    جنوب مشرقی ایشیاء میں سالن بنانے کا طریقہ تقریباً 2000 سال پُرانا ہے،محققین

    بہت سی علامات اور حالات جو ہم عمر بڑھنے کے ساتھ محسوس کرتے ہیں، جیسے جھریاں، جسمانی توانائی میں کمی اور یہاں تک کہ دائمی بیماریاں، سیلولر سطح پر پیدا ہوتی ہیں۔ جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی جاتی ہے، ہمارے خلیے آہستہ آہستہ بہتر طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ سیلولر صحت کو برقرار رکھنے کے ذریعے، ہم ممکنہ طور پر ان عمر بڑھنے کے عمل کو سست کر سکتے ہیں-

    العربیہ کے مطابق اسی طرح، بہت سی بیماریاں سیلولر بے ضابطگی کا نتیجہ ہیں۔ مثال کے طور پر، کینسر کا پتہ سیلولر میوٹیشن سے لگایا جا سکتا ہے، جبکہ الزائمر جیسی بیماریاں دماغ میں سیلولر انحطاط سے منسلک ہیں۔ اپنے خلیات کو صحت مند رکھ کر، ہم ایسی بیماریوں کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں ہمارے خلیے توانائی کی پیداوار، فضلہ کے اخراج، مواصلات اور مرمت جیسے بہت سے کام انجام دیتے ہیں۔ جب ہمارے خلیے صحت مند ہوتے ہیں، تو یہ عمل زیادہ موثر ہوتے ہیں، جس سے بہتر توانائی، بہتر قوت مدافعت، تیزی سے شفا اور مجموعی طور پر جسمانی اور ذہنی کارکردگی میں بہتری آتی ہے۔

    آن لائن نیوز ایکٹ؛ میٹا نے کینیڈین صارفین کی خبروں تک رسائی ختم کردی

    طارق نے کہا کہ 2016 میں متحدہ عرب امارات کی صرف ایک فیصد آبادی 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کی تھی لیکن 2050 تک یہ تعداد 16 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اب عمر بڑھانے والی سائنس کے بارے میں عوامی بیداری پیدا کرنا اور صحت کے دورانیے اور عمر کے تمام پہلوؤں کو بہتر بنانا بہت ضروری ہے۔ فائیو سکور لیبز کے قیام کے پیچھے یہی محرک رہا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔

    انہوں نے العربیہ کو بتایا کہ طویل العمری کے نظام کو دو بنیادی اجزاء میں تقسیم کیا گیا ہے – غذائی سپلیمنٹس اور طرز زندگی کے پروٹوکول۔ طرز زندگی کے پروٹوکول میں متوازن خوراک، جسمانی سرگرمی، نیند کی حفظان صحت اور تناؤ کے انتظام کی تکنیکوں کے بارے میں ہدایات شامل ہیں لمبی عمر کے طریقہ کار کا حتمی مقصد صرف عمر بڑھانا نہیں ہے، بلکہ ان سالوں کو بڑھانا ہے جن میں ایک شخص صحت مند اور فعال زندگی گزار سکتا ہے۔

    سائنسدانوں نےسائبیریا کی برف کےنیچے 46 ہزارسال سےمنجمد کیڑےہوش میں لےآئے

    عمر بڑھنے کا تعلق مختلف قسم کے سیلولر اور سالماتی عوامل سے ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ فنکشنل کمی کا باعث بنتے ہیں ان میں سیلولر مرمت کی صلاحیتوں میں کمی، سوزش میں اضافہ اور ڈی این اے کو پہنچنے والے نقصان جیسے عوامل شامل ہیں۔ طویل عمری سائنس کے میدان میں ہونے والی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ ان میں سے بہت سے عوامل کو متاثر کیا جا سکتا ہے اور ممکنہ طور پر سست یا تبدیل شدہ مداخلتوں سے تبدیل کیا جا سکتا ہے ان مداخلتوں کو ذاتی طرز زندگی کے پروٹوکول کے ساتھ جوڑ کر جیسے متوازن خوراک، باقاعدگی سے ورزش، کافی نیند اور تناؤ کا انتظام، ہم افراد کو 100 سال کی عمر کے بعد ایک فعال اور متحرک طرز زندگی کو برقرار رکھنے میں مدد کر سکتے ہیں عمر اور صحت کو بڑھانے کے بارے میں سائنسی معلومات تک رسائی کئی وجوہات کی بنا پر بہت ضروری ہے۔

    علم لوگوں کو اپنی صحت کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ انٹرنیٹ کے دور میں، ہم اکثر صحت اور تندرستی کے بارے میں متضاد معلومات حاصل کرتے ہیں۔ قابل اعتماد اور سائنس کی حمایت یافتہ معلومات تک رسائی سے لوگوں کو ایسے انتخاب میں مدد مل سکتی ہے جو واقعی ان کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوں سائنسی علم اکثر احتیاطی تدابیر پر زور دیتا ہے اور ان کو تقویت دیتا ہے۔ یہ سمجھنا کہ کس طرح بعض رویے اور مداخلتیں بیماری کے آغاز کو روک سکتی ہیں، ان بیماریوں کے ہونے کے بعد ان کے علاج کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور فائدہ مند ہے-

    غلاف کعبہ کی تیاری میں زائرین بھی حصہ لے سکیں گے

    انہوں نے کہا کہ ہماری ابتدائی پروڈکٹ لائن انسانی جسم میں صحت مند این اے ڈی پلس کی سطح کو سپورٹ کرنے پر مرکوز ہے۔ این اے ڈی پلس ایک اہم شریک انزائم (خامرہ) ہے جو انسانی جسم کے ہر خلیے میں پایا جاتا ہے۔ یہ توانائی کے تحول اور توانائی کی پیداوار کو منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

    عمر بڑھنے کا تعلق این اے ڈی پلس کی سطح میں قدرتی کمی سے ہے، اور اس کمی کو عمر سے متعلق صحت کے مختلف مسائل جیسے میٹابولک عوارض، نیوروڈیجینریٹیو امراض، اور عمر میں کمی سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس طرح، یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انسانی جسم میں این اے ڈی پلس کی سطح میں اضافہ عمر سے متعلق گراوٹ کا مقابلہ کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

    اس سوال کے جواب میں کہ آیا کافی لوگ اپنی سیلولر صحت میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں؟طارق نے کہا کہ بیداری بڑھ رہی ہے، لیکن ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے بہت سے لوگ صحت کی ظاہری علامات یا بیماریوں کے علامتی علاج پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، یہ سمجھے بغیر کہ بنیادی وجہ اکثر خلیاتی سطح پر ہوتی ہے۔ یہ بیماری کی روک تھام کے بجائے بیماری کے علاج پر تاریخی توجہ کی وجہ سے ہے۔

    عراق میں بھی بھارتی سیرپ میں زہریلے اجزا کا انکشاف

  • وزیراعظم کا صحت  کےحوالے سے آگاہی مہم شروع کرنے کا اعلان

    وزیراعظم کا صحت کےحوالے سے آگاہی مہم شروع کرنے کا اعلان

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے "صحت مند غذا، تندرستی سدا ” کے نام سے آگاہی مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کی اچھی صحت کا صاف اور صحت مند خوراک سے گہرا تعلق ہے، یہ عوام کا حق ہے کہ انہیں یہ معلوم ہو کہ ان کو فراہم کردہ خوراک میں کیا اجزا شامل کیے گئے ہیں تاکہ وہ بہتر اور شفاف معلومات کی بنا پر اپنی خوراک کا انتخاب کر سکیں۔

    موسلا دھار بارشیں: حب ڈیم میں پانی کی سطح بلند، اپراور لوئرچترال میں بھی ایمرجنسی …

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میری ہدایت پر ‘صحت مند غذا، تندرستی سدا’ مہم کا پورے پاکستان میں اجرا کیا جا رہا ہے, اس مہم کے تحت ہر ریسٹورنٹ کھانوں کی مکمل کیلوریز سے صارف کو آگاہ کرے گا, اس کے علاوہ کھانے پینے کی پیک شدہ اشیا پر عالمی ادارہ صحت کی سفارش کردہ تجاویز پر مبنی غذائیت کی مکمل معلومات شائع کی جائیں گی –

    بنگلادیش میں مسافروں سے بھری بس تالاب میں گر گئی، تین بچوں سمیت 17 افراد …

    انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ٹرانس فیٹ ایسڈ کو بھی صرف 2 فیصد تک محدود کیا جا رہا ہے تاکہ دل اور دیگر بیماریوں کا سد باب کیا جا سکے۔ اس انتہائی مہم کو میرا سٹریٹجک ریفارمز یونٹ تمام صوبوں کی فوڈ اتھارٹیز کے ساتھ مل کر پاکستان بھر میں پھیلا رہا ہے ہمارے ہسپتال ویران اور کھیلوں کے میدان آباد رہنے چاہئے اور یہ مہم ایک صحت مند مستقبل کی نوید ثابت ہوگی-

    پی ٹی آئی کے رہنما ساتھیوں سمیت ن لیگ میں شامل

  • برطانیہ : ڈاکٹرز میں خودکشیوں کی شرح حیران کن طور پر بڑھ گئی

    برطانیہ : ڈاکٹرز میں خودکشیوں کی شرح حیران کن طور پر بڑھ گئی

    برطانیہ میں میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد اور ڈاکٹرز میں خودکشیوں کی شرح حیران کن طور پر بڑھ گئی ہے۔ جس سے طبی شعبے سے وابستہ افراد کو درپیش مشکلات واضح ہونے لگی ہیں۔

    باغی ٹی وی: ڈاکٹر جگدیپ سدھو ایک معزز ماہرِ امراضِ قلب ہیں جن کا دل دہلا دینے والا کیس ڈاکٹروں پر پڑنے والے بوجھ پر روشنی ڈالتا ہے ڈاکٹر سدھو مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے انتھک لگن اور ضرورت سے زیادہ کام کے بوجھ کے بوجھ تلے دب گئے، جس سے انہیں اپنا خیال رکھنے کی بھی فرصت نہیں رہی، اور نومبر 2018 میں انہوں نے اپنی جان لے لی۔

    الجزیرہ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق کام کے بوجھ، سینئیرز کیجانب سے پریشان کیے جانا اور ناکافی تنخواہ اور سہولیات ڈاکٹروں میں نفسیاتی بحران کا باعث بن رہی ہیں ڈاکٹر جگدیپ سدھو کے بھائی امندیپ سدھونے بتایا کہ 1980 کی دہائی کےاوائل میں جب شمال مغربی لندن کے ایک مضافاتی علاقے ہیرو میں پلے بڑھے تھے،ان کا جنوبی ایشیائی خاندان اس علاقے کے چند مٹھی بھر غیر سفید فام گھرانوں میں سے ایک تھااپنے بچپن کا کچھ حصہ مشرقی افریقہ میں گزارنے کے بعد، جہاں اس کے والد ایک سرکاری ملازم تھے، امندیپ اور اس کے خاندان نے نسل پرستانہ مائیکرو جارحیت کو شدت سے محسوس کیا جو اس وقت برطانیہ میں عام تھیں۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر کا نام اور لوگو تبدیل کرنے کا اشارہ دے دیا

    تعصب کے اس ابتدائی تجربے نے اس کے بھائی جگدیپ کو بہت بدل دیا، جو ان سے ساڑھے پانچ سال بڑا تھا۔ جگدیپ نے فیصلہ کیا کہ امتیاز کو شکست دینے کا بہترین طریقہ یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے بہتر ہے،وہ بہت زیادہ خوش اخلاق لڑکا تھا، اور ہر کوئی اس سے پیار کرتا تھا۔

    اعلیٰ درجات کے ساتھ ثانوی اسکول چھوڑنے کے بعد، جگدیپ نے ترتیری کالج میں داخلہ لیا، جو اس وقت یونیورسٹی میں داخلے کے لیے ایک شرط تھی۔ صرف اپنے آپ کو آگے بڑھانے کے لیے، اس نے کالج سے درخواست کی کہ اس کے امتحانات کے لیے زیادہ سے زیادہ تین کے بجائے چار مضامین لینے کی اجازت دی جائے۔ درخواست مسترد کر دی گئی، لیکن جگدیپ نے باز آنے سے انکار کر دیا۔ اس نے اپنے آپ کو ایک درسی کتاب خریدی اور خود کو فزکس پڑھایا، آخر کار سیدھے As اسکور کیا۔

    پاکستان میں انتخابات کا اعلان حوصلہ افزا ہے،امریکا

    امندیپ کو اپنے قابل بہن بھائی کے ساتھ مسلسل موازنہ کرنا مشکل محسوس ہوا۔ "میں تعلیمی لحاظ سے ہونہار نہیں ہوں، اور میرے والد کبھی کبھی اس کے بارے میں مجھ سے بات کرتے،وہ واحد شخص تھا جس کے بارے میں میرے والد بات کرتے تھے جگدیپ نے میڈیکل اسکول کے ذریعے سفر کیا، اس کا تعلیمی ریکارڈ ایوارڈز سے بھرا ہوا۔ پھر اس نے مغربی لندن کے ایلنگ ہسپتال میں کام شروع کیا۔ امندیپ یاد کرتے ہیں کہ کس طرح ان کے بھائی نے جوتوں کا ایک نیا جوڑا خریدا اور، کام شروع کرنے کے تھوڑی دیر بعد، اسے اپنے پاؤں دکھائے۔ وہ خون بہہ رہے تھے اور چھالوں میں ڈھکے ہوئے تھے۔ امندیپ حیران تھا، لیکن جگدیپ خوش تھا۔ وہ ہسپتال میں اتنا مصروف تھا کہ وہ ایک دن میں 10 میل (16 کلومیٹر) کا چکر لگا رہا تھا-

    آگ لگنے سے 18 سوڈانیوں سمیت 22 افراد زخمی

    تاہم ڈاکٹر سدھو مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے انتھک لگن اور ضرورت سے زیادہ کام کے بوجھ کے بوجھ تلے دب گئے، جس سے انہیں اپنا خیال رکھنے کی بھی فرصت نہیں رہی، اورنومبر 2018 میں انہوں نےاپنی جان لے لی اس حوالے سے موجود عالمی اعدادوشمار پریشان کن حقائق ظاہر کرتے ہیں، کیونکہ ڈاکٹروں میں خودکشی کی شرح عام آبادی کے مقابلے دو سے پانچ گنا زیادہ ہے جونیئر ڈاکٹرز اور خواتین پریکٹیشنرزخاص طور پران پریشان کن رجحانات کا شکارہیں صرف برطانیہ کے اندر، 72 طبی پیشہ ورافراد، جن میں ڈاکٹرز، نرسیں، دانتو ں کے ڈاکٹر، اور دائیاں شامل ہیں، 2020 میں خودکشی کرکے اپنی جانیں گنوا بیٹھے، جو اس بحران کی شدت کو واضح کرتے ہیں۔

    شمالی کوریا نےمتعدد کروز میزائل فائر کردیئے

    بہت سے عوامل طبی شعبے سے وابستہ افراد میں خودکشی کی بلند شرح میں حصہ ڈالتے ہیں، جن میں کام کا مسلسل دباؤ، درجہ بندی اور کبھی کبھار کام کا بدترین ماحول، نیند کی دائمی کمی، اور محدود وسائل شامل ہیں برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) پر 2010 سے لاگو کفایت شعاری کے اقدامات نے صحت سے متعلق خدمات فراہم کرنے والوں کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

    صورت حال کی سنگینی کے باوجود ڈاکٹروں کے لیے نفسیاتی صحت کے حوالے سے مدد ناکافی ہے ”ڈاکٹرز ان ڈسٹریس“ اور ”لورا ہائیڈ فاؤنڈیشن“ جیسی تنظیموں کے قیام سے کچھ مدد حاصل ہوئی ہے۔ تاہم، طبی برادری کے افراد اس مدد کو حاصل کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔

    خواتین کو بااختیار بنائے بغیر کسی بھی ملک کے ترقیاتی اہداف کا حصول ناممکن ہے،گورنر …

  • وزن کم کرنے والے انجیکشن کا استعمال خود کشی کا سبب بن سکتا ہے؟

    وزن کم کرنے والے انجیکشن کا استعمال خود کشی کا سبب بن سکتا ہے؟

    بڑھتے وزن سے پریشان افراد میں وزن کم کرنے والے انجیکشن کا استعمال عام ہے، تاہم اب ان انجیکشنز کا استعمال کرنے والوں میں خودکشی اور خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات کا انکشاف ہوا ہے،جس کے بعد یورپ کے ڈرگ ریگولیٹرز نے ان انجکشنز کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یورپی میڈیسن ایجنسی (EMA)نے مذکورہ انکشافات کے بعد ان انجیکشنز کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے ایسے تین کیسز سامنے آنے کے بعد یورپی یونین کی رکن ریاست آئس لینڈ نے یورپی ڈرگ ریگولیٹر کو مطلع کیا ہے۔ جس کے بعد حفاظتی جائزہ لیتے ہوئے یورپی میڈیسن ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ ویگووی، سیکسینڈا سمیت اسی طرح کی دیگر ادویات پر غور کیا جائے گا جو بھوک کو کم کرنے میں مدد کرتی ہیں۔

    ان پروڈکٹس کے کتابچے میں پہلے سے ہی خودکشی کے خیالات کو ممکنہ ضمنی اثرات کے طور پر درج کیا گیا ہے لیکن خودکشی کر ہی لینا فی الحال ان دوائیوں کے ممکنہ سائیڈ افیکٹس کے طور پر درج نہیں ہے۔

    2023 سے 2027 تک کا عرصہ دنیا کی تاریخ کا گرم ترین دورریکارڈ ہوگا،اقوم متحدہ

    یورپی میڈیسن ایجنسی (ای ایم اے) کی فارماکوویجیلنس رسک اسیسمنٹ کمیٹی (PRAC) جو کہ جائزہ لے رہی ہے، وہ اس بات پر غور کرے گی کہ کیا دوائیوں کے اس وسیع زمرے میں دوسرے علاج، گلوکا گون نما پیپٹائڈ-1 (GLP-1) ریسیپٹر ایگونسٹس کو بھی تشخیص کی ضرورت ہے تاہم ابتدائی طور پر ڈرگ ریگولیٹری صرف وزن کم کرنے والی دوائیوں کے استعمال کے خطرات کا جائزہ لے گی جس میں یا تو سیماگلوٹائیڈ یا لیراگلوٹائیڈ شامل ہیں۔

    ایل نینو کے اثرات: رواں ماہ کا آغاز انسانی تاریخ کا گرم ترین ہفتہ قرار

    برطانوی میڈیا کے مطابق ای ایم اے کے اہلکار نے بتایا کہ رپورٹ ہونے والے کیسز میں خودکشی کے خیالات کے تین واقعات شامل تھےان افراد نے دو مختلف ادویات استعمال کی تھیں، جن میں سیکسینڈا اور اوزیمپک شامل ہیں تاہم سکسینڈا استعمال کرنے والے ایک کیس میں خودکشی جبکہ دوسرے میں خود کو چوٹ پہنچانے کے خیالات کی اطلاع موصول ہوئی تھی ان کیسز کی اطلاع موصول ہونے کے بعد ان ادویات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا، جائزہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد مزید تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔

    اسلامی تعلیمات سےمتاثرہوکراسلام قبول کیاہے،سیر کے دوران آیا صوفیا میں اسلام قبول کرنے والا روسی …

    اکثر مشہور شخصیات کے حوالے سے سوشل میڈیا پوسٹس میں بڑی مقدار میں وزن کم کرنے کی خبروں وجہ سے اس قسم کے علاج کی بڑی مانگ ہوئی ہےSaxenda اور Wegovy وزن میں کمی کے لیے منظور شدہ اور لائسنس یافتہ ادویات ہیں Ozempic ذیابیطس کے شکار لوگوں کے لیے ہے جو خون میں شوگر کے ساتھ ساتھ وزن کو بھی کنٹرول کرنے میں مدد کرتی ہے، لیکن اس میں ویگووی جیسی دوائی سیماگلوٹائیڈ کی کم خوراک ہوتی ہے بنا ذیابیطس والے کچھ لوگ وزن کم کرنے کے لیے بہت زیادہ تعداد میں یہ ادویات خرید رہے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر قلت کا سلسلہ جاری ہے۔

    کویت کا سویڈش زبان میں قرآن کریم کے ایک لاکھ نسخے شائع کرنے کا اعلان