Baaghi TV

Tag: صحت

  • ملتان کورونا کی پانچ لاکھ ویکسین لینے جہاز چائنہ پہنچ گیا

    ملتان کورونا کی پانچ لاکھ ویکسین لینے جہاز چائنہ پہنچ گیا

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی خصوصی گفتگو ہوئی جس کے مطابق ، ملتان کورونا ویکسین کی پانچ لاکھ ویکسین لینے جہاز چائنہ پہنچ گیا ہے۔ میں اسلام آباد ائیرپورٹ پر چائنیز سفیر کے ساتھ ویکسین وصول کرنے جاؤنگا ویکسین سب کے لئے فری ہوگی سب سے پہلے سٹاف نرسز ہیلتھ ورکرز اور ڈاکٹرز کو دیں گے.ڈینیل پرل کیس پر حکومت نے سپریم کورٹ ایک رٹ پیثٹیشن دائر کررہی ہے.ڈینیل پرل کی فیملی کو انصاف ملے گا اور قانون کے تقاضے پورے ہونگے.ہماری کوشش ہے افغانستان میں امن کے معاملات بہتر انداز میں چلیں . پاکستان نئی امریکی حکومت کے ساتھ ملکر افغانستان میں امن کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا

  • راولپنڈی پولیس انسپکٹر عاصم رشید کورونا کے خلاف جنگ لڑتے ہوۓ شہید

    راولپنڈی پولیس انسپکٹر عاصم رشید کورونا کے خلاف جنگ لڑتے ہوۓ شہید

    راولپنڈی پولیس کے سب انسپکٹر عاصم رشید کورونا کے خلاف جنگ لڑتے ہوۓ شہید ہو گئے،
    شہید سب انسپکٹر عاصم رشید سابقہ ایس ایچ او مورگاہ تھے، شہید سب انسپکٹر عاصم رشید کورونا کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد 14 جنوری سے NIH ہسپتال اسلام آباد میں زیر علاج تھے، شہید سب انسپکٹر عاصم دشید کی نماز جنازہ ایس او پیز کے مطابق انکے رہائشی علاقہ چک بہادر جاتلی میں دن 11 بجے ادا کی جاۓ گی۔
    شہید سب انسپکٹر عاصم رشید انتہائی قابل ، ایماندار اور ملنسار افسر تھے، شہید سب انسپکٹر عاصم رشید نے سوگواران میں والدہ، بیوہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹے کو چھوڑا ہےراولپنڈی پولیس نے آئی جی پنجاب انعام غنی کی پالیسی کے مطابق شہید کے اہل خانہ کو تجہیز و تکفین کے واجبات ادا کئے۔ شہید کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور دکھ کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں.شہید سب انسپکٹر عاصم رشید کی محکمہ پولیس کے لئے خدمات ناقابل فراموش ہیں.راولپنڈی پولیس کورونا کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی تاہم افسران و اہلکار فیس ماسک، گلوز، سینیٹائزر اور دیگر حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، سی پی او راولپنڈی.

  • وزیراعلیٰ پنجاب, عثمان بزدار سے اراکین اسمبلی کی ملاقات ، پسماندہ علاقوں میں ایجوکیشن اور ہیلتھ فسلیٹز کوخوب تر بنانے کا وعدہ

    وزیراعلیٰ پنجاب, عثمان بزدار سے اراکین اسمبلی کی ملاقات ، پسماندہ علاقوں میں ایجوکیشن اور ہیلتھ فسلیٹز کوخوب تر بنانے کا وعدہ

    لاہور30جنوری: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے اراکین اسمبلی کی ملاقات جس میں صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، مشیر محمد حنیف پتافی، شہاب الدین خان، محمد شفیع، جاوید اختر لنڈ، علمدار قریشی، عبدالحئی دستی، سردار فاروق دریشک، سردار احمد علی خان دریشک، احمد شاہ کھگہ، ملک ندیم عباس بارا، سرفراز حسین اور محمد آصف شامل تھے. چیف وہپ پنجاب اسمبلی ایم پی اے سید عباس علی شاہ بھی اس موقع پر موجود تھےمنتخب نمائندوں نے وزیراعلیٰ کو اپنے علاقوں کے مسائل سے آگاہ کیا.وزیراعلیٰ عثما ن بزدار کی مسائل حل کرنے کی یقین دہانی, انہوں نے کہا کہ انکی پسماندہ علاقوں کی ترقی پر پوری توجہ ہے
    عثمان بزدارکاکہنا یہ ہے کہ عوامی نمائندوں کے مسائل کو ذاتی سمجھ کر حل کرتاہوں ، اراکین صوبائی اسمبلی میرے ساتھی ہیں اور منتخب نمائندوں کی ترجیحات کے مطابق ان کے حلقوں میں ترقیاتی کام ہوں گے۔ منتخب نمائندوں کی مشاورت سے عوام کی ترقی و خوشحالی کے پروگرام پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ ہم سب نے ٹیم ورک کے طورپر صوبے کے عوام کی خدمت کرنی ہے. وزارت اعلی صرف عہدہ نہیں بلکہ بہت بڑی ذمہ داری ہےاورعوام کی خدمت مشن اور اوڑھنا بچھونا ہے۔
    عثمان بزدارکا مزید کہنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت سابق دور کی فاش غلطیوں اور خرابیوں کو دور کر رہی ہے۔ سابق حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے باعث ملک اپنی اصل منزل سے ہٹ گیا۔ قومی وسائل کو نمائشی منصوبوں کی نذر کرکے ملک و قوم سے ظلم کیاگیا۔ سابق حکمرانوں نے عوام کے بنیادی مسائل کو یکسر نظر انداز کیا۔ عوام بنیادی ضرورتوں کو ترستے رہے اور حکمران اقتدار کے مزے لوٹتے رہے. ہماری حکومت نے عوام کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت تمام علاقوں کی یکساں ترقی پر یقین رکھتی ہے۔ پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے جاری منصوبوں کی خود نگرانی کررہا ہوں. زبانی جمع خرچ کا وقت گزر چکا،اب صرف کام ہوتا ہے اور ہم عمل کرکے دکھاتے ہیں .شہروں کے ساتھ دوردراز علاقوں میں بھی ایجوکیشن اور ہیلتھ فسلیٹز کو خوب سے خوب تر بنائیں گے۔

    ۔اراکین پنجاب اسمبلی کا کہنا ہی کہمنتخب نمائندوں سے مشاورت کا سلسلہ خوش آئند ہے، مسائل کے حل کیلئے عثمان بزدارکی ذاتی دلچسپی پر شکرگزار ہیں وہ حقیقی معنوں میں عوامی وزیراعلیٰ ہیں.

  • اب پنجاب میں بھی  کورونا وائرس کی قسموں کی تشخیصی کی جا سکے گی۔

    اب پنجاب میں بھی کورونا وائرس کی قسموں کی تشخیصی کی جا سکے گی۔

    لاہور: (حمزہ رحمن ) پنجاب جین سیکونسنگ مشین خریدنے والا پہلا صوبہ بن گیا۔
    وزیر اعلیٰ کی خصوصی کاوش،کابینہ کمیٹی برائے انسداد کورونا نے 5 کروڑ کے فنڈز منظور کیے
    محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے جین سیکونسنگ مشین کی خریداری کا عمل شروع کر دیا۔
    سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کا کہنا ہے کہ جین سیکونسنگ مشین آئندہ ہفتے کے اختتام تک کام شروع کر دے گی۔مشین کی مدد سے پنجاب میں کورونا وائرس کی قسموں کی تشخیصی کی جا سکے گی.
    پنجاب کورونا وائرس کی جین سیکونسنگ کی سہولت والا پہلا صوبہ ہو گا. اس سے پہلے جین سیکونسنگ کی مشین صرف وفاقی ادارہ صحت کے پاس تھی۔
    اس ٹیکنالوجی سے تحقیق وتشخیص کی جاسکے گی کہ کورونا کی دوسری لہر میں اموات وائرس کی کس قسم سے ہو رہی ہیں، تحقیق ہو سکے گی۔
    وائرس کس حد تک مہلک ہے اس کی بھی تحقیق ہوسکے گی.

  • چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر پر 8 سو ملین کی خرد برد کے الزامات نیب ،اینٹی کرپشن اور گورنر پنجاب سب حرکت میں.

    چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر پر 8 سو ملین کی خرد برد کے الزامات نیب ،اینٹی کرپشن اور گورنر پنجاب سب حرکت میں.

    لاہور، چیف ایگزیکٹو آفیسر میو اسپتال ڈاکٹر اسد اسلم کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی
    نیب ،اینٹی کرپشن اور گورنر پنجاب سب حرکت میں، چیف ایگزیکٹو آفیسر میو اسپتال ڈاکٹر اسد اسلم کی پی ایچ ڈی ڈگری،اختیارات سے تجاوز،اور مبینہ کرپشن کے الزامات پر ریکارڈ طلب کرلیا گیا۔

    ڈاکٹر اسد اسلم کی جانب سے پی ایچ ڈی کے18 کریڈٹ آور پورے نہیں کئے گئے اور نہ ہی مطلوبہ امتحان پاس کیا گیا۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے بھی ڈاکٹر اسد اسلم کی پی ایچ ڈی کی ڈگری کی تصدیق نہیں کی۔شہری کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈاکٹرز اسد اسلم نےچار سال سے پانچ سے زیادہ ایڈیشنل چارج سنبھال رکھے ہیں جو کہ پنجاب فنانس ڈیپارٹمنٹ کے رولز کے مطابق 6 مہینے سے زائد نہیں لگ سکتے۔

    درخواست گزار کے مطابق ڈاکٹر اسد اسلم مختلف عہدوں پر اضافی چارج پر تعینات ہیں جن میں سی ای او میو اسپتال،پرنسپل کالج آف پتھامولوجی اور سرکاری ملازم ہوتے ہوئے ڈاکٹر اسد اسلم مقبول احمد بلاک کی تعمیر کرنے والی پرائیویٹ پارٹی کے پراجیٹ ڈائریکٹربھی ہیں جس میں 8 سو ملین کی خرد برد کے الزامات بھی ہیں.

  • اوکاڑہ کرونا وائرس کی لپیٹ میں، انتظامیہ کی جانب سے عوام کو احتیاط کرنیکی اپیل

    اوکاڑہ کرونا وائرس کی لپیٹ میں، انتظامیہ کی جانب سے عوام کو احتیاط کرنیکی اپیل

    اوکاڑہ(علی حسین) ضلع اوکاڑہ میں کرونا وائرس کے 52 کیسز سامنے آئے ہیں۔ کرونا وائرس میں مبتلا 16 افراد مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں۔ 36 افراد میں سے 25 افراد کو ہاوس آئسولیٹ جبکہ 11 افراد کو سرکاری قرنطینہ سنٹرز میں رکھا گیا ہے۔ 35 افراد کے کرونا سیمپلز ٹیسٹ کے لیے بھجوائے جاچکے ہیں۔ سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر اعجاز اعوان اور ڈی ایس پی سٹی اوکاڑہ مہر ندیم کے کرونا ٹیسٹ بھی بھجوائے گئے ہیں۔ لوکل سطح پر کرونا کے کیسز رپورٹ ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ کرونا وائرس سے دو ڈاکٹرز جن میں ڈاکٹر اعجاز اور ڈاکٹر ظہیر شامل ہیں بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور حفظان صحت کے مراکز کے ذمہ داران طبقے نے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی اپیل کی ہے نیز کرونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونیکی تلقین کی ہے۔

  • صحت کے شعبے میں قصور وار کون ؟؟  تحریر: غنی محمود قصوری

    صحت کے شعبے میں قصور وار کون ؟؟ تحریر: غنی محمود قصوری

    ملک پاکستان میں صحت کے شعبے میں بڑی لوٹ مار کا بازار گرم ہے جس سے اس شعبہ کی حالت ابتر ہے جس کی دو وجوہات ہیں
    1 ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی کمی
    2 پیرامیڈیکس کی ذاتی محدود پریکٹس کی ممانعت
    کسی بھی شعبے میں گھر پڑھنے کیساتھ چھوٹا موٹا کاروبار کر کے آپ اپنا روزگار شروع کر سکتے ہیں اور اپنی تعلیم کے اخراجات نکال سکتے ہیں جبکہ ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر بننے کیلئے ایف ایس سی کرنے کے بعد کسی میڈیکل کالج میں داخلہ لینا لازم ہے اور پانچ سال تک کالج اٹینڈ کرنا بھی لازم ہے
    جس کیلئے بڑا سخت میرٹ ہوتا ہے جو طالب علم میرٹ کی بنا پر سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلہ نہیں لے پاتے وہ پھر پرائیویٹ کالجز کا رخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں کم نمبروں والے کو بھی آسانی سے داخلہ مل جاتا ہے
    پرائیویٹ کالجز کی پانچ سالہ فیس 50 سے 90 لاکھ ہے جو کہ کوئی غریب پوری زندگی بھر بھی نہیں کما سکتا.
    یوں غریب طالبعلم بچے اپنے حق سے محروم رہ جاتے ہیں
    ہمارے ملک میں ڈسپنسر ایک سالہ کورس کر کے ڈاکٹر کی معاونت کرتا ہے امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی دور دراز علاقوں میں جہاں ڈاکٹرز میسر نہیں وہاں پیرامیڈیکس ڈاکٹرز کی جگہ کام کرتے جبکہ ہمارے ہاں ایک سالہ کورس ڈسپنسر کرنے والا اتائی ڈاکٹر کہلواتا ہے حالانکہ یہی اتائی ہمارے ڈی ایچ کیو،ٹی ایچ کیو،آر ایچ سی اور بی ایچ یو میں ایک ماہر ڈاکٹر کی طرح انجیکشن بھی لگاتے ہیں نسخہ بھی تجویز کرتے ہیں دوائی بھی دیتے ہیں مگر سرکاری ہسپتالوں کے بعد یہی کوالیفائڈ ڈسپنسر اپنے نجی کلینک کھولنے پر اتائی کہلواتے ہیں افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ملک میں پرائس کنٹرول کا کوئی نظام نہیں سرکاری ہسپتال کا ایم بی بی ایس ڈاکٹر اپنے نجی کلینک میں کم از کم فیس 500 روپیہ لے رہا ہے جبکہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی فیس ہزاروں روپیہ ہے اور دوائی جو میڈیکل سٹور سے خریدنی ہے وہ الگ جبکہ مزدور کی دیہاڑی 700 روپیہ ہے یہی کوالیفائڈ ڈاکٹرز اپنے سرکاری ہسپتالوں میں کسی غریب کی بات سننے کے روادار نہیں ہوتے ایک غریب انسان بخار کی دوائی لینے سرکاری ہسپتال جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پرچی بنوانے سے اپنی بھاری آنے پر معائنہ کروا کر دوائی حاصل کرنے تک کم از کم ٹائم 3 گھنٹے جبکہ مزدور کی مزدوری کا ٹائم صبح 7 بجے شروع ہو جاتا ہے اور ہمارے ان سرکاری ہسپتالوں کا ٹائم 8 بجے یعنی کہ اگر کوئی 60 سے 70 روپیہ کی دوائی سرکاری ہسپتال سے لینے جائے تو اسے اپنے 700 روپیہ سے ہاتھ دھونے پڑینگے ویسے تو گورنمنٹ کی طرف سے ہر یونین کونسل کی سطح پر ایک بی ایچ یو ہسپتال ہوتا ہے جس میں دفتری اوقات کے بعد بھی ایل ایچ ڈبلیو یعنی لیڈی ہیلتھ ورکر اپنے گھروں میں فرسٹ ایڈ میڈیسن کیساتھ موجود ہوتی ہیں مگر افسوس کہ ان کو بھی صرف پیراسیٹامول ،فولک ایسڈ اور کنڈومز کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا جبکہ یہی پیراسیٹامول ہر گھر میں موجود ہوتی ہے
    کچھ عرصہ قبل سٹیرائیڈ اور اینٹی بائیوٹک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا مگر آج جلد آرام اور اپنے نجی کلینک کی رینکنگ بڑھانے کے علاوہ میڈیکل سٹورز سے کمیشن حاصل کرنے کے چکر میں ہمارے یہ پانچ سالہ تربیت یافتہ ڈاکٹرز ڈبل ٹرپل اینٹی بائیوٹکس میڈیسن تک دینے سے گریز نہیں کرتے اگر کوئی ٹرپل نا بھی دے تو ڈبل تو لازم ہے جیسے کہ انجیکشن میں سیفٹرائیکزون سوڈیم تو لازمی جز ہے جبکہ گولیوں میں ،کو اماکسی سلین،سیفراڈون اور سیفیکزائم وغیرہ بلا ضروت دی جاتی ہے
    ایک جانب تو گورنمنت نے چوروں ڈاکوءوں کے خلاف کریک ڈاون کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب ان ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی بے جا لوٹ مار بداخلاقی اور ناجائز آمدن پر خاموش بھی ہے بلکہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی آڑ میں ان کو مذید تحفظ حاصل ہو گیا ہے کیونکہ ڈسپنسر اور دیگر شارٹ ہیلتھ کورسز والے کوئی بھی ذاتی پریکٹس نہیں کر سکتے جس سے بہت سے کوائیک یعنی اتائی کاروبار چھوڑ چکے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں نے ذاتی طور پر ادویات کا استعمال شروع کر دیا ہے جو کہ سخت حیران کن بات ہے کم ازکم ڈسپنسر ایک سال ہسپتال میں دوران کورس ،ڈرپ ،انجیکشن اور پیشاب کی نالی لگانا سیکھ جانے کے علاوہ بہت سی ادویات بارے پڑھ کر ہسپتال میں عملی طور پر ڈاکٹرز کیساتھ تجربہ بھی حاصل کر چکا ہوتا ہے لہذہ گورنمنٹ کو ان پیرامیڈیکس کے بارے سوچنا ہوگا ورنہ غریب اپنی صحت کا دشمن تو پھر بنا ہی ہے.

  • 2 ارب 23 کروڑ 78 لاکھ سے زائد کے فنڈزجاری ، کس شعبہ کے لیے جاری ہوئے خبرآگئی

    2 ارب 23 کروڑ 78 لاکھ سے زائد کے فنڈزجاری ، کس شعبہ کے لیے جاری ہوئے خبرآگئی

    اسلام آباد:ملک بھر میں صحت کی بہترین سے بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی غرض سے وفاقی وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات نے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگراموں میں مجموعی طور پر اب تک2 ارب 23 کروڑ 78 لاکھ سے زائد کے فنڈزجاری کردیئے ہیں، حکومت نے ڈویژن کے ترقیاتی کاموں کے لئے رواں مالی سال کے لئے 13 ارب 37 کروڑ 65 لاکھ روپے کے فنڈز مختص کئے ہیں۔

    اعداد وشمار کے مطابق حکومت نے پمز اسلام آباد میں ایچ وی اے سی پلانٹ روم کی اپ گریڈیشن کے لئے 10 کروڑ 90 لاکھ، پرائمنسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام فیز II کے لئے 60 کروڑ، کنگ سلمان بن عبدالعزیز السعود ہسپتال میں ترقیاتی کاموں کے لئے ایک کروڑ، ای پی آئی پروگرام کے لئے 14 کروڑ 12 لاکھ روپے سے زائد کے فنڈز جاری کردیئے ہیں، یاد رہے کہ عمران خان بارہا کہہ چکے ہیں‌کہ وہ صحت کی بہترین سے بہترین سہولیات پہنچانےکے لیے خصوصی طور نگرانی کررہے ہیں

  • چھوٹے اور باریک بالوں سے پریشان خواتین خوش ہوجائیں

    چھوٹے اور باریک بالوں سے پریشان خواتین خوش ہوجائیں

    خوبصورت اور گھنے بال کرنا اب بس ایک خواب ہی نہیں اگر آپ مندرجہ ذیل طریقے استعمال کرتی ہیں تو آپ کے بال بھی گھنے اور لمبے ہو سکتے ہیں.

    بالوں کا کاٹنا:
    اگر آپ اپنے بالوں کی بہتر نشوونما چاہتے ہیں تویہ اس کا سب سے آسان طریقہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر 4 سے 8 ہفتوں کے دوران بال کٹوانے سے ان کی صحت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بالوں کو بڑھنے میں مدد ملتی ہے جب کہ اس طریقے سے بال مضبوط اور گھنے بھی ہوتے ہیں۔

    نیم گرم تیل سے مالش کرنا:
    کمزور بالوں سے نجات کے لیے سر پر نیم گرم تیل کی مالش بھی انتہائی مفید ہے اس سے نہ صرف نئے بال تیزی سے اگتے ہیں بلکہ انسان گنج پن سے بھی محفوظ رہتا ہے جب کہ بالوں کی خشکی سے محفوظ رہنے کے لئے بھی یہ طریقہ کارگر ہے۔ سر کی مالش کے لیے زیتون اور کھوپرے کا تیل زیادہ مفید ہوتا ہے۔

    بالوں میں انڈے کی زردی لگانا:
    سر میں انڈے کی زردی لگانے سے نہ صرف بال گھنے اور مضبوط ہوتے ہیں بلکہ اس سے بالوں کی چمک اور خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اس کے علاوہ یہ بالوں کی جڑوں کو بھی مضبوط بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔

    دن میں 50 بار کنگھا کرنا:
    اگر آپ اپنے بالوں کے مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے دن میں کم از کم 50 بار کنگھا ضرور کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سر میں کنگھا کرنے سے نہ صرف بالوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں بلکہ بالوں کا گرنا بھی کم ہوجاتا ہے۔

    جسمانی صحت کے اثرات:
    خون کی کمی یا جسمانی طور پر کمزور شخص کے بال کبھی بھی صحت مند توانا اور گھنے و سیاہ نہیں ہوں گے اس لیے صحت کی طرف توجہ ضروری ہے جب کہ اس سلسلے میں غذا میں موسمی پھل، سبزیاں، دودھ اور دہی کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔

  • چہرے کی پرکشش جلد کے لئیے بنائیے گھریلو کولنگ ماسک

    چہرے کی پرکشش جلد کے لئیے بنائیے گھریلو کولنگ ماسک

    گھر ہو یا آفس۔۔۔۔ گرمی کی شدت سے ہوئیں سب خواتین پریشان۔۔۔ چہرے کی نرم و نازک جلد اس گرمی سے کشش کھو بیٹھی۔۔۔ تو پریشان مت ہوں آئیے گھر پر ماسک تیارکیجئیے اور چہرے کی نازک جلد کو گرمی کے اثرات سے بچائیے۔۔۔۔
    گھر میں بنائے جانے والے ماسک کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ گھریلو ماسک ہر طرح‌کے کیمیکل سے پاک ہوتے ہیں. گھریلو ماسک پھلوں ، سبزیوں، انڈوں‌ سے تیار کئے جاتے ہیں. اس قسم کے ماسک کیلشئیم سے بھرپور اور جلد کےلئیے موزوں‌ہوتے ہیں. گرمیوں‌میں‌چہرے کو ٹھنڈک پہچانے اور جلد کو نرم و ملائم بنانے کے لئے زبردست نسخہ درج ذیل ہے.
    اجزاء
    چھوٹی الائچی ایک چائے کا چمچ
    بادام کاپیسٹ ایک چائے کا چمچ
    کافور ایک چائے کا چمچ
    ملتانی مٹی ایک چائے کا چمچ
    پودینا ایک چائے کا چمچ

    طریقہ
    ان تمام اجزاء کو پیس کر کسی پیالی میں ڈال لیں اور اس میں حسب ضرورت عرق گلاب یا پانی شامل کریں اور اس کا پیسٹ تیار کریں۔اب اسے چہرے پر لگائیں اور پندرہ منٹ لگا کر چہرہ دھو لیں۔ایک دن کے وقفے سے لگائیں۔دو دفعہ کے استعمال سے ہی آپ کی جلد نرم و ملائم اور خوبصورت ہو جائے گی. ان شاء اللہ

    اس ماسک کا کولنگ ایفیکٹ چہرے کی جلد کو گرمی کے اثرات سے بچاتا ہے. اس میں شامل بادام چہرے کی جلد کو شادابى دیتا ہے۔

    گھریلو ماسک استعمال کرنے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کی جلد کی نوعیت کیا ہے.یہ ماسک پسینے سے نجات اور ایکنی کے لئے بھی بہت اچھاہے لیکن ڈرائے سکن کی حامل خواتین استعمال نہ کریں۔ (more…)