Baaghi TV

Tag: صحت

  • چین میں نمونیا کی پراسرار وبا،سکول بند،عالمی ادارہ صحت بھی متحرک

    چین میں نمونیا کی پراسرار وبا،سکول بند،عالمی ادارہ صحت بھی متحرک

    چین میں نمونیا کی وباء پھوٹ پڑی جو کہ زیادہ تر بچوں کو متاثر کر رہی ہے۔

    عالمی ادارۂ صحت نے چین سے ملک کے شمال میں پھیلنے والی سانس کی بیماری اور بچوں میں نمونیا پھیلنے کے بارے میں مزید تفصیلات مانگ لی ہیں اور زور دیا ہے کہ انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں،

    چین سے کرونا کا آغاز ہوا تھا ،کرونا کے تباہ کن اثرات ابھی بھی باقی ہیں اور چین میں نئے کرونا مریض سامنے آ رہے ہیں، ایسے میں چین میں ایک اور بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے، چین کے سکولوں‌میں پراسرار نمونیا کے پھیلاؤ نے طبی ماہرین کو پریشان کر دیا ہے،جن بچوں کو نمونیا ہوا ہے انکو بیجنگ اور لیاؤنگ کے طبی مراکز میں داخل کروا کر علاج کیا جا رہا ہے، پراسرار نمونیا کے پھیلاؤ کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے ہیں، جن بچوں‌کو نمونیا ہوا ہے ان میں پھیپھڑوں میں سوجن اور بخار کی علامت ملی ہیں،ان بچوں میں کھانسی، فلو اور سانس کی بیماری کی علامات نہیں ملیں،

    دنیا میں انسانوں اور جانوروں کی بیماریوں کے پھیلنے کی نگرانی کرنے والے اوپن ایکسس سرولانس پلیٹ فارم پرو میڈ نے غیر تشخیص شدہ نمونیا کے حوالہ سے ایک انتباہ جاری کیا ہے،دسمبر 2019 کے آخر میں پرومیڈ نے نئے وائرس بارے ابتدائی وارننگ جاری کی تھی،اسکی شناخت سارس-سی او وی-2 (SARS-CoV-2) کے طور پر ہوئی تھی، پرومیڈ نے کہ تھا کہ یہ رپورٹ سانس کی ایک نامعلوم بیماری کے بڑے پیمانے پر پھیلنے سے خبردار کرتی ہے،

    عالمی ادارہ صحت نے بھی اس حوالہ سے بیا ن میں کہا کہ چین کو نمونیا کے حوالہ سے کلینیکل اور دیگر تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے جبکہ بیمار بچوں کے لیبارٹری ٹیسٹوں کے نتائج بھی دینے کا کہا گیا ہے.عالمی ادارے کی جانب سے چینی عوام پر زور دیا گیا کہ وہ نظام تنفس کے امراض سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں.

    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی

  • ملک میں ایک اور پولیو کیس، رواں سال تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 5  ہو گئی

    ملک میں ایک اور پولیو کیس، رواں سال تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 5 ہو گئی

    کراچی: ملک میں ایک اور پولیو کیس رپورٹ ہوا ہے-

    باغی ٹی وی: صوبائی وزارت صحت کے مطابق کراچی کےضلع شرقی میں 31 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی، بچے کو انسداد پولیو کی 3 خوراکیں دی گئی تھیں،متاثرہ بچےکا تعلق یونین کونسل گجرو سے ہے،یہاں کونسل گجرو سے رواں سال کاچوتھا کیس بھی رپورٹ ہوا تھا-

    دوسری جانب قومی انسداد پولیو مہم 13 نومبر سے شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا، قومی انسداد پولیو مہم تین مراحل میں مکمل ہو گی، پولیو مہم کا پہلا فیز 13 تا 17 نومبر کو شمالی وزیرستان میں چلے گا، پولیو مہم کا دوسرا فیز 20 تا 24 نومبر کو جنوبی خیبرپختونخوا کے 6 اضلاع میں چلے گا، قومی انسداد پولیو مہم کا تیسرا فیز 27 نومبر تا 3 دسمبر تک چلے گا، تیسرے مرحلے میں قومی انسداد پولیو مہم ملک بھر میں چلے گی، مہم میں 4 کروڑ 43 لاکھ 55341 بچوں کی پولیو ویکسی نیشن ہو گی۔

    سونے کی فی تولہ قیمت میں 2100 روپے کی کمی

    انگلینڈ کا پاکستان کو جیت کے لیے 338 رنز کا ہدف

    ڈی جی خان : ڈاکوؤں کی فائرنگ،سب انسپکٹر شہید،پولیس کے 3 جوان شدیدزخمی

  • مزید 6 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    مزید 6 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    کراچی: پاکستان کے مزید 6 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی: ترجمان وزارت صحت کے مطابق کراچی سے 4 اور چمن سے 2 نمونوں میں پولیو وائرس ملا ہے، پشاور،کوہاٹ اور نوشہرہ سے ایک ایک نمونے میں پولیو وائرس ملا، پولیو وائرس افغان میں وائی بی 2 اے وائرس کلسٹر سے تعلق رکھتا ہے، پولیو وائرس کی موجودگی سے ہر بچےکو خطرہ ہے،5 سال سے کم عمر کے بچوں کو یہ وائرس عمر بھر کے لیے معذور بناسکتا ہے-

    نگران وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم جان کا کہنا ہے کہ پولیو کا کوئی علاج نہیں، صرف ویکسین ہی بچوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے، پاکستان میں پولیو سرویلینس کا نظام مؤثرکام کر رہا ہے، حکومت پولیو کے خاتمےکے لیے مربوط بنیادوں پر اقدامات کو یقینی بنا رہی ہے۔

    چیف جسٹس نے اپنے متعدد انتظامی اختیارات رجسٹرارسپریم کورٹ کو تقویض کردیئے

    پولیو کیا ہے؟

    پولیو ایک انتہائی متعدی اور وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جو عام طور پر پانچ سال تک کے بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ پولیو کا وائرس ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہوسکتا ہے اور یہ پاخانے کے یا منہ کے راستے سے پھیلتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پولیو وائرس آلودہ پانی یا خوراک کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔ جسم میں داخل ہونے کے بعد وائرس انسانی آنتوں میں پھلنا پھولنا شروع کردیتا ہے جہاں سے یہ اعصابی نظام پر حملہ آور ہوکر فالج کا باعث بنتا ہے۔

    سونے کی قیمت میں کمی

    پولیو کی ابتدائی طور پر ظاہر ہونے والی علامات میں بخار، شدید تھکاوٹ ، سر درد، متلی یا قے ، گردن کا اکڑ جانا اور اعصابی درد شامل ہیں۔ چند کیسز میں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پولیو وائرس اعصابی نظام پر حملہ ہوکر فالج کی وجہ بنتا ہے اور پولیو وائرس کے حملے سے ہونے والا فالج مستقل ہوتا ہے۔ پولیو کا کوئی علاج نہیں۔ اس سے بچاؤ کا واحد راستہ پولیو ویکسین یعنی پولیو سے بچاؤ کے قطروں کا استعمال ہے۔

    2034 فیفا ورلڈ کپ، وژن 2030ء کی طرف گامزن سعودی عرب

  • امریکہ میں  نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں اضافہ

    امریکہ میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں اضافہ

    امریکہ میں گزشتہ دو دہائی سے زائد کے عرصے میں پہلی بار 2022 کے دوران نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں اضافہ ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکہ میں امراض کی روک تھام و تدارک مراکز کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 2022 کے دوران 20 ہزار 538 نوزائیدہ بچوں کی اموات ہوئیں جو کہ 2021 کی 19 ہزار 928 اموات کی نسبت 3 فیصد زائد ہےیہ پہلا سال ہے جس میں گزشتہ برس کی شرح اموات میں اضافہ ہوا۔

    اس میں 28 دن سے کم عمر میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں 3 فیصد جبکہ 28 سے 364 دن تک کی شرح اموات میں 4 فیصد اضافہ ہوا،زچگی کی پیچیدگیوں جیسے پریکلیمپسیا یا قبل ازوقت زچگی اور بیکٹیریل اسیپسس کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں کی اموات میں بالترتیب 8 فیصد اور 14 فیصد اضافہ ہوا۔

    امریکی اکیڈمی برائے امراض اطفال کے صدر سینڈی ایل چھونگ نے بتایا کہ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں اضافہ پریشان اور مایوس کن ہے۔ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں وافر وسائل ہیں اس کے باوجود امریکہ میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات حیران کن حد تک زیادہ ہے۔

    سینڈی ایل چھونگ نے بتایا کہ اس کی کئی مختلف وجوہات ہیں غربت کا شکار خاندانوں کو غذائیت سے بھرپور خوراک اور سستی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی سمیت بہت سی مشکلات کا سامنا ہے قابل رسائی صحت کی دیکھ بھال میں نسلی اور گروہی تعصب، قبل از پیدائش صحت خدمات ، بچوں کے پیدائشی وزن میں کمی اور بعض اوقات نوزائیدہ بچوں کی اموات اس کی ممکنہ وجوہات میں سے ایک ہیں۔

  • ڈراؤنی فلمیں صحت کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہیں،ماہرین نفسیات کا دعویٰ

    ڈراؤنی فلمیں صحت کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہیں،ماہرین نفسیات کا دعویٰ

    ایڈنبرا:ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈراؤنی فلمیں صحت کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔

    باغی ٹی ویِِ :ماہرین نفسیات نے دعویٰ کیا ہے کہ ہارر فلمیں دراصل کسی فرد کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں کیونکہ یہ اینڈورفنز اور انعامی ہارمون ڈوپیمائن کے اخراج کے ذریعے تناؤ اور درد سے نجات کو فروغ دیتی ہیں۔

    ایک تحقیق کے مطابق ہالی ووڈ فلموں ’’دی ایگزورسسٹ‘‘ یا ’’دی نن‘‘ جیسی دیگر ڈراؤنی فلمیں دماغ میں ایسے کیمیا کے اخراج کا سبب بنتی ہیں جو ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں ایڈنبرا کی کوئن مارگریٹ یونیورسٹی کی نیورو سائیکولوجسٹ ڈاکٹر کرسٹن نولیس کے مطابق ڈراؤنی فلمیں انڈورفِنز اور ڈوپیمائن کی پیداوار میں مدد دیتی ہیں جو خوشی کے احساس اور دباؤ سے نجات سے تعلق رکھتے ہیں،درد سے خلفشار بھی ایک ممکنہ وضاحت ہے، کیونکہ توجہ اور توانائی کے وسائل خطرے کی تشخیص اور دیگر جسمانی افعال سے دور ہو جاتے ہیں-

    فضائی آلودگی سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    انہوں نے بتایا کہ خوف اور تجسس کے ردِ عمل میں ہمارا جسم ایڈرینیلن ہارمونز کی پیداوار کو بڑھا دیتا ہے جو جسم کے توانائی کے ذرائع کو حرکت دیتے ہیں، اس کے ساتھ دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے اور توجہ یکسو ہوجاتی ہے، فلم کے اختتام میں جب تناؤ ختم ہوتا ہے تو یہ کیفیت خوشی میں بدل جاتی ہے، مثال کے طور پر اسکائی ڈائیونگ جو خوف ناک ہونے کے ساتھ پُر لطف بھی ہوتی ہے اینڈورفنز وہ ہارمون ہوتے ہیں جنہیں جسم ہمیں خوشی محسوس کرنے کے لیے بناتا ہے، دماغ یہ ہارمون کھانے اور ورزش کے دوران بنانے کے ساتھ تکلیف اور دباؤ کے احساس پر بھی بناتا ہے۔

    سنگا پور :طالبہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے پر بھارتی شہری کو قید اور …

  • ایندھن کی کمی؛ غزہ ،    انکیوبیٹرز میں  120 نوزائیدہ بچے خطرے میں

    ایندھن کی کمی؛ غزہ ، انکیوبیٹرز میں 120 نوزائیدہ بچے خطرے میں

    اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسیف کے ترجمان نے غزہ میں بچوں کی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے اسپتالوں میں 120 نوزائیدہ بچے انکیوبیٹرز میں ہیں، ایندھن کی کمی سےاسپتالوں کا آپریشن معطل ہونے پر ان بچوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے جبکہ یونیسیف کے ترجمان جوناتھن کریکس نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ہمارے پاس اس وقت 120 نوزائیدہ بچے ہیں جو انکیوبیٹرز میں ہیں، جن میں سے 70 نوزائیدہ بچے میکینکل وینٹیلیشن پر ہیں، اور اسی وجہ سے ہم انتہائی فکر مند ہیں۔


    جبکہ انہوں نے کہا کہ اگر مکینیکل وینٹیلیشن انکیوبیٹرز بچے میں رکھے ہوں اور بجلی کٹ جائے تو ہمیں ان کی زندگیوں کے بارے میں فکر ہے اور غزہ کی وزارت صحت نے ایک روز قبل کہا تھا کہ ایندھن کی کمی کی وجہ سے 130 قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی موت کا خطرہ ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیخلاف کیس، نو مزید ملزمان نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا
    عون چودھری کی نواز شریف کے استقبال کرنے پر وضاحت
    ایوارڈ شوز میں‌ریما ریشم نرگس سے گانوں پر پرفارم کروانا چاہیے یاسر حسین
    تاہم اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق، غزہ میں ہر روز تقریباً 160 خواتین بچے کو جنم دیتی ہیں، جس کے اندازے کے مطابق 2.4 ملین آبادی والے علاقے میں 50,000 حاملہ خواتین ہیں اور اقوام متحدہ کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں صرف 3 دن کا ایندھن بچا ہے، ایندھن کے بغیر نہ پانی ہوگا اور نہ خوراک، اسپتال بھی کام کرنا بند کردیں گے، انسانی امداد رک جائے گی۔

  • چار ضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    چار ضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق

    پاکستان کے 4 اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور ترجمان وزارتِ صحت کا بتانا ہے کہ تمام نمونوں میں ملے وائرس کا تعلق افغانستان میں پولیو وائرس کلسٹر سے ہے جبکہ نگران وزیر صحت ندیم جان کا کہنا ہے کہ اب پاکستان میں 43 مثبت ماحولیاتی نمونے رپورٹ ہوئے ہیں جو بہت ہی خطرناک ہے۔

    واضح رہے کہ نگران وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان میں دنیا کا حساس ترین پولیو سرویلنس نظام قائم ہے، نمونوں میں وائرس کی تصدیق ظاہر کرتی ہے کہ یہ نظام مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے
    مزید یہ بھی پڑھیں:
    بنگلورو میں دھماکہ؛ کیا اب ورلڈ کپ کا شیڈولڈ میچ ہوپائے گا
    جناح ہائوس حملہ کیس، خدیجہ شاہ سمیت 6 ملزمان کی ضمانت منظور
    کسان، مزدور اور قوم پیپلزپارٹی سے امیدیں لگائے بیٹھی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری
    انٹر بینک؛ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں پھر اضافہ
    خیال رہے کہ ندیم جان کا کہنا تھا کہ ماحول میں وائرس کی موجودگی ہر بچے کے لیے خطرناک ہے اور پولیو لا علاج ہے جو صرف ویکسین ہی بچوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے لہذا ہم نے رواں سال کئی پولیو مہمات کا انعقاد کیا ہے، نومبر میں جن علاقوں میں وائرس ہوگا وہاں انسداد پولیو مہم میں ویکسین دیں گے۔

    یاد رہے کہ اس سال گزشتہ اکتوبر میں پولیو کا تیسرا کیس سامنے آیا تھا، جبکہ وفاقی حکام کے مطابق خیبر پختونخواکے ضلع بنوں کی یونین کونسل گھوڑا بکا خیل میں ایک ڈیڑھ سالہ بچی پولیو وائرس کے نتیجے میں معذور ہوگئی تھی۔

  • دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت

    دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت

    واشنگٹن میں ماہرین طب نے دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت کی ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ہر 3 میں سے ایک شخص کو اس سے خطرہ لاحق ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن نے پہلی بارکارڈیو ویسکیولر-کڈنی میٹابولک سنڈروم یا ’سی کے ایم‘ کوبیان کیا اس حوالےسے جاری کی جانے والی ایڈوائزری کے مطابق، اس بیماری کو پہچاننے کا مقصد "سی کے ایم” سے متاثر لوگوں کے لیے شروع میں ہی اس کی تشخیص اورعلاج حاصل کرنا ہے جو دل کی بیماری سے مرنے کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔

    بالٹی مور کی جان ہاپکنز یونیورسٹی میں کارڈیالوجی کے شعبے میں موٹاپے اور کارڈیو میٹابولک ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر چیاڈی ای نڈومیلے نے کہا کہ دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد کی تعداد کو کم کرنا ہمارا بنیادی مقصد ہے اگرچہ کارڈیو ویسکیولر، کڈنی، میٹابولک سنڈروم( سی کے ایم ) سنڈروم صحت عامہ کی ایک ہنگامی صورتحال ہے، آبادی میں سی کے ایم صحت کو بہتر بنانے کے بھی بہت زیادہ امکانات ہیں، علاج کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ جو میٹابولک خطرے کے عوامل، گردے کے منفی واقعات کا خطرہ، یا دونوں، جو سی وی ڈی کے خلاف بھی تحفظ فراہم کرتے ہیں-

    کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ،کہیں زمیں کہیں آسماں نہیں ملتا

    اے ایچ اےصدارتی مشاورتی اور اس کے ساتھ سائنسی بیان، جو سی کے ایم کے سائنس اور طبی انتظام کے ثبوت کا خلاصہ فراہم کرتا ہے، 9 اکتوبر کو جرنل سرکولیشن میں آن لائن شائع ہوا۔

    بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق دل کے امراض پر تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ کارڈیو ویسکیولر، کڈنی، میٹابولک سنڈروم (سی کے ایم) ذیابیطس کے ٹائپ 2، گردے اور موٹاپے جیسے امراض اور دل کے امراض کے درمیان ایک تعلق ہوتا ہے بظاہر اسے کوئی نیا مرض نہیں کہہ سکتے لیکن اسے ایک نئے انداز سے دیکھنا چاہیے کہ یہ کس طرح ایک دوسرے کومتاثر کرتے ہیں۔

    امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ہر3 میں سے ایک شخص میں ایک سے زیادہ مرتبہ اس خطرے کے عوامل پائے جاتے ہیں جو ان کی اس کیفیت میں مبتلا ہونے کے خطرات کو بڑھا دیتے ہیں سی کے ایم کے متعلق بتانے کا مقصد دل کے امراض سے موت واقع ہونے کے خطرے سے دوچار افراد میں بیماری کی جلد تشخیص ہے تاکہ وہ اس کا بروقت علاج کر سکیں۔

    ورلڈکپ: جنوبی افریقہ کی آسٹریلیا کیخلاف بیٹنگ جاری

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیج 1 میں وہ افراد آتے ہیں جن کا وزن زیادہ ہوتا ہے بالخصوص پیٹ کی چکنائی کا زیادہ ہونا یا پری ڈائبیٹیز کے مرحلے میں ہونا، اسٹیج 2 میں لوگوں کو بلند فشار خون اور ٹائپ 2 ذیابیطس جیسی بیماریاں شروع ہوجاتی ہیں اس وقت ممکنہ طور پر گردے کا مرض بھی ہوسکتا ہے،اسٹیج 3 میں میٹابولک خطرے کے عوامل جیسے ہائی بلڈ پریشراورابتدائی دل کی بیماری یا گردے کی بیماری والے افراد شامل ہیں جن میں ابھی تک علامات نہیں ہیں.

    بڑھتے ہوئے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ میٹابولک خطرے کے عوامل جیسے پیٹ کی چربی، ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور ہائی بلڈ شوگر جسم کے دیگر اعضاء کو کس طرح منفی طور پر متاثر کرسکتے ہیں90 فیصد سے زیادہ بالغ افراد ’سی کے ایم‘ کی رینج میں آتے ہیں، ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ بالغوں اور بچوں میں موٹاپے اور ٹائپ 2 ذیابیطس کی ریکارڈ سطح ہے۔

    نواز شریف کا سعودی عرب میں والہانہ استقبال

  • نزلہ زکام کی علامات کئی ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہیں،تحقیق

    نزلہ زکام کی علامات کئی ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہیں،تحقیق

    ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ نزلہ زکام(جسے طبی زبان میں کولڈ کہا جاتا ہے) کی علامات کئی ہفتوں تک سامنے آسکتی ہیں۔

    باغی ٹی وی: جرنل لانسیٹ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ لانگ کووڈ کی طرح لانگ کولڈ بھی موجود ہے، لانگ کووڈ سے مراد کووڈ کی علامات کا دورانیہ کئی ہفتوں یا مہینوں تک برقرار رہنا ہے،اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ نظام تنفس کے امراض جیسے عام نزلہ زکام کی علامات بھی ابتدائی بیماری کے بعد کئی ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہیں-

    برطانیہ کی کوئین میری یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 10 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا دوران تحقیق یہ دیکھا گیا کہ نظام تنفس کے امراض سے طویل المعیاد بنیادوں پر صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ عام نزلہ زکام سے بھی صحت پر طویل المعیاد بنیادوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جن کے بارے اب تک علم نہیں تھا البتہ تحقیق میں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ لانگ کولڈ کا دورانیہ کتنا طویل ہو سکتا ہے تاہم تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 کے 22 فیصد مریضوں کو طویل المعیاد بنیادوں پر علامات کا سامنا ہوتا ہے جبکہ نظام تنفس کے دیگر امراض جیسے کولڈ، فلو اور نمونیا کے بھی 22 فیصد مریضوں کو طویل المعیاد بنیادوں پر علامات کا سامنا ہوتا ہے۔

    خلا میں آزاد گھومتے سیارہ مشتری کے حجم جتنے دو "سیارے” دریافت

    محققین نے بتایا کہ ابتدائی بیماری کے بعد بھی مختلف علامات کا سامنا ہونا غیرمعمولی نہیں بلکہ ایسا متعدد امراض کے شکار افراد کے ساتھ ہوتا ہے ابتدائی بیماری کے بعد متعدد مریضوں کو دائمی تھکاوٹ جیسے عارضے کا سامنا ہوتا ہے، مگر اس طرح کی علامات کی تشیص نہیں ہوتی مریضوں کو جن علامات کا زیادہ سامنا ہوتا ہے ان میں کھانسی، پیٹ درد اور ہیضہ قابل ذکر ہیں ابتدائی بیماری کی شدت طویل المعیاد علامات کے حوالے سے اہم ثابت ہوتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 اور نظام تنفس کے دیگر امراض کے طویل المعیاد اثرات کے حوالے سے تحقیق جاری ہے کیونکہ اس سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ آخر کچھ افراد دیگر کے مقابلے میں زیادہ وقت تک بیمار کیوں رہتے ہیں، اس سے متاثرہ افراد کے مناسب علاج کو شناخت کرنے میں بھی مدد ملے گی-

    ورلڈ کپ 2023: نیدرلینڈز کا نیوزی لینڈ کیخلاف ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ

  • نیپا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے. قومی ادارہ صحت

    نیپا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے. قومی ادارہ صحت

    قومی ادارہ صحت نے ملک میں نیپا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ظاہرکردیا ہے اور قومی ادارہ صحت نے وفاقی اور صوبائی ہیلتھ اتھارٹیوں کو نیپا وائرس کا انتباہی مراسلہ ارسال کردیا ہے جبکہ قومی ادارہ صحت کا کہنا ہےکہ بھارتی سرحدی علاقوں میں موجود چمگادڑ سے نیپا وائرس پاکستان منتقل ہوسکتا ہے، متاثرہ چمگادڑ کے کھائے پھل سے نیپا وائرس انسان میں منتقل ہوسکتا ہے۔

    علاوہ ازیں قومی ادارہ صحت کے مطابق نیپا وائرس متاثرہ چمگادڑ اور سور سے انسان میں منتقل ہوتا ہے اور قومی ادارہ صحت کا کہنا ہےکہ نیپا وائرس کی علامات 5 تا 14 دن تک رہ سکتی ہیں،سر درد، بخار اور سانس لینے میں دشواری نیپا وائرس کی علامات ہیں، جی متلانا، قے، پٹھوں میں درد اور غنودگی بھی نیپا وائرس کی علامات ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ‎‎مارینا ایوانوونا تسوتایوا م کو بیسویں صدی کے روسی ادب میں نمایاں مقام حاصل

    نیب کا انٹیلی جنس ماہرین بھرتی کرنے کا فیصلہ
    سولرپینلز کی مزید 6 فرضی کمپنیاں بے نقاب،13 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا انکشاف
    آسٹریلیا کی بھارت کے خلاف بیٹنگ جاری،8 کھلاڑی آؤٹ
    تاہم خیال رہے کہ قومی ادارہ صحت نےکہا ہےکہ ائیرپورٹ اور سرحدی مقامات پر مؤثرسرویلینس یقینی بنائی جائے، نیپا وائرس کے علاج کے لیے اینٹی وائرل یا ویکسین دستیاب نہیں ہے، واضح رہےکہ بھارت میں نیپا وائرس کے متعدد کیس سامنے آئے ہیں، یہ کیس جنوبی ریاست کیرالہ میں سامنے آئے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کیرالا میں مہلک وبائی وائرس نیپا سے اب تک متعدد افراد ہلاک جب کہ 700 سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔