Baaghi TV

Tag: صحت

  • کراچی میں منکی پاکس  کے پہلے کیس کی تصدیق

    کراچی میں منکی پاکس کے پہلے کیس کی تصدیق

    کراچی میں منکی پاکس وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق ہوگئی۔

    باغی ٹی وی: محکمہ صحت سندھ نے کراچی میں منکی پاکس کے پہلے کیس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب سے آنے والے مسافر میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    منکی پاکس کے بعد کانگو وائرس، پاکستان میں ایک موت

    محکمہ صحت سندھ کے مطابق جدہ سے کراچی آنے والے مسافر کو منکی پاکس کی علامات کے سبب قرنطینہ کرکے خون کے نمونے لیب ٹیسٹ کے لئے بھیج گئے مسافر کو 7 دن سے بخار ہے اور اس کے جسم پر سُرخ دھبے، دانے نمودار ہو ئے تھے-

    منڈی بہاوالدین میں منکی پاکس کیس رپورٹ

    محکمہ صحت کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی میں 4 افراد کے منکی پاکس سے متعلق ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے تین افراد میں منکی پاکس کے شواہد نہیں ملے البتہ سعودی عرب سے آنے والے مسافر میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی ہے جسے علاج کیلئے جناح اسپتال میں داخل کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں کراچی میں منکی پاکس کے چار سے زائد مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے جن کی لیب رپورٹس میں منکی پاکس کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔

    پاکستان میں منکی پاکس کے دو مریض صحتیاب،دو مشتبہ کیس رپورٹ

  • منڈی بہاوالدین میں منکی پاکس کیس رپورٹ

    منڈی بہاوالدین میں منکی پاکس کیس رپورٹ

    قومی ادارہ صحت نے پنجاب میں منڈی بہاوالدین میں منکی پاکس کیس سامنے آگیا-

    باغی ٹی وی : منڈی بہاؤالدین سے منکی پاکس کا کنفرم کیس سامنے آگیا ہے، جس کے بعد قومی ادارہ صحت نے پنجاب میں تیسرا منکی پاکس کیس کنفرم کردیا ہے وزیر صحت پنجاب جاوید اکرم نے بتایا کہ منڈی بہاؤلدین کا رہائشی بیرون ملک سے ٹریول کر کے پاکستان آیا-

    ملک میں منکی پاکس کی روک تھام کیلئے تمام ائیر پورٹس پر”ہیلتھ ایمرجنسی” نافذ

    وزیر صحت پنجاب نے بتایا کہ ڈی ایچ کیو اسپتال منڈی بہاؤالدین سے سیمپل این آئی ایچ اسلام آباد بھیجا گیا، اور این آئی ایچ نے منکی پاکس کیس کو کنفرم قرار دے دیا مریض کی حالت خطرے سے باہر سے ہے، اور اس نےگھر میں آئسولیشن اختیار کی ہوئی ہےہم مریض کا پنجاب کی لیب سے دوبارہ ٹیسٹ کروا رہے ہیں۔

    وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم نے بتایا کہ پنجاب میں منکی پاکس کے7 مشتبہ کیسز ہیں، جن کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

    پاکستان میں منکی پاکس کے دو مریض صحتیاب،دو مشتبہ کیس رپورٹ

    قبل ازیں لاہور میں منکی پاکس کے دو مشتبہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں، دونوں مریض جنرل اسپتال میں زیر علاج ہیں، جنرل اسپتال انتظامیہ کے مطابق ایک خاتون اور ایک مرد میں منکی پاکس کی علامات سامنے آئی ہیں 40 سالہ خاتون اور 55 سالہ مرد کو بخار کے ساتھ جسم پر سرخ دھبے ہیں، ایک مریض کے جسم پر چھالے بھی ہیں دونوں مشتبہ کیسز کا منکی پاکس کا ٹیسٹ ہونے سے مرض کی تصدیق ہوگی، دونوں مریض گزشتہ روز سے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    آئی پی ایل:میچ میں تلخ کلامی، گوتم گھمبیر،نوین الحق اورویرات کوہلی پر کتنا جرمانہ عائد

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں چکن پاکس کے کیسز کو منکی پاکس تصور کیا جا رہا ہے وفاقی وزارتِ صحت کو چکن پاکس کے بڑھتے کیسز کا نوٹس لینا چاہیےجبکہ نگران وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق منکی پاکس کی ویکسین پاکستان میں موجود نہیں ہے۔

  • شادی کے بعد اکثر جوڑوں کا جسمانی وزن کیوں بڑھ جاتا ہے؟

    شادی کے بعد اکثر جوڑوں کا جسمانی وزن کیوں بڑھ جاتا ہے؟

    ایسا اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ شادی کے بعد جوڑوں کا جسمانی وزن بڑھ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: متعدد تحقیقی رپورٹس میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ شادی کے بعد جوڑوں کے جسمانی وزن میں اضافے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے امریکا کی نارتھ کیرو لائنا کی ایک تحقیق میں 8 ہزار سے زائد جوڑوں کے جسمانی وزن کا جائزہ لیا گیا اور نتیجہ نکالا کہ شادی شدہ خواتین کا وزن شادی کے اولین 5 سے 6 سال کے دوران اوسطاً 10 کلو تک بڑھ سکتا ہے۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں لیبر ڈے منایا جا رہا ہے

    مگر یہ معاملہ خواتین تک محدود نہیں بلکہ مردوں کے جسمانی وزن میں بھی اضافہ ہوتا ہےایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اپنی شادی سے خوش نوبیاہتا جوڑوں کے جسمانی وزن میں اضافے کا امکان زیادہ ہوتا ہےتحقیق میں بتایا گیا کہ شادی شدہ مردوں کا بھی وزن بڑھتا ہے اورمحض 2 سال کے اندر ہی جسمانی وزن میں 5 کلو یا اس سے زائد اضافہ ممکن ہےمگرایسا بیوی سے اچھے تعلق سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

    اسی طرح امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ کی ایک تحقیق میں بھی نوبیاہتا جوڑوں اورجسمانی وزن میں اضافے کےدرمیان تعلق کو دریافت کیا گیا اس تحقیق کے دوران ایسے جوڑوں کا جائزہ 4 سال سے زائد عرصے تک کیا گیا اورمعلوم ہوا کہ خوش باش جوڑوں میں جسمانی وزن میں اضافے کاامکان دیگر کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔

    محققین کا کہنا تھا کہ اچھا ازدواجی تعلق لوگوں کو اپنے جسمانی وزن سے بے پروا کردیتا ہے کیونکہ وہ زندگی سے خوش ہوتے ہیں۔

    ڈرپ کی بجائے اینٹی بایوٹکس کھانا زیادہ مفید،تحقیق

    طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع ایک تحقیق میں یہ دلچسپ انکشاف کیا گیا کہ شادی شدہ جوڑوں میں جسمانی وزن میں اضافہ چھوت کی طرح ایک سے دوسرے میں پھیلتا ہے-

    تحقیق کے مطابق اگر شوہر یا بیوی کا وزن بڑھتا ہے تو اس بات کا امکان 37 فیصد بڑھ جاتا ہے کہ اس کے شریک حیات کا وزن بھی بڑھے گا، جس کی وجہ جوڑوں کی عادات یکساں ہونا ہے۔

    آسٹریلیا کی کوئنز لینڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جوڑوں میں جسمانی وزن بڑھنے کا امکان تنہا افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، چاہے ان کا طرز زندگی صحت مند اور غذا صحت بخش ہی کیوں نہ ہو۔

    محققین نے اس کی ایک دلچسپ وجہ بھی بتائی ہے اور وہ یہ کہ شادی کے بعد لوگوں کو اپنے شریک حیات کو مزید متاثر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، لہذا ان کا جسم پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔

    ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو …

    تحقیق میں بتایا گیا کہ جب جوڑوں کو لگتا ہے کہ اب انہیں زیادہ خوبصورت نظر آنے کی جرورت نہیں، تو وہ زیادہ کھانے سے گریز نہیں کرتے یا چربی اور چینی سے بھرپور غذا کا زیادہ استعمال کرنے لگتے ہیں، جبکہ جسمانی وزن کنٹرول میں رکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ جسمانی وزن کو معمول پر رکھنے کے طبی فوائد کو پیش نظر رکھ کر لوگ شادی کے بعد بھی موٹاپے کی روک تھام کرسکتے ہیں۔

    موٹاپا کیوں ہوتا ہے؟ تو اس کی متعدد وجوہات ہوتی ہیں جو جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔

    تحقیقی رپورٹس کے مطابق اپنے رشتے سے مطمئن جوڑوں کے جسمانی وزن میں اس لیے اضافہ ہوتا ہے کیونکہ ان میں وزن کو مستحکم رکھنے کی خواہش گھٹ جاتی ہے۔ماہرین کی جانب سے بیان کی جانیوالی وجوہات میں اول نمبر پرکھانےکےلیے اکثر باہر جانا جبکہ دوسرے نمبر پر غذائی عادات میں تبدیلی ہے شادی کے بعد جب جوڑے نئی زندگی کا آغاز کرتےہیں تو دعوتیں بہت زیادہ ہوتی ہیں اس بات کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ کھالیں عام طور پر شادی شدہ افراد پہلے کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں کھانے لگتے ہیں۔

    دہی پر کی گئی نئی تحقیق میں دہی کے مزید حیران کن فوائد سامنے آ …

    اگر شادی سے پہلے لوگ روزانہ چہل قدمی کرنے کے عادی ہوتے ہیں تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ شادی کے بعد یہ عادت ختم ہو جائے گی یعنی صحت یا جسمانی وزن کا خیال رکھنا ترجیحات کا حصہ نہیں رہتا بلکہ نئی زندگی کو مستحکم بنانا زیادہ اہم محسوس ہوتا ہے۔

    اکثر افراد زندگی میں آنے والی بڑی تبدیلی کے خود کو تیار نہیں کر پاتے اور انہیں ڈر ہوتا ہے کہ ان کے بارے میں شریک حیات کی رائے خراب نہ ہوایسے افراد تناؤ کا شکار ہوکر ضرورت سے زیادہ کھانے لگتے ہیں اور جسمانی وزن میں اضافہ ہو جاتا ہے-

  • ڈرپ کی بجائے اینٹی بایوٹکس کھانا زیادہ مفید،تحقیق

    ڈرپ کی بجائے اینٹی بایوٹکس کھانا زیادہ مفید،تحقیق

    واشنگٹن: ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ڈرپ کی بجائے اینٹی بایوٹکس کھانا زیادہ مفید ثابت ہوسکتا ہے-

    باغی ٹی وی: ماہرین نےایک تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ اینٹی بایوٹکس ادویہ اگر ڈرپ یا انجیکشن سے دینے کی بجائے کھلائی جائیں تو اس سے مریضوں کو ہسپتال میں رکنے کا وقفہ کم کیا جاسکتا ہے، مریض تیزی سے تندرست ہوسکتا ہے اور ہسپتال کا خرچ کم کیا جاسکتا ہے۔

    ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو …

    نمونیا کے مریض اگر انجیکشن کی بجائے اینٹی بایوٹکس ادویہ کھائیں تو وہ نہ صرف تیزی سے ٹھیک ہوسکتے ہیں بلکہ اضافی اخراجات بھی کم کرسکتے ہیں اس ضمن میں انفیکشیئس ڈیزیزز سوسائٹی آف امریکا (آئی ڈی ایس اے) نے بڑے پیمانے پر مطالعہ کرکے یہ بات کہی ہے۔

    ماہرین نے ذیابیطس پھیلنے کی اہم وجہ دریافت کر لی

    ماہرین نے 2010 سے 2015 تک امریکا بھر کے 642 ہسپتالوں کا جائزہ لیا گیا ہے جن مریضوں نے مرض کی تشخیص سے تین دن کے اندر اندر منہ سے ادویہ کھانا شروع کیں انہیں جلد عمل کرنے والےمریضوں میں شامل کیا گیااس طرح دیر سے رجوع کرنے والے مریضوں کی صحت، ہسپتال میں رہنے کے دورانیے ، آئی سی یو میں پہنچنے کے واقعات اور اموات کا بھی بغور جائزہ لیا گیا۔

    دہی پر کی گئی نئی تحقیق میں دہی کے مزید حیران کن فوائد سامنے آ …

    تحقیق میں معلوم ہوا کہ منہ سے اینٹی بایوٹکس کھانے والے افراد جلدی تندرست ہوئے اور ہسپتال سے اپنے گھر بھی جلد ہی روانہ ہوئے ماہرین نے کہا ہےکہ دنیا بھرمیں بالخصوص نمونیا کےمریضوں کے لیےنیا ضابطہ متعارف کیا جائے کہ وہ اینٹی بایوٹکس لگوانےکی بجائے کھانے کی جانب راغب ہوں۔

    کھانا پکانے کے دوران کی جانیوالی 7 معمولی غلطیاں جو صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ …

  • ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو کم کرتی ہے

    ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو کم کرتی ہے

    ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو کم کرتی ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے "بی بی سی” کے مطابق یہ بات برطانیہ میں ایک تحقیق میں سامنے آئی ہےیوکے ذیابطیس چیریٹی کی جانب سے یہ مشورہ دیا گیا ہےکہ سات گھنٹے کے اندر اندر ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی واک ذیابیطس ٹائپ ون کے مریضوں کے خون میں شوگر لیول کو بہتر بنا سکتی ہے یہ تحقیق کل 32 مریضوں پر کی گئی ہے۔

    وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

    ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں تقریباً چار لاکھ افراد ذیابیطس ٹائپ ون سے متاثر ہیں

    ذیابیطس یو کے میں ریسرچ کی سربراہ ڈاکٹر الزبتھ رابرٹسن کا کہنا ہےکہ ٹائپ 1 ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اپنے خون میں شوگر کی سطح پر نظر رکھنا ایک تھکا دینے والا کام ہو سکتا ہے تحقیق کے نتائج ظاہر کرتےہیں کہ طرز زندگی میں سادہ تبدیلیاں، جیسے کہ چلتے وقت فون پر بات نہ کرنا، ذیابطیس سےبچاؤ میں مدد فراہم کرتی ہیں ہم اس کے طویل مدتی اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کرنے کے لیے پرجوش ہیں-

    یونیورسٹی آف سنڈرلینڈ سے وابستہ اور اس تحقیق کے سرکردہ محقق ڈاکٹر میتھیو کیمبل کا کہنا ہے کہ وہ اس کم درجے کی سرگرمی کے ایسے نتیجے پر حیران ہیں ایکٹیویٹی اسنیکنگ‘ ٹائپ 1 ذیابیطس کے شکار لوگوں کے لیے ایک بڑی تبدیلی کا آغاز ہو سکتی ہے جو مزید باقاعدہ جسمانی ورزش کر سکتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کے لیے، یہ خون میں شوگر کی سطح کو باقاعدہ رکھنے کا ایک آسان طریقہ ہو سکتا ہے۔

    فرنچ فرائز کھانے سے نفسیاتی صحت پرمنفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،تحقیق

    اس ابتدائی مرحلے کے ٹرائل میں ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا 32 افراد نے دو دن تک سات گھنٹے بیٹھنے اور آدھے گھنٹے کے وقفے سے چلنے کی ورزش کی ایک سیشن میں انھوں نے وقفے وقفے سے واکنگ بریک لیا اور دوسرے سیشن میں وہ بیٹھے رہے ہر سیشن کے آغاز سے 48 گھنٹے تک ان کے بلڈ شوگر کی سطح کو باقاعدگی سے مانیٹر کیا گیا۔ اس دوران سب نے ایک جیسا کھانا کھایا اور ان کی انسولین کی مقدار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

    48 گھنٹے تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں پتا چلا کہ باقاعدگی سے چہل قدمی کرنے سے خون میں شوگر کی سطح کم رہتی ہے (6.9 ملی میٹر فی لیٹر) جبکہ مسلسل بیٹھے رہنے کے دوران یہ 8.2 ملی میٹر فی لیٹر تک رہتی ہے۔

    ڈاکٹر کیمبل کہتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کو ترغیب دینے کا یہ آسان طریقہ بہت بڑی آبادی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

    دہی پر کی گئی نئی تحقیق میں دہی کے مزید حیران کن فوائد سامنے آ گئے

    واضح رہے کہ جب جسم کا مدافعتی نظام لبلبہ کے انسولین پیدا کرنے والے خلیوں پر حملہ کرتا ہے تو اس حالت میں لبلبہ انسولین پیدا نہیں کر پاتا اور جسم ٹائپ 1 ذیابیطس کا شکار ہو جاتا ہےانسولین خون میں شوگر کی مقدار کو کنٹرول کرتی ہے۔ انسولین کی کمی کی وجہ سے خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو اس حالت سے بچنے کے لیےباقاعدہ وقفوں سےمصنوعی انسولین لینا پڑتی ہے اگر خون میں شوگر کی مقدار زیادہ دیر تک کم رہے تو مریض کو کئی خطرناک بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ اس میں گردے کی خرابی، بینائی کی کمی اور ہارٹ اٹیک شامل ہیں-

  • فرنچ فرائز کھانے سے نفسیاتی صحت پرمنفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،تحقیق

    فرنچ فرائز کھانے سے نفسیاتی صحت پرمنفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،تحقیق

    ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ فرنچ فرائز کھانے کا شوق رکھنے والوں کی نفسیاتی صحت پرمنفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : آلو ایک ایسی سبزی ہے جو تقریباً تمام سبزیوں میں ڈالی جاتی ہے جبکہ اس سے بنے فرنچ فرائز تو ہر عمر کے لوگوں میں مقبول ہیں تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ آلو سے بنے فرنچ فرائز دماغی صحت پرکوئی اچھا اثر نہیں ڈالتے۔

    وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق چین کے شہر ہانگزو میں کی جانے والی تحقیق میں ماہرین نے بتایا کہ تلی ہوئی اشیاء بالخصوص آلو زیادہ مقدارمیں کھانے سے انزائٹی (ذہنی بے چینی اورگھبراہٹ) کی شرح میں 25 فیصد اور ڈپریشن میں 7 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے، نوجوانوں میں یہ شرح بالخصوص خطرے کی علامت ہے۔

    تلی ہوئی غذائیں موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر صحت پر اثرات کے خطرے کے عوامل ہیں۔ پی این اے ایس جریدے میں پیر کو شائع ہونے والے مقالے کے مطابق یہ نتائج "ذہنی صحت کے لیے تلی ہوئی کھانے کی اشیاء کے انسانی صحت پر اثرات کوجاننے کے لئے بہت ضروری ہیں-

    تاہم، غذائیت کا مطالعہ کرنے والے ماہرین نے کہا کہ نتائج ابتدائی ہیں، اور یہ ضروری طور پر واضح نہیں ہے کہ تلی ہوئی غذائیں دماغی صحت کے مسائل کو جنم دے رہی تھیں، یا جو لوگ ڈپریشن یا اضطراب کی علامات کا سامنا کر رہے تھے وہ تلے ہوئے کھانوں کی طرف متوجہ ہوئے-

    دہی پر کی گئی نئی تحقیق میں دہی کے مزید حیران کن فوائد سامنے آ گئے

    گھی یا تیل میں فرائی کی جانے والی یہ اشیاء موٹاپا بڑھانے کے علاوہ بلڈ پریشر اور صحت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہیں اس ریسرچ میں 11 سال سے زائد عمر کے ایک لاکھ 40 ہزار 728 افراد کا جائزہ لیا گیا تھا جس کے مطابق پہلے 2 سال میں فرنچ فرائز سمیت دیگر تلی ہوئی اشیاء کھانے سے 8 ہزار 294 افراد میں انزائٹی اور 12 ہزار735 افراد میں ڈپریشن رپورٹ ہوا جب کہ خاص طور پر تلے ہوئے آلوؤں میں ڈپریشن کے خطرے میں 2 فیصد اضافہ پایا گیا۔ذہنی صحت کے لیے تلی ہوئی چیزوں کا استعمال کم سے کم کرناچاہیے۔

    سی این این کے مطابق ژی جیانگ یونیورسٹی کے محقق اورمذکورہ تحقیق کے مصنف یو ژانگ کا کہنا ہے کہ، ’تلی ہوئی اشیاء سے نفسیاتی صحت پر منفی اثرات پڑتے ہیں لیکن ان سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، تاہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ صحت بخش زندگی اور اچھی دماغی صحت کیلئے ان کا استعمال کم سے کم ہو۔

    لاعلاج سمجھے جانیوالے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن

    ڈاکٹر ڈیوڈ کٹز، طرز زندگی کے ادویات کے ماہر، جو اس مطالعہ میں شامل نہیں تھے، نے ای میل میں کہا کہ اس مطالعے کا انسانی جزو اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے تلی ہوئی خوراک کا زیادہ استعمال اضطراب/ڈپریشن کا خطرہ بڑھاتا ہے-

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھرمیں 5 فیصد نوعمر فراد ڈپریشن کا شکارہیں رپورٹ کے مطابق سال 2020 کے دوران دنیا بھرمیں انزائٹی کی شرح میں 27.6 اور ڈپریشن کی شرح میں 25.6 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

    ماہرین نے ذیابیطس پھیلنے کی اہم وجہ دریافت کر لی

  • وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

    وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

    ایک تحقیق میں ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ 2018 میں خراب غذا کے سبب 1 کروڑ 41 لاکھ افراد ٹائپ 2 ذیا بیطس میں مبتلا ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر میڈیسن میں شائع کردہ تحقیق کے مطابق 1990 سے 2018 کے درمیان کیے جانے والے تجزیے میں عالمی سطح پر دیکھا گیا کہ وہ کونسے غذائی عوامل تھے جو اتنے بڑے پیمانے پر ٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنے تحقیق کے نتائج 184 ممالک کی غذائی مدخل کے تحقیقی ماڈل پر مبنی ہیں جو امریکا میں قائم ٹفٹس یونیورسٹی کے فرائیڈمین اسکول آف نیوٹریشن سائنس اینڈ پولیسی کے محققین نے بنایا تھا۔

    دہی پر کی گئی نئی تحقیق میں دہی کے مزید حیران کن فوائد سامنے آ گئے

    درحقیقت، مطالعہ کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2018 میں دنیا بھرمیں ٹائپ 2 ذیابیطس کے 10 میں سے 7 کیسز کا تعلق کھانے کے ناقص انتخاب سے تھا 2018 میں ناقص خوراک کی وجہ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کے 8.6 ملین مزید کیسز سامنے آئے، اس تحقیق میں پتا چلا۔

    سائنس دانوں نے بتایا کہ تحقیق میں 11 غذائی عوامل میں سے تین عوامل ایسے پائے گئے جںہوں نے عالمی سطح پر ٹائپ 2 ذیا بیطس کی شرح میں اضافے میں کردارادا کیاان عوامل میں ثابت اناج جیسے کہ جو اورثابت گندم کا ناکافی استعمال، چھنے ہوئے چاول اور گندم کا زیادہ استعمال اور پروسیسڈ گوشت کا ضرورت سے زیادہ استعمال تھے۔

    اس بیماری کے 60 فیصد سے زیادہ عالمی خوراک سے منسوب کیسز صرف چھ نقصان دہ غذائی عادات کے زیادہ استعمال کی وجہ سے تھے: بہت زیادہ بہتر چاول، گندم اور آلو کھانا؛ بہت زیادہ پروسیس شدہ اور غیر پروسس شدہ سرخ گوشت؛ اور بہت زیادہ چینی والے میٹھے مشروبات اور پھلوں کا رس پینا-

    ماہرین نے ذیابیطس پھیلنے کی اہم وجہ دریافت کر لی

    محققین نے پایا کہ بہت زیادہ غیر صحت بخش غذائیں کھانا عالمی سطح پر صحت بخش غذا نہ کھانے سے زیادہ ٹائپ 2 ذیابیطس کا باعث بنتا ہے، خاص طور پر مردوں کے لیے خواتین کے مقابلے میں، بوڑھے بالغوں کے مقابلے میں کم عمر، اور شہری بمقابلہ دیہی باشندوں میں۔

    تحقیق کے نتائج کے مطابق پھلوں کا رس پینے اور کم نشاستے والی سبزیوں، گری دار میووں یا بیجوں کی ناکافی کھپت کے اس بیماری کے نئے کیسز پر انتہائی کم اثرات تھے۔

    ٹفٹس یونیورسٹی میں غذائیت کے پروفیسراوربوسٹن کےٹفٹس سکول آف میڈیسن میں میڈیسن کےپروفیسرسینئر مصنف ڈاکٹردریوش مظفریان کہتے ہیں کہ ہمارا مطالعہ بتاتا ہے کہ کاربوہائیڈریٹ کا ناقص معیار عالمی سطح پر خوراک سے منسوب ٹائپ 2 ذیابیطس کا ایک اہم محرک ہے-

    لاعلاج سمجھے جانیوالے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن

    تحقیق کے سینئر مصنف دریوش مظفرین کا کہنا تھا کہ نتائج میں ایسے علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں غذا کی بہتری اور ذیا بیطس کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی سطح پر توجہ کرنی ہوگی۔

    ٹفٹس ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن لیٹر کے چیف ایڈیٹر مظفرین نے کہا کہ یہ نئی دریافتیں غذائیت کو بہتر بنانے اور ذیابیطس کے تباہ کن بوجھ کو کم کرنے کے لیے قومی اور عالمی توجہ کے لیے اہم شعبوں کو ظاہر کرتی ہیں-

  • دہی پر کی گئی نئی تحقیق میں دہی کے مزید حیران کن فوائد سامنے آ گئے

    دہی پر کی گئی نئی تحقیق میں دہی کے مزید حیران کن فوائد سامنے آ گئے

    ماہرین کی جانب سے دہی پر کی گئی حال میں نئی تحقیق میں حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں-

    باغی ٹی وی : ماہرین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ صحت کیلئے مفید بیکٹیریا سے بھرپور غذائیں کھانے سے بلڈ پریشر, شوگر کی سطح کو کم کرنے، سوزش کم کرنے اور صحت مند وزن کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

    ماہرین نے ذیابیطس پھیلنے کی اہم وجہ دریافت کر لی

    تحقیق میں ماہرین نے پایا کہ خمیر شدہ کھانوں جیسے دہی اور دیگر غذاؤں میں موجود صحت بخش بیکٹیریا یا فنگس معدے کیلئے مفید ہے۔ مثال کے طور پر بیکٹیریا کی قسم جیسے Lactobacillus acidophilus انسولین کی حساسیت کو بہتر بنا سکتی ہیں اور Bifidobacterium bifidum ذہنی تناؤ سے پیدا ہونے والی معدے کی علامات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

    زندہ جرثوموں کے صحت سے متعلق فوائد کی وجہ سے انٹرنیشنل سائنٹیفک ایسوسی ایشن فار پروبائیوٹکس اینڈ پری بائیوٹکس (ISAPP) کے محققین نے اس حوالے سے بحث بھی کی کہ فائبر سے بھرپور کھانوں کی طرح ہی صحت بخش بیکٹیریا سے بھرپور غذاؤں کا روزانہ استعمال ہونا چاہیے۔

    لاعلاج سمجھے جانیوالے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن

    دہی کیلشیم سے بھرپور ، پروٹین اور پروبائیوٹک سے لیس دودھ سے بننے والی ایک بہترین غذا ہے۔دہی وہ غذا ہے جس کا استعمال سردی، گرمی ہر موسم میں کیا جاتا ہے ۔دہی کا استعمال انسانی صحت پر نہایت مثبت اثرات مرتب کرتا ہے-

    دہی کا استعمال انسان میں قوت مدافعت کو بڑھانے میں بھی اپنا کردار اداکرتا ہے،جیسا کہ ہم جانتے ہیں انسان میں قوت مدافعت جتنی زیادہ ہوگی وہ اتنا ہی کم بیماریوں کا شکار ہوگا۔قوت مدافعت کی زیادتی انسان کو تمام قسم کی اندرونی اور بیرونی بیماریوں سے بچاکر رکھتی ہے۔

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    دہی کو جلد یا بالوں پر لگایا جائے تو اس سے نہایت حیرت انگیز نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں۔دہی کو چہرے پر لگانے سے جلد تروتازہ ہوجاتی ہے اور ڈیڈ سیلز کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔ چہرے پر دہی کا مساج کرنے سے یہ وائٹننگ بلیچ کا کام کرتا ہے اور جلد کو نرم و ملائم بناتا ہے جبکہ بالوں میں لگانے سے خشکی کاخاتمہ بھی کرتا ہے۔

    دہی ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بنانے کے لئے ایک معاون غذا ہے اس میں وٹامن ڈی اور کیلشیم کی نمایاں مقدار پائی جاتی ہے جو ہمارے دانتوں اور ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔دہی کا مستقل استعمال انسان کو دیگر مضر امراض سے بھی بچاتا ہے۔

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

  • ماہرین نے ذیابیطس پھیلنے کی اہم  وجہ دریافت کر لی

    ماہرین نے ذیابیطس پھیلنے کی اہم وجہ دریافت کر لی

    دنیا بھر میں ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ماہرین نے اس بیماری کے پھیلنے کی وجہ دریافت کر لی ہے-

    باغی ٹی وی : Tufts یونیورسٹی امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین نے بتایا کہ موجودہ دور میں بیشتر افراد کی غذا انہیں ذیابیطس ٹائپ 2 کا شکار بنا رہی ہےگندم اور چاول کی ریفائن اقسام کا بہت زیادہ استعمال دنیا بھر میں ذیابیطس ٹائپ 2 کے کیسز میں اضافے کی وجہ ثابت ہو رہا ہے۔

    لاعلاج سمجھے جانیوالے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن

    اس تحقیق میں 1990 سے 2018 میں دنیا بھر کے ذیابیطس ٹائپ 2 کے کیسز کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی تھی تحقیق میں تخمینہ لگایا گیا کہ 2018 میں ذیابیطس ٹائپ 2 کےہر 10 میں سے 7 کیسز ناقص غذائی عادات کا نتیجہ تھےدنیا بھرمیں صحت کےلیےمفید غذاؤں کی بجائے نقصان دہ خوراک کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے، خاص طور پر مردوں میں یہ رجحان زیادہ عام ہے۔

    تحقیق کے مطابق غیر معیاری کاربوہائیڈریٹس پر مبنی غذا دنیا بھر میں ذیابیطس ٹائپ 2 کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہےتحقیق میں بنیادی طور پر ذیابیطس ٹائپ 2 کا شکار بنانے والے 3 عناصر کو دریافت کیا گیا ایک سالم اناج کا بہت کم استعمال، دوسرا پراسیس اناج (سفید ڈبل روٹی، سفید چاول وغیرہ) کا بہت زیادہ استعمال جبکہ تیسرا سرخ اور پراسیس گوشت کا زیادہ استعمال کرنا ہے۔

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ دنیا بھر میں غذائی عادات کی وجہ سے ذیابیطس سے متاثر ہونے والے 60 فیصد کیسز میں 6 غذائی عادات پائی جاتی ہیں ایسے افراد بہت زیادہ مقدار میں ریفائن چاول، گندم اور آلو کھاتے ہیں، غذا میں پراسیس اور سرخ گوشت کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جبکہ میٹھے مشروبات اور فروٹ جوسز پسند کرتے ہیں پھلوں، سبزیوں، گریوں، پھلیوں، سالم اناج اور دہی کا ناکافی مقدار میں استعمال 39 فیصد نئے کیسز کا باعث بنتا ہے۔

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    واضح رہے کہ جب کوئی فرد ذیابیطس ٹائپ 2 کا شکار ہوتا ہے تو اس کا جسم غذا میں موجود کاربوہائیڈریٹس کو توانائی میں بدلنے میں ناکام ہوجاتا ہےاس کے نتیجے میں خون میں شکر کی مقدار بڑھتی ہے۔

  • لاعلاج سمجھے جانیوالے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن

    لاعلاج سمجھے جانیوالے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن

    برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ لاعلاج سمجھا جانے والے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن ہے۔

    باغی ٹی وی: Diabetes UK کے زیرتحت ہونے والے کلینیکل ٹرائل میں دریافت کیا گیا کہ جسمانی وزن میں کمی لاکرذیابیطس ٹائپ 2 سے کم از کم 5 سال تک نجات پانا ممکن ہے،کم کیلوریز والی غذا کا استعمال شروع کرنے کے بعد کلینیکل ٹرائل میں شامل ایک چوتھائی افراد ذیا بیطس سے نجات پانے میں کامیاب ہوئے اور 5 سال تک بیماری کی دوبارہ واپسی نہیں ہوئی۔

    کھانا پکانے کے دوران کی جانیوالی 7 معمولی غلطیاں جو صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ …

    اس ٹرائل میں 298 افراد کو شامل کیا گیا تھا جن میں سے 50 فیصد کو ذیابیطس کے حوالے سے روایتی نگہداشت فراہم کی گئی اور باقی سب کو مخصوص غذا کا استعمال کرایا گیا،مجموعی طور پر ان افراد کو روزانہ 800 کیلوریز پر مشتمل غذا کا استعمال 12 سے 20 ہفتوں تک کرایا گیا۔

    پہلے اس تحقیق کا دورانیہ 2 سال رکھا گیا تھا مگر پھر اس کا وقت بڑھایا گیا اور 95 افراد کاجائزہ مزید 3 سال تک لیا گیا تحقیق کے دوسرے مرحلے کے آغاز میں 95 میں سے 48 ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات پانے میں کامیاب ہو چکے تھے اور 3 سال بعد 23 فیصد میں تاحال بیماری کی دوبارہ تشخیص نہیں ہوئی تھی۔

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    ان افراد کو بلڈ شوگر کو مستحکم رکھنے کے لیے ادویات کے استعمال کی ضرورت بھی نہیں پڑی ان افراد نے 5 سال کے دوران اوسطاً 9 کلو گرام کمی کی جسمانی وزن میں کمی اور اس کمی کو برقرار رکھنے سے ذیابیطس کو ریورس کرنے میں مدد ملتی ہے ذیابیطیس کے شکار افراد میں امراض قلب، فالج، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔

    موٹاپے کو ذیابیطس ٹائپ 2 کا شکار بنانے والا بڑا عنصر تصور کیا جاتا ہےدرحقیقت تحقیقی رپورٹس کے مطابق موٹے افراد میں اس دائمی مرض کا خطرہ 80 گنا زیادہ ہوتا ہےمحققین نے بتایا کہ جسمانی وزن میں کمی لانا اور پھر اس کمی کو برقرار رکھنے سے ہی ذیابیطس کو خود سے رکھنا ممکن ہو سکتا ہے، کیونکہ جسمانی وزن میں اضافے سے بیماری دوبارہ لوٹ آتی ہے۔

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    یہ نتائج اگلے ہفتے ڈائریکٹ محققین پروفیسرز رائے ٹیلر اور مائیک لین (دونوں تصویر میں) پروفیشنل کانفرنس (DUKPC) میں پیش کئے جائیں گے-