Baaghi TV

Tag: صدر ڈونلڈ ٹرمپ

  • وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیے

    وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیے

    ڈیووس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیووس میں ہونے والے اجلاس میں غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیے ہیں۔

    دوسرے عالمی رہنماؤں کے ہمراہ دستخطی تقریب میں وزیراعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ چارٹر پر دستخط کیے اور امریکی صدر سے مصافحہ اور گفتگو کی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت پر تمام ممالک کے مشکور ہیں اور رکن ممالک قابل احترام ہیں تمام ممالک مشرق وسطیٰ میں امن کے خواہاں ہیں حالانکہ ایک وقت تھا جب اس خطے میں امن کا تصور بھی ممکن نہیں تھا،صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے اس دن کو ’’انتہائی پُرجوش اور طویل عرصے سے تیاری میں رہنے والا دن‘‘ قرار دیا دنیا بھر کے ممالک ان کے مجوزہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور وہ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ان کی قیادت میں ناممکن اور بڑے بڑے کام ممکن بنائے گئےاقتدار میں آنے کے بعد وہ اب تک 8 جنگیں ختم کرا چکے ہیں اور ایک اور بڑا معاہدہ بہت جلد ہونے جا رہا ہے تاہم انہوں نے یوکرین جنگ کو سب سے مشکل مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ تنازع ہے جسے وہ آسان سمجھ رہے تھے مگر یہ سب سے پیچیدہ ثابت ہوا۔

    امریکی صدر نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے عمل میں 59 ممالک شامل ہیں اور کئی ممالک نے ’بورڈ آف پیس‘ کی حمایت کی ہے اگر حماس نے اپنے وعدے پورے نہ کیے اور ہتھیار نہ ڈالے تو یہ ان کا انجام ہوگا انہیں اسلحہ ترک کرنا ہوگا، ایران کے جوہری مراکز پر گزشتہ موسمِ گرما میں ہونے والی کارروائی ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی نے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے اور جلد مذاکرات ہوں گے، جبکہ شام میں داعش کے خلاف کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یورپ، امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کو لاحق خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے اور ’دنیا میں کئی اچھی پیش رفت ہو رہی ہیں،ایک سال قبل دنیا آگ میں جل رہی تھی، مگر اب صورتحال پرسکون ہو رہی ہےپاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اعتراف کیا کہ ٹرمپ کی کوششوں سے کروڑوں جانیں بچیں، 8 جنگیں ختم کرنے کے بعد کئی عالمی رہنما میرے دوست بن چکے ہیں۔

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کے دورِ حکومت میں امریکا معاشی طور پر مضبوط ہوا، جبکہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں معیشت تباہ حال اور غیر قانونی امیگریشن عروج پر تھی، ایک سال میں ’معجزہ‘ ہوا ہے، ٹیکسوں میں کمی کی جا رہی ہے اور بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کروائی گئی ہیں۔

    وینزویلا کے بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہاں کے حوالے سے اچھے اقدامات کیے گئے ہیں جس سے وینزویلا کے عوام خوش ہیں،انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ وینزویلا کی نئی قیادت سے رابطے میں ہیں اور اس ملک کے پاس دنیا کے 62 فیصد تیل کے ذخائر موجود ہیں، امریکا نے آج دنیا کو مزید محفوظ بنا دیا ہے اور وہ اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے، میں نے ایران، اسرائیل، مصر اور ایتھوپیا کے در میان تنازعات کے حل میں بھی کردار ادا کیا، جبکہ شامی صدر سے بات چیت کے بعد پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔

  • نریندر مودی کی 75ویں سالگرہ پر ٹرمپ کی مبارکباد

    نریندر مودی کی 75ویں سالگرہ پر ٹرمپ کی مبارکباد

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی 75ویں سالگرہ پر کی گئی فون کال اور نیک خواہشات پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کو اُن کی 75ویں سالگرہ پر فون کر کے مبارکباد دی، یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان جون 2025 کے بعد پہلا براہِ راست رابطہ تھا۔ وائٹ ہاؤس اور بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق، فون کال کے دوران ٹرمپ نے مودی کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ بہت شاندار کام کر رہے ہیں انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ اور بھارت آنے والے دنوں میں تجارتی تعلقات کو نئی سطح تک لے جائیں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی 75ویں سالگرہ پر کی گئی فون کال اور نیک خواہشات پر شکریہ ادا کیا ،مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ‘میرے دوست صدر ٹرمپ، آپ کی فون کال اور گرم جوشی پر مبنی مبارکباد کے لیے شکریہ میں بھی آپ کی طرح پُرعزم ہوں کہ بھارت اور امریکا کے جامع اور عالمی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں،ہم یوکرین تنازع کے پُرامن حل کے لیے آپ کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں-

    مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    واضح رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ نے روسی تیل خریدنے پر بھارت پر تعزیری محصولات عائد کیے تھے جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ بڑھ گیا تھانیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے مودی سے تجارتی محصولات پر مذاکرات کے لیے کئی بار رابطے کی کوشش بھی کی لیکن بھارتی وزیراعظم نے ان رابطوں کا جواب نہیں دیا۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس:عمران خان ویڈیو لنک پر پیش ہونگے

  • امریکی عدالت کا ٹرمپ پر 8 کروڑ 33 لاکھ ڈالر جرمانہ برقرار

    امریکی عدالت کا ٹرمپ پر 8 کروڑ 33 لاکھ ڈالر جرمانہ برقرار

    امریکی اپیل کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہتک عزت کے مقدمے میں عائد 8 کروڑ 33 لاکھ ڈالر جرمانے کو برقرار رکھا ہے۔ یہ مقدمہ مصنفہ اور ایلے میگزین کی سابقہ کالم نگار ای۔ جین کیرول نے دائر کیا تھا۔

    عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، کیرول نے الزام لگایا تھا کہ ٹرمپ نے 1990 کی دہائی کے وسط میں ایک ڈپارٹمنٹ اسٹور کے ڈریسنگ روم میں ان کا ریپ کیا اور بعدازاں ان الزامات کو جھوٹ قرار دے کر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔کیرول کا مؤقف تھا کہ ٹرمپ کے بیانات سے ان کے بطور صحافی کیریئر پر منفی اثر پڑا۔ دوسری جانب، 77 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی کیرول کا نام تک نہیں سنا اور یہ کہانی ان کی یادداشت کی فروخت بڑھانے کے لیے گھڑی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ جنوری 2024 میں مین ہیٹن کی عدالت نے ٹرمپ کو کیرول کو 8 کروڑ 33 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف ٹرمپ نے اپیل دائر کی تھی جو اب مسترد کر دی گئی ہے۔

    غزہ میں حماس کا حملہ، 4 اسرائیلی فوجی ہلاک

    وزیر داخلہ سندھ کی کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی کی ہدایت

    چین کا 3 ہزار پاکستانیوں کو تربیتی و تعلیمی مواقع فراہم کرنے کا اعلان

    وزیراعظم سے امریکی کمپنیوں کے وفد کی ملاقات، 500 ملین ڈالر سرمایہ کاری کے معاہدے

  • امریکا کو پارسل بھیجنے کی خدمات 25 ممالک نے معطل کر دیں

    امریکا کو پارسل بھیجنے کی خدمات 25 ممالک نے معطل کر دیں

    25 ممالک نے امریکا کو پارسل بھیجنے کی خدمات معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مجوزہ محصولات کے اثرات پر خدشات کے باعث اٹھایا گیا۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ 29 اگست سے امریکا میں داخل ہونے والے چھوٹے پارسلز پر ٹیکس چھوٹ ختم کر دی جائے گی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس فیصلے کے بعد کئی ممالک کی ڈاک سروسز، جن میں فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان شامل ہیں، نے امریکا جانے والے زیادہ تر پارسلز قبول نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ادارے یونیورسل پوسٹل یونین (یو پی یو) کے مطابق 25 رکن ممالک نے اطلاع دی ہے کہ ان کے ڈاک آپریٹرز نے امریکا کے لیے ڈاک خدمات معطل کر دی ہیں کیونکہ ٹرانزٹ خدمات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔یو پی یو نے کہا کہ یہ معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکی حکام اپنے اقدامات کے طریقۂ کار واضح نہیں کرتے، تاہم ادارے نے ان ممالک کی فہرست جاری نہیں کی۔

    یاد رہے کہ 1874 میں قائم ہونے والے اس ادارے کے 192 رکن ممالک ہیں، اور یو پی یو نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے یہ نئے اقدامات دنیا بھر میں ڈاک آپریٹرز کے لیے نمایاں عملی تبدیلیاں پیدا کریں گے۔

    کیپٹو پاور لیوی کا فائدہ عوام کو منتقل کرنے کی منظوری

    امریکا میں پاکستانی سفیر کا ہر محاذ پر بھارت کا مقابلہ کرنے کا عزم

    کوئٹہ: ڈیگاری قتل کیس میں اہم پیشرفت، مقتولہ کا دیور گرفتار

    عمران خان نے سلمان اکرم راجہ کا استعفیٰ منظور کرنے سے انکار کردیا

  • ٹرمپ  استقبال، پیوٹن کے اوپر بی-2 اسٹیلتھ طیاروں کی پرواز

    ٹرمپ استقبال، پیوٹن کے اوپر بی-2 اسٹیلتھ طیاروں کی پرواز

    امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی آمد پر منفرد انداز میں طاقت کا مظاہرہ کیا۔

    ریڈ کارپٹ پر چلتے ہوئے پیوٹن کے اوپر جدید بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے پرواز کی، جس پر روسی صدر حیران رہ گئے اور آسمان کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوگئے۔ یہ منظر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔وائرل ہونے والی 22 سیکنڈ کی ویڈیو میں دکھایا گیا کہ الاسکا میں دونوں صدور ریڈ کارپٹ پر چل رہے تھے کہ اچانک امریکی بمبار طیارہ اوپر سے گزرا، جسے امریکی فوجی طاقت کا واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یوکرین جنگ پر دونوں رہنماؤں کی اہم ملاقات جاری تھی۔

    الاسکا ایئر بیس پر ٹرمپ نے پیوٹن کے استقبال کے لیے خصوصی ریڈ کارپٹ بچھایا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک تصویر میں امریکی فوجی گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کارپٹ سیدھا کرتے ہوئے بھی دکھائی دیے۔

    آسٹریلیا میں بھارتی طالب علموں کا گروہ چوری میں گرفتار

    یاسین ملک کی بیٹی کی عالمی رہنماؤں سے والد کی جان بچانے کی اپیل

    شرح پیدائش، چین کا بچوں کے والدین کو سالانہ 500 ڈالر معاوضہ

  • ٹرمپ کے 50 فیصد ٹیرف کے بعد بھارت میں امریکی برانڈز کی بائیکاٹ مہم زور پکڑ گئی

    ٹرمپ کے 50 فیصد ٹیرف کے بعد بھارت میں امریکی برانڈز کی بائیکاٹ مہم زور پکڑ گئی

    بھارت میں امریکی مصنوعات کے خلاف بائیکاٹ کی مہم زور پکڑ رہی ہے، جس کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کیے جانے کے بعد بھارت میں امریکی برانڈز کے بائیکاٹ اور مقامی مصنوعات کو فروغ دینے کی مہم زور پکڑ گئی ہے،جس کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنا ہے،اس فیصلے نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو سخت دباؤ میں ڈال دیا ہے اور سماجی و کاروباری حلقوں میں "میک ان انڈیا” اور مقامی مصنوعات کو ترجیح دینے کا نعرہ دوبارہ گونجنے لگا ہے۔

    بھارت دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک اور امریکی برانڈز کے لیے ایک اہم منڈی ہے، جہاں مڈل کلاس کے بڑھتے ہوئے طبقے کو عالمی معیار کے برانڈز خاص کشش دیتے ہیں،میٹا کی واٹس ایپ کے سب سے زیادہ صارفین بھارت میں ہیں، ڈومینوز پیزا کے سب سے زیادہ آؤٹ لیٹس بھی یہیں ہیں، جبکہ پیپسی اور کوکا کولا مشروبات کی مارکیٹ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں، ایپل اسٹورز کے افتتاح پر لمبی قطاریں لگنا عام بات ہے، اور اسٹاربکس کی خصوصی ڈسکاؤنٹ آفرز پر کافی شاپس بھر جاتی ہیں۔

    کرپٹو کے لیے بجلی کا ابھی تک کوئی ریٹ آفر نہیں کیا،اویس لغای

    وفاقی دارالحکومت میں13 اگست کو بھی عام تعطیل کا اعلان

    ٹرمپ کے ٹیرف فیصلے کے بعد اگرچہ ابھی امریکی مصنوعات کی فروخت میں کسی بڑی کمی کی اطلاع نہیں، مگر سوشل میڈیا پر اور مختلف شہروں میں "بائیکاٹ امریکن برانڈز” کے پیغامات تیزی سے پھیل رہے ہیں، مودی کے حامی گروپ اور کاروباری رہنما صارفین کو مقامی برانڈز کی حمایت کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

    بھارت کی ’واؤ اسکن سائنس‘ کے شریک بانی منیش چوہدری نے لنکڈ اِن پر جاری ویڈیو پیغام میں کسانوں اور اسٹارٹ اپس کی حمایت کرنے اور ’میڈ اِن انڈیا‘ کو عالمی جنون بنانے کی اپیل کی اور جنوبی کوریا سے سبق سیکھنے پر زور دیا، جہاں کے کھانے اور بیوٹی پروڈکٹس دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے ہزاروں میل دور سے آنے والی مصنوعات کے لیے قطار لگائی ہے، ہم نے ان برانڈز پر فخر سے خرچ کیا جو ہمارے اپنے نہیں تھے، جب کہ ہمارے مقامی بنانے والے اپنے ہی ملک کے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے محنت کرتے رہے۔

    فیلڈ مارشل کادورہ امریکا: پاکستان کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم باب رقم، بھارت کا دہشتگردانہ چہرہ پھر بےنقاب

    بھارت کی ڈرائیو یو کے سی ای او رہم شاستری نے لنکڈ اِن پر لکھا کہ بھارت کو اپنا مقامی ٹوئٹر/گوگل/یوٹیوب/واٹس ایپ/فیس بک بنانا چاہیے، جیسے چین نے بنایا ہے۔

    امریکا مخالف مظاہروں کے دوران ہی ٹیسلا نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں اپنا دوسرا شو روم کھولا، جس کی افتتاحی تقریب میں بھارتی وزارت تجارت اور امریکی سفارت خانے کے اہلکار شریک ہوئے،نریندر مودی کی جماعت بی جے پی سے منسلک سودیشی جاگرن منچ گروپ نے اتوار کو بھارت کے مختلف شہروں میں چھوٹے عوامی مظاہرے کیے، جن میں امریکی برانڈز کے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی۔

  • امریکی سینیٹر لنزی گراہم کا ٹرمپ کے بھارت پر ٹیرف لگانے کے فیصلے کی بھرپور حمایت

    امریکی سینیٹر لنزی گراہم کا ٹرمپ کے بھارت پر ٹیرف لگانے کے فیصلے کی بھرپور حمایت

    امریکی ری پبلکن سینیٹر لنزی گراہم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کو بروقت قدم قرار دیا ہے۔

    لنزی گراہم نے کہا کہ اب بھارت کے لیے روس سے سستا تیل خریدنا اتنا آسان نہیں رہا جتنا پہلے تھا بھارت روسی صدر پیوٹن سے تیل خریدنے پر بضد ہے تاکہ یوکرین میں خونریزی جاری رہے، لیکن صدر ٹرمپ نے دنیا کو پیغام دے دیا ہے کہ اگر پیوٹن سے تیل خریدا تو امریکی معیشت تک بغیر ٹیرف رسائی نہیں ملے گی، جو ممالک اس عمل میں ملوث ہیں، انہیں اب دوسروں کو نہیں بلکہ خود کو ذمہ دار ٹھہرانا ہوگا،شاباش صدر ٹرمپ! آپ ہی وہ مضبوط اور فیصلہ کن رہنما ہیں جس کا دنیا یوکرین میں خونریزی ختم کرنے کے لیے انتظار کر رہی تھی۔

    فیفا نے ویمن فٹبال کی نئی عالمی رینکنگ جاری کردی

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں بھارت پر اضافی 25 فیصد ٹیرف لگایا ہے جس کے بعد کل امریکی ٹیرف کی شرح 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس اقدام کو بھارت کی روس نواز پالیسیوں کے خلاف سخت پیغام سمجھا جا رہا ہے۔

    انڈونیشیا کا جزیرہ گالانگ پر غزہ کے زخمیوں کے لیےطبی سہولت قائم کرنے کا اعلان

  • ایپل کی امریکا میں مزید 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری

    ایپل کی امریکا میں مزید 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری

    وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ عالمی ٹیکنالوجی دیو ایپل آئندہ چار برسوں میں امریکا میں مزید 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، جس کے بعد اس کی کل سرمایہ کاری 600 ارب ڈالر تک جا پہنچے گی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اس اعلان سے قبل امریکی میڈیا نے رپورٹ جاری کی، جب کہ اس کا باضابطہ اعلان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وہائٹ ہاؤس میں ایک تقریب میں کیا جائے گا۔فروری میں ایپل نے اعلان کیا تھا کہ وہ امریکا میں 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔20 ہزار نئی ملازمتوں کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے کو اپنی انتظامیہ کی کامیابی قرار دیا تھا۔

    ایپل کی یہ سرمایہ کاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹیک کمپنیاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے میدان میں سبقت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے سخت مقابلے میں ہیں۔یہ نئی سرمایہ کاری، ان منصوبوں کی توسیع ہے جو ایپل نے 2021 میں اعلان کے تحت شروع کیے تھے، جس میں430 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور 5 سال میں 20 ہزار ملازمتوں کی تخلیق شامل تھی۔

    ایپل کی جانب سے اسے اپنی "تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری” قرار دیا گیا ہے، جو امریکا کی معیشت اور ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

    افغانستان میں دہشتگرد گروپس سرگرم، اقوام متحدہ کی رپورٹ پر پاکستان کی شدید تشویش

    امریکا: فورٹ اسٹیورٹ آرمی بیس پر فائرنگ، ہلاکتوں کی اطلاعات

    پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز،ویسٹ انڈیز اسکواڈ کا اعلان

  • ٹرمپ کی جانب سے عائد محصولات برقرار رہیں گے، امریکی اعلان

    ٹرمپ کی جانب سے عائد محصولات برقرار رہیں گے، امریکی اعلان

    امریکا کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے درجنوں ممالک پر حال ہی میں عائد کیے گئے محصولات میں کوئی نرمی نہیں کی جائے گی، اور یہ بدستور نافذ العمل رہیں گے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ جمعے کی ڈیڈلائن سے قبل ٹرمپ نے ایک صدارتی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے کئی ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر نئے محصولات عائد کیے تھے، جن میں کینیڈا پر 35 فیصد، برازیل پر 50 فیصد، بھارت پر 25 فیصد، تائیوان پر 20 فیصد اور سوئٹزرلینڈ پر 39 فیصد ڈیوٹی شامل ہے۔اگرچہ یورپی یونین کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدے میں کچھ نرخوں میں جزوی کمی کی گئی، لیکن جیمیسن گریئر نے امریکی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مرحلے کے محصولات میں کوئی کمی نہیں کی جا رہی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے بہت سے نرخ مختلف معاہدوں کے تحت طے کیے گئے ہیں، کچھ سرکاری طور پر ظاہر کیے گئے ہیں اور کچھ نہیں، جبکہ کچھ محصولات کا انحصار ہمارے تجارتی خسارے یا سرپلس پر ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ دنوں میں بیجنگ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات مثبت رہے ہیں، جن کا محور نایاب زمین کی دھاتوں اور مقناطیس کی سپلائی پر مرکوز ہے۔

    گریئر کے مطابق امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ چین سے مقناطیس اور اس سے متعلقہ سپلائی چین آزادانہ طور پر جاری رہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اس عمل میں تقریباً آدھے راستے پر ہیں۔‘‘

    پاکستان سے فلسطینیوں کے لیے 100 ٹن امدادی سامان غزہ روانہ

    تربیلا ڈیم کے اسپل ویز کھلنے کا فیصلہ، 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک بہاؤ کا خدشہ

    حماس کی نئی ویڈیو ، اسرائیلی یرغمالی کی حالت زار منظرعام پر

  • ٹرمپ کی بجٹ کٹوتی،ناسا 3,870 ملازمین سے محروم

    ٹرمپ کی بجٹ کٹوتی،ناسا 3,870 ملازمین سے محروم

    امریکی خلائی ادارے ناسا کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وفاقی اداروں میں کی جانے والی بجٹ کٹوتیوں کے باعث تقریباً 3,870 ملازمین سے محروم ہونا پڑ رہا ہے، جس سے ادارے کی مجموعی افرادی قوت میں 20 فیصد سے زائد کمی متوقع ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ناسا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ڈفرڈ ریزائنیشن پروگرام‘ کے دوسرے مرحلے میں تقریباً 3,000 ملازمین نے رضاکارانہ علیحدگی کی حامی بھرلی ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں 870 ملازمین نے پہلے ہی استعفیٰ دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔اس فیصلے کے بعد ناسا کے مستقل ملازمین کی تعداد 18,000 سے کم ہوکر تقریباً 14,000 رہ جائے گی، جو کہ خلائی ادارے کی مجموعی استعداد پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

    ناسا اس وقت ایک عبوری ایڈمنسٹریٹر کے تحت کام کر رہا ہے، کیونکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے نامزد کیے گئے امیدوار جیرڈ آئزک مین، جو کہ ایک ٹیکنالوجی ارب پتی اور ایلون مسک کے قریبی ساتھی تھے، کو بعد ازاں خود ٹرمپ نے مسترد کر دیا تھا۔’ڈفرڈ ریزائنیشن پروگرام‘ کے تحت ملازمین کو مقررہ مدت تک انتظامی چھٹی دی جاتی ہے، جس کے بعد وہ طے شدہ تاریخ پر باقاعدہ طور پر ملازمت سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔

    ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ناسا کے بجٹ میں سائنسی اور ماحولیاتی منصوبوں میں نمایاں کٹوتی کی گئی ہے، جبکہ چاند پر واپسی اور مریخ پر انسانی مشن کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ اس وقت چین کو چاند پر پہنچنے سے پہلے پیچھے رکھنے اور مریخ پر پہلا انسان بھیجنے کے ہدف پر کام کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ چین نے 2030 تک اپنے پہلے انسانی چاند مشن کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔

    حماس کا دوٹوک مؤقف، امریکی صدر کا بیان مسترد کر دیا

    کراچی کے ماہی گیروں کی کشتی گوادر کے قریب ڈوب گئی، 2 جاں بحق، 3 لاپتہ

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس پر میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا: اسحاق ڈار

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں مسلسل تیسرا دن کمی

    ایشیا کپ بھارت سے یو اے ای منتقل ،پاک بھارت ٹاکرا 14 ستمبر کو